جنسی بے راہ روی نہایت فحش گناہ انتہائی گھٹیا،معاشرے کا تباہ کن مرض ہے جس کی زد میں معاشرے کے نہ صرف بالغ افراد بلکہ بچے بھی ہیں۔ آخر اسکے اسباب کیا ہیں اس رجحان کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ اگر چہ یہ مسئلہ ایسا ناسور ہے جو اپنی جڑ اندر تک پھیلا چکاہے تاہم اسکے اسباب جان کر ان کے تدارک کی انفرادی اور اجتماعی طور پر کوشش کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح معاشرے سے اس کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔

جنسی بے راہ روی کے کثیر اسباب ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں جن میں عام اور بنیادی وجہ حیا اور خوف خدا کا ختم ہو جانااور دین سے دوری ہے اسکے علاوہ نکاح میں تاخیر،فحش مواد کا دیکھنا،بے لگام نفس، جائز و ناجائز کی پروا کیے بغیر دنیاوی عیاشی کیلیے مال و دولت کی طلب کہ اسی مقصد کیلیے فحاشی کے اڈے چلائے جاتے ہیں۔

1۔ حیاکا ختم ہونا: بدری صحابی حضرت ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: بےشک گزشتہ انبیائے کرام کے کلام میں سے لوگوں نے یہ بھی پایا ہےکہ جب تمہیں حیا نہ ہو تو جو چاہو کرو۔ (بخاری، 4/131، حدیث:6120)

حدیث میں یوں فرمایا گیا ہے: کیونکہ برائیوں سے روکنے والی چیز تو غیرت ہے جب وہ نہ رہی تو بُرائی سے کون روکے،بہت لوگ اپنی بدنامی کے خوف سے بُرائیاں نہیں کرتے مگر جنہیں نیک نامی بدنامی کی پروا نہ ہو وہ ہر گناہ کر گزرتے ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 6/ 638 ملخصاً)

لہذا حیا جیسے اہم وصف کا انسان میں ہونا بہت ضروری ہے۔

2۔ دین سے دوری: علم دین حاصل نہ کیا جائے تو اسلامی اقدار سے نا واقفیت ہونے کی وجہ سے صحیح غلط کواسلامی اصولوں پر پرکھا نہیں جا سکے گا، نتیجۃً خوف خدا پیدا نہیں ہوگا، اللہ عزوجل کو غفور و رحیم تو سمجھا جائے گا مگر یہ بھول جائے گا کہ وہ قہارو جبار بھی ہے، پردہ اور دیگر اقدار کو اسلامی اصولوں کے بجائے عقل پر تولا جاتا ہے، قرآنی احکام سے ناواقفیت کی بنا پر اپنی عقل کےمطابق اصول بنائے جاتے ہیں۔

3۔ مناسب تربیت کا نہ ہونا:عام طور پر والدین بچوں کی سرگرمیوں پر اور فون کے استعمال پر خصوصی توجہ نہیں دیتے جیسے بچے کے ہاتھ میں فون دے کر ساری فکروں سے دور ہو جاتے ہیں، وقتا فوقتاً بچے کا موبائل فون چیک نہ کرنے کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر نہ جانے کیسا کیسا مواد دیکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ جیسادیکھتے ہیں وہی کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

4۔ فحش مواد دیکھنا،پڑھنا یا اشاعت کرنا: بچے ہوں یا بڑے سوشل میڈیا سے محفوظ نہیں لوگ کسی بھی طریقے viewersاورlikes بڑھانے کیلیے اخلاقیات و اسلامیات کی ہر حد پار کر لیتے ہیں پھر پرسنلائزیشن کے نام پر موبائل کے استعمال پر روک ٹوک نہیں ہوتی جسکی وجہ سے انتہائی گندا مواد دیکھ دیکھ کر ذہن ویسے ہی تیار ہو جاتا ہے اسی طرح شہوانی جذبات کے تحریک دینے والے فحش ناولز بے باکی پر ابھارنے والے فلمی سین بھی ذہن کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

5۔ بری صحبت: پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ لہذا اگر اٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں کے ساتھ ہے جو بے حیا دین سے دور اور ہوس پرستی کا شکار ہیں تو انکی صحبت ضرور اثر کرے گی۔

6۔ نکاح میں تاخیر: دین اسلام نے کچھ کاموں میں جلدی کرنے کا حکم فرمایا ہے ان میں ایک کام نکاح میں جلدی کرنا بھی فرمایا گیا ہے، معاشرے میں شادیاں دیر سے کرنے کا رواج بڑھ چکا ہے یا تنگدستی کی وجہ سے معاشرے کی رسومات کو پورا کرنے کے اخراجات نہیں ہوتے جسکی وجہ سے جلد شادی کرنا مشکل ہو جاتا ہے نتیجۃً نوجوان ناجائز طریقوں سے ہوس کو پورا کرنے کی طرف لپکتے ہیں۔

7۔ مال ودولت کی حرص: کچھ لوگ زنا کاری و فحاشی کے اڈے چلا کر دنیاوی مال ودولت حاصل کرتے ہیں اسی طرح طوائفات جسم فروشی کے ذریعے دنیا کا مال کماتی ہیں حقیقتا دوزخ کے انگارے اکٹھی کرتی ہیں نیز فحاشی کے اڈے چلانے والے اپنے کالے دھندے کوبڑھانے کیلیے کثیر رقم کا لالچ دیتے اور نو جوانوں کو ورغلا کر کال میں پھنساتے ہیں پھر انکی ناجائز کاموں پر ذہن سازی کرتے ہیں۔

8۔ بے پردگی: وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ 22، الاحزاب: 33) ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس کا ہر حکم فطرت کے مطابق اور انسانیت کی فلاح کیلیے ہے اسلام نے ہمیں پردے کا حکم دیا ہے یقینا اسی میں بہتری ہے یہی فطرت ہے مگر آج جدیدیت کے نام پر مردو عورت کے اختلاط کو فروغ دیا جا رہا ہے مزید یہ کہ فیشن کے نام پر عورتوں کی عریانی اور فحاشی عام ہو رہی ہے جو جنس مخالف کو انکی طرف مائل کرتی ہے یوں جنسی آوارگی بڑھتی ہے۔

9۔ بےلگام نفس: ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَاﭪ(۷) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَاﭪ(۸) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ(۱۰) (پ 30، الشمس: 7 تا 10) ترجمہ کنز العرفان: اور جان کی اور اسکی جس نے اسے ٹھیک بنایاپھراس کی نافرمانی کی اور اسکی پرہیز گاری کی سمجھ اس کے دل میں ڈالی بے شک جس نے نفس کو پاک کر لیا وہ کامیاب ہو گیااوربے شک جس نے نفس کو گناہوں میں چھپا دیا وہ ناکام ہوگیا۔

یاد رکھیے نفس انسان کا وہ دشمن ہے، جس کا اثر شیطان سے بھی بڑھ کر ہے، بلکہ خود شیطان کو گمراہ کرنے والی چیز اُس کا نفس تھا۔ نفس کی آرزوئیں بے لگام اور خواہشیں بے شمار ہیں۔ یہ خواہشات بڑھتے بڑھتے اس حد کو پہنچ جاتی ہیں کہ بندگانِ نفس کے لیے اُن کا نفس بمنزلہِ خدا بن جاتا ہے اور بندہ اس کی ہر خواہش پر عمل کرکے خود کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔

اللہ پاک ہر گناہ سے محفوظ فرمائے اللہ پاک دین اسلام سیکھنے سمجھنے اور آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


جنسی بے راہ روی ہماری معاشرتی اخلاقی اور خاندانی زندگی کو شدید متاثر کرنے والا مسئلہ ہے یہ صرف فرد کے کردار کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔

سب سے پہلا اور بنیادی سبب مذہبی اور اخلاقی تربیت کی کمی ہے۔جب انسان کی پرورش میں دین کی تعلیمات حلال اور حرام کی پہچان شرم و حیا کے اصول اور کردار سازی شامل نہ ہو تو برائی اور بھلے کا فرق کھو بیٹھتا ہے۔

دوسرا بڑا سبب انٹرنیٹ ہے جس نے انسان کے دل سے اللہ کا خوف ختم کر دیا۔آج کل کے لوگ انٹرنیٹ میں مصروف ہیں۔

تیسرا غیر صحت مند سماجی ماحول ہے۔ ایسے دوستوں کی صحبت جو انسان کو غلط راستے میں لے جاتی ہے انسان زیادہ تر اپنے ماحول سے سیکھتا ہے۔

ایک اور سبب نکاح میں تاخیر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ مجھ سے نہیں۔ ایک اور سبب والدین کی غفلت اور تربیت کی کمی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں بچوں کو دین کی راہ میں لے کر آئیں۔ دل میں اللہ کا خوف پیدا کریں نبی کریم ﷺ کی پیاری پیاری باتیں سکھائیں اور پانچ وقت کا نمازی بنائیں۔برے دوست انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں جبکہ نیک صحبت انسان کو اچھے راستوں یعنی بھلائی کی طرف لے جاتی ہے۔

حدیث پاک ہے: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا دیکھو کس سے دوستی کرتے ہو۔

اسلام مرد اور عورت دونوں کو حیا کا حکم دیتا ہے جب پردہ نہ ہو تو برائیوں کا راستہ کھل جاتا ہے۔

اسی طرح بے روزگاری اور ذہنی دباؤ بھی انسان کو نفسیاتی کمزوریوں کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان بے روزگاری کی وجہ سے پریشان رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ خوف خدا دل سے نکال دیتا ہے اس کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور وہ دنیاوی زندگی میں اپنا دل لگا بیٹھتا ہے۔

انسان کو اس چیز کا علم ہونا چاہیے کہ قیامت کے دن وہ ان سب چیزوں کا جواب دہ ہوگا جو کچھ اس نے دنیا میں کیا ہے۔اگر انسان اپنے دل میں آخرت کا خوف رکھے تو وہ گناہوں سے بچا رہے گا اور نیک اعمال سر انجام دے گا۔ گھریلو ٹینشن اور مسئلے مسائل کی وجہ سے بھی انسان اللہ تعالیٰ کی یاد سے دور ہو جاتا ہے۔جب والدین بچوں پر غیر ضروری پابندیاں لگا دیں ان کے مسائل نہ سنے یا سخت رویہ اپنائے تو بچے کبھی کبھی جذباتی بغاوت میں غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔میڈیا موبائل ڈرامے فلمیں اور انٹرنیٹ نے نوجوانوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔


معاشرہ کسی بھی قوم کے اخلاقیات و نظریات سماجی قدروں کی عکاسی کرتا ہے اگر سماجی اقدار اور اخلاقیات میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو پورا معاشرہ اس سے متاثر ہوتا ہے معاشرے کی تباہی کا ایک سبب جنسی بے راہ روی بھی ہے۔ جنسی بے راہ روی سے مراد غلط اور غیر اخلاقی رجحانات ہیں جو فطرت اور دین کے خلاف ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ 15، الاسراء: 32) ترجمہ: اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ،بےشک یہ بے حیائی اور بہت برا رستہ ہے۔

اس کے اسباب پر غور کرتے ہیں کہ مسبب کے سدِّ باب کے لئے اسباب کا ختم ہونا ضروری ہوتا ہے۔

جنسی بے راہ روی کے اسباب:

خوفِ خدا کی کمی: خوف خدا کی کمی ہر برائی کی جڑ ہے جب اللہ تعالیٰ کا ڈر دل سے نکل جاتا ہے تو انسان بےباک ہو جاتا ہے اور حلال و حرام کی پروا نہیں کرتا۔

دینی تعلیم سے محرومی: دینی تعلیم کی کمی کی وجہ سے اس بات کی طرف توجہ ہی نہیں جاتی کہ اسلام اس بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے۔

مخلوط تعلیمی نظام: جنسی بے راہ روی کا سبب مخلوط تعلیمی نظام بھی ہے کہ اس ماحول میں محرم اور نا محرم کا آپس میں گفتگو کرنا کچھ معیوب نہیں ہوتا اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کبھی یک طرفہ تو کبھی دو طرفہ ناکام محبت کا سلسلہ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات اس محبت کے نام پرغلط راہ اختیار کی جاتی ہے اور شریعت کی حدیں پار کر بیٹھتے ہیں جو بعد میں شدید شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔

بری صحبت و براماحول بھی ایک سبب ہے جنسی بے راوی کا کہ برے دوست اور غلط محفلیں بھی انسان کو برائیوں میں ملوث کرتے ہیں۔

فحش ویڈیوز اور شہوت کو فرغ دینے والی تحریریں: یہ انسان کے جذبات کو بڑھاتے ہیں اور ان کو پورا کرنے کے جائز ذرائع میسر نہ ہونے کی وجہ سے انسان غلط راہ پر چل پڑتا ہے۔

شادی میں تاخیر: بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں نا جائز رسومات کو پورا کرنے کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر کی جاتی ہے جس کی وجہ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

بے حیائی کو فیشن سمجھنا: فیشن کے نام پر خوب بے حیائی کی جاتی ہے جسکی وجہ سے پہلے نظر پھر دل بہکتا ہے اور وہ ھو جاتا ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔

ان اسباب کا سدِباب ضروری ہے تاکہ بڑھتی ہوئی اس برائی کو روکا جا سکے۔

آ خرت کے معاملات پر غور فکر کیا جائے تاکہ خوف خدا پیدا ہو، دینی تعلیم کی کمی کو دور کیا جائے اور آ نے والی نسل کی اسلامی خطوط پر تربیت کی جائے تاکہ انہیں حلال وحرام کا فرق معلوم ہو، ا چھے دوست بنائے جائیں اچھی صحبت اختیار کی جائے کہ صحبت بہت موثر ہوتی ہےتِل کو گلاب میں رکھیں تو گلابی ہو جاتا ہے، تعلیمی نظام کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں منظم کیا جائے، ناجائز رسومات کا خاتمہ کیا جائے تاکہ سفید پوش لوگ بھی اپنی حیثیت کے مطابق سنت نکاح ادا کر سکیں، اپنی بہن بیٹیوں کو پردے کا پابند کیا جائے اور بے پردگی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔

یہ چند اقدامات اس برے فعل کی روک تھام میں معاون ثابت ہونگے۔


جنسی بے راہ روی کے اسباب ملاحظہ فرمائیے لیکن اس سے پہلے یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ آخر جنسی بے راہ روی ہوتی کیا ہے؟ اسکے اسباب کیا ہوتے ہیں؟ آئیے پہلے خلاصۃً اسکے بارے میں جانتے ہیں پھر اسکے اسباب پر بحث ہوگی، چنانچہ

جنسی بے راہ روی سے مراد ہے کہ جب کوئی شخص سماجی اور اخلاقی اقدار کی حدود کو پامال کرتے ہوئے اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے غلط اور غیر معیاری طریقہ اختیار کرتا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

یہ مسئلہ فرد کی ذہنی اور جسمانی صحت پر برا اثر ڈال سکتا ہے اور سماجی رشتوں کو بھی خراب کر سکتا ہے۔ اس کے بارے میں آگاہی اور تعلیم دینا بہت ضروری ہے تاکہ لوگ اس کے نقصانات کو سمجھ سکیں اور اپنی اور دوسروں کی حفاظت کرسکیں۔

جنسی بے راہ روی کے اسباب کو سمجھنے کیلئے ہم سب کو ایک دوسرے کیساتھ صریحاً اور مخلصانہ گفتگو کرنی چاہیے۔ اس مسئلے کا حل خاندان، سماج، اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے۔ ہم نوجوانوں کو صحیح تعلیم اور رہنمائی دے کر، انہیں غلط راستے سے بچا سکتے ہیں۔

اب جنسی بے راہ روی کے اسباب ملاحظہ فرمائیے۔

جنسی بے راہ روی کے اسباب: جنسی بے راہ روی کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

1۔ تعلیمی کمی: جنسی تعلیم کی کمی اور غلط معلومات کی وجہ سے نوجوان غلط راستے پر چل نکلتے ہیں۔

2۔ سماجی اور معاشرتی دباؤ: دوستوں، فلموں، ڈراموں اور میڈیا کے دباؤ کے تحت نوجوان جنسی بے راہ روی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

3۔ خاندانی مسائل: خاندان میں بے توجہی، والدین کی عدم موجودگی، یا خاندانی جھگڑے بھی نوجوان کو غلط راستے پر لے جا سکتے ہیں۔

4۔ ذہنی صحت کے مسائل: ڈپریشن، اکیلا پن یا خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل بھی جنسی بے راہ روی کا باعث ہو سکتے ہیں۔

5۔ معاشی حالات: غربت یا معاشی عدم استحکام بھی نوجوانوں کو غلط راستے پر لے جا سکتے ہیں۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں جنسی بے راہ روی کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ اسلام عفاّف اور پاکدامنی کی تعلیم دیتا ہے۔ زنا اور دیگر جنسی بے راہ روی کے قریب جانے سے منع کیا گیا ہے۔

چنانچہ ایک آیت اور ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے: وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ 15، الاسراء: 32) ترجمہ: اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ،بےشک یہ بے حیائی اور بہت برا رستہ ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب مرد زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل کر سر پر سائبان کی طرح ہو جاتا ہے، جب اس فعل سے جدا ہوتا ہے تو اس کی طرف ایمان لوٹ آتا ہے۔ (ابوداود، 4/293، حدیث: 4690)

رب تعالیٰ ہمیں ان جیسے دیگر خرافات سے بچنے اور پاکدامنی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


جنسی بے راہ روی کے اسباب جاننے سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ جنسی بے راہ روی کسے کہتے ہیں۔

جنسی بےراہ روی سے مراد ایسےغیرفطری اور غیراخلاقی جنسی رویے ہیں جومعاشرتی اور قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔اس میں غیرفطری اور غیرشرعی تعلقات، تشدد، استحصال اورغیرقانونی جنسی سرگرمیاں شامل ہیں۔

یہ رویے فرداور معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور انتشار کا باعث بنتے ہیں۔ اگر معاشرہ ان چیزوں کے متعلق کوئی ردعمل ظاہر نہ کرے اور بروقت ان چیزوں پر قابو نہ پایا جائے تو اس معاشرے میں خواتین اور بچیوں کی عزت محفوظ نہیں رہتی۔

اب جنسی بے راہ روی کے چند اسباب گوش گزار کرتی ہوں۔

جنسی بے راہروی کا پہلا سبب بےپردگی ہے۔عورتیں ایسے لباس پہنتی ہیں کہ جس سے ان کے اجسام کی ہیئت نمایاں ہوتی ہے۔لباس پہننے کے باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ برہنہ ہوں اور ایسے لباس پہن کر وہ غیر مردوں کے سامنے جاتی ہیں۔

جبکہ اللہ پاک نے قرآن کریم میں سورۃ احزاب میں حکم ارشاد فرمایا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹) (پ 22، الاحزاب: 59)ترجمہ: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں۔یہ اسکے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

اس آیت سے بھی پتا چلتا ہے کہ اللہ پاک نے قرآن کریم میں بھی پردے کا حکم ارشاد فرمایا اور اسی میں بھلائی ہے۔

اس آیت مبارکہ میں ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ دین کے احکامات پر عمل نہ کرنا بھی جنسی بے راہ روی کا سبب ہے۔ یعنی اگر عورتیں اس آیت مبارکہ پر عمل کریں اور پردہ اختیار کریں تو مذکورہ بالا آیت کے مطابق وہ ستائی نہیں جائیں گی۔

اللہ پاک کے ہر حکم میں انسان ہی کے لیے مصلحت ہے۔ مردوں کو بھی چاہیے کہ اپنی نگاہیں جھکائے رکھیں۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ- (پ 18، النور: 30)مومن مردوں کو کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔

اس آیت پر عمل پیرا ہونے سے حیا برقرار رہتی ہے۔ معلوم ہوا کہ بےپردگی اور دین پر بے عملی بھی جنسی بےراہروی کے اسباب میں شامل ہیں۔

جنسی بے راہ روی کا ایک اور سبب مخلوط تعلیم بھی ہے۔ مرد اور عورتیں اکٹھے اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔وہاں بھی فیشن اور ماڈرنائیزیشن کے نام پر بے پردگی ہو رہی ہوتی ہے۔اس طرح نگاہوں کا تقدس پامال ہوتا ہے اور انسان شیطانی جال میں پھنستا ہے۔حدیث مبارکہ میں ارشاد ہوا: کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے مگر اس کا محرم ساتھ ہو ۔ (بخاری، 2/311، حدیث:3006)

یہ اختلاط کے متعلق بہت سخت ممانعت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردوں اور عورتوں کو آپس میں اختلاط سے بچنا چاہیے خصوصاً وہاں جہاں بے پردگی ہو۔

جنسی بے راہ روی کا ایک سبب مغربی تہذیب کا بہت زیادہ پسند کیا جانا بھی ہے۔یعنی آئے دن نئے نئے فتنے اٹھتے ہیں۔ماڈرنائیزیشن،لبرل ازم،مادہ پرستی، فیمنزم کی انتہائیں وغیرہ۔ یہ فتنے دین اسلام کی عورت پر حدود کو ظلم سمجھتے ہیں اور عورتیں ان پر عمل کرتی ہیں۔اور بے پردہ بے پردہ ہونے کو ماڈرنائیزیشن خیال کرتی ہیں۔

پھر نتیجتاً جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ ان سب کے علاوہ مزید بھی بہت سے اسباب ہیں۔

جنسی استحصال سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ انسان اس دور پر فتن میں جتنا پردے میں رہے گا اتنا ہی با حفاظت اور پرامن رہے گا۔ اسلام کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے اور اسلام کی حدود میں رہنے میں ہی بھلائی ہے۔

اللہ ہماری عزتوں کی حفاظت فرمائے اور ہمیں دین اسلام کے احکامات پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


جنسی بے راہ روی سے مراد اپنی جنس(جسم شہوت) کا غلط استعمال کرنا غلط رستہ اختیار کرنا جیسےزنا، بدکاری وغیرہ۔

اسباب:

1۔ جنسی بے راہ روی کا جو سب سے بڑا سبب ہے وہ ہےبے حیائی۔ دیکھا جائے تو آج کل بہت ہی ایسی کم تعداد ہے جو بے حیائی سے بچتی ہو ورنہ ہر جگہ بے حیائی کا انقلاب برپا ہے کہ روشن سوچ رکھنی چاہیے یہ کہنے والے لوگ زیادہ بے حیائی میں مبتلا ہوتے ہیں۔

2۔ کوسٹڈی (co study): ایسے سکول اور کالج جہاں پر لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ساتھ تعلیم دی جاتی ہے ان کا ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف بات چیت کرنا بھی بے حیائی کا سبب ہے۔

3۔ سوشل میڈیا: جنسی بے راہ روی کا ایک سبب سوشل میڈیا بھی ہے کہ اس پر بے حیائی عام ہے سوشل میڈیا کے ذریعے گانے باجی سننا کہ یہ انسان کے اندر شہوت کو پیدا کرتے ہیں فلمیں ڈرامے دیکھنا وغیرہ۔

4۔ دینی تعلیم سے بے رغبتی: دین سے دوری بھی انسان کو بےراہ روی میں مبتلا کر دیتی ہے اگر کوئی شخص دین سے دور ہوگا تو یقینا وہ شیطان کی پیروی کرنے میں لگ جائے گا اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ برے اور بے حیائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اسی متعلق اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-وَ مَنْ یَّتَّبِـعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ-وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًاۙ-وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۱) (پ 18، النور: 21) ترجمہ: اے ایمان والو شیطان کی پیروی نہ کرو جو شیطان کے قدموں کی پیروی کرتا ہے تو بے شک شیطان تو بے حیائی اور بری بات ہی کا حکم دے گا اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص بھی کبھی پاکیزہ نہ ہوتا البتہ اللہ پاک پاکیزہ فرما دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

شیطان کو بے حیائی بہت پسند ہے اسی لیے جہاں شیطان کے اثرات زیادہ ہوں گے وہاں بے حیائی بھی زیادہ ہوگی اور شیطان کے اثرات وہاں پر ہوتے ہیں جہاں پر علم نہ ہو دین سے بےرغبتی یعنی دین سے دوری ہو۔

5۔ نشہ / شراب: یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہر برائی کی جڑ ہے اور برائی و بےحیائی اسی سے شروع ہوتی ہے۔

بےحیائی کا وبال: حجۃ الاسلام حضرت امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں: جو کوئی اپنی آنکھوں کو نظر حرام سے کرے گا تو قیامت کے روز اس کی آنکھوں میں آگ بھر دی جائے گی۔ (مکاشفۃ القلوب، ص 10)

نظر کی حفاظت کی اہمیت: پیاری پیاری اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے کہ نظر کی حفاظت کس قدر اہم ہے کہ اس کی حفاظت نہ کرنے والا قیامت کے دن کس قدر بھاری قیمت چکائے گا اور نظر کی حفاظت بے حیائی سے بچنےکا اہم جز ہے کی نظر برائی کی طرف اٹھے گی تو دل میں وسوسے پیدا ہوں گے اور یہاں سے برائی میں مبتلا کرنے والے گناہ جہنم میں لے جانے کا سبب بنیں گے اور یہ بہت بڑا فتنہ ہے۔ میرےآ قا اعلی حضرت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں: پہلے نظر بہکتی ہے، پھر دل بہکتا ہے پھر ستر بہکتا ہے۔

جنسی بے راہ روی سے بچنے کی فضیلت: تاجدار مدینہ ﷺ کا فرمان فرحت نشان ہے: جو مسلمان کسی عورت کی خوبیوں کی طرف پہلی بار نظر کر ے تو اللہ پاک اسے ایسی عبادت عطا فرمائے گا جس کی وہ لذت پائے گا۔ (مسند امام احمد، 8/299، حدیث: 22341) جہاں عورت کو ایسی پارسائی کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے وہیں مرد کو بھی بے حیائی اور بدکاری سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے مگر مرد کے مقابلے میں عورت کو پردے کا حکم زیادہ ہے کیونکہ عورت کا معنی ہے چھپانے کی چیز کہ وہ خود کو فتنے سے بچانے کے لیے بندے کا اہتمام کریں مرد اور عورت دونوں کو چاہیے کہ ہر وقت اپنی نگاہوں کو باوضو رکھیں یہی طریقہ ہےخود کوبے حیائی سے بچانے کا۔

اللہ پاک ہم کو بے حیائی کرنے سے محفوظ رکھے اور شیطان لعین کے ہر وار سے محفوظ رکھے اللہ پاک میٹھے مدینے کی حاضری کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین


جنسی بے راہ روی سے مراد جنسی خواہشات کی تسکین میں حدودِ شرع اور اخلاقیات کو توڑ دینا ہے۔یعنی وہ تمام اعمال،نظریات یا رویے جو اسلامی تعلیمات،معاشرتی اقدار اور انسانی شرافت کے خلاف ہوں،جن سے زنا،فحاشی، ہم جنس پرستی یا ناجائز تعلقات جیسے گناہ پیدا ہوں،انہیں جنسی بے راہ روی کہا جاتا ہے، اسلامی نقطہ نظر سے یہ عمل بہت بڑا گناہ اور اخلاقی بیماری ہے۔

جنسی بے راہ روی آج کے دور کاایک نہایت سنگین،سماجی و اخلاقی مسئلہ ہے۔معاشرے میں اس بیماری کے پھیلنے سے نہ صرف خاندان کا نظام خراب ہورہا ہے بلکہ اخلاقی اقدار بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔اسلام نے انسان کو پاکیزہ زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے اور فحاشی و بدکاری سے سختی سے منع کیا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ 15، الاسراء: 32) ترجمہ: اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ،بےشک یہ بے حیائی اور بہت برا رستہ ہے۔

جنسی بے راہ روی کے اسباب:

(1) مغربی ثقافت کا اثر: موجودہ دور میں مغربی طرز زندگی نے ہمارے معاشرے کی گہری جڑیں پکڑ لی ہیں،آزاد خیالی،فیشن پرستی اور مخلوط تعلیم کے رواج نے نوجوانوں کو دین سے دور اور خواہشات کا تابع بنادیا ہے۔

(2)میڈیا اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال: انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر موجود فحش مواد، ڈرامے اور فلمیں نوجوان کے ذہنوں کو آلودہ کر رہے ہیں ایسے مواد سے نفسیاتی اور اخلاقی تباہی جنم لیتی ہیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے: جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔ (بخاری، 4/131، حدیث:6120) یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ حیا کے ختم ہونے سے برائی عام ہوجاتی ہے۔

(3)والدین کی عدم توجہ: آج کے والدین اپنی مصروفیات کی وجہ سے بچوں کو وقت نہیں دیتے۔بچے انٹرنیٹ اور دوستوں سے وہ سیکھتے ہیں جو ان کے اخلاق کو بگاڑ دیتا ہے۔والدین اگر دینی تربیت اور نگرانی میں کوتاہی کریں تو نوجوان آسانی سے گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

(4) غربت اور بے روزگاری: بعض اوقات معاشی تنگی اور روزگار کی کمی نوجوانوں کو نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کردیتی ہے۔اس دباؤ سے نکلنے کےلئے وہ ناجائز تعلقات یا فحش تفریحات کا سہارا لیتے ہیں۔

(5)دین سے دوری:دینی تعلیمات سے غفلت جنسی بے راہ روی کا سب سے بڑا سبب ہے جب انسان کے دل میں اللہ کا خوف نہیں رہتا تو وہ حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔

آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں علم دین حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نفسانی خواہشات کی اتباع کرنے سے محفوظ رکھے۔ آمین یارب العالمین


اس سے مراد ایسے رویے اور اعمال جو معاشرے میں مقبول عام جنسی اصولوں اور روایات کے خلاف ہوں۔ یہ اصطلاح نہایت وسیع ہے۔ جس میں مختلف قسم کے جنسی اعمال شامل ہو سکتے ہیں۔ مثلا ًغیرازدواجی تعلقات، جنسی زیادتی وغیرہ۔

قرآن پاک میں ان افعال سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مثلا پارہ 18 سورۂ نور آیت نمبر 30 میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)ترجمہ کنز الایمان: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔

یہاں مسلمانوں کو پاکی کی طرف بلایا گیا اور ان برے اعمال سے بچنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اسی طرح پارہ 18 سورۂ مؤمنون آیت نمبر 5 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵)ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

لہذا اس طرح کے تمام اعمال سے ہمیں بچنا چاہئے کہ جو اللہ اور رسول کی نافرمانی کا سبب بنتے ہوں۔ بعض اوقات انسان کو پتہ بھی نہیں ہوتا اور وہ ان اعمال کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔ لہذا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنی چاہئے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے قریش کے جوانو! اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو،زنا مت کرو ،جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اس کے لئے جنت ہے۔ (ترغیب و ترہیب، 3/193، حدیث: 39)

اس سے بچنے کے لئے کچھ اہم تدابیر یہ ہیں:

1۔ تربیت: بچوں کو بچپن سے ہی پاکیزگی اور عفت کی تربیت دیں اور انہیں صحیح اور غلط کے درمیان فرق بتائیں۔

2۔ نماز: نماز کی پابندی کریں کہ یہ بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے اور نفس کو پاک رکھتی ہے۔

3۔ دوست: اس سلسلے میں دوستوں کا انتخاب بہت اہم ہے۔ لہذا نیک دوست بنائیں۔

4۔ پردہ: مرو اور عورت دونوں کو ہی اپنے غیر محارم سے پردہ کرنا چاہیے کہ یہ بے حیائی اور فحاشی سے بچنے کا اہم ذریعہ ہے۔

4۔ وقت: اپنے وقت کو اچھے کاموں میں صرف کریں جیسا کہ خارجی مطالعہ کہ امیر اہل سنت فرماتے ہیں:کرنے والے کام کرو ورنہ نہ کرنے والے کاموں میں پڑ جاؤ گے۔

6۔ نکاح: جنسی خواہشات کو پورا کرنے کا شرعی طریقہ نکاح ہے۔ جوانی میں نکاح کرنا سنت بھی ہے۔

7۔ دعا: اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ان گناہوں سے بچائے اور صراط مستقیم پر چلائے۔

نیز استغفار کی عادت ڈالیں اور توبہ کا دروازہ کبھی بند نہ کریں۔

8۔ نگاہ: نگاہ کی حفاظت بھی اس سے بچنے کا ذریعہ ہے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ جو لوگ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھتے ہیں وہ اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کر سکتے ہیں۔

9۔ اللہ کا خوف: یہ بھی ایک نہایت اہم ذریعہ ہے اسکے ساتھ تو تمام گناہوں سے بچا جا سکتا ہے۔


بے راہ روی کے معنی: بُری عادت و اطوار، بھٹک جانا، راہ راست پر نہ آنا، بدکار ہونا کے ہیں۔ بے راہ روی وہ حالت ہے جب انسان صحیح راستے سے ہٹ کر گمراہی، برائی اور اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہو جائے۔ بے راہ روی انسان کے اخلاق، کردار اور معاشرتی زندگی میں ایسی خرابی کو کہا جاتا ہے جو اسے خیر و بھلائی کے راستے سے ہٹا کر گمراہی، بے حیائی اور غیر اخلاقی اعمال کی طرف لے جاتی ہے۔ اسلام نے انسان کو سیدھی راہ دکھائی ہے، مگر جب وہ ذکرِ الٰہی، تعلیماتِ نبوی ﷺ اور اخلاقی اقدار سے دور ہوتا ہے تو بے راہ روی جنم لیتی ہے۔

1۔ دینی تعلیم اور تربیت کی کمی: جب انسان کے پاس دینی تعلیمات کا شعور نہ ہو تو وہ خیر و شر میں فرق نہیں کر سکتا۔ اسلامی تعلیم ہی وہ نور ہے جو انسان کو خیر و شر کا شعور دیتی ہے۔ جب یہ نور بجھ جائے تو انسان خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى(۱۲۳) (پ 16، طٰہ:123) ترجمہ کنز الایمان: تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے نہ بدبخت ہو۔

2۔ والدین کی غفلت اور گھر کی تربیت کی کمی: گھر بچے کی پہلی درسگاہ ہے اگر اس میں کمی ہوگی مثلاً والدین بچوں کی تربیت اور سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے غلط چیزوں میں پڑھ کر بےراہ روی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

3۔ بُری صحبت: انسان کی شخصیت اس کی صحبت سے بنتی ہے صحبت ہی انسان کو اچھا یا برا بناتی ہے بری صحبت ہی برے خیالات اور برے اعمال کی طرف لے جاتی ہے اسی لیے کہا گیا ہے کہ انسان اپنی مجلس کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ بُری صحبت انسان کو ہلاکت کے کنارے پہنچا دیتی ہے۔

4۔ بے حیائی اور فحاشی کا عام ہونا: جب معاشرے میں حیا ختم ہو جائے تو اخلاقی بگاڑ بڑھتا جاتا ہے اور بے راہ روی جنم لیتی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (مسند ابی یعلی،6/291، حدیث: 7463) فحاشی، بے پردگی اور غیر اخلاقی مواد بے راہ روی کی بڑی وجہ ہیں۔

5۔ معاشرتی ناانصافی اور برائی کا فروغ: جب معاشرے میں جھوٹ، دھوکا اور حرام عام ہو جائے تو نیکی کمزور ہو جاتی ہےاور معاشرے کی بے عملی اور بدعنوانی نوجوانوں کو غلط راستوں کی طرف لے جاتی ہے۔

6۔ اخلاقی و سماجی بے حسی: معاشرے میں جب برائی کو برائی نہ سمجھا جائے اور لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ دیں تو بے راہ روی بڑھتی ہے۔ مَنْ رَاٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ وَذٰلِكَ اَضْعَفُ الْاِيْمَانِ ترجمہ: تم میں سے جو کوئی برا کام دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنےہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل سے (بُرا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ (مسلم، ص 49، حدیث:177)

7۔ حرام مال اور ناجائز کمائی: حرام کمائی انسان کے دل کو سیاہ کرتی ہے اور اعمال پر برا اثر ڈالتی ہے اور بے راہ روی کا سبب بنتی ہے۔

8۔ سوشل میڈیا اور میڈیا کا منفی استعمال: غیر اخلاقی اور مغربی نظریات سے بھرپور مواد ذہنوں کو آلودہ کرتا ہے۔

اسلام ہمیں نگاہ، کان اور دل کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بے راہ روی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

9۔ خواہشاتِ نفس کی پیروی: انسان کے دل میں دو راستے ہیں حق اور نفس۔ اگر نفس غالب ہو جائے تو انسان بے راہ روی میں ڈوب جاتا ہے۔

بے راہ روی کے اسباب بہت ہیں، مگر ان سے بچنے کا واحد راستہ اسلامی تعلیمات سے وابستگی ہے۔

اگر معاشرہ قرآن و سنت، حیا، اخلاق اور دینی تربیت کو اپنائے تو بے راہ روی کا خاتمہ ممکن ہے۔