محمد مجاہد رضا قادری (درجہ رابعہ
جامعۃُ المدینہ فیضانِ فاروقِ اعظم لاہور ، پاکستان)

قراٰنِ کریم کی
تعلیم جہاں اللہ پاک کی عبادت کا حکم دیتی ہے وہیں انسان کو والدین کی اطاعت و
فرماں برداری اور ان کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنے کی تاکید بھی فرماتی ہے۔
قراٰنِ پاک میں 4سے زائد مقامات پر والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک اور ان کی اطاعت و
فرماں برداری کا مختلف انداز میں بیان ہے، لہٰذا والدین کی اطاعت ضروری ہے اور اس
میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
آئیے! والدین
کے حقوق کے متعلق پانچ احادیثِ مبارکہ ملاحظہ کیجئے:
(1)والدین
کی خدمت کرنا: ایک شخص نے حضور علیہ
السّلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر جہاد میں جانے کی اجازت مانگی تو آپ علیہ
السّلام نے فرمایا: تیرے والدین زندہ ہیں؟ عرض کی: جی ہاں، نبیِّ کریم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ان دونوں کی خدمت کر یہی تیرا جہادہے۔ (بخاری،
2/310، حدیث: 3004)
(2)والدین
کو ناراض نہ کرنا: حضرت ابو امامہ
رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم! ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے؟ فرمایا: وہ دونوں تیری جنّت اور
دوزخ ہیں۔(ابن ماجہ، 4/186،حدیث:3662) یعنی تیرے ماں باپ تیرے لئے جنّت دوزخ میں
داخلہ کا سبب ہیں کہ انہیں خوش رکھ کر تو جنتی بنے گا انہیں ناراض کرکے دوزخی، یہ
فرمان عالی وعدہ وعید دونوں کا مجموعہ ہے اگرچہ یہاں خطاب بظاہر خاص ہے مگر حکمِ
تا قیامت عام ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 6/540)
(3)ماں
باپ کو گالی نہ دینا: رسولُ اللہ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: یہ بات کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ آدمی
اپنے ماں باپ کو گالی دے۔ عرض کیا گیا: یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم! کوئی اپنے ماں باپ کو کیسے گالی دے سکتا ہے؟ فرمایا: اس کی صورت یہ ہے کہ
یہ دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اِس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے۔(بخاری،
4/94، حديث: 5973)
(4)والدین
کی قبر پر جانا: والدین کی وفات کے
بعد بھی اولاد پر والدین کا حق لازم ہے وہ یہ کہ ان کی قبر پر جائے ایصالِ ثواب
کرے تو یہ اس شخص کیلئے بھی باعثِ ثواب ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے: نبیِّ پاک
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک
کی قبر پر ہر جمعہ کو زیارت کے لئے حاضر ہو تو اللہ پاک اس کے گناہ بخش دے گا اور
وہ ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا لکھا جائے گا۔ (معجم اوسط للطبرانی،4/321،حديث:
6114)
(5)بڑھاپے میں
والدین کی خدمت کرنا: اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اُس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی
ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو) کسی نے عرض کیا: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہ کون ہے؟ حضور علیہ السّلام نے فرمایا: جس نے ماں باپ دونوں
یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا۔
(مسلم، ص 1060، حدیث: 6510)
اللہ ربُّ
العزّت ہمیں اچھےطریقے سے والدین کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی
ناراضی سے محفوظ فرمائے اور جنت کا حقدار بنائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے تعلیم و تربیت کے مختلف انداز اختیار فرمائے
ہیں، جن میں سے ایک اہم طریقہ چار چیزوں کے ذریعے نصیحت کرنا ہے۔ یہ احادیث نہ صرف
زندگی کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتی ہیں بلکہ ایک جامع تربیت کا سامان بھی فراہم
کرتی ہیں۔
چار
قسم کے دل: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے مختلف اقسام کے دلوں کی وضاحت فرمائی تاکہ ہم
اپنے دلوں کی حالت کا جائزہ لے سکیں اور اصلاح کی کوشش کریں۔حدیث: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا: الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ: قَلْبٌ
أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ يَزْهَرُ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَى
غِلَافِهِ، وَقَلْبٌ مَنْكُوسٌ، وَقَلْبٌ مُصْفَحٌ، فَأَمَّا الْقَلْبُ
الْأَجْرَدُ: فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ سِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ، وَأَمَّا الْقَلْبُ
الْأَغْلَفُ: فَقَلْبُ الْكَافِرِ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْكُوسُ: فَقَلْبُ
الْمُنَافِقِ عَرَفَ، ثُمَّ أَنْكَرَ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمُصْفَحُ: فَقَلْبٌ
فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ (مسند احمد، حدیث نمبر 17147)
ترجمہ: "دل چار قسم کے ہوتے ہیں: ایک صاف
دل جو چراغ کی طرح روشن ہے، ایک وہ دل جو غلاف میں بند ہے، ایک الٹا دل، اور ایک
دو رخی دل۔" بہرحال صاف دل مؤمن کا
