حضورِ اکرم ﷺ کی سیرت کا ایک حسین پہلو یہ ہے کہ آپ نے اللہ کے تمام انبیائے کرام سے بے حد محبت اور احترام فرمایا۔ آپ ﷺ ان کے مقام کو عزت دیتے، ان کا ذکر ادب سے کرتے اور امت کو بھی یہی سکھاتے کہ سارے انبیا اللہ کے نورِ ہدایت کے چراغ ہیں۔

نبی پاک ﷺ نے فرمایا:جب گھر میں سانپ نمودار ہو تو اس سے کہہ دو کہ ہم حضرت نوح اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے معاہدوں کے واسطے تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہمیں نہ ستا پھر بھی اگر وہ واپس آئے تو اسے مار دو۔ (ترمذی، 3/157، حدیث:1490)

یہ حضور کی ان ہستیوں سے چاہت اور دل لگی ہی ہے جو دوسروں کو انہیں یاد کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔

اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک ہم پر اور عاد کے ہم قوم (حضرت ہود علیہ السلام) پر رحم فرمائے۔ (ابن ماجہ، 4/274، حدیث:3852) یہ حضور کی ان پاکیزہ شخصیات سے خلوص و محبت ہی ہے جو اپنے پیاروں کے لیے دعا کی صورت میں پھوٹتی ہے۔

اسی طرح نبی پاک ﷺ نے فرمایا: مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام نے یہ دعا مانگی: لا الہ الَّا انت سبحانک انی کنتُ من الظالمین اور جب مسلمان اس کے ذریعے اللہ پاک سے دعا مانگے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔ (تاریخ ابن عساکر، 38/45)

یہ حضور کی ان نیک بندوں سے انس و الفت ہی ہے کہ ان کی اداؤں کو اپنانے پر بشارت عطا فرما رہے ہیں۔

ایک مرتبہ کسی نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں یہ میرے بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔ (بیضاوی، 5/27) یہ دلی لگاؤ کی ہی وجہ سے ان کی پسند کو اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید مثالیں:

شب معراج حضور ﷺ کا حضرت موسی علیہ السلام کی رائے کے احترام پر بار بار رب سے نماز کم کروانے کے لیے جانا، مناسک حج (سعی اور قربانی) اور دیگر عبادات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد کو جاری و ساری رکھنا، جیسے صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا: تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ (ابن ماجہ، 3/531، حدیث:3127)

کچھ مشترکہ صفات یہ ہیں جیسے صوم داؤدی، صوم عاشورہ، درود ابراہیم۔

یوں حضور ﷺ کی انبیائے کرام سے محبت ہمیں سکھاتی ہے کہ سچے پیار میں ادب، احترام اور یکجہتی ہوتی ہے۔ انبیا کے مقام کا احترام دراصل دین کا احترم ہے۔

1) حضور ﷺ کی محبت تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ سچی اور گہری تھی۔ آپ ہمیشہ انبیا کا احترام کرتے اور ان کے فضائل بیان فرماتے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-(پ 3، البقرۃ: 285) ترجمہ کنز العرفان: ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔ آپ اسی تعلیم کے مطابق انبیا کا ذکر ہمیشہ عزت اور محبت سے کرتے۔ کسی نبی کی شان میں کمی برداشت نہ کرتے اور امت کو بھی تعلیم دیتے کہ تمام انبیا اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں۔

2) نبی کریم ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خاص محبت کا اظہار فرمایا۔ ایک موقع پر جب ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت موسیٰ پر ترجیح دی، تو آپ نے فرمایا: مجھے موسیٰ پر ترجیح نہ دو۔ (بخاری2/113، حدیث: 2411) اسی طرح کی ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے انبیا میں آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو۔ (بخاری2/446، حدیث: 3414) یعنی انبیا کے درمیان فضیلت کا مقابلہ نہ کرو۔ یہ آپ کی عاجزی اور محبت کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ موسیٰ کا ذکر احترام سے کرتے اور ان کی امت کے صبر و آزمائش کو سراہتے۔ معراج کی رات بھی موسیٰ کے ساتھ محبت بھرے مکالمے سے ان کے مقام کا اعتراف فرمایا۔

3)آپ ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی بےحد محبت فرماتے۔ جب نصرانی عیسیٰ کو خدائی صفات دیتے تو آپ فرماتے: أنا أولى الناسِ بعیسى ابنِ مریمَ فی الدنیا والآخرةِ(بخاری2/457، حدیث: 3442) یعنی میں دنیا و آخرت میں عیسیٰ ابن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ آپ نے ان کی نبوت اور پاکیزگی کا بارہا ذکر کیا اور ان پر ایمان لانے کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا۔ حضور عیسیٰ کے بارے میں ہر قسم کی غلو آمیز باتوں سے امت کو روکتے اور سچی محبت و احترام کی تعلیم دیتے۔

4)حضور ﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے گہری محبت فرمائی۔ قرآن مجید میں آیا: مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَؕ- (پ 17، الحج: 78) آپ کو حضرت ابراہیم کا روحانی وارث قرار دیا گیا۔ آپ نے فرمایا: انا دَعْوَةُ إِبْرَاهِیمَ (تاریخ ابن عساكر ، 3 / 393) یعنی میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا کا نتیجہ ہوں۔ آپ حج کے مناسک میں ابراہیمی سنتوں کی پیروی کرتے، قربانی، بیت اللہ کی تعظیم اور توحید کی دعوت کو ابراہیمی وراثت سمجھتے۔ ان کی زندگی کو امت کے لیے عملی نمونہ قرار دیتے۔

5)تمام انبیا سے حضور کی محبت صرف زبانی نہیں بلکہ عملی تھی۔ آپ نے ان کی سنتوں کو زندہ کیا، ان کی امتوں کے لیے دعا کی اور ان کے پیغام کو مکمل کر کے امانت ادا فرمائی۔ قرآن نے آپ کو خاتم النبیین کہا، مگر آپ نے اس فضیلت کو تکبر نہیں بلکہ رحمت میں بدلا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: الأنبیاءُ إخوةٌ لِعَلَّات، امُہاتُہم شَتّی ودینُهم واحدٌ (بخاری2/458، حدیث: 3443) یعنی تمام انبیا ایک ہی دین کے بھائی ہیں۔ اس طرح آپ نے انبیا کے درمیان محبت، وحدت اور احترام کا کامل پیغام دنیا تک پہنچایا۔


اللہ پاک کے سب سے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری سے قبل اللہ پاک نے بہت سے انبیائے کرام کو اس دنیا میں بھیجا۔ انبیائے کرام علیہم السلام کائنات کی عظیم ترین ہستیاں اور انسانوں میں ہیروں اور موتیوں کی طرح جگمگاتی شخصیات ہیں۔ جنہیں خدا نے وحی کے نور سے روشنی بخشی اور حکمتوں کے سرچشمے ان کے دلوں میں جاری فرمائے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ انبیائے کرام سے بہت محبت فرماتے اور کثرت سے انبیائے کرام کا ذکر فرماتے تھے۔ محبت کا ایک انداز یہ بھی ہوتا ہے کہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے۔ ور ان کے طریقے کو اپنایا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم ﷺ انبیائے کرام کے طریقوں کو اپناتے اور اپنوں کو بھی تلقین فرماتے۔ آپ ﷺ ان سنتوں کے ذریعے محبت کا اظہار بھی فرماتے۔ چنانچہ اس تعلق سے کچھ احادیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے۔

حضور کی حضرت ابرہیم علیہ السلام سے محبت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ پاک نے ہمیں آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو سکھا دیا ہے لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یوں کہو: ترجمہ: اے اللہ محمد ﷺ اور محمد ﷺ کی آل پر رحمتیں بھیج جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر رحمت بھیجی بے شک تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے اے اللہ محمد ﷺ اور محمد ﷺ کی آل پر ایسی برکتیں بھیج جیسے برکتیں ابراہیم علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر اتاریں بے شک تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے۔ (بخاری، 2/429، حدیث: 3370)

سبحان اللہ نیز نبی کریم ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقوں کو اپناتے حدیث پاک میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ اپنے مونچھیں تراشتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھیں تراشا کرتے تھے۔ ( ترمذی، 4/349، حدیث: 2769 )

حضور کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی محبت میں روزہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ کیا ہے؟ یہودیوں نے عرض کی یہ وہ دن ہے جس میں اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہاری نسبت موسیٰ سے میرا تعلق زیادہ ہے۔ چنانچہ آپ نے بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ ( بخاری، 1/656، حدیث: 2004) سبحان اللہ! قربان جائیے محبت رسول پر کہ آپ ﷺ انبیائے کرام سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔ چنانچہ اس متعلق ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیے۔

