آئیے قرآن مجید کے تحت آپ علیہ السلام کا ذکر خیر کرتے ہیں:

( 1) حضرت یونس علیہ السلام رسولوں میں سے ہیں: وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ (سورۃ صافات، آیت 139)

( 2) آپ کی قوم کی تعداد:وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ (سورۃ صافات، آیت 147)

( 3) قوم کی نافرمانی کے باعث آپ کا بستی سے تشریف لے جانا:اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ صافات، آیت 140)

( 4) مچھلی کا آپ کو نگل لینا:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ صافات، آیت 142)

جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۲، ۷ / ۴۸۷، ملخصاً)

( 5) تسبیح کی برکت سے مچھلی کے پیٹ سے باہر نکل آنا:

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃ صافات، آیت143 تا 145)

حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا مانگی: ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور جو مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔( ابن عساکر، حرف السین فی آبائہم، عمر بن سعد بن ابی وقاص۔۔۔ الخ، ۴۵ / ۳۸) ۔

اللہ پاک سے دعا ہے آپ جیسی برگزیدہ ہستیوں کے وسیلے سے ہماری بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔


اللہ عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا اور ان کی پشت سے قیامت تک آنے والی تمام ارواح کو نکال کر ان سے عہد لیا اور فرمایا: "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" سب نے اقرار کیا: "ہاں، تو ہی ہمارا رب ہے۔"پھر اللہ نے نسلِ انسانی کو حضرت آدم علیہ السلام کی صلب سے جاری کیا۔ انسان کو دنیا میں بھیجنے کے بعد اللہ نے ہدایت کے لیے انبیاء و رُسُل بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگ کفر کے اندھیروں سے نکل کر ایمان کی روشنی کی طرف آئیں۔ان انبیاء میں حضرت یونس علیہ السلام بھی شامل ہیں، جنہیں اللہ نے نینویٰ کی بستی کی طرف بھیجا، جو موصل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے واقع تھی۔ آپ کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا:ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔(صافات:139)

آپ کا نام یونس بن متی ہے آپ حضرت ھود علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔

حضرت یونس علیہ السلام پر کسی آسمانی کتاب یا صحیفوں کا نزول نہیں ہوا بلکہ وحیِ الٰہی کے ذریعے مختلف احکامات آپ علیہ السلام پر نازل ہوتے جو آپ اپنی قوم تک پہنچاتے تھے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳) ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (سورۃ النساء، پارہ 4، آیت 163)

حضرت یونس علیہ السلام کا نیکی کی دعوت دینا:

قرآنِ کریم میں ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸) ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ11، یونس، آیت 98)

اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کی گئی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟

امام فخر الدین رازی اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے، وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ 98، 335/2-336 ملتقطاً)

اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (صافات:139تا 142)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا جیسے دریا کی تاریکی، رات کی تاریکی، مچھلی کے پیٹ کی تاریکی۔ ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے، بے شک مجھ سے خطا ہوئی کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔

قرآن پاک میں اللہ عزوجل نے اس کا ذکر فرمایا:وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17، الانبیاء، 87)

اللہ عزوجل نے حضرت یونس علیہ السلام کی پکار سن لی اور ان کی دعا کو شرفِ قبولیت سے نوازا چنانچہ انہیں تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات دلائی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے لا کر اپنے پیٹ سے نکال دیا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔(صافات:143،44)

مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف آوری:مچھلی نے اللہ کے حکم سے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے آکر پیٹ سے نکال دیا اور وہاں کوئی سایہ نہیں تھا تو اللہ پاک نے سایہ کرنے اور مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس علیہ السلام کے دہنِ مبارک میں دے کر آپ کو صبح شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ آپ کے جسمِ مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔ (خازن، الصافات، تحت الآیۃ 146، 27/4)

حضرت يونس علیہ السلام کی قوم میں تشریف آوری:جب حضرت یونس علیہ السلام صحت مند ہوئے، تو ربِ کریم نے آپ کو دوبارہ سرزمینِ موصل (نینویٰ) کے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ چونکہ وہ عذاب کے آثار دیکھ کر پہلے ہی تائب ہو چکے تھے، اس لیے آپ کی تشریف آوری پر سب کے سب آپ علیہ السلام پر ایمان لائے اور الٰہی رحمتوں سے فیضیاب ہوئے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔ (الصافات: 147-148)


آپ کا نام پاک یونس بن متیٰ ہے اور چونکہ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اسی وجہ سے آپ کو "ذوالنون“ اور "صاحب الحوت“(یعنی مچھلی والے) بھی کہا جاتا ہےاور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں۔ (سیرت الانبیاء، ص491،مکتبۃالمدینہ)

حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(صافات:139)

حضرت یونس علیہ السَّلام حضرت ہود علیہ السَّلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینویٰ کے نبی تھے جو موصَل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السَّلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحیدِ باری تعالیٰ کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السَّلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ علیہ السَّلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذابِ الٰہی کی خبر دی اور خود وہاں سے باہر تشریف لے گئے۔ قوم نے علاماتِ عذاب کا مشاہدہ کرکے بارگاہِ الٰہی میں توبہ کرلی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔(تفسیر صراط الجنان،سورۃ صافات آیت139)

حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی سفر اور مچھلی کا نگلنا :

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) ترجمۂ کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔( سُورۃ صفات،آیت140تا 142)

حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہیں تھے اور جب انہوں نے دیکھا کہ قوم کو عذاب آنے کی جو خبر دی تھی اس میں تاخیر ہوگئی ہے تو آپ علیہ السلام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پراِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔

جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔(سیرت الانبیاء،ص495،مکتبۃالمدینہ)

یہاں ایک اہم بات قابلِ توجہ ہےعلامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔

(سیرت الانبیاء، ص496 ، مکتبۃ المدینہ)

مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف آوری:جب حضرت یونس علیہ السلام نے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکال کر زمین میں ڈال دیا اور مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ علیہ السلام ایک کمزور، دبلے پتلے اور نازک ہوگئے تھے۔ جیسے بچہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے، آپ علیہ السلام کے جسم کی کھال نرم ہوگئی تھی اور بدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔

مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت:حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ اسی دن یا 3 دن یا 7دن یا 20 دن یا 40 دن کے بعد آپ مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے۔

(سیرت الانبیاء،ص 499،مکتبۃ المدینہ)

قومِ یونس کی توبہ اور رفعِ عذاب:نزول عذاب کی خبر سن کر لوگوں نے آپس میں کہا: حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(سیرت الانبیاء،ص493،94، مکتبۃ المدینہ)


اللہ تعالی نے نوع انسانی کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر زمانے کے مطابق مختلف انبیاء کرام علیھم السلام کو مبعوث فرمایا اور ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ۔ یہی وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اللہ ﷻ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوۓ لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے نور کی طرف منتقل کیا اور شریعت کے احکام سکھاۓ ۔ انہیں پاکیزہ ہستیوں میں سے ایک ہستی حضرت یونس علی نبینا و علیہ الصلوة والسلام کی ذاتِ پاک ہے جنہیں اللہ تعالی نے بستی نینویٰ کی طرف مبعوث فرماۓ ۔

قرآن کریم میں کئی مقامات پر حضرت یونس اور ان کی قوم کا ذکر ہوا ۔

حضرت یونس اور ان کی قوم :اللہ ﷻ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔( پارہ 11 ، سورۃیونس ، آیت 98 )

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم موصل کے علاقے نینویٰ میں رہتے تھے ۔ اور کفر و شرک میں مبتلا تھے ۔ اللہ ﷻ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار اور حضرت یونس علیہ السلام کی تکذیب کی راہ پر گامزن رہے ۔ طویل عرصے تک پوری کوشش کے باوجود جب لوگ راہِ راست پر نہ آۓ تو آپ علیہ السلام نے بارگاہِ الہی میں دعا کی : اے اللہ قوم مجھے جھٹلانے پر ہی قائم ہے پس تو ان پر عذاب نازل کر دے اس پر ان سے فرمایا گیا آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو جاۓ گا چنانچہ آپ علیہ السلام نے ان کو عذاب کی خبر دے دی ۔( صراط الجنان تحت الآیۃ :98 )

اسی طرح جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کی مخالفت دیکھی تو وہ اللہ ﷻ کی اجازت کے بغیر ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل گئے وہ ایک کشتی میں سوار ہوۓ لیکن جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ پھر جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قرعہ کے بعد دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔

مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کوکاٹنایہ واقعہ قرآن پاک کی ان آیات کے تحت ملتا ہے :

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (صافات:139تا142)

اسی طرح کے واقعات کا ذکر قرآن مجید فرقانِ حمید میں موجود ہے جو آپ علیہ السلام اور آپ کی قوم کے احوال ، آپ علیہ السلام کی قوم کو دین کی دعوت دینے ، آپ کے صبر واستقامت کی عکاسی کرتے ہیں اللہ ﷻ ہمیں ان کی سیرت کو اپناتے ہوۓاور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوۓ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینے کی توفیق نصیب فرماۓآمین بجاہ خاتم النبیّین ﷺ۔


قارئین کرام! بلاشبہ انبیاء کرام علیھم السلام کی سیرت زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ ہوتی ہے۔ انہی انبیاء کرام علیھم السلام میں سے مشہور نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں۔ آپ علیہ السلام کا نام "یونس بن متّٰی" ہے اور لقب "ذو النون" اور "صاحب الحوت" ہے۔ ان دونوں القاب کا معنیٰ "مچھلی والے" ہے چونکہ آپ کو مچھلی نے نگل لیا تھا اس لیے آپ کا یہ لقب ہوا۔ آپ کا لقب "ذو النون" قرآن میں ذکر ہوا ہے۔

تو اللہ ﷻ نے قرآن میں فرمایا: فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 88)

حضرت یونس علیہ السلام کی یہ دعا تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہی چنانچہ حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’کیا میں تمہاری اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کی طرف رہنمائی نہ کروں جس کے ساتھ جب بھی دعا کی جائے تو وہ قبول ہوجائے اور جب سوال کیا جائے تو عطا ہوجائے، وہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو انہوں نے اندھیروں میں تین بار کی تھی۔ ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ﷺ! ، یہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا’’وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں۔(مستدرک ، کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔ الخ ، 2 / 183 ، الحدیث: 1908)

واقعہ حضرت یونس علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اسباق: حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے کئی سبق سیکھنے کو ملتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

(1) ہر کام میں اللہ ﷻ کے حکم کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

(2)مشکلات میں مایوس ہونے کی بجائے اللہ کی رحمت سے اُمید رکھنی چاہیے۔

(3) ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔

(4) ذکر الٰہی سے دل کو سکون ملتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں انبیاء کرام علیھم السلام کی سیرت پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔


حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور عظیم پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے مختلف ادوار میں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو دنیا میں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام پہنچائیں اور انہیں نیکی اور بھلائی کی طرف بلائیں۔ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ میں گزاری اور لوگوں کو سیدھے راستے پر چلنے کی دعوت دی۔ قرآنِ مجید میں کئی انبیاءِ کرام کے واقعات بیان کیے گئے ہیں تاکہ لوگ ان کے حالات سے نصیحت حاصل کریں۔ انہی عظیم انبیاء میں حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام بھی شامل ہیں جن کا ذکر قرآنِ پاک میں کئی مقامات پر آیا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (صافات:139،140)

تفسیر صراط الجنان : حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کا نام یونس بن متیٰ تھا۔ آپ حضرت ہود عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سے تھے۔ آپ کا لقب ذُو النُّون اور صاحبُ الحوت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نینویٰ نامی بستی کی طرف نبی بنا کر بھیجا جو موصل کے علاقے میں دریائے دجلہ کے کنارے واقع تھی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم کو کئی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور بت پرستی چھوڑنے کی دعوت دی۔ آپ نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے، لیکن قوم نے آپ کی بات قبول نہ کی اور مسلسل نافرمانی کرتی رہی۔

حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے تقریباً چالیس سال تک اپنی قوم کو تبلیغ کی مگر وہ لوگ ایمان نہ لائے۔ آخرکار اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے اپنی قوم کو خبر دی کہ اگر انہوں نے اپنی نافرمانی سے توبہ نہ کی تو ان پر عذاب نازل ہوگا۔ جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے تو قوم خوفزدہ ہوگئی اور انہوں نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور ان سے عذاب ٹال دیا۔

حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم کی مسلسل نافرمانی سے بہت رنجیدہ تھے۔ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو آپ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے پہلے ہی وہاں سے روانہ ہوگئے۔ آپ ایک بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوگئے تاکہ دوسری جگہ ہجرت کرسکیں۔ جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو اچانک رک گئی۔ ملاحوں نے کہا کہ کشتی میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو اپنے مالک سے بھاگ کر آیا ہے۔ انہوں نے قرعہ اندازی کی تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ شخص کون ہے۔ قرعہ اندازی میں حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کا نام نکلا۔حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ شخص ہوں۔ چنانچہ آپ دریا میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا لیکن اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ نہ آپ کے جسم کو نقصان پہنچائے اور نہ ہڈیوں کو توڑے۔ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام مچھلی کے پیٹ میں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے۔ وہاں انہوں نے انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی:

’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔

یہ دعا بہت عظیم دعا ہے۔ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی، اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور عاجزی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں کنارے پر پہنچا دے۔ جب حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے تو آپ بہت کمزور ہوچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے آرام کے لیے ان پر کدو کی بیل اگا دی تاکہ انہیں سایہ اور غذا مل سکے۔بعد میں حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام دوبارہ اپنی قوم کی طرف تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ان کی قوم ایمان لاچکی ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اختیار کرلی تھی اور برائیوں سے توبہ کرلی تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کو کامیابی عطا فرمائی۔

حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا جو مسلمان مانگے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔

حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کے واقعے سے ہمیں بہت سے اہم اسباق ملتے ہیں۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے اور سچی توبہ کرنے والوں کو معاف فرماتا ہے۔ اگر انسان مشکل اور پریشانی کے وقت اللہ تعالیٰ کو اخلاص کے ساتھ پکارے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے مچھلی کے پیٹ میں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اسی سے مدد مانگی۔ اس واقعے سے ہمیں صبر، دعا، ذکرِ الٰہی اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے کا درس ملتا ہے۔


اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کو ہدایت دینے کے لیے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہر نبی اپنی امت میں آ کر ان کو اللہ عزوجل کی وحدانیت کا درس دیتا رہا انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام میں سے ایک اللہ کے خاص نبی حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام ہیں حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق قرآن کی پانچ آیات پڑھنے کے ساتھ حاصل کرتے ہیں۔

(1) وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ (پارہ7،سورۃ انعام، آیت نمبر 86)

(2) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (پارہ 23، سورۃ الصافات ،آیت نمبر 139 )

(3) فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پارہ 11، سورۃ یونس، آیت نمبر 98)

(4) اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ نمبر 6، سورۃ النساء، آیت نمبر 163)

(5) فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (پارہ 29، سورۃ القلم، آیت نمبر 48 تا 50)

اللہ تعالی ہمیں ان آیات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ خاتم النبیینﷺ۔


حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔ آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) ہے ۔ آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آۓ ، تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے ۔ قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارہ گاہ الٰہی میں سچی توبہ کرلی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا ۔

(1) نزول احکام:حضرت یونس علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا ، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام پر بعض احکام نازل ہوئے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پ 6 ، سورة النساء ، آیت 163)

(2) انعامات الٰہی :اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی ۔ آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا ۔ مچھلی کے پیٹ میں بھی توجہ الی اللہ ، رضا بالقضاء اور ذکر الٰہی توفیق بخشی ۔ خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی ۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلی درجہ عطا فرمایا ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔ اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔ تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ ( پ 29 ، سورة القلم ، آیت 48.49.50 )

(3) قوم پر عذاب نہیں آیا:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ ( پ 11 ، سورة یونس ، آیت 98)

(4) حضرت یونس علیہ السلام کی دعا :وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ ( پ 17 ، سورة الانبیاء ، آیت 87 )

(5) تسبیح کی اہمیت اور مچھلی کے پیٹ سے نکلنا :فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (پ 23 ، سورة الصفت ، آیت 143.144.145)

حضرت یونس علیہ السلام کی دل ہلا دینے والی مصیبت اور مشکلات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو کس کس امتحان میں ڈالتا ہے ہے ۔ لیکن جب بندے امتحان میں پڑ کر صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑتے اور عین بلاؤں کے طوفان میں بھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تو ارحم الراحمین اپنے بندوں کی نجات کا غیب سے ایسا انتظام فرما دیتا ہے کہ کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔


حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں نہایت محبت اور حکمت کے ساتھ کیا گیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو" ذوالنون" بھی کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں مچھلی والے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعے کے ذریعے انسانوں کو یہ سبق دیا کہ اگر بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے تو اللہ تعالی ہر مشکل آسان فرما دیتا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کو توحید نیکی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی لیکن قوم نے ابتدا میں آپ کی بات ماننے سے انکار کیا۔

حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی صبر،توبہ،دعا اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کا خوبصورت نمونہ ہے۔ ان کا واقعہ قرآن پاک کے ان عظیم واقعات میں شامل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور معافی کی امید دلاتے ہیں۔

قرآن پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکرمختلف مقامات پر آیا ہے۔ان کی طرح ان کا واقعہ قرآن پاک کے ان عظیم واقعات میں شامل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور معافی کی امید دلاتے ہیں۔

(1) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(صافات:142)

(2) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(صافات:139)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا: لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(انبیاء:87)

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہر مسلمان کے لیے نصیحت اور ہدایت کا خزانہ ہے۔ اس واقعے سے ہمیں صبر برداشت دعا اور اللہ تعالیٰ پر یقین کا درس ملتا ہے۔ انسان زندگی میں کتنی ہی مشکلات میں کیوں نہ آ جائے اسے کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت یونس علیہ السلام کی سیرت سے سبق حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو نیکی صبر اور دعا سے روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


قرآن مجید صرف احکام و قوانین کی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ ہدایت و عبرت کا ایک ایسا سرچشمہ ہے جو انسانوں کو رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ماضی کے انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو بہترین اسلوب میں بیان کرتا ہے۔ ان ہی جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک حضرت یونس علیہ السلام ہیں، جن کا ذکر قرآن کریم میں نہایت سبق آموز اور منفرد انداز میں کیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام کا واقعہ انسان کو مایوسی کےاندھیروں سے نکال کر امیدِ الٰہی کی روشن شاہراہ پر گامزن کرتا ہے۔ قرآن مجید میں آپ کا تذکرہ جہاں ایک مصلح کی ذمہ داریوں کو واضح کرتا ہے، وہاں توبہ کی قبولیت اور اللہ کی بے پایاں رحمت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔

قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ:قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر مختلف مقامات پر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی دسویں سورت کا نام ہی آپ کے نام پر "سورۃ یونس" رکھا۔ اس کے علاوہ آپ کا تذکرہ سورۃ الانبیاء، سورۃ الصافات اور سورہ القلم میں بھی ملتا ہے۔

قرآن مجید میں آپ کو دو خاص القاب سے بھی نوازا گیا ہے:

(1)ذو النون: (مچھلی والے) (2)صاحب الحوت: (مچھلی کے ساتھی)

دعوتِ حق اور قوم کی سرکشی:حضرت یونس علیہ السلام کو عراق کے مشہور شہر نینویٰ کے لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا تھا، جن کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ اس قوم نے شرک اور بت پرستی کو اپنا رکھا تھا۔ آپ علیہ السلام نے طویل عرصے تک انہیں حق کی دعوت دی، مگر قوم اپنی سرکشی اور ضد پر اڑی رہی۔جب قوم کی طرف سے مسلسل انکار سامنے آیا، تو اللہ کے حکم سے آپ نے انہیں عذاب کی وعید سنائی۔ تاہم، مصلحتِ الٰہی کے حتمی اشارے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام شدید رنجیدہ ہو کر بستی سے رخصت ہو گئے۔

قرآن مجید کی رو سے، حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی یہ انفرادی خصوصیت ہے کہ عذاب کی نشانیاں دیکھنے کے بعد جب انہوں نے سچے دل سے توبہ کی، تو اللہ نے ان کا عذاب ٹال دیا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃیونس:98)

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء: 87)

اللہ تعالیٰ نے اس مخلصانہ توبہ کو فوری قبول فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ساحل پر اگل دے۔

رب تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے خالق ومالک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔


اللہ عزوجل نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار(124000) انبیاء کرام مبعوث فرمائے جن میں سے 313 رسول ہیں اور ان میں سے اللہ عزوجل کے ایک جلیل القدر نبی اور رسول حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔

حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:

نام: آپ کا نام "یونس بن متٰی" ہے۔القاب: ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) نسب: آپ حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

قرآن پاک میں تذکرہ: قرآن پاک میں آپ کا نام مبارک 4 بار ذکر کیا گیا ہے۔اور آپ کا تفصیلی تذکرہ درج ذیل چار سورتوں میں آیا ہے۔(1)سورۃ یونس آیت 98 (2) سورۃ انبیاء آیت87،88

(3)سورۃ صافات آیت 139تا148 (4)سورۃ قلم آیت 48تا50

حضرت یونس علیہ السلام کا مختصر واقعہ: حضرت یونس علیہ السلام بستی نینویٰ کے نبی تھے جو موصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی آپ علیہ السلام نے 40 سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور شرک سے باز نہ آئے تو اب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہ الٰہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔

حضرت یونس علیہ السلام کا سفر:جب آپ نے قوم کے عذاب میں تاخیر دیکھی تو اپنی قوم کے کفر پر غضبناک ہو کر اللہ کا حکم آنے سے پہلے ہی ہجرت کی ارادے سے چل دیے آپ بھری کشتی میں سوار ہوئے جب کشتی درمیان میں پہنچی تو ٹھہر گئی ملاحوں نے کہا کہ اس کشتی میں اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام ہے انہوں نے قرعہ اندازی کی تو آپ کا نام نکلا تو انہوں نے آپ کو پانی میں ڈال دیا مگر اللہ کی قدرت کہ ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ صافات آیت 139 تا 142 )

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا اور قبولیت: آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا دریا کی تاریکی، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی تو آپ نے اللہ عزوجل سے دعا :

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ انبیاء آیت 87)

اللہ عزوجل نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا سن لی اور اسے شرف قبولیت سے نوازا چنانچہ ارشاد فرمایا:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔(سورۃانبیاء،88)

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃصافات آیت 145)

اب اس میدان میں نہ کوئی سایہ تھا نہ کھانے پینے کی کوئی چیز تو اللہ نے وہاں ایک کدو کا پیڑ اگا دیا اور روزانہ اللہ کے حکم سے ایک بکری آتی اور اپنا تھن آپ کے منہ مبارک میں دے کر آپ کو صبح شام دودھ پلاتی حتی کہ آپ کی کھال مضبوط ہوئی اور جسم میں توانائی آئی۔ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ ( سورۃ صافات آیت 146)

اس کے بعد اللہ عزوجل نے آپ کو آپ کی قوم کی طرف واپس بھیجا اور آپ کی قوم آپ پر ایمان لے آئی۔

حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے ملنے والے اسباق:

(1)اللہ عزوجل کے احکام کو ہر کام میں مد نظر رکھنا چاہئے۔

(2)مشکلات میں مایوسی کی بجائے اللہ عزوجل سے رحمت کی امید رکھنی چاہیے۔

(3)ہر حال میں ذکر الہی کرنا چاہیے۔

(4)کاموں میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔

اللہ عز وجل ہمیں انبیاء کرام کی سیرت پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ خاتم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم۔


اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر حضرت یونس علیہ السّلام کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آپ علیہ السّلام اللہ کے جلیل القدر نبی تھے جنہیں نینویٰ کی قوم کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ قرآنِ کریم میں آپ کی دعوت، قوم کا رویہ، آپ پر آنے والی آزمائش، مچھلی کے پیٹ میں جانا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرنا اور پھر نجات پانا تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (سورۃ الصافات: 139)

تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت ہے کہ حضرت ابن عباس اور وہب کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا اس میں تاخیر ہوئی تو آپ ان سے چھپ کر نکل گئے اور آپ نے دریائی سفر کا قصد کیا کشتی پر سوار ہوئے دریا کے درمیان میں کشتی ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی سبب ظاہر موجود نہ تھا ملاحوں نے کہا اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ ڈالنے سے ظاہر ہو جائے گا، قرعہ ڈالا گیا تو آپ ہی کے نام نکلا، تو آپ نے فرمایا: میں ہی وہ غلام ہوں اور آپ پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی ۔

جب قوم نے مسلسل انکار کیا تو حضرت یونس علیہ السّلام ناراض ہو کر بستی سے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ الانبیاء: 87)

تفسیر صراط الجنان میں بیان کیا گیا ہے کہ ” ذَا النُّوْنِ“ حضرت یونس علیہ السّلام کا لقب ہے، جس کا معنی “مچھلی والے" ہے۔ آپ اپنی قوم کے مسلسل انکار کی وجہ سے رنجیدہ ہوکر روانہ ہوئے۔

پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصافات: 142)

پھر حضرت یونس علیہ السّلام نے مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و استغفار کی اور اپنی عاجزی کا اظہار فرمایا۔

قرآنِ مجید میں آپ کی مشہور دعا بھی ذکر کی گئی ہے:لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء: 87)

اسی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السّلام کو نجات عطا فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء: 88)

قرآنِ کریم میں حضرت یونس علیہ السّلام کو"ذَا النُّوْن" اور "صَاحِبُ الْحُوْت" جیسے القابات سے یاد کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعے کے ذریعے صبر، عاجزی، رجوع الی اللہ اور دعا کی اہمیت کو واضح فرمایا۔ ارو حضرت یونس علیہ السّلام کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ بندہ مشکلات اور آزمائشوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور کبھی اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