شریعت میں ظلم سے مراد یہ ہے کہ کسی کا حق مارنا، کسی کو غیر محل میں خرچ کرنا، کسی کو بغیر غلطی کے سزا دینا۔ تاریخ اسلام میں ابتدائے اسلام سے ہی مسلمانوں پر ظلم کی بھی ابتدا ہوئی۔ ہمارے نبی، نبی اکرم ﷺ کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائی گئیں۔ کبھی کفار مکہ آپ کے راستے میں کانٹے بچھاتے، کبھی آپ کو دھکا دیتے اور کبھی آپ کی نازک اور مقدس گردن میں چادر کا پھندا ڈال کر گلا گھونٹنے کی کوشش کرتے۔ حضور رحمت ﷺ کے ساتھ ساتھ غریب مسلمانوں پر بھی کفار مکہ نے ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے کہ مکی کی زمین بلبلا اٹھی۔ صحرائے عرب کی تیز دھوپ میں جب کہ وہاں کی ریت کے ذرات تنور کی طرح گرم ہو جاتے اس وقت ان مسلمانوں کی پشت کو کوڑوں کی مار سے زخمی کر کے اس جلتی ہوئی ریت پر پیٹھ کے بل لٹاتے اور سینوں پر اتنا بھاری پتھر رکھ دیتے کہ وہ کروٹ نہ بدلنے پائیں اور اس کے ساتھ ساتھ لوہے کو آگ میں گرم کر کے ان سے ان مسلمانوں کے جسم کو داغتے۔ الغرض مسلمانوں پر ایسے ایسے ظلم کیے گئے کہ دل دہل جاتا ہے۔ اسلام کی سربلندی کےلئے ہر بار کسی مسلمان نے قربانی دی، کسی ماں کا بیٹا قربان ہوا، کسی بیوی کا شوہر قربان ہوا، کسی بہن کا بھائی قربان ہوا۔ ہمیشہ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ کیا اسلام کی سربلندی کےلئے ہمیشہ کسی کو قربان ہونا پڑے گا؟ کیا کسی قربانی کے بغیر امت مسلمہ یک جہتی کے ساتھ اسلام کی سربلندی کےلئے کوشاں نہیں ہو سکتی؟

مسلمانوں پر ظلم آج بھی ہوتا ہے۔ اور انتہا اس بات کی ہے کہ مسلمانوں پر آج مسلمان بھی ظلم کرنے سے نہیں رکتے۔ مسلمان ہونے کے باوجود غصے کی آگ اتنی بڑھ چکی ہے کہ مسلمان ہی مسلمانوں کو قتل کرنے سے اپنے ہاتھ نہیں روک پا رہے۔ کسی مسلمان پر ظلم ہوتا دیکھ امت مسلمہ تماشائی بنی ہوتی ہے۔ یہ امت مسلمہ آج خاموش ہے۔ یہ امت نہ ظلم سے منع کرتی ہے، نہ زیادتی سے۔ اس امت کو کوئی کافر و مشرک کیا توڑے گا۔ یہ امت خود کی جڑوں کو خود کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس امت نے مجرمانہ خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے تو فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ اسے حقیر جانے۔ (مسلم، ص 1386، حدیث: 2564)

امت مسلمہ کو ایک جسم ایک جان کی مانند ہونا چاہیے۔ جس طرح جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک مسلمان پریشان ہو تو پوری امت مسلمہ کو وہ تکلیف محسوس کرنی چاہیے۔ لیکن اس امت نے ایک گہری خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

اب اس امت مسلمہ کو خاموشی ختم کرنی چاہئے۔ اور امت مسلمہ کو یک جہتی کے ساتھ دین کا پرچم سر بلند کرنے کےلیے کوشاں ہو جانا چاہئے۔


تاریخِ انسانی ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جو قوموں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں مگر اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ قومیں ان واقعات کے رونما ہونے کے بعد ہی جاگتی ہیں جب کہ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ اس تلخ حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے:کیا ظلم کی چکی میں پستے مظلوم مسلمانوں کے ختم ہو جانے کے بعد ہی امت مسلمہ کی آنکھیں کھلیں گی، جیسے کربلا کے بعد کھلی تھیں؟

واقعہ کربلا اسلام کی تاریخ میں ایک ایسا المیہ ہے جو قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔ نواسہ رسول، بی بی فاطمہ کے پھول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ظلم و جبر کے خلاف جس بے مثال صبر اور بہادری کا مظاہرہ فرمایا وہ رہتی دنیا تک کے مظلوموں کیلئے مشعلِ راہ ہے۔ مگر یہ بھی ایک دردناک حقیقت ہے کہ کربلا کے وقت اکثریت خاموش تماشائی بنی رہی، انہوں نے اپنے امام کو تنہا چھوڑ دیا اور جب وہ امام حسین اور دیگر مسلمان بھائیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تو امت کو ہوش آیا،انکھیں کھلیں اور احساسِ جرم نے قوم کو گھیر لیا۔

لیکن ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے:کیا ہر بار سوئی ہوئی امت مسلمہ کو جگانے کیلئے مظلوم مسلمانوں کو اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنا پڑے گا؟کیا ہر بار کربلا جیسے بڑے خسارے سے دوچار ہونا ضروری ہے؟

ہمارا دین تو ہمیں ہر حال میں اپنے مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے تو فرمایا: تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اُڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ (بخاری،4/103، حدیث: 6011)

