تاریخ اسلام جن نفوس سے قدسیہ سے روشن ہیں ان میں صحابہ کرام کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے ان میں خاص طور پر عشرہ مبشرہ وہ منتخب نفوس ہیں جن کے بارے میں نبی پاک ﷺ نے واضح طور پر جنت کی خوشخبری عطا فرمائی نبی کریم ﷺ کی ان صحابہ سے محبت کسی وقتی یا جذباتی تعلق کا نام نہیں بلکہ ایمان اعتماد تربیت اور رضائے الہی پر مبنی ایک کامل محبت تھی جو ہر ہر صحابی کے ساتھ جداگانہ انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔

عشرہ مبشرہ کون؟ حضور ﷺ کے وہ 10 اصحاب جن کے جنتی ہونے کی دنیا میں خبر دی گئی انہیں عشرہ مبشرہ کہتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت فتاوی رضویہ شریف میں صحابہ کرام میں افضلیت کی ترتیب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں اہل سنت و جماعت کا اجماع ہے کہ مرسلین، ملائکہ، رسول و انبیاء بشر کے بعد حضرات خلفائے اربعہ تمام مخلوق الہی سے افضل ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 28/478)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: خلفائے اربع راشدین کے بعد بقیہ عشرہ مبشرہ و حضرات حسنین اصحاب بدر اصحاب بیعت الرضوان کے لیے افضلیت ہے اور یہ سب قطعی جنتی ہیں۔ (فیضان صحابہ، ص 11)

دس صحابہ کرام: عشرہ مبشرہ میں چار تو خلفائے راشدین یعنی حضرت صدیق اکبر حضرت فاروق اعظم حضرت عثمان غنی حضرت علی المرتضی ہیں ان کے علاوہ باقی حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حضرت طلحہ حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت سعد بن ابی وقاص ،حضرت سعید بن زید ،حضرت ابو عبیدہ بن جراح۔

1۔ صدیق اکبر سے محبت: نبی کریم ﷺ اور حضرت صدیق کے اکبر رضی اللہ عنہ کی محبت بہت گہری تھی، ترمذی میں ہے کہ آقائے دو عالم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق سے فرمایا: غار ثور میں تم میرے ساتھ رہے حوض کوثر پر بھی تم میرے ساتھ رہو گے۔ (ترمذی، 5/378، حدیث: 3690)

2۔حضرت عمر فاروق سے محبت: حضرت عمر سے بھی رسول اکرم ﷺ کی محبت بہت باکمال تھی طبرانی اوسط میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: جس نے عمر سے دشمنی رکھی اس شخص نے مجھ سے دشمنی رکھی اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ (تاریخ الخلفاء، ص 81)

3۔حضرت عثمان سے محبت: ترمذی شریف میں حضرت انس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اکرم ﷺ نے مقام حدیبیہ میں بیعت رضوان کا حکم دیا اس وقت حضرت عثمان غنی حضور اکرم ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ میں تھے تو ہم نے حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی جب سب لوگ بیعت کر چکے تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ عثمان خدا اور رسول خدا کے کام سے گئے ہوئے ہیں پھر اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا یعنی حضرت عثمان کی طرف سے خود بیعت فرمائی۔ (ترمذی، 5/392، حدیث: 3722)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ سرکار اقدس ﷺ نے اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان غنی کا ہاتھ قرار دیا یہ وہ فضیلتیں جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے۔ (اشعۃ اللمعات،4/668)

کیسا انداز الفت ہے کہ خود اپنے دست مبارک سے آقا دو جہاں ﷺ نے حضرت عثمان غنی کی طرف سے بیعت فرمائی اور اس فضیلت سے ان کے سوا اور کوئی دوسرا صحابی کبھی مشرف نہیں ہوا۔

4۔حضرت علی سے محبت: حضور ﷺ کی حضرت علی سے محبت کا پہلو کئی احادیث مبارکہ میں نمایاں ہے یوم غدیر میں حضور ﷺ نے فرمایا: میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں، یا اللہ جو شخص علی سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ (خلفائے راشدین، ص 278)

5۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ: حضرت موسی بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ارشاد نبی ﷺ ہے: طلحہ نے اپنے عمل سے جنت کو واجب کرلیا۔ (ترمذی، 5/412، حدیث:3759)اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص زمین پر چلتے ہوئے شہید کو دیکھنا چاہے وہ طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھ لے۔ (ترمذی، 5/413، حدیث: 3760

یہ عظیم ارشادات نبویہ اس محبت کا اظہار ہے جو حضور ﷺ کے قلب انور میں حضرت طلحہ کے لیے موجزن تھی اور ان کے بلند مقام کی واضح دلیل ہے۔

