حضور کی انبیائے کرام سے محبت از بنت سید ابرار
حسین، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
پیارے کریم
آقا ﷺ کو گزشتہ انبیائے کرام سے بہت محبت،عقیدت و احترام تھا اسکا ثبوت ہمیں قرآن
کریم و احادیث طیبہ سے ملتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا
جب تک ہم ہر نبی و رسول پر ایمان نہ لے آئیں۔آقا ﷺ تمام انبیائے کرام علیہم السلام
سے افضل ہیں۔جبکہ بعض احادیث میں آقا ﷺ نے ایسی فضیلت دینے سے منع فرمایا یعنی کہ
جس سے دیگر انبیائے کرام کی شان میں کمی آئے۔
آئیے قرآن
وحدیث کی روشنی میں حضور ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت ملاحظہ فرمائیں۔
قرآن مجید فرقان
حمید میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 136 میں ارشاد فرمایا گیا: قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا
بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى
وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ
بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪- ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ
پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و
یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے
باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم
اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔
اس سے معلوم
ہوا کہ اس امت پر سابقہ تمام انبیائے کرام و رسولوں علیہم السلام پر ایمان لانا
ضروری ہے۔جو ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرے کافر ہے۔
اسی طرح پارہ
3 سورہ بقرہ کی آیت 285 میں ہے: لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-ترجمہ
کنز العرفان: ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔
یہ انبیائے
کرام علیہم السلام وصف نبوت میں برابر ہیں البتہ انکی فضیلت کے اعتبار سے درجات
ہیں۔ یہ عقیدہ بھی ہوکہ یہ تمام انسانوں سے افضل اور گناہوں سے معصوم ہیں۔یہ ہمارے
ایمان میں شامل کردیا گیا اس سے آقا ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کا
اظہار ہوتا ہے۔
اسی طرح قرآن
کریم اور احادیث طیبہ میں بھی انبیائے کرام کا تذکرہ اسی طرح ان کی سنتیں اس امت
میں شریعت میں جاری ہیں۔ جیسا کہ مونچھیں تراشنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت
کریمہ ہے، یہ ہمارے آقا ﷺ کی بھی سنت مبارکہ ہے۔ (ترمذی، 4/349، حدیث: 2769)
اسی طرح مقام
ابراہیم کو مصلی بنانا، اس کے قریب نماز ادا کرنا۔ حج کے افعال میں ان کی اور حضرت
ہاجرہ کی سنتوں کو باقی رکھا گیا۔ اسی طرح نماز میں جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ بھی
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے۔ اسی طرح معراج کی رات انبیائے کرام علیہم
السلام سے ملاقات ہوئی۔ جب نمازوں کی فرضیت ہوئی پہلے 50 نمازیں فرض تھیں، پھر
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے آقا ﷺ نے اللہ پاک سے عرض کی اور پھر نمازیں
کم ہوتے ہوتے 5 رہ گئیں اور ثواب 50 کا۔ اس سے آقا ﷺ کی حضرت موسیٰ سے محبت کا
ظہور ہوتا ہے کہ ان کی رائے کا احترام بھی فرمایا۔
اسی طرح دیگر انبیائے
کرام اور انکی دعاؤں کا قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بھی تذکرہ ملتا ہے، سیرت الانبیاء
سے اس کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
حضور کی انبیائے کرام سے محبت از بنت محمد خان
نائچ، جامعۃ المدینہ ڈیرہ نواب صاحب
حضورِ اقدس ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ تمام
انبیائے کرام کے سردار اور خاتم النبیین ہیں، آپ نے ہمیشہ دوسرے انبیا کا احترام
فرمایا۔ ان کی نبوت کی تصدیق کی اور انہیں اپنی امت کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا،جیسے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ السلام سے محبت
کا اظہار کیا،ان سب کی تعلیمات کو سچ مانا اور معراج میں سب کی امامت کرائی، جو آپ
کے تمام انبیائے کرام کے ساتھ گہرے تعلق اور امت پر ان کے مقام و مرتبے کی گواہی
ہے اور یہ محبت دراصل اللہ سے محبت کا عکس ہے۔
محبتِ
انبیا کی جھلکیاں:
1۔ سرکار ﷺ کی انبیائے کرام سے محبت پر کچھ احادیث ملاحظہ ہوں۔ کثیر احادیث
میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ہے یہاں ان میں سے ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ
ہو۔
چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام انتہائی سخی اور بڑے مہمان نواز تھے۔ چنانچہ
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: اللہ
پاک نے میرے دوست جبرائیل کو حضرت ابراہیم کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اے
ابراہیم! میں نے تمہیں اس لئے خلیل نہیں بنایا کہ تم میرے سب سے زیادہ عبادت گزار
بندے ہو بلکہ اس لئے بنایا ہے کہ تیرا دل اہل ایمان کے دلوں میں سب سے زیادہ سخی ہے۔
(ترغیب وترہیب،3/312، حدیث:4002)
اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام اور انکی قوم کا ذکر بھی آپ ﷺ نے اپنی احادیث
میں کیا جیسا کہ حضرت جابر فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مقام حجر سے گزرے تو ارشاد
فرمایا:اے لوگو! معجزات کا مطالبہ نہ کرو،کیونکہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے
معجزات کا مطالبہ کیا تو اللہ پاک نے ان کے لیے اونٹنی بھیجی جو اس گھاٹی سے باہر
آتی اور اسی کے اندر چلے جاتی تھی وہ اونٹنی ایک دن لوگوں کے حصے کا پانی پی جاتی
اور لوگ اس دن اونٹنی کا دودھ پی لیتے تھے۔پھر انہیں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں
تو انہیں ایک ہولناک چیخ نے پکڑ لیا اور اللہ پاک نے آسمان کے نیچے موجود ان کے ہر
فرد کو ہلاک کردیا سوائے ایک شخص کے جو کہ حرم پاک میں موجود تھا۔عرض کی گئی:یا
رسول اللہ ﷺ وہ کون تھا؟ ارشاد فرمایا: ابو رغال، جب وہ حرم پاک سے نکلا تو اسے
بھی وہی عذاب پہنچ گیا جو اس کی قوم پر آیا تھا۔ (مسند امام احمد، 5/14، حدیث:
14162 ملتقطا)
پیارے آقا ﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر خیر اپنی احادیث میں کیا ہے۔یہاں
ان کے متعلق احادیث ملاحظہ فرمائیں:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ سے
پوچھا گیا کہ لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے؟ فرمایا: جو تم میں بڑا پرہیزگار ہے
۔عرض کی: ہم اس کے بارے میں نہیں پوچھ
رہے۔ ارشاد فرمایا: تولوگوں میں بڑے معزز یوسف ہیں کہ (خود)اللہ کے نبی ہیں اورنبی (یعقوب علیہ السلام)کے بیٹے، وہ نبی(اسحاق علیہ السلام) کے بیٹے اور وہ خلیل اللہ کے بیٹے ہیں۔ عرض کی: ہم اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہے، ارشاد فرمایا: تو کیا تم مجھ سے اہلِ عرب کے آباؤ اجداد کے بارے میں
پوچھ رہے ہو؟ عرض کی: جی ہاں، ارشاد فرمایا: ان میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جب کہ عالم
ہوجائیں۔ (بخاری، 2/421، حدیث:3353)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پھر
مجھے تیسرے آسمان پر لے جایا گیا،جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنا چاہا تو
پوچھا گیا:کون؟کہا:جبریل۔پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد ﷺ پوچھا گیا
انکو بھیجا گیا ہے؟ جواب دیا۔جی ہاں! بھیجا گیا ہے۔تو ہمارے لئے دروازہ کھلا، وہاں
حضرت یوسف علیہ السلام موجود تھے،انہیں خوبصورتی کا ایک حصہ دیا گیا ہے، آپ نے
مرحباً کہا اور میرے لیے خیر کی دعا بھی کی۔ (مسلم، ص 78، حدیث: 411)
پسندیدہ
سبزی اور اس کی وجہ: ایک مرتبہ کسی نے عرض کی:یا
رسول اللہ! آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ میرے
بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔ (بیضاوی،5/27)
قبر
میں نماز: حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: جس رات مجھے معراج
کرائی گئی اس رات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو آپ کثیب احمر(ایک
سرخ ٹیلے) کے پاس اپنے قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ (مسلم، ص 994، حدیث: 6157)
بروز
قیامت بارگاہِ موسیٰ میں مخلوق کی حاضری: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے
دن لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے:اے موسیٰ علیہ السلام! آپ اللہ پاک
کے نبی ہیں،اللہ پاک نے آپ کو لوگوں پر اپنی رسالت اور کلام کے ذریعے فضیلت بخشی،آپ
ہمارے لیے اپنے رب العالمین کی بارگاہ میں شفاعت کیجئے،کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم
کس حال میں ہیں؟یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام ان سے فرمائیں گے: میرے رب نے آج
ایسا غضب کیا ہے کہ ایسا عضب نہ اس نے پہلے کیا اور نہ ہی آج کے بعد کرے گا،اور
میں نے ایک ایسی جان کو قتل کر دیا تھا جسے کرنے کا مجھے حکم نہیں تھا،اس لیے مجھے
اپنی فکر ہے،مجھے اپنی فکر ہے۔تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ،تم حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ (بخاری، 3/420، حدیث:4713)
Dawateislami