بے راہ روی کے معنی: بُری عادت و اطوار، بھٹک جانا، راہ راست پر نہ آنا، بدکار ہونا کے ہیں۔ بے راہ روی وہ حالت ہے جب انسان صحیح راستے سے ہٹ کر گمراہی، برائی اور اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہو جائے۔ بے راہ روی انسان کے اخلاق، کردار اور معاشرتی زندگی میں ایسی خرابی کو کہا جاتا ہے جو اسے خیر و بھلائی کے راستے سے ہٹا کر گمراہی، بے حیائی اور غیر اخلاقی اعمال کی طرف لے جاتی ہے۔ اسلام نے انسان کو سیدھی راہ دکھائی ہے، مگر جب وہ ذکرِ الٰہی، تعلیماتِ نبوی ﷺ اور اخلاقی اقدار سے دور ہوتا ہے تو بے راہ روی جنم لیتی ہے۔

1۔ دینی تعلیم اور تربیت کی کمی: جب انسان کے پاس دینی تعلیمات کا شعور نہ ہو تو وہ خیر و شر میں فرق نہیں کر سکتا۔ اسلامی تعلیم ہی وہ نور ہے جو انسان کو خیر و شر کا شعور دیتی ہے۔ جب یہ نور بجھ جائے تو انسان خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى(۱۲۳) (پ 16، طٰہ:123) ترجمہ کنز الایمان: تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے نہ بدبخت ہو۔

2۔ والدین کی غفلت اور گھر کی تربیت کی کمی: گھر بچے کی پہلی درسگاہ ہے اگر اس میں کمی ہوگی مثلاً والدین بچوں کی تربیت اور سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے غلط چیزوں میں پڑھ کر بےراہ روی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

3۔ بُری صحبت: انسان کی شخصیت اس کی صحبت سے بنتی ہے صحبت ہی انسان کو اچھا یا برا بناتی ہے بری صحبت ہی برے خیالات اور برے اعمال کی طرف لے جاتی ہے اسی لیے کہا گیا ہے کہ انسان اپنی مجلس کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ بُری صحبت انسان کو ہلاکت کے کنارے پہنچا دیتی ہے۔

4۔ بے حیائی اور فحاشی کا عام ہونا: جب معاشرے میں حیا ختم ہو جائے تو اخلاقی بگاڑ بڑھتا جاتا ہے اور بے راہ روی جنم لیتی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (مسند ابی یعلی،6/291، حدیث: 7463) فحاشی، بے پردگی اور غیر اخلاقی مواد بے راہ روی کی بڑی وجہ ہیں۔

5۔ معاشرتی ناانصافی اور برائی کا فروغ: جب معاشرے میں جھوٹ، دھوکا اور حرام عام ہو جائے تو نیکی کمزور ہو جاتی ہےاور معاشرے کی بے عملی اور بدعنوانی نوجوانوں کو غلط راستوں کی طرف لے جاتی ہے۔

6۔ اخلاقی و سماجی بے حسی: معاشرے میں جب برائی کو برائی نہ سمجھا جائے اور لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ دیں تو بے راہ روی بڑھتی ہے۔ مَنْ رَاٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ وَذٰلِكَ اَضْعَفُ الْاِيْمَانِ ترجمہ: تم میں سے جو کوئی برا کام دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنےہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل سے (بُرا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ (مسلم، ص 49، حدیث:177)

7۔ حرام مال اور ناجائز کمائی: حرام کمائی انسان کے دل کو سیاہ کرتی ہے اور اعمال پر برا اثر ڈالتی ہے اور بے راہ روی کا سبب بنتی ہے۔

8۔ سوشل میڈیا اور میڈیا کا منفی استعمال: غیر اخلاقی اور مغربی نظریات سے بھرپور مواد ذہنوں کو آلودہ کرتا ہے۔

اسلام ہمیں نگاہ، کان اور دل کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بے راہ روی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

9۔ خواہشاتِ نفس کی پیروی: انسان کے دل میں دو راستے ہیں حق اور نفس۔ اگر نفس غالب ہو جائے تو انسان بے راہ روی میں ڈوب جاتا ہے۔

بے راہ روی کے اسباب بہت ہیں، مگر ان سے بچنے کا واحد راستہ اسلامی تعلیمات سے وابستگی ہے۔

اگر معاشرہ قرآن و سنت، حیا، اخلاق اور دینی تربیت کو اپنائے تو بے راہ روی کا خاتمہ ممکن ہے۔