6۔ حضرت زبیر سے محبت: حواری انتہائی قریبی جانثار اور مخلص مددگار کو کہتے ہیں نبی کریم ﷺ کا حضرت زبیر کو اپنا حواری قرار دینا ان سے بےمثال محبت اعتماد اور قربت کی دلیل ہے، چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کا ایک خاص مددگار حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ (بخاری، 2/539، حدیث:3719)

7۔حضرت عبدالرحمن سے محبت: حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے مجھے دومۃ الجندل کی طرف لشکر کا امیر بنا کر بھیجا اور اپنے دست مبارک سے میرے سر پر عمامہ باندھا۔

8۔حضرت سعد سے محبت: حضور ﷺ کی حضرت سعد بن ابی وقاص سے محبت واضح ہے کہ ان کے جنتی ہونے کی صراحت فرما دی ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ سعد کے تیر کو ٹھیک نشانے پر لگا دے اور اس کی دعا قبول فرما۔

9۔ حضرت سعید بن زید: حضرت سعید بن زید اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور انہیں نام لے کر جنتی قرار دینا نبی اکرم ﷺ کی انتہائی محبت کی قطعی دلیل ہے۔ 10۔حضرت ابو عبیدہ سے محبت: حضرت ابو عبیدہ سے محبت کے متعلق حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ایک موقع پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔ (بخاری، 2/545، حدیث:3744)

یہ بات واضح ہے کہ صحابہ کرام خصوصا حضرت عشرہ مبشرہ اللہ اور رسول ﷺ کے محبوب ہیں لہذا ان سے محبت رکھنا ادب بجالانا ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے اللہ پاک ہمیں صحابہ کرام کی سچی محبت نصیب فرمائے۔ آمین

حضورﷺ کی عشرہ مبشرہ سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپﷺ نے انہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دی، جو کہ آپﷺ کی طرف سے ان پر اعتماد، شفقت اور خصوصی مقام کی عکاسی ہے۔

عشرہ مبشرہ قرآنی آیت کی تفسیر: حضرت علی المرتضی شیر خدا کرّم اللہ وجہہ الکریم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی: اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) (پ 17، الانبیاء: 101) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں۔ پھر حضرت علی المرتضی نے فرمایا: میں انہیں میں سے ہوں، سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، اورطلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبد الرحمن، ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیہم اجمعین انہیں میں سےہیں۔ (بیضاوی، 4/110)

عشرہ مبشرہ محبوب حبیب خدا: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟فرمایا: عائشہ۔ میں نے عرض کی: مردوں میں؟فرمایا: ابوبکر۔میں نے عرض کی: ان کے بعد کون؟ فرمایا: عمر۔میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: عثمان۔ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: علی بن ابی طالب۔حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ پھرمیں خاموش ہوگیا توآپ نے ارشاد فرمایا: اے عبد اللہ! جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! علی بن ابی طالب کے بعد کون آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: طلحہ، پھر زبیر، پھرسعد بن ابی وقاص، پھر سعید بن زید، پھر عبد الرحمن بن عوف اور پھر ابوعبیدہ بن جراح۔ (الریاض النضرۃ، 1/33)

عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:(۱)ابو بکر(صدیق) جنت میں ہیں(۲) عمر جنت میں ہیں(۳) عثمان جنت میں ہیں(۴)علی جنت میں ہیں(۵)طلحہ جنت میں ہیں (۶) زبیر جنت میں ہیں(۷)عبدالرحمٰن بن عوف جنت میں ہیں(۸) سعد بن ابی وقاص جنت میں ہیں (۹)سعید بن زید جنت میں ہیں(۱۰) اور ابو عبیدہ بن الجراح جنت میں ہیں۔ رضی اللہ عنہم اجمعین (ترمذی، 5/416، حدیث:3768)

حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوبﷺ نے ارشاد فرمایا: میری ساری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابوبکر ہیں۔دین میں سب سے زیادہ مضبوط عمر ہیں۔ حیا میں سب سے بڑھ کر عثمان اور سب سے زیادہ قوت فیصلہ کے مالک علی ابن ابی طالب ہیں۔ہر نبی کے حواری(مددگار) تھے اور میرے حواری طلحہ و زبیر ہیں۔ سعد بن ابی وقاص جہاں ہوں گے حق ان کے ساتھ ہوگا، سعید بن زید محبوبان خدا میں سے ہیں۔ عبد الرحمن بن عوف اللہ کے تاجروں میں سے ہیں، ابوعبیدہ بن جراح اللہ اور اس کے رسول کے امین ہیں۔ ہر نبی کا محرم راز ہوتا ہے اور میرا محرم راز امیر معاویہ بن ابی سفیان ہے۔ ان سب سے محبت کرنے والا نجات پا گیا اور بغض رکھنے والا تباہ ہوگیا۔ (الریاض النضرۃ، 1/36)