دل ہے، بند دل کافر کا دل ہے، الٹا دل منافق کا دل ہے اور دو رخی دل جس میں ایمان
و نفاق دونوں ہوں ۔
چار
اعمال: چار اعمال کی طرف توجہ دلا
کر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں بہترین عملی زندگی گزارنے کی تلقین
فرمائی۔ حدیث: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: أربع من كن فيه كان
منافقًا خالصًا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا
اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر.(صحیح بخاری، حدیث نمبر 34)ترجمہ: "چار خصلتیں ایسی
ہیں کہ جو شخص ان کا حامل ہو، وہ خالص منافق ہے: جب امانت دی جائے تو خیانت کرے،
جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب عہد کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جب جھگڑا کرے تو بد
اخلاقی کرے۔"
یہ حدیث ہمیں
منافقت سے بچنے کی تلقین کرتی ہے اور ان چار اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن سے بچنا
ضروری ہے۔
چار
نعمتیں: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ان چار نعمتوں کی طرف اشارہ کیا جن کی قدر
کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ حدیث: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: من
أصبح منكم آمناً في سربه، معافى في جسده، عنده قوت يومه، فكأنما حيزت له الدنيا.(سنن ترمذی، حدیث نمبر 2346) ترجمہ: "جو
شخص صبح اس حال میں کرے کہ وہ اپنے گھر میں امن و امان سے ہو، اس کا جسم تندرست
ہو، اور اس کے پاس ایک دن کی روزی ہو، تو گویا اس کے لیے دنیا سمیٹ دی گئی۔"
تشریح: اس حدیث
میں چار نعمتوں کا ذکر ہے: امن، صحت، روزی، اور ایمان۔ ان کی قدر دانی کرنے کی
ضرورت ہے، کیونکہ یہ ایک کامیاب زندگی کے بنیادی عناصر ہیں۔
چار
نیکیاں: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے چار نیکیوں کو اختیار کرنے کی تلقین فرمائی
جو انسان کی روحانی ترقی میں مددگار ہیں۔ حدیث: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: أربع
إذا كن فيك فلا عليك ما فاتك من الدنيا: صدق الحديث، وحفظ الأمانة، وحسن الخلق،
وعفة مطعم.(مسند احمد، حدیث نمبر
13025) ترجمہ: "چار چیزیں اگر تم میں موجود ہوں تو دنیا کی کوئی بھی چیز
تمہارے ہاتھ سے چلی جائے تو فکر نہ کرو: سچ بولنا، امانت کی حفاظت، اچھے اخلاق،
اور حلال کھانے کی پابندی۔"
تشریح: یہ حدیث
ہمیں چار بنیادی نیکیوں کی تلقین کرتی ہے جو دنیا و آخرت میں کامیابی کا باعث ہیں۔
خلاصہ:نبی کریم
صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چار چیزوں کے بیان سے ہمیں اہم نصیحتیں فرمائیں۔
ان احادیث میں دلوں کی اقسام، منافقت سے بچنے کے اعمال، نعمتوں کی قدردانی، اور نیکیوں
کی تلقین شامل ہے۔ یہ نصیحتیں ہماری زندگی کو بہتر بنانے اور آخرت کی کامیابی کے لیے
نہایت اہم ہیں۔ ان پر عمل کر کے ہم ایک کامیاب اور باوقار زندگی گزار سکتے ہیں۔
ابو ثوبان عبدالرحمن عطاری (دورۂ حدیث مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور، پاکستان)

"تربیت
" عربی زبان سے ماخوذ ہے جس کے معنی "پرورش، ٹریننگ، تعلیم و
تادیب" کے ہیں یہ ایک ایسا عمل ہے جو معاشرے کے افراد کے ظاہروباطن کو بُری
خصلتوں سے پاک کرکےاچّھے اوصاف سے مزیّن کرتا اور انہیں معاشرے کا ایک باکردار فرد
بناتاہے، یہ عمل قول و فعل دونوں طریقوں سے سر انجام دیا جاتا ہے، اللہ پاک کا
کروڑہا کروڑ شکر ہے جس نے ہمیں ہمارے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
امت میں پید ا فرمایا کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی کے جس گوشے پر بھی نظر ڈالیے آپ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کامل ومکمل نظرآئیں گے، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی مربیانہ زندگی پر نظر کریں تو دنیا کے تمام ہی معلّمین آپ کے خوشہ
چین نظر آئیں، مزید وہ چاہے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ازدواجی زندگی ہو
، چاہے وہ مجاہدانہ وسپاہیانہ زندگی ہو ،چاہے وہ بچوں کے ساتھ آپ کے کا حسنِ سلوک
ہو،جس طرح پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے اپنے افعال وکردار سے تربیت فرمائی اسی طرح اپنے فرامین سے بھی تربیت
فرمائی۔آیئے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کے وہ اقوال جن سے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چار چیزوں
کے ذریعے تربیت فرمائی ملاحظہ فرمائیے۔
چار چیزوں کا حکم: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ
قبیلہ عبدالقیس کا نمایندہ وفد جب نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں آیا تو حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پوچھا کہ تم کون قوم یا کون وفد ہو ؟ عرض کیا ہم ربیعہ ہیں فرمایا
:یہ وفد یا قوم خوب اچھے آگئے کہ نہ رسوا ہوئے نہ شرمندہ عرض کیا یارسول اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہم آپ تک صرف محترم مہینہ میں آسکتے ہیں کیونکہ ہمارے اور آپ
کے درمیان کفار مضر کا قبیلہ حائل ہے لہذا ہمیں فیصلہ کُن خبر فرمادیں جس کی خبر
ہم اپنے پیچھے والوں کوبھی دے دیں اور ہم جنت میں بھی پہنچ جائیں اور انہوں نے
حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم سے شرابوں کے متعلق پوچھا تو حضور نے انہیں
چارچیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا۔ا ﷲ پر ایمان لانے کا حکم فرمایا
۔اور فرمایا: کیا جانتے ہوصرف اﷲ پر ایمان لانا کیا ہے؟ وہ بولے اﷲ اور رسول جانیں
۔ فرمایا: یہ گواہی دینا کہ اﷲ کے سواء کوئی لائق عبادت نہیں اورمحمد اﷲ کے رسول
ہیں اور نماز قائم رکھنے، زکوۃ دینے ، رمضان کے روزے کا اور فرمایا کہ مال غنیمت
میں سے پانچواں حصہ حاضرکرو ۔ (صحیح البخاری، ج:1،
کتاب العلم ، حدیث:87)
چار چیزوں سے پناہ مانگے:حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے کوئی جب دوسری التحیات سے فارغ ہو تو چار
چیزوں سے پناہ مانگے دوزخ اور قبر کے عذاب سے زندگی اور موت کے فتنوں سے مسیح دجال
کی شرارت سے۔(مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح،ج:2،حدیث:940)
دنیا و آخرت کی بھلائی : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ’’جسے چار چیزیں ملیں اسے دنیا و آخرت کی بھلائی ملی۔ (1) شکر
گزار دل (2) یادِ خدا کرنے والی زبان (3) مصیبت پر صبر کرنے والا بدن (4) ایسی
بیوی کہ اپنے نفس اور شوہر کے مال میں گناہ کی مُتلاشی (یعنی اس میں خیانت کرنے
والی) نہ ہو۔(معجم الکبیر،طلق بن حبیب عن ابن عباس،11/109، حدیث:11275)
چار چیزوں کی دعا: حضرتِ سَیِّدُنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہ دعا مانگا کرتے
تھے: اے میرے پَرْوَردْگار! میں تجھ سے ہدایت ، تقویٰ ،پاکدامنی اور توَنگَری کاسو
ال کرتا ہوں۔(فیضان ریاض الصالحین، ص:606، حدیث :71)
مُفَسِّر شہِیر حکیم الامت مُفتِی
احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :تونگری (دولت مندی) سے مراد مخلوق کا
محتاج نہ ہونا، اللہ و رسول صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا حاجتمند رہنا ہے۔
اللہ پاک ہمیں آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک فرامین پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی
توفیق عطا فرمائے اور ہمیں فیضانِ انبیاء سے مالا مال فرمائے۔ اٰمِیْن
بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد عاصم اقبال عطاری (درجۂ
خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)

پیارے اسلامی
بھائیو! اللہ تبارک و تعالی نے انسانوں کی ہدایت اصلاح اور تربیت کے لیے اپنے پیارے
انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور ان کی بذات خود تربیت فرمائی پھر سرور دو عالم مالک
و مختار نبی رسول ہاشمی خاتم النبیین و خاتم المعصومین نے اپنے پیارے صحابہ کرام
علیہم الرضوان کی تربیت پر بڑا وقت لگایا جس کے سبب ایک امن والا اورمحبت والا
خوشگوار معاشرہ قائم ہوا لیکن آج ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آتی کیونکہ ہم تربیت یافتہ
کم اور تعلیم یافتہ زیادہ ہیں اگر آج ہی سے ہماری تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی توجہ
دی جائے تو وہ دن دور نہیں جس دن ایک ایسا معاشرہ قیام پذیر ہو جو محبت، رحم دلی،اور
احساس کا گہوارہ ہو۔
آئیے حضور علیہ
الصلوۃ والسلام کا اپنے امتیوں کی زندگی کے مختلف شعبوں میں تربیت فرمانے کو ملاحظہ
کرتے ہیں:
1:مومن
نہیں: روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی
اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک بندہ مؤمن نہیں ہوتا جب تک چار باتوں پر ایمان نہ
لائے (1)گواہی دے کے الله کے سواکوئی معبود نہیں اور میں الله کا رسول ہوں(2) مجھے
الله نےحق کےساتھ بھیجا(3) اور مرنے اورمرنےکے بعد اٹھنے(4) اور تقدیر پر ایمان
لائے ۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1, حدیث نمبر: 104)
2: چار چیزوں سے اللہ عزوجل کی پناہ: روایت ہے حضرت
ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں الہی
میں چار چیزوں سے تیری پناہ لیتا ہوں (1)اس علم سے جو نفع نہ دے(2)اس دل سے جس میں
عجز نہ ہو(3) اس نفس سے جو سیر نہ ہو (4)اس دعا سے جو سنی نہ جائے (مراۃ المناجیح
شرح مشکات المصابیح جلد نمبر 4, حدیث نمبر:2464)
3: چار چیزیں انبیاء علیہم السلام کی سنت سے ہیں: روایت
ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کہ
چار چیزیں پیغمبروں کی سنت سے ہیں (1)شرم (2)عطر (3) مسواک (4) نکاح ۔ خیال رہے کہ یہاں چار کا اعداد حصر کے لیے نہیں
ہے اور بھی بہت سنت انبیاء ہیں جن میں یہ چار بھی ہیں۔ ( مراۃ المناجیح شرح مشکات
المصابیح جلد 1,حدیث نمبر: 382)
4: منافق کی علامتیں: روایت ہے عبداللہ بن عمر سے فرماتے
ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کہ جس میں چار عیوب ہوں وہ نرا
منافق ہے اور جس میں ایک عیب ہو ان میں سے اس میں منافقت کا عیب ہوگا جب تک اسے
چھوڑ نہ دے (1)جب امانت دی جائے تو خیانت کرے (2)جب بات کرے تو جھوٹ بولے(3) جب
وعدہ کرے تو خلاف کرے (4)جب لڑے تو گالیاں بکے۔(مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد 1, حدیث نمبر:6)
شرح حدیث: منافق کی دو قسمیں ہیں 1 :منافق اِعتِقَادی 2:
منافق عملی منافق اعتقادی وہ ہے کہ زبان
