سادگی وخوش طبعی اگرچہ انسان کے اوصاف حمیدہ میں سے ایک نہایت پسندیدہ وصف ہے تاہم جب یہی سادہ مزاجی مکار اور مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں استحصال کا ذریعہ بن جائے تو معاشرتی اقدار مجروح ہونے لگتی ہیں موجودہ دور میں بعض افراد دوسروں کے حسن ظن، اعتماد اور پاکیزہ نیت کو اپنی ذاتی منفعت کے لیے استعمال کرتے ہوئے اخلاقی پستی کا ثبوت دیتے ہیں حالانکہ تعلیماتِ اسلامیہ میں کسی مسلمان کو دھوکا دینا، اسکے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا اور اسکی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھانا صریحاً ممنوع قرار دیا گیا چنانچہ ایک صالح اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ افراد معاشرہ تقویٰ،دیانت اور احساسِ ذمہ داری کو اپنا شعار بنائیں اور باہنی تعلقات کو اخلاص وامانت کے اصولوں پر استوار کریں۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) (پ 20، القصص: 84)ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیز گاروں ہی کی ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا (پ 19، الفرقان: 63) ترجمہ کنز الایمان: اور رحمان کے بندے وہ ہیں کہ زمین پر نرمی سے چلتے ہیں۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ عاجزی انکساری اور سادگی اللہ کے پسندیدہ بندوں کی صفت ہے جو زمین میں فساد نہیں پھیلاتے اور نہ ہی تکبر کرتے ہیں ایسے نیک صفت بندوں کے لیے اللہ پاک نے آخرت میں انعام تیار کر رکھا ہے جیساکہ آیت مبارکہ میں ارشاد فرمایا ہے۔

ناجائز فائدہ اٹھانے کا رواج: سادگی انسان کی بہت خوبصورت صفت ہے کیونکہ سادہ دل لوگ صاف نیت اور اچھے اخلاق کے مالک ہوتے ہیں مگر افسوس آج کل بعض لوگوں میں دوسروں کی سادگی اور بھروسے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ لوگ اپنے ذاتی فائدے کے لیے جھوٹ، دھوکا اور فریب سے کام لیتے ہیں جس سے معاشرے میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے حالانکہ اسلام ہمیں سچائی،امانت داری اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)

سادگی کمزوری نہیں بلکہ حسن باطن ہے اور کسی کی سادگی سے فائدہ اٹھانا دراصل اپنی اخلاقی کمزوری ہے۔

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اسکی کئی مثالیں دیکھتے ہیں بعض دکاندار سادہ لوح گاہک سے زیادہ قیمت وصول کرلیتے ہیں کچھ لوگ کسی کے بھروسے کو توڑ کر نقصان پہنچاتے ہیں اور بعض کم علم یا مجبور افراد کو دھوکے سے ان کا حق چھین لیا جاتا ہے۔

نقصانات: کسی کی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے کئی نقصانات ہیں اس سے لوگوں کا اعتماد ختم ہوجاتا،دل آزاری ہوتی ہے اور معاشرے میں بداعتمادی پھیلتی ہے سب سے بڑھ کر ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستحق بنتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہر شخص کے ساتھ انصاف،محبت اور خیرخواہی کا معاملہ کریں اگر کوئی سادہ مزاج یا کم علم ہے تو اس کی مدد کریں نہ کہ اسے نقصان پہنچائیں اچھا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے اور کسی کو تکلیف نہ دے اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی،دیانت اور اچھے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ہر قسم کے ظلم اور دھوکے سے بچائے آمین۔

اسلام ایک خوبصورت دین ہے جو انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اسلام اپنی تعلیم و تربیت کے ذریعے لوگوں میں اعلی انسانی اخلاق پیدا کرنا چاہتا ہے مگر ہم کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے ہیں۔

سادگی کا مطلب ہے کہ کوئی انسان جو جھوٹ نہ بولتا ہو دل کا صاف ہو لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آئے جو بالکل سیدھا ہو جو لباس میں کھانے پینے میں نیز زندگی کے ہر پہلو میں سادگی اختیار کرنے والا ہو۔

ہمارا اصول یہ ہے کہ ہم پہلے لوگوں کے اندر قابلیت تلاش کرتے ہیں جو ہمیں کام آئے پھر اسے اپنے محبت بھرے لفظوں کے جال میں گرفتار کرتے ہیں ہماری چال کامیاب ہو جاتی ہے ہم نہ جانے کتنی مشکلات میں اسے اپنے ساتھ پاتے ہیں جب بھی آواز دو یا نہ دو ایک غلام کی طرح ہمارے حالات کو دیکھ کر حاضر ہو جاتا ہے جب ہمیں اس سے زیادہ قابل انسان مل جاتا ہے پھر ہم اس سے خود کو دور کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ اس کی ہمیں ضرورت نہیں اس کی حرمت کو پامال کرتے ہیں اس کے راز کو راز رہنے نہیں دیتے ہر طرف سے گرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمارے راستے سے ہٹ جائے مگر وہ ہمیں اف تک نہیں کہتا ہم اس کی خاموشی کو وجہ بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی غلطی ہے تبھی تو خاموش ہے مگر ہم کیا جانیں کہ ہم نے اپنے لفظوں سے اس کے دل کے کتنے ٹکڑے کر دیے ہیں ٹوٹے دل سے آواز نکلے تو کیسے نکلے کچھ لوگ مسکراتے بہت ہیں مگر اندر سے خاموشی سے ٹوٹ رہے ہوتے۔

ہم لوگوں کو اپنے مطلب کے لیے چنتے ہیں اور بغیر کسی وجہ کے چھوڑ دیتے ہیں ہم اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر غریب کی آواز پست کرتے ہیں موجودہ دور جس سے ہمارا تعلق ہے ہم اس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر احساس و انسانیت کا نام ختم کرتے جا رہے ہیں کچھ دل صرف کسی کے نرم لہجے اور احساس اور ساتھ سے سکون پاتے ہیں ہم کسی کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ لوگ ہم سے ڈر رہے ہیں مگر حقیقت میں اپنے رب کے ناراض ہونے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حقوق العباد میں کوئی کمی واقعہ نہ ہو جائے وہ اپنے رب پر فیصلہ چھوڑ کر پھر بھی ہمیں عزت دیتے ہیں۔

ایک شخص جو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے ہم اسے تکلیف دے رہے ہیں اس کی زندگی کا مقصد رب کی رضا ہے وہ لوگوں کو درگزر کرتا جاتا ہے پھر ہم اسے ہی کمزور کہہ رہے ہیں مگر وہ رب کی بارگاہ میں مقبول ہوتا جاتا ہے وہ اپنا تعلق رب سے مضبوط کر رہا ہے میرے رب کا انصاف بھی باکمال ہوتا ہے اللہ تعالی کے ہاں انصاف کی چکی دھیرے ضرور چلتی ہے مگر بہت باریک پیستی ہے۔

جو کسی کو تکلیف دے کر ان کی دنیا اجاڑ کر اپنی بنائے میرا رب وقت آنے پر ان کی بنیادیں ہلا دیتا ہے بعض لوگوں کو تو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ان کا لہجہ کتنا سخت ہے یہ ساری باتیں ہمارے معاشرے میں سے محبت احساس اور انسانیت کو ختم کر رہی ہیں انسان کا نعم البدل نہیں ہوتا وہ دوبارہ ہمیں نہیں ملتے۔

جو شخص کسی کی دوستی بھروسے یا محبت کو استعمال کر کے ناجائز فائدہ اٹھائے وہ اچھا اخلاق والا نہیں کہلاتا، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرو اللہ تمہارے لیے آسانی پیدا کرے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اچھا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ زبان وغیرہ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے، (بخاری، 1/16، حدیث: 11)ابو جہل جیسا دشمن بھی نبی کریم ﷺ کی صداقت کا قائل تھا ہمیں دوسروں کی سادگی کا احترام کرنا چاہیے ہم کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھاٹیں، ایسے لوگ بہت خاص ہوتے ہیں ان کی قدر کرنی چاہیے اچھا اخلاق ہمارے معاشرے اور ہمارے ملک کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔

ہر انسان اپنے اخلاق میں خوبصورت ہوتا ہے۔ جس طرح ایک انسان معاشرے میں اپنے اچھے اخلاق سے پہچانا جاتا ہے، آج کے دور میں جہاں ہر طرف انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے، اسی طرح ایک سادہ انسان جو بہت عاجزی، انکساری، محبت، شفقت اور اچھے اخلاق سے پیش آتا ہے، وہ سب کا دل جیت لیتا ہے۔

سادہ انسان یہ نہیں دیکھتا کہ لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہیں یا مجھے اچھا نہیں سمجھتے، بلکہ وہ ہر کسی سے حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے۔ اس کا دل آزاری کا خیال رکھنا ہی سب سے بڑی خوبی ہے۔ بالآخر وہ ہر طرح سے لوگوں سے حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں سادہ لوگوں کی سادگی کو دیکھ کر ان کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ان کی حق تلفی کی جاتی ہے، ان کی دل آزاری کی جاتی ہے۔ الغرض ان کی سادگی کو ہر طرح سے آزمایا جاتا ہے، حالانکہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور انہیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے، آپس میں احساس ہونا چاہیے۔

اس کے برعکس ہم لوگ سادہ لوگوں کے ساتھ حق تلفی کرتے ہیں حالانکہ وہ معاف کر دیتے ہیں۔ ہم ان کا دل دکھاتے ہیں وہ اسے نظر انداز کر کے ہمیں معاف کر دیتے ہیں، ہم ان کا احساس نہیں کرتے حالانکہ وہ ہمارا احساس کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی سادہ لوگوں کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے کیونکہ وہ بھی انسان ہوتے ہیں، احساسات رکھتے ہیں۔

ایک سادہ دل انسان کی سادگی کو دیکھ کر اس کا ناجائز فائدہ اٹھانا تو آسان ہو سکتا ہے، لیکن وہ آپ کے اس ظلم و دل آزاری کا جواب نہ دے سکے تو وہ اللہ کی بارگاہ میں آپ سے متعلق شکایت کر سکتا ہے۔ لہٰذا ایک سادہ انسان کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں اور انہیں معاشرے میں عزت دیں۔معاشرتی خوشحالی کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ کسی کی شرافت، عاجزی یا کم گوئی کو اس کی کمزوری سمجھنا سراسر نادانی اور اخلاقی پستی کی نشانی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جہاں کمزوروں، مسکینوں اور سادہ لوح انسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ جب ہم کسی سادہ انسان کو دھوکہ دیتے ہیں تو عارضی طور پر خود کو بہت چالاک یا کامیاب تصور کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم اپنی آخرت اور اپنے اخلاق کا نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔دینِ اسلام ہمیں سادگی اختیار کرنے اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کرتا ہے۔

ہمارے نبی کریم ﷺ کی زندگی سادگی اور اعلیٰ اخلاق کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ کمزوروں اور سادہ دل لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمایا۔ اگر ہم سچے مسلمان بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اردگرد موجود ایسے تمام لوگوں کو تحفظ اور احترام دینا ہوگا جو دنیاوی چالاکیوں سے دور ہیں۔ ہمیں اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے تڑپ، ہمدردی اور مروّت کے جذبات پیدا کرنے ہوں گے۔ جب معاشرے کا ہر فرد دوسرے کے جذبات کا پاس رکھنے لگے گا، تو ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

آئیے آج سے یہ عہد کریں کہ ہم کسی کی سادگی کا مذاق نہیں اڑائیں گے بلکہ ان کے مددگار بنیں گے۔


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ایک ایسا دین ہے جو ہمیں دوسروں کی مدد کرنے اور ان کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام کسی کو دھوکہ دینا، گالی دینا، کسی پر ظلم کرنا، زیادتی کرنا اور اس کو تکلیف پہنچانا بالکل ناجائز قرار دیتا ہے۔

سادگی ایک صفت ہے اور سادہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے۔ لیکن آج کل لوگ دوسروں کی سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ اس کا مال ہڑپ لیتے ہیں اور اس کے ساتھ بددیانتی کرتے ہیں۔ لیکن اسلام ان تمام چیزوں کی نفی کرتا ہے اور ہمیں دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کا حکم دیتا ہے۔

اللہ پاک نے قرآن پاک میں واضح الفاظ میں دوسروں کے ساتھ زیادتی کرنے اور ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی کا مال ناحق کھانا، اس پر ظلم و زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔

اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا مال ہڑپ لیتا ہے یا اس پر ظلم کرتا ہے تو یہ سارا اللہ پاک کی نافرمانی ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ 14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ پاک احسان کو پسند فرماتا ہے اور انصاف کو پسند فرماتا ہے۔ کسی کے ساتھ غیر منصفانہ معاملات یا کسی کے ساتھ زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔

احادیث مبارکہ میں بھی اس بات کی نفی کی جاتی ہے کہ کسی کے ساتھ دھوکہ کرنا، اس کا فائدہ اٹھانا اخلاقی اور شرعی طور پر ناجائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)ایک اور حدیث میں فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)

کسی مسلمان کی سادگی کا فائدہ اٹھانا اور اس پر ظلم و زیادتی کرنا اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔ ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ بھلائی کرنی چاہیے۔ جامع ترمذی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سچا اور ایماندار تاجر بروز قیامت شہدا اور صدیقین کے ساتھ ہوگا۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امانت داری انسان کو کتنے بلند مرتبے پر لے جاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج کل لوگ دوسروں کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کا اس میں کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ ایسے لوگ خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اور خود کو ہلاکتوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کی مدد کر کے ملنے والے اجر و ثواب سے محروم ہو جاتے ہیں۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ سے ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی۔ (بخاری، 2/34، حدیث: 2157) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں صرف اور صرف بھلائی کرنے کا ارادہ کرنا چاہیے۔ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا صدقہ ہے۔

ایک اچھا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم سادہ مزاج لوگوں کی مدد کریں اور ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور ان کے ساتھ بددیانتی نہ کریں۔

اللہ پاک ہمیں سادہ مزاج لوگوں کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے ساتھ زیادتی کرنے کی ذلت اور فعل بد سے محفوظ رکھے۔ آمین


دیں اسلام بہت ہی پیارا دین ہے یہ ہمیں آپس میں دیانتداری اور نرمی کا حکم دیتا ہے کسی مسلمان کی سادگی اور بھولے پن کا فائدہ اٹھانا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ قرآن مجید لوگوں کی سادگی کا فائدہ اٹھانے انکو دھوکہ دینے انکی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی سخت مذمت کرتا ہے۔

قرآن پاک میں ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔

لہٰذا مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے کہ ہم انصاف سے کام لیں۔ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)

اس حدیث مبارکہ سے ہمیں نصیحت حاصل کرنی چاہیے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے دھوکہ کی کس قدر مذمت فرمائی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو دھوکہ دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ہمیں اس سے پچنا چاہیے۔

ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ 14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) (پ 12، ہود: 85)ترجمہ: اور لوگوں کو انکی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔

مسلمان کا مال اور عزت محترم ہے، حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک تمہارا خون مال اور عزتیں ایک دوسرے پر اس طرح ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں ہے۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔(بخاری، 1/16، حدیث: 11)

ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے جان ومال اور عزت وآبرو کی ایسے ہی حفاظت کرے جیسے اپنی کرتے ہیں۔ دھوکہ دینا کسی کا فائدہ اٹھانا ایک مسلمان کی صفت نہیں ہے یہ دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے دین اسلام ہمیں باہمی محبت کا درس دیتا ہے۔

حضرت ابوذر غفاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام قرار دیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کیا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ (مسلم، ص 1393، حدیث: 2577)

دھوکہ دینے والے لوگوں کا فائدہ اٹھانے والے پر کوئی بھروسہ نہیں کرتا بعض اوقات کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی صورت میں اس شخص کا اچھائی اور بھلائی پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور کئی بدگمانیوں کا شکار ہو جاتا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم انصاف کرنے والے اور امانتدار بنیں کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ اگرکسی کام کسی بات کی ضرورت محسوس کریں تو اس کی رہنمائی فرما دیں۔

آج کل کے جدید دور میں انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور انکا فائدہ اٹھانا بہت ہی عام ہو گیا ہے فیک کالز اور لنک کے ذریعے لوگوں کے بینک اکاؤنٹ ہیک کر کے ان کے مال پر ناحق قبضہ کر لیا جاتا ہے لوگوں سے جھوٹ بول کر ان سے رقم وصول کی جاتی ہے انہیں مختلف طریقوں سے پریشان کیا جاتا ہے۔


زندگی کے معاملات یعنی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور رہن سہن وغیرہ میں بے جا تکلفات اور اسراف سے بچنے کا نام سادگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے اچھے اخلاق، ہمدردی اور انصاف کا درس دیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سادہ مزاج، بھروسہ کرنے والے اور نرم دل ہوتے ہیں، لیکن بعض لوگ ان کی سادگی کو کمزوری سمجھ کر ان سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

افسوس! آج کے دور میں کچھ لوگ ایسے بھولے بھالے لوگوں کی سادگی کو ان کی نادانی سمجھ لیتے ہیں اور اپنے فائدے کے لیے انہیں دھوکہ دیتے ہیں۔ کسی کے بھولے پن یا سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھانا ایک بدترین اخلاقی عیب اور اللہ پاک کی نافرمانی ہے، اور یہ اسلام کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

قرآن پاک ہماری اس بارے میں رہنمائی فرماتا ہے ‎اسلام ہمیں دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک، دیانت داری اور انصاف قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ ارشاد فرماتا ہے:‎ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5، النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔

ان آیاتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہمیں امانت داری، انصاف اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی کی سادگی یا بھروسے کا غلط فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی ہے: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)

اور ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:‎مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ (مسلم، ص 1394، حدیث: 6580)

ان احادیثِ مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دھوکہ، ظلم اور کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے سے منع کرتا ہے۔

جب کوئی شخص ہم پر اندھا اعتماد کرتا ہے تو وہ ہمیں اپنا امین بنا لیتا ہے، اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کے بھروسے کی حفاظت کریں۔ اگر کوئی شخص سادہ مزاج یا دنیا داری کی چالاکیوں سے ناواقف ہو تو ہمیں اس کا مددگار بننا چاہیے، نہ کہ اس کی سادگی سے فائدہ اٹھائیں۔ دنیا کی وقتی چالاکی شاید لوگوں کی نظروں میں کامیابی سمجھی جائے، مگر اللہ تعالیٰ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور اس کے ہاں ہر انسان کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی، امانت داری اور اچھے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرنے والا بنائے۔


گیارہویں شریف مسلمانوں، بالخصوص سلسلہ قادریہ کے پیروکاروں کے ہاں ایک نہایت محترم اور مبارک دن مانا جاتا ہے۔ یہ دن امام الاولیاء غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ہے، جس میں ذکر و اذکار، ایصالِ ثواب اور محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

عاشقان رسول گیارہویں شریف کی برکتوں سے مستفیض کرنے اور اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لئے شیخ طریقت امیرِ اہلِ سنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ نے اس ہفتے 28 صفحات کا رسالہ ”گیارہویں شریف کی برکتیں“ پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

یا اللہ پاک! جو کوئی 28 صفحات کا رسالہ”گیارہویں شریف کی برکتیں“ پڑھ یا سن لے اُسے ہر ماہ گیارہویں شریف منانےکی سعادت عنایت فرما ، اس کو قیامت میں غوث پاک کے غلاموں میں اٹھا اورماں باپ سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


سنتوں کی ترویج و اشاعت میں مصروفِ عمل ”دعوتِ اسلامی“ کا سرزمینِ انگلینڈ پر تاریخی و سنہرا اقدام

دعوت اسلامی کے زیر اہتمام ناٹنگھم سٹی نیورک شو گراؤنڈ (Nottingham City Newark Showground)میں 18 تا 20 ستمبر 2026ء تین دن کے عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔

تین دن کے اجتماع میں مختلف شہروں سے عاشقانِ رسول کی اجتماع گاہ آمد ہوئی جبکہ کینیڈا، آسٹریلیا، ساؤتھ افریقہ،دیگر افریقی و ایشیائی اور یورپی ممالک سے عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔شرکا میں مختلف شعبہ جات کے پروفیشنلز، ائمہ و علمائے کرام، سیاسی و سماجی شخصیات، نگران ملاوی مولانا عثمان عطاری مدنی اور نگران FGRFیوکے و یورپ حاجی سید فضیل رضاعطاری سمیت مختلف ممالک کے ذمہ داران دعوتِ اسلامی، اراکین شوریٰ حاجی رفیع عطاری، حاجی سید عارف عطاری، حاجی خالد عطاری، مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری اور عبد الوہاب عطاری بھی موجود تھے۔

عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔اس کے بعد نعت خواں اسلامی بھائیوں نے کلام پڑھا، تلاوت و نعت کے بعد مبلغین دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرے بیانات کرتے ہوئے شرکا کونیکی کی دعوت دیتے ہوئے ان کی دینی و معاشرتی اصلاح کی۔

نماز مغرب سے قبل نگرانِ شوریٰ نے نیکی کی دعوت دیتے ہوئے جمعہ کے دن کی فضیلت بیان کی،غروب آفتاب سے قبل جمعۃالمبارک کے آخری لمحات میں قبولیت دعا کی برکات پانے کے لئے عاشقان رسول نے نگران شوریٰ کے ہمراہ رب کریم کی بارگاہ میں دعامانگنے کی سعادت پائی۔

اجتماع کے دوسرے دن نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کا سنتوں بھرا بیان ہوا۔ نگران شوریٰ نے بے حیائی و بے پردگی سمیت دیگر گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کے ساتھ ساتھ عظمت و شان مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیان کی۔ دوسرے موقع پر رکن شوریٰ حاجی عبد الحبیب عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے ”عظمت و شان مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم “ بیان کی۔بعد ازاں رکن شوریٰ حاجی خالد عطاری سمیت وقتاً فوقتاً دیگر مبلغین دعوتِ اسلامی نے بھی بیانات کئے اور شرکا کی دینی و معاشرتی اصلاح کی۔

اجتماع کے آخری دن گریجویشن سیریمنی 2026ء (Graduation Ceremony 2026) کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد ہوئی ۔ تلاوت و نعت سے تقریب کا آغاز ہوا جبکہ رکن شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا۔ حاجی عبد الحبیب عطاری نے درود شریف کی فضیلت اور علم و علما کی شان پر تفصیلی گفتگو کی۔

بیان کے بعدرکن شوریٰ حاجی خالد عطاری نے دعوتِ اسلامی کےمختلف شعبہ جات اور اس کے تحت دنیا بھر میں ہونے والے دینی و فلاحی کاموں پر Video Documentary کے ذریعے بریفنگ دی۔

گریجویشن سریمنی میں نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے بھی مختصر گفتگو کی جس میں طلبہ کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے انہیں اور ان والدین و سرپرست کو مبارکباد پیش کی۔نگران شوریٰ نے شرکائے اجتماع کو بھی ترغیب دلائی کہ وہ اپنے گھرمیں ایک عالم ضرور بنائیں اور اس کے لئے اپنی اولاد کو جامعۃ المدینہ میں داخلہ کروائیں۔

تمام Activity کے بعد یوکے کی سرزمین پر ہونے والے اجتماع میں خوشی کی وہ گھڑی بھی آئی کہ Online اور Physically حفظ و ناظرہ اور درس نظامی (عالم کورس) مکمل کرنے والوں کو Certificate دیئے گئے اور ان کی دستار بندی کی۔نگران شوریٰ،اراکین شوریٰ اور سینئرز اساتذۂ کرام نے ان کے سروں پر دستار سجاتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔

گریجویشن سیریمنی کے بعد یوکے کی سرزمین پر منعقد ہونے والے عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع کی آخری نشست کا سلسلہ ہوا۔ نشست کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعت رسول مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہوا۔نگران شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے”موت کی سختی اور سکرات موت“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا۔بیان میں موت کے حوالے سے حدیث پاک اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اقوال بیان کئے گئے اور شرکا کو موت سے قبل موت کی تیاری کرنے کا ذہن دیا گیا۔نگرانِ شوریٰ نے شرکائے اجتماع کو اپنے دلوں میں خوفِ خدا پیدا کرنے، نمازوں کی پابندی کرنے، اپنی ظاہری و باطنی اصلاح کرنے اور دعوت اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہنے کی ترغیب دلائی۔

بیان کے بعد تصوّرِ مدینہ کا سلسلہ ہوا، رقت انگیز دعا اور صلوۃ و سلام پر عظیم الشان اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا۔آخر میں نگران شوریٰ سے اسلامی بھائیوں نے ملاقات بھی کی۔دوران اجتماع ایک خوشی کی خبر بھی سامنے آئی کہ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر نگران شوریٰ کے ہاتھ ایک غیرمسلم نے اسلام قبول کرلیا، نگران شوریٰ نے غیر مسلم کو کلمہ طیبہ پڑھاکر دائرہ اسلام میں داخل کیا۔


سیرت مصطفی ﷺ سے ہمیں محبت ہی کا درس ملتا ہے۔ حضور علیہ الصلوة و السلام اپنے تمام ہی اصحاب سے نہایت محبت و شفقت کا معاملہ رکھتے مگر انصار وہ خوش نصیب گروہ صحابہ ہیں، جنہوں نے محبتِ مصطفی ﷺ سے ایک خاص حصہ پایا ہے۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے متعلق فرمایا: انصار سے وہی محبت کرے گا جو مومن ہو اور ان سے بغض وہی رکھے گا جو منافق ہے۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)اس حدیث مبارکہ سے عظمتِ انصار اور نبی کریم ﷺ کی انصار سے محبت ظاہر ہوتی ہے۔

انصار کے متعلق اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

اس آیت مبارکہ میں انصار صحابہ کرام کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ قربان جائیے ان کی خوش نصیبی پر کہ ان کی فضیلت قرآن پاک میں بیان کی گئی اور نبی کریم ﷺ ان سے خاص محبت فرماتے ہیں۔

آئیے نبی کریم ﷺ کی ان سے محبت کے ضمن میں چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں:

ایمان کی علامت: نبی کریم ﷺ نے انصار کی محبت کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے نیز ان کے بغض کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے چنانچہ آپ کا ارشاد ہے کہ انصار سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا منافقت کی نشانی ہے۔(بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

میں انصار سے ہوتا: حضور اکرم علیہ الصلوة و السلام نے ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ہی ایک فرد ہوتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

انصار کے لئے دعا: رسول اللہ ﷺ نے انصار کو دعا دیتے ہوئے بارگاہِ الہی میں عرض کی: اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، ان کے بیٹوں کی اور ان کے بیٹوں کے بیٹوں کی۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)

سب سے محبوب: نبی کریم ﷺ نے کچھ انصاری بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا، تو اللہ کے نبی ﷺ (ان کی تعظیم اور محبت میں) سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اے اللہ! تو جانتا ہے، اے انصار تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو، اے اللہ! تو جانتا ہے، اے انصار تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ (بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)

تمہارے لئے اللہ کا رسول: فتح مکہ کے دن جب نبی کریم ﷺ نے اموال غنیمت قریش میں تقسیم کر دیا تو انصار غم زدہ ہو گئے مگر قربان جائیے آقا جان عالم ﷺ کے انداز دلجوئی اور انصار سے محبت پر، آپ علیہ الصلوة و السلام فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں کہ لوگ دنیا کے ساتھ جائیں اور تم الله کے رسول کے ساتھ جاؤ۔ تو انصار نے عرض کی: کیوں نہیں! (ہم راضی ہیں)۔ (بخاری، 2 / 564، حدیث: 4330)

معلوم ہوا کہ انصار بارگاہ رِسالت میں مقرب اور حبیبِ خدا ﷺ کے بڑے ہی محبوب ہیں۔ اللہ پاک ہمیں انصار سے محبت اور ان کی تعظیم کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


نبی کریم ﷺ کی انصارِ مدینہ سے محبت انتہائی گہری، والہانہ اور امت کے لیے ایک معیارِ ایمان تھی۔ آپ ﷺ نے انصار کی قربانیوں، وفاداری اور اولین مدد کے اعتراف میں انہیں ایمان کی نشانی قرار دیا۔ ان سے محبت ایمان اور بغض کو نفاق (منافقت) کی علامت بتایا گیا۔

صحیح مسلم میں ہے: انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ جو شخص ان سے محبت کرے گا، اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو اُن سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

مسند احمد بن حنبل میں ہے: محبت ابوبکر وعمر کی ایمان سے ہے اوران کا بغض کُفر،اورمحبت انصار کی ایمان سے ہے اوران کا بغض کفر،اورمحبت عرب کی ایمان سے ہے اوران کا بُغض کفر،اورمیرے اصحاب کو جو براکہے اس پر الله کی لعنت،اورجو ان کے معاملہ میں میرا لحاظ رکھے میں روز قیامت اس کا حافظ ونگہبان ہوں گا.

معجم الکبیر میں ہے:

فتاویٰ رضویہ میں بیہقی کے حوالے سے حدیث پاک نقل کی گئی ہے: جو میری اولاد اور انصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین علتوں سے خالی نہیں: یا تو منافق ہے یا نطفۂ حرام یا حیضی بچہ۔ (فتاویٰ رضویہ،22/420) 


انصار صحابہ تاریخ اسلام کی وہ روشن ہستیاں ہیں جنہوں نے اسلام کی مددو نصرت میں نمایاں کام سر انجام دیے ہیں۔ہجرت کے بعد حضور ﷺ اور مہاجرینِ مکہ کا دل و جان سے استقبال کیا۔اپنے گھر، جان اور مال سب کچھ اسلام کے لیے پیش کر دیا۔اسی اخلاص اور قربانی کی وجہ سے حضور ﷺ کو انصار سے بے حد محبت تھی۔

حضور ﷺ نے بارہا انصار صحابہ سے محبت کا اظہار فرمایا اور ان کی تعریف فرمائی۔کتبِ احادیث میں انصار صحابہ سے محبت کے بارے میں کئی احادیث وارد ہیں۔جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مومن ہی انصار سے محبت رکھتا ہے لہذا جو کامل مومن ہوگا وہ ہرگز انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔ بلکہ ان سے بغض وہی شخص رکھے گا جس کے دل میں کھوٹ ہو گی۔

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں فرمایا: انصار سے محبت صرف مومن ہی رکھے گا اور ان سے بغض صرف منافق ہی رکھے گا جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا تو اللہ اس سے ناراض ہوگا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے انصار کی عورتوں اور بچوں کو کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اللہ گواہ ہے تم لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو، تین بار آپ نے ایسا ہی فرمایا۔ (بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)

حضور اکرم ﷺ انصارصحابہ کے لیے خصوصی دعائیں بھی فرمایا کرتے۔ آپ نے دعا فرمائی: اے اللہ انصار پر رحم فرما انصار کی اولاد پر رحم فرما اور ان کی اولاد کی اولاد پر رحم فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)

انصار صحابہ کے مقام و مرتبے کو بیان کرتے ہوئے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: انصار جس وادی میں جائیں گے تو میں ابھی انہی کی وادی میں جاؤں گا اور اگر میں ہجرت نہ کرتا تو میں انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

اسی طرح حضور ﷺ نے کئی احادیث میں انصار کے قبائل کی بھی تعریف فرمائی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ جس سے حضور ﷺ کی انصار سے محبت ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ آپ نے ایک اور حدیث میں اس طرح ارشاد فرمایا: بنو نجار کا گھرانہ انصار میں سے بہتر گھرانہ ہے پھر بنو عبدالاشہل کا پھر بنو حارث دن حضرت کا پھر بنو ساعدہ بن کعب کا اور انصار کا ہر گھرانہ عمدہ ہی ہے سعد بن عبادہ نے کہا میرا خیال ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کے کئی قبیلوں کو ہم پر فضیلت دی ہے۔ (مسلم، ص 1361، حدیث: 2511)

معلوم ہوا حضور ﷺ انصار صحابہ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے کردار کو اپنائیں اور اسلام کی خدمت کے لیے اخلاص اور اظہار کا جذبہ پیدا کریں اللہ پاک ہمیں بھی انصار صحابہ سے بلکہ تمام صحابہ کرام سے محبت رکھنے اور ان کو اچھے الفاظ میں یاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ان سے بغض رکھنے سے بچائے اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


صحابی رسول ہونا اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہر صحابی عادل اور جنتی ہے۔ کوئی شخص بھلے کتنی ہی عبادت کر لے وہ کبھی بھی صحابی نہیں بن سکتا کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے رسول اللہﷺ کی محبت پائی، حضور ﷺ کی تربیت پائی تو وہ انسان کیا فرشتوں سے بھی بڑھ گئے۔ (مراۃ المناجیح، 8/340)

انصار سے محبت، ایمان کی نشانی: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار (انصاری صحابہ)سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

نبی کریم ﷺ نے انصاری صحابہ سے محبت کو ایمان کا معیار قرار دیا، یوں انصار سے سچی محبت ہی ایمان کی نشانی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی انصار صحابہ کے لیے دعا: مہاجرین و انصار مدینہ شریف کے گرد خندق کھودنے میں مصروف تھے، تو نبی کریم ﷺ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! بھلائی نہیں مگر آخرت کی بھلائی میں انصار و مہاجرین میں برکت فرما۔ (بخاری، 2/264، حدیث: 2835)

نبی کریم ﷺ کو اپنے صحابہ سے اتنی محبت تھی کہ ان کیلئے دل سے دعائیں مانگتے اور جن کیلئے نبی پاک ﷺ دعا مانگتے ہیں بس ان کا دنیا و آخرت دونوں میں بیڑا پار ہے۔

صحابہ وہ صحابہ جن کی ہر دن عید ہوتی تھی

خدا کا قرب حاصل تھا،نبی کی دید ہوتی تھی

نبی کریم ﷺ کی انصار و مہاجر سے بے حد محبت تھی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تم (انصاری صحابہ) ہو، مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ تم (انصاری صحابہ) پیارے ہو۔(بخاری، 2/556، حدیث: 3786)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: اگر لوگ ایک جنگل یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار و مہاجر کے جنگل یا گھاٹی میں چلوں گا اور انصار اندرونی لباس کی طرح ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس کی طرح ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو انصار صحابہ سے بہت زیادہ محبت تھی۔ اور پہلی حدیث میں 2 مرتبہ اظہار محبت اور دوسری حدیث میں انصار صحابہ کو اندرونی لباس سے تشبیہ دے کر محبت کی دلیل دی ہے۔

شرح حدیث: مرآت شریف میں ہے: اگر تمام جہان کی رائے ایک طرف ہو اور انصار کی رائے دوسری ہو تو میں انصار کی رائے کے موافق رائے دوں گا، تمام کی راؤں پر انصار کی رائے کو ترجیح دوں گا۔ یہ مطلب نہیں کہ میں انصار کی اتباع کروں گا، بلکہ سارا جہان حضور ﷺ کا متبع ہے، حضور ﷺ کسی شخص یا کسی قوم کے متبع نہیں۔

اللہ پاک کی انصار صحابہ سے محبت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مومن اور ان سے دشمنی نہ کرے گا مگر منافق،تو جس نے ان سے محبت کی اللہ پاک اس سے محبت کرے گا اور جس نے ان سے بغض رکھا اللہ پاک اس سے ناراض ہو گا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

ایمان کا حصہ: حضور اکرم ﷺ کی انصار صحابہ سے والہانہ محبت ایمان کی علامت اور ایمان کا حصہ تھی۔ انصار وہ عظیم لوگ تھے جنہوں نے ہجرت کے مشکل وقت میں رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین کو نہ صرف پناہ دی بلکہ اپنی جان اور مال کی قربانیاں پیش کیں۔

دعائے مصطفوی: اے اللہ! انصار کی اور ان کے بیٹوں اور پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)