حضرت موسیٰ کی رائے کا احترام: حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: شب معراج اللہ پاک نے میری امت پر 50 نمازیں فرض فرمائیں۔ میں یہ لے کر واپس ہوا اور حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے عرض کی کہ اللہ پاک نے آپ کے ذریعے آپ کی امت پر کیا فرض فرمایا؟ میں نے کہا: اس نے 50 نمازیں فرض کی ہیں، انہوں نے عرض کی: اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی انہوں نے مجھے واپس لوٹا دیا اور میں نے بارگاہ الہی میں درخواست کی تو رب تعالی نے کچھ نمازیں معاف کر دیں تو میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا انہیں بتایا کہ اللہ تعالی نے کچھ نماز معاف کر دی ہیں انہوں نے عرض کی آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتی میں پھر واپس ہوا اور درخواست کی تو اللہ پاک نے کچھ نمازیں اور معاف فرما دی میں دوبارہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس ایا تو انہوں نے پھر عرض کی آپ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتی میں واپس گیا تو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: نمازیں پانچ ہیں اور حقیقت میں 50 ہیں ہمارے ہاں فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی میں پھر جناب حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے پھر عرض کی اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ (بخاری، 1/140، حدیث: 349 )

میٹھی میٹھی اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے کہ حضور ﷺ انبیائے کرام علیہم السلام سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔

آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں انبیائے کرام سے محبت کرنے اور ان کے طریقوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ کر یم نے بہت سے انبیائے کرام کو اس دنیا میں لوگوں کی رہنمائی کے لیے بھیجا اور ان انبیائے کرام کو پیارے آقا ﷺ کی آمد کی خوشخبری بھی دی پیارے آقا ﷺ انبیائے کرام کا احترام فرماتے آور ان سے محبت کا اظہار فرماتے پیارے آقا ﷺ اپنی پیاری پیاری میٹھی میٹھی باتوں میں کثرت سے انبیائے کرام کا ذکر فرماتے اور ان کی تعریف فرماتے ایک حدیث پاک میں ہے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: میں انبیا میں سے ایک ہوں اور ان کے ساتھ محبت رکھتا ہوں۔

سبحان اللہ اس حدیث مبارکہ میں پیارے آقا ﷺ صاف الفاظ میں فرمارہے ہیں کہ میں انبیا سے محبت کرتا ہوں۔

حضور ﷺ کی انبیائے کرام سے محبت واحترام پر چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

حضور کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے محبت: پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: میں ابراہیم کا بیٹا ہوں۔

حضور کی حضرت یونس علیہ السلام سے محبت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یونس بن متی پر خود کو فضیلت نہ دو۔

معراج میں انبیائے کرام سے ملاقاتیں: پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: میں آسمانوں پر گیا ہر آسمان پر ایک نبی سے ملا؛ آدم، یحییٰ، عیسیٰ، یوسف، ادریس، ہارون، موسیٰ، ابراہیم (سب نے) میرا استقبال کیا اور میری تعظیم کی۔ یہ ملاقاتیں حضور ﷺ کی انبیائے کرام سے محبت وتعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

حضور کی حضرت موسٰی علیہ السلام سے محبت: پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام پر مجھے فضیلت نہ دیا کرو۔ (بخاری2/113، حدیث: 2411) یہ حضور کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے محبت کا کھلا اظہار ہے۔

پیارے آقا ﷺ انبیائے کرام سے بہت محبت فرماتے اور اپنی امت کو بھی ان سے محبت رکھنے کی تلقین فرماتے اور انبیائے کرام کی توہین سے منع فرماتے چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے۔ اس حدیث پاک سے انبیائے کرام کی محبت اور عظمت صاف ظاہر ہے۔

اللہ کریم ہمیں پیارے آقا ﷺ کی سنت کو اپناتے ہوئے انبیائے کرام سے محبت کا جذبہ عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔

اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ ہیں آپ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری سے قبل اللہ کریم نے بہت سے انبیائے کرام کو اس دنیا میں بھیجا مکی مدنی مصطفی ﷺ ان انبیائے کرام علیہم السلام سے بہت محبت فرماتے اور کثرت سے مختلف انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر فرماتے نیز ان کی صفات واوصاف بیان فرماتے۔