عشرہ مبشرہ کے لیے رضائے مصطفےٰ کا پروانہ: حضرت سہل بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی رحمت ﷺ حدیبیہ سے لوٹے تو ممبر پر تشریف لا کر اللہ کی حمد وثنا کے بعد ارشاد فرمایا: اے لوگو! ابوبکر نے مجھے کبھی بھی دکھ نہیں دیا۔اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو۔ اے لوگو! عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن مالک، عبد الرحمن بن عوف اور اوّل مہاجرین تمام سے میں راضی ہوں اور اس بات کوبھی اچھی طرح سمجھ لو۔ (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، 2/448)

عشرہ مبشرہ کے جنت میں رفقاء انبیائے کرام: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: اے عائشہ! تمہیں ایک بشارت نہ دوں؟ عرض کیا: یارسول اللہﷺ! کیوں نہیں۔فرمایا: تمہارے والد ابوبکر جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت ابراہیم علیہ السّلام ہوں گے۔ عمر جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت نوح علیہ السّلام ہوں گے۔ عثمان جنتی ہیں اور جنت میں ان کا رفیق میں خود ہوں گا۔علی جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت یحیی علیہ السّلام ہوں گے۔ طلحہ جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت داودعلیہ السّلام ہوں گے۔ زبیر جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضر ت اسماعیل علیہ السّلام ہوں گے۔ سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق سلیمان بن داود علیہ السّلام ہوں گے۔ سعید بن زید جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت موسی علیہ السّلام ہوں گے۔ اور ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت ادریس علیہ السّلام ہوں گے۔ پھر ارشاد فرمایا: اے عائشہ! میں سید المرسلین ہوں، تمہارے والد افضل الصدیقین ہیں اور تم امّ المؤمنین ہو۔ (الریاض النضرۃ، 1/35)

عشرہ مبشرہ سے بغض کا انجام: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہادی برحق ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ! اگر تم اللہ کی عبادت کرو یہاں تک کہ تم کمان کی طرح ہو جاؤ اور خاموشی اختیار کرو یہاں تک کہ تم کیلوں کی طرح ہوجاؤاور تم نماز پڑھو یہاں تک کہ تم سے سوار ٹھہر جائے اور تم اصحاب عشرہ (مبشرہ)سے بغض بھی رکھو تو اللہ تمہیں اوندھے منہ ضرور جہنم میں گرائے گا۔ (الریاض النضرۃ، 1/34)


اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایسی جماعت عطا فرمائی جو ایمان، اخلاص، قربانی اور وفاداری میں بے مثال تھی۔ ان ہی خوش نصیب صحابہ کرام میں سے دس عظیم ہستیاں وہ ہیں جنہیں حضور ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت عطا فرمائی۔ یہ حضرات عشرہ مبشرہ کہلاتے ہیں۔ حضور ﷺ کی ان مقدس ہستیوں سے محبت محض زبانی نہیں بلکہ عملی، قلبی اور مسلسل تھی، جو قرآن، حدیث اور سیرت کے واقعات سے واضح ہوتی ہے۔

عشرہ مبشرہ کے نام: حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابو بکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں، سعید بن زید جنتی ہیں اور ابو عبیدہ بن الجراح جنتی ہیں۔ (ترمذی، 5/610، حدیث: 3747)

یہ حدیث خود اس بات کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ کو ان حضرات سے کتنی محبت اور اعتماد تھا کہ سب کے نام ایک ساتھ لے کر جنت کی بشارت دی۔

قرآن کی روشنی میں صحابہ کا مقام:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ 11، التوبۃ، 100) ترجمہ: اور سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے پیروکار جو نیکی کے ساتھ ان کے ساتھ ہوئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

مفسرین کے مطابق اس آیت میں سب سے اعلیٰ درجہ انہی جلیل القدر صحابہ کا ہے جن میں عشرہ مبشرہ سرفہرست ہیں۔ حضور ﷺ کی محبت دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق تھی۔

حضرت ابو بکر صدیق سے خصوصی محبت: حضور ﷺ نے فرمایا: اگر میں اللہ کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔ (بخاری، 1/162، حدیث: 466)

یہ حدیث اس بے مثال محبت اور قرب کو ظاہر کرتی ہے جو عشرہ مبشرہ کے سردار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حاصل تھا۔

