امجد عالم
(درجۂ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ راولپنڈی ، پاکستان)

تربیت کے لغوی
معنی ادب سکھانا ، ، کسی کی اصلاح کرنا،
اللہ تعالیٰ
نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو لوگوں کی طرف اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ
لوگوں کی تربیت کی جائے ۔حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مختلف اوقات میں اور مختلف انداز (کبھی اقوال سے اور کبھی افعال)سے اپنے غلاموں کی تربیت فرمائی۔کبھی
حضور علیہ السلام کا انداز یہ رہا کہ آپ
نے اعداد میں اپنی امت کی تربیت فرمائی۔درج ذیل میں حضور صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے
وہ پانچ فرامین بیان کیے جائیں گے ۔جن میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پانچ چیزوں کو ذکر فرمایا کر اپنی امت کی
رہنمائی فرمائی:
(1)
مسلمان کے پانچ حقوق ہیں: پیارے آقا
صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے حقوق کو بیان
فرمایا جیسا کہ بخاری شریف میں ہے ۔ عن أَبَی هُرَيْرَةَ
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ : رَدُّ
السَّلَامِ ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ ،وَإِجَابَةُ
الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :’’ پانچ چیزیں مسلمان کے مسلمان پر
حقوق میں شامل ہیں : (1)سلام کا جواب دینا (2) دعوت قبول کرنا (3)جنازے میں حاضر ہونا (4)بیمار کی عیادت کرنا (5)اور جب چھینکنے
والا اللہ کی تعریف کرے ( الحمدللہ کہے ) تو اسے دعا دینا ( یرحمك اللہ کہنا ) ۔ ( صحیح بخاری،کتاب الجنائز، باب
الأمر باتباع الجنائز، 244/1الحدیث:1240)
(2)
پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو: حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،
حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ’’پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے
غنیمت جانو۔ (1) اپنے بڑھاپے سے پہلے جوانی کو۔ (2)اپنی بیماری سے پہلے صحت کو۔(3) اپنی محتاجی سے پہلے مالداری کو۔(4) اپنی
مصروفیت سے پہلے فراغت کو۔(5) اپنی موت
سے پہلے زندگی کو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب،الرقاق، الفصل الثانی، 719/2 الحدیث:5173 )
(3)
پانچ چیزوں کے بارے میں سوال ہو گا:
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے
دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتّٰی کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے
گا۔ (1)اس کی عمر کے بارے میں کہ کس چیز میں
خرچ کی (2)اس کی جوانی کے بارے میں کہ کس
کام میں گزری (3، 4)اس کے مال کے بارے میں
کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا (5) اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کتنا عمل
کیا۔ ( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ و الرقائق و الورع، باب فی القیامۃ، 4 / 188،
الحدیث: 2424 بیروت)
(4)
پانچ ہلاک کر دینے والی چیزیں: حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
عَنْہُمَا فرماتے ہیں ، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ نے ہماری طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا: ’’اے مہاجرین! جب تم پانچ کاموں میں مبتلا کر دئیے جاؤ (تو تمہارا کیا حال ہو گا) اور میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان کاموں میں مبتلا ہو جاؤ:
(1)جب کسی قوم میں بے حیائی کے کام اِعلانیہ ہونے لگ جائیں تو ان میں طاعون اور وہ بیماریاں عام ہو جاتی
ہیں جو پہلے کبھی ظاہر نہ ہوئی تھیں (2) جب
لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو ان پر قحط اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں اور بادشاہ ان پر ظلم کرتے ہیں (3) جب لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بارش کو روک دیتا ہے،اگر زمین
پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا (4) جب لوگ اللہ
تعالیٰ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عہد کو
توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر
دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے اوروہ ان کا
مال وغیرہ سب کچھ چھین لیتے ہیں ۔ (5) جب مسلمان حکمران اللہ تعالیٰ کے قانون کو
چھوڑ کردوسرا قانون نافذکرتے ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے کچھ پر عمل کرتے اور کچھ کو چھوڑدیتے ہیں
تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اختلاف پیدا
فرما دیتا ہے۔ ( ابن ماجہ، کتاب
الفتن باب العقوبات 2/ 496، الحدیث: 1818
ضیاء القرآن)
(5)
پانچ چیزیں انبیاء کی سنت ہیں:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ’’پانچ چیزیں فطرت سے
ہیں ، یعنی انبیاء سابقین علیہم السلام کی
سنت سے ہیں ۔ (1) ختنہ کرنا اور(2) موئے
زیرِ ناف مونڈنا اور (3) مونچھیں کم کرنا
اور (4)ناخن ترشوانا اور (5) بغل کے بال اُکھیڑنا۔ ( صحیح مسلم ،کتاب الطھارۃ،باب خصال الفطرۃ،1/ 161 الحدیث: 597 رحمانیہ)
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامین پر عمل کرنے کی
توفیق فرمائے اورحضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم
فہد ریاض عطاری ( درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ ملتان ، پاکستان)

ایک مسلمان کی
زندگی میں پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث مبارکہ کی بے
انتہا اہمیت ہے کلام اللہ( قرآن مجید) کے بعد کلام رسول (حدیث شریف) کا ہی درجہ
ہے ، کوئی بھی کلام اس سے بڑھ نہیں سکتا۔
حدیث مبارک ہی
سے انسان کو معرفتِ الہی حاصل ہوتی ہے اور معرفتِ الہی ہی توحید کی اصل ہے، حدیث
مبارک ہی مسلمان کو عبادت کا طریقہ سکھاتی ہیں اور عبادات کا شرعی مفہوم بھی احادیث
سے ہی ملتا ہے حدیث مبارکہ زندگی کے ہر ہر شعبے میں رہنمائی فرماتی ہیں، خواہ وہ
سیاسی شعبہ ہو یا کاروباری خواہ وہ سائنس ہو یا نجی زندگی، دینی معاملات ہوں یا
دنیوی۔
پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چند وہ فرامین پڑھیے جس میں پانچ چیزوں کے بیان سے تربیت فرمائی ہے اور
عمل کی نیت کیجئے :
(1) حضرت سیِّدُنا
ابو عبد الرحمٰن عبد اللہ بن عُمَر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:میں نے رسولِ پاک
صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ”اِسلام کی بنیاد پانچ چیزوں
پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ پاک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور
بےشک حضرت محمد صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلّم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، بیْتُ اللہ کا حج
کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“( بخاری، كتاب الايمان، باب دعائكم ايمانكم، 1/
14، حدیث:8۔ مسلم، کتاب الایمان، باب ارکان الاسلام...الخ، ص 37، حدیث:113)
(2) حضرت ابو
موسیٰ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم میں نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزیں بتانے کیلئے قیام فرمایا: (1) یقینًا
الله تعالٰی نہ سوتا ہے نہ سونا اس کے لائق ہے (2) پلہ یا رزق جھکاتا یا اٹھاتاہے (3) اس کی بارگاہ میں رات کے اعمال دن کے اعمال سے
پہلے اور دن کے اعمال رات کے اعمال سے پہلے پیش ہوجاتے ہیں (4) اس کا پردہ نور ہے (5) اگر پردہ کھول دے تو اس کی ذات کی شعاعیں(تجلیات)
تاحدِ نظر مخلوق کو جلادیں ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:91)
مراۃ المناجیح
میں ہے : یعنی آپ وعظ کے لیے کھڑے ہوئے اور وعظ میں یہ پانچ چیزیں بیان فرمائیں۔
(الله تعالٰی نہ سوتا ہے نہ سونا اس کے لائق ہے) کیونکہ نیند ایک قسم کی موت ہے
اسی لیے جنت دوزخ میں نیند نہ ہوگی رب تعالٰی موت سے پاک ہے،نیز نیندتھکن اتارنے
اور آرام کے لئے ہوتی ہے۔پروردگار تھکن سے پاک ہے ارشاد فرماتا ہے:"وَمَا مَسَّنَا مِنْ
لُغُوبٍ "اس میں ان
مشرکین کا رد ہے جو کہتے تھے کہ الله تعالٰی دنیا بنا کر تھک گیا اب دنیا کا کام
ہمارے بُت چلا رہے ہیں۔معاذ اللہ
(اس کا پردہ
نور ہے ) یعنی اللہ تعالٰی نور ہے مخلوق کثیف، اس لیے مخلوق اسے نہیں دیکھ سکتی۔مرقاۃ
میں ہے کہ ہمارے حضور نے اپنے رب کو دنیا میں اس لیے دیکھ لیا کہ حضور خود نور ہوگئے تھے نیز حضور نے
دعا مانگی تھی۔"وَاجْعَلنِی نُورًا"خدایا
مجھے نور بنادے حضور کی دعا قبول ہوئی اور آپ نور ہوگئے۔
(اگر پردہ
کھول دے تو اس کی ذات کی شعاعیں(تجلیات) تاحدِ نظر مخلوق کو جلادیں) یہ طاقت
فرشتوں کو بھی اور دیگر مخلوقات کو بھی نہیں ہے یہ طاقت تو ہمارے حضور کی تھی کہ
معراج میں عین ذات کو بغیرحجاب دیکھا اورپلک بھی نہ جھپکایا رب تعالٰی
فرماتاہے:"مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی"۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:91)
(3) حضرت
ابودرداء سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یقینًا
اللہ تعالٰی اپنی مخلوق میں ہر بندہ کے متعلق پانچ چیزوں سے فارغ ہوچکا ہے اس کی
موت سے، اس کے عمل سے ہر حرکت وسکون سے اور اس کے رزق سے۔(مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:113)
اس حدیث کی
شرح میں ہے: یعنی اٹل فیصلہ فرماچکا ورنہ رب تعالٰی مشغولیت اور فراغت سے پاک ہے
اگرچہ رب تعالٰی کا فیصلہ ہر قسم کا ہو چکا ہے مگر خصوصیت سے ان پانچوں کا ذکر اس
لیے فرمایا کہ انسان کو ان کی فکر زیادہ رہتی ہے مطلب یہ ہے کہ تم ان فکروں میں
زندگی برباد کیوں کرتے ہو جو فیصلہ ہوچکا وہ ہو کر رہے گا۔ (مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:113)
(4) حضرت سیدنا
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ،
مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد
فرمایا : ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں : سلام کا جواب دینا ، بیمار
کی عیادت کرنا ، جنازوں کے پیچھے چلنا ، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔
‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 حدیث نمبر:238)
اللہ پاک ہمیں
ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

معاشرے کے
افراد سے بُری خصلتوں کو دور کر کے انہیں اچھی خصلتوں سے آراستہ کرنا انبیائے کرام
علیہمُ السّلام کا طریقہ ہے۔ نور والے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کا اندازِ تربیت ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ الله پاک کے سب سے آخری
نبی حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مختلف مواقع پر اپنی اُمت کی تربیت
فرمائی۔ ان میں سے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پانچ چیزوں کے بیان
سے اپنی اُمت کی تربیت فرمانا ملاحظہ کیجئے۔
(1)ایک
مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق: دوعالَم کے مالک ومختار، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا
جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازوں کے پیچھے چلنا، دعوت قبول کرنا اور چھینک
کا جواب دینا۔(فیضان ریاض الصالحین، 3/295، حدیث:238)
(2)اسلام
پانچ چیزوں پر قائم کیا گیا: نبیِّ
کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اسلام پانچ چیزوں پر قائم کیا گیا:
اس کی گواہی کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے
رکھنا۔(مراٰۃ المناجیح،1/27)
(3)شہید
پانچ ہیں: رسولُ الله صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ شہید پانچ ہیں: طاعون والا، پیٹ کی بیماری
والا، ڈوبا ہوا، دَب کر مرنے والا اور الله کی راہ کا شہید۔(مراٰۃ المناجیح،
2/413)
(4)پانچ
دعائیں بہت قبول کی جاتی ہیں: نبیِّ
کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: پانچ دعائیں بہت قبول کی جاتی ہیں
مظلوم کی دعا حتّٰی کہ بدلہ لے لے، حاجی کی دعا حتّٰی کہ لوٹ آئے، غازی کی دعا
حتّٰی کہ جنگ بند ہو جائے، بیمار کی دعا حتّٰی کہ تندرست ہو جائے، مسلمان بھائی کی
پس پشت دعا۔(مراٰۃ المناجیح، 3/303)
(5)پانچ
چیزوں سے پناہ مانگنا: نبیِّ کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پانچ چیزوں سے پناہ مانگتے تھے، بزدلی سے، بخل سے،
بُری عمر سے، سینوں کے فتنوں اور قبر کے عذاب سے۔
بُری عمر سے
مراد بڑھاپے کی وہ حالت ہے جب اعضاء جواب دے جائیں اور انسان اپنے گھر والوں پر
بوجھ بن جائے۔
(مراٰۃ
المناجیح، 4/61)
اللہ پاک ہمیں
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ان فرامین پر عمل پیرا ہونے کی توفیقِ
رفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
محمد صبحان عطّاری
( درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور، پاکستان)

اللہ پاک نے انسانوں کی رشد و ہدایت کے لیے
انبیاء کرام علیھم السلام کو مبعوث فرمایا۔ جنہوں نے اپنی قوم میں ان کے احوال اور
زمانے کے تقاضوں کے مطابق تبلیغ فرمائی اور ان کے لیے حق کا راستہ واضح کیا۔ قرآن
مجید میں اللہ پاک نے ان قوموں کا ذکر
فرمایا ہے جو انبیاء کرام کی وعظ و نصیحت کو کو جھٹلا کر اپنی سرکشی و طغیانی میں
مست رہے یہاں تک کہ ان کو اللہ پاک نے عبرت کا نشان بنادیا۔انہیں میں سے قوم
لوط بھی تھی۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں فحاشی و عریانی سے باز رہنے کی نصیحت
کی لیکن انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے عذاب کا مطالبہ کردیا، آخر کار اللہ پاک نے انہیں ہلاک کر دیا۔ان نصیحتوں کا ذکر
قرآن مجید میں کچھ یوں ہے:
(1) فحاشی نہ کرنے کی نصیحت: قوم لوط ایسے گناہوں میں مبتلا تھی جو ان سے
پہلے کبھی کسی نے نہیں کیے تھے۔ وہ مردوں سے لواطت کیا کرتے تھے، راہ زنی کرکے
قافلوں کو لوٹتے تھے ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ
تم ایسے گناہ کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ
ہے: وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ
الْفَاحِشَةَ٘-مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(۲۸) اَىٕنَّكُمْ
لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ﳔ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ
نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَؕ-فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۲۹) ترجمۂ کنزالایمان: اور لوط کو نجات دی جب اُس
نے اپنی قوم سے فرمایا تم بےشک بے حیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے دنیا بھر
میں کسی نے نہ کیا کیا تم مردوں سے بدفعلی
کرتے ہو اور راہ مارتے ہو اور اپنی مجلس
میں بری بات کرتے ہو تو اس کی قوم کا کچھ
جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو۔(پ20، العنکبوت:
28)
(2)
لواطت نہ کرنے کی نصیحت: حضرت لوط علیہ السلام نے قوم لوط سے فرمایا تم
عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ بد فعلی کیوں کرتے ہو جبکہ یہ میری بیٹیاں ہیں جن
سے چاہو نکاح کرکے پاکیزہ طریقے سے استراحت حاصل کرو۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ
ہے: قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ
لَكُمْ ترجمہ کنزالعرفان: لوط نے
فرمایا: اے میری قوم! یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے پاکیزہ ہیں۔(پارہ12،سورہ
ھود،آیت:78)
(3)
پچھلی قوموں کی ہلاکت سے نصیحت: حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا کہ تم فحاشی
کرتے ہو حالانکہ تم دیکھ چکے ہو پچھلی قوموں کا انجام،کہ کیسے اللہ پاک نے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا، یا اس کی قباحت تم بھی دیکھ رہےہو پھر بھی یہ کام
کرتے ہو۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ
لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ
تُبْصِرُوْنَ(54) ترجمہ کنزالعرفان:اور لوط کو یاد کروجب اس نے
اپنی قوم سے فرمایا: کیا تم بے حیائی کا کام کرتے ہوحالانکہ تم دیکھ رہے
ہو۔(پارہ19،سورہ نمل،آیت54)
(4)
ان معاملات میں اللہ پاک سے ڈرنے کی نصیحت: حضرت لوط علیہ السلام نے فحاشی کے کاموں کے متعلق اللہ پاک سے ڈرنے کی نصیحت کی، کیونکہ اللہ پاک کو فحاشی پسند نہیں اور اللہ پاک نے ان کاموں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت
لوط علیہ السلام نے فرمایا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:فَاتَّقُوا اللّٰهَ ترجمہ
کنزالعرفان: تو اللہ سے ڈرو۔ (پارہ12، سورہ ھود،آیت78)
(5)
مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرنے کی نصیحت: جب حضرت لوط علیہ السلام کے گھر فرشتے خوبصورت
لڑکوں کی شکل میں آئے تو انکی قوم دوڑ کر خوشی خوشی آئی تاکہ ان سے بد فعلی کرسکیں
تو حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ سے
ڈرو اور مجھے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ(67)قَالَ
اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِ(68)وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا
تُخْزُوْنِ(69)ترجمہ
کنزالعرفان:اور شہر والے خوشی خوشی آئے۔ لوط نے فرمایا: یہ میرے مہمان ہیں تو تم
مجھے شرمندہ نہ کرو ۔اور اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔(پارہ14،سورہ حجر،آیت67،68،69)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی نافرمانی والے
کاموں سے بچائے اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ
وسلم۔
عاطف (درجۂ
رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان اہل بيت رنگ
پورہ سیالکوٹ ، پاکستان)

نصیحت سے مراد
ترغیب و ترہیب ہے یعنی کسی کام کو کرنے کی ترغیب دینا اور کوئی کام کرنے سے ڈرانا۔
لوگوں کو وعظ
و نصیحت اس لیے کی جاتی ہے تاکہ وہ فلاح پا سکے ہمارا پیارا مذہب دین اسلام ہمیں
اسی بات کا درس دیتا ہے چنانچہ قرآن پاک میں فرمانے باری تعالیٰ ہے: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ
الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ترجمہ
کنزالایمان:اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔ (پ 14،النحل،125)
اللہ پاک نے
لوگوں کی رہنمائی کے لیے،ان کو وعظ و نصیحت فرمانے کے لیے اور ان تک اپنے احکامات
پہنچانے کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اللہ پاک نے ہر قوم کی طرف کسی نہ کسی نبی کو مبعوث فرمایا
ان کی رہنمائی کے لیے اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کو شہر سدوم کی طرف رسول بنا
کر بھیجا گیا تاکہ انہیں دین حق کی دعوت دیں اور برے کاموں سے منع کریں ۔ حضرت لوط
علیہ السلام جس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے وہ اپنے وقت کے بد ترین
گناہوں،بری عادات اور قابلِ نفرت افعال میں مبتلا تھی ان کا بڑا اور قبیح ترین جرم
مردوں کے ساتھ بد فعلی کرنا تھا یہ اپنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے
جاتے تھے۔ یہ وہ کام تھا جو اس قوم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا ۔حضرت لوط علیہ
السلام نے اپنی قوم کو مختلف مواقع پر مختلف نصیحتیں فرمائیں جن کا تذکرہ قرآن پاک
میں کئی مقامات پر کیا گیا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1)
اللہ پاک سے ڈرنے کی نصیحت: حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ عزوجل سے
ڈرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:اِذْ قَالَ
لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ(۱۶۱) اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۶۲)
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۶۳)ترجمہ کنزالایمان:جب کہ اُن سے ان کے ہم قوم لوط نے فرمایا کیا تم ڈرتے
نہیں بےشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم
مانو۔ (پ19، الشعرآء: 161تا 163)
(2) بد
فعلی سے روکنے کی نصیحت: حضرت لوط
علیہ السلام نے اپنی قوم کو بد فعلی سے روکنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: وَ لُوْطًا
اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ
مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(۸۰) اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ
النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۸۱) ترجمۂ کنزالایمان: اور لوط کو بھیجا جب اس
نے اپنی قوم سے کہاکیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی تم
تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں
چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے ۔ (پ
8،الاعراف:80، 81)
(3)
قوم کی بیٹیوں کے حوالے سے نصیحت: حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کی بیٹیوں کے
حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:وَ جَآءَهٗ
قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِؕ-وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِؕ-قَالَ
یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ
فِیْ ضَیْفِیْؕ-اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ(۷۸) ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کے پاس اس کی قوم دوڑتی آئی
اور انہیں آگے ہی سے بُرے کاموں کی عادت پڑی تھی کہا اے قوم یہ میری قوم کی بیٹیاں
ہیں یہ تمہارے لیے ستھری ہیں تو اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ
کرو کیا تم میں ایک آدمی بھی نیک چلن نہیں۔ (پ12،ھود: 78)
(4) مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرنے کی نصیحت: حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو مہمانوں
کے سامنے رسوا نہ کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ(۶۷) قَالَ اِنَّ
هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ(۶۸) وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا
تُخْزُوْنِ(۶۹) ترجمۂ کنزالایمان:
اور شہر والے خوشیاں مناتے آئے لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں مجھے
فضیحت نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور مجھے
رسوا نہ کرو۔ (پ 14،الحجر:67، 69)
حضرت لوط علیہ
السلام نے اپنی قوم کو کئی بار وعظ و نصیحت کی مگر انہوں نے اس میں شک کیا اور اس
کو جھٹلا دیا یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ان پر عذاب نازل فرما دیا۔
عاطف (درجۂ
رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان اہل بيت رنگ
پورہ سیالکوٹ ، پاکستان)

نصیحت سے مراد
ترغیب و ترہیب ہے یعنی کسی کام کو کرنے کی ترغیب دینا اور کوئی کام کرنے سے ڈرانا۔
لوگوں کو وعظ
و نصیحت اس لیے کی جاتی ہے تاکہ وہ فلاح پا سکے ہمارا پیارا مذہب دین اسلام ہمیں
اسی بات کا درس دیتا ہے چنانچہ قرآن پاک میں فرمانے باری تعالیٰ ہے: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ
الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ترجمہ
کنزالایمان:اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔ (پ 14،النحل،125)
اللہ پاک نے
لوگوں کی رہنمائی کے لیے،ان کو وعظ و نصیحت فرمانے کے لیے اور ان تک اپنے احکامات
پہنچانے کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اللہ پاک نے ہر قوم کی طرف کسی نہ کسی نبی کو مبعوث فرمایا
ان کی رہنمائی کے لیے اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کو شہر سدوم کی طرف رسول بنا
کر بھیجا گیا تاکہ انہیں دین حق کی دعوت دیں اور برے کاموں سے منع کریں ۔ حضرت لوط
علیہ السلام جس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے وہ اپنے وقت کے بد ترین
گناہوں،بری عادات اور قابلِ نفرت افعال میں مبتلا تھی ان کا بڑا اور قبیح ترین جرم
مردوں کے ساتھ بد فعلی کرنا تھا یہ اپنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے
جاتے تھے۔ یہ وہ کام تھا جو اس قوم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا ۔حضرت لوط علیہ
السلام نے اپنی قوم کو مختلف مواقع پر مختلف نصیحتیں فرمائیں جن کا تذکرہ قرآن پاک
میں کئی مقامات پر کیا گیا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1)
اللہ پاک سے ڈرنے کی نصیحت: حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ عزوجل سے
ڈرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:اِذْ قَالَ
لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ(۱۶۱) اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۶۲)
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۶۳)ترجمہ کنزالایمان:جب کہ اُن سے ان کے ہم قوم لوط نے فرمایا کیا تم ڈرتے
نہیں بےشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم
مانو۔ (پ19، الشعرآء: 161تا 163)
(2) بد
فعلی سے روکنے کی نصیحت: حضرت لوط
علیہ السلام نے اپنی قوم کو بد فعلی سے روکنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: وَ لُوْطًا
اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ
مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(۸۰) اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ
النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۸۱) ترجمۂ کنزالایمان: اور لوط کو بھیجا جب اس
نے اپنی قوم سے کہاکیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی تم
تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں
چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے ۔ (پ
8،الاعراف:80، 81)
(3)
قوم کی بیٹیوں کے حوالے سے نصیحت: حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کی بیٹیوں کے
حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:وَ جَآءَهٗ
قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِؕ-وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِؕ-قَالَ
یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ
فِیْ ضَیْفِیْؕ-اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ(۷۸) ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کے پاس اس کی قوم دوڑتی آئی
اور انہیں آگے ہی سے بُرے کاموں کی عادت پڑی تھی کہا اے قوم یہ میری قوم کی بیٹیاں
ہیں یہ تمہارے لیے ستھری ہیں تو اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ
کرو کیا تم میں ایک آدمی بھی نیک چلن نہیں۔ (پ12،ھود: 78)
(4) مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرنے کی نصیحت: حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو مہمانوں
کے سامنے رسوا نہ کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ(۶۷) قَالَ اِنَّ
هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ(۶۸) وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا
تُخْزُوْنِ(۶۹) ترجمۂ کنزالایمان:
اور شہر والے خوشیاں مناتے آئے لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں مجھے
فضیحت نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور مجھے
رسوا نہ کرو۔ (پ 14،الحجر:67، 69)
حضرت لوط علیہ
السلام نے اپنی قوم کو کئی بار وعظ و نصیحت کی مگر انہوں نے اس میں شک کیا اور اس
کو جھٹلا دیا یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ان پر عذاب نازل فرما دیا۔
احمد رضا شاہد
(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ اپر مال
روڈ لاہور پاکستان )

اللہ تبارک و
تعالی نے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے مختلف ادوار میں اپنے خاص بندوں یعنی انبیاء
کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا جن کی بعثت کا مقصد لوگوں کو اخروی سعادتوں سے
بہرہ ور کرنا اور جہنم سے دور کرنا ہے اور ان کو اچھے اخلاق کی تعلیم دے کر برے
اخلاق سے بچانا ہے اور انہیں اللہ تعالی کی بندگی کی طرف بلانا ہے۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنا فریضۂ
تبلیغ بخوبی سرانجام فرمایا ، انہی چنے
ہوئے بندوں میں سے حضرت لوط علیہ الصلاۃ والسلام بھی ہیں ۔
مختصر
تعارف: حضرت لوط علیہ السلام کا
نام مبارک لوط ہے، جس کا ایک معنی قلبی
محبت ہے اس کی وجہ یہ ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام آپ سے بہت محبت فرماتے ہیں اور
قلبی شفقت کا اظہار فرماتے اس لیے آپ کا نام لوط رکھا گیا ۔ آپ علیہ السلام کا
شجرہ نسب یہ ہے : ”لوط بن ہاران بن تارخ بن ناحور بن ساروع بن ارغو بن فالغ بن
غابر بن شالغ بن بن ارفخشد بن سام بن نوح“
حضرت لوط عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ابراہیم عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھتیجے ہیں ، جب آپ کے چچا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے شام کی طرف
ہجرت کی تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سرزمینِ فلسطین میں قیام فرمایا اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اردن میں اُترے۔ اللہ تعالیٰ
نے آپ کو اہلِ سُدُوم کی طرف مبعوث کیا، آپ اِن لوگوں کو دینِ حق کی دعوت دیتے
تھے اور فعلِ بدسے روکتے تھے۔ (سیرت
الانبیاء373،74 بتغیر قلیل)
آپ علیہ
السلام نے اپنی قوم کو خوب نیکی کی دعوت پیش
کی اور انہیں مختلف نصائح کی رہنمائی فرمائی جن میں سے چند قرآنی نصیحتیں بیان کی
جاتی ہیں:
(1)
کفر و شرک سے بچنا:حضرت لوط علیہ السلام نے قوم سے فرمایا کہ میں اللہ پاک کا
رسول ہوں تو تم کسی کو بھی اللہ پاک کے ساتھ شریک نہ کرو اس کے احکامات کا انکار
بھی نہ کرو ۔ اس چیز کو قرآن پاک میں یوں
بیان کیا گیا : كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ-ﹰالْمُرْسَلِیْنَ(160)اِذْ قَالَ لَهُمْ
اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ(161)اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ترجمہ کنز العرفان : لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔جب ان سے ان
کے ہم قوم لوط نے فرمایا :کیا تم نہیں ڈرتے ؟ بیشک میں تمہارے لیے امانتدار رسول
ہوں ۔(سورہ الشعراء آیت 160,161,162)
(2)
تقوی اختیار کرنا : حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو تقوی اختیار
کرنے کی نصیحت فرمائی ۔ چنانچہ قرآن مجید
نے اس کو یوں حکایت کیا ۔ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ
اَطِیْعُوْنِ(163)وَ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ
اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(164)ترجمہ کنز العرفان : تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، میرا
اجر توصرف ربُّ العٰلمین کے ذمے ہے۔ (سورۃ الشعراء آیت نمبر 163،164)
(3)
گناہوں سے اجتناب:آپ علیہ السلام
کی قوم بہت سارے گناہوں مبتلا تھی فحش معاملات کرنا وغیرہ آپ نے اس حوالے سے بھی
نصیحت فرمائی ، قرآن مجید میں ہے : لُوْطًا اِذْ قَالَ
لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ
الْعٰلَمِیْنَ(80)
ترجمۂ کنز العرفان: اور (ہم نے) لوط کو بھیجا، جب اس نے اپنی قوم سے کہا :کیا تم
وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہیں کی۔(سورہ اعراف آیت
نمبر: 80 )
(4)
بدکاری سے منع فرمایا: آپ علیہ السلام کی قوم جن قبیح و شنیع افعال کی
مرتکب تھی ان میں سے ان کے مردوں کا مردوں کے ساتھ بد فعلی کرنا بھی تھا آپ علیہ
السلام نے اس حوالے سے بھی اپنی قوم کو وقتاً فوقتاً تربیت و نصیحت فرمائی
قرآن مجید میں
ہے: اَىٕنَّكُمْ
لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ
الْمُنْكَرَؕ-فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا
بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(29)قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ
عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ(30) ترجمۂ کنز العرفان: کیا
تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راستہ کاٹتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام کو
آتے ہو تو اس کی قوم کا کوئی جواب نہ تھا مگر یہ کہا: اگر تم سچے ہوتوہم پر الله
کا عذاب لے آؤ۔ (لوط نے) عرض کی، اے میرے
رب!ان فسادی لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔(سورہ العنکبوت 28، 29،30)
اللہ پاک ہم
سب کو۔ بھی ان شنیع افعال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

لفظِ نصیحت
سنتے ہی انسان کا ذہن اچھائی کو اپنانے
اور برائی سے باز رہنے کی طرف جاتاہے ۔کیونکہ اِس کا مقصد ہی بھلائی کی طرف بلانا اور فساد سے روکنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ
تعالی نےاچھی نصیحت کا حکم دیا ہے ارشاد
باری تعالی ہے :اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ
الْحَسَنَةِ ترجَمۂ کنزُ
العرفان: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔ (پ14 ، النحل : 125)
اس آیت سے پتا
چلا کہ اللہ پاک کے راستے کی طرف بلانے کے لیے اچھی نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔اللہ
تعالی نے اسی حکم کے عملی اظہار کے لیے اپنے نبیوں اور رسولوں کا انتخاب فرمایا جو اپنی قوموں
کو نصیحت کے ذریعے سمجھاتے رہے ۔ان پاک ہستیوں میں حضرت لوط علیہ السلام بھی شامل
ہیں جنہوں نے اپنی قوم کو توحید کا اقرار کرنے،شرک سے بچنے ،اپنے رب کا خوف اور
بے حیائی و بری باتوں سے بچنے کی نصیحتیں کیں۔ ان میں چند ایک کا
ذکر درج ذیل ہیں :
(1)بے
حیائی اور بروں کام سے بچنے کی نصیحت: حضرت لوط علیہ
السلام نے اپنی قوم کو ،فعل بد اور بے حیائی سے بچنے کی سختی سے تاکید فرمائی،
قرآن پاک میں ہے: وَ
لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا
مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(80) ترجمۂ کنزالعرفان: اور (ہم نے) لوط کو بھیجا، جب اس نے
اپنی قوم سے کہا :کیا تم وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہیں
کی۔ )سورۃ الاعراف :80(
(2) برے انجام سے ڈرانے کی نصیحت :
جب حکمتِ الہی
اور فطری تقاضوں کو چھوڑ کر قومِ لوط نے اپنی خواہشات نفسانی کو کسی دوسرے ذرائع (یعنی
مردوں کے ذریعے سے) سے پورا کرنے کی کوشش
کی، اس پر حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی
قوم کو نصیحت فرمائی۔چنانچہ قرآن پاک میں ہے : اسی طرح سورۃ
النمل میں ہے : اَىٕنَّكُمْ
لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ
تَجْهَلُوْنَ(55) ترجمۂ کنزالعرفان: کیا تم عورتوں کو چھوڑ کرمردوں کے
پاس شہوت سے جاتے ہو بلکہ تم جاہل لوگ ہو۔)سورۃ النمل : 55(
(3)اللہ سے ڈرنے اور اس کے رسول کی اطاعت کی نصیحت: جب قوم لوط نے اللہ کے نبی حضرت
لوط علیہ السلام کو جھٹلایا نیز شرک اور گناہ کی زندگی گزارنے لگے تو آپ علیہ
السلام نے اپنی قوم کو اللہ سے ڈرنے اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا۔قرآن پاک
میں ہے: اِذْ قَالَ لَهُمْ
اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ(161)اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ(162)فَاتَّقُوا
اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ(163)ترجمۂ
کنزالعرفان: جب ان سے ان کے ہم قوم لوط نے فرمایا :کیا تم نہیں ڈرتے ؟ بیشک میں
تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں تو اللہ سے
ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ )سورۃ الشعراء، آیت 160 تا 164(
(4)
مہمان کی عزت و احترام کرنے کی نصیحت: قوم لوط نے جب لوط علیہ السلام کے مہمانوں کو تکلیف
پہنچانے کا ارادہ کیا تو حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت فرمائی اور
مہمان کے آداب بتائے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا
تَفْضَحُوْنِ(68)وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ(69) ترجمۂ کنزالعرفان: لوط نے فرمایا: یہ میرے
مہمان ہیں تو تم مجھے شرمندہ نہ کرو اور
اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔ (سورۃ حِجر، 68،69 )
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ مہمان کی عزت و احترام اور خاطر تواضع انبیا کی سنت ہے۔ (صراط الجنان )
اللہ پاک ہمیں بے حیائی ،برے کاموں اور اپنی نافرمانیوں سے
بچائے اور ان نصیحتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
محمد عبد المبین عطّاری (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ
فيضان امام غزالی احمد آباد فیصل آباد)

آپ علیہ
السّلام کا نام مبارک ”لوط“ ہے جس کا ایک معنی ”قلبی محبت“ بنتا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ
سے متعلق منقول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام آپ سے بہت محبت فرماتے اور قلبی
شفقت کا اظہار فرماتے تھے اس لئے آپ علیہ السّلام کا نام ”لوط“ رکھا گیا۔ حضرت
لوط علیہ السّلام حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے بھتیجے تھے اور شجرہ نسب کچھ یوں
ہے: لوط بن ہاران بن تارخ بن ناحور بن ساروع بن ارغو بن فالغ بن غابر بن شالغ بن
ارفخشد بن سام بن نوح علیہ السّلام۔ لیکن ایسے شجر و نسب میں ہمیشہ یہ بات یاد
رکھنی چاہئے کہ یہ قطعی نہیں ہوتے۔ ممکن ہے کہ درمیان میں بہت سے افراد کے نام
رہ گئے ہوں۔(سیرت الانبیاء،ص 374)
نصیحت کے لغوی
معنیٰ ”اچھی صلاح، نیک مشورہ“ کے ہیں۔ اسی کا ایک دوسرا لفظ ہے نصیحت آمیز یعنی
عبرت دلانے والی بات۔(فیروز اللغات، ص 1430)
نصیحت قولی بھی
ہوتی ہے اور فعلی بھی۔ لوگوں کو اللہ پاک اور رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی پسندیدہ باتوں کی طرف بلانے اور ناپسندیدہ باتوں سے بچانے اور دل میں
نرمی پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ وعظ و نصیحت بھی ہے۔ وعظ و نصیحت دینی، دنیوی،
اخلاقی، روحانی، معاشی اور معاشرتی زندگی کیلئے ایسے ہی ضروری ہے جیسے طبیعت
خراب ہونے کی صورت میں دوا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام علیہمُ السّلام
اپنی قوموں کو وعظ و نصیحت فرماتے رہے، حضرت لوط علیہ السّلام نے بھی اپنی قوم کو
مختلف مواقع پر مختلف انداز میں نصیحتیں فرمائیں جن کا ذکر قراٰنِ پاک میں کئی
مقامات پر کیا گیا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1)اللہ
پاک سے ڈرنے کی نصیحت: حضرت لوط علیہ
السّلام اپنی قوم اہلِ سدوم کے پاس رسول بن کر تشریف لائے اور انہیں اللہ پاک سے
ڈرنے کی نصیحت فرمائی قراٰنِ مجید میں آپ علیہ السّلام کی نصیحت کا ذکر کچھ یوں
ہے:﴿اِنِّیْ
لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۶۲) فَاتَّقُوا اللّٰهَ
وَاَطِیْعُوْنِۚ(۱۶۳)﴾ ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک میں تمہارے لیے اللہ کا
امانت دار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔(پ 19، الشعرآء:162،
163)
(2)بد فعلی
پر قوم کو نصیحت:آپ علیہ السّلام نے اُن لوگوں کی سب سے قبیح عادت پر تنبیہ کرتے
ہوئے فرمایا کہ حلال عورتوں (بیویوں) کو چھوڑ کر مَردوں کے ساتھ بد فعلی کرتے ہو
تم لوگ حد سے بڑھ چکے ہو، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ﴿اَتَاْتُوْنَ
الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۵) وَتَذَرُوْنَ مَا
خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ(۱۶۶)﴾ ترجَمۂ کنزُالایمان: کیا مخلوق میں مَردوں
سے بدفعلی کرتے ہو اور چھوڑتے ہو وہ جو تمہارے لیے تمہارے رب نے جوروئیں (بیویاں)
بنائیں بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو۔(پ 19، الشعرآء:165، 166)
(3)دنیوی
نفع کے بغیر قوم کو تبلیغ و نصیحت:
حضرت لوط علیہ السّلام نے قوم کو تبلیغ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: یاد رکھو کہ میں
اس تبلیغ و تعلیم پر تم سے کوئی اُجرت اور دنیوی منافع کا مطالبہ نہیں کرتا، میرا
اجر و ثواب تو صرف رب العلمین کے ذمۂ کرم پر ہے۔﴿وَمَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ
عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۱۶۴)﴾ ترجَمۂ کنزُالایمان:
اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا
رب ہے۔ (پ 19، الشعرآء: 164)
اللہ پاک ہمیں
انبیائے کرام علیہمُ السّلام کی مبارک نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
اور ان کے صدقے نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں فیضانِ
انبیا سے مالا مال فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم

ہمارا
دین اسلام بہت پیارا مذہب ہے جس نے ہمیں زندگی گزارنے کے بہترین اصول مہیا کئے ہیں
اور روز مرہ کی مصروفیات کو کب، کیسے اور کس طرح پایۂ تکمیل تک پہچانا ہے اس
کومنظم طریقے سے بیان کیا ہے۔ دین اسلام نے جہاں زندگی گزارنے کے بہت سے اصول بیان
کئے ہیں وہیں صفائی ستھرائی کو بھی بہت اہمیت دی ہے۔ صفائی کی اہمیت کا اندازہ
بانیٔ اسلام صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے اس فرمان
سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں آقا کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ (مسلم،ص140،حدیث:223)
صفائی
میں سب سے پہلے اپنی ذات کو صاف ستھرا رکھنا ہے، ہر مسلمان کو اپنے لباس، اپنےجسم
اور جسم کےہر ہر عضو کو صاف ستھرا رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔
اپنی
ذات کو صاف ستھرا رکھنے کی ترغیب دلاتے ہوئے شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد
الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے تمام عاشقانِ رسول کو اس ہفتے 14 صفحات کا رسالہ ”منہ کی صفائی کے فائدے“ پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے /
سننے والوں کو دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یااللہ
پاک ! جو کوئی 14 صفحات کا رسالہ ”منہ کی صفائی کے فائدے“ پڑھ یا سُن لے اُس کا ظاہر و باطن ستھرا
فرمااور اس کو ماں باپ سمیت بےحساب بخش دے۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:
ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں تقریب کا انعقاد، قیدیوں
کے درمیان کمبل تقسیم کئے گئے

دعوتِ اسلامی کے شعبہ جات رابطہ برائے شخصیات،
فیضانِ قراٰن فاؤنڈیشن اور FGRF کے تحت ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ایڈیشنل آئی جی جیل
خانہ جات بلوچستان شکیل احمد بلوچ، ڈپٹی سپرینڈنٹ نصیب اللہ ،چیف
آفیسر رئیسانی، لائن آفیسر وقار احمد مری، چیف آفیسر نصیب اللہ،
اسسٹنٹ سپرینڈنٹ انور ترین اور دیگر افسران کی شرکت ہوئی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہو اور نعت
خواں اسلامی بھائیوں نے حضور صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں نعت
شریف کا نذرانہ پیش کیا جس کے بعد نگرانِ شعبہ FGRF
حاجی شفاعت عطاری نے بیان کرتے ہوئے وہاں موجود لوگوں کی مختلف امور پر تربیت کی۔بعدازاں
ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ کے قیدیوں کے درمیان کمبل تقسیم کئے گئے۔
اس موقع پر فنانس ڈیپارٹمنٹ کے صوبائی ذمہ دار
عرفان رشید عطاری، FGRF کے صوبائی ذمہ دار، FGRF
کوئٹہ کے ڈویژن ذمہ دار نوید شہزاد عطاری اور دیگر اسلامی بھائی موجود تھے۔ (رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان ،
کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

سندھ درگاہ عالیہ پیر کوٹ مٹھن شریف سے آئی ہوئی
معروف شخصیت سیّد عارف شاہ راشدی صاحب کی کمشنر آفس سبی کے جعفر خان بلوچ کے
ہمراہ مدنی مرکز فیضان مدینہ سبی بلوچستان
میں آمد ہوئی۔
شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان کے صوبائی ذمہ
دار محمد وقار عطاری اور محمد اسحاق عطاری
نے مہمانوں کا استقبال کرتےہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کی عالمی سطح پر ہونے والی دینی و
فلاحی خدمات کے حوالے سے بتایا ۔
اس موقع پر
سیّد عارف شاہ راشدی صاحب نےدعوتِ اسلامی
کی خدمات کو سراہا اور اپنی نیک خواہشات
کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی دعاؤں سے نوازا۔(رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)