سے تو اسلام کا اظہار کرتا ہو مگر اپنے دل میں کفر چھپائے ہوئے ہو۔ منافق اعتقادی
کافر ہے بلکہ کافر سے بھی بدتر ہے۔
منافق عملی وہ
ہے کہ جس کے ایمان و عقائد میں کوئی خرابی ونفاق نہیں ہوتا بلکہ وہ ظاہر اور باطن
میں مسلمان ہوتا ہے لیکن اس کے بعض اعمال اور خصلتیں منافقوں سے ملتی جلتی ہے اس
حدیث میں جس منافق کی چار خصلتوں کا ذکر ہے اس منافق سے مراد منافق عملی ہے اور
چاروں منافقانہ خصلتوں سے مراد منافقانہ عمل و کردار ہیں۔(مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح جلد 1, حدیث نمبر:6)
5: دین اور دنیا کی بھلائی مل گئی: روایت ہے حضرت ابن
عباس سے کہ رسول اللہ نے فرمایا چار چیزیں وہ ہیں جسے وہ دی گئیں اسے دین و دنیا کی
بھلائی دی گئی (1) شکر والا دل(2) ذکر والی زبان (3)جسم مصیبتوں پر صبر والا
اور(4) ایسی بیوی جو اپنے نفس اور اس کے مال میں بغاوت نہ کرے ۔(مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
,حدیث نمبر :3273)
محمد مدثر رضوی عطّاری (درجۂ سادسہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)

آپ صلی اللہ
تعالی علیہ والہ وسلم نے ہر مقام پر اپنی امت کی تربیت فرمائی مگر آپ صلی اللہ
تعالی علیہ والہ وسلم کی تربیت فرمانے کا انداز مختلف ہوا کرتا کبھی تو کوئی واقعہ
بیان فرما کر تربیت کی کبھی کسی عذاب کا تذکرہ فرما کر اسی طرح کبھی کسی نیکی کا
تذکرہ فرما کر اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے 4 چیزوں کے ذریعے بھی تربیت
فرمائی چنانچہ آپ بھی پانچ احادیث کریمہ ملاحظہ فرمائیے۔
(1)اللہ پر ایمان لانا کیا ہے، روایت ہے کہ ایک مرتبہ قبیلہ عبدالقیس کا نمایندہ
آیا تو انہوں نے حضور( صلی اللہ علیہ وسلم )سے شرابوں کے متعلق پوچھا تو حضور نے
انہیں چارچیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا۔ الله پر ایمان لانے کا
حکم فرمایا: کیا جانتے ہوصرف الله پر ایمان لانا کیا ہے وہ بولے الله اور رسول جانیں
فرمایا یہ گواہی دینا کہ الله کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اورمحمد الله کے رسول ہیں
اور نماز قائم رکھنے، زکوۃ دینے، رمضان کے روزے کا اور فرمایا کہ غنیمت میں سے
پانچواں حصہ حاضرکرو اور چار چیزوں سے منع فرمایا ٹھلیا سے،تونبی سے،لکڑی کی دوری
سے اور تارکول والے پیالے سے فرمایا یہ خود بھی یاد کرلو دوسروں کو اس کی خبر دے
دو (مسلم و بخاری)لفظ بخاری کے ہیں۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:17 )
(2)چار
چیزیں پیغمبروں کی سنتوں سے ہیں ، روایت ہے حضرت ابوایوب سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ چار چیزیں پیغمبروں کی سنتوں سے ہیں شرم۔ ایک
روایت میں ہے ختنہ، عطر ملنا،مسواک اور نکاح ( ترمذی) (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث
نمبر:382)
(3)وہ
نرا منافق ہے، روایت ہے عبداللہ ابن
عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس میں چار عیوب ہوں وہ
نرا منافق ہے اورجس میں ایک عیب ہو ان میں سے اس میں منافقت کا عیب ہوگا جب تک کہ
اُسے چھوڑ نہ دے جب امانت دی جائےتو خیانت کرے،جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے
تو خلاف کرے،جب لڑے تو گالیاں بکے ۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:56 )
(4)چار
چیزوں سے پناہ مانگے، روایت ہے
حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تم میں سے
کوئی جب دوسری التحیات سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے پناہ مانگے دوزخ اور قبر کے
عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنوں سے، مسیح دجال کی شرارت سے۔ (مسلم) (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 , حدیث
نمبر:940 )
(5)اس
وقت تک بندہ مؤمن نہیں ہوتا : روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک بندہ مؤمن نہیں ہوتا جب تک چار باتوں پر ایمان نہ
لائے گواہی دے کہ الله کے سواکوئی معبود نہیں اور میں الله کا رسول ہوں مجھے الله
نےحق کےساتھ بھیجا اور مرنے اورمرنےکے بعد اٹھنے اور تقدیر پر ایمان لائے (ترمذی،وابن ماجہ) (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث
نمبر:104 )
قارئین کرام
آپ نے پڑھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت فرمانے کے انداز ۔اللہ پاک سے دعا ہے
کہ وہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین بجاہ خاتم النبیین صلی
اللہ علیہ وسلم
عبدالحنان (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)

معاشرے کے
افراد کی اصلاح و تربیت ایک بہت ضروری امر ہے اور معاشرے کے افراد کا حُسنِ اخلاق
اور طرزِ زندگی تب ہی صحیح ہو گا کہ جب ان کی تربیت و اصلاح صحیح انداز میں ہوئی
ہو اسی تربیت و اصلاح کے لئے اللہ پاک نے پچھلی امتوں میں انبیائے کرام کو مبعوث
فرمایا اور اس امت کے لئے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مبعوث فرمایا
تا کہ اس امت کی بھی تربیت و اصلاح ہو سکے۔ زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں کہ جس
پر نبیِّ کریم علیہ السّلام نے تربیت و اصلاح نہ فرمائی ہو۔
قارئینِ کرام!