حضرت عمر فاروق کے بارے میں محبت بھرے الفاظ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عمر جس راستے سے چلتے ہیں، شیطان اس راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ (بخاری، 4/205، حدیث: 3683)

یہ حدیث حضور ﷺ کے دل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مقام اور محبت کو واضح کرتی ہے۔

حضرت عثمان غنی سے حیا اور محبت: ایک موقع پر حضور ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اپنی نشست درست فرمائی اور فرمایا: کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟ (مسلم، ص 1004، حدیث: 6209)

یہ محبت احترام، ادب اور عظمت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ سے قلبی تعلق: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث:3740)

یہ حدیث عشرہ مبشرہ میں شامل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور ﷺ کی گہری محبت کی روشن دلیل ہے۔

دیگر عشرہ مبشرہ سے محبت کے واقعات: غزوۂ تبوک میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھنا، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لیے میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں کہنا، اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اس امت کا امین قرار دینا، یہ سب واقعات اس عظیم محبت کے آئینہ دار ہیں۔

عشرہ مبشرہ سے حضور ﷺ کی محبت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صحابہ کرام کا احترام اور محبت ایمان کا حصہ ہے۔ جو ان سے محبت کرے وہ نبی کریم ﷺ سے محبت کرتا ہے اور جو ان کے راستے پر چلے وہ کامیاب ہے۔

اے اللہ! ہمیں عشرہ مبشرہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرما، ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرما۔

سرکار ﷺ نے جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی انہیں عشرہ مبشرہ کہتے ہیں، حضور نے خود ان کے فضائل بیان فرمائے، انہیں اپنا قریبی ساتھی بنایا اور ان کی عظمت کو تمام صحابہ کرام میں بلند کیا جیسے فتح خیبر کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں ان کا مقام خاص تھا اور آپ نے ان کی تعریف کی انہیں اپنی صحبت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعے اسلام کو پھیلایا۔

عشرہ مبشرہ کون ہیں؟ یہ وہ خوش نصیب دس صحابہ کرام ہیں جنہیں نبی اکرم ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی تھی جن کے نام درج ذیل ہیں: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم

محبت کی نشانیاں:

جنت کی بشارت: آپ نے انہیں خاص طور پر جنت کی خوشخبری دی جو کہ آپ کی ان سے خاص محبت کی علامت ہے۔

فضائل بیان کرنا: حضور نے ان کے بلند مقامات اور فضائل بیان کیے جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت اور فتح خیبر کا واقعہ۔

خاص رفاقت: یہ صحابہ حضور ﷺ کے خاص تربیت یافتہ تھے اور دین کی خدمت کے لیے منتخب ہوئے جیسے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے والد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ نے فرمایا: ابھی ایک جنتی آدمی تم پر آئے گا۔

تربیت اور تعلیم: آپ نے ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ اعلیٰ درجات پر فائز ہوئے جیسا کہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ میں کسی مسلمان کے لیے بغض نہیں رکھتا اور جو اللہ نے اسے دیا ہے اس پر حسد نہیں کرتا۔

دین کا علمبردار بنانا: ان صحابہ کے ذریعے دین اسلام کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلایا گیا اور انہوں نے عظیم قربانیاں دیں۔

حضور ﷺ کی عشرہ مبشرہ سے محبت ان کی فضیلت، خاص رفاقت اور دنیا و آخرت میں ان کے لیے کی گئی دعاؤں اور بشارتوں سے ظاہر ہوتی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حضور ﷺ کے خاص مقربین میں شامل تھے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے یوں فرمایا کہ ابو بکر(صدیق) جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں، سعید بن زید جنتی ہیں اور ابو عبیدہ بن الجراح جنتی ہیں۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)

راضی ہونے کی خوش خبری: یہ عشرہ مبشرہ ہیں جن سے نبی کریم ﷺ راضی تھے۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ وفات تک اس جماعت: علی، عثمان، زبیر، طلحہ اور عبدالرحمن(بن عوف رضی ﷲ عنہم) سے راضی تھے۔

حراء پہاڑ کو حکم: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ حراء (پہاڑ) پر تھے، آپ کے ساتھ ابو بکر(الصدیق)، عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہم) تھے اتنے میں زلزلے کی وجہ سے پتھر ہلنے لگا تو آپ نے فرمایا: ٹھہر جا، اس وقت تجھ پر صرف نبی، صدیق اور شہید کھڑے ہیں۔ (بخاری، 2/524، حدیث: 3675)

خصوصیات کی وضاحت: خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت پر سب سے زیادہ مہربان، میری امت میں ابو بکر ہیں۔ اللہ (کے دین) کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں، شرم و حیا میں سب سے سچے عثمان ہیں، علم فرائض (میراث) کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں، سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، حلال و حرام کو سب سے زیادہ جاننے والے معاذ (بن جبل) ہیں اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔ (مسند امام احمد، 3/281، حدیث: 14035)

محبت جزوِ ایمان: عشرہ مبشرہ ہوں یا دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، سب سے محبت کرنا جز و ایمان ہے۔ امام عوام بن حوشب الشیبانی فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خوبیاں بیان کیا کرو تاکہ (لوگوں کے) دلوں میں ان کی محبت ہی محبت ہو۔ اور ان کی خامیاں بیان نہ کرو تاکہ لوگوں (کے دلوں) میں ان کے خلاف نفرت پیدا نہ ہو جائے۔

خوبیاں بیان کرنے کی تاکید: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنا اور ان کی خامیاں بیان کرنا اہل بدعت کا خاصہ ہے۔ اہل سنت تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے قرآن و حدیث کی گواہی کی وجہ سے محبت ہی محبت کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے پیارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن و حدیث کو امت مسلمہ تک پہنچانے والے ہیں، اللہ نے ان سے راضی ہوکر رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کی بشارت سے نوزا ہے۔


حضور نے دس عشرہ مبشرہ صحابی کو جنت کی بشارت دی ان میں سے ہر ایک کے لیے دعاگو تھے ان پر اعتماد کیا ان سے محبت کا اظہار فرمایا جیسے حضرت ابوبکر، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم۔ جو نبی کریم ﷺ کے ایمان اور یقین کے مظہر تھے اور ان کی خدمات اور قربانیوں کو سراہا اور ان سے محبت دراصل صحابہ کرام سے محبت ہے جو کہ ایمان کا حصہ ہے۔

اعتماد اور ذمہ داریاں: نبی کریم ﷺ نے اہم ذمہ داریاں ان کے سپرد کیں، جیسے حضرت عمر فاروق کا خلافت سنبھالنا جو ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا ثبوت تھا۔

مجلس میں خاص مقام: نبی کریم ﷺ مجلس میں انہیں خاص مقام دیتے تھے اور ان پر اعتماد کرتے اور ان کی رائے کو اہمیت دیتے تھے۔

حضور ﷺ نے ان کی تربیت کی اور ان سے شفقت کا سلوک کیا جو ایک استاد اپنے شاگردوں سے محبت بھرا سلوک کرتا ہے، صحابہ سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور عشرہ مبشرہ سے محبت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے لیے کتنے عزیز تھے یہ محبت صرف زبانی نہیں تھی بلکہ یہ عمل سے ثابت ہوتی تھی جیسے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق کو اپنا خلیفہ مقرر فرمایا۔

نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا: بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں اس سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت میری تمام امت پر واجب ہے۔ (تاریخ الخلفاء، ص 44)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتے تو وہ عمر ہوتے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرےرفیق عثمان غنی ہیں۔ (الریاض النضرۃ، 1/35)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں۔ (ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی طرح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے بڑوں اور بچوں کو بھی اس کا فیضان نصیب عطا فرمائے اور بے انتہا محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دس اصحاب وہ ہیں جن کے بہشتی ہونے کی دنیا میں خبر دے دی گئی ان کو عشرہ مبشرہ کہتے ہیں۔ ان میں چار تو خلفائے راشدین ہیں ان میں سے پہلے حضرت ابوبکر،دوسرے حضرت عمر فاروق،تیسرے حضرت عثمان اور چوتھے حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں باقی حضرات کے اسماء گرامی یہ ہیں: حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

احادیث میں بعض اور صحابہ کرام کو بھی جنت کی بشارت دی گئی ہے چنانچہ خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے حق میں وارد ہے کہ وہ جنت کی بیبیوں کی سردار ہیں اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کے حق میں وارد ہے کہ وہ جوانان بہشت کے سردار ہیں اسی طرح اصحاب بدر اور اصحاب بیعۃ الرضوان کے حق میں بھی جنت کی بشارتیں ہیں۔

صحابۂ کرام کے لیے برکت کی دعا:

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یااللہ! تونے ابوبکر کو برکت عطا فرمائی یہ برکت اس سے جدا نہ فرمانااور لوگ ابوبکر کی محبت پر جمع ہوگئے ہیں ان کو کبھی بھی ابوبکر کی نفرت پر منتشر نہ فرماناکہ ابوبکر تیری رضا کو اپنی رضا پر ترجیح دیتاہے۔یا اللہ! عمر بن خطاب کو عزت عطا فرما، عثمان بن عفان کو صبر عطا فرما، علی بن ابی طالب کی موافقت فرما، زبیر بن عوام کو ثابت قدمی عطافرما، طلحہ بن عبید اللہ کی مغفرت فرما، سعد بن ابی وقاص کو سلامتی عطا فرما، عبد الرحمن بن عوف کو ذخیرۂ خیر عطا فرما۔ (اللآلی المصنوعۃ، 1/392)

اسی طرح حضرت ابو یخامر سکسکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میٹھے میٹھے آقا ﷺ نے فرمایا: الٰہی ابو بکر پر رحمت بھیج کیونکہ وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی عمر پر رحمت بھیج کیونکہ وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی عثمان پر رحمت بھیج بیشک وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی ابو عبیدہ بن جراح پر رحمت بھیج پس وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی عمرو بن عاص پر درود بھیج کیونکہ وہ تیرا اور تیرے رسول کا محب ہے۔ (کنز العمال، جز: 11، 6/345، حدیث: 33680 - الریا ض النضرۃ، 1/41- تاریخ مدینہ دمشق، 46/136)

عشرہ مبشرہ کے لیے رضائے مصطفےٰ کا پروانہ: حضرت سہل بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ حدیبیہ سے لوٹے تو ممبر پر تشریف لا کر اللہ کی حمد وثنا کے بعد ارشاد فرمایا: اے لوگو! ابوبکر نے مجھے کبھی بھی دکھ نہیں دیا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو۔ اے لوگو! عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن مالک، عبد الرحمن بن عوف اور اوّل مہاجرین تمام سے میں راضی ہوں اور اس بات کوبھی اچھی طرح سمجھ لو۔ (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، 2/448)

عشرہ مبشرہ قرآنی آیت کی تفسیر: حضرت علی المرتضی شیر خدا کرّم اللہ وجہہ الکریم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی: اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) (پ 17، الانبیاء: 101) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں۔

پھر حضرت علی المرتضی نے فرمایا: میں انہیں میں سے ہوں، ابوبکر، عمر، عثمان اورطلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبد الرحمن، ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیہم اجمعین انہیں میں سے ہیں۔ (تفسیر البیضاوی، 4/110)

آخر میں دعا ہے اللہ کریم ہمیں دل و جان، زبان و قلم سے ہر صحابی کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور جنّت میں ان کے قدموں میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

عشرہ مبشرہ وہ خوش نصیب صحابۂ کرام تھے جنہیں آقا ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی خوش خبری عطا فرمائی تھی، حضور ﷺ کی عشرہ مبشرہ سے محبت گہری اور مثالی تھی، پیارے آقا ﷺ کی یہ محبت صرف ظاہری نہیں تھی بلکہ ہر صحابی کی انفرادی خوبیوں اور الله کی رضا کے لئے ان کی قربانیوں پر مبنی تھی، جس کی وجہ سے وہ دنیا و آخرت میں بلند مقام کے مستحق ٹھہرے، یہ محبت صحابۂ کرام کے مقام و مرتبے اور حضور ﷺ کے ان پر شفقت کے تعلق کو اجاگر کرتی ہے، اور ان کی محبت جزوِ ایمان ہے۔

آئیے حضور ﷺ کی عشرہ مبشرہ سے محبت کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں، چنانچہ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کی: یارسول الله ﷺ میں کون ہوں؟ آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم سعد بن مالک بن اہیب بن عبد مناف ہو اور جو اس کے علاوہ کوئی اور نسب تمہاری طرف منسوب کرے اس پر الله کی لعنت ہو۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3769)

حضور ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو امین الامت کا لقب عطا فرمایا۔ (بخاری، 2/545، حدیث: 3744)

اسی طرح پیارے آقا ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے لئے یوں دعا فرمائی اے الله! سعد جب بھی تجھ سے دعا کرے تو اسکی دعا قبول فرما۔ (ترمذی، 5/418، حدیث: 3772)

اس دعائے نبوی کی برکت سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ مستجاب الدعوات بن گئے اور ان کی ہر دعا قبول ہوتی تھی، اس سے متعلق واقعات جامع کرامات اولیاء میں مذکور ہیں۔

اس کے علاوہ بھی بہت سی روایات کتب احادیث میں موجود ہیں جن سے آقا ﷺ کی عشرہ مبشرہ و دیگر صحابۂ کرام سے محبت واضح نظر آتی ہے، صحابۂ کرام دنیا کے مسلمانوں سے افضل ہیں، روئے زمین کے تمام اولیا، قطب، ابدال، کسی ایک صحابی کے گرد قدم کو بھی نہیں پہنچ سکتے حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی عزت کرو کہ وہ تمہارے نیک ترین لوگ ہیں۔ (مشکاۃ المصابیح، 2/413، حدیث: 6012)

الله کریم ہمیں ان بزرگ ترین ہستیوں کے فیضان سے مالا مال فرمائے ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین


پیارے آقاﷺ کی عشرہ مبشرہ سے محبت ان کی اسلام کے لئے بے شمار قربانیوں اور تقوی کی بنیاد پر تھی، رسول ﷺ کا ان صحابہ کرام سے رشتہ نہایت مضبوط تھا۔ عشرہ مبشرہ سے محبت دراصل رسولﷺ سے محبت کی علامت ہے ان کا مقام رسولﷺ کی محبت کی وجہ سے بلند ہے عشرہ مبشرہ وہ دس صحابہ ہیں جنہیں پیارے رسولﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی تھی۔

عشرہ مبشرہ کی تعداد اور نام: عشرہ مبشرہ کی تعداد دس ہے جن کے نام یہ ہیں: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اعظم، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضی، حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم اجمعین۔

اللہ پاک نے قرآن پاک میں بھی صحابہ کرام کی فضیلت کو واضح فرمایا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ 11، التوبۃ، 100) ترجمہ: اور سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے پیروکار جو نیکی کے ساتھ ان کے ساتھ ہوئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) (پ 17، الانبیاء: 101) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں۔

ان صحابہ کرام کی فضیلت پر احادیث مبارکہ بھی متواتر ہیں جن سے حضور کی ان اصحاب سے محبت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اللہ کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔ (بخاری، 1/162، حدیث: 466)

اسی طرح حضرت عمر کے بارے میں فرمایا: میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ (ترمذی،5/385، حدیث: 3706)

حضرت عثمان کے بارے میں حضور ﷺ کی محبت اس قدر تھی کہ آپ ﷺ نے ان کی حیا کو پسند فرمایا اور ارشاد فرمایا:کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟ (مسلم، ص 1004، حدیث: 6209)

حضرت علی سے محبت کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا: علی سے محبت ایمان ہے اور علی سے بغض نفاق۔ (مسلم، ص 55، حدیث:78 ماخوذاً)

ایک مرتبہ نبی کریم علیہ السلام حضرت ابو بکر اور عمر فاروق اعظم کے ساتھ نکلے تو آپ نے راستے میں فرمایا: ہم تینوں جنت میں اسی طرح داخل ہونگے جس طرح دنیا میں ساتھ ہیں۔

فرمانِ حضور ﷺ: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جن کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پاجاؤ گے۔

یہ احادیث اور آیات تمام صحابہ کرام کی عظمت و شان پر واضح دلیل ہیں اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم بھی ان عظیم ہستیوں کے نقش قدم پر چلیں،ان سے محبت رکھیں اور ان کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

اللہ پاک ہمیں صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا سینہ پیارے آقا ﷺ کی یاد میں مدینہ بنائے۔ آمین


جن خوش نصیبوں نے ایمان کی حالت میں حضور پاک ﷺ کی صحبت کا شرف پایا اور ایمان کی حالت میں ہی وفات پائی ان کو صحابہ کہتے ہیں اور عشرہ مبشرہ وہ دس خوش نصیب صحابہ ہیں جن کو نبی کریم ﷺ نے ایک ہی جگہ پر ایک ہی جملہ میں جنت کی بشارت دی۔

عشرہ مبشرہ صحابہ کے نام یہ ہیں: ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم اجمعین۔

آقا کریم ﷺ کی ان دس اصحاب سے محبت:

حضرات ابوبکر و عمر: فرمانِ مصطفیٰ ﷺ: ہر نبی کے دو وزیر ہیں دو آسمان میں اور دو زمین میں: آسمان میں میرے دو وزیر جبرائیل اور میکائیل ہیں اور دنیا میں میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر ہے۔ (ترمذی، 5/382، حدیث 3700)

حضرت عثمان غنی: نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: عثمان میرے خلق میں میرے سب صحابہ سے زیادہ میرے مشابہ ہیں۔ (تاریخ الحلفا، ص 228)

حضرت مولا علی: آقا کریم ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا اس کا علی بھی مولا ہے۔ (ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)

حضرت طلحہ: نبی پاک ﷺ نے فرمایا: طلحہ کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ (ترمذی، 5/412، حدیث: 3759)

حضرت زبیر بن العوام: نبی پاک ﷺ نے نو صحابہ کے ساتھ ساتھ ان صحابہ کا نام لے کر ارشاد فرمایا: زبیر جنتی ہیں۔ (ترمذی،5/416، حدیث: 3768)

حضرت عبدالرحمن بن عوف: نبی پاک ﷺ نے فرمایا: عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)

حضرت سعد بن ابی وقاص: نبی پاک ﷺ نے فرمایا: اے سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ (بخاری،3/37، حدیث:4055)

حضرت سعید بن زید: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سعید بن زید جنتی ہیں۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)

حضرت ابو عبیدہ بن الجراح: نبی پاک ﷺنے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن الجراح ہے۔(بخاری، 2/545، حدیث:3744)

نبی پاک ﷺ نے فرمایا: ابو بکر جنتی ہیں عمر جنّتی ہیں عثمان جنتی ہیں علی جنتی ہیں طلحہ جنتی ہیں زبیر جنتی ہیں عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں سعید بن زید جنتی ہیں ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہیں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)

صحابہ سے محبت ایمان کا لازمی جزو ہے اور ان عشرہ مبشرہ صحابہ کرام کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں ان کا صبر ان کی آقا ﷺسے محبت اور عبادت میں استقامت ہماری زندگیوں کو نیکی میں گزارنے کے لیے عملی نمونہ ہیں۔

صحابہ کرام کی افضلیت کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے کرتے ہیں: نبی پاک ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے فلاح و ہدایت پاجاؤ گے۔ (مشکاۃ المصابیح، 2/414، حدیث: 6018-الشفا، 2/53)

اللہ پاک ہمیں بھی ان عشرہ مبشرہ صحابہ کا ادب کرنے ان سے محبت کرنے ان کا فیض لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین


عشرہ کے معنیٰ ہیں ”دس“ اور مبشرہ کے معنی ہیں ”خوشخبری دیے ہوئے“۔ یعنی وہ دس جلیل القدر،عظیم اور خوش نصیب صحابہ جنہیں پیارے آقا ﷺ نے دنیا ہی میں نام بنام جنتی ہونے کی نوید دی۔ یوں تو ہر صحابی کی ہی بہت شان ہے لیکن عشرہ مبشرہ کی شجاعت، ایثار، وفاداری،جذبہ عشق و محبت اور جس انداز سے راہ خدا میں انہوں نے اپنا تن من دھن قربان کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔

چنانچہ حضرت عبدالرحمٰن بن حمید رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نےایک مجلس میں انہیں یہ حدیث بیان کی کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دس آدمی جنّتی ہیں: ابوبکر جنّتی ہیں، عمر جنّتی ہیں،عثمان،علی، زبیر، طلحہ،عبد الرّحمٰن بن عوف، ابوعبیدہ بن جراح اور سعد بن ابی وقاص جنّتی ہیں۔

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نو افراد کے نام بتا کر دسویں پر خاموش ہوگئے، لوگوں نے کہا:اے ابو الاعور! ہم آپ کو اللہ کی قسم دےکر پوچھتے ہیں کہ دسواں کون ہے؟ فرمایا: تم نے مجھے قسم دی ہے تو سنو! دسواں فرد ابوالاعور ہے (ابوالاعور حضرت سعید بن زید کی کنیت ہے) ۔

عشرہ مبشرہ کا شرف پانے والےحضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نہایت،متقی، پرہیزگار، باوقار شخصیت کے حامل یہ وہ صحابی ہیں کہ جنہوں نے اپنی ساری عمر دین حنیف پر قربان کر دی۔دنیا سے بے نیاز اور عشق مصطفی میں ہر لمحہ سرگرداں رہنے والے یہ وہ صحابی ہیں کہ جن کے اندازِ عشق و محبت نے رسول اللہ ﷺ کا دل مبارک جیت لیا آپ نے فرمایا: اور سعید بن زید جنتی ہے۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)

خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق: ان شان والے صحابی سے کون واقف نہ ہو گا جو سخاوت کے دریا، پیکر صدق و وفا، یار غار ہیں کہ جن کی اداؤں پہ فرشتے بھی عاشق ہیں۔ ان کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے سیدی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انسانوں میں جس نے سب سے زیادہ میرا ساتھ دیا اور مجھ پر مال خرچ کیا وہ ابوبکر ہیں اللہ کے سوا اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا وہ میرے اسلامی بھائی ہیں۔(بخاری، 1/162، حدیث: 466)

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق: بارعب اور پروقار شخصیت کہ جن سے شیطان بھی ڈرتا تھا۔خشیت الہی میں ہر لمحہ ڈوبے ہوئے یہ وہ صحابی ہیں کہ جن کے قبول اسلام کے لیے خصوصاً حضور ﷺ نے دعا فرمائی۔ آپ ﷺ ان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جس نے عمر کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اور جس نے عمر کے ساتھ محبت کی اس نے میرے ساتھ محبت کی۔ اللہ عرفہ والوