اسلام کا سب سے بنیادی عقیدہ توحید ہے ، جتنی تاکید عقیدہ توحید کے متعلق قرآن وحدیث میں ہمیں ملتی ہے وہ کہیں اور نہیں ملتی، اور رسول پاک ﷺ اور تمام انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ معبودان باطلہ سے لوگوں کو نجات دلا کر اس ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف متوجہ کریں ، اس لئے جب ہم کتب احادیث کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ہمیں احادیث کا ایک ذخیرہ ملتا ہے جو اللہ کی عبادت کی طرف متوجہ کرتا اور معبودان باطلہ کی نفی کرتا ہے اور نہ صرف نبی پاک ﷺنے ہمیں دعوت توحید دی بلکہ اس پر خوب برانگیختہ کیا اور فرمایا :مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ”جس شخص نے یہ اقرار کیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ پھر وہ اسی پر فوت ہو گیا۔ تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (متفق عليه، رواه البخاري کتاب اللباس باب: الثياب البيض رقم 5827 ص: 1473 مکتبہ دار ابن کثیر۔ و مسلم کتاب الایمان باب من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة، ومن مات مشركا دخل النار. رقم: 94 ناشر: بیت الافکار الدولیہ)

اور جن لوگوں پر حق واضح ہوگیا اور انہوں نے توحید کے دلائل دیکھ لئے اور ایمان نہیں لاتے تو ان لوگوں کے لئے رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور مجھ پر اور اس دین پر ایمان لائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔ پھر جب وہ ایسا کرلیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہوجائیں گے، مگر حقِ اسلام کے مطابق (کسی شرعی سبب کی صورت میں)، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔”(صحیح مسلم کتاب الایمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله محمد رسول اللہ رقم الحدیث 21، بیت الافکار الدولیہ )

توحید ہے کیا اس کے متعلق امام بدر الدین عینی لکھتے ہیں " توحید اصل میں وحد سے بنا ہے جس کا معنی ہے میں نے اللہ کو ایک مانا یعنی میں اعتقاد رکھتا ہوں کہ وہ اپنی ذات وصفات میں منفرد ہے جس کی کوئی نظیر نہیں۔ (عمدۃ القاری جلد25, ص81)

جس طرح اللہ کی ذات میں شریک ماننے سے شرک لازم آتا ہے ایسے ہی اسکی صفات میں بھی غیر کی شرکت ماننے سے شرک لازم آتا ہے۔

اقسام توحید :علمائے کرام نے توحید کی تین اقسام ذکر کی ہیں:

(1)توحید ربوبیت (اللہ کا خلق، ملک اور تدبیر میں واحد و یکتا ہونا)

(2) توحید صفات (اللہ اپنے اسماء و صفات میں تنہا ہے)

(3) توحید الوہیت (معبود برحق صرف اللہ ہے) احادیث میں ان تینوں اقسام کو بیان کیا گیا ہے

توحید الوہیت :توحید الوہیت کو نبی پاک ﷺ نے واضح ارشاد فرمایا اور اپنے جان نثار صحابہ کو حکم دیا کہ علی الاعلان اللہ کی وحدانیت کو بیان کریں " ابن عباس کے غلام ابو معبد کہتے ہیں میں نے ابن عباس کو فرماتے سنا " جب نبی پاک ﷺ نے حضرت معاذ کو یمن روانہ کیا تو ان سے فرمایا بے شک تم اہل کتاب کی ایک قوم کی طرف جاؤ گے فَلْيَكُنْ أَوَّلُ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى، فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ۔ پس سب سے پہلے تم ان کو اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں تو جب وہ اسے مان لیں تو انہیں خبر دینا کہ اللہ نے ان پر دن رات پانچ نمازیں فرض کی ہیں الخ (بخاری کتاب التوحید باب: ما جاء في دعاء النبي صلى الله عليه وسلم أمته إلى توحيد الله تبارك وتعالى رقم7371،7372 ص:1820 مکتبہ دار ابن کثیر)

حضرت معاذ کو حکم دیا گیا کہ یہود کو توحید کی طرف بلائیں حالانکہ وہ اہل کتاب میں سے تھے اللہ کو خدا مانتے تھے لیکن حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اگرچہ غیر اللہ کی عبادت نہ کرتے لیکن خدائی (رب ہونے) میں خدا کا شریک ٹھہراتے(یعنی توحید الوہیت میں شریک نہیں ٹھہراتے تھے مگر توحید ربوبیت ضرور شریک ٹھراتے تھے) جیسے قرآن نے بیان کیا " وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ ابْنُ اللّٰهِ ترجمہ کنز الایمان:اور یہودی بولے عزیر اللہ کا بیٹا ہے (سورۃ توبہ آیت 30)

اس لئے فرمایا کہ توحید کا اقرار کرانا اور اللہ کی عبادت کی طرف بلانا تاکہ غیر کی نفی ہو جائے۔

توحید ربوبیت (خلق، تدبیر، تکوین میں تنہا ماننا)اور جب تو حید ربوبیت کو بیان فرمایا تو اس بات کی طرف اشارہ دلایا کہ اس کی قدرت و ملکیت کا انکار اس کی ذات کا انکار ہے عن ابي هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله علیه وسلم قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي، وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ۔ ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:“ابنِ آدم نے مجھے جھٹلایا، حالانکہ اسے اس کا حق نہ تھا، اور اس نے مجھے برا کہا، حالانکہ اسے اس کا حق نہ تھا۔ پس اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: ‘اللہ مجھے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا جیسے اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا حالانکہ پہلی بار پیدا کرنا میرے نزدیک دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں اور اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا لی ہے حالانکہ میں اکیلاہوں بے نیاز ہوں؛ نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا، اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے۔” (مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:20)

یہاں فرمایا کہ دوبارہ پیدا کرنے کا انکار کرنا جو اس کی قدرت خلق ہے یہ درحقیقت اللہ کی تکذیب ہے، واضح اور دوٹوک بیان فرمایا کہ اللہ پر ایمان تب کامل ہے جب اسکی شان خداوندی پر بھی کامل یقین ہو۔