کائنات کے سب سے کامیاب ترین معلّم و مربّی کی تربیت کا طریقہ مختلف انداز میں
ہوتا تھا انہی طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم چار چیزوں کا ذکر کرکے مختلف موضوعات پر معاشرے کی تربیت فرماتے:
آئیے! چند ایسے
ارشادات ملاحظہ فرمائیں جن میں چار چیزوں کو بیان کرکے تربیت فرمائی:
(1)منافق
کی چار خصلتیں: نبیِّ کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی
وہ ہوں گی وہ پکا منافق ہوگا۔ یا ان چار میں سے اگر ایک خصلت بھی اس میں ہے تو اس
میں نفاق کی ایک خصلت ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ (1)جب امانت دی جائے تو خیانت
کرے (2)جب بات کرے تو جھوٹ بولے(3)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (4)جب لڑے تو
گالیاں بکے۔(بخاری،1/25، حدیث: 34)
(2)چار
اشخاص اللہ کی ناراضی میں: رسولُ
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: چار قسم کے لوگ صبح و شام
اللہ پاک کی ناراضی اور غضب میں رہتے ہیں: پوچھا گیا وہ کون ہیں؟ آپ علیہ السّلام
نے فرمایا: (1)وہ مرد ہیں جو عورتوں کی شکل اختیار کرتے ہیں (2)وہ عورتیں جو
مَردوں کی شکل اختیار کرتی ہیں (3)وہ شخص جو جانوروں سے جماع کرتا ہے اور (4)وہ جو
مَردوں سے جماع کرتا ہے۔(شعب الایمان،4/365، حدیث: 5285)
(3)چار
اشخاص پر اللہ کا غضب: اللہ پاک
کے آخری نبی مکی مدنی، محمدِ عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
چار اشخاص ایسے ہیں جن پر اللہ پاک کا غضب ہے: (1)قسمیں اُٹھا اٹھا کر سودا بیچنے
والا (2)تکبر کرنے والا فقیر (3)بوڑھا زانی (4)ظالم حکمران۔(شعب الایمان،4/220،
حدیث: 4853)
(4)حرمت
والے مہینے: نبیِّ کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، چار مہینے
اس میں سے حرمت کے ہیں تین تو پے در پے ہیں ذو القعدہ، ذوالحجہ، محرم اور (چوتھا)
رجب جو جُمادَی الاُخریٰ اور شعبان کے بیچ میں آتا ہے۔(دیکھئے: بخاری، 4/235،
حدیث: 4662)
اللہ پاک ہمیں
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامین پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد عبداللہ امین (درجۂ ثانیہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ
لاہور، پاکستان)

پیارے پیارے
اسلامی بھائیوں اللّہ تعالیٰ کے نبی اپنی امت کو اللّہ تعالیٰ کے پیغامات سناتے ہیں
اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ ہم آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے
انشاءاللّہ (عزوجل) آج اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت صالح علیہ السلام کی کچھ قرآنی نصیحتیں
پڑھئے:
1)
حضرت صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کی طرف بھیجنے کا قرآن میں ذکر : وَ
اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًاۘ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ
مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-هٰذِهٖ نَاقَةُ
اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا
تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(73) ترجمۂ کنز الایمان : اور ثمود کی طرف ان کی برادری سے
صالح کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بیشک
تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی
تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں
درد ناک عذاب آلے گا۔(پارہ 8 سورۃ الاعراف آیت 73)
2)حضرت
صالح علیہ السلام کا خلوص و للہیت:حضرت
صالح علیہ السلام نے قوم سے یہ بھی فرمایا:وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى
ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ(45) ترجمۂ کنز الایمان : اور بیشک ہم نے ثمود کی
طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ اللہ کو پوجو تو جبھی وہ دو گروہ ہوگئے جھگڑا
کرتے۔(پارہ 19 سورۃ النمل آیت 45)
3)دعوت و تبلیع کی اجرت نہیں
لیتا:وَ
مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ
الْعٰلَمِیْنَ (145) ترجمۂ کنز
الایمان : اور میں تم سے کچھ اس پر اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو
سارے جہان کا رب ہے۔(پارہ 19 سورۃ الشعراء آیت 145) تفسیر کبیر میں یہ بھی مذکور
ہے کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم میں سب سے زیادہ ذہین ، انتہائی فہم و فراست والے،
فراخ دل اور بڑے حوصلہ مند شخص تھے۔ یونہی
غریب و نادار لوگوں کی مالی امداد کرنا اور بیماروں کی عیادت و خدمت کرنا آپ علیہ
السلام کا عام معمول تھا۔ (تفسیر کبیرـ ھود تحت الایۃ 62 6/ 368 ملخصاً)
4)قوم
کو عبادت الہی اور توبہ واستغفار کی دعوت :آپ علیہ السلام نے قوم کو وحدانیتِ باری تعالٰی پر ایمان لانے اور صرف اسی
کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور فرمایا:وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًاۘ-قَالَ
یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-هُوَ اَنْشَاَكُمْ
مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا
اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ(61) ترجمۂ کنز الایمان : اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صا
لح کو کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں
زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہیں بسایا تو اس سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع
لاؤ بیشک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا۔(پارہ 12 سورۃ الھود آیت 61)
اللہ تعالیٰ
ہمیں حضرت صالح علیہ السلام کی نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ثم
آمین
محمد عبداللہ امین (درجۂ ثانیہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ
لاہور، پاکستان)

پیارے پیارے
اسلامی بھائیوں اللّہ تعالیٰ کے نبی اپنی امت کو اللّہ تعالیٰ کے پیغامات سناتے ہیں
اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ ہم آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے
انشاءاللّہ (عزوجل) آج اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت صالح علیہ السلام کی کچھ قرآنی نصیحتیں
پڑھئے:
1)
حضرت صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کی طرف بھیجنے کا قرآن میں ذکر : وَ
اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًاۘ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ
مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-هٰذِهٖ نَاقَةُ
اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا
تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(73) ترجمۂ کنز الایمان : اور ثمود کی طرف ان کی برادری سے
