حضور
کی انبیائے کرام سے محبت از بنت ایاز، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اللہ کر یم نے
بہت سے انبیائے کرام کو اس دنیا میں لوگوں کی رہنمائی کے لیے بھیجا اور ان انبیائے
کرام کو پیارے آقا ﷺ کی آمد کی خوشخبری بھی دی پیارے آقا ﷺ انبیائے کرام کا احترام
فرماتے آور ان سے محبت کا اظہار فرماتے پیارے آقا ﷺ اپنی پیاری پیاری میٹھی میٹھی
باتوں میں کثرت سے انبیائے کرام کا ذکر فرماتے اور ان کی تعریف فرماتے ایک حدیث
پاک میں ہے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: میں انبیا میں سے ایک ہوں اور ان کے ساتھ محبت
رکھتا ہوں۔
سبحان اللہ اس
حدیث مبارکہ میں پیارے آقا ﷺ صاف الفاظ میں فرمارہے ہیں کہ میں انبیا سے محبت کرتا
ہوں۔
حضور ﷺ کی انبیائے
کرام سے محبت واحترام پر چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
حضور
کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے محبت: پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: میں
ابراہیم کا بیٹا ہوں۔
حضور
کی حضرت یونس علیہ السلام سے محبت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یونس بن متی پر
خود کو فضیلت نہ دو۔
معراج
میں انبیائے کرام سے ملاقاتیں: پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: میں آسمانوں پر
گیا ہر آسمان پر ایک نبی سے ملا؛ آدم، یحییٰ، عیسیٰ، یوسف، ادریس، ہارون، موسیٰ،
ابراہیم (سب نے) میرا استقبال کیا اور میری تعظیم کی۔ یہ ملاقاتیں حضور ﷺ کی انبیائے
کرام سے محبت وتعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
حضور
کی حضرت موسٰی علیہ السلام سے محبت: پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: موسیٰ علیہ
السلام پر مجھے فضیلت نہ دیا کرو۔ (بخاری2/113، حدیث: 2411) یہ حضور کا حضرت موسیٰ
علیہ السلام سے محبت کا کھلا اظہار ہے۔
پیارے آقا ﷺ انبیائے
کرام سے بہت محبت فرماتے اور اپنی امت کو بھی ان سے محبت رکھنے کی تلقین فرماتے
اور انبیائے کرام کی توہین سے منع فرماتے چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے
فرمایا: جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے۔ اس حدیث پاک سے انبیائے کرام کی
محبت اور عظمت صاف ظاہر ہے۔
Dawateislami