محبت کا ایک انداز یہ بھی ہوتا ہے کہ جس سے محبت ہو اس کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے ان کے طریقے کو اپنایا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم ﷺ انبیائے کرام علیہم السلام کے طریقوں، سنتوں اور دعاؤں کو اپناتے اور اپنی امت کو بھی تلقین بھی فرماتے اور پیارے آقا ﷺ ان سنتوں اور دعاؤں سے محبت کا اظہار بھی فرماتے چنانچہ نبی کریم ﷺ کا انبیائے کرام کی سنتوں کو اپناتے ہوئے ان سے محبت کے اظہار پر مشتمل احادیث ملاحظہ فرمائیں:

حضور ﷺ کی حضرت ابرہیم علیہ السلام سے محبت: حضرت کعب بن عجرہ فرماتے ہیں ہم نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو سکھا دیا ہے لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ ارشاد فرمایا: یوں کہو! ترجمہ اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمتیں بھیج جیسے تو نے ابراہیم اور ال ابراہیم پر رحمتیں بھیجیں بیشک تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے اے اللہ! محمد اور آل محمد پر ایسی برکتیں بھیج جیسی برکتیں ابراہیم اور ال ابراہیم پر اتاریں بیشک تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے۔ (بخاری، 2/429، حدیث: 3370)

سبحان اللہ!نیز نبی کریم ﷺ حضرت ابرہیم علیہ السلام کے طریقوں کو اپناتے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے: حضرت عبداللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں حضور اقدس ﷺ اپنی مونچھیں تراشتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے والد حضرت ابراہیم بھی اپنی مونچھیں تراشا کرتے تھے۔ (ترمذی، 4/349، حدیث: 2769)

حضور کا انبیائے کرام کی صفات پر مشتمل احادیث: پیارے آقا ﷺ نے حضرت ابرہیم اسحاق اور یعقوب یوسف علیہم السلام کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا: بیشک کریم، کریم کے بیٹے، کریم کے فرزند اور کریم کے صاحبزادے یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔ ( ترمذی، 5/81، حدیث: 3127)

حضرت ایوب سے محبت فرماتے ہوئے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ایوب قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار ہوں گے۔ (تاریخ ابن عساکر، 66/10)

حضور ﷺ کا انبیا سے نسبت رکھنے والی چیزوں سے محبت: چنانچہ ایک مرتبہ کسی نے عرض کی یارسول اللہ آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں یہ میرے بھائی یونس کا درخت ہے۔ (بیضاوی، 5/67)

حضور ﷺ کا حضرت موسیٰ کی محبت میں روزہ: حضرت عبداللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں جب حضور پر نور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ کیا ہے؟یہودیوں نے عرض کی یہ نیک دن ہے وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تو حضرت موسیٰ نے اس دن کا روزہ رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہاری نسبت موسیٰ سے میرا تعلق زیادہ ہے چنانچہ آپ نے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ (بخاری، 1/656، حدیث: 2004)

نبی کریم ﷺ انبیائے کرام کے لیے کثرت سے رحمت کی دعا فرماتے چنانچہ حضرت قتادہ سے روایت ہے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت زکریا پر رحم فرمائے انہیں مال کی وراثت سے کوئی غرض نہ تھا۔ (تاریخ ابن عساکر، 73/642)

ان روایات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ انبیائے کرام سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔

اللہ کریم ہمیں انبیائے کرام کی محبت عنایت فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین

اللہ رب العزت نے کائنات کی ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کو منصب نبوت عطا فرمایا۔ یہ پاکیزہ ہستیاں انسانیت کے لیے روشنی کا چراغ بن کر آئیں،جنہوں نے توحید،صبر،عدل اور اعلی اخلاق کی وہ مثالیں رکھیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعل راہ رہیں گی۔ان تمام انبیا میں سب سے آخری اور اعلی مقام والے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ ہے جو نہ صرف تمام انبیا کے سردار ہیں بلکہ ان کے سب سے زیادہ خیر خواہ،محسن اور محبت کرنے والے ہیں۔

حضور ﷺ کے سینے میں تمام انبیائے کرام کے لیے بہت عزت تھی وہ ان کے بارے میں کلام بہت عزت و احترام سے فرماتے، ان کی حرمت کا خاص خیال رکھتے، ان کے مقام کو واضح کرتے اور ان پر ایمان کو اسلام کی بنیاد قرار دیا۔

انبیائے کرام علیہم السلام کی محبت کو قرآن و حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جیسے قران پاک میں ہے: لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-(پ 3، البقرۃ: 285) ترجمہ کنز العرفان: ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔ ایک اور مقام پر آیا ہے: قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪- (پ 1، البقرۃ: 136) ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔

احادیث مبارکہ:

فرمان مصطفی ﷺ ہے: میں قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں گا۔

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ کا حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ محبت و احترام کا ذکر ملتا ہے چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: مجھے موسی علیہ السلام پر اس طرح فضیلت نہ دو کہ ان کی شان میں کمی آئے۔ (بخاری2/113، حدیث: 2411)

حضور ﷺ کی احادیث میں بہت سے واقعات انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں ملتے ہیں جن میں آپ ان کے بارے میں کلام بہت محبت عزت اور احترام سے فرماتے تھے۔

حضور ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کے بارے میں معلومات درج ذیل ہیں:

نبی اکرم ﷺ کی تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت اور انکے احترام کے بارے میں متعدد احادیث مبارکہ اور آیات مبارکہ اور واقعات موجود ہیں جو انکی عالمگیر رحمت اور بھائی چارے کے پیغام کو واضح کرتے ہیں۔

حضرت موسی علیہ السلام سے محبت: ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ آقا کریم ﷺ نے فرمایا: اگر موسی زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ (شعب الایمان،1/199، حدیث: 176)

اس سے حضرت موسی علیہ السلام کے مرتبے اور آپ ﷺ کے ان کے حق میں جذبات کا پتا چلتا ہے ایک اور موقعہ پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک موسی پر رحم کرے انہیں ہم سے زیادہ تکلیف دی گئی مگر انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری، 4/186، حدیث: 6291)

میں یونس بن متی سے بہتر نہ ہوں: ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: کسی شخص کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں یہ حدیث تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی عظمت اور مقام کا اعتراف ہے اور نبی کریم ﷺ کی انکے لئے محبت اور احترام کو ظاہر کرتی ہے۔

تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان لانا: قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے: قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪- (پ 1، البقرۃ: 136) ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کے تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر اور تمام کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے جو کسی ایک نبی کا بھی انکار کرے وہ کافر ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام کے متعلق احادیث مبارکہ: آقا علیہ الصلوۃ والسلام ان کے ساتھ ہوں گے جن سے آپ محبت فرماتے ہیں: یہ حدیث عام محبت کے بارے میں ہے لیکن اس کا اطلاق انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت پر بھی ہوتا ہے ایک صحابی نے آقا کریم ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا کہ وہ کب آئے گی؟ تو آقا کریم ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کیلئے تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کیلئے زیادہ نماز،روزے،زکوۃ تو تیار نہیں کئے لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں تو آقا کریم ﷺ نے فرمایا: تم اس کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍؕ- (پ 3، البقرۃ: 253)ترجمہ: یہ رسول ہم نے سن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت عطا فرمائی ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور جسے سب پر درجوں بلند کیا۔

اس آیت مبارکہ میں انبیائے کرام علیہم السلام کی عظمت شان کو بیان کیا گیا ہے اور یاد رہے کہ نبی ہونے میں تمام انبیائے کرام علیہم السلام برابر ہیں لیکن ان کے درجات میں فرق ہے نبوت میں کوئی فرق نہیں بلکہ خصائص و کمالات میں فرق ہے ان کے درجات مختلف ہیں بعض بعض سے ادنی ہیں کہ یہ ادب کے مطابق نہیں اس طرح نہیں کہہ سکتے بلکہ بعض بعض سے اعلی ہیں اور سب سے اعلی ہمارے آقا کریم ﷺ ہیں اس پر تمام امت کا اجماع ہے۔

معراج کی رات انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات: معراج کی رات آقا کریم ﷺ نے پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے اور دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ اور عیسی علیہما السلام سے اور تیسرے پر حضرت یوسف علیہ السلام سے چوتھے پر حضرت ادریس علیہ السلام اور پانچویں پر حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے پر حضرت موسی علیہ السلام سے اور ساتویں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات فرمائی۔ (سیرت مصطفی، ص 733)


حضور ﷺ اپنے تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت فرماتے تھے اس لئے آقا ﷺ نے ان کی یاد کو جاری وساری رکھنے اور ان کے افعال کو جاری کرنے کیلئے دیگر احادیث میں ارشاد فرمایا ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی محبت میں آپ ﷺ انکے اوصاف کو بھی اپنایا اور پھر ان میں سے کچھ صفات کا اپنی احادیث مبارکہ میں بھی ذکر فرمایا اور دیگر احادیث مبارکہ میں مختلف انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کا اظہار بھی فرمایا اور انکی شان کو بھی بیان فرمایا۔

شانِ حضرت آدم بزبانِ شہنشاہِ بنی آدم: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ایمان والے جمع ہوں گے اور کہیں گے: اے کاش ہمارے رب کی بارگاہ میں کوئی ہماری سفارش کر دے پھر وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے آپ تمام انسانوں کے والد ہیں اللہ پاک نے خاص اپنے دست قدرت سے آپکی تخلیق فرمائی اور آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کروایا اور آپکو تمام چیزوں کے ناموں کا علم دیا۔ (بخاری،3/441، حدیث: 4744)

درود ابراہیمی کی تعلیم: حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے آقا کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ اللہ نے ہمیں آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو سیکھا دیا ہے لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں ارشاد فرمایا: یوں کہو: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّیتَ عَلَى إِبْرَاهِیمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِیمَ إِنَّكَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِیمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِیمَ إِنَّكَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ۔ (بخاری، 2/429، حدیث: 3370)

مونچھیں تراشنا سنتِ ابراہیمی ہے: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حضور ﷺ اپنی مونچھیں تراشتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھیں تراشا کرتے تھے۔ (ترمذی، 4/349، حدیث: 2769)

حضرت ابراہیم کا جنتی محل: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بےشک جنت میں موتیوں سے بنا ہوا ایک محل ہے جس میں نہ ہی دراڑیں ہیں اور نہ ہی کوئی کمزوری اللہ پاک نے اسے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی مہمانی کیلئے تیار کیا ہے۔ (مسند بزار، 15/690، حدیث:8789)

حسن یوسف علیہ السلام: آپ علیہ السلام انتہائی حسین و جمیل تھے احادیث معراج میں آقا ﷺ نے آپ علیہ السلام کے حسن کا اجمالی تذکرہ کیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا: معراج کی رات میں نے تیسرے آسمان میں حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو وہ ایسے شخص تھے جن کے حسن نے مجھے تعجب میں ڈال دیا وہ نوجوان اور اپنے حسن کے سبب لوگوں پر فضیلت رکھنے والے تھے۔ (تاریخ ابن عساکر، 35/146، حدیث: 7136)

ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ سنت ابراہیمی کو پیارے آقا ﷺ کا جاری رکھنا اور ان کے افعال کو جاری رکھنا بھی ان سے محبت کا اظہار تھا۔

آپ علیہ السلام تمام انسانوں میں زیادہ حسین تھے کہ خود پیارے آقا نے اپنی حدیث مبارکہ میں ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے اور صرف ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کو ان سے بڑھ کر حسن عطا فرمایا گیا ہے چنانچہ ایک شاعر نے فارسی میں کیا خوب ارشاد فرمایا:

حسنِ یوسف دمِ عیسیٰ یدِ بیضاداری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری

ان احادیث مبارکہ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ انبیائے کرام صرف شرعی مسائل تک محدود نہیں ہوتے بلکہ اللہ پاک نے انہیں کثیر علم سے نوازا ہے۔

شانِ ایوب علیہ السلام: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار ہوں گے۔ (تاریخ ابن عساکر، 15/44)

دعائے سلیمان کی رعایت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات مجھ پر ایک سرکش جن حملہ آور ہوا تاکہ وہ میری نماز منقطع کر دے پس اللہ پاک نے مجھے اس پر قدرت دی میں نے اسے قابو کر لیا پھر میں نے ارادہ کیا اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ تم سب اسے دیکھو مگر مجھے میری بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو۔ تو میں نے اس جن کو ناکام واپس کر دیا۔

اس سے بھی شانِ نبی ثابت ہوتی ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے دعائے سلیمان کو اپنایا اور چونکہ حضرت ابراہیم بھی اللہ پاک کے دوست ہیں یعنی خلیل اللہ ہیں اسی لیے نمازی کو حکم دیا گیا کہ وہ تشہد میں وہی درود ابراہیمی پڑھے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر درود و سلام بھیجا گیا اور اس درود کو تب سے آج تک اور آگے بھی قیامت تک مسلمان پڑھتے رہیں گے۔

اللہ پاک ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کرنے اور انکے فیض سے مستفیض فرمائے۔ آمین

پیارے کریم آقا ﷺ کو گزشتہ انبیائے کرام سے بہت محبت،عقیدت و احترام تھا اسکا ثبوت ہمیں قرآن کریم و احادیث طیبہ سے ملتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہم ہر نبی و رسول پر ایمان نہ لے آئیں۔آقا ﷺ تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل ہیں۔جبکہ بعض احادیث میں آقا ﷺ نے ایسی فضیلت دینے سے منع فرمایا یعنی کہ جس سے دیگر انبیائے کرام کی شان میں کمی آئے۔

آئیے قرآن وحدیث کی روشنی میں حضور ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت ملاحظہ فرمائیں۔

قرآن مجید فرقان حمید میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 136 میں ارشاد فرمایا گیا: قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪- ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ اس امت پر سابقہ تمام انبیائے کرام و رسولوں علیہم السلام پر ایمان لانا ضروری ہے۔جو ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرے کافر ہے۔

اسی طرح پارہ 3 سورہ بقرہ کی آیت 285 میں ہے: لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-ترجمہ کنز العرفان: ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔

یہ انبیائے کرام علیہم السلام وصف نبوت میں برابر ہیں البتہ انکی فضیلت کے اعتبار سے درجات ہیں۔ یہ عقیدہ بھی ہوکہ یہ تمام انسانوں سے افضل اور گناہوں سے معصوم ہیں۔یہ ہمارے ایمان میں شامل کردیا گیا اس سے آقا ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔

اسی طرح قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں بھی انبیائے کرام کا تذکرہ اسی طرح ان کی سنتیں اس امت میں شریعت میں جاری ہیں۔ جیسا کہ مونچھیں تراشنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کریمہ ہے، یہ ہمارے آقا ﷺ کی بھی سنت مبارکہ ہے۔ (ترمذی، 4/349، حدیث: 2769)

اسی طرح مقام ابراہیم کو مصلی بنانا، اس کے قریب نماز ادا کرنا۔ حج کے افعال میں ان کی اور حضرت ہاجرہ کی سنتوں کو باقی رکھا گیا۔ اسی طرح نماز میں جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے۔ اسی طرح معراج کی رات انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات ہوئی۔ جب نمازوں کی فرضیت ہوئی پہلے 50 نمازیں فرض تھیں، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے آقا ﷺ نے اللہ پاک سے عرض کی اور پھر نمازیں کم ہوتے ہوتے 5 رہ گئیں اور ثواب 50 کا۔ اس سے آقا ﷺ کی حضرت موسیٰ سے محبت کا ظہور ہوتا ہے کہ ان کی رائے کا احترام بھی فرمایا۔

اسی طرح دیگر انبیائے کرام اور انکی دعاؤں کا قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بھی تذکرہ ملتا ہے، سیرت الانبیاء سے اس کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنی اور اپنے انبیائے کرام علیہم السلام سے حقیقی محبت عطا فرمائے۔ آمین

حضورِ اقدس ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ تمام انبیائے کرام کے سردار اور خاتم النبیین ہیں، آپ نے ہمیشہ دوسرے انبیا کا احترام فرمایا۔ ان کی نبوت کی تصدیق کی اور انہیں اپنی امت کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا،جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ السلام سے محبت کا اظہار کیا،ان سب کی تعلیمات کو سچ مانا اور معراج میں سب کی امامت کرائی، جو آپ کے تمام انبیائے کرام کے ساتھ گہرے تعلق اور امت پر ان کے مقام و مرتبے کی گواہی ہے اور یہ محبت دراصل اللہ سے محبت کا عکس ہے۔

محبتِ انبیا کی جھلکیاں:

1۔ سرکار ﷺ کی انبیائے کرام سے محبت پر کچھ احادیث ملاحظہ ہوں۔ کثیر احادیث میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ہے یہاں ان میں سے ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو۔

چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام انتہائی سخی اور بڑے مہمان نواز تھے۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک نے میرے دوست جبرائیل کو حضرت ابراہیم کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اے ابراہیم! میں نے تمہیں اس لئے خلیل نہیں بنایا کہ تم میرے سب سے زیادہ عبادت گزار بندے ہو بلکہ اس لئے بنایا ہے کہ تیرا دل اہل ایمان کے دلوں میں سب سے زیادہ سخی ہے۔ (ترغیب وترہیب،3/312، حدیث:4002)

اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام اور انکی قوم کا ذکر بھی آپ ﷺ نے اپنی احادیث میں کیا جیسا کہ حضرت جابر فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مقام حجر سے گزرے تو ارشاد فرمایا:اے لوگو! معجزات کا مطالبہ نہ کرو،کیونکہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے معجزات کا مطالبہ کیا تو اللہ پاک نے ان کے لیے اونٹنی بھیجی جو اس گھاٹی سے باہر آتی اور اسی کے اندر چلے جاتی تھی وہ اونٹنی ایک دن لوگوں کے حصے کا پانی پی جاتی اور لوگ اس دن اونٹنی کا دودھ پی لیتے تھے۔پھر انہیں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو انہیں ایک ہولناک چیخ نے پکڑ لیا اور اللہ پاک نے آسمان کے نیچے موجود ان کے ہر فرد کو ہلاک کردیا سوائے ایک شخص کے جو کہ حرم پاک میں موجود تھا۔عرض کی گئی:یا رسول اللہ ﷺ وہ کون تھا؟ ارشاد فرمایا: ابو رغال، جب وہ حرم پاک سے نکلا تو اسے بھی وہی عذاب پہنچ گیا جو اس کی قوم پر آیا تھا۔ (مسند امام احمد، 5/14، حدیث: 14162 ملتقطا)

پیارے آقا ﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر خیر اپنی احادیث میں کیا ہے۔یہاں ان کے متعلق احادیث ملاحظہ فرمائیں:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے؟ فرمایا: جو تم میں بڑا پرہیزگار ہے ۔عرض کی: ہم اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہے۔ ارشاد فرمایا: تولوگوں میں بڑے معزز یوسف ہیں کہ (خود)اللہ کے نبی ہیں اورنبی (یعقوب علیہ السلام)کے بیٹے، وہ نبی(اسحاق علیہ السلام) کے بیٹے اور وہ خلیل اللہ کے بیٹے ہیں۔ عرض کی: ہم اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہے، ارشاد فرمایا: تو کیا تم مجھ سے اہلِ عرب کے آباؤ اجداد کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ عرض کی: جی ہاں، ارشاد فرمایا: ان میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جب کہ عالم ہوجائیں۔ (بخاری، 2/421، حدیث:3353)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پھر مجھے تیسرے آسمان پر لے جایا گیا،جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنا چاہا تو پوچھا گیا:کون؟کہا:جبریل۔پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد ﷺ پوچھا گیا انکو بھیجا گیا ہے؟ جواب دیا۔جی ہاں! بھیجا گیا ہے۔تو ہمارے لئے دروازہ کھلا، وہاں حضرت یوسف علیہ السلام موجود تھے،انہیں خوبصورتی کا ایک حصہ دیا گیا ہے، آپ نے مرحباً کہا اور میرے لیے خیر کی دعا بھی کی۔ (مسلم، ص 78، حدیث: 411)

پسندیدہ سبزی اور اس کی وجہ: ایک مرتبہ کسی نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ میرے بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔ (بیضاوی،5/27)

قبر میں نماز: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کرائی گئی اس رات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو آپ کثیب احمر(ایک سرخ ٹیلے) کے پاس اپنے قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ (مسلم، ص 994، حدیث: 6157)

بروز قیامت بارگاہِ موسیٰ میں مخلوق کی حاضری: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے:اے موسیٰ علیہ السلام! آپ اللہ پاک کے نبی ہیں،اللہ پاک نے آپ کو لوگوں پر اپنی رسالت اور کلام کے ذریعے فضیلت بخشی،آپ ہمارے لیے اپنے رب العالمین کی بارگاہ میں شفاعت کیجئے،کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام ان سے فرمائیں گے: میرے رب نے آج ایسا غضب کیا ہے کہ ایسا عضب نہ اس نے پہلے کیا اور نہ ہی آج کے بعد کرے گا،اور میں نے ایک ایسی جان کو قتل کر دیا تھا جسے کرنے کا مجھے حکم نہیں تھا،اس لیے مجھے اپنی فکر ہے،مجھے اپنی فکر ہے۔تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ،تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ (بخاری، 3/420، حدیث:4713)