محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت عبدالستار
مدنیہ،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
محدود آمدنی
سے مراد وہ آمدنی ہے جو کسی فرد یا خاندان کو محدود مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔
یعنی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے ہیں مثلاً صرف ایک نوکری یا چھوٹا کاروبار اخراجات
کی نسبت آمدنی کم ہوتی ہے۔ ہر چیز خریدنے کی گنجائش نہیں ہوتی، اس لیے ترجیحات طے
کرنا پڑتی ہیں۔
گھر کا بجٹ
ایک منصوبہ ہوتا ہے جس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ دستیاب آمدنی کو مختلف اخراجات پر
کیسے خرچ کرنا ہے۔ بجٹ بنانے کا مقصد کا آمدنی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنا، غیر
ضروری خرچ سے بچنا، بچت کرنا اور مالی مشکلات سے بچنا ہے۔
محدود آمدنی
اور گھر کا بجٹ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر دور میں موجود رہا ہے اور اسلام نے اس
بارے میں واضح رہنمائی فراہم کی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سکھایا گیا
ہے کہ کس طرح محدود وسائل میں صبر قناعت شکرگزاری اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے
اپنی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
قرآن
و حدیث کی روشنی میں محدود آمدنی اور بجٹ کی رہنمائی
قناعت
پسندی: قناعت
کا مطلب ہے جو کچھ موجود ہے اس پر راضی رہنا اور فضول خواہشات سے بچنا۔ قرآن پاک
میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ
یَقْدِرُؕ- (پ
13، الرعد: 26) ترجمہ: اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے
لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔
حديث مبارکہ
میں ہے: بے شک وہی شخص غنی (مالدار) ہے جو دل کا غنی ہو، قناعت اختیار کرے۔ (بخاری،
4/233، حدیث: 6446)
اس حدیث
مبارکہ سے یہ سبق ہے قناعت دل کو سکون دیتی ہے اور محدود آمدنی میں بھی خوشی سے
زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔
اسراف
اور فضول خرچی سے بچنا: اسلام فضول خرچی کو سخت ناپسند کرتا ہے، خاص طور پر
جب وسائل محدود ہوں۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اور بے جا خرچ نہ کرو، بے شک فضول خرچ
لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔
بجٹ بناتے وقت
ہمیں اپنی آمدنی کے مطابق خرچ کرنا چاہیے اور غیر ضروری اخراجات سے بچنا چاہیے۔
شکرگزاری
کا جذبہ: اللہ
تعالیٰ شکر کرنے والوں کے رزق میں اضافہ فرماتا ہے۔ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد
فرماتا ہے: لَىٕنْ شَكَرْتُمْ
لَاَزِیْدَنَّكُمْ (پ 13، ابراہیم: 7) ترجمہ: اگر تم شکر کرو گے تو
میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔
اس سے یہ سبق ملتا
ہے کہ اگر ہم محدود آمدنی پر شکر ادا کریں تو اللہ تعالىٰ مزید رزق عطا فرماتا ہے۔
صبر
اور توکل: صبر
اور اللہ پر بھروسہ رکھنا مالی تنگی کے وقت بہت ضروری ہے۔ اللہ پاک قرآن پاک میں
ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ( پ 2، البقرۃ:
153) ترجمہ: بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
حديث مبارکہ
میں ہے: اگر تم اللہ پر ویسا توکل کرو جیسا کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ایسے رزق دے
گا جیسے پرندے کو دیتا ہے، وہ صبح خالی پیٹ نکلتا ہے اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتا
ہے۔ (ابن ماجہ، 4/452، حدیث:4164)
بچت
اور منصوبہ بندی: اسلامی
تعلیمات میں بچت اور رزق کی بہتر تقسیم کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔
حضرت یوسف
علیہ السلام نے مصر کے بادشاہ کو سات سالہ قحط کے دوران غلہ ذخیرہ کرنے کا منصوبہ
دیا، جو بہترین مالی منصوبہ بندی کی مثال ہے۔
محدود
آمدنی اور گھر کا بجٹ کے طریقے: آمدنی کا حساب لگائیں؛ سب سے پہلے اپنی
کل ماہانہ آمدنی کا اندازہ لگائیں: تنخواه، چھوٹا موٹا کاروبار، پنشن یا کوئی اور
آمدنی۔
اگر آپ کی
ماہانہ آمدنی 30,000 روپے ہے، تو یہی آپ کا بجٹ بنانے کی بنیاد ہوگا۔
ضروری اخراجات
کو پہچانیں ترجیحات طے کریں۔ آمدنی کم ہو تو سب سے پہلے بنیادی ضروریات پر خرچ
کریں، ضروری اخراجات یہ ہیں: کھانا، کرایہ یا قسط، بجلی گیس پانی کے بل، بچوں کی
فیس اور دوا علاج۔
ترجیحات کا
مطلب ہے پہلے ضروری چیزیں بعد میں خواہشات۔
بچت کو عادت
بنائیں، چاہے تھوڑی سی ہی ہو، کچھ رقم بچانے کی عادت ڈالیں۔ مثلاً روزانہ 50 روپے
بچا لیں تو مہینے میں 1500 روپے ہو سکتے ہیں۔ غیر ضروری خرچ سے بچیں، مہنگے کھانے
باہر سے نہ کھائیں، ضرورت سے زیادہ کپڑے، موبائل یا چیزیں نہ خریدیں، سیلز یا آفرز
میں صرف وہی چیز لیں جو واقعی ضروری ہو، گھر میں چیزیں ضائع نہ کریں، بچا ہوا
کھانا دوبارہ استعمال کریں، بجلی پانی کا احتیاط سے استعمال کریں، پرانی چیزوں کو
مرمت کر کے دوبارہ استعمال کریں، اضافی آمدنی کے ذرائع تلاش کریں۔
اللہ پاک سے
دعا کہ اللہ پاک ہمیں اپنی رضا پر راضی رہنے فضول خرچی سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
Dawateislami