(1) اس کو اللہ کی رضا کے لیے پڑھو گا۔

(2) اس کو پڑھ کر لوگوں کی اصلاح کرو گا۔

(3) شیطان کے وسوسے دلانے کے باوجود پورا پڑھو گا۔

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ صافات:141،142)

تفسیر صراط الجنان: فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا۔جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا)۔

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃ صافات:143تا 145)

تفسیر صراط الجنان:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔(سورۃ صافات:146)


اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی رہنمائی کیلئے انبیاء کرام علیہم السلام کا انتخاب کیا اور ان انبیاء کرام نے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی توحید اور وحدانیت کا پیغام مخلوق تک پہنچانے کے لیے کوشش کی اور انہی انبیاء کرام میں سے ایک نبی حضرت یونس علیہ السلام ہیں اور یہ ایسے جلیل القدر نبی ہیں کہ ہمیں ان کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ملتا ہے ۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ صافات:139،140)

تفسیر صراط الجنان: وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)

اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴ / ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵ / ۱۷۵۲، ملخصاً)

حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کا اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کرنا اور نجات پانا:قرآن پاک میں ارشاد ہے:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔(سورۃ الانبیاء:88)

تفسیر صراط الجنان:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ:تو ہم نے اس کی پکار سن لی۔ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات دیتے ہیں جب وہ ہم سے فریاد کریں اور دعا کریں۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۷۲۵، ابو سعود، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۵۳۳، ملتقطاً)

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعامسلمانوں کے لیے بھی ہے:حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’کیا میں تمہاری اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کی طرف رہنمائی نہ کروں جس کے ساتھ جب بھی دعاکی جائے تو وہ قبول ہوجائے اورجب سوال کیاجائے توعطاہوجائے، وہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو انہوں نے اندھیروں میں تین بار کی تھی ۔ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص تھی یاتمام مسلمانوں کے لیے ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا’’ کیاتم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادنہیں سنا’’وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں۔(مستدرک ، کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔ الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸) مراد یہ ہے کہ یہ دعا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے خاص نہیں مسلمانوں کے لیے بھی ہے، جب وہ ان الفاظ کے ساتھ دعامانگیں گے تو ان کی دعا بھی قبول ہو گی۔

حضرت یونس علیہ السلام کی مصیبت اور مشکلات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کو کس کس طرح امتحان میں ڈالتا ہے لیکن جب بندے امتحان میں پڑھ کر صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑتے اور عین بلاؤں کے طوفان میں بھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تو ارحم الراحمین اپنے بندوں کی نجات کا غیب سے ایسا انتظام فرما دیتا ہے کہ کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا۔


اللہ عزوجل نے قرآن مجید فرقان حمید میں اپنے پاک اور محبوب بندوں یعنی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ خیر فرمایا  اور ان کی مشقتوں کو بیان فرمایا کہ کیسے اپنی امت کی رہنمائی میں کوشش کرتے رہے انہی میں سے ایک اللہ پاک کے محبوب نبی حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ آئیں آپ کے متعلق قرآن مجید میں سے پانچ آیات پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

(1)فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پارہ 11 سورۃیونس آیت نمبر 98)

(2) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (پارہ 23 سورۃ الصافات آیت نمبر 139،140)

(3)فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (پارہ 23 سورۃ الصافات آیت نمبر 143تا 145)

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے

(صراط الجنان فی تفسیر القرآن جلد 6 پارہ 23 سورۃ الصافات آیت نمبر 143،145)

(4)اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(پارہ 6،سورۃالنساء،آیت نمبر 163)

(5)وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ (پارہ7،سورۃ الانعام،آیت 86)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک اپنے پیارے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے صدقے ہمیں ہدایت کاملہ نصیب فرمائے اور جس طرح انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے مشقتیں برداشت کی ہمیں بھی دین کے معاملات میں صابر بنائے ۔ امین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔


قرآن پاک میں مختلف جگہ پر مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کا تذکرہ آیا ہے اسی طرح قرآن پاک میں ہمارے بہت ہی پیارے نبی حضرت یونس علیہ السلام کا بھی ذکر ہے۔

(1)وحی کا نزول:اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(پارہ نمبر 4، سورۃ النساء، آیت نمبر 163)

(2)سب پر فضیلت دی :وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔(پارہ نمبر 6، سورۃ الانعام ،آیت نمبر 86)

(3)ایمان کی برکت:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(پارہ 10 ،سورۃ یونس، آیت نمبر 98)

(4)یونس پیغمبروں میں سے ہے :وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(پارہ 23، سورۃ الصفت، آیت نمبر 139 )

(5)تو ہم نے اس کی پکار سن لی :فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔(پارہ 17 ،سورۃ الانبیاء آیت ،نمبر 88)


قرآن کریم وہ الحامی کتاب ہے جس میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام اور ان کی امتوں کا تذکرہ فرمایا ہے ۔

(1) حضرت یونس علیہ السلام نبی:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ (پارہ 23 ،آیت 139)

یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے ۔( صراط الجنان)

(2) ایمان لانے کا فائدہ: فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (پارہ 11 آیت 98)

(3) انبیاء کی فضیلت:وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اسماعیل اور یَسَع اور یونس اور لوط کو (ہدایت دی)اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ (پارہ 7 آیت 86)

(4) وحی کا نزول: اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ 6 آیت 163)

(5) حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی:فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ (پارہ 23 آیت 141)


حضرت یونس علیہ السلام ان انبیاءِ کرام علیہم السلام میں سے ہیں جن کا ذکر قرآنِ مجید میں نہایت وضاحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قومِ نینویٰ کی طرف مبعوث فرمایا جو موصل کے علاقے میں ایک بڑی بستی تھی۔ اس قوم کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی اور بت پرستی سے منع فرمایا لیکن ابتدا میں انہوں نے انکار کیا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔ (سورۃ الصافات، آیت 147-148)

حضرت یونس علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو عذاب سے ڈرایا اور وہ ایمان نہ لائے تو آپ علیہ السلام وہاں سے روانہ ہو گئے۔ بعد میں جب عذاب کے آثار ظاہر ہوئے تو پوری قوم خوف زدہ ہو گئی اور سب نے مل کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور ان سے عذاب کو دور فرما دیا۔قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم۔(سورۃ یونس، آیت 98)

حضرت یونس علیہ السلام جب اپنی قوم سے جدا ہو کر کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی دریا کے درمیان رک گئی۔ قرعہ اندازی میں آپ علیہ السلام کا نام آیا اور آپ کو دریا میں ڈال دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصافات، آیت 142)

مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عظیم دعا کی:

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 87)

اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا فرمائی۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے اور بندہ جب سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور معاف فرماتا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، مصیبت میں دعا اور استغفار اختیار کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنا چاہیے۔


اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ایسی قوم کی طرف بھیجا جو دریائے دجلہ کے پاس موصل کے علاقے نینویٰ میں رہتی تھی، اور یہ جگہ آج بھی عراق میں واقع ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کی رسالت اور آپ کی قوم کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالعرفان:اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصافات: 139-140)

دوسرے مقام پر آپ کی قوم کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ یونس: 98)

حضرت یونس علیہ السلام کے القاب:قرآنِ پاک میں آپ کو ذوالنون اور صاحبُ الحوت کے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء: 87)

اور فرمایا: فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔(سورۃ القلم: 48)

قرآنِ پاک کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی رسالت، آپ کے القاب اور آپ کی قوم کے واقعے کو بیان فرمایا ہے۔آئیے! ہم حضرت یونس علیہ السلام کی سیرت، آپ کی قوم کے واقعے، بعض معترضین کے اعتراضات اور ان کے جوابات، نیز اس واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق کا مطالعہ کرتے ہیں۔

حضرت یونس علیہ السلام اور قومِ نینویٰ:اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو قومِ نینویٰ کی طرف نبی بنا کر بھیجا تو آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کی دعوت قبول نہ کی۔ آپ اپنی قوم کے اس طرزِ عمل سے دل برداشتہ ہوئے اور جلال میں آکر وحی نازل ہونے سے پہلے ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ دعا کی:

اللّٰهُمَّ اِنَّ ذُنُوْبَنَا قَدْ عَظُمَتْ وَجَلَّتْ وَاَنْتَ اَعْظَمُ مِنْهَا وَاَجَلُّ، اِفْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ اَهْلُهٗ وَلَا تَفْعَلْ بِنَا مَا نَحْنُ اَهْلُهٗ۔

ترجمہ:اے اللہ! ہمارے گناہ بہت بڑے ہوگئے ہیں، لیکن تو ان سے زیادہ بڑا اور عظمت والا ہے۔ ہمارے ساتھ وہ معاملہ فرما جس کا تو اہل ہے اور ہمارے ساتھ وہ نہ فرما جس کے ہم مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور ان سے عذاب دور کردیا۔مروی ہے کہ یہ جمعہ اور عاشورہ (10 محرم) کا دن تھا۔(تفسیرِ کبیر، تحت الآیۃ 98، سورۃ یونس، جلد 17)

اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم فرمایا:لَا تَكْسِرِيْ مِنْهُ عَظْمًا وَلَا تَقْطَعِيْ لَهٗ وَصْلًاترجمہ :ان کی کوئی ہڈی نہ توڑنا اور نہ ان کا گوشت کاٹنا۔پھر مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو ایک ویران میدان میں اگل دیا۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃ صافات:145)

"عراء" ایسی زمین کو کہتے ہیں جہاں کوئی درخت یا سایہ دار چیز نہ ہو۔ حضرت یونس علیہ السلام بہت کمزور ہوچکے تھے اور آپ کی جلد نومولود بچے کی جلد کی طرح نازک ہوگئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر کدو کا درخت اگایا۔ قرآنِ پاک میں ہے:وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔(سورۃ صافات:146)

اگرچہ عام طور پر کدو بیل کی صورت میں ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو سایہ فراہم کرنے کے لیے بطورِ معجزہ کدو کا درخت اگایا۔(تفسیرِ کبیر، تحت الآیات 139-142)

معترضین کے اعتراضات اور ان کے جوابات:

اعتراض:

قرآنِ پاک میں ہے:فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ

بعض لوگ اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ “حضرت یونس علیہ السلام نے گمان کیا کہ اللہ ان پر قدرت نہ رکھے گا، حالانکہ یہ معنی نبی کی شان کے خلاف ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام خطا سے معصوم نہیں۔

الجواب:یہ معنی بالکل غلط ہے۔ یہاں "نقدر" کا معنی "تنگی کرنا" ہے، نہ کہ "قدرت نہ رکھنا"۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَقْدِرُ لَهٗترجمۂ کنزالعرفان:اللہ اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔(سورۃ العنکبوت: 62)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:هٰذَا مِنَ الْقَدْرِ لَا مِنَ الْقُدْرَةِیعنی یہاں “قدر” سے مراد تنگی ہے، نہ کہ قدرت۔(تفسیرِ کبیر، تحت الآیۃ 87، سورۃ الانبیاء)

قصۂ یونس علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اسباق:

(1) صبر کرنا۔

(2) تنگی اور مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔

(3)اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔

(4) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا۔

(5) جلد بازی سے بچنا۔

(6) اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وسیع ہونا۔


قرآن کریم قصصِ انبیاء کے ذریعے انسان کو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بھی انہی سبق آموز قصوں میں سے ایک ہے۔ قوم کی نافرمانی پر آپ کا مچھلی کے پیٹ میں جانا اور پھر خالص توبہ سے نجات پانا اللہ عزوجل کی رحمت اور قدرت کی نشانی ہے۔ قرآن نے اس واقعے کو سورۃ یونس، الانبیاء اور الصافات میں نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے۔ اس قصے سے ہمیں صبر، توبہ اور اللہ عزوجل پر کامل یقین کا درس ملتا ہے۔

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔( صافات:143)

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر اِلٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرور قیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف اَقوال ہیں۔ اُسی دن یا 3 دن یا 7 دن یا 20 دن یا 40 دن کے بعد آپ مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے ۔(تفسیر صراط الجنان، جلد8، تحت الایۃ 143)

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (صافات:139،140)

یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عذاب آنے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااور نہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا، جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا، اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللّٰه تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے“۔(تفسیر صراط الجنان، جلد 8، تحت الایۃ الصفت 139،140).

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (صافات:141،142)

جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو اِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا“۔(تفسیر صراط الجنان ، جلد 8، تحت الایۃ141،142)

اللہ پاک میری اس کوشش کو اپنی پاک بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔


قرآن مجید میں متعدد بار حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر آیا ہے ہے قرآن مجید نے حضرت یونس علیہ السلام کی شان اقدس بیان کی ہےچنانچہ فرمایا:

(1) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(صافات:139،140)

وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔(تفسیر صراط الجنان)

(3) فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(یونس:98)

اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی۔(تفسیر صراط الجنان)

(5) وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔(انعام:86)


آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی۔

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصفت، 139،140)

تفسیر صراط الجنان :یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔

(2) وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔(سورۃالانعام، 86)

تفسیر صراط الجنان :اس آیت اور اس سے اوپر والی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر فرمایا اور ان کے ذکر میں جو ترتیب آیت میں موجود ہے۔

(3) اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃالنساء:163)

(4) فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃیونس:98)

تفسیر صراط الجنان :نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے ۔

(5) وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃ الصفت:147،148)

تفسیر صراط الجنان :اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پہلے کی طرح موصل کی سرزمین میں قومِ نِینَویٰ کے ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ آدمیوں کی طرف انتہائی عزت واحترام کے ساتھ بھیجا ۔(سورۃ الصافات ، 147-148)


حضرت یونس علیہ السلام کا اصل نام "یونس بن متی" ہے اور انہیں قرآنِ کریم میں "ذوالنون" کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ حضرت یونس کا واقعہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے توبہ، امید اور اصلاحِ نفس کی ایک بے نظیر مثال ہے۔

​اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا جو بت پرستی اور گناہوں میں غرق تھی۔ آپ نے طویل عرصے تک انہیں دعوتِ حق دی، مگر انہوں نے حق کو جھٹلا دیا۔ جب قوم مسلسل نافرمانی پر اڑی رہی، تو حضرت یونس علیہ السلام ناراض ہو کر بستی سے نکل گئے۔ آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا ۔​قرآنِ پاک اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ الانبیاء، 87)

​آزمائش کا سفر اور اصلاحی پہلو :​حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ کے حکم سے ایک عظیم مچھلی نے نگل لیا۔​مچھلی کے پیٹ کی اس تاریکی، سمندر کی گہرائی کے عالم میں حضرت یونس علیہ السلام نے کائنات کے سب سے بڑے سچ کا اقرار کیا اور اپنی اس خطائے اجتہادی پر اللہ کے حضور سچی توبہ پیش کی:

لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء، 87)

​اس دعا (آیتِ کریمہ) میں ہمارے لیے سب سے بڑا اصلاحی سبق یہ ہے کہ جب انسان اپنی غلطی کا اعتراف کر کے خود کو قصوروار مان لیتا ہے، تو اللہ کی رحمت متحرک ہو جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور مچھلی کے پیٹ سے نجات دی:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء: 88)

​اس واقعے سے ہماری زندگی کے لیے چند اصلاحی پیغامات :

(1) صبر اور استقامت (جذبات میں جلد بازی سے گریز): نیکی کی دعوت ہو یا روزمرہ کی زندگی، حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں، انسان کو کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور نہ ہی اللہ کے حکم اور مصلحت سے پہلے کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔ غصے یا جذبات میں لیا گیا فیصلہ اکثر آزمائش کا سبب بن جاتا ہے۔

(2)اعترافِ جرم اور توبہ :آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہوتے اور دوسروں پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام کے اسوۂ حسنہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب بھی کوئی پریشانی آئے، تو دوسروں کو کوسنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا چاہیے۔

(3)امید کا دامن نہ چھوڑنا :انسان کے حالات مچھلی کے پیٹ جیسے تاریک اور دم گھٹنے والے ہی کیوں نہ ہو جائیں، جہاں بظاہر بچنے کا کوئی راستہ نظر نہ آ رہا ہو، وہاں بھی اللہ کی رحمت پر یقین رکھنا چاہیے۔ اگر پکار سچی ہو، تو اللہ سمندر کی گہرائیوں سے بھی نجات کا راستہ نکال دیتا ہے۔

(4)قوموں کی اصلاح اجتماعی توبہ میں ہے :جب حضرت یونس علیہ السلام دوبارہ اپنی قوم کی طرف لوٹے، تو انہوں نے سچے دل سے توبہ کی اور اللہ ان پر مہربان ہو گیا۔ قرآن کہتا ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(یونس:98)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی معاشرہ مجموعی طور پر اپنے گناہوں سے تائب ہو جائے، تو عذاب بھی رحمت میں بدل جاتا ہے۔

​حضرت یونس علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کتنا ہی نیک یا برگزیدہ کیوں نہ ہو، وہ اللہ کی رحمت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ آیتِ کریمہ محض مصیبت ٹالنے کا وظیفہ نہیں، بلکہ اپنے اندر عاجزی پیدا کرنے اور انا کو ختم کرنے کا ایک اعلامیہ ہے۔آج ہمیں بھی ضرورت ہے کہ ہم اس واقعے کی روشنی میں اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔​اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید کے ان اصلاحی پہلوؤں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔


قرآن پاک اللہ تعالی کی عظیم الشان کتاب ہے اس کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیارے حبیب  ﷺ پر نازل فرمایا ہے اور یہ کتاب گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اس میں اللہ تعالی نےہمیں احکام بیان فرمائے اور گزشتہ انبیاء کرام کی امتوں کے احوال بیان فرمائے ہیں اور بعض انبیاء کرام علیہ الصلوۃ والسلام کا تذکرہ صراحتا نام کے ساتھ ذکر فرمایا ہے جن میں سے ایک حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام ہیں۔

آپ علیہ السلام کا اسمِ گرامی یونس بن متی ہے اور لقب ذو النون اور صاحب الحوت ہے ۔ آپ علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا البتہ وحی کے ذریعے بعض احکام نازل ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)

جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(یونس:98)

حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی سفر اور مچھلی کا نگلنا:حضرت یونس علیہ السلام کو اپنی قوم کی توبہ معلوم نہیں تھی اور جب دیکھا کہ قوم کو عذاب آنے کی جو خبر دی تھی اس میں تاخیر ہوگئی ہے تو آپ علیہ السلام اپنی قوم کے کفر پر غضب ناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وہاں سے ہجرت کے ارادے سے چلے گئے اور دریائی سفر اختیار فرمایا اور کشتی میں سوار ہوگئے اور جب کشتی بیچ میں جا کر رک گئی تو ملّاحوں نے کہا کہ اس کشتی میں اپنے آقا سے بھاگا ہوا ایک غلام بھی موجود ہے پھر جب قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ علیہ السلام کا نام مبارک نکل آیا تو کشتی والوں نے آپ علیہ السلام کو پانی میں ڈال دیا اور آپ کو ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اس وقت آپ علیہ السلام اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی ۔مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو الہام فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو تیرے لیئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لیے قید خانہ بنایا ہے لہذا تم نہ ان کی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا ۔(روح البیان سورۃ الصافات آیت نمبر 142)

اس واقعے کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان آیات میں بیان فرمایا ہے :

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(صافات:139تا142)

ان واقعات و روایات سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو شریعت اور احکام لے کر تشریف لائے اس پر ہم سب کو ایمان لانا لازم ہوتا ہے جو احکام ہمارے لئے سراپا رحمت اور راہِ ہدایت کے امیں ہوتے ہیں اور نبیاء کرام علیہم السلام کی بات نہ ماننے کی صورت میں ہم عذاب کے مستحق ہوسکتے اور دوسرا سبق یہ ملا کہ ہم سے جب بھی کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو ہمیں اللہ تعالیٰ سے فوراً معافی طلب کر لینی چاہئے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے بخش دے گا جیسے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کو بخشش دیا اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پاک پر عمل کرنے اور شریعت کا دامن تھامے رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