صالح کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بیشک
تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی
تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں
درد ناک عذاب آلے گا۔(پارہ 8 سورۃ الاعراف آیت 73)
2)حضرت
صالح علیہ السلام کا خلوص و للہیت:حضرت
صالح علیہ السلام نے قوم سے یہ بھی فرمایا:وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى
ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ(45) ترجمۂ کنز الایمان : اور بیشک ہم نے ثمود کی
طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ اللہ کو پوجو تو جبھی وہ دو گروہ ہوگئے جھگڑا
کرتے۔(پارہ 19 سورۃ النمل آیت 45)
3)دعوت و تبلیع کی اجرت نہیں
لیتا:وَ
مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ
الْعٰلَمِیْنَ (145) ترجمۂ کنز
الایمان : اور میں تم سے کچھ اس پر اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو
سارے جہان کا رب ہے۔(پارہ 19 سورۃ الشعراء آیت 145) تفسیر کبیر میں یہ بھی مذکور
ہے کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم میں سب سے زیادہ ذہین ، انتہائی فہم و فراست والے،
فراخ دل اور بڑے حوصلہ مند شخص تھے۔ یونہی
غریب و نادار لوگوں کی مالی امداد کرنا اور بیماروں کی عیادت و خدمت کرنا آپ علیہ
السلام کا عام معمول تھا۔ (تفسیر کبیرـ ھود تحت الایۃ 62 6/ 368 ملخصاً)
4)قوم
کو عبادت الہی اور توبہ واستغفار کی دعوت :آپ علیہ السلام نے قوم کو وحدانیتِ باری تعالٰی پر ایمان لانے اور صرف اسی
کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور فرمایا:وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًاۘ-قَالَ
یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-هُوَ اَنْشَاَكُمْ
مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا
اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ(61) ترجمۂ کنز الایمان : اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صا
لح کو کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں
زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہیں بسایا تو اس سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع
لاؤ بیشک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا۔(پارہ 12 سورۃ الھود آیت 61)
اللہ تعالیٰ
ہمیں حضرت صالح علیہ السلام کی نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ثم
آمین
ابو ثوبان عبدالرحمن عطّاری (دورۂ
حدیث مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
جوہر ٹاؤن لاہور، پاکستان)

نصیحت کا لغوی معنی "اچھی
بات،اچھا مشورہ،خیر خواہی " کے ہیں (فیروزاللغات اردو، ص:1362)
وقتاً فوقتاً وعظ و نصیحت دینی ،
اخلاقی،روحانی اور معاشرتی زندگی کے لیے ایسے ہی ضروری ہے جیسے طبیعت خراب ہونے کی
صورت میں دوا ضروری ہے۔ نصیحت قولی صورت میں بھی ہوتی ہے اور فعلی صورت میں بھی، لوگوں
کو اللہ پاک اور اس کے آخری نبی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسندیدہ باتوں کی طرف بلانے اور
ناپسندیدہ باتوں سے بچانے کا ، دل میں نرمی پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ وعظ
و نصیحت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر
مختلف انداز سے نصیحت فرمائی۔اسی طرح انبیاء کرام علیھم السلام نے بھی اپنی قوموں
کو قولی اور عملی نصیحتیں فرمائیں،جن کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ملتاہے۔ انہی
انبیاء کرام علیھم السلام میں سے حضرت صالح علیہ السلام بھی ہیں جنہوں نے اپنی قوم
کو مختلف مقامات پر نصیحتیں فرمائیں ، جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے اور توبہ و استغفار کی
نصیحت:ارشاد باری تعالیٰ ہے:قَالَ
یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ- هُوَ اَنْشَاَكُمْ
مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا
اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ(۶۱)ترجمہ کنزالعرفان: فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا
تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی میں تمہیں آباد کیا
تو اس سے معافی
مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو ۔ بیشک میرا رب قریب ہے ،دعا سننے والا ہے (سورہ ھود61:)
غفلت چھوڑنے کی نصیحت:ارشاد باری تعالیٰ ہے:اَتُتْرَكُوْنَ
فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ(۱۴۶) فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۱۴۷) وَّ زُرُوْعٍ
وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ(۱۴۸) وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا
فٰرِهِیْنَۚ(۱۴۹) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۵۰) وَ لَاتُطِیْعُوْۤا
اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۵۱) الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)
ترجمہ کنزالعرفان: کیا تم یہاں (دنیا)
کی نعمتوں میں امن و امان کی حالت میں چھوڑ دئیے جاؤ گے؟ باغوں اور چشموں میں ۔
اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کا شگوفہ نرم ونازک ہوتاہے ۔ اور تم بڑی مہارت
دکھاتے ہوئے پہاڑوں میں سے گھر تراشتے ہو۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور
حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو۔ وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح
نہیں کرتے ۔(سورہ شعراء:152-146)
بھلائی
اور بخشش مانگنے کی نصیحت:ارشاد
باری تعالیٰ ہے:قَالَ
یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِۚ-لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ
اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۴۶)ترجمہ
کنزالعرفان:صا لح نے فرمایا: اے میری قوم! بھلائی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے
ہو؟تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے ؟ ہوسکتا ہے تم پر رحم کیا جائے۔ (سورۃالنمل:
46)
اونٹنی
کو چھوڑے رکھنے اور برائی سے نہ چھونے کی نصیحت:ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ یٰقَوْمِ
هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ
وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ(۶۴)ترجمہ کنزالعرفان:اور اے میری قوم! یہ تمہارے لئے نشانی
کے طور پر اللہ کی اونٹنی ہے تو اسے چھوڑ دو تاکہ یہ اللہ کی زمین میں کھاتی رہے
اور اسے برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا ورنہ قریب کا عذاب تمہیں پکڑ لے گا (سورہ
ھود:64)
اللہ پاک ہمیں انبیائے کرام علیہم
السلام کی مبارک نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے نیکیاں
کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں فیضانِ انبیاء سے مالا مال فرمائے۔ اٰمِیْن
بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
عبد العزیز (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار
لاہور، پاکستان)

اللہ پاک نے
سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے پسلی سے حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو پیدا فرما کر انسانیت کی ابتدا
فرمائی پھر اللہ پاک نے انہیں اولاد کی نعمت سے نوازا جس سے رفتہ رفتہ
انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور لوگ مختلف علاقوں اور خطوں میں آباد ہوتے
چلے گئے ابتدا میں تو سب لوگ توحید و مذہب کے ماننے والے تھے پھر جیسے جیسے وقت
گزرتا گیا لوگوں نے شیطان کےبہکاوے میں ا ٓکر اللہ پاک کی بندگی کو چھوڑ کر بتوں
کو اپنا معبود سمجھ لیا اللہ عزوجل نے ان لوگوں کی اصلاح کے لیے انبیاء و مرسلین
علیہم السلام کو روشن نشانیوں اور معجزات کے ساتھ بھیجا اور لوگوں کی ہدایت و نصیحت
کے لیے ان انبیاء مرسلین علیہم السلام پر صحیفے اور کتابیں نازل فرمائی ان سب کی
دعوت اور تبلیغ و نصیحت یہی تھی کہ ایک خدا کو مانو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ
صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کے انبیاء و مرسلین علیہم السلام پر ایمان لاؤ اور ان
کی اطاعت کرو مگر انہوں نے ان انبیاء و مرسلین علیہم السلام پر ایمان لانے کے
بجائے ان کی تکذیب کی اور عذاب الہی کے مستحق ہوئے ۔
ان انبیاء علیہم
السلام میں سے ایک نبی حضرت صالح علیہ السلام بھی ہیں آپ نے اپنی قوم کو توحید و
رسالت کی دعوت دی اور اللہ پاک کے عذاب سے ڈرایا مگر انہوں نے آپ کی دعوت کو
ماننے سے انکار کر دیا اور عذاب الہی میں گرفتار ہو گئے آئیے آپ علیہ السلام نے
اپنی قوم کو جو نصیحتیں کی ان میں سے کچھ سنتے ہیں ۔
1:-
قوم کو عبادت الہی کی دعوت :آپ علیہ
السلام نے قوم کو اللہ عزوجل کے ایک ہونے پر ایمان لانے اور صرف اسی کی عبادت کرنے
کی دعوت دی جیسا کہ قران پاک میں ارشاد ہوتا ہے : وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ
صٰلِحًاۘ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ ترجمہ کنز العرفان : اور قوم ثمود کی طرف ان کے
ہم قوم صالح کو بھیجا صالح نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا
تمہارا کوئی معبود نہیں۔ ( پ 8 ،الاعراف:73 )
2
:-قوم کو زمین میں فساد پھیلانے سے منع کرنا :آپ
علیہ السلام نے قوم کو اللہ پاک کی نعمتیں یاد کرنے اور زمین میں کفر اور گناہ
کرنے سے بچنے کی دعوت دی کیونکہ گناہ، سرکشی اورکفر کی وجہ سے زمین میں فساد پھیلتا
ہے جیسا کہ قران پاک میں ارشاد ہوتا ہے ۔فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ
وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۷۴) ترجمہ کنز العرفان: تو
اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱۴۴) اور زمین
میں فساد مچاتے نہ پھرو۔ ( پ 8 ،الاعراف: 74 )
3:-قوم
کو توبہ و استغفار کی دعوت : آپ
علیہ السلام نے قوم کو اللہ پاک کی نعمتیں یاد دلا کر اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی
معافی مانگنے اور شرک سے کنارہ کشی کر کے اسی کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی جیسا کہ
قران پاک میں ہے۔ فَاسْتَغْفِرُ
وهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ ترجمہ کنز العرفان : تو اس سے معافی مانگو پھر اس کی طرف
رجوع کرو بے شک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا ہے۔ (پ 12 هود۔61 )
4:-
قوم کو عذاب الہی سے ڈرانا :آپ علیہ
السلام نے قوم کو اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرنے اور اپنے اطاعت کرنے کی دعوت دی چنانچہ قران پاک میں ہے ۔ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ترجمہ کنز العرفان تو اللہ سے ڈرو اور میری
اطاعت کرو۔ (پ 19 الشعراء ،150)
5:-
قوم کو مشرکوں کی پیروی کرنے سے منع کرنا: آپ علیہ السلام نے قوم کو مشرکین کی اتباع سے منع کرتے ہوئے فرمایا چنانچہ قران پاک میں ارشاد ہے وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ
ترجمہ کنز العرفان : اور حد سے
بڑھنے والوں کے کہنے پہ نہ چلو۔ (پ 19 الشعراء ،151)
حضرت عبداللہ
بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ مُسرفین سے مراد مشرکین ہے ( صراط الجنان تحت
الايۃ 151 )اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سابقہ قوموں کے انجام سے عبرت و نصیحت
حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن
بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد فیصل فانی بدایونی (درجۂ سابعہ
جامعۃُ المدینہ پیراگون سٹی لاہور ، پاکستان)

اللہ تعالی نے
لوگوں کی اصلاح کے لیے انبیا کو مبعوث کیا۔ ان نفوس قدسیہ کی بعثت کی کڑی میں سے ایک
حضرت صالح علیہ السلام ہیں۔ آپ اللہ تعالی کے جلیل القدر نبی ہیں۔ انبیاء کی بعثت
کا مقصد عظیم قوم کو کفر کی اندھیری کوٹھڑیوں سے نکال کر نور توحید سے منور کرنا
ہوتا ہے نیز انکے اعمال سیئات کی نہ صرف نشاندہی کرنی ہوتی بلکہ برے اعمال کے انجام
سے ڈرانا بھی ہوتا ہے۔ تاکہ مخلوق خدا امن و امان کے ساتھ زیست کی سڑھیاں عبور
کرے۔ اسی طرح اسی مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے خالقِ کائنات نے حضرت صالح علیہ
السلام کو مبعوث فرمایا ۔ پھر آپ نے قوم کی اصلاح کے لیے ہر طرح کی کوشش کی۔
طلب
بخشش کا حکم دینا:- قَالَ یٰقَوْمِ
لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِۚ-لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ
اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۔ ترجمۂ
کنز العرفان: صا لح نے فرمایا: اے میری قوم! بھلائی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں
کرتے ہو؟تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے ؟ ہوسکتا ہے تم پر رحم کیا جائے۔ (پارہ
19،سورۃالنمل ،آیت نمبر46)
بد
شگونی اور آزمائش میں فرق:- قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَؕ-قَالَ
طٰٓىٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ۔ ترجمۂ کنز العرفان: انہوں نے کہا:ہم نے تم سے
اور تمہارے ساتھیوں سے برا شگون لیا۔ صالح نے فرمایا: تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس
ہے بلکہ تم ایک ایسی قوم ہو کہ تمہیں آزمایا جارہا ہے۔(پارہ 19،سورۃالنمل ،آیت
نمبر 47)
رجوع
الی اللہ کی ترغیب دینا:- وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًاۘ-قَالَ
یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-هُوَ اَنْشَاَكُمْ
مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا
اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ۔ ترجمۂ کنز الایمان:اور
ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صا لح کو کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا
کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہیں بسایا تو اس سے
معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ بیشک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا۔(پارہ 12،
سورۃ ھود آیت نمبر:61)
گزشتہ قوموں کے اعمال سے سبق سکھانا:-وَ
اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی
الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ
بُیُوْتًاۚ-فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ
مُفْسِدِیْنَ۔(پارہ 8،سورۃالاعراف،آیت
نمبر،74) ترجمۂ کنز العرفان: اور یاد کرو جب اس نے تمہیں
قومِ عاد کے بعد جانشین بنایا اور اس نے تمہیں زمین میں ٹھکانا دیا ، تم نرم زمین
میں محلات بناتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے تھے تو اللہ کی نعمتیں یاد
کرو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔(پارہ 8،سورۃالاعراف،آیت نمبر،74)
باری مقرر کرنا:- قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ
شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ۔ ترجمۂ
کنز العرفان: صالح نے فرمایا: یہ ایک اونٹنی ہے، ایک دن اس کے پینے کی باری ہے اور
ایک معیّن دن تمہارے پینے کی باری ہے۔(پارہ 19،سورۃ الشعراء آیت نمبر155)
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کی خرابیوں کی
نشاندہی بھی کی اور ان کی اصلاح بھی فرمائی۔ کبھی ان کو رب کی
نعمتیں یاد دلائیں۔ اور کبھی خدا کے عذاب سے ڈرایا ۔ جس طرح ممکن ہو سکا آپ نے
اصلاح فرمانے کی کوشش کی۔ حضرت صالح علیہ السلام کے خصائص میں سے یہ ہے ان کے پاس
ایک اونٹنی تھی ۔اس کو نحر کرنے سے منع فرمایا۔ کیونکہ یہ الله تعالٰی کی نشانی
ہے۔ اور اس کا احترام کرنے کا حکم دیا۔ مگر وہ رجعت پسند قوم اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی اور اس کو نحر کر کے عذاب
خداوندی کی مستحق ٹھہری۔ ہمیں بھی گزشتہ امتوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور ہر وہ چیز
جس سے اللہ تعالی اور اسکے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے اس سے بچنا چاہیے تاکہ ہم کامیابی
سے سرفراز ہو سکیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے ہمیں اپنی اور اپنے رسول کی پیروی کرنے
اور رب کی تمام برگزیدہ ہستیوں اورمقدس اشیاء کا اکرام کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین
محمد عثمان سعید (درجہ سابعہ جامعۃُ
المدینہ فیضان غریب نواز شیرانوالہ گیٹ لاہور ، پاکستان)

اللہ پاک نے
حضرت صالح علیہ السّلام کو قومِ ثمود کی طرف رسول بناکر بھیجا۔آپ علیہ السّلام نے
انہیں صرف اللہ پاک کی عبادت کرنے اور بتوں کی پوجا چھوڑنے کی دعوت دی تو چند لوگ
ایمان لائے اور اکثریت کفر و شرک پر ہی قائم رہی۔قوم کے مطالبے پر آپ علیہ
السّلام نے انہیں اونٹنی کا معجزہ بھی دکھایا اور اس کے متعلق چند احکامات دیئے۔
تھوڑے عرصے بعد قوم نے احکامات سے روگردانی کی اور اونٹنی کو بھی قتل کر دیا۔ پھر
ایک گروہ نے آپ علیہ السّلام کے گھر پر حملہ کرکے شہید کرنے کی سازش کی تو نتیجہ
میں وہ سازشی گروہ عذابِ الٰہی سے ہلاک ہوگیا اور بقیہ منکرین تین دن بعد عذابِ
الٰہی کے شکار ہوئے۔
آئیے! حضرت
صالح علیہ السّلام کی قراٰنِ کریم میں مذکور نصیحتوں میں سے 5 نصیحتیں پڑھئے:
(1)عذابِ الٰہی سے ڈرانے کی نصیحت: قومِ ثمود کو حضرت
صالح علیہ السّلام نے تکذیب و اِنکار کرنے پر عذابِ الٰہی سے ڈرایا۔ چنانچہ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ(۱۴۱) اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ
اَلَا تَتَّقُوْنَۚ(۱۴۲) اِنِّیْ
لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۴۳) فَاتَّقُوا
اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِۚ(۱۴۴)﴾ ترجَمۂ کنزُ الایمان: ثمود نے رسولوں کو
جھٹلایا جب کہ اُن سے ان کے ہم قوم صالح نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں بےشک میں تمہارے
لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔(پ19،الشعرآء:141تا144)
(2)بخشش مانگنے کی نصیحت کرنا:عذابِ الٰہی کی بات سُن
کر قوم نے کہا: اے صالح علیہ السّلام اگر تم واقعی رسول ہو تو عذاب لے آؤ جس سے
تم ہمیں ڈراتے ہو۔ تو آپ نے قوم کو اللہ سے بخشش مانگنے کی نصیحت کی جیسا کہ
قراٰنِ پاک میں ہے:﴿قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ
قَبْلَ الْحَسَنَةِۚ-لَوْلَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۴۶)﴾ترجَمۂ کنزُالایمان:صالح نے فرمایا اے میری
قوم کیوں برائی کی جلدی کرتے ہو بھلائی سے پہلے اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے شاید
تم پر رحم ہو۔(پ19،النمل:46)
(3)غفلت پر نصیحت: نعمتوں کی فراوانی سے قومِ ثمود غفلت
کی شکار ہوگئی تھی جس پر آپ علیہ السّلام نے انہیں جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا:﴿اَتُتْرَكُوْنَ
فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ(۱۴۶)﴾
ترجَمۂ کنزُالایمان: کیا تم یہاں کی نعمتوں میں چین سے چھوڑ دئیے جاؤ گے۔(پ19،الشعرآء:146)
(4)اللہ پاک پر ایمان لانے اور اسی کی عبادت کرنے کی نصیحت:
آپ علیہ السّلام نے قوم کو وحدانیتِ باری تعالیٰ پر ایمان لانے اور صرف اسی کی
عبادت کرنے کی نصیحت کی اور فرمایا: ﴿قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا
لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ ﴾ترجَمۂ کنزُالایمان: کہا اے میری قوم
اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ (پ12،ھود:61)
(5)معافی
چاہنے اور رجوع کرنے کی نصیحت:آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ اے میری قوم اللہ پاک
سے معافی چاہو اور اسی کی طرف رجوع کرو بیشک وہ دعا سنتا ہے،جیسا کہ قراٰنِ پاک
میں ہے: ﴿فَاسْتَغْفِرُوْهُ
ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ(۶۱)﴾ ترجَمۂ کنزالایمان: تو اس سے معافی چاہو
پھر اس کی طرف رجوع لاؤ بےشک میرارب قریب ہے دعا سننے والا۔(پ12،ھود:61)
اللہ پاک ہمیں
انبیائے کرام کی سیرت پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا
فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم