دعوت اسلامی کے زیر اہتمام ہر ہفتے کی طرح 28 جماد الاولیٰ 1443ھ بمطابق 1 جنوری 2022ء کی شب عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں عاشقان رسول فیضان مدینہ آکر جبکہ دیگر مقامات بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

مدنی مذاکرے امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم و حکمت سے بھر پور مدنی پھول بیان فرمائے اور عاشقان رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال : عورتوں کوکیسے کپڑے پہننے چاہئیں؟

جواب : عورتوں کو شریعت کے مطابق ڈِھیلے ڈَھالے کپڑے پہننے چاہئیں۔

سوال: آجکل آپ بیان کم کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے ؟

جواب: ایک دوروہ بھی تھا جب میں ایک دن میں کئی بیان کرتاتھا ،ہرنمازکے بعد بیان کی سعادت ملتی تھی ،اب بھی کبھی کبھی بیان کرتاہوں،بچے جوان ہوجائیں تو پھر دکان وہی چلاتے ہیں ،پہلے میں اکیلا ہی بیان کرتا تھا ،اب بیان کرنے والےکافی میرے مدنی بیٹے ہیں ۔

سوال: آپ نے مدنی مذاکرہ یعنی سوال جواب کا سلسلہ کب شروع فرمایا؟

جواب :میراسوال جواب کا اس طرح کا سلسلہ دعوتِ اسلامی کے شروع ہونے سے پہلے بھی ہوتاتھا ۔

سوال: فیضانِ سنت وغیرہ کتابوں سے درس دیا جائے یا موبائل میں موجودPDF وغیرہ سے؟

جواب: جو اُردوپڑھ سکتاہے اوردرس دینے کا اہل ہے تو اس کے لیے کتابوں سے درس دینا بہترہے،موبائل سے بھی درس دیا جاسکتاہے، مساجد، بازاروں، مارکیٹوں اورچوکوں وغیر ہ میں درس دیتے رہیں ، نیکی کی دعوت دینے اورعلم کی اشاعت کے لیے کتابوں سے درس دینے میں آسانی ہے ،بیان میں کچھ مشکل ہے۔

سوال : نیک اعمال پر غوروفکرکا کیافائدہ ہے؟

جواب: آج عیسوی سال کا پہلا دن ہے ،اسلامی بھائی اوراسلامی بہنیں نیک اعمال کا رسالہ دیکھ لیں ،کئی نیک اعمال تو آپ کرتےہی ہوں گے، ہررات نیک اعمال رسالے کوسامنے رکھتے ہوئے ، اپنے اعمال کا جائزہ لیں کہ کون سا عمل ہوااور کون سانہیں ؟یہ نیک اعمال جنت میں لے جانے والے ہیں ،نیت کریں کہ پوراسال ہررات اپنے اعمال کا جائزہ لیں گے ،ان شاء اللہ الکریم اس طرح کرنے سے عمل کا جذبہ ملے گا ،اسلامی بھائیوں کے 72،اسلامی بہنوں کے 63، جامعۃ المدینہ کے طلبہ کے 92 اورطالبات کے لیے 83 نیک اعمال ہیں ۔ان شاء اللہ الکریم یہ سال ’’نیک اعمال ‘‘کا سال بناناہے ۔

سوال : روزانہ نیک اعمال کے مطابق عمل کرکے اپنے اعمال کا جائزہ لینے والے کو امیراہل سنت نے کیا دعادی ؟

جواب : یااللہ پاک! جو کوئی روزانہ نیک اعمال کے مطابق عمل کرکے، اپنےاعمال کا جائزہ لے کر،خانے پُرکرکے ،ہرپہلی تاریخ کو شعبہ اصلاح ِاعمال کے ذمہ دارکو جمع کرواتارہے اورجان بوجھ کر اس میں سستی کرکے کوتاہی نہ کرےتو یا اِلٰہ َالْعَالَمِیْن اس کو 12 مرتبہ حج نصیب فرما،کم ازکم 12 مرتبہ اس کو مدینے کی زیارت نصیب ہواوراس کو مرتے وقت کلمہ نصیب ہوجائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔

سوال: اپنے بچوں اورفیملی کو کون ساوقت دیا جائے ؟

جواب: صلۂ رحمی کی نیت سے بچوں ،فیملی ،ماں باپ،بھائیوں بہنوں کو اچھا اورفریش وقت دیا جائے ،فیملی کے دیگر افراد کووقت دینے کے بارے میں کچھ احتیاطیں بھی ہیں یعنی کہیں بے وقت نہ جایاجائے ، مثلاً کھانے کے وقت کسی کے گھرجانا یا دکان پر گاہگوں کےآنے اوررش کے وقت پہنچ جانادرست نہیں ،گھرمیں اتنا وقت بھی نہ دیں کہ گھروالے تنگ آجائیں ۔ہرچیز کی ایک حد ہونی چاہئے ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں دلچسپ معلومات “ پڑھنے یاسُننے والوں کو امیرِاہلِ ِسُنّت نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یارب المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ ”حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں دلچسپ معلومات“ پڑھ یا سُن لے اُسے ”فیضانِ حضرت آدم علیہ السلام“سے مالا مال فرما اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اُس سے راضی ہوجا۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔


مسلمانوں کے لئے جہاں ضروریات زندگی کے متعلق علم دین سیکھنا بہت ضروری ہے۔ ویسے ہی آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ کے حقیقی جانثاران صحابۂ کرام کی سیرت سے آشنا ہونا بھی بہت اہم کا حامل ہے تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ ہمارے اسلاف نے دین اسلام کی سربلندی اور تبلیغ دین کے لئے کیا کیا تکلیفیں برداشت کیں اور کن کن آزمائشوں کا سامنا کیا ہے، ساتھ ساتھ صحابہ کرام کی سیرت کا مطالعہ کرنے کا مقصد یہ بھی ہو تا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کس قدر حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت کرتے تھے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے کس طرح عبادت کرتے اورمخلوق خدا کی خدمت کرتے تھے۔

صحابہ کرام علیہمُ الرّضوان کی فہرست میں ایک بہت بڑا نام حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہُ عنہما کا بھی ہے۔امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطاری قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےعاشقان رسول کو ان کی سیرت سے بہرہ مند کرنے کے لئے اس ہفتے رسالہ ”فیضان حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہُ عنہماپڑھنے/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یارب المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ ” فیضان حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہُ عنہما پڑھ یا سن لےاُسے سجدوں کی لذتیں نصیب فرمااور بے حساب بخشش سے مشرف فرما۔اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ابھی مفت ڈاؤن لوڈ کیجئے

Download

رسالہ آڈیو میں سننے کے لئے کلک کریں

Audio Book


دعوتِ  اسلامی کے شعبہ کفن دفن کے تحت8 دسمبر2021ء کو فیصل آباد زون مدینہ ٹاؤن کابینہ ڈویژن مانا والا میں کفن دفن اجتماع کا انعقاد ہوا جس میں 100سے زیادہ عوام اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

رکن زون ذمہ دار اسلامی بہن نے غسل میت دینے اور کفن پہنانے کا طریقہ پریکٹیکل کر کے سیکھایا نیز مستعمل پانی کے بارے میں بتاتے ہوئے پانی کے اسراف سے بچنے کے مدنی پھول سمجھائے جس پر اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔


موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا سب سے مؤثر طریقہ درخت لگانا ہے۔

اسی سلسلے میں دعوتِ اسلامی اب تک پوری دنیا میں لاکھوں درخت لگا چکی ہے۔اس سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے 02دسمبر2021ء کو نگران برمنگھم ریجن یوکے حاجی سید فضیل رضا عطاری نے ذمہ داران دعوت اسلامی اور کونسل کے اراکین کے ساتھ برمنگھم میں پودے لگائے۔ اس موقع پر شرکا نے شجر کاری مہم کے حوالے سے بہت سے اقدامات کی منصوبہ بندی بھی کی ۔ 


اللہ کریم ہے اور وہ اپنے کرم سے اپنے بندوں کو بخشتا ہے،  اس کے خوف سے رونے والوں کے لیے خوشخبری ہے کہ جو اس کے خوف سے روتا ہے،  اس پر اللہ پاک کا خاص کرم ہوتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص اللہ پاک کے خوف سے روتا ہے،  وہ ہرگز جہنم میں نہیں ہو گا،  حتی کہ دودھ جانور کے تھن میں واپس آ جائے۔پسندیدہ قطرہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کو اس قطرے سے بڑھ کر کوئی پسندیدہ نہیں،  جو آنکھ سے اس کے خوف کی وجہ سے بہے یا خون کا وہ قطرہ جو اس کی راہ میں بہایا جائے۔پیارے آقا کی پیاری دعا:پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس طرح دعا مانگتے:اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِیْ عَيْنَيْنِ هَطَّالَتَيْنِ تَشْفِيَانِ الْقَلْبَ بِذُرُوْفِ الدَّمْعِ  مَعَ خَشْيَتِكَ  قَبْلَ اَنْ  تَصِيْرَالدُّمُوْعُ  دَمًا وَالْاَضْرَاسُ جَمْرًا۔اے اللہ پاک مجھے ایسی دو آنکھیں عطا فرما،  جو کثرت سے آنسو بہاتی ہوں اور آنسو گرنے سے تسکین دیں،  اس سے پہلے کے آنسو خون بن جائیں اور داڑھیں انگاروں میں بدل جائیں۔خوف خدا سے رونے کی فضیلت:اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کی:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!کیا آپ کی اُمّت میں سے کوئی بلا حساب بھی جنت میں جائے گا؟ تو فرمایا:ہاں،  وہ شخص اپنے گناہوں کو یاد کر کے روئے۔سبحان اللہ۔ خوف خدا کی فضیلت:جو بندہ اللہ پاک کے خوف سے روئے اور آنسو نہ صاف کرے،  بلکہ اس کو اپنے رخسار پر بہہ جانے دے تو وہ اسی حالت میں ربّ کریم کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔حضرت  محمد بن منکدر رضی اللہُ عنہُ جب روتے تو آنسوؤں کو اپنے چہرے اور داڑھی سے صاف کرتے اور فرماتے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آگ اس جگہ کو نہ چھوئے گی،  جہاں آنسو گرے ہوں۔اس اُمّت کو عذاب نہیں ہوتا:حضرت  ابو سلیمان دارانی رضی اللہُ عنہُ فرماتے ہیں:جو آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبائیں گی،اس چہرے پر قیامت کے دن غبار اور ذلت نہیں چڑھے گی،  اگر اس کے آنسو جاری ہو جائیں تو اللہ پاک ان آنسوؤں کے پہلے قطرے کے ساتھ آگ کے کئی سمندر بجھا دیتا ہے اور جس امت میں سے کوئی شخص(خوف خدا)سے روتا ہے،  اس امت کو عذاب نہیں ہوتا۔سبحان اللہ آنکھ کا ایک بال بخشش کا سبب:اللہ پاک کی بارگاہ میں ایک شخص کو لایا جائے گا تو اس کا نامہ اعمال اس کو دیا جائے گا تو وہ اس میں کثیر گناہ پائے گا،  پھر وہ عرض کرے گا:یا الٰہی میں نے تو یہ گناہ کیا ہی نہیں؟اللہ پاک ارشاد فرمائے گا:میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں،  پھر وہ بندہ اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھے گا،  لیکن کسی گواہ کو موجود نہ پائے گا اور کہے گا:یا ربّ کریم! وہ گواہ کہاں ہیں؟تو  اللہ پاک اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا تو اس کے اعضاء گواہی دیں گے،  وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائے گا،  پھر جب اللہ پاک اس کے لئے جہنم میں جانے کا حکم فرما دے گا تو اس شخص کی سیدھی  آنکھ کا ایک بال ربِّ کریم سے کچھ عرض کرنے کی اجازت طلب کرے گا اور اجازت ملنے پر عرض کرے گا:اللہ پاک کیا تو نے نہیں فرمایا تھا کہ میرا جو بندہ اپنی آنکھ کے کسی بال کو میرے خوف میں بہائے جانے والے آنسوؤں میں تر کرے گا،  میں اس کی بخشش فرما دوں گا؟  اللہ پاک ارشاد فرمائے گا:کیوں نہیں،  تو وہ بال عرض کرےگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا یہ گناہگار بندہ تیرے خوف سے رویا تھا،  جس سے میں بھیگ گیا تھا۔یہ سن کر اللہ پاک اس بندے کو جنت میں جانے کا حکم فرما دے گا،  ایک منادی پکار کر کہے گا: سنو !فلاں بن فلاں اپنی آنکھ کے ایک بال کی وجہ سے جہنم سے نجات پا گیا۔سبحان اللہ! کتنی پیاری پیاری فضیلتیں ہیں،  اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں بھی اپنے پیارے پیارے ربّ کریم کے خوف سے رونا چاہئے۔خوف خدا کی فضیلتوں کا مطالعہ کتاب خوف خدا سے کیا گیا ہے،  مزید فضیلتوں کی برکت لوٹنے کے لئے کتاب بنام  خوف خدا کا مطالعہ کیجئے،  ان شاءاللہ مفید رہے گا۔


