جب کبھی
تاریخِ عالم کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک درد ناک باب ہماری آنکھوں کے سامنے کھلتا
ہے۔ یہ وہ باب ہے جسے کسی روشنائی سے نہیں بلکہ مظلوم مسلمانوں کے خون سے رقم کیا
گیا ہے۔ کبھی کشمیر کی وادیوں میں ظلم کی آگ بھڑکائی جاتی ہے،کبھی سر زمینِ انبیا
کو خون سے رنگ دیا جاتا ہے، کبھی برما اور یمن کے جلتے گھروں سے انسانیت کی چیخیں
سنائی دیتی ہیں تو کبھی غزہ کے ملبوں تلے معصوم لاشے سسک سسک کر دم توڑ دیتے ہیں۔
یہ سب حالات اس المناک حقیقت کے گواہ ہیں کہ آج بھی مسلمان ظلم کی چکی میں پِس رہے
ہیں مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ امت مسلمہ کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں
اور وہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
یہ وہی امت ہے
جسے اللہ نے خیر امت قرار دیا لیکن بدقسمتی سے آج وہی امت خیر سے خالی ہو چکی ہے۔
یہ وہی امت ہے جو کبھی عدل، علم اور شجاعت و بہادری کی مثال ہوا کرتی تھی اور ظلم
کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جایا کرتی تھی آج اپنی آسائشوں،مفادات اور اختلافات
میں الجھ کر اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی تکلیف سے بے خبر خاموشی کی چادر اوڑھے
اپنے لوازماتِ زندگی میں مگن ہے۔ یہ مجرمانہ خاموشی کسی خوف یا کمزوری کے زیرِ اثر
نہیں بلکہ یہ ایمانی حرارت کے زوال اور دینی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے کہ اس قدر
انسانیت سوز ظلم بھی امت مسلمہ کی رگِ غیرت کو بیدار نہ کرسکا۔ اس خوابِ غفلت نے
امت کو بے توقیر اور کمزور کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طاقت کے ایوانوں میں
ہماری آواز بےاثر ہوگئی۔ ہمارے دلوں میں ایمان تو ہے مگر عمل ندارد!
قرآن پاک ہمیں
حکم دیتا ہے: وَ
لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ- (پ 12، ہود: 113) ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو، ورنہ تمہیں آگ چھولے
گی۔
مگر آج امت
انہیں ظالموں کے ساتھ تعلقات قائم کر کے اپنے ضمیر کا سودا کر رہی ہے۔ اسلام ظلم
کے مقابلے میں خاموشی کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگ جب
ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب
پر عذاب نازل ہوجائے۔ (ابو داود، 4/163، حدیث:
4338)
مگر آج ہم ظلم
کے مقابلے میں خاموشی کو مصلحت اور عقلمندی قرار دیتے ہیں۔ ایمان صرف عبادت گاہوں
تک محدود کردیا گیا جبکہ اسلام اجتماعی بیداری اور عدل کے قیام کا پیغام دیتا ہے۔
امت مسلمہ کے
پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اس مجرمانہ خاموشی کو توڑ کر ظلم کے خلاف آواز بلند کرے۔ بحیثیت
مسلمان ہمیں قرآن و سنت کی طرف لوٹنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے
ایمان کی رسی کو مضبوطی سے تھاما تو نصرتِ الٰہی کا نزول ہوا۔ قومیں جب بیدار ہوتی
ہیں تو کوئی بھی چیز ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ بقولِ شاعر:
فضائے
بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر
سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
Dawateislami