آج ہم خود پر غور کر لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا گیا ہے لیکن افسوس کہ آج صورت حال یہ ہے کہ جسم کے بعض حصوں کو بے دردی سے کاٹا جا رہا ہے اور باقی جسم کو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا۔ آج فلسطین میں بچے جل رہے ہیں، گھروں کے ملبے تلے سسکیاں دم توڑ رہی ہیں اور مسجد اقصیٰ کی دیواریں فریاد کر رہی ہیں لیکن دنیا خاموش ہے۔وہی دنیا جو انسانیت کے نعرے لگاتی ہے، انسانی حقوق کی دعوے دار بنتی ہے مگر جب مظلوم مسلمان خون میں نہا رہے ہوتے ہیں تو اس کے ہونٹ سی دیے جاتے ہیں۔ یہ وہی خاموشی ہے جو کشمیریوں نے دیکھی جب کہ ان کے گھروں کو مسمار کیا گیا، جب ان کے جوانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا،جب ان کی عورتوں کی عزت پامال کی گئی تب بھی امت مسلمہ نے آنکھیں بند کر لیں اور آج بھی امت مسلمہ اپنی آنکھیں بند کر چکی ہے۔

آج دنیا میں بے شمار جگہیں ہیں جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے اور امت مسلمہ خاموش ہے۔ تھوڑا غور کریں کہ مظلوموں کی یہ سسکیاں کل ہمارے لئے امتحان نہ بن جائیں،کل بروز محشر اپنے ربِ رحیم کو اور اپنے آقا کریم ﷺ کو ان سسکیوں کا حساب نہ دینا پڑ جائے، توکیا جواب دیں گے؟ اپنی شرمندگی کہاں چھپائیں گے؟آج بھی وقت ہے کہ غفلت کی نیند سوئی ہوئی امت مسلمہ بیدار ہو جائے اور ظلم و ستم کا نشانہ بنتے اپنے مظلوم بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے ورنہ بروز محشر کی رسوائی دیکھی نہ جائے گی۔

اللہ کریم امت مسلمہ کو جسدِ واحد کی طرح بننے کی توفیق عطا فرمائے اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنے والے بے دینوں کو نیست و نابود فرمائے۔ آمین یارب العالمین


دشمن اسلام: یہودیوں کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شروع ہی سے اسلام کے سخت مخالف ہیں اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ یہودی ظاہری اور باطنی طور پر عالم اسلام کو نقصان پہنچانے کی سر طور کوشش میں لگے رہتے ہیں وہ اعلانیہ اور پوشیدہ ہر طرح سے مسلمانوں سے دشمنی کرتے آئے ہیں۔ یہودیوں نے ہمیشہ ہی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی مذموم حرکت کی۔ یہودی چاہتے ہیں کہ اسلام دین ختم ہو جائے اور ان کا مذہب قائم ہو۔

مسلمانوں پر ظلم: یہودی اپنے نا پاک عزائم کے ساتھ اپنی فطرت سے بد اخلاق، شریر، غیر انسانی اوصاف کے حامل، بلکہ درندہ صفت واقع ہوئے ہیں، وہ انسانیت کے لئے نا سور ہیں، وہ دنیا کے جس خطے میں رہے اپنی شرارتوں سے انہوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا۔

اس وقت بھی بیت المقدس اور فلسطین کے ایک بڑے حصے پرنا جائز قبضہ کر کے انہوں نے وہاں کے بے قصور اور نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی حد پار کر لی۔

انہوں نے مسلمانوں کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں۔ تقریبا کئی سالوں سے انہوں نے پاگل ہاتھی کی طرح وہاں اندھا دھند کیمیکل بموں، توپ کے دہانوں اور بندوق کی گولیوں سے غزہ کے معصوم بچوں، خواتین، بوڑھوں اور دیگر شہریوں کے خون کی ندیاں بہا دیں۔

جس سے محلات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ زندگی وہاں سسک سسک کر رو رہی ہے۔ ماؤں کے معصوم بچوں کو ان کے سامنے کھڑے کھڑے قتل کر دیا گیا۔

کئی ہزار سے زائد معصوموں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لاکھوں سروں سے گھروں کا سایہ چھین لیا گیا۔ وہاں درندگی کا ننگا ناچ اور انسانی بحران اپنی خوف ناک شکل اختیار کر چکا ہے۔

امتِ مسلمہ کی مجرمانہ خاموشی: پیارے نبی کریم ﷺ کی وہ امت جن کی شفاعت کے لئے آپ سجدوں میں روئے۔ہر دُعا میں یا ربی امتی پکارنے والے مہربان محمد مصطفی ﷺ کی وہ امت بے وفا نکلی بے حس نکلی۔

امتِ مسلمہ آج غزہ کے معصوم مسلمانوں کی درد پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے یوں جیسا کوئی واسطہ ہی نہیں۔ نہ خوف خدا ہے نہ لاج مصطفیٰ ہے، بس اپنے آپ کا پتا ہے۔

مسلم شریف میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ پاک ﷺ نے فرمایا: مومنوں کی مثال ایک دوسرے کے ساتھ محبت، رحمت اور شفقت کرنے میں جسم کی طرح ہے، جب اس کا ایک حصہ بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بےخوابی اور بخار میں اس کے ساتھ شریک ہوجاتا ہے۔ (بخاری،4/103، حدیث: 6011) ہم تو ایک جسم کی طرح تھے پھر کیوں معصوم غزہ کے مسلمانوں کا درد محسوس نہیں ہوتا اس امت کو جن کی مثالیں پیارے محبوب عالم مصطفیٰ ﷺ نے بار بار دیں کیا یہی امتِ مسلمہ ہے جن کا درد سانجھا تھا جن کے دکھ سکھ سانجھے سمجھے جاتے تھے؟

مسلمانوں کی موجودہ حالت اور امتِ مسلمہ کی بے حسی: فلسطین کے معصوم مسلمانوں کے حالات اس وقت پوری دنیا کے مسلم ممالک کے سامنے ہیں۔مگر بے حسی کی آخری حد ہے کہ مسلمان ممالک تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود بھی اپنے اسلامی بھائیوں کی مدد نہیں کرتے۔ان معصوم مسلمانوں کے لئے حق کی آواز بلند نہیں کرتے۔کیوں کہ آج کے مسلمانوں کو اپنا مفاد عزیز ہے۔

آج کے جدید دور میں غزہ کے معصوم مسلمانوں کے ناحق خون بہانے پر امتِ مسلمہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

مسلمانوں پر اقوم عالم کا چڑھ آنا: امتِ مسلمہ کی یہ حالت دیکھ کر آپ ﷺ کی وہ حدیث مبارک یاد آ گئی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے۔ (ابوداود، 4/150، حدیث: 4297)

آج بالکل فلسطین کے معصوم مسلمان ایسی حالت سے گزر رہے ہیں جس کا ذکر چالیس سال پہلے محمد مصطفی ﷺ نے حدیث مبارک میں فرمایا۔

آج مسلمان تعداد میں اسرائیل سے زیادہ ہیں مگر ان کے دلوں میں تو دنیا کی محبت آباد ہو چکی ہے۔ یہ امتِ مسلمہ کیسے اسرائیل کے خلاف کھڑی ہو یہ تو اسرائیلی پروڈکٹس پر عیش و عشرت کرتے ہیں۔

اسرائیلی منصوعات پر تو اس امتِ مسلمہ کے کاروبار چلتے ہیں تو کیسے وہ اس دشمن اسلام کے خلاف کھڑی ہو۔

وہن کی بیماری نے امتِ مسلمہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا یوں کہ دنیا کے تھوڑے سے نفع کے بدلے آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کو بھلا دیا۔

دوسری بڑی وجہ موت کا ڈر ہے یہ لوگ یوں دنیا کی چیزیں جمع کرتے ہیں جیسے ساری زندگی بس دنیا میں ہی بسر کرنی ہے اور مرنا تو بالکل نہیں۔اِس لئے دوسرے مسلمانوں کے مرنے پر شکر کرتے ہیں کہ ہم تو بچ گئے۔

امتِ مسلمہ کو دنیا کی محبت لے ڈوبی۔ایسی دنیا کی محبت جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر برابر بھی نہیں ہے۔

دوسرا امتِ مسلمہ اپنے مقصد کو بھلا چکی ہے اور یہاں سے ہی بربادی شروع ہوتی ہے۔


اسلام وہ دینِ رحمت ہے جو عدل، انصاف اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کے ساتھ بھلائی کرے، مظلوم کا ساتھ دے اور ظلم سے نفرت کرے۔ لیکن افسوس! آج وہی امت، جسے خیرُ الامم کہا گیا، خود ظلم و ستم کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ کہیں بم برس رہے ہیں، کہیں ماؤں کی گودیں اُجڑ رہی ہیں، کہیں نوجوانوں کے جسم لہو لہان ہو رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر دل تڑپ اٹھتا ہے، مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی اکثریت خاموش ہے۔ نہ کسی کے دل میں درد، نہ زبان پر فریاد، نہ عمل میں کوشش! آخر کیوں؟

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ- (پ 12، ہود: 113) ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو، ورنہ تمہیں آگ چھولے گی۔

اسی طرح سورۃ النساء آیت نمبر 75 میں تفسیرِ صراط الجنان میں ہے کہ جہاد فرض ہے اور اس کے ترک کا تمہارے پاس کوئی عذر نہیں۔ تو تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرتے؟ حالانکہ دوسری طرف مسلمان مرد، عورتیں اور بچے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ تم ان کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو کیوں ان کی مدد کے لیے نہیں اٹھتے؟ جہاد فرض ہے، بلا وجہ جہاد چھوڑنے والا ایسا ہی گناہگار ہے جیسا کہ نماز چھوڑنے والا۔ (صراط الجنان، 2/250)

آج دنیا کے کئی خطوں میں امتِ مسلمہ پر ظلم کی انتہا ہو چکی ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر مائیں اپنے جگر گوشوں کو کھو رہی ہیں۔

اسی طرح شام، یمن اور کشمیر میں ویران بستیاں اور بھوک سے تڑپتے معصوم بچے امتِ مسلمہ کی غفلت کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

کوئی سیاسی مصلحت کے نام پر خاموش ہے، کوئی دنیاوی مفاد کے خوف سے بول نہیں رہا، اور کوئی اپنی عبادتوں میں مگن ہو کر سمجھتا ہے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں۔

قرآنِ کریم میں واضح ارشاد ہے: وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ (پ 10، الانفال: 72) ترجمہ: اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے۔

ہم سوشل میڈیا پر ظلم کی تصاویر دیکھ کر چند لمحے افسوس تو کرتے ہیں مگر دل میں امت کا درد پیدا نہیں ہوتا۔ نہ دعا کرتے ہیں، نہ مالی مدد، نہ آواز بلند کرتے ہیں۔ یہی خاموشی ظلم کی تقویت کا باعث ہے۔

سوچئے! اگر ہمارا اپنا گھر جل رہا ہو، ہمارے پیارے ملبے تلے ہوں اور دنیا تماشائی بنی بیٹھی ہو تو ہم پر کیا گزرے گی؟ آج فلسطینی، کشمیری اور یمنی بھی یہی فریاد کر رہے ہیں، کوئی تو ہماری مدد کو آئے! لہٰذا یہ وقت فیصلہ کا ہے: ہم مظلوموں کا ساتھ دیں یا خاموش رہ کر ظلم کو مضبوط کریں؟

یاد رکھیں! خاموشی بھی جرم ہے اور یہ جرم اُمت کو کمزور کر رہا ہے۔

لیکن آج بھی کچھ امت کا درد رکھنے والے لوگوں نے مسلمانوں کی مدد کی ہے جس کی سب سے بڑی مثال دعوتِ اسلامی کے فلاحی شعبہ FGRF (فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن) نے فلسطین میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے لاکھوں ڈالرز مالیت کی امداد، خوراک، طبی سہولتیں اور دیگر سامان بھیجا ہے۔ یہ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر امتِ مسلمہ چاہے تو آج بھی ایک آواز ہو کر ظلم کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے۔


جب کبھی تاریخِ عالم کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک درد ناک باب ہماری آنکھوں کے سامنے کھلتا ہے۔ یہ وہ باب ہے جسے کسی روشنائی سے نہیں بلکہ مظلوم مسلمانوں کے خون سے رقم کیا گیا ہے۔ کبھی کشمیر کی وادیوں میں ظلم کی آگ بھڑکائی جاتی ہے،کبھی سر زمینِ انبیا کو خون سے رنگ دیا جاتا ہے، کبھی برما اور یمن کے جلتے گھروں سے انسانیت کی چیخیں سنائی دیتی ہیں تو کبھی غزہ کے ملبوں تلے معصوم لاشے سسک سسک کر دم توڑ دیتے ہیں۔ یہ سب حالات اس المناک حقیقت کے گواہ ہیں کہ آج بھی مسلمان ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ امت مسلمہ کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں اور وہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

یہ وہی امت ہے جسے اللہ نے خیر امت قرار دیا لیکن بدقسمتی سے آج وہی امت خیر سے خالی ہو چکی ہے۔ یہ وہی امت ہے جو کبھی عدل، علم اور شجاعت و بہادری کی مثال ہوا کرتی تھی اور ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جایا کرتی تھی آج اپنی آسائشوں،مفادات اور اختلافات میں الجھ کر اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی تکلیف سے بے خبر خاموشی کی چادر اوڑھے اپنے لوازماتِ زندگی میں مگن ہے۔ یہ مجرمانہ خاموشی کسی خوف یا کمزوری کے زیرِ اثر نہیں بلکہ یہ ایمانی حرارت کے زوال اور دینی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے کہ اس قدر انسانیت سوز ظلم بھی امت مسلمہ کی رگِ غیرت کو بیدار نہ کرسکا۔ اس خوابِ غفلت نے امت کو بے توقیر اور کمزور کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طاقت کے ایوانوں میں ہماری آواز بےاثر ہوگئی۔ ہمارے دلوں میں ایمان تو ہے مگر عمل ندارد!

قرآن پاک ہمیں حکم دیتا ہے: وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ- (پ 12، ہود: 113) ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو، ورنہ تمہیں آگ چھولے گی۔

مگر آج امت انہیں ظالموں کے ساتھ تعلقات قائم کر کے اپنے ضمیر کا سودا کر رہی ہے۔ اسلام ظلم کے مقابلے میں خاموشی کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔ (ابو داود، 4/163، حدیث: 4338)

مگر آج ہم ظلم کے مقابلے میں خاموشی کو مصلحت اور عقلمندی قرار دیتے ہیں۔ ایمان صرف عبادت گاہوں تک محدود کردیا گیا جبکہ اسلام اجتماعی بیداری اور عدل کے قیام کا پیغام دیتا ہے۔

امت مسلمہ کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اس مجرمانہ خاموشی کو توڑ کر ظلم کے خلاف آواز بلند کرے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں قرآن و سنت کی طرف لوٹنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے ایمان کی رسی کو مضبوطی سے تھاما تو نصرتِ الٰہی کا نزول ہوا۔ قومیں جب بیدار ہوتی ہیں تو کوئی بھی چیز ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ بقولِ شاعر:

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی


دنیا کے مختلف حصوں میں آج مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ کہیں فلسطین کے معصوم بچے بمباری کا شکار ہیں، کہیں کشمیر میں نوجوانوں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں، کبھی برما (میانمار) میں مسلمان نسل کشی کا نشانہ بنتے ہیں یہ سب منظر نامے امتِ مسلمہ کے دل کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں، مگر افسوس کہ پوری امت ایک خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔

مظلوم مسلمان: مسلمان قوم جن اصولوں پر کھڑی ہوئی تھی، وہ عدل، بھائی چارہ اور ایک دوسرے کے درد میں شریک ہونے پر مبنی تھے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: بے شک تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

لیکن آج عملی طور پر یہ بھائی چارہ کہیں نظر نہیں آتا۔ طاقتور اسلامی ممالک اپنے مفادات میں الجھے ہوئے ہیں، اور کمزور ممالک اپنے داخلی مسائل میں۔

امتِ مسلمہ کی خاموشی: یہ خاموشی دراصل مجرمانہ غفلت بن چکی ہے۔ جب ہم ظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے تو ہم بھی ظلم میں شریک ہو جاتے ہیں۔

حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔ (ابو داود، 4/163، حدیث: 4338)

قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ (پ 10، الانفال: 72) ترجمہ: اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے۔

فلسطین وہ مقدس سرزمین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے برکتوں سے نوازا، جہاں انبیاء علیہم السلام کے قدموں کی خاک ہے، اور جہاں قبلۂ اوّل بیت المقدس واقع ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہی سرزمین ظلم و بربریت کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔

فلسطین پر ظلم: پچھلی کئی دہائیوں سے فلسطینی عوام صہیونی ریاست کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی کی جا رہی ہے، معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں پر بم برسائے جا رہے ہیں۔ دنیا کے سامنے نسل کشی جاری ہے، لیکن انصاف کے علمبردار خاموش ہیں۔

اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوم کا ساتھ دینے کا حکم دیتا ہے۔

مظلوموں کی مدد کا حکم: وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ (پ 4، النساء: 75) ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مظلوموں کی مدد اور ظلم کے خلاف جہاد ایمان کا تقاضا ہے۔

آج دنیا میں تقریبا 57 مسلم ممالک ہیں، جن کے پاس وسائل، افواج، اور سفارتی کسی سیاسی مجبوری سے زیادہ، ایمانی کمزور اور ضمیر کی غفلت ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ (بخاری،4/103، حدیث: 6011) لیکن آج ہم میں وہ احساس ختم ہوتا جا رہا ہے۔

اے امتِ مسلمہ! یہ وقت ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگ جائیں۔ فلسطین صرف ایک ملک نہیں، یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اگر آج ہم نے مظلوموں کی مدد نہ کی، تو کل ہم بھی مظلوم ہوں گے اور کوئی ہماری مدد نہیں کرے گا۔


آج کے اس پُر فتن دور میں جب دنیا کے ہر گوشے سے ظلم و ستم کی خبریں آرہی ہیں، سب سے زیادہ مظلوم چہرے انہی کے ہیں جو لا الٰہ الا اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ کہیں فلسطین کی سرزمین لہو میں نہائی ہوئی ہے، کہیں کشمیر کے زخم تازہ ہیں، کہیں برما، شام اور چین میں مسلمانوں کے گھروں پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہے۔ مگر افسوس! امتِ مسلمہ کی مجموعی کیفیت خاموش تماشائیوں کی سی ہو چکی ہے۔

یہ وہی امت ہے جس کے بارے میں قرآن نے فرمایا: كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ- (پ 4، آل عمران: 110) ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

مگر آج یہ امتِ خیر، امتِ خاموش بن چکی ہے۔ ظلم ہو رہا ہے، لاشیں گری پڑی ہیں، ماں کی گود اجڑ رہی ہے، مگر ہم محض افسوس کے دو جملے کہہ کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یہی خاموشی مجرمانہ ہے۔ کیونکہ خاموشی کبھی ظلم کو کم نہیں کرتی، بلکہ ظالم کو مزید طاقتور بناتی ہے۔

حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔ (ابو داود، 4/163، حدیث: 4338)

یعنی ظلم کے مقابلے میں خاموش رہنا، دراصل ظلم کا ساتھ دینا ہے۔

اگر ہم آج بھی امت کے اجتماعی درد سے غافل رہے تو یاد رکھیں! ظلم کا دائرہ کبھی صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتا، یہ ایک دن ہمارے دروازے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرے، باہمی تعصب اور مفاد پرستی کو چھوڑ کر مظلوموں کے لیے آواز بلند کرے۔ قرآن نے فرمایا: وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ (پ 10، الانفال: 72) ترجمہ: اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے۔

یہی قرآنی ذمہ داری ہے۔ آج امت کی اکثریت سوشل میڈیا کے شور تک محدود ہو چکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دعاؤں، مالی مدد، اور شعوری بیداری کے ذریعے عملی کردار ادا کریں۔ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، مساجد اور میڈیا میں امت کی وحدت کا پیغام عام کریں۔

ہم اگر متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں دبا نہیں سکتی۔ مگر جب تک ہم ذاتی مفاد کے غلام اور امت کے درد سے خالی رہیں گے، ظلم کی آگ سلگتی رہے گی۔

آخر میں ایک شعر امتِ مسلمہ کے ضمیر کو جگانے کے لیے:

امت کے جسد میں درد ہے باقی کہاں؟

جو چیخ اُٹھے مظلوم، تو خوابیدہ ہیں جہاں

اللہ تعالیٰ ہمیں امت کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے، مظلوموں کے لیے آواز بننے، اور ظلم کے خلاف مؤمنانہ جرات کے ساتھ کھڑا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔


مسلمانوں پر ظلم ہونےکی صورت میں امت مسلمہ کی خاموشی قابل تشویش اور ایک بدترین جرم ہے جس کی مذمت قرآن پاک میں بھی کئی مقامات پر کی گئی ہے اور مظلوم کی مدد کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ ان میں سے ایک واضح آیت یہ ہے: وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ (پ 4، النساء: 75) ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے۔

یہ آیت مظلوموں کی مدد کرنے اور ان کے حق میں جدوجہد کرنے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کے جذبے کو ابھارا گیا ہے کہ وہ مکے میں مشرکین کے ہاتھوں قید ہونے والے مسلمانوں کی مدد کریں مکہ کے مشرکین مسلمانوں پر بیجا ظلم کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے عورتوں بچوں کو بھی نہیں چھوڑا تھا کفار کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے ظلم کا شکار بناتے ہیں ایسے میں مظلوم مسلمانوں کی مدد نہ کرنا اور ان پر ہونے والے ظلم پر خاموشی اختیار کرنا ایک جرم ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: مؤمن آپس کی محبت، رحمت اور شفقت میں ایک جسم کی مانند ہیں، جب کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کی سی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ (بخاری،4/103، حدیث: 6011)

یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کوئی مسلمان اگر مظلوم ہے تو تمام امت مسلمہ کو اس کا درد محسوس ہونا چاہیے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث ہمیں جس بات کا سبق دیتے ہیں آج ہماری حالت اس کے برعکس ہے۔

اگر ہم اس کے اسباب پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ اس خاموشی کی وجہ کیا ہے۔

دنیاوی مصلحتیں: اس کے اسباب میں سب سے بڑی وجہ کچھ دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے مسلمان حکمرانوں کی خاموشی ہے جس کی وجہ سے دشمن مزید طاقتور اور دلیر ہوتا جا رہا ہے۔

عالمی طاقتوں کا دباؤ: اس کا دوسرا سبب عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے جھک جانا ہے اگر ہم اپنے اسلاف کی زندگی پر غور کریں تو ہمارے اسلاف کسی کے رعب اور دبدبے میں نہیں آتے تھے۔

اسلامی تعلیمات سے انحراف: اس کا تیسرا سبب اسلامی تعلیمات سے انحراف بھی ہے اسلامی تعلیمات سے دور ہونے کی وجہ سے مسلمان پست سے پست ہوتا چلا جا رہا ہے جب کہ ہمارے اسلاف اسلامی تعلیمات پر کاربند ہونے کی وجہ سے دلیر ہوا کرتے تھے اور کسی دنیاوی طاقت کے دباؤ میں نہیں آتے تھے۔

وقار کا متاثر ہونا: مسلمانوں کی بے عملی اور اسلامی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے انکا وقار بھی متاثر ہوچکا ہے جسکی وجہ سے اسلام کی دشمن طاقتیں خوب سر اٹھا رہی ہیں اور کمزور اور بے بس مسلمانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا کر ساری دنیا میں اپنی دھاک بٹھانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

اس کا حل کیا؟ امت مسلمہ کو متحد اور مشترکہ حکمت عملی کو اختیار کرنا ہوگا، سفارت کاری

میڈیا اور تعلیمی میدان میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا ہوگا، ظلم کے خلاف کم از کم زبانی اور فکری مزاحمت کریں۔ دعا کریں کہ

اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے


دنیا کے مختلف خطوں میں آج امتِ مسلمہ پر جو ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں، وہ انسانی تاریخ کے بدترین مظالم میں شمار ہوتے ہیں۔ کہیں مسلمان اپنے وطن سے بے دخل کیے جا رہے ہیں، کہیں ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، اور کہیں ان کے بچوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں۔ مگر افسوس! ان مظلوموں کے لیے امت کا بڑا حصہ خاموش ہے، یہ خاموشی مجرمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ (پ 4، النساء: 75) ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے۔

یہ آیت مسلمانوں کو یاد دلاتی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ ظلم پر خاموش رہنا گویا ظالم کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: جو تم میں کسی برے کام کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ (مسلم، ص 44، حديث: 49)

آج ہمارے بہت سے مسلمان بھائی اور بہنیں فلسطین، کشمیر، برما، شام اور دیگر علاقوں میں ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر ہم میں سے اکثر صرف خبریں دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا یہ رویہ اسلامی غیرت و حمیت کے مطابق ہے؟

خاموشی صرف ظالم کو جری بناتی ہے۔ امتِ مسلمہ کا ہر فرد اپنی وسعت کے مطابق ظالم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں آواز اٹھانے کا ذمہ دار ہے۔ اگر ہم عملی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا، مالی تعاون، یا تحریری اور اخلاقی حمایت ضرور کریں۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: مومن مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ (بخاری،2/127، حديث:2446)

آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم امتِ مسلمہ کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھیں، ظالموں کے خلاف پرامن مگر پُرعزم انداز میں جدوجہد کریں، اور اپنی دعاؤں، تحریروں اور کردار سے مظلوموں کی پشت پناہی کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونے اور مظلوموں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


ظلم ایک ایسا بدترین فعل ہے جس سے انسان اپنے بنیادی حق سے محروم ہو کر اَذِیَّت اور کَرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے اوریہ وہ عمل ہے جس سے جھگڑے اور فسادات جنم لیتے، لوگ بغاوت اور سرکشی پر اتر آتے اور اصول و قوانین ماننے سے انکار کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں انسانی حقوق تَلف ہوتے اور معاشرے کاا من و سکون تباہ ہو کر رہ جاتا ہے،دینِ اسلام چونکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ اور معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کاسب سے زیادہ حامی ہے اسی لئے اس دین نے انسانی حقوق تَلف کرنے اور معاشرتی امن میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہر فعل سے روکا ہے اوران چیزوں میں ظلم کا کردار دوسرے افعال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اس لئے اسلام نے ظلم کے خاتمے کیلئے بھی انتہائی احسن اِقدامات کئے ہیں تاکہ لوگوں کے حقوق محفوظ رہیں اور وہ امن و سکون کی زندگی بسر کریں، ان میں سے ایک اِقدام لوگوں کو یہ حکم دینا ہے کہ وہ ظالم کو روکیں اور دوسرا اِقدام ظالم کو وعیدیں سنانا ہے تاکہ وہ خوداپنے ظلم سے باز آجائے، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے،چنانچہ

1۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! اگر وہ مظلوم ہو تو مدد کروں گا لیکن ظالم ہو تو کیسے مدد کروں؟ ارشاد فرمایا: اس کو ظلم کرنے سے روک دے یہی (اس کی)مدد کرنا ہے۔ (بخاری، 4/389، حدیث: 6952)

2۔ حضرت علی المرتضیٰ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو، وہ اللہ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حق والے کا حق اس سے نہیں روکتا۔ (شعب الایمان،6/49، حدیث: 7464)

امتِ مسلمہ جو کبھی دنیا کی قیادت کرتی تھی، آج بے بسی، زوال، غلامی اور ظلم کا شکار ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں مسلمان محکوم، مظلوم، پسماندہ اور منتشر نظر آتے ہیں۔ کیا یہ وہی امت ہے؟ مسئلہ فلسطين بہت اہم ہے جہاں مسلمانوں پربہت ظلم ستم کیے جارہے ہیں اس ظلم میں زیاده تر بچے شامل ہیں تقریبا چھ ہزار معصوم بچے ہیں۔ غزہ کے مسلمان بےسرو سامان کھلے آسمان کے نیچے آواز حق بلند کیے ہوئے ہیں اس طرح مسئلہ کشمیر جہاں مسلمانوں پراس طرح کی مجرمانہ خاموشی مسئلہ کشمیر سے عدم دلچسپی اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنیکی عکاسی کرتی ہے۔ اگر مسلمان بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول قرآن مجید اور عام مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی اور وفاداری نہیں کرتا۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے وہی چاہے جو اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے چاہتا ہو۔حضور نے فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے واسطے وہی بات نہ چاہے جو وہ اپنے لیے چاہتا ہو۔ (بخاری،1/16، حدیث:13) مسلمانوں پر ظلم بے شمار ہوتے ہیں اس لیے جب کبھی بھی مسلمانوں پر ظلم ہو تو مسلمان کا ساتھ دے گا اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں ظالم جب اتنی ہولناک وعیدیں سنے گا تواس کے دل میں خوف پیدا ہو گا اور یہی خوف ظلم سے باز آنے میں اس کی مدد کرے گا، یوں معاشرے سے ظلم کا جڑ سے خاتمہ ہو گا اور معاشرہ امن و سکون کا پرلطف باغ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام کے احکامات اور تعلیمات کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اسلام ظلم کو ناپسند کرتا ہے اور ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے۔ امتِ مسلمہ کو خیرِ امت کا درجہ اسی لیے دیا گیا کہ وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ لیکن جب یہی امت ظلم دیکھ کر خاموش ہو جائے تو اس کی یہ خاموشی مجرمانہ غفلت شمار ہوتی ہے، اور قرآن و حدیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔

قرآنِ مجید میں ظالموں کی حمایت سے ممانعت: وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ- (پ 12، ہود: 113) ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو، ورنہ تمہیں آگ چھولے گی۔

یہ آیت مکی دور میں نازل ہوئی۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ کفارِ مکہ کے ظلم کے وقت کچھ مسلمان ان سے مصلحتاً نرمی برتتے تھے۔ اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ ظالموں کی طرف جھکنا بھی عذاب کا باعث ہے۔ (تفسیر کبیر، 8/66)

امتِ مسلمہ کا اصل فریضہ: كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ- (پ 4، آل عمران: 110) ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

یہ آیت مدینہ میں یہود کے مقابلے میں مسلمانوں کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے نازل ہوئی۔ مفسرین کے مطابق امتِ مسلمہ کی خیر و برکت اسی وقت باقی رہتی ہے جب وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر قائم رہے۔ (تفسیر ابن کثیر، 2/92)

ظلم دیکھ کر خاموش رہنے پر سخت وعید: حدیث پاک ہے: جب لوگ برائی کو دیکھیں اور اسے نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔ (ابو داود، 4/123، حدیث: 4338)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے برائی کے سامنے خاموش رہنے کو اجتماعی عذاب کا سبب قرار دیا۔ (عون المعبود، 11/345)

ظالم کے خلاف خاموشی قیامت میں خسارے کا باعث: ارشاد فرمایا: تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلے، اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ (مسلم، ص 44، حديث: 49)

ظلم پر اللہ کی گرفت: ارشاد خداوندی ہے: وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -(پ 13، ابراہیم: 42) ترجمہ: اور ہرگز گمان نہ کر کہ اللہ ظالموں کے عمل سے بے خبر ہے۔

مفسرین نے اس آیت کا پس منظر بیان کیا ہے کہ ظالموں کو مہلت ضرور ملتی ہے مگر پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، 2/532)

ظلم کرنے والا اور ظلم سہنے والا دونوں پر پکڑ: جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔ (ترمذی، 4/85، حدیث: 2168)

ظلم کے خلاف آواز اٹھانا امتِ مسلمہ کا دینی و ایمانی فریضہ ہے۔ ظالم کی حمایت یا خاموشی اللہ کے عذاب کا سبب بنتی ہے۔ قرآن نے امت مسلمہ کو خیرِ امت اسی لیے قرار دیا کہ وہ نیکی کو عام اور برائی کو مٹانے والی ہو۔ ظلم کے مقابلے میں خاموش رہنا صرف غفلت نہیں بلکہ جرم ہے۔


دین اسلام ہر شخص کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور کسی بھی طبقہ پر ظلم اور زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دیتا چاہے ایک غیر مسلم شخص ہی کیوں نہ ہو۔ اس وقت مسلمانوں پر ظلم اور ستم کی وہ آندھیاں چھائی ہوئی ہیں۔ جن کی مثال نہیں ملتی جو حالات آج مسلمانوں کو پیش آرہے ہیں وہ ہر بیدار دل کے لیے اذیت ناک ہیں کہ آج مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کسی بھی آنکھ سے مخفی نہیں ہیں۔ کون ہوگا جس نے برما میں مسلمانوں کے کٹتے جسم اور ان پر ہونے والے کربناک مظالم کے واقعات نہ سنے ہوں۔ کشمیر میں یتیم بچوں اور بیواؤں کی آہ وفغاں نہ سنی ہو۔ اور کون ایسا شخص ہوگا جس نے فلسطین پر ہونے والے درد ناک مظالم کی المناک داستان نہ سنی ہو۔ اور ان مظلوم مسلمانوں کی اڑتی لاشیں اور ان کے جلتے گھر نہ دیکھیں ہوں۔

مگر ان سب کے باوجود صاحب طاقت اور صاحب اقتدار لوگوں کا اس پر کوئی ہ بھی رد عمل نہ دینا اور بحیثیت مسلمان اپنے دوسرے مظلوم مسلمان بھائیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز نہ اٹھانا۔ بلکہ ایک خاموش تماشائی بن کر ان پر ہونے والے مظالم کو دیکھتے رہنا یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ مسلمان اپنی قوت ایمانی کو بھلا بیٹھے ہیں۔

مسلمان جنگ بدر میں ان تین سوتیرہ صحابہ کو بھول گئے جنہوں نے ہزار کافروں سے مقابلہ کیا تھا جو تعداد اور جنگی سامان میں ان سے زیادہ تھے۔ جبکہ مسلمانوں کے پاس فقط چھ زرہ آٹھ تلواریں اور چند گھوڑے تھے۔ تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ مسلمان ان سے فتح پاگئے فتح پانے کے اسباب تو نہیں تھے۔ تو بے شک ان حضرات کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال تھی جس کے ذریعے وہ فتح پاگئے۔ مگر اس کے ساتھ جس نے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا وہ ان مسلمانوں کی ایمانی قوت تھی۔

یہ وہ ایمان تھا جس نے دنیا کوحیران کردیا یہ اس عقیدہ کی طاقت ہے جس نے دشمن کے قلعوں کی بنیادیں ہلا دیں۔ وہ عقیدہ جو محمد عربی ﷺ سے محبت، وفاداری اور آپ ﷺ کی سنت کی پیروی کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ مگر آج مظلوم اور بے بس مسلمانوں کا حال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ یہ تو وہ مسلمان ہے جو فتح مکہ میں قیدیوں کی بھی رسیوں کو اس خیال سے مضبوط نہیں باندھتا کہ انہیں تکلیف نہ ہو مگر آج خود مسلمانوں پر اتنے ظلم ہورہے ہیں اور دوسرے مسلمان ان پر خاموش ہیں۔

مگر اب ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو ان کے اسلاف کی تاریخ یاد دلائی جائے کہ اسلام تو اپنی روشن تاریخ میں صلاح الدین ایوبی، نور الدین زنگی اور عمر بن خطاب جیسے بے شمار شیر دل مجاہد رکھتا ہے۔ جن کے فقط نام سے ہی آج بھی کفر کے ایوان لرز جاتے ہیں۔ یہ مرد مجاہد کبھی بھی ظلم پر خاموش نہ رہتے تھے۔بلکہ بڑی بہادری سے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔ چاہے ظلم کسی بھی طبقہ پر ہوتا یہ مرد مجاہد پیچھے نہ ہٹتے۔جبھی آج تک ان کے دور حکومت کی تعریف ہر خاص، عام زبان پر ہے اور آج پھر تاریخ دہرائی جائے کہ لایا جائے ان جیسا کوئی بہادر اور دلیر شخص جو مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا وقار اور کھوئی ہوئی طاقت لوٹائے اور جو اپنی ایمانی طاقت سے مظلوم مسلمانوں کو آزاد کرائے۔

مظلوم مسلمان آج پھر اپنے عمر بن عبد العزیز کی راہ دیکھتے ہیں۔ وہ تو انتظار میں ہیں کہ شاید کوئی محمد بن قاسم آئے اور انہیں ان اذیتوں اور تکلیفوں سے نجات حاصل ہو۔مگر آج مسلمان مختلف قومی و لسانی جھگڑوں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

اے علاقائی تعصبات اور ملکی سرحدوں میں قید ہو کر رہ جانے والے مسلمانو! لہذا اب تمہیں بحیثیت مسلمان ہو کر سوچنا پڑے گا۔ اے مسلمانوں یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں یہ وقت مظلوم مسلمان کا ساتھ دینے کا ہے۔

تم اسلام دشمن عناصر کو پہچانو اور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاؤ۔مسلمان تو کبھی بھی کافروں کی تعداد سے نہیں ڈرے ہیں۔ بلکہ وہ تو ہمیشہ ایمانی قوت سے لڑے ہیں۔ میدانوں میں ایٹمی طاقت سے نہیں بلکہ ایمان کی طاقت سے لڑا جاتا ہے۔

اے غیرت مند مسلمانو! اب اٹھو اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی مدد کرو! کیا فلسطین میں مسلمانوں کے جلتے گھر دیکھ کر تمہارا دل نہیں روتا۔ ان کے پورے خاندان بم دھماکوں کی نذر ہوجائیں۔ ان کی لاشوں کے ٹکڑے ہوجائیں تو کیا اس پر تمہاریں آنکھیں نم نہیں ہوتیں۔ کیا کشمیر کی ماں اور بیٹیوں کی پکار سے تمہارا دل لرزتا نہیں ہے۔ اورتم کیسے سکون کی نیند سو سکتے ہو جبکہ برما میں مسلمانوں کو ذبح کردیا جائے اور ان کے جسموں سے کھال اتار لی جاتی ہو۔

خدارا توڑ دو اپنی یہ مجرمانہ خاموشی! حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو صرف چار لوگوں نے شہید کیا تھا مگر اللہ پاک نے پوری قوم کو غرق کردیا کیوں کہ باقیوں کا جرم خاموش رہنا تھا۔ لہذا تم اپنی ایمانی سےقوت لڑو اور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں پر کیے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاؤ!

اے مسلمانو! تم تو اپنے ہر دور میں کامیابی سے ہمکنار ہوتے رہے ہو۔ اور اے مسلمانو! تم تو اپنے ہر دور میں بلند رہے ہواور آج بھی اسلام پر چل کر خود کو بلند کرلو۔

بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے