مستنصر
اسماعیل عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی ،پاکستان)
"عقیدہ" عربی زبان کا لفظ ہے ۔جس کی تعریف یہ ہے عقیدہ
اُن اسلامی امور کا نام ہے جن پر دل بغیر کسی شک وشُبہ کے پختہ ہوجائے۔(حدیقہ ندیہ،1/
96)
محترم
قارئین! مسلمان کیلئے اسلامی عقائد کی وہی اہمیت ہے جو زندہ رہنے کیلئے سانس کی ہے
جس طرح سانس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح اسلامی عقائد کے بغیر وہ
مسلمان نہیں بن سکتا۔آخرت میں سرفرازی اُسی وقت ہوگی جب بندے کے عقائد درست ہونگے
اور اُنہی عقائد پر اُس کا خاتمہ ہوا ہوگا۔جس کو قرآن پاک نے واضح لفظوں میں یوں بیان
کیا :
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ
فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى
بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱)ترجمہ کنزالایمان : وہ
جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہر گز قبول نہ کیا جائے
گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (سورةآل
عمران،آیت91)
عقائد کی
اہمیت اس حدیث سے بھی لگائی جاسکتی ہے ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہ
رسالت میں عرض کی یا رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہ واٰلہ وسَلَّم زمانہ جاہلیت میں
ابن جدعان رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرتا تھا ،کیا یہ اعمال اسے( آخرت میں)
نفع دیں گے؟رسول مکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہ واٰلہ وسَلَّم نے فرمایا یہ اعمال اس کے
کام نہیں آئیں گے،کیونکہ اس نے (اللہ پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے) ایک دن بھی یہ
نہیں کہا کہ اے اللہ آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔(مسلم ،حدیث 518)
ایک
مسلمان کیلئے ذات و صفاتِ باری تعالٰی، نبی پاک صَلَّی اللہ عَلَیْہ واٰلہ وسَلَّم
اور دیگر انبیاء و مرسلین،ملائکہ مقربین، جنت ودوزخ، مرنے کے بعد زندہ ہونے،حوض
کوثر اور پل صراط کے حق ہونے نیز عظمت صحابہ کِرام و اہل بیت عِظام وغیرہ عقائد کا
اتنا علم ضروری ہے جس سے صحیح اور غلط کی پہچان ہوسکے۔
محترم
قارئین! درست اسلامی عقیدہ درخت کی طرح اور دیگر نیکیاں و عبادات پھل کی طرح ہیں
اور یہ بات یقینی ہے کہ درخت کے بغیر پھل کا حصول ممکن نہیں۔یہی معاملہ درست عقیدے
اور قبولیت عبادات کا ہے کہ بغیر عقیدے کے عبادات و نیکیوں کی قبولیت ناممکن ہے ۔سیدی
اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں سب سے اولین و اہم
ترین فرض یہ ہے کہ بنیادی عقائد کا علم حاصل کرے جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنی بنتا
ہے اور جن کے انکار و مخالف سے کافر یا گمراہ ہوجاتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، 623/23
ماخوذا)
اگر ہم
مطالعہ کریں تو اپنے عقیدے کے دلائل احقاق حق اور ابطال باطل کرسکیں گے اور ہمارا
اپنا عقیدہ بھی مضبوط و مستحکم ہوگا اور ہمارے خاندان، دوست احباب حضرات کے سامنے
حسب موقع ہم وہ دلائل احسن اندازسے بیان کرے گے تو قرآن وسنت اور آثار صحابہ سن کو
ان کو بات سمجھ آجائے گی اور وہ تصدیق کرنے پر بخوشی راضی ہوجائیں گے اور یہ ہمارا
فرض بھی بنتا ہے کہ ہم لوگوں کو درست راہ کی طرف گامزن کریں۔عقائد کی متعلق علماء
اہلسنت کی بیسیوں کتابیں(جیسے دس اسلامی عقیدے، جاء الحق، بنیادی عقائد اور
معمولات اہلسنت وغیرہ)دستیاب ہیں اگر ہم ان کتابوں کا مطالعہ کریں تو ہمارے اوپر یہ
بات آشکار ہوگی کہ ہمارے عقائد قرآن پاک کی آیات بینات ،احادیث صحیحہ معتمدہ اور آثار
معتبرہ سے ثابت ہیں۔
لہذا ہم
پر ضروری و اہم فرض ہے کہ ہم عقائد اسلامیہ کی معلومات کیلئے ان کتب کا مطالعہ کرے
جن میں دلائل کے ذریعے بے دینوں اور بدمذہبوں کے باطل نظریات کا رد کرکے قرآن و
سنت کی روشنی میں نہ صرف مسلمانوں کے درست عقائد ثابت فرمائے گئے ہیں۔بلکہ انہیں
اپنے عقیدے کی حفاظت کا بھر پور ذہن بھی دیا ہے۔اللہ پاک ہمیں عقائد اہلسنّت پر
ثابت قدمی عطا فرمائے اور عقائد سے متعلقہ کتب پڑھنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔
Dawateislami