مطالعۂ عقائد سے مراد اپنے دینی عقائد کو سمجھ کر، دلیل کے ساتھ اور شعور کے ساتھ پڑھنا ہے۔ یہ ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے کیونکہ عقائد ہی ایمان کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک مضبوط عمارت کے لیے مضبوط بنیاد ضروری ہوتی ہے، اسی طرح درست عقائد کے بغیر ایمان بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

مطالعۂ عقائد کی ضرورت:آج کے دور میں مختلف قسم کے شبہات، غلط نظریات اور فتنوں کا پھیلاؤ ہے۔ ایسے حالات میں اگر انسان اپنے عقائد سے واقف نہ ہو تو وہ آسانی سے گمراہ ہو سکتا ہے۔ مطالعۂ عقائد ہمیں اپنے دین کی حقیقت سمجھنے اور ہر قسم کے شکوک و شبہات کا جواب دینے کے قابل بناتا ہے۔

مزید فرمایا عقائد کے بغیر ایمان کامل نہیں عقیدہ نہ رکھنے والا ایسے ہے جیسے عقیدہ کا منکر ہو یا غلط عقیدہ رکھنے والا مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود ہونے کا انکار کرتا ہے یاکل کائنات کے مالک ہونے کا یا اس کے نظام کو چلانے کا منکر ہو یا اس میں کسی کو شریک ٹھہرانے کو ماننے والا ہو تو وہ ایمان سے گیا۔اسی طرح کلمہ شہادت کا منکر ہو عبادت کے لائق کسی اور کو بھی سمجھتا ہو ۔حضور ﷺ کے بعد بھی کسی نبی کے آنے پر یقین رکھتا ہو ۔

اسی وجہ سے عقیدہ اہلسنت بہت ضروری ہے اس میں کسی بھی بات سے اعراض نہیں کیا جاسکتا ۔

آج کے دور میں جہاں نئی نئی ذہنی و فکری گمراہیاں جنم لے رہی ہیں، وہاں دینِ اسلام کا مطالعہ اور صحیح سمجھ نہایت ضروری ہو گئی ہے۔ جب انسان دینی تعلیمات سے دور ہو جاتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ عقائد اسلام اور اسکی اہمیت سے بھی غفلت برتنے لگتا ہے، جو کہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ یہ نہ صرف ایمان کی کمزوری کی علامت ہے بلکہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔

جیسے آج کل کچھ motivational speaker لوگوں کے ذہن خراب کرتے ہیں ان کو تقدیر پر اعتماد کرنے کہ بجائے ان کا ذہن اسباب کی طرف کرتے ہیں یعنی مسبب الاسباب سے دور کیا جا رہا ہے اسی لیے عقائد کا درست علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے بے حد ضروری ہے تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کر سکے اور اپنی زندگی کو سنت کے مطابق ڈھال سکے۔

تو ایمان میں عقیدہ کا پوری طرح عمل دخل ہے زندگی موت جنت دوزخ حشر نشر قیامت کے دن اٹھایا جانا حساب و کتاب سب پہ عقیدہ ہونا ضروری ہے اگر ان پہ عقیدہ نہیں ہو گا تو ہم اپنی عبادات میں بھی غفلت میں پڑ جائیں گے ۔

مطالعۂ عقائد کے فوائد:

(1) ایمان کی مضبوطی:مطالعۂ عقائد سے انسان کے ایمان میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ، انبیاء اور آخرت پر مضبوط یقین حاصل کرتا ہے۔

(2) صحیح اور غلط کی پہچان:یہ علم انسان کو صحیح عقائد اور باطل نظریات میں فرق کرنا سکھاتا ہے، جس سے گمراہی سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

(3) شکوک و شبہات کا ازالہ:عقائد کا علم دل میں پیدا ہونے والے شک و شبہات کو ختم کرتا ہے اور ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔

(4) دین کی صحیح سمجھ:مطالعۂ عقائد سے دین اسلام کی بنیادیں واضح ہوتی ہیں، جس سے عبادات اور اعمال درست طریقے سے انجام دیے جاتے ہیں۔

(5) آخرت کی کامیابی:صحیح عقائد انسان کو نجات کی راہ دکھاتے ہیں، کیونکہ اسلام میں اعمال کے ساتھ عقیدہ درست ہونا بھی ضروری ہے۔

(6) بدعات اور گمراہی سے حفاظت:یہ علم انسان کو غلط رسم و رواج اور بدعات سے بچاتا ہے اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے۔

(7) دعوتِ دین میں آسانی:جس شخص کے عقائد مضبوط ہوں، وہ دوسروں کو بھی بہتر انداز میں دین کی دعوت دے سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کو سمجھ کر سیکھیں اور ان پر عمل کریں تاکہ ہمارا ایمان مضبوط ہو اور ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو۔