لفظ خوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے،  جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، خوف خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔خوف خدا میں رونے کے فضائل کئی روایتوں میں بیان ہوئے ہیں، جن میں سے چند ملاحظہ ہوں۔خوف خدا سے رونے والا:حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے، جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:اَفَمِنْ ھٰذَاحدیث: تَعْجَبُوْنَ۔وَتَضْحَکُوْنَ وَلَا تَبْکُوْنَ۔ترجمہ کنزالایمان:تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں۔(پ27، النجم:60، 59)تو اصحابِ صفہ رضی اللہُ عنہم اجمعین اس قدر روئے کہ ان کے رخسار آنسوؤں سے تر ہو گئے، انہیں روتا دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی رونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بہتے ہوئے (مبارک)آنسو دیکھ کر وہ یعنی اصحابِ صفہ علیہمُ الرضوان اور بھی زیادہ رونے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو اللہ پاک کے ڈر سے رویا ہو۔(خوف خدا، ص 139)بخشش کا پروانہ: حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص اللہ پاک کے خوف سے روئے، وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔(خوف خدا، ص 139)پسندیدہ قطرہ:رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کو اس قطرے سے بڑھ کر کوئی قطرہ پسند نہیں،جو( آنکھ سے) اس(یعنی اللہ پاک)کے خوف سے بہے یا خون کا وہ قطرہ جو اس کی راہ میں بہایا جاتا ہے۔

(خوف خدا، ص 138)اشکوں کا پیالہ:منقول ہے: بروزِ قیامت جہنم سے پہاڑ کے برابر آگ نکلے گی اور امتِ مصطفی کی طرف بڑھے گی تو سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اسے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بلائیں گے: اے جبرائیل! اس آگ کو روک لو، یہ میری امت کو جلانے پر تلی ہوئی ہے، حضرت جبرائیل علیہ السلام پیالے میں تھوڑا سا پانی لائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر کے عرض کریں گے:اس پانی کو اس آگ پر ڈال دیجئے۔چنانچہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس پانی کو آگ پر انڈیل دیں گے، جس سے وہ آگ فوراً بجھ جائے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کریں گے: اے جبرائیل!یہ کیسا پانی تھا، جس سے آگ فوراً بجھ گئی؟ وہ عرض کریں گے: یہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ان امتیوں کے آنسوؤں کا پانی ہے، جو خوفِ خدا کے سبب تنہائی میں رویا کرتے تھے، مجھے ربّ کریم نے اس پانی کو جمع کرکے محفوظ رکھنے کا حکم فرمایا تھا، تاکہ یہ آج کے دن آپ کی امت کی طرف بڑھنے والی اس آگ کو بجھایا جا سکے۔(خوف خدا، ص 166)آگ نہ چھوئے گی:حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے مروی ہے، سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:دو آنکھوں کو آگ نہ چھوئے گی، ایک وہ جو رات کے اندھیرے میں ربّ کریم کے خوف سے روئے اور دوسری وہ جو راہِ خدا میں پہرہ دینے کے لئے جاگے۔(خوف خدا، ص 138)اللہ پاک ہمیں خوفِ خدا اور عشقِ رسول میں رونے والی آنکھیں عطا فرمائے۔آمین


دعوتِ اسلامی کےشعبہ رابطہ برائےشخصیات کےزیرِاہتمام 5دسمبر2021ءبروزاتوار گورنر ہاؤس ملازمین و افسران کے مرحومین کے لئےایصالِ ثواب اجتماع کا انعقاد کیا گیاجس میں گورنر ہاؤس کے افسران اورملازمین سمیت کثیرعاشقانِ رسول نےشرکت کی۔

اجتماعِ پاک کاآغازتلاوتِ قراٰنِ پاک سےہواجبکہ ذمہ داراسلامی بھائی نےبارگاہِ رسالت میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔اس دوران مرکزی مجلسِ شوریٰ کےرکن حاجی یعفوررضاعطاری نےسنتوں بھرابیان کیااورآخرمیں مرحومین کےلئےدعائےمغفرت بھی کروائی۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ برائےشخصیات،کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوت اسلامی کے شعبہ رابطہ برائے تاجران کے 5 دسمبر 2021ء کو سیالکوٹ میں مرحوم چوہدری اسلم کے لئے ایصالِ ثواب اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں مرحوم کے لواحقین، عزیز و اقارب، بزنس کمیونٹی سے وابستہ افراد اور ذمہ داران دعوت اسلامی نے شرکت کی۔

مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حاجی محمد اظہر عطاری نے ”ایصالِ ثواب“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیااور شرکا کو اپنے مرحومین کے لئے زیادہ سے زیادہ ایصالِ ثواب کرنے کی ترغیب دلائی۔

اجتماع کے بعد رکن شوریٰ حاجی محمد اظہر عطاری نے مرحوم کے لواحقین اور دیگر بزنس کمیونٹی سے تعزیت کی اور دعائے مغفرت فرمائی۔


پچھلے چند دنوں سے حاجی رفیع العطاری اور ان کی صاحبزادی  بیمار ہیں۔

امیر اہلِ سنت نے اپنے آڈیو پیغام کے ذریعے ان سے عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے دعائیں کیں۔ آپ نے انہیں صبر و ہمت سے کام لینے کی ترغیب دلائی اور مدنی پھول ارشاد فرمائے۔

پیغام عطار

چار نعمتیں

اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ار شاد فرماتے ہیں: جب مجھ پرکوئی مصیبت آتی ہے تو اس وقت مجھے اللہ پاک کی یہ چار نعمتیں حاصل ہوتی ہیں ۔

٭وہ مصیبت میرے دین میں نہیں ہوتی۔ ٭میں اللہ پاک کی رضا پرراضی رہتا ہوں۔ ٭ اس وقت مجھ پر اس سے بڑ ی کوئی مصیبت نہیں ہوتی۔ ٭ مجھے اس مصیبت پرثواب کی امید ہوتی ہے ۔

یار ب المصطفٰے جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاجی رفیع العطاری اور ان کی صاحبزادی کو شفائے کاملہ عاجلہ نافعہ عطا فرما۔ یا اللہ پاک انہیں صحتوں راحتوں عافیتوں عبادتوں ریاضتوں دینی خدتوں بھری طویل زندگی عطا فرما۔ مولائے کریم یہ بیماری یہ دکھ یہ پریشانی ان کے لئے گناہوں کا کفارہ ،ترقی درجات کا باعث اور جنت الفردوس میں بے حساب داخلے اور جنت الفردوس میں تیرے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس پانے کا سبب بن جائے۔ یا اللہ پاک انہیں صبر عطا فرما صبرپرڈھیر سارا اجرعطا فرما اور رحمت کی خاص نظر فرما۔

لَا باسَ طَھُور ان شا اللہ- لَا باسَ طَھُور ان شا اللہ- لَا باسَ طَھُور ان شا اللہ


پچھلے چند دنوں سے حضرت مولانا ڈاکٹر پروفیسر عثمان حیدر اشرفی جلالی صاحب  بیمار ہیں۔

امیر اہلِ سنت نے اپنے آڈیو پیغام کے ذریعے ان سے عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے دعائیں کیں۔ آپ نے انہیں صبر و ہمت سے کام لینے کی ترغیب دلائی اور مدنی پھول ارشاد فرمائے۔

پیغام عطار

چار نعمتیں

اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ار شاد فرماتے ہیں: جب مجھ پرکوئی مصیبت آتی ہے تو اس وقت مجھے اللہ پاک کی یہ چار نعمتیں حاصل ہوتی ہیں ۔

٭وہ مصیبت میرے دین میں نہیں ہوتی۔ ٭میں اللہ پاک کی رضا پرراضی رہتا ہوں۔ ٭ اس وقت مجھ پر اس سے بڑ ی کوئی مصیبت نہیں ہوتی۔ ٭ مجھے اس مصیبت پرثواب کی امید ہوتی ہے ۔

یار ب المصطفٰے جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مولانا ڈاکٹر پروفیسر عثمان حیدر اشرفی جلالی صاحب کو شفائے کاملہ عاجلہ نافعہ عطا فرما۔ یا اللہ پاک انہیں صحتوں راحتوں عافیتوں عبادتوں ریاضتوں دینی خدتوں بھری طویل زندگی عطا فرما۔ مولائے کریم یہ بیماری یہ دکھ یہ پریشانی ان کے لئے گناہوں کا کفارہ ،ترقی درجات کا باعث اور جنت الفردوس میں بے حساب داخلے اور جنت الفردوس میں تیرے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس پانے کا سبب بن جائے۔ یا اللہ پاک انہیں صبر عطا فرما صبرپرڈھیر سارا اجرعطا فرما اور رحمت کی خاص نظر فرما۔

لَا باسَ طَھُور ان شا اللہ- لَا باسَ طَھُور ان شا اللہ- لَا باسَ طَھُور ان شا اللہ


روزہ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔رمضان المبارک کے روزے مسلمانوں پر فرض کئے گئے ہیں۔فرض و واجب کے علاوہ جتنے روزے ہیں وہ سب نفل روزے کہلاتے ہیں۔ ان نفل روزوں میں وہ روزے شامل ہیں جنہیں مسنون یا مستحب، مندوب کہا جاتا ہے۔رمضان المبارک کے بعد روزہ اعمالِ صالحہ کے لیے سب دنوں سے افضل ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے:’’اللہ پاک کو عشرۂ ذی الحجہ سے زیادہ کسی دن کی عبادت پسندیدہ نہیں۔ اس کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں اور ہر شب کا قیام(نمازِ تہجد پڑھنا) شبِ قدر کے برابر ہے۔ عرفہ کا روزہ صحیح حدیث سے ہزاروں روزوں کے برابر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:’’ عرفہ کا روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دیتا ہے ۔‘‘ (ترمذی )

عرفہ کے بعد سب دنوں سے افضل روزہ عاشورا یعنی دسویں محرم کا روزہ ہے اور بہتر یہ ہے کہ نویں کو بھی رکھے۔اس میں ایک سال گذشتہ کے گناہوں کی مغفرت ہے۔جس نے یوم عاشورا کا روزہ رکھا گو یا اس نے تمام سال روزہ رکھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:’’ مجھے اللہ پاک پر گمان ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (مسلم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے عاشورا کا روزہ خود رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم فرمایا۔ ( بخاری و مسلم)

شش عید یعنی شوال میں چھ دن کے روزے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:جس نے رمضان کے روزے رکھےپھر ان کے بعد چھ شوال میں رکھے تو ایسا ہے جیسے دہر کا روزہ رکھا (یعنی پورے سال کا) کہ جو ایک نیکی لائے گا اسے دس ملیں گی۔ ماہِ رمضان کا روزہ دس مہینے کے برابر ہے اور ان چھ دنوں کے بدلے میں دو مہینے تو پورے سال کے روزے ہو گئے۔( نسائی ) ایک اورحدیث میں ہے:جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ ( طبرانی )

ایک حدیث شریف میں آیا ہے:’’ جو 27 رجب کا روزہ رکھے اللہ پاک اس کے لیے پانچ برس کے روزوں کا ثواب لکھے ‘‘ اور یوں تو روزہ رکھنے کے لیے پورا مہینا ہے جب چاہے رکھے ثواب ہے۔

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:’’ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی ان میں سے ایک یہ کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھوں۔ (بخاری و مسلم)پورے سال میں پانچ ایام ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ۔ شوال کی پہلی تاریخ، ذی الحجہ کی 9,10,11,12 کو روزہ رکھنا ممنوع ہے ۔ اس کے علاوہ پورا سال جب چاہیں روزہ رکھ سکتے ہیں ۔ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنے کو صومِ داؤد کہتے ہیں ۔یہ تمام نفل روزوں میں اللہ پاک کے نزدیک افضل اور پسندیدہ عمل ہےاور صومِ داؤد کو نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بھی پسند فرمایا۔اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ نفل روزے رکھنے اور آخرت کے لیے نیکیاں ذخیرہ کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم۔


فرض روزوں کے علاوہ نفل روزوں کی بھی عادت بنانی چاہئے کہ اس میں بے شمار دینی و دنیوی فوائد ہیں اور ثواب تو اتنا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ بس روزے رکھتی ہی چلے جائیں، مزید  دینی فوائد میں ایمان کی حفاظت، جہنم سے نجات اور جنت کا حصول شامل ہیں اور دنیوی فوائد بہت سارے امراض سے حفاظت کا سامان ہے اور تمام فوائد کی اصل یہ ہے کہ اللہ پاک راضی ہوتا ہے۔چنانچہ تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ ڈھارس نشان ہے:جس نے ثواب کی امید کرتے ہوئے ایک نفل روزہ رکھا، اللہ پاک اسے دوزخ سے چالیس سال کا فاصلہ دور فرما دے گا۔(کنزالعمال، جلد 8، صفحہ 255)

اللہ پاک کے پیارے حبیب، حبیبِ لبیب، ہم گناہوں کے مریضوں کے طبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ رغبت نشان ہے:اگر کسی نے ایک دن نفل روزہ رکھا اور زمین بھر سونا اسے دیا جائے، جب بھی اس کا ثواب پورا نہ ہوگا، اس کا ثواب تو قیامت ہی کے دن ملے گا۔(المسندابی یعلی، جلد 5، صفحہ 353)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جہاد کیا کرو، خود کفیل ہو جاؤ گے، روزے رکھو تندرست ہو جاؤ گے اور سفر کیا کروں غنی ہو جاؤ گے۔(المعجم الاوسط، ج 4، ص134)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روزہ دار کا ہر بال اس کے لئے تسبیح کرتا ہے، بروزِ قیامت عرش کے نیچے روزے داروں کے موتیوں اور جواہر سے جَڑا ہوا سونے کا ایسا دستر خوان بچھایا جائے گا، جو احاطۂ دنیا کے برابر ہوگا، اس پر قسم قسم کے جنتی کھانے، مشروب اور پھل ہوں گے،وہ کھائیں گے، پئیں گے اور عیش و عشرت میں ہوں گے،حالانکہ لوگ سخت حساب میں ہوں گے۔

(الفردوس بماثور الخطاب، جلد 5، صفحہ 490)

حضرت قیس بن زید جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :اللہ پاک کے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ جنت نشان ہے:جس نے ایک نفل روزہ رکھا، اللہ پاک اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگائے گا، جس کا پھل انار سے چھوٹا اور سیب سے بڑا ہوگا، وہ موم سے الگ نہ کئے ہوئےشہد جیسا میٹھا اورموم سے الگ کئے ہوئے خالص شہد کی طرح خوش ذائقہ ہو گا، اللہ پاک بروزِ قیامت روزہ دار کو اس درخت کا پھل کھلائے گا۔(المعجم کبیر للطبرانی، ج18، صفحہ 366، حدیث 935)

اللہ پاک کےپیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عافیت نشان ہے:جس نے رضائے الٰہی کے لئے ایک دن کا نفل روزہ رکھا تو اللہ پاک اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک تیز رفتار سوار کی 50 سالہ مسافت کا فاصلہ فرما دے گا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:پیر اور جمعرات کو اعمال پیش ہوتے ہیں تو میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس وقت پیش ہو کہ میں روزے سے ہوں۔(سنن ترمذی، جلد 2، صفحہ 187)

حضرت عثمان بن ابو عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس طرح تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں بچاؤ کے لئے ڈھال ہوتی ہے، اسی طرح روزہ جہنم سے تمہاری ڈھال ہے اور ہر ماہ تین دن روزے رکھنا بہترین روزے ہیں۔(صحیح ابن خزیمہ، جلد 3، صفحہ 301)

حضرت عبد اللہ بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو بدھ اور جمعرات کو روزہ رکھے، اس کے لئے جہنم سے آزادی لکھ دی جاتی ہے۔(مسند ابی یعلی، جلد 5، صفحہ 115)اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ نفل روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین