اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے
جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو حسنِ اخلاق اور عدل و انصاف سے منظم کرتا ہے۔ ان
پہلوؤں میں "مصاحبت" یعنی ساتھ بیٹھنا بھی شامل ہے۔ آج کے تیز رفتار، ڈیجیٹل
دور میں جہاں انسان حقیقی روابط سے کٹتا جا رہا ہے، وہاں "مصاحبت کے
حقوق" کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ آئیے ہم ان حقوق کو جانتے ہیں اور احادیث سے
واضح کرتے ہیں :
آئیے ہم احادیث مبارکہ سے واضح
کرتے ہیں :
(1) اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ
کر دو شخص آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اس کو رنج پہنچائے گی۔(سنن ابی
داود، كتاب الادب، باب فی التناجی، الحديث: ٤٨٥١، ج 4، ص ٣٤٦)
(2) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ
تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو
آتا وہ آخر میں بیٹھ جاتا۔(سنن ابی داؤد، کتاب آداب، چکر لگانے کا باب، حدیث:
4825، جلد 4، صفحہ 339)
(3) مسلمان کا مسلمان پر ( یہ ) حق ہے کہ جب اسے
دیکھے تو اس کے لئے سرکا جائے ۔ (یعنی مجلس میں آنے والے اسلامی بھائی کے لئے ادھر
ادھر کچھ سرک کر جگہ بنا دے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے۔)(اہل ایمان، قریب آنے کا باب
... اپنے ساتھی کے لیے کھڑے ہونے والے شخص کا حصہ، حدیث 8933 - 6 - صفحہ 468)
(4) حضرت ابن عمر رضی لله تعالی عنہا نبی کریم ﷺ
سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے (اس بات سے منع فرمایا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے
اٹھا دیا جائے ۔ اور اس جگہ میں دوسرا بیٹھ جائے البتہ تم سرک جایا کرو اور جگہ
کشادہ کر دیا کرو یعنی بیٹھنے والوں کو چاہیے کہ آنے والے اسلامی بھائی کے لئے سرک
جائیں اور اسے بھی جگہ دے دیں تا کہ وہ بھی بیٹھ جائے ) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ
تعالی عنہا ( اس بات کو ) مکر وہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے اور یہ
اس کی جگہ پر بیٹھیں ۔ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ فعل کمال درجہ کی
پر ہیز گاری سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا دل تو اٹھنے کو نہیں چاہتا تھا
مگر محض ان کی خاطر جگہ چھوڑ دی ہو ) ۔(صحیح البخاری، کتاب طلب اجازت، باب: اگر آپ
کو بتایا جائے... وغیرہ، حدیث 06270، جلد 4، صفحہ 179)
مصاحبت کا حق صرف ساتھ بیٹھنے یا
ہنسنے بولنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ دل کی پاکیزگی، زبان کی نرمی، اور خلوص پر مبنی
رشتہ ہے۔ اگر ہم اپنے ہر تعلق میں ان اصولوں کو اپنائیں تو معاشرہ امن، محبت اور
اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔چاہے مجلس ہو یا میٹنگ، کلاس روم ہو یا چیٹ روم ہر جگہ
اسلامی ادبِ مصاحبت کی ضرورت ہے۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ان
باتوں اور احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی
الامینﷺ
Dawateislami