اس سے مراد ایسے رویے اور اعمال جو معاشرے میں مقبول عام جنسی اصولوں اور روایات کے خلاف ہوں۔ یہ اصطلاح نہایت وسیع ہے۔ جس میں مختلف قسم کے جنسی اعمال شامل ہو سکتے ہیں۔ مثلا ًغیرازدواجی تعلقات، جنسی زیادتی وغیرہ۔

قرآن پاک میں ان افعال سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مثلا پارہ 18 سورۂ نور آیت نمبر 30 میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)ترجمہ کنز الایمان: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔

یہاں مسلمانوں کو پاکی کی طرف بلایا گیا اور ان برے اعمال سے بچنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اسی طرح پارہ 18 سورۂ مؤمنون آیت نمبر 5 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵)ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

لہذا اس طرح کے تمام اعمال سے ہمیں بچنا چاہئے کہ جو اللہ اور رسول کی نافرمانی کا سبب بنتے ہوں۔ بعض اوقات انسان کو پتہ بھی نہیں ہوتا اور وہ ان اعمال کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔ لہذا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنی چاہئے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے قریش کے جوانو! اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو،زنا مت کرو ،جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اس کے لئے جنت ہے۔ (ترغیب و ترہیب، 3/193، حدیث: 39)

اس سے بچنے کے لئے کچھ اہم تدابیر یہ ہیں:

1۔ تربیت: بچوں کو بچپن سے ہی پاکیزگی اور عفت کی تربیت دیں اور انہیں صحیح اور غلط کے درمیان فرق بتائیں۔

2۔ نماز: نماز کی پابندی کریں کہ یہ بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے اور نفس کو پاک رکھتی ہے۔

3۔ دوست: اس سلسلے میں دوستوں کا انتخاب بہت اہم ہے۔ لہذا نیک دوست بنائیں۔

4۔ پردہ: مرو اور عورت دونوں کو ہی اپنے غیر محارم سے پردہ کرنا چاہیے کہ یہ بے حیائی اور فحاشی سے بچنے کا اہم ذریعہ ہے۔

4۔ وقت: اپنے وقت کو اچھے کاموں میں صرف کریں جیسا کہ خارجی مطالعہ کہ امیر اہل سنت فرماتے ہیں:کرنے والے کام کرو ورنہ نہ کرنے والے کاموں میں پڑ جاؤ گے۔

6۔ نکاح: جنسی خواہشات کو پورا کرنے کا شرعی طریقہ نکاح ہے۔ جوانی میں نکاح کرنا سنت بھی ہے۔

7۔ دعا: اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ان گناہوں سے بچائے اور صراط مستقیم پر چلائے۔

نیز استغفار کی عادت ڈالیں اور توبہ کا دروازہ کبھی بند نہ کریں۔

8۔ نگاہ: نگاہ کی حفاظت بھی اس سے بچنے کا ذریعہ ہے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ جو لوگ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھتے ہیں وہ اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کر سکتے ہیں۔

9۔ اللہ کا خوف: یہ بھی ایک نہایت اہم ذریعہ ہے اسکے ساتھ تو تمام گناہوں سے بچا جا سکتا ہے۔