قیامت کا دن حق ہے، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے، ہمارا ایمان ہے کہ انسان و حیوان، زمین و آسمان سمیت سارا جہاں اور اس کائنات کی ہر چیز ایک دن فنا ہو جائے گی، صرف اللہ پاک کی ذات باقی رہے گی، اس کو قیامت کہتے ہیں، جیسے ہر چیز کی ایک عمر مقرر ہے، جس کا علم اللہ پاک کو ہے اُس عُمر کی مدت پوری ہونے کے بعد وہ چیز فنا ہو جاتی ہے، اسی طرح اس دنیا کی بھی ایک عمر مقرر ہے، جس کا علم صرف اللہ پاک کو ہے، جب دنیا کی عمر پوری ہو جائے گی تو یہ بھی فنا ہو جائے گی، اس وقت اللہ پاک کے سوا کوئی دوسرا نہ ہوگا، قیامت کے دن پر ایمان لانا مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے۔آئیے! آج موجودہ دور میں پائی جانے والی قیامت کی نشانیوں کے بارے میں پڑھتی ہیں۔1۔جہالت عام ہو جائے گی:آج کل درحقیقت جہالت کا دور دورہ ہے، لوگ علمِ دین سے بالکل ناواقف اور دنیاوی علوم و فنون کے دلدادہ ہوتے جارہے ہیں، مردوں کی تعداد عورتوں کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے، ہمارے ملک پاکستان کی آبادی کا 52 فیصد حصّہ خاتون پر مشتمل ہے، تیز رفتار گاڑیوں، تیز ترین سواری اور تیز ترین مواصلات کے باوجود ہمارے معاشرے کا ہر فرد یہی کہتا نظر آتا ہے: میرے پاس علمِ دین سیکھنے کے لئے وقت نہیں۔2۔ زکوٰۃ ادا کرنا لوگوں پر بھاری ہوگا:زکوٰۃ ادا کرنا بہت دشوار ہے، لوگ زکوٰۃ نہ دینے کے لئے نئے نئے حربے استعمال کرتے ہیں،جان بوجھ کر زکوٰۃ کا انکار کرکے دینِ اسلام کے منکر بن رہے ہیں، لوگ علمِ دین تو حاصل کرتے ہیں، مگر دین کی خاطر نہیں، صرف دنیاوی دولت کمانے، کسی بڑے منصب کو اپنانے اور جاہ و حشمت چاہنے کے لئے، اللہ پاک کی رضا کے لئے نہیں۔3۔ماں باپ کی نافرمانی:مرد آجکل ماں باپ سے بڑھ کر اپنی بیوی کی بات کو مانتا ہے، ہر عورت کی خواہش ہے کہ اُس کا شوہر صرف اُسی کی بات کو اہمیت دے، لوگ والدین سے علیحدہ اپنا گھر بسا لیتے ہیں، اپنے احباب سے میل ملاپ اور تعلقات رکھتے ہیں، مگر والدین سے دور رہتے ہیں۔4۔گانے باجے کی کثرت ہوگی:آج کل گانے باجے کی کثرت ہمیں قربِ قیامت کا پیغام دے رہی ہے، گھر گھر میں فلمی گانوں کا رواج ہے، یہاں تک کہ ہسپتال جہاں لوگ مختلف امراض میں مبتلا زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوتے ہیں، وہاں بھی ٹی وی اور کیبل نیٹ ورک کا رواج بڑھ رہا ہے،مریضوں کو توبہ استغفار اوراوراد و وظائف کی تلقین کی بجائے فلمی گانے سننے اور فلمیں ڈرامے دیکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔5۔لوگ نمازیں قضا کریں گے:معراج پر جانے والے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے قیامت کی ایک نشانی یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ لوگ نماز قضا کریں گے،آج نمازیں قضا کرنے کے مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، آج ہمارے معاشرے میں سُستی کی وجہ سے آئے دن نمازیں قضا کر دی جاتی ہیں، ایک بہت بڑی تعداد ہے، جو نمازیں قضا کر دیتی ہے اور انہیں اس کی کوئی پروا بھی نہیں ہوتی۔حضرت امام محمد غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:جو دنیا میں رہ کر قیامت کے بارے میں زیادہ غور و فکر کرے گا، وہ ان ہولناکیوں سے زیادہ محفوظ رہے گا۔اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


جیسے ہر چیز کی ایک عمر ہے، اس کے پورے ہونے کے بعد وہ چیز فنا ہو جاتی ہے،ایسے ہی دنیا کی بھی ایک عمر اللہ پاک کے علم میں مقرر ہے، اس کے پورا ہونے کے بعد دنیا فنا ہو جائے گی، زمین و آسمان،آدمی، جانور اور کوئی بھی باقی نہ رہے گا،اس کو قیامت کہتے ہیں،جیسے آدمی کے مرنے سے پہلے بیماری کی شدّت،جان نکلنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں،ایسے ہی قیامت سے پہلے اس کی نشانیاں یہ ہیں۔1۔دین پر قائم رہنا مشکل ہو گا۔2۔وقت بہت جلد گزرے گا۔3۔زکوٰۃ دینا لوگوں کو دُشوار ہو گا۔4۔علم کو لوگ دنیا کے لئے پڑھیں گے۔5۔نا اہل سردار بنائے جائیں گے۔(بنیادی عقائد، ص34)جب نشانیاں پوری ہو جائیں گی تو مسلمانوں کی بغلوں سے وہ خوشبو دار ہوا گزرے گی، جس سے تمام لوگوں کی وفات ہو جائے گی۔ اس کے بعد چالیس برس کا ایسا زمانہ گزرے گا، جس میں کسی کے اولاد نہ ہو گی،یعنی چالیس برس سے کم عمر کا کوئی نہ ہوگا،دنیا میں کافر ہی کافر ہوں گے،اللہ کہنے والا کوئی نہ ہوگا ۔ ان کا اعمال نامہ ان کےہاتھوں میں دے دیا جائے گا،لوگ حساب کتاب کے انتظار میں کھڑے ہوں گے،زمین تانبے کی ہوگی،سورج سَوا میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہوگا،پچاس ہزار برس کا ایک دن ہوگا،جس کا جیسا عمل ہوگا، ویسی ہی تکلیف ہوگی، نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا، نہ بیٹا باپ کے، اس وقت دستگیرِ بے کساں،حضور پُر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کام آئیں گے اور اپنے ماننے والوں کی شفاعت فرمائیں گے۔(قانون شریعت، صفحہ 55)


اللہ پاک جس دن اس دنیا کی ہر چیز کو فنا کرکے دوبارہ زندہ کرے گا اور میدانِ حشر میں حساب و کتاب کے بعد نیکوں کو جنت میں اور بُروں کو دوزخ میں ڈال دے گا، اسی کا نام قیامت ہے۔قیامت کی نشانیاں: جس طرح مرنے سے پہلے بیماری کی شدت، موت کے سکرات اور نزع کی حالتیں ظاہر ہوتی ہیں، ایسے ہی قیامت سے پہلے چند نشانیاں ظاہر ہونگی، انہیں علاماتِ قیامت یا قیامت کی نشانیاں کہتے ہیں۔پھر جو نشانیاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیدائش سے وقوع میں آچکیں اور حضرت امام مہدی رضی اللہُ عنہ کے ظہور تک وقوع میں آتی رہیں گی ، انھیں علاماتِ صغریٰ کہتے ہیں۔موجودہ زمانے میں بھی علاماتِ صغریٰ میں سے کچھ نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں، جن میں سے چند ایک علامات درج ذیل ہے:1۔بے حیائی:آج کل کے دور میں بے حیائی بڑھتی جا رہی ہے، زنا کاری اور شراب پینا عام ہے، لوگ ان چیزوں کو معیوب سمجھتے ہی نہیں، سر ِعام بے حیائی کے کام کئے جاتے ہیں۔2۔عورتوں کی تعداد میں زیادتی:عورتوں کی بڑھتی ہوئی شرح بھی علاماتِ قیامت میں سے ایک ہے،ایک اعدادوشمار کے مطابق صرف پاکستان میں عورتوں کی شرح 51 ٪ ہے،جبکہ مردوں کی شرح میں واضح کمی ہے۔3۔والدین کی نافرمانی:آج کے دور میں اولاد اپنے والدین کی نافرمان ہوتی جارہی ہے، ماڈرن ازم (Modernize) کے نام پر اولاد والدین کو پرانے ذہن کا سمجھتے ہوئے ان کی بات ماننے کے بجائے ان پر اپنی بات مسلّط کرتی ہے، والدین کے ساتھ دو پل بیٹھنے کا وقت نہیں اور سہیلیوں کے لئے اپنے سب کام چھوڑ کر جا سکتی ہیں، بلکہ چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔4۔نماز کی ادائیگی میں لاپروائی:آج ہم نماز بھی ٹھیک سے ادا نہیں کرتے، دنیاوی خیالات وغیرہ دل و دماغ میں چل رہے ہوتے ہیں اور نماز کے فرائض و واجبات اور اس کے لوازمات کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا، ایسی نماز کے بارے میں حدیث مبارکہ میں سخت وعید ہے، ارشادِ نبوی ہے: اگر وہ اس (نماز) کا رُکوع، سجود اور قراءت مکمل نہ کرے تو نماز کہتی ہے: اللہ پاک تجھے برباد کرے، جس طرح تو نے مجھے ضائع کیا، پھر اس نماز کو اس طرح آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے کہ اس پر تاریکی چھائی ہوتی ہے اور اس پر آسمان کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، پھر اس کو پرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر نمازی کے منہ پر مارا جاتا ہے۔(کنزالعمال، ج 7، ص129، رقم 19049) 5۔اسلام پر قائم رہنا مشکل:زمانہ حاضر میں اسلام پر قائم رہنا اتنا مشکل ہے، جتنا ہاتھ پر انگارہ رکھنا، جس طرح اسلام سے پہلے جہالت کا دور دورہ تھا، بدقسمتی سے آج کے دور میں بھی جہالت بڑھتی جا رہی ہے،جس سے طرح طرح کی برائیاں جنم لے رہی ہے،اہلِ مغرب کی روایات و رسومات اپنائی جا رہی ہیں، جس سے اسلامی معاشرہ اسلامی ہونے کے باوجود اسلامی نہیں رہا۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے اعمال درست کر کے نیکیاں کمانے اور برائیوں سے بچ کر آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


قیامت کی کچھ نشانیاں ایسی ہے جو ہو چکی ہیں جو ہو رہی ہیں  اور جو ابھی ہونی ہیں، کچھ نشانیاں ایسی ہیں جن میں اندازے لگائے جارہے ہیں جو ہو چکی ہیں یا جن کا کچھ حصہ ہو چکا ہے اور کچھ ابھی ہو نا ہے، کچھ نشانیوں میں ایک نشانی جو حدیث پاک میں ارشاد فرمائی گئی۔ مفہوم:”قیامت کے نزدیک مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت ہوگی۔اب اگر کچھ پیچھے یعنی 80 یا 100 سال چلی جائیں اس وقت ہونے والی resarch searvy یعنی تحقیق کو دیکھیں تو زیادہ مردوں اور خواتیں کی تعداد equal یعنی برابر تھی،Al most fifty fifty persentلیکن اگر اب دیکھا جائے تو مرد اور عورت کی تعداد میں جو diffrenceپہلے بہت کم تھا اب بڑھتا جارہا ہے،مرد کم اور عورتیں زیادہ ہوتی جارہی ہیں،حدیث پاک میں آتا ہے: مفہوم:صحابی رسول حضرت انس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے سنا: قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی،بد کاری شراب خوری بڑھ جائے گی اور مرد کم ہو جائے گے اور عورتیں زیادہ ہو جائیں گی۔ایک مرد دیکھ بال کرنے والااور منتظم ہوگا۔ اللہ اکبر۔مفہوم:حدیثِ پاک میں فرمایا گیا:ایک مرد 50 عورتوں کی دیکھ بال کرے گا ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک مرد کی 50 بیویاں ہوں گی، اسلام میں مرد کو بیک وقت 4 شادیوں کی اجازت ہے اس سے زائد حرام ہے ، اس سے مراد مرد کے خاندان کی تمام عورتیں ملا کر یعنی بہنیں،بیوی، ماں ،بیٹیاں، پوتی وغیرہ ہیں ، خاندان کی مل ملا کر 50 عورتیں ہوگی جن کوtake careکرنے والا ایک مرد ہوگا ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ قربِ قیامت کے فتنوں سے بچا۔اٰمین

وقت میں برکت نہیں:آج کے دور میں سائنس کی ایجادات نے ٹائم save کر لیا ہے یعنی وقت بچا لیا ہے۔پہلے ہانڈی پکانے کیلئے کتنا ٹائم لگتا تھا۔ پہلے لکڑیاں جلاؤ، پھر ہانڈی پکاؤ،ایک کپ چائے بنانی ہوتی تھی تو ایک گھنٹہ لگتا تھا اب کچھ دیر میں چائے تیار ہوجاتی ہے بلکہ اب تو microwaveکا زمانہ ہے ۔گھنٹوں میں ہونے والا کام منٹوں میں ہو جاتا ہے ۔سفر پہلے پیدل ہوتے تھے، گھوڑوںhorsesپراونٹوںcamels پر ہوتے تھے اور آج تو تیز رفتار سواریاں ہیں، supersonic aircrafts ہیں یہاں تک کہ تین گھنٹوں میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم بندے پہنچ جاتے ہیں Breakfast ایک countryمیں توlunchدوسریcountryمیں کرتے ہیں ،پانچ سات 5/7 دن کے اندر پوری دنیا کا چکر لگا سکتا ہے ، اتنا fast travel ہورہا ہے ۔ذرا غور کیجئے! ترقیوں سے کتنا ٹائم saveہوگیا ، لیکن اس کے باوجود رونا ہے کہ وقت نہیں ملتا ،ان ایجادات نے جو time بچایا وہ گیا کدھر؟وہ time کہاں چلا گیا ؟ان سب کا ایک ہی جواب ہے کہ وقت سے برکت اٹھ گئی۔ یہ وقت کی بے برکتی بھی قیامت کی نشانی ہے۔نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: مفہوم: حضرت انس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں:رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:قیامت قائم نہ ہوگی جبکہ زمانہ جلدی گزرنے لگے گا ایک سال ایک مہینے کی طرح ہوگا ایک مہینا ایک ہفتے کی طرح ہوگا اور ہفتہ دن اور دن ایک گھڑی کی طرح گزر جائے گا۔مفہوم:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے: آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم ننگے بدن ننگے پیر رہنے والوں اور بکریوں کے چرواہوں کو محلوں میںproudفخر کرتے دیکھو گے۔ذلیل لوگ جن کو تن کا کپڑا پاؤں کی جوتیاں نصیب نہ تھیں بڑے محلوں میں فخر کریں گے۔دنیا میں ایسا انقلاب آئے گا کہ ذلیل لوگ عزت والے اورعزت والے لوگ ذلیل بن جائیں گے۔قیامت کی نشانیوں میں ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا ۔جاہلیت پھیل جائے گی۔یاد رہے! جو لوگ علم کی قدر نہیں کرتے وہ اپنا مقام کھو بیٹھتے ہیں ۔قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے کہ عورتیں ایسا لباس پہنیں گی جن سے ان کا جسم نظر آئے ۔آج کل عورتیں ایسا لباس پہنتی ہیں جس سے ان کے جسم کی رنگت نظر آئے ۔آج گھر گھر ،گلیوں، بازاروں، تہواروں پہ دیکھا جاتا ہے کہ عورتیں اتراتی ہوئی نکلتی ہیں ۔ایسا لباس پہنتی ہیں گویا کہ tissue ہو استغفر اللہ ۔اللہ پاک ہمیں بے حیائی اورقرب ِقیامت کے فتنوں سے بچائے۔اٰمین۔ایک اور بڑی نشانی جو پوری ہو چکی۔والدین کی نافرمانی:لونڈی گویا اپنے مالک کو جنے گی یعنی ماں کا بیٹا اتنا نافرمان ہوگا کہ ماں کے ساتھ لونڈی جیسا سلوک کرے گا جو کہ آج کل عام ہورہا ہے۔اللہ پاک ہمیں اپنے والدین کا فرماں بردار بنائے ۔اٰمین


روزِ قیامت اُس دن کو زمین و آسمان،  جن وانس و ملک سب فنا ہو جائیں گے، ایک واجبُ الوجود یعنی اللہ پاک کی ذات باقی رہے گی، جس کے لئے ہمیشگی اور بقا ہے اور یہ عقائدِ اسلامیہ میں سے ایک عقیدہ ہے، جس پر یقین لازمی ہے، دنیا کے فنا ہونے اور قیامت آنے سے پہلے کچھ نشانیاں ظاہر ہوں گی، جن میں سے کچھ یہ ہیں:1۔مال کی کثرت ہوگی۔2۔وقت میں برکت نہ رہے گی۔3۔لوگوں پر زکوۃ دینا تاوان کے برابر ہو جائے گا۔4۔علم حاصل کیا جائے گا، لیکن دنیا کے لئے نہ کہ دین کے لئے۔5۔خاوند اپنی بیوی کا مطیع ہو گا اور ماں باپ کا نافرمان ہو گا۔6۔دوست احباب سے گہرے تعلقات ہوں اور ماں باپ سے جدائی۔حضرت انس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت بڑھ جائے گی اور زنا شراب خواری بڑھ جائے گی اور مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں زیادہ ہو جائیں گی، حتی کہ 50 عورتیں، ایک مرد منتظم ہوگا، ایک روایت میں ہے : علم گھٹ جائے گا اور جہالت ظاہر ہو جائے گی۔(علامات قیامت، صفحہ 190، مرآۃ، جلد ہفتم، مشکوۃ5431، حدیث 1) علم سے مراد:علم سے مرادعلم دین ہے، جہل سے مراد دینِ علم سے غفلت، آج یہ علامت شروع ہوچکی ہے، دنیاوی علوم بہت ترقی پر ہیں، مگر علومِ تفسیر، حدیث، فقہ بہت کم رہ گئے ہیں،علما اٹھتے جا رہے ہیں،ان کے جانشین پیدا نہیں ہوتے، مسلمانوں نے علمِ دین سیکھنا تقریباً چھوڑ دیا،بہت سے علماء واعظ بن کر اپنا علم کھو بیٹھے،یہ سب کچھ قیامت کی نشانی کا ظہور ہے۔زنا کی زیادتی کے اسباب: عورتوں کی بے پردگی،اسکولوں، کالجوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم اور سینما وغیرہ کی بے حیائیاں، گانے، ناچنے کی زیادتیاں، یہ سب آج موجود ہیں، ان وجوہات کی بنا پر زنا بڑھ رہا ہے اور بھی زیادہ بڑھے گا، اسی طرح بعض ممالک کے بعض علاقوں میں دیکھا جاتا ہے کہ بغیر شراب کے کوئی کھانا نہیں ہوتا، ہوٹل میں کھانا مانگو تو شراب ساتھ آتی ہے۔حدیث میں ہے: لڑکیاں زیادہ پیدا ہوں گی اور لڑکے کم، پھرلڑکے جنگوں میں مارے جائیں گے، اپنی بیوی بچے چھوڑ جائیں گے، ان وجوہ سے عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔حدیث میں ہے: پچاس عورتیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک خاوند کی پچاس بیویاں ہوں گی کہ یہ تو حرام ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایک خاندان میں عورتیں بیٹیاں پچاس ہوں گی، ماں، دادی، خالہ، پھوپھی وغیرہ اور ان کا منتظم ایک مرد ہوگا۔دوسری حدیث میں ہے: قربِ قیامت میں سنگِ اَسود اور مقامِ ابراہیم اُٹھا لیا جائے گا، قیامت کے قریب دنیا میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی نہ ہوگا۔حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا :قیامت سے پہلے جھوٹے ہوں گے، تم ان سے پرہیز کرنا۔حدیث میں جھوٹوں سے مراد جھوٹی حدیثیں گھڑنے والے یا جھوٹے مسئلے بیان کرنے والے یا جھوٹے عقیدے ایجاد کرنے والے، انہیں سلف صالحین سے نسبت کرنے والے یا جھوٹے دعویٰ نبوت کرنے والے ہیں۔ جھوٹے علما، جھوٹے محدثین، جھوٹے عقیدے والوں سے بچنا ایسا ہی ضروری ہے، جیسے جھوٹے نبیوں سے بچنا لازم ہے۔


قرآن کریم میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایاہے: اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا (طہ:15) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک قیامت آنے والی ہے۔قریب ہے کہ میں اسےچھپارکھوں۔بے شک قیامت کا دن معین ہے، رب کریم نے اس کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔مگر متعدد احادیث مبارکہ میں قیامت کی تین طرح کی علامات ملتی ہیں۔ 1.وہ جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امت میں پیدا ہونے والے فتنوں اور گمراہیوں کی نشاندہی فرمائی۔2.وہ جن میں آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنےوقت گزارنےکےساتھ ساتھ بعض تبدیلیوں کاذکرفرمایاہے۔3.وہ جن میں قیامت کےبالکل قریب ہونے پرظاہرہونےوالےواقعات بیان فرمائے ۔چنانچہ موجودہ دورمیں بھی چندعلامات قیامت پائی جاتی ہیں۔جن میں سے پانچ درج ذیل ہیں۔1.علم اٹھا لیا جائے گااور جہالت بڑھ جائے گی۔علمااور حفاظ کرام کی کمی اس نشانی کو آج پوری کرتی نظر آرہی ہے ۔جہلا کی کثرت ہوگئی ہے۔ہر کوئی عالم دین بنا پھرتا ہے۔ٹیکنالوجی نےاتنی ترقی کرلی ہےکہ آپ کےتھوڑا سا تلاش کرنےپر مطلوبہ قرآن کی آیتیں اور احادیث تو آسانی سے مل رہی ہیں لیکن فہم قرآن و حدیث آج ہمارے اندر نہیں رہا ۔ اگرکسی انسان سے یہ ٹیکنالوجی کو چھین لیا جائے تو وہ اتنا معذور ہوجاتا ہے جیسا کوئی لنگڑا شخص اپنی بیساکھیوں سے محروم ہوجائے ۔بدکاری اور بے حیائی:بدکاری کے کئی واقعات آج کل منظر عام پر ہیں۔ آئے روز بدکاری، زنا وغیرہ کے نئے نئے واقعات سننے میں آرہے ہیں۔ہر طرف بےحیائی پھیلی ہوئی نظر آتی ہے ۔عورتوں کے سر پر دوپٹہ تو دور کی بات بلکہ آجکل تو سرے سے ہی غائب ہے ۔نہ عورتوں کے ستر چھپے ہوتے اور نہ ہی مردوں کے ۔گویا مرد و عورت کے درمیان بےحیائی و بے پردگی کا مقابلہ ہو رہا ہو۔3.زکوٰۃ اداکرنا دشوار ہوگا۔دور حاضر میں یہ علامت بھی بہت عام ہے کسی سے اس کی زکوٰۃ اداکرنے کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ ایسا محسوس کرتے ہیں گویا ان سے تاوان طلب کرلیا ہو! 4.وقت جلد گزرے گا۔وقت کی برکت کے متعلق تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ برکت ختم ہو چکی ہے ۔وقت اس قدر جلدی گزر جاتا ہے گویا سال مہینا ،مہینا ہفتہ ،ہفتہ دن اور دن گھنٹے کے برابر ہو گیا ہو۔5.گانے باجے کی کثرت:یہ بھی ایک علامت صغریٰ ہے جو اب بہت زیادہ پائی جاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔گانے تو گانے بلکہ اب تو نعتوں وغیرہ کے پیچھے بھیmusicلگا ہوا ہوتا ہے ۔دعوتِ فکر ہے اس میں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جن آلات کو توڑا اور ناپسند فرمایا انہیں کے ذریعے لوگ تاجدارِ حرم سے ان کا کرم طلب کر رہے ہوتے ہیں۔ الامان و الحفیظ لوگ قیامت کی نشانیوں کو جاننےمیں خوب دلچسپی رکھتے اور خوب تبصرے بھی کرتے ہیں مگر افسوس! آخرت کی تیاریاں کرنے کے بجائے خواب غفلت اور دنیاوی فانی لذتوں میں گم ہو گئے ۔آہ !اللہ پاک فکروغم آخرت عطا فرمائے ۔اٰمین


آج کے اس موجودہ دورِ اُمّتِ محمدی میں ہم صرف نام کی مسلمان رہ گئی ہیں،  آج ہم گناہوں بھری زندگی گزارتی ہوئی اپنی کسی بھی حرکت سے سامنے والی کو اذیت دے رہی ہیں،اور اپنی پڑوسن کو ستاتی جس کا ہمیں اندازہ نہیں ۔ حکمِ نبوی کو بھولتی ہوئی قیامت کی نشانی کی پیروی کر رہی ہیں۔ ہم جانتی ہیں، بہت جلد قیامت قائم ہو جائے گی، پھر بھی تیاری سے دور ہیں۔اللہ پاک کی رحمت کے سبب ہمیں آج کے گناہوں بھرے ماحول میں ایک ایسے مرشد عطا ہوئے جو نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے اور مسلمانوں کو فلاح پا نے اور بھلائی کے راستوں پر چلنے کی ترغیب ارشاد فرماتے ہیں۔ قیامت کے دائرہ حُدود میں اپنا قدم تو ہم سب رکھ چکی ہیں، مگر اندازہ نہیں ہو رہا ہے، آج کئی خواتین بڑی بے حیائی سے بے پردہ بازاروں میں گھومتی ہیں، اپنی حلال رقم سے حرام اور روح کو قتل کرنے والی چیزیں جیسا کہ آلاتِ موسیقی اور دیگر اشیاء خرید لیتی ہیں، ریاکاری جیسے مرض میں مبتلا ہیں، والدین سے سلوک بدتر ہے، مگر سہیلیوں میں بڑی واہ وا ہے،حقوق العباد سے خالی زندگی گزار کر شیطانی سواری اختیار کی ہوئی ہیں، بھول گئیں کہ عنقریب خدا پاک کی جانب سے سُرخ آندھی چلا دی جائے گی اور اس کے عذاب سے بچ نہ سکیں گی۔ ہم کسی کی دی ہوئی امانت کو اپنا وقت نکالنے کے لئے غنیمت سمجھتی ہیں، کسی کی عزت صرف اس لئے کرتی ہیں کہ بہت پیسے والی ہے یا پاور والی ہے، کہیں ہمیں نقصان نہ پہنچا دے، سب سے بڑی طاقت تو اللہ پاک کی ہے، بے حیائی کرنے سے بھی باز نہیں آرہیں، ہمیں اپنے باپ کے ساتھ گستاخیاں اور سہیلیوں میں شوخیاں زیب نہیں دیتا۔دجال کی آمد، امام مہدی کا ظہور ہونا اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری اور قیامت پر ہمارا یقین ہے، جو جلد از جلد قائم ہونے والی ہے۔اللہ پاک اُمّتِ محمدیہ کو گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما دے اور بے حساب مغفرت فرمائے۔اٰمین


قیامت اس دن کو  کہتے ہیں،جس دن تمام آدمی اور جاندار مر جائیں گے اور جس دن تمام دنیا فنا ہو جائے گی، پہاڑ وغیرہ روئی کے گولوں کی طرح اڑتے پھریں گے، ستارے ٹوٹ جائیں گے اور زمینوں پر گرنے لگیں گے، تمام چیز ٹوٹ پھوٹ جائیں گی، غرض ہر چیز جو دنیا میں موجود ہے، سب فنا ہو جائے گی، کیونکہ جس طرح ہر پیدا ہونے والی چیز کی ایک میعاد پر فنا ہوتی ہے، اسی طرح مٹتی رہتی ہے، اسی طرح ساری کائنات کی بھی ایک عمرِ میعاد اللہ پاک کے علم میں مقرر ہے، جب یہ پوری ہو جائے گی، تب قیامت آئے گی۔ جب قیامت آئے گی اس سے پہلے دنیا فنا ہونے سے پہلے قیامت کی چند نشانیاں ظاہر ہوں گی،جنہیں علاماتِ قیامت کہا جاتا ہے۔تین خسف ہوں گے،یعنی آدمی زمین میں دھنس جائیں گے، ایک مشرق میں،دوسرا مغرب میں اور تیسرا جزیرہ عرب میں، یہ قیامت کی نشانی ہے۔ جو نشانیاں موجودہ دور میں پائی جائیں گی،وہ یہ ہیں: 1)علمائے حق اٹھا لئے جائیں گے اور جگہ جگہ لوگ جاہلوں کو اپنا امام و پیشوا مانیں گے۔2) شراب خوری، حرام خوری، زنا کاری وغیرہ عام ہو جائیں گی، مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔3)مال وغیرہ کی کثرت ہو گی، زمین اپنے خزانے، دفینے اُگل دے گی، دین پر قائم رہنا اتنا مشکل ہوگا، جیسے مٹھی میں انگارہ۔4)وقت میں برکت نہ ہو گی، اور وقت بہت جلد گزر رہا ہے، عورتیں مردانہ وضع اختیار کریں گی اور مرد زنانی وضع پسند کریں گے، شرم و حیا جاتی رہے گی۔5)مسجدوں میں لوگ شوروغل مچا کے رکھیں گے اور بے دھڑک لوگ وہاں دین کی باتیں کرنے کے علاوہ دنیاوی باتیں کریں گے، لوگوں کی برائیاں کرنا عام ہو جائے گا،بوقتِ ملاقات گالی گلوچ سے باتیں شروع کریں گے نہ کہ سلام سے۔6)نماز کی شرائط و ارکان کا لحاظ کئے بغیر لوگ نماز پڑھیں گے ،یہاں تک کہ پچاس نمازوں میں سے ایک بھی نماز قبول نہ ہوگی۔یہ وہ علامات ہیں، جو وجود میں آ چکی ہیں اور ابھی کچھ علامتیں آنا باقی ہیں، جو علامتیں آنا باقی ہیں، وہ حضرت امام مہدی رضی اللہُ عنہ کے ظہور تک وقوع پذیر ہوجائیں گی۔(کتاب سنی بہشتی زیوراز مفتی خلیل خان برکاتی،ص47،48ملتقطاً)


دنیا بظاہر بڑا پُر رونق مقام ہے، لیکن اس کا عیب یہ ہے کہ یہاں کی ہر چیز کی کوئی نہ کوئی انتہا ہے، عنقریب ایک دن ایسا آئے گا کہ جب دنیا کی تمام رنگینیاں ختم ہو جائیں گی، دنیا کی خوبصورتی پر زوال آجائے گا، دنیا اُجڑے ہوئے چمن کی طرح ویران ہو جائے گی، عالیشان محل ٹوٹ پھوٹ جائیں گے، چمکتے ہوئے ستارے اپنی جگہ چھوڑ دیں گے، زمین تھرتھرا جائے گی، آسمان پھٹ کر بہہ جائے گا، ایک عجیب سماں ہوگا، ایسی تباہی مچے گی کہ اَلْامَانْ وَالحَفیْظ، اسی کو قیامت کا دن کہتے ہیں، اسی کو حسرت و پشمانی کا دن کہتے ہیں، مگر جس طرح عموماً آدمی کے مرنے سے پہلے بیماری کی شدت، موت کے سکرات، جان کنی کے آثار اور نزع کی حالتیں ظاہر ہوتی ہیں، اسی طرح قیامت یعنی دنیا کے فنا ہونے سے پہلے چند نشانیاں ظاہر ہوں گی، جنہیں علاماتِ قیامت کہا جاتا ہے، قیامت کب آئے گی؟ اس کا حقیقی علم تو اللہ پاک اور الله پاک کی عطا سے اس کے پیارے حبیب، طبیبوں کے طبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ہے، لیکن قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں قیامت کی کچھ علامات بیان فرمائی گئی ہیں، ان علامات کا ظاہر ہونا قیامت کے جلد آنے کی نشاندہی کرتا ہے، قیامت کی کچھ نشانیاں وقوع پذیر ہوچکی اور کچھ وقوع پذیر ہونے والی ہیں۔ (اسلامی بیانات، جلد اوّل، صفحہ5)1) ایک نشانی جو پوری ہو چکی، قرآن پاک میں بھی اس کا صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، چنانچہ پارہ 27، سورۃ القمر کی پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے، فرمانِ باری:

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ترجمہ ٔکنزالایمان:پاس آئی قیامت اور شق ہوگیا چاند۔تفسیر صراط الجنان، جلد 9،صفحہ 586 پر اس آیت مبارکہ کے تحت ہے:قیامت کے نزدیک ہونے کی نشانی ظاہر ہوگئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے معجزے سے چاند دو ٹکڑے ہوکر پھٹ گیا۔(اسلامی بیانات، جلد اوّل، صفحہ 164) 2) قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ لونڈی اپنے آقا کو جنے گی، علمائے کرام نے اس کی مختلف وضاحتیں بیان فرمائی ہیں کہ لوگ اپنی حقیقی ماں کے ساتھ لونڈیوں جیسا سلوک کریں گے، ماں کو تکلیف پہنچائیں گے اور حال یہ ہوگا کہ اولاد اپنی ماں کے ساتھ آقا کی طرح برتاؤ کرے گی۔حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:(لونڈی مالک کو جنے گی) یعنی اولاد نافرمان ہوگی، بیٹا ماں سے ایسا سلوک کرے گا، جیسا کوئی لونڈی سے (سلوک کرتا ہے) تو (اب مطلب یہی ہوا کہ گویا ماں اپنے مالک کو جنے گی۔)(3علم اٹھ جائے گا (یعنی علما اٹھالئے جائیں گے)، جب کوئی عالم نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو مقتدا بنا لیں گے،پھر ان سے دینی مسائل پوچھیں گے تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے،خود بھی گمراہ ہوں گے، دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔(4قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ لوگ نمازیں قضا کریں گے،یاد رکھئے!جان بوجھ کر نماز قضا کرنا گناہِ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، چنانچہ الله پاک پارہ 16سورۂ مریم کی آیت نمبر 59 میں ارشاد فرماتا ہے:فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوْا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا0۔ترجمۂ کنزالایمان:تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے،جنہوں نے نمازیں گنوائیں (ضائع کیں )اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے۔(5 قیامت کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ عورتیں مردوں کی مشابہت اختیار کریں گی اور مرد زنانی وضع اختیار کریں گے، غور کیجئے! آج کون سا ایسا کام ہے، جس میں عورتیں مردوں کی اور مرد عورتوں کی نقالی نہیں کرتے، افسوس! آج تو جس کام میں عورتوں کی تعداد زیادہ شریک ہو، اسے ہی ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے، بال کٹوانے، بازاروں میں گھومنے،کھیلوں کے میدان، ہر جگہ عورتیں مردوں کی نقالی کرتی نظر آتی ہیں، اسی طرح مردوں میں دیکھیں تو کنگن پہننے، عورتوں کی طرح بال رکھنے، الغرض ہر جگہ مرد عورتوں کی نقالی کرتے نظر آتے ہیں، حالانکہ ہمارے مدینے والے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اسے قیامت کی علامات میں شمار کیا ہے اور اس سے منع بھی فرمایا ہے۔(اسلامی بیانات، جلد اوّل ، صفحہ 174)یہ وہ علامات ہیں، جو کچھ وقوع میں آچکی اور جو باقی ہیں، وہ حضرت امام مہدی رضی اللہُ عنہ کے ظہور تک وقوع میں آتی رہیں گی، انہیں علاماتِ صغریٰ کہا جاتا ہے۔


موجودہ دور میں پائی جانے والی قیامت کی پانچ نشانیاں:حدیث مبارکہ:حضرت انس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا: قیامت کی نشانیوں سے ہے کہ علم اُٹھا لیا جائے گا اور جہالت بڑھ جائے گی اور شراب خوری بڑھ جائے گی اور مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں زیادہ ہو جائیں گے،حتی کہ 50 عورتوں کا ایک مرد منتظم ہوگا، ایک روایت میں ہے : علم گھٹ جائے گا اور جہالت زیادہ ہوگی۔اس حدیث مبارکہ میں قیامت کی علامات بتائی گئی ہیں، اس حدیث سے قیامت کی تین علامتوں کا پتہ چلتا ہے:1:اس حدیث میں علم سے مراد علمِ دین ہے، آج یہ علامات شروع ہوچکی ہیں، دنیاوی علوم بہت ترقی پر ہیں، مگر علومِ تفسیر، حدیث، فقہ بہت کم رہ گئے ہیں، علماء اٹھتے جا رہے ہیں، ان کے جانشین پیدا نہیں ہوتے،بہت سے علما واعظ بن کر اپنا علم کھو بیٹھے، یہ سب کچھ اس پیشین گوئی کا ظہور ہے۔2: دوسری علامت اس حدیث میں یہ بیان کی گئی کہ زنا اور شراب خوری عام ہوگی، زنا کی زیادتی کے اسباب عورتوں کی بے پردگی، اسکولوں، کالجوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم اور سینما وغیرہ کی بے حیائی، ان وجوہ سے زنا بڑھ رہا ہے اور بھی زیادہ بڑھے گا اوربعض ممالک میں بغیر شراب کوئی کھانا نہیں ہوتا، ہوٹل میں کھانا مانگیں تو شراب ساتھ آتی ہے۔3: تیسری علامت اس حدیث میں یہ بیان کی گئی کہ لڑکیاں زیادہ پیدا ہوں گی اور لڑکے کم، پھرلڑکے جنگوں میں مارے جائیں گے، اپنی بیوی بچے چھوڑ جائیں گے، ان وجوہ سے عورتوں کی بہتات ہوگی۔حدیث مبارکہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں :رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : قیامت نہ آئے گی، حتی کہ مال زیادہ ہو جائے گا اور بہہ جائے گا، یہاں تک کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نکالنا چاہے تو کوئی ایسا نہ پائے گا، جو اس سے قبول کرے حتی کہ عرب کی زمین چراگاہ اور ہری ہو جائے گی، ان ہی کی ایک روایت میں ہے، فرمایا:مکانات اہاب یا یہاب تک پہنچ جائیں۔4:اس حدیث میں قیامت کی چوتھی علامت بتائی جارہی ہے، یہ تو دیکھنے میں آرہا ہے، جدہ سے مکہ معظمہ تک سبزہ، باغات ہوگئے، عراق کے ریتیلے میدان باغوں میں تبدیل ہوگئے۔حدیث مبارکہ:حضرت انس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : قیامت قائم نہ ہوگی، حتی کہ زمانہ جلدی گزرنے لگے گا تو ایک سال ایک مہینے کے برابر ہوگا اور ایک مہینا ہفتہ کے برابر اور ایک ہفتہ ایک دن کی طرح اور ایک دن ایک گھڑی کی طرح اور ایک گھڑی آگ سُلگانے کی طرح۔5:اس حدیث سے قیامت کی پانچویں علامت کا پتا چلا، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آج کل وقت میں برکت نہیں رہی، بلکہ وقت جلد جلد گزر جاتا ہے، پتا ہی نہیں چلتا، یہ بھی قیامت کی علامتوں میں سے ہے۔یہ قیامت کی وہ پانچ علامت ہیں جو ظاہر ہو رہی ہیں اور کچھ ہو چکی ہیں، اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے قیامت کی علامات کے بارے میں بتایا، ابھی کچھ ایسی بھی علامتیں ہیں، جن کا ظہور باقی ہے۔ (مراةالمناجیح)


قیامت بَرحق اور اِسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے، بے شک وہ اپنے مقررہ وقت پر آئےگی اور ضرور آئے گی،  جو شخص قیامت کا انکار کرے یا اس میں شک کرے، وہ کافر اور خارج اَز اسلام ہے، اللہ پاک نے اپنے بندوں کو ان کے اچھے، بُرے اعمال کی سزاوجزا دینے کے لئے ایک خاص دن مقرر فرمایا ہے، عُرفِ شرع میں اسی دن کا نام قیامت ہے ۔یہ بات معلوم ہے کہ قیامت اچانک تو آئے گی، لیکن قیامت کے آنے سے پہلے بہت سی علامات و آثارِقیامت کا ظہور ہو گا، کئی علامات گزشتہ زمانوں میں گزر چکیں،بہت سی علامتیں آئندہ زمانہ میں ہوں گی اور بہت سی علامات ِ قیامت دورِ حاضرمیں پائی جا رہی ہیں، جن میں سے پانچ یہ ہیں:(ما خوزآثار قیامت رسالہ، ناشر جمعیت اھلسنت اشاعت پاکستان)1۔فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:عنقریب میری امت پر ایک زمانہ ایسا آئیگا کہ وہ پانچ سے محبت رکھیں گے اور پانچ کو بھول جائیں گے:٭ دنیا سے محبت رکھیں گے اور آخرت کو بھول جائیں گے ۔٭مال سے محبت رکھیں گے اور حساب کو بھول جائیں گے۔ ٭ مخلوق سے محبت رکھیں گے اور خالق کو بھول جائیں گے۔٭محلات سے محبت رکھیں گے اور قبرستان کو بھول جائیں گے۔ 2۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی کوئی پروا نہ ہوگی کہ اس نے مال کہاں سے حاصل کیا، حرام ہے یا حلال ہے۔3۔رحمتِ عالم، نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہو گا۔4۔ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:قیامت قائم نہ ہو گی، یہاں تک کہ زہد روایتی اور تقویٰ بناوٹی طور پر رہ جائے گا ۔5۔سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مساجد میں دنیا کی باتیں ہوں گی، پس تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو کہ اللہ پاک کو ان سے کچھ کام نہیں۔(ماخوزاز رسالہ ایک زمانہ ایسا آئے گا، صفحہ 3،7،9،28،36)اے دورِ حاضر کے مسلمانو! کیا آج ایسا نہیں ہے؟ آج دنیا سے محبت عام ہے، حلال و حرام کی پروا کئے بغیر مال کمانے کی دُھن سوار ہے۔العیاذ باللہ ۔الغرض ! دورِ حاضر قیامت کی نشانیوں سے لبریز ہے، ہر نیا دن نئی علامتِ قیامت اور نِت نئے فتنے سے نمو دار ہوتا ہے، یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جس اُمّت کے حقیقی خیر خواہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی حیاتِ ظاہری میں دورِ فتن کی ہولناکیوں کے بارے میں فکر مند رہا کرتے تھے، آج انہی کی اُمّت کے افراد ان فتنوں میں پڑ کر اپنے ہی ہاتھوں دین و انجامِ آخرت کو بُھلا کر باہمی محبت و شرافت اور احکامِ اسلام کا قتلِ عام کر رہے ہیں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں فکرِ آخرت نصیب فرمائے،قبر و قیامت سےآشنائی سے قبل ہمیں اچھے اعمال کر کے جنت کمانے توفیق مرحمت فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم(ماخوزازرسالہ ایک زمانہ ایسا آئے گا، صفحہ4)


دنیا بظاہر بڑا پُر رونق مقام ہے، لیکن اس کا عیب یہ ہے کہ یہاں کی ہر چیز کی کوئی نہ کوئی اِنتہا ہے۔عنقریب ایک دن ایسا آئے گا کہ جب دنیا کی تمام رنگینیاں ختم ہو جائیں گی،دنیا کی خوبصورتی پر زوال آجائے گا،دنیا اُجڑے ہوئے چمن کی طرح ویران ہوجائے گی،بڑے بڑے پہاڑ بکھر جائیں گے اور دُھنی ہوئی روئی کی طرح پرواز کرتے ہوں گے،عالیشان محلات ٹوٹ پھوٹ جائیں گے،چمکتے ہوئے ستارے اپنی جگہ چھوڑ دیں گے،سورج اور چاند کی روشنی مدھم پڑجائے گی،  زمین، چاند اور سورج گُل ہونے کی وجہ سے تاریک ہوچکی ہوگی،سمندر سُلگائے جائیں گے،زمین ایسے تَھرتَھرائے گی کہ کبھی نہ تَھرتَھرائی ہو گی، زمین اپنا بوجھ باہر پھینک دے گی، آسمان پھٹ کر بہہ جائے گا، ایک عجیب سماں ہوگا،حال یہ ہو گا کہ دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی،ایسی تباہی مچے گی کہ اَلْاَمَان وَالْخَفِیْظ،اسی کو قیامت کا دن کہتے ہیں، اسی کو حسرت و پشیمانی کا دن کہتے ہیں،اسی کو حساب کتاب اور سوال جواب کا دن کہتے ہیں،اسی کو زلزلے اور تباہی کا دن کہتے ہیں، اسی کو واقع ہونے اور دل دہلا دینے کا دن کہتے ہیں۔قیامت پر ایمان رکھنا بہت ضروری ہے، اس پر ایمان لائے بغیر کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا، قیامت کب آئے گی؟ اس کا حقیقی علم تو اللہ پاک اور اس کی عطا سے اس کے حبیب، طبیبوں کے طبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ہے۔(کتاب اسلامی بیانات، صفحہ 155،156)احادیثِ مبارکہ میں قیامت قائم ہونے کی کئی علامات بیان فرمائی گئی ہیں۔حدیثِ مبارکہ میں غیب جاننے والے آقا، مدینے والے مصطفٰی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے قیامت کی دو نشانیاں بیان فرمائی ہیں:1۔ایک یہ کہ لونڈی اپنے مالک کو جنم دے گی۔ 2۔دوسری یہ کہ ننگے پاؤں برہنہ جسم والے، مفلس اور بکریاں چرانے والے بلندوبالا گھروں کی تعمیرات میں ایک دوسرے پر فخر کرتے ہوں گے۔( اسلامی بیانات،ص 162)ان علامات کے علاوہ بھی احادیثِ طیبہ میں قیامت کی کئی اور علامتیں بیان ہوئی ہیں: 1:تین خسف ہوں گے، یعنی آدمی زمین میں دھنس جائیں گے، ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا جزیرۂ عرب میں۔ 2:علم اُٹھ جائے گا، یعنی علما اٹھا لئے جائیں گے، یہ مطلب نہیں کہ علما تو باقی رہیں اور ان کے دلوں سے علم محو کردیا جائے۔ 3: مرد کم ہوں گے اور عورتیں زیادہ، یہاں تک کہ ایک مرد کی سر پرستی میں پچاس عورتیں ہوں گی۔ 4: زنا کی زیادتی ہوگی اور اس بے حیائی کے ساتھ زنا ہوگا، جیسے گدھے جُفتی کھاتے ہیں، بڑے چھوٹے کسی کا لحاظ نہ ہو گا۔5: دین پر قائم رہنا اتنا دشوار ہو گا، جیسے مُٹھی میں انگارا لینا،یہاں تک آدمی قبرستان میں جاکر تمنا کرے گا: کاش! میں اس قبر میں ہوتا۔(بہار شریعت ،ص، 116۔118)

حضرت حنظلہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں:ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہمیں نصیحتیں ارشاد فرمائیں، جن کو سن کر ہمارے دل نرم ہو گئے، ہماری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اورہم نے اپنے آپ کو پہچان لیا،پھر جب میں اپنے گھر واپس پہنچااور میری بیوی میرے قریب آئی تو ہمارے درمیان دنیاوی گفتگو ہونے لگی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں میرے دل پر جو کیفیت طاری ہوئی تھی،تبدیل ہو گئی اور ہم دنیا کے کاموں میں مشغول ہو گئے، پھر جب مجھے وہ بات یاد آئی تو میں نے دل ہی دل میں کہا:میں تو منافق ہو گیا ہوں،کیونکہ جو خوف اور رقّت مجھے پہلے حاصل تھی،وہ تبدیل ہو گئی۔چنانچہ وہ گھبرا کر باہر نکلا اور پکار کر کہنے لگا:حنظلہ منافق ہو گیا،حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہُ عنہ میرے سامنے تشریف لے آئے اور فرمایا:ہرگز نہیں! حنظلہ منافق نہیں ہوا۔ بالآخر میں یہی بات کہتے کہتے سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : ہرگز نہیں! حنظلہ منافق نہیں ہوا۔ تو میں نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !جب ہم آپ کی خدمت اقدس میں حاضر تھے تو آپ نے ہمیں وعظ فرمایا،جس کو سن کر ہمارے دل دہل گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور ہم نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس کے بعد میں اپنے گھر والوں کی طرف پلٹا اور ہم دنیاوی باتوں میں مشغول ہو گئے، جس کے سبب آپ کی بارگاہ میں پیدا ہونے والا سوزوگداز رُخصت ہو گیا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اے حنظلہ! اگر تم ہمیشہ اسی حالت میں رہتے تو فرشتے راستے اور تمہارے بستر پر تم سے مصافحہ کرتے، لیکن یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