توحید اسماء و الصفات :احادیثِ نبویہ میں توحیدِ اسماء و صفات کا بھی کثرت سے ذکر ملتا ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی دعاؤں کے ذریعے بھی امت کو اللہ تعالیٰ کی عظمت، وحدانیت اور صفاتِ کاملہ کا اقرار سکھاتے تھے۔نبی پاک ﷺ جو دعائیں ارشاد فرماتے وہ تعلیم امت کے لیے ہوتی ان دعاؤں میں بھی آپ امت کو دعوت توحید اور اس پر استقامت کی طرف بلاتے بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے ،عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم کان يقول أعوذ بعزتك الذي لا إلاه إلا أنت الذي لا يموت والجن والإنس يموتونترجمہ: میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ (ذات) جو کبھی نہیں مرے گی، جبکہ جنات اور انسان سب مر جائیں گے۔"(صحيح البخاري کتاب التوحید باب: قول الله تعالى: وهو العزيز الحكيم، رقم الحدیث : 7383 دار ابن کثیر)

اس طرح کی کثیر دعائیں ہیں جن میں آپ نے اللہ کی توحید کا اقرار کیا اور دوسروں کی نفی کی اور توحید کے اقرار کے ساتھ ساتھ اس کی شان و صفات کو بھی بیان فرمایا کہ جن و انس مرجائیں گے مگر تو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

مخالف توحید کیا ہے؟ مذکورہ حدیث میں اللہ کی صفت حیات کو ذکر کیا اور یہ بات شروع میں معلوم ہوئی کہ توحید یہ ہے کہ اس کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے تو یہاں سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ حیات اللہ کی صفت ہے، اگر کسی دوسرے کے لئے مانیں تو کیا یہ شرک ہوگا؟ تو اس کا جواب یہ ہے ہماری جو حیات ہے وہ عارضی اس کی عطا کردہ ہے جب کہ اس کی حیات حقیقی ازلی ابدی ہے(ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گی) اور یہ حقیقی اور عطائی کا فرق ہی ہے جو شرک سے محفوظ رکھتا ہے اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں کثیر مقامات پر شرک کے خطرات سے ڈرایا اور اگر کسی میں صفت عطائی ماننا بھی شرک ہوتی تو نبی پاک ﷺ اس سے بھی تنبیہ فرماتے مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ نبی پاک ﷺ نے بھی صفت عطائی کو ثابت رکھا اور اسے توحید کے مخالف نہیں ٹھرایا جیسے کائنات کا مالک اللہ ہے مگر مجازاً فرمایا زمین اللہ و رسول کی ملک ہے بخاری میں ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا " اعلموا ان الارض لله ورسولہ" یقین جان لو کہ زمین کے مالک اللہ و رسول ہیں۔ (بخاری کتاب الاکراہ باب: في بيع المكره ونحوه، في الحق وغيره رقم:6944 ص:1820)

اور اسی طرح حاجت روائی اللہ کرتا مگر اس کے حکم سے جبریل بھی اور یہ شرک نہیں کیونکہ ان کا حاجت روائی کرنا حقیقی ذاتی نہیں بلکہ عطائی باذن الٰہی کے ہے۔ حدیث پاک میں ہے عن انس بن مالک قال رسول اللّٰہ ﷺ "إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ لِيَدْعُوا اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : لِجِبْرِيلَ لَا تُجبُهُ فإني أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ وَ إِذَا دَعَاهُ الْفَاجِرُ، قَالَ يَا جِبْرِيلُ : أَقْضِ حَاجَتَهُ فَإِنِّي لَا أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ.بے شک بندہ مومن اللہ عز وجل سے دعا کرتا ہے تو رب جل و علا جبریل علیہ الصلوة والسلام سے فرماتا ہے اس کی دعا قبول نہ کر، میں اس کی آواز سننے کو دوست رکھتا ہوں اور جب فاجر دعا کرتا ہے۔ رب جل جلالہ فرماتا ہے اے جبریل اس کی حاجت روا ئی کر دے کہ میں اس کی آواز سننا نہیں چاہتا۔ (جامع کبیر جلد2، ص:366, رقم 5747 الازہر الشریف القاہرہ)

اور آج کے پرفتن دور میں ہمیں ضرورت ہے کہ توحید کے معانی و مطالب کو عام کیا جائے اور توحید کا درست تصور لوگوں کو بتایا جائے اور اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں توحید پر استقامت عطا فرمائے اور شرک جیسی نحوست سے محفوظ و مامون فرمائے۔امین بجاء خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم


توحید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اکیلا  تنہا اور یکتا ماننے کے ہیں ۔‎توحید باری تعالی سے مراد اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ اس کی ذات میں اس کا کوئی ہمسر نہیں اور نہ صفات میں اس کا کوئی شریک ہے ۔‎توحید اسلام کی اصل اور بنیاد ہے۔یاد رہے کسی شے کی اصل وہ ہوتی ہے جس پر وہ شے قائم ہو ۔‎گویاکہ قصر اسلام کا ستون توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی پر اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے ۔چونکہ اسلام توحید باری تعالیٰ پر مبنی ہے ۔تو اسی لئے قرآن و سنت میں جا بجا توحید کا ذکر ملتا ہے بلکہ سب کا سب قرآن توحید کے بیان اور اہل توحید کے حقوق اور مدح و ستائش اور اہل شرک کی سزا و جزا اور مذمت کے بیان میں ہے اور احادیث اس سب کی پختگی اور توضیح ہے جو کچھ قرآن کریم نے بیان کیا ۔

‎قرآن کریم میں اللہ تعالی نے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم فرماؤ وہ اللہ ایک ہے اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ سانجھی‎نہ اس کی کوئی نظیر ہے نہ مثل اور نہ ہی ذات و صفات میں اس کا کوئی برابر ہے نہ جوڑ۔‎‎قرآن کریم میں اسی کا بیان ہے :

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔(سورۃ الاخلاص،1تا4)

‎دین اور توحید باری تعالیٰ:‎جیساکہ ماقبل میں ذکر ہوچکا کہ توحید دین کی اساس اور اصل ہے اور تمام عبادات خواہ وہ فرائض ہوں یا مستحبات یعنی اعمال صالحہ ،نماز و روزہ ، حج و زکوٰۃ سبھی کے سبھی فروعیات ہیں، اور جب ہم بغور قرآن و احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ جہاں عبادات، نیک اعمال کی ترغیب اور ان کے انعام کا ذکر کیا ہے تو وہاں توحید و ایمان کو مقدم رکھا گیا ہے ۔‎اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

‎ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(۱۰۷)

‎ترجمہ کنز الایمان:‎ بےشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے۔ (الکہف آیت 107)

‎نبی علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے اسلام کے ستون و ارکان کو بیان کرتے ہوئے توحید باری تعالیٰ پر شہادت کو باقیوں پر اول الذکر رکھتے ہوئے فرمایا ۔

بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ‎یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزیں ہیں اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود بر حق ہے اور نبی ﷺ اسکے بندے اور رسول ہیں ‎نماز کو قائم کرنا ، زکاة و حج کی ادائیگی کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔ (صحیح البخاری حديث 8 ، 89/1)‎

‎بندوں پر اللہ کا حق:‎وعن معاذ رضي الله عنه قال: كنتُ رِدْفَ النبي ﷺ على حمارٍ، ليس بيني وبينه إلا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فقال: يا معاذ! هل تدري ما حقُّ اللهِ على عبادِهِ، وما حقُّ العبادِ على اللهِ قلتُ: اللهُ ورسولُهُ أعلمُ. قال: فإنَّ حقَّ اللهِ على العبادِ أن يعبُدُوه ولا يُشرِكُوا به شيئاً، وحقُّ العبادِ على اللهِ أن لا يُعذِّبَ مَنْ لا يُشركُ به شيئاً فقلتُ: يا رسول اللهِ! أفلا أُبشِّرُ به الناسَ قال: لا تُبشِّرْهُم فيَتَّكِلُوا۔

حضرت معاذ بن جبل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے ایک دراز گوش پر اس طرح سوار تھے کہ ان کے اور نبی علیہ السلام کے درمیان پالان کے لکڑی کے سوا کچھ بھی نہ تھا حضور نے فرمایا کیا جانتے ہو کہ اللہ کا حق بندوں پر اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے ؟ انہوں عرض کی اللہ عزوجل اور اس کا رسول جانیں تو حضور نے فرمایا بیشک بندوں پر اللہ کا حق ہے کہ اسکی عبادت کریں اور اسکے ساتھ کوئی شریک نہ ٹھہرائیں ، اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ کرے اسے عذاب نہ دے ۔(صحیح بخاری شریف ج1 ، 2856)

سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟‎یہی سوال ایک صحابی رسول نے حضورِ انور ﷺ سے پوچھا اور آپ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ۔‎‎حدیث پاک میں ہے:‎قال رجل اي ذنب اكبر عند الله قال ان تدعو لله ندا وهو خلقك

‎یعنی ایک شخص نے حضور اکرم کی بارگاہ میں عرض کی یا رسول اللہ سب سے بڑا گناہ اللہ کے نزدیک کیا ہے ؟‎تو آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کا کوئی شریک ٹہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ۔(صحیح بخاری ج2 : 6811)

‎اور دوسری جگہ بھی حضور اکرم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ،اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ،والدین کی نافرمانی ،جان کا قتل ، جھوٹی قسم بڑے گناہ ہیں ۔(صحیح بخاری ج11: 6675)

‎دو واجب کرنے والی چیزیں: ‎اسی ضمن میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم نے فرمایا ‎دو چیزیں لازم کرنے والی ہیں ‎تو ایک شخص نے عرض کی اے اللہ کے رسول ‎دو چیزیں لازم کرنے والی کیا ہیں ؟

‎تو فرمایا‎جو اللہ کا شریک مانتا ہوا مرگیا وہ آگ میں جائے گا ۔‎اور جو اس طرح مرا کہ کسی کو الله کا شریک نہ ٹھہرایا جنت میں جائے گا۔(مسلم ج1: 151)

‎توحید پر استقامت:‎نبی علیہ السلام کا فرمان جنت نشان ہے جو شخص لا الہ الا اللّٰہ کہے اور اسی پر مرجائے تو جنت میں داخل ہوگا ۔چنانچہ ابو ذر رضی عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں،‎اتيت النبي صلي الله عليه وسلم وعليه ثوب ابيض وهو نائم ثم اتيته وقد استيقظ فقال ما من عبد قال لا اله الا الله ثم مات علي ذلك الا دخل الجنة قلت وان زني وان سرق قال وان زني وان سرق قلت وان زني وان سرق قال وان زني وان سرق قلت وان زني وان سرق قال وان زني وان سرق علي رغم انف ابي ذر‎یعنی حضرت ابو ذر رضی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے۔ کچھ دیر بعد پھر آیا پھر آپ جاگ چکے تھے ۔ آپ نے فرمایا جو بندہ بھی لا الہ الا اللہ کہہ لے اور پھر اسی پر مر جائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔‎ابو ذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اگرچہ زنا و چوری کرے ! آپ نے فرمایا اگرچہ زنا و چوری کرےانہوں نے دوبارہ عرض کی ؛ اگرچہ اس نے زنا و چوری کی ہو۔آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا و چوری کی ہو،‎تیسری مرتبہ استفسار کیا بعد آپ نے فرمایا ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو (یعنی وہ ناپسند ہی کیوں نہ کرے)، اگرچہ وہ زنا و چوری کرے۔(صحیح بخاری5827)

‎اسی مضمون میں سفیان بن عبداللہ ثقفی سے مروی ہے انہوں نے حضور کی بارگاہ اقدس میں عرض کی ،یارسول مجھے اسلام کے بارے ایسی بات بتائیں کہ آپ کے بعد میں وہ کسی سے نہ پوچھوں ،‎تو حضور نے فرمایا ۔کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایاپھر اس پر استقامت رکھو۔(مسلم : ج1: ح62)

آپ نے دیکھا کہ اسلام میں توحید کو کس قدر خصوصیت و اہمیت حاصل ہے۔ یقیناً توحید اسلام کی وہ بنیاد ہے جس کے بغیر اعمال کی عمارت کی کوئی حیثیت نہیں ، اسی توحید کا درس دینے کی خاطر ہی تمام انبیاء و رسل تشریف لائے، اور سب نے لا الہ الالله کا پیغام دیا ، فقط اللہ موجود ہے کے کہنے پر اکتفا و اقتصار نہ کیا ، یہ بھی یاد رہے جہاں تعلیماتِ نبویہ نے ہمیں توحید کی فضیلت و اہمیت سے آشکارا کیا وہاں شرک جیسی مہلک مرض سے بھی متنبہ کیا بایں طور مسلمان و مؤمن کو چاہیے کہ توحید کے علم کو مضبوطی سے تھامے رکھے، شرک و کفر کی ناپاکی سے اپنی دل و ایمان کو صاف رکھے اور آخرت میں رضائے الٰہی و شفاعت مصطفیٰ ﷺ کا حقدار ٹھہرے۔


محمد ساجد(درجہ دورۃالحدیث)

Tue, 27 Oct , 2026
18 minutes ago

توحید باری تعالی اسلام کی بنیاد ہے اس پرایمان لانا مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے ۔جس طرح اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن عظیم میں اپنی وحدانیت کو بیان کیا اسی طرح حضور جان عالم ﷺ نے بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کو واضح فرمایا ہے ۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا :اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے اور ان میں سب سے پہلی چیز یہ بیان کی کہ اس بات کی گواہی دینا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ (بخاری شریف حدیث ۸)

امام ابو الشیخ نے العظمہ میں ابو بکر سمر قندی نے فضائل میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ کے متعلق یہ روایت بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر کے یہودی حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے ابو القاسم اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور حجاب سے اور آدم علیہ السلام کو گوندی ہوئی مٹی سے ابلیس کو آگ کے شعلے سے آسمان کو دھوئیں سے اور زمین کو پانی کی جھاگ سے تخلیق فرمایا تو آپ ہمیں اپنے رب کے بارے میں بتائیے تو حضور ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا پھر حضرت جبریل علیہ السلام سورۃ " قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَد" لیکر حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا " قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ" اسکی رگیں نہیں ہیں جو متفرق اور بکھری ہوئی ہوں۔" اَللّٰهُ الصَّمَدُ" وہ پیٹ والا نہیں نہ وہ کھاتا ہے اور نہ ہی وہ پیتا ہے " لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ" نہ اس کا باپ ہے نہ بیٹا جس کی طرف اس کی نسبت کی جائے " وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ" اسکی مخلوق میں کوئی ایسی شئے نہیں ہے جو اسکے مکان کی برابری کر سکے۔(تفسیر در منثور ج۶ص۱۱۶۹)

ایک اور روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کتب میں جو احکام نازل فرمائے ان میں یہ بھی ہے کہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے خیر اور شر کو میں نے مقدر کیا ہے مبارک ہو اسکو جس کے لئے میں خیر کو مقدر کروں اور اس کے لئےخیر آسان بنادوں اور ہلاکت ہے اس کے لئے جس کے ہاتھ پر میں شر کو مقدر کردوں اور اس کے لیے شر کو ہی آسان بنادوں میں ہی اللہ ہو میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے اس بارے میں سوال نہیں کیا جاتا جو میں کرتا ہوں اور لوگوں سے سوال کیا جائے گا ہلاکت ہے اس کے لئے جو کہتا ہے یہ کیسے ہے (تفسیر در منثور ج ۴ ص ۸۵۲)

اس حدیث پاک سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت اسکی صمدیت پر دلالت ہوتی ہے کہ اس سے اسکے کسی بھی فعل کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا کیونکہ وہ بے نیاز ہے اور اس حدیث پاک سے اس معاملہ کے بارے میں سوال کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) خدائے تعالیٰ کے رسول ہیں۔ تواللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کی آگ حرام فرمادیتا ہے ۔ (مسلم شریف،حدیث ۲۹)


توحید دین کی بنیاد اور ہر عمل کی روح ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس کے لیے تمام انبیاء مبعوث ہوئے، اور یہی وہ دعوت ہے جسے نبی کریم  ﷺ نے اپنی زندگی کا محور بنایا۔ توحید کا مطلب صرف زبان سے "لا الہ الا اللہ" کہنا نہیں، بلکہ اللہ کو اس کی ذات و صفات میں یکتا ماننا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے توحید کو نہایت سادہ، واضح اور دل نشین انداز میں بیان فرمایا تاکہ ہر خاص و عام اسے سمجھ سکے اور اپنی زندگی اس کے مطابق ڈھال سکے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔(سورۃ الاخلاص، آیات 1-4)

نبی کریم ﷺ کے بیان میں توحید کے کئی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔

پہلا پہلو یہ ہے کہ توحید کا تعلق اللہ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُواترجمہ: کہو لا الہ الا اللہ، کامیاب ہو جاؤ گے۔ (مسند احمد، مسند الانصار، حدیث نمبر: 23078)

اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات اور فلاح کا مدار صرف اللہ کی وحدانیت کے اقرار پر ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ توحید میں اللہ کی صفات میں کسی کو شریک نہیں کیا جاتا۔ نبی کریم ﷺ نے دعا سکھاتے ہوئے فرمایا: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَترجمہ: اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب افضل الاستغفار، حدیث نمبر: 6306)

یہ دعا بتاتی ہے کہ خالقیت، ربوبیت اور الوہیت سب اللہ کے لیے خاص ہیں۔

تیسرا پہلو یہ ہے کہ توحید کا تقاضا ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے خالص ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًاترجمہ: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ (صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب ما جاء فی دعاء النبی ﷺ امتہ الی توحید اللہ، حدیث نمبر: 7373)

اس حدیث میں عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا حکم ہے، کیونکہ عبادت میں شرک توحید کو باطل کر دیتا ہے۔

چوتھا پہلو یہ ہے کہ توحید دل کے یقین کا نام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ دَخَلَ الْجَنَّةَترجمہ: جو شخص دل کے یقین کے ساتھ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب من لقی اللہ بالایمان وھو غیر شاک فیہ دخل الجنۃ، حدیث نمبر: 31)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ توحید صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ دل کا یقین بھی ضروری ہے۔

نبی کریم ﷺ نے توحید کو بیان کرنے میں مثالوں اور تشبیہات کا بھی سہارا لیا تاکہ عام فہم کے لیے آسانی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ

ترجمہ: جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ عزوجل، حدیث نمبر: 6407)

اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید اور ذکرِ الہی دل کو زندہ رکھتے ہیں۔

توحید کا نبوی بیان شرک کی تمام صورتوں سے براءت کا اعلان بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر لوگوں کو بتوں کی عبادت، قبروں کی پرستش اور غیر اللہ سے مدد مانگنے سے روکا۔ آپ ﷺ کا ہر خطبہ، ہر وعظ اور ہر دعا توحید کی دعوت پر ختم ہوتی تھی۔توحید کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا، اور توحید کے ساتھ چھوٹا عمل بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا بیان ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ اللہ کو ایک مانو، اسی سے مانگو، اسی پر بھروسہ کرو، اور اسی کے لیے جیو۔ یہی وہ راہ ہے جو انسان کو دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات عطا کرتی ہے۔


توحید اسلام کی بنیاد اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکزی پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھنا ہی انسان کی کامیابی، نجات اور بندگیِ الٰہی کا اصل راستہ ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں توحید کی اہمیت کو بار بار بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنے خالقِ حقیقی کو پہچانے اور صرف اسی کی عبادت کرے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان۔ (سورۃ البقرۃ آیت نمبر 163)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ: اور تمہارا معبود ایک معبود ہے۔ کفار نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اللہ تعالیٰ کی شان و صفت معلوم کی تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ تمہارا معبودایک معبود ہے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۱ / ۱۰۸)

نہ اس کے اجزاء ہیں ، نہ کوئی اس کی مثل ہے ، معبود و رب ہونے میں کوئی اس کا شریک نہیں ، وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یکتا ہے، مخلوق کو تنہا اسی نے بنایا، وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔

اسم اعظم والی آیات:حضرت اسماء بنت یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے،ایک یہ آیت: وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)

دوسری سورۃ اٰل عمران کی ابتدائی آیت:الٓمَّٓۙ(۱) اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، ۶۴-باب، ۵ / ۲۹۱، الحدیث: ۳۴۸۹)

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵) ترجمۂ کنز الایمان:اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا۔ (سورۃ البقرۃ،آیت نمبر 255)

تفسیر صراط الجنان:اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ: اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی اُلُوہِیَّت اور اس کی توحید کا بیان ہے اور اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واجبُ الوجود اور عالَم کو ایجاد کرنے اور تدبیر فرمانے والا ہے، اسے نہ نیند آتی ہے اور نہ اونگھ کیونکہ یہ چیزیں عیب ہیں اور اللہ تعالیٰ نَقص و عیب سے پاک ہے۔ آسمانوں اور زمین میں موجود ہرچیز کا وہی مالک ہے اور ساری کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے تو جب سارا جہان اس کی ملک ہے تو کون اس کا شریک ہوسکتا ہے، مشرکین یا تو ستاروں اور سورج کو پوجتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں یا دریاؤں ، پہاڑوں ، پتھروں ، درختوں ، جانوروں ، آگ وغیرہ کی پوجا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں توجب آسمان و زمین کی ہر چیزاللہ تعالیٰ کی مِلک ہے تو یہ چیزیں کیسے پوجنے کے قابل ہوسکتی ہیں اور مشرکین جو یہ گمان کرتے ہیں کہ بُت شفاعت کریں گے تو وہ جان لیں کہ کفار کے لیے کوئی شفاعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور اجازت یافتگان حضرات کے سوا کوئی شفاعت نہیں کرسکتا اور اجازت والے حضرات انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ملائکہ عَلَیْہِمُ السَّلَام ، اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اور مؤمنین ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے خواہ اس کا تعلق لوگوں سے ماقبل کا ہو یا مابعد کا ،امورِ دنیا کا ہو یا امورِ آخرت کا۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی کو کچھ نہیں مل سکتا جب تک وہ نہ چاہے اور وہ عطا نہ فرمائے ۔ ذاتی علم اسی کا ہے اور اس کے دینے سے کسی کو عطائی علم ہوسکتا ہے جیسے وہ اپنی مَشِیَّت سے لوگوں کو اَسرار ِ کائنات پر اور انبیاء و رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غیب پر مطلع فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت بے نہایت ہے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۵،۱ / ۱۹۶)

اس آیت میں اِلہِیّات کے اعلیٰ مسائل کا بیان ہے، جتنا اس میں غور کرتے جائیں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے بارے میں عقائد اتنا ہی واضح ہوتے جائیں گے۔توحید وہ عظیم عقیدہ ہے جس پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی اپنی قوموں کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی تعلیمات، ارشادات اور عملی زندگی کے ذریعے توحید کا واضح اور کامل تصور پیش فرمایا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو شرک، بت پرستی اور غیر اللہ پر بھروسہ کرنے سے منع فرمایا اور صرف ایک اللہ کی عبادت، اطاعت اور اسی پر کامل اعتماد کی تعلیم دی۔

قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی خالص توحید کو اپنانے میں ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ عقیدۂ توحید کو مضبوطی سے تھامے، اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق گزارے اور دوسروں تک بھی توحید کا پیغام پہنچائے۔


قرآنِ کریم محض قصص و واقعات کی کتاب نہیں، بلکہ یہ نصیحت اور ہدایت کا منبع ہے۔ ان میں سے ایک ایمان افروز واقعہ حضرت یونس علیہ السلام کا ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے "موصل" (عراق) کے علاقے "نینویٰ" کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ جب قوم نے سرکشی کی اور حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے حکم کے انتظار کے بغیر بستی سے نکل گئے، تو آزمائش شروع ہوئی۔

(1) بستی سے روانگی اور قرآنی تذکرہ:حضرت یونس علیہ السلام ایک بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوئے، مگر قرعہ اندازی میں ان کا نام نکلا اور انہیں سمندر میں ڈال دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (الصافات: 142)

(2) مچھلی کے پیٹ میں پکار (دعائے یونس):سمندر کی گہرائیوں اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں حضرت یونس علیہ السلام نے صرف اپنے رب کو پکارا۔ وہ دعا جو آج بھی ہر مسلمان کے لیے پریشانی سے نجات کا ذریعہ ہے:

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (الانبیاء: 87)

(3) اللہ کی رحمت اور نجات:اللہ تعالیٰ نے ان کی اس پکار کو سنا اور مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں ساحل پر اگل دے۔ قرآن پاک میں اس کا ذکر یوں ہے:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (الانبیاء: 88)

(4) قومِ یونس کی خصوصیت:عام طور پر قومیں عذاب دیکھ کر ایمان لائیں تو فائدہ نہیں ہوتا، لیکن حضرت یونس علیہ السلام کی قوم وہ واحد قوم تھی جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر سچی توبہ کی اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (یونس: 98)

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی تاریک اور کٹھن کیوں نہ ہوں، اللہ کی ذات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ سچے دل سے توبہ اور "سبحان اللہ" کی تسبیح سمندر کی گہرائیوں سے بھی نجات دلا سکتی ہے۔

قرآنِ پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر انتہائی عقیدت اور عبرت و نصیحت کے پہلوؤں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ انہیں "ذوالنون" (مچھلی والے) اور "صاحبِ الحوت" کے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ان کے واقعے کو اللہ کی وحدانیت، توبہ کی قبولیت اور انبیاءِ کرام کے صبر کی مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

یہ آیت حضرت یونس علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر کرتی ہے جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی، جسے "تسبیحِ یونس" بھی کہا جاتا ہے۔

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاءآیت 87 تا 88)

اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی رسالت اور مچھلی کے واقعہ کا ذکر فرمایا ہے۔

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصافات ،آیت 139 تا 144)

یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ پاک ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کا حوالہ دیا ہے کہ وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (سورۃ القلم،آیت 48 تا 50)

حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:

توبہ کی اہمیت: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی کوتاہی کا اعتراف کرنا اور اس کی تسبیح بیان کرنا اللہ کو بے حد پسند ہے۔

اللہ کی رحمت: اللہ اپنے نیک بندوں کو مشکلات اور "اندھیریوں" سے نکالنے پر قادر ہے۔

صبر کا دامن: اللہ کے فیصلوں پر صبر کرنا اور مایوسی سے بچنا انبیاء کی سنت ہے۔


اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے خداوند قدوس نے قرآنِ مجید میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ ۱۱، یونس: ۹۸)

مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم پر عذاب آ جاتا ہے تو عذاب آ جانے کے بعد ایمان لانا مفید نہیں ہوتا مگر حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب کی بدلیاں آ جانے کے بعد بھی جب وہ لوگ ایمان لائے تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔

عذاب ٹلنے کی دعا: طبرانی شریف کی روایت ہے کہ شہر نینوٰی پر جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے اور حضرت یونس علیہ السلام باوجود تلاش و جستجو کے لوگوں کو نہیں ملے تو شہر والے گھبرا کر اپنے ایک عالم کے پاس گئے جو صاحبِ ایمان اور شیخِ وقت تھے اور ان سے فریاد کرنے لگے تو انہوں نے حکم دیا کہ تم لوگ یہ وظیفہ پڑھ کر دعا مانگو: یَا حَیُّ حِیْنَ لَا حَیَّ وَ یَا حَیُّ یُحْیِی الْمَوْتٰی وَ یَا حَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ چنانچہ لوگوں نے یہ پڑھ کر دعا مانگی تو عذاب ٹل گیا۔ لیکن مشہور محدث اور صاحبِ کرامت ولی حضرت فضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ شہر نینوٰی کا عذاب جس دعا کی برکت سے دفع ہوا وہ دعا یہ تھی کہ اَللّٰھُمَّ اِنَّ ذُنُوْبَنَا قَدْ عَظُمَتْ وَ جَلَّتْ وَ اَنْتَ اَعْظَمُ وَ اَجَلُّ فَافْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ اَھْلُہٗ وَ لَا تَفْعَلْ بِنَا مَا نَحْنُ اَھْلُہٗ بہر حال عذاب ٹل جانے کے بعد جب حضرت یونس علیہ السلام شہر کے قریب آئے تو آپ نے شہر میں عذاب کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اپنی قوم میں تشریف لے جائیے۔ تو آپ نے فرمایا کہ کس طرح اپنی قوم میں جا سکتا ہوں؟ میں تو ان لوگوں کو عذاب کی خبر دے کر شہر سے نکل گیا تھا، مگر عذاب نہیں آیا۔ تو اب وہ لوگ مجھے جھوٹا سمجھ کر قتل کر دیں گے۔ آپ یہ فرما کر اور غصہ میں بھر کر شہر سے پلٹ آئے اور ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ کشتی جب بیچ سمندر میں پہنچی تو کھڑی ہو گئی۔ وہاں کے لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ وہی کشتی سمندر میں کھڑی ہو جایا کرتی تھی جس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام سوار ہو جاتا ہے۔ چنانچہ کشتی والوں نے قرعہ نکالا تو حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکلا۔ تو کشتی والوں نے آپ کو سمندر میں پھینک دیا اور کشتی لے کر روانہ ہو گئے اور فوراً ہی ایک مچھلی آپ کو نگل گئی اور مچھلی کے پیٹ میں جہاں بالکل اندھیرا تھا آپ مقید ہو گئے۔ مگر اسی حالت میں آپ نے آیتِ کریمہ: لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (۸۷) کا وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس اندھیری کوٹھڑی سے نجات دی اور مچھلی نے کنارے پر آ کر آپ کو اُگل دیا۔ اس وقت آپ بہت ہی نحیف و کمزور ہو چکے تھے۔ خدا عزوجل کی شان ہے کہ اس جگہ کدو کی ایک بیل اُگ گئی اور آپ اس کے سایہ میں آرام کرتے رہے پھر جب آپ میں کچھ توانائی آگئی تو آپ اپنی قوم میں تشریف لائے اور سب لوگ انتہائی محبت و احترام کے ساتھ پیش آکر آپ پر ایمان لائے۔(تفسیر الصاوی، ج ۳، ص ۸۹۳، پ ۱۱، یونس: ۹۸)

حضرت یونس علیہ السلام کی اس دردناک سرگزشت کو قرآنِ کریم نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے:

وَ اِنَّ يُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَؕ (۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ (۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِيْمٌ (۱۴۲) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَۙ (۱۴۳) لَلَبِثَ فِيْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَۚ (۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِيْمٌۚ (۱۴۵) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَّقْطِيْنٍۚ (۱۴۶) وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَۚ (۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍؕ (۱۴۸)

ترجمہ کنزالایمان: اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اُگایا اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔(پ ۲۳، الصافات: ۱۳۹ تا ۱۴۸)

درسِ ہدایت:نینوٰی والوں کی سرگزشت سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی قوم پر کوئی بلا یا عذاب بن کر نازل ہو تو اس بلا سے نجات پانے کا یہی طریقہ ہے کہ لوگوں کو توبہ و استغفار میں مشغول ہو کر دعائیں مانگنی چاہئیں تو امید ہے کہ بندوں کی بے قراری اور ان کی گریہ وزاری پر ارحم الراحمین رحم فرما کر بلاؤں کے عذاب کو دفع فرما دے گا۔


حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر قرآنِ مجید میں ایک نہایت سبق آموز اور بابرکت انداز میں آیا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے تھے، جنہیں اپنی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ قرآن میں آپ کا واقعہ صبر، توبہ، اللہ پر بھروسہ اور رحمتِ الٰہی کی عظیم مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جب آپ نے اپنی قوم کی نافرمانی دیکھی تو ناراض ہو کر بستی چھوڑ دی، پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ایک مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ اندھیروں میں گھرے ہوئے حضرت یونس علیہ السلام نے اخلاص کے ساتھ دعا کی، جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور انہیں نجات عطا کی۔

حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:آپ علیہ السلام کا نام پاک یونس بن متی ہے اور چونکہ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو "ذوالنون" اور "صاحب الحوت" (یعنی مچھلی والے) بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں۔اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس، آیت 98)

تفسیر صراط الجنان:فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)

اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)

فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان اگر مشکل ترین حالات میں بھی سچے دل سے اللہ کو پکارے تو اس کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اسی لیے قرآن میں آپ کا ذکر ایمان والوں کے لیے نصیحت، امید اور صبر کے پیغام کے طور پر آیا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، جن کی زندگیاں ایمان، صبر، توکل اور اطاعتِ الٰہی کا روشن نمونہ ہیں۔ انہی مقدس ہستیوں میں حضرت یونس علیہ السلام بھی جلیل القدر نبی ہیں، جن کا ذکر قرآنِ مجید میں نہایت مؤثر انداز میں آیا ہے۔ آپ علیہ السلام کے واقعات میں دعوتِ حق، اللہ تعالیٰ کی رحمت، دعا کی قبولیت اور توبہ و رجوع کے عظیم اسباق موجود ہیں۔ قرآنِ کریم نے آپ کے واقعہ کے ذریعے امت کو صبر، امید اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کی تعلیم دی ہے۔

آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ہے(یعنی مچھلی والے) ہے۔آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینویٰ کے نبی تھے۔ جو موصل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔

نزول احکام:آپ علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام پر بعض احکام نازل ہوئے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)

انعامات الٰہی:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی، آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا۔ اور خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔(سورۃ قلم :48تا 50)

تفسیر صراط الجنان:فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبر کرو۔ یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفار کو مہلت دینے اور ان کے خلاف آپ کی مدد کو مُؤخّر کرنے کے معاملے میں آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا انتظار کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر کریں ۔( خازن، ن، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴ / ۳۰۱، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۱۲۷۱، ملتقطاً)

وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ: اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔ اس آیت ا ور اس کے بعد والی دو آیات کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ جب اُحد کے میدان میں تاجدارِ رسالت ﷺ نے پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے مسلمانوں کے خلاف دعا کرنے کا اراد ہ فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں اور ایک قول یہ ہے کہ جب حضورِ اقدس ﷺ نے ثقیف والوں کے خلاف دعا کا ارادہ فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم پر جلدی عذاب نازل کرنے کے معاملے میں مچھلی والے کی طرح نہ ہونا تاکہ کہیں ان کی طرح آپ بھی آزمائش میں مبتلاء نہ ہو جائیں اور وہ وقت یاد کریں جب اُس نے اِس حال میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کوپکارا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں بہت غمگین تھا۔یاد رہے کہ یہاں مچھلی والے سے مراد حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔(تفسیرکبیر، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ۱۰ / ۶۱۶، خازن، ن، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴ / ۳۰۱، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۱۲۷۱، ملتقطاً)۔

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ: اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ان کی دستگیری نہ کرتی اور اللّٰہ تعالیٰ اُن کے عذر اور دعا کو قبول فرما کر ان پر انعام نہ فرماتا تو وہ ضرور ملامت کئے ہوئے مچھلی کے پیٹ سے چٹیل میدان میں پھینک دیئے جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت فرمائی اور وہ بغیر ملامت کئے ہوئے مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ان کی دستگیری نہ فرماتی تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے ،پھر وہ ضرور ملامت کئے ہوئے میدانِ حشر میں پھینک دیئے جاتے۔( مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۹، ص۱۲۷۱، تفسیر کبیر، القلم، تحت الآیۃ: ۴۹، ۱۰ / ۶۱۷، ملتقطاً)

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ: تو اسے اس کے رب نے چن لیا۔ یعنی حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا کرنے اور اپنا عذر پیش کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں چن لیا اور ان کی نیکی کی صفات کو مزید ترقی دی اور انہیں ہر ایسا کام کرنے سے محفوظ کر دیا جسے چھوڑ دینابہتر ہو۔( مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۱۲۷۱، روح البیان، ن، تحت الآیۃ: ۵۰، ۱۰ / ۱۲۶-۱۲۷، ملتقطاً)۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ مجید میں ہمارے لیے عظیم نصیحت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے اور سچے دل سے توبہ و دعا کرنے والوں کی فریاد قبول فرماتا ہے۔ آپ علیہ السلام کی زندگی صبر، توکل، رجوع الی اللہ اور ثابت قدمی کا بہترین نمونہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی مشکلات میں اللہ تعالیٰ سے امید وابستہ رکھیں، صبر اختیار کریں اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کریں۔


وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصفت:139،140)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)

اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴ / ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵ / ۱۷۵۲، ملخصاً)

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃ یونس :98)

تفسیر صراط الجنان:فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)

اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)

فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے۔

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء:87)

وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)

مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)

حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم نبی کریم ﷺ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں خبر نہ دوں کہ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے۔ آپ ﷺ سےعرض کی گئی :کیوں نہیں !ارشاد فرمایا ’’(وہ چیز) حضرت یونس کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے۔(مستدرک،کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ، من دعا بدعوۃ ذی النون استجاب اللہ لہ،۲ / ۱۸۳،الحدیث:۱۹۰۷)

حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمان اپنی بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ کے ساتھ دعا مانگے ، پھر وہ اس مرض میں فوت ہوجائے تواسے شہید کا اجر دیا جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اس کے تمام گناہ بخشے جا چکے ہوں گے۔( مستدرک ، کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔ الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸)

فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَعَلَیْهِ:تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے۔ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ جس شخص نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ عاجز ہے وہ کافر ہے، اور یہ ایسی بات ہے کہ کسی عام مومن کی طرف بھی اس کی نسبت کرنا جائز نہیں تو انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف یہ بات منسوب کرنا کس طرح جائز ہو گا (کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز گمان کرتے ہیں ۔ لہٰذا اس آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پکڑنے پر قادر نہیں بلکہ ) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں فرمائے گا۔( تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ۸ / ۱۸۰)

امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے علاوہ دیگر معتبر مفسرین نے بھی اس آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی اسی معنی کو اختیار کیا ہے اور ہم نے بھی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور دیگر معتبر مفسرین کی پیروی کرتے ہوئے اس آیت میں لفظ ’’لَنْ نَّقْدِرَ‘‘کا ترجمہ’’ ہم تنگی نہ کریں گے‘‘کیا ہے۔

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔(سورۃ الصفت:147،148)

تفسیر صراط الجنان:وَ اَرْسَلْنٰهُ: اور ہم نے اسے بھیجا۔ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پہلے کی طرح موصل کی سرزمین میں قومِ نِینَویٰ کے ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ آدمیوں کی طرف انتہائی عزت واحترام کے ساتھ بھیجا،انہوں نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کر لی تھی ، پھر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دوبارہ تشریف لانے پر باقاعدہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیعت کی اور اللہ تعالیٰ نے آخری عمر تک انہیں آسائش کے ساتھ رکھا ۔

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ کا بیان سورۂ یونس آیت نمبر98میں گزر چکا ہے اور اس واقعہ کا بیان سورۂ انبیاء کی آیت نمبر 87،88میں بھی گزرچکا ہے۔


اللہ تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات کو ذکر فرما کر ہمیں یہ بتایا کہ ہمیں مشکلات کے وقت اور جب ہم پر مصیبت آجائے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے۔  اللہ تبارک و تعالی کے احکامات پر اگر ہم عمل نہ کرےتو اللہ تبارک و تعالی ہمارے ساتھ کیسا معاملہ فرمائے گا۔

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃ یونس :98)

آپ کی زبان سے نکلی ہوئی دعا: " لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ " کو "آیتِ کریمہ" کا درجہ ملا

اور قیامت تک کے لیے غمزدہ دلوں کا وظیفہ بن گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی ۔ حضرت یونس علیہ السلام مستجاب الدعوات تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ الانبیاء:88)

تفسیر صراط الجنان:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ:تو ہم نے اس کی پکار سن لی۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات دیتے ہیں جب وہ ہم سے فریاد کریں اور دعا کریں۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۷۲۵، ابو سعود، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۵۳۳، ملتقطاً)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعامسلمانوں کے لیے بھی ہے:حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’کیا میں تمہاری اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کی طرف رہنمائی نہ کروں جس کے ساتھ جب بھی دعاکی جائے تو وہ قبول ہوجائے اورجب سوال کیاجائے توعطاہوجائے، وہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو انہوں نے اندھیروں میں تین بار کی تھی ۔ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص تھی یاتمام مسلمانوں کے لیے ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا’’ کیاتم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادنہیں سنا’’وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں۔(مستدرک ، کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔ الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸) مراد یہ ہے کہ یہ دعا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے خاص نہیں بلکہ سب مسلمانوں کے لیے بھی ہے، جب وہ ان الفاظ کے ساتھ دعامانگیں گے تو ان کی دعا بھی قبول ہو گی۔

ہمیں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے نبی علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوۓ انھی الفاظ کے ساتھ دعا مانگنی چاہیے ۔

قرآن سے ملنے والے اسباق:

(1)ہمیں ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے ۔

(2) مصیبت اور آزمائش میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے ۔

(3)اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی بات ماننی چاہیے ۔

جب ہم مشکل میں اللہ تعالیٰ کو سچے دل سے یاد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی بھی مدد شامل حال ہو جاتی ہے اور بڑی سے بڑی مصیبت سے نجات مل جاتی ہے۔