ضلع نصیر آباد، صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی کی ایس پی ہائی وے پیٹرولنگ N:65 محمد ایوب گولہ بلوچ، آفس سپرنٹنڈنٹ محمد آصف نسیم، ایس پی ہائی وے پبلک ریلیشن آفیسر علی حسن، بابو محمد بخش، بابو محمد عمران، اے ایس آئی وزیر احمد ،کانسٹیبل محمد عیسیٰ اور احمد نواز سے ملاقات ہوئی۔

دورانِ ملاقات ڈویژن نگران نصیر آباد قاری محمد آصف عطاری نے تمام شخصیات کو دعوتِ اسلامی کے شعبہ جات کے تحت دنیا بھر میں ہونے والی ایکٹیویٹیز کے بارے میں بتایا اور ماہنامہ فیضانِ مدینہ تحفے میں پیش کیا۔بعدازاں مبلغِ دعوتِ اسلامی نے ملک و قوم کی سلامتی اور شہدائے پولیس کے لئے دعا کروائی۔(رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے تحت گزشتہ روز کوئٹہ میں  ایڈیشنل آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان شکیل احمد بلوچ سے شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی ملاقات ہوئی۔

معلومات کے مطابق صوبائی ذمہ دار محمد وقار عطاری، نگرانِ شعبہ FGRF حاجی محمد شفاعت عطاری اور نگرانِ بلوچستان قاری لیاقت عطاری نے ایڈیشنل آئی جی شکیل احمد بلوچ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں قیدیوں کے درمیان کمبل تقسیم کرنے کے حوالے سے تقریب منعقد کرنے کے لئے چند اہم نکات پر مشاورت کی۔

اسی طرح نگرانِ بلوچستان قاری لیاقت عطاری نے ایڈیشنل آئی جی شکیل احمد بلوچ کو عالمی سطح پر ہونے والی خدماتِ دعوتِ اسلامی کے بارے میں بتایا جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی کاوشوں کو سراہا۔

اس دوران فنانس ڈیپارٹمنٹ کے صوبائی ذمہ دار عرفان رشید عطاری، FGRF کے صوبائی ذمہ دار، FGRF کوئٹہ کے ڈویژن ذمہ دار نوید شہزاد عطاری سمیت دیگر اسلامی بھائی موجود تھے۔(رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

16 نومبر 2024ء کو اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے مری ڈسٹرکٹ کی تحصیل کوٹلی ستیاں میں قائم گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کوٹلی ستیاں کا دورہ کیا۔

اس دوران ذیلی شعبہ نابینا افراد کے صوبائی ذمہ دار کامران عطاری نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ کے ذمہ دار مولانا ندیم عطاری مدنی کے ہمراہ اسٹاف سمیت وہاں موجود دیگر افراد سے ملاقات کی اور انہیں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کا تعارف کرواتے ہوئے نیکی کی دعوت پیش کی۔

اس کے علاوہ صوبائی ذمہ دار نے سینٹر میں اسپیشل اسٹوڈنٹس کے درمیان سیکھنے سکھانے کے حلقے میں ”ذکر اللہ کے فضائل اور اہمیت“ کے موضوع پر بیان کیا جس کی ڈسٹرکٹ ذمہ دار نے اشاروں کی زبان میں ترجمانی کی۔

آخر میں ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے سینٹر کے ٹیچرز اور اسٹاف کو نیک اعمال رسائل (اسپیشل پرسنز)، عمومی نیک اعمال رسائل اور باتصویر نماز رسائل تحفے میں پیش کیں جس پر گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کوٹلی ستیاں کے اسٹاف نے دعوتِ اسلامی کی کوششوں کو سراہا اور اپنی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ:اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


صوبہ لاہور کا مدنی مشورہ

Wed, 20 Nov , 2024
134 days ago

پچھلے دنوں دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری نے صوبہ لاہور کا مدنی مشورہ فرمایا جس میں ذمہ داران کو ٹیلی تھون کی مد میں مزید یونٹس جمع کرنے اور ماہ مدنی قافلہ میں مزید عاشقان رسول کو مدنی قافلوں میں سفر کروانے کے اہداف عطا فرمائے نیز مدنی قافلہ اجتماع میں نمایاں کارکردگی والے عاشقان رسول کو تحائف عطا فرمائے۔(کانٹینٹ:محمد شعیب احمد عطاری)


دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام تبلیغ دین کی خاطر عاشقانِ رسول کا مدنی قافلہ ملک و بیرون ملک سفرکرتا رہتا ہے۔

اسی جذبے کے تحت مختلف شعبہ جات سے وابستہ عاشقانِ رسول کا مدنی قافلہ نیپال سے پاکستان کے شہر جوہر ٹاؤن لاہورمیں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ پہنچا جہاں مختلف ذمہ داران نے انہیں خوش آمدید کہا۔

شرکائے قافلہ نے رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی اور تبادلۂ خیال ہوا۔ شرکائے قافلے نے رکن شوریٰ سے سوالات بھی کئے جس پر رکن شوریٰ نے تسلی بخش جوابات دیئے۔(کانٹینٹ:محمد حسین مدنی)


شعبہ مدنی کورسز دعوت اسلامی کے زیر اہتمام مدنی مرکز فیضان مدینہ حافظ آباد میں  07دن پر مشتمل رہائشی 12 دینی کام کورس کا آغاز 5نومبر2024 کو ہوا جس کا اختتام 17نومبر2024کو ہوا۔ اختتامی نشست کے موقع پر ڈسٹرکٹ نگران محمد وسیم عطاری کی آمد ہوئی ۔

ا ختتامی نشست کے موقع پر ڈسٹرکٹ نگران محمد وسیم عطاری نے حاضرین کے درمیان فکر آخرت، صحابہ کرام کا علم دین حاصل کرنے کی طلب اور دنیا کی مذمت موضوع پر بیان کیا ۔

بعد بیان ڈسٹرکٹ نگران محمد وسیم عطاری نے 12 دینی کاموں کے فضائل ، 12 دینی کاموں کے اہداف اور 12 دینی کاموں کی شرعی تنظیمی احتیاطیں کیا ہیں؟ کے متعلق گفتگو کی۔ اس موقع پر شعبہ مدرستہ المدینہ بالغان کے معلمین اور ذمہ داران سمیت دیگر عاشقان رسول موجود تھے ۔(رپورٹ:محمد رضوان عطاری ڈویژن ذمہ دار شعبہ مدنی کورسز ،کانٹینٹ:محمد شعیب احمد عطاری)


پچھلے دنوں فیصل آباد ڈویژن کی تحصیل تاندلیانوالہ کے ذمہ داران اور شعبہ جات کا مدنی مشورہ ہوا جس میں نگران فیصل آباد ڈویژن مشاورت حاجی محمد سلیم عطاری نے ماہ مدنی قافلہ کے حوالے سے ذمہ داران کو مدنی قافلوں میں سفر کرنے کا ذہن دیا  جس پر ہاتھوں ہاتھ کم و بیش 21 شرکاء 12ماہ کے لیے اور 13شرکاء 1 ماہ کے لیے تیار ہوئے۔

نگران ڈویژن مشاورت نے ذمہ داران کو قافلے کس طرح تیار کرتے ہیں اس موضوع کے متعلق حاضرین کی تربیت کرتے ہوئے 12 دینی کاموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور ہفتہ وار اجتماع کی تعداد کو بڑھانے، ہفتہ وار اجتماع میں آنے والے شرکاء کو مدنی قافلوں کی دعوت دینے اور مدنی مذاکرہ میں شرکت کرنے کا ذہن دیا۔ (رپورٹ:عبدالرزاق عطاری شعبہ ہفتہ وار اجتماع و مدنی مذاکرہ فیصل آباد ڈویژن،کانٹینٹ: شعیب احمد عطاری)


پچھلے دنوں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون کے مدنی  مرکز فیضانِ مدینہ میں واقع دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایک ٹریننگ سیشن کا انعقاد کیا گیاجس میں یونیورسٹی کی فیکلٹی مختلف ڈیپارٹمنٹس (ایجوکیشن ، بینکنگ اینڈ فنانس ، انگلش اورعربک) کے اسٹوڈنٹس ،ماڈل جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ اسلام آباد کے اساتذہ و طلبۂ کرام نے شرکت کی ۔

ٹریننگ سیشن میں دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری نے اسٹوڈنٹس کو دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی افادیت سے آگاہی فراہم کرتے ہوئے دین اسلام کی ترقی و اشاعت میں تعلیم یافتہ (ایجوکیٹڈ) علماء کرام کیا کردار ادا کرسکتے ہیں اس موضوع کے متعلق کلام کیا جبکہ سوال و جواب کا بھی سلسلہ ہوا۔

اس موقع پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری اور رکن شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری بھی موجود تھے ۔(کانٹینٹ:محمد شعیب احمد)


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے ہر موڑ پہ ہماری رہنمائی کی ہے، عبادات سے لیکر معاملات تک ایسا کوئی گوشہ نہیں جس پر اسلام نے روشنی نہ ڈالی ہو،عبادات میں نماز ، روزہ ،زکوٰۃ ،حج وغیرہ شامل ہیں جبکہ معاملات میں حقوق العباد شامل ہیں انہی حقوق میں والدین کے حقوق بھی شامل ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ پاک اور اس کےآخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد خونی اور نسبی رشتوں میں حقوق الوالدین سب سے مقدم ہیں پھر دیگر ہیں جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک کی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 83 میں ارشاد فرماتا ہے : وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ- وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ترجمہ کنزالعرفان: اور یاد کروجب ہم نے بنی اسرائیل سے عہدلیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔

آئیے اللہ پاک اور اسکے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضا حاصل کرنے اور علم دین حاصل کرنے کی نیت سے والدین کے حقوق کے متعلق جانتے ہیں:

اپنے مال کو والدین پر خرچ کرنا: حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سوال کیا تھا کہ کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں ؟تو جواب میں اللہ پاک کا فرمان نازل ہوا یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَؕ-قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ ترجمہ کنزالعرفان: آپ سے سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں ؟تم فرماؤ: جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ ۔

والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًاؕ ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے (ہر) انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی(پارہ :21،سورہ لقمٰن:15)
تفسیر روح البیان میں ہے کہ والدین اگر کافر بھی ہوں اور ان کے پاس اپنا ذریعہ رزق نہ ہو تو مسلمان اولاد پر لازم ہے کہ وہ انہیں خرچہ دیں ،ان کی خدمت کریں،ان کی زیارت کیا کریں۔(تفسیر روح البیان،ج:
6،ص:450)

والدین خلاف شرع کوئی کام کہیں تو ان کا کہنا نہ مانا جائے۔ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہوَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَاؕ- ترجمہ کنزالعرفان: اور (اے بندے!) اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ توکسی کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تُو ان کی بات نہ مان۔ (پارہ :21،سورہ لقمٰن:15)

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اطاعت ِوالدین جائزباتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مُرتکِبِ کبیرہ ہوں ، ان کے کبیرہ کاوبال ان پر ہے مگراس کے سبب یہ اُمورِ جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہرنہیں ہوسکتا، ہاں اگروہ کسی ناجائز بات کاحکم کریں تو اس میں ان کی اطاعت جائزنہیں ، لَاطَاعَۃَ لِاَحَدٍ فِیْ مَعْصِیَۃِاللّٰہ تَعَالٰی ( الله تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی بھی شخص کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔(تفسیر صراط الجنان،ج:7،ص349:)

والدین کے مزید حقوق:

تفسیر صراط الجنان میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 83 کے تحت مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتھم العالیہ والدین کے حقوق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ایسی کوئی بات نہ کہے اور ایسا کوئی کام نہ کرے جو اُن کیلئے باعث ِ تکلیف ہو اور اپنے بدن اور مال سے ان کی خوب خدمت کرے، ان سے محبت کرے، ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے، ان سے گفتگو کرنے اور دیگر تمام کاموں میں ان کا ادب کرے، ان کی خدمت کیلئے اپنا مال انہیں خوش دلی سے پیش کرے، اور جب انہیں ضرورت ہو ان کے پاس حاضر رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کیلئے ایصالِ ثواب کرے، ان کی جائز وصیتوں کو پورا کرے، ان کے اچھے تعلقات کو قائم رکھے۔ والدین کے ساتھ بھلائی کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ اگر وہ گناہوں کے عادی ہوں یا کسی بدمذہبی میں گرفتار ہوں تو ان کو نرمی کے ساتھ اصلاح و تقویٰ اور صحیح عقائد کی طرف لانے کی کوشش کرتا رہے

اللہ پاک ہمیں جو سیکھا اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ امین بجاہ النبی الامین 

اللہ تعالی نے انسان پر بے شمار احسانات کیے ہیں۔ جن کی وجہ سے وہ اپنی زندگی آسانی سے گزارتا ہے. گویا کہ کوئی بھی شخص اللہ تعالٰی کی نعمتوں سے مستغنی و بے پروا نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک احسان والدین بھی ہیں انھیں کی بدولت انسان اس دنیا میں آتا ہے اور ضعف سے قوت کی طرف بڑھتا ہے. اولاد کے سب سے بڑے محسن بھی ان کے والدین ہوتے ہیں . اپنی جوانی، خوشی، قوت سب اولاد پر فدا کر دیتے ہیں. الغرض اولاد اپنے والدین کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتی ۔

ہمارے پیارے دین اسلام میں بھی والدین کو بہت بلند مقام اور درجہ حاصل ہے. اللہ تعالٰی نے جو حقوق بندوں پر لازم کیے ہیں ان میں والدین کے حقوق کو سب سے زیادہ فوقیت دی ہے۔اولاد پر جو والدین کے حقوق ہیں ان میں سے چند حقوق بمع قرآنی آیات اور احادیث طیبہ مندرجہ ذیل ہیں۔

(1)صلہ رحمی : قرآن پاک میں اللہ تعالی نے والدین کے ساتھ احسان، صلہ رحمی، حسن گفتار کے بارے میں فرمایا :- وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا ترجمۂ کنز الایمان:- اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا ۔ (سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر : 23)

ملاحظہ کیجیئے کتنا شاندار اور احساس کرنے والا دین ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احساس کرنے کا حکم تو دیتا ہی ہے ، بلکہ ان کے سامنے اف تک کہنے کی بھی اجازت نہیں، کہ کہیں ان کو برا محسوس نہ ہو اور ایذا نہ پہنچے ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم تاکید کے ساتھ قرآن پاک میں آیا ہے۔

(2)مال خرچ کرنا : اولاد پر والدین کا حق یہ ہے کہ اپنا مال والدین پر خرچ کرے اور کسی طور پر دریغ نہ کرے ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے :یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَؕ-قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ ترجمۂ کنز الایمان: تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں ، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کروتو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے (سورۃ البقرہ آیت نمبر 215)

معلوم ہوا جو مال کسی نیک کام کے لیے خرچ کیا جائے والدین پر سب سے پہلے خرچ کرے ، بعد میں دیگر مصارف پر خرچ کرے البتہ والدین کو زکوۃ اور صدقات واجبہ نہیں دے سکتے ۔

(3)والدین کی اطاعت و فرماں برداری : والدین کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کے حکم کی اطاعت کرے اور انہیں ایذا نہ دے کیوں کہ والدین اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہمیشہ سوچتے رہتے ہیں۔ قرآن پاک میں والدین کی اطاعت کے بارے میں آیا ہے: وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِۚ ترجمہ کنزالایمان:-اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی۔ ( سورة لقمٰن آیت نمبر 14)

(4)دعائے رحمت و مغفرت : والدین کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اولاد ان کے حق میں دعائے مغفرت و رحمت کرتی رہے۔ کیوں کہ وہ خود تو اپنے ماں باپ کے احسانات نہیں چکا سکتے۔ لہذا خداوند باری تعالٰی کی بارگاه میں والدین کے لیے رحمت ، مغفرت، احسان کا سوال کرتے رہیں۔ فرمان مصطفی ہے: (اسْتِغْفَارُ الْوَلَدِ لا بِيْهِ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ مِنَ الْبِرِّ ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک سے یہ بات ہے کہ اولاد ان کے بعد ان کے لئے دعاء مغفرت کرے۔ ( کنز العمال جزء : 16 ، صفحہ : 192 حدیث 45441)

صاحب عقل و ذی فہم کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جب قرآن پاک میں اور احادیث طیبہ میں تکرار کے ساتھ والدین کے حقوق کا ذکر آیا ہے تو اولاد کو چاہیے کہ ان کے حقوق بجا لائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے. کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے میں ہی کامیابی ہے۔ وما توفیقی الا بالله


والدین اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سے ایک ہیں ۔ بالیقیں ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ۔ والدین کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ اولاد کی خواہشات پوری کی جائیں ۔ بلکہ بسا اوقات اپنی ضروریات کو اولاد کی خواہشات پر قربان کر دیتے ہیں ۔ چونکہ والدین کا رشتہ پیار و محبت ،شفقت و نرمی اور احساس کے حوالے سے سب سے بڑھ کر ہوتا ہے اس لیے حقوق العباد میں سب سے زیادہ اہمیت ، اولیت اور فوقیت والدین کے حقوق کو حاصل ہے۔ اسلام نے والدین کے کئی حقوق بیان کیے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں ۔

حسن سلوک : والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اولاد کی ذمہ داری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ(سورہ بنی اسرائیل آیت۔ 23)ترجمہ کنزالایمان:اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔

خدمت کرنا۔ والدین کی خدمت کرنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا بھی ان کے حقوق میں شامل ہے۔ حتی کہ اسے جہاد سے بھی افضل قرار دیا گیا چنانچہ : ایک شخص نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو کر جہاد کی اجازت طلب فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں ؟ عرض کی: جی ہاں ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تم ان کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے۔ (ریاض الصالحین مترجم جلد اول حدیث ۔ 323۔ مطبوعہ شبیر برادرز)

اطاعت و فرمانبرداری۔ والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اور ان کے ہر اس حکم کو جو شریعت کے مخالف نہ ہو بجا لانا لازم ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے۔

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جو اللہ کے لیے اپنے ماں باپ کے بارے میں مطیع ہو تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں۔اگر ان میں سے ایک ہو تو ایک دروازہ اور جو اپنے والدین کے متعلق اللہ کا نافرمان ہو اس کے لیے آگ کے دو دروازے کھل جاتے ہیں۔ اگر ایک ہو تو ایک دروازہ ایک شخص نے عرض کیا اگرچہ وہ ظلم کریں فرمایا اگرچہ اس پر ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں۔ ( مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:4723 )

شکر ادا کرنا۔ بلاشبہ انسان پر والدین کے بے شمار احسانات ہوتے ہیں اس لیے وقتا فوقتاً ان کا شکر ادا کرتے رہنا بھی اولاد کے لیے ضروری ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنا شکر ادا کرنے کے ساتھ ہی والدین کا شکر ادا کرنے کا حکم بھی دیا ۔ چنانچہ فرمایا ۔اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-اِلَیَّ الْمَصِیْرُ(سورہ لقمٰن آیت 14) ترجمہ کنزالایمان: کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی تک آنا ہے۔

نرمی سے پیش آنا۔ والدین سے اچھی گفتگو کرنا اور شفقت و نرمی سے پیش آنا بھی ان کے حقوق میں شامل ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے ۔ وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(سورہ بنی اسرائیل آیت 23) ترجمہ کنزالایمان: اور ان سے تعظیم کی بات کہنا ۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا : وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ (سورہ بنی اسرائیل آیت ۔24) ترجمہ کنزالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے ۔

ان کے لیے دعا کرنا۔ والدین کی لیے دعا کرنا بھی ان کے حقوق میں شامل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکم دیا . وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا(سورہ بنی اسرائیل آیت 24)ترجمہ کنزالایمان: اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا۔

اس کے علاوہ بھی والدین کے کئی حقوق ہیں ۔ جیسے ان کو ایذا رسانی سے بچانا، دل و جان سے ان کی عزت کرنا ، حتی کہ ان کے عزیزوں کو عزیز رکھنا اور ان کے دنیا سے چل بسنے کے بعد ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہنا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم والدین کا خاص خیال رکھیں ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ برتیں اور ہر ممکن کوشش کریں کہ ہماری ذات سے انہیں ایذا نہ پہنچے ۔


والدین کسی بھی فرد کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں  اور ان کے حقوق کی تعظیم ہر معاشرے کا بنیادی اصول ہے۔ اسلام میں والدین کے حقوق پر بہت زور دیا گیا ہے، اور ان کی خدمت اور احترام کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ والدین کے حقوق کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے۔

والدین کی خدمت اور احترام* والدین کی خدمت اور احترام ہمارے معاشرتی اور دینی فرائض میں شامل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ- ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو (سورۃ الاسراء: 23)۔

اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت اور احترام کو اللہ کی عبادت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

والدین کے حقوق کی اہمیت: والدین کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔" (الترغيب والترهيب لقوام السنة ط دار الحديث - القاهرة: 1/281 (رقم الحدیث: 448)

یہ حدیث والدین کی خدمت اور ان کی دعاؤں کے حصول کی ترغیب دیتی ہے۔ والدین کی دعائیں اولاد کے لیے باعث برکت اور کامیابی ہوتی ہیں۔

والدین کی خدمت کے مختلف پہلو :ادب اور احترام: والدین کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا، ان کی باتوں کا ادب کرنا اور ان کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کرنا۔

مالی معاونت: والدین کی ضروریات کا خیال رکھنا اور ان کی مالی مدد کرنا۔

صحت کا خیال: والدین کی صحت کا خیال رکھنا، انہیں وقت پر دوائیں دینا، اور ان کی دیکھ بھال کرنا۔

دعا: والدین کے لیے دعا کرنا، ان کی مغفرت اور صحت کے لیے اللہ سے دعا مانگنا۔

والدین کے حقوق کا معاشرتی پہلو:والدین کے حقوق کی ادائیگی سے نہ صرف فرد کی زندگی میں برکت آتی ہے بلکہ یہ معاشرتی امن اور ہم آہنگی کا سبب بھی بنتی ہے۔ ایک معاشرہ جہاں والدین کی عزت کی جاتی ہے، وہاں اخلاقی اقدار مضبوط ہوتی ہیں اور نئے نسلوں میں بھی ان اقدار کا فروغ ہوتا ہے۔

والدین کی نافرمانی کے نقصانات:والدین کی نافرمانی اور ان کے حقوق کی پامالی نہ صرف دنیاوی بلکہ اخروی نقصان کا باعث بھی بنتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "والدین کی نافرمانی کرنے والا جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔" (طبرانی صغیر 1/145)۔ والدین کی نافرمانی سے زندگی میں بے سکونی، مشکلات، اور برکت کی کمی واقع ہوتی ہے۔

والدین کے حقوق کی ادائیگی کے عملی طریقے:

وقت دینا: والدین کے ساتھ وقت گزارنا، ان کی باتیں سننا، اور ان کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہونا۔

شکر گزاری: والدین کی قربانیوں کا اعتراف کرنا اور ان کا شکریہ ادا کرنا۔

تحفے: والدین کو تحفے دینا، چاہے وہ چھوٹے چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں، ان کی محبت اور عزت کی علامت ہے۔

مشورہ: زندگی کے اہم فیصلوں میں والدین سے مشورہ کرنا اور ان کی رائے کو اہمیت دینا۔

خلاصہ:والدین کے حقوق کی ادائیگی ہر مسلمان کا فرض ہے اور یہ معاشرتی زندگی میں توازن اور محبت کا باعث بنتی ہے۔ والدین کی خدمت اور احترام سے نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین کے حقوق کو پہچانیں، ان کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھیں، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اس طرح ہم ایک بہترین اور خوشحال معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس حوالے سے امیر اہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا رسالہ سمندری گنبد بہت مفید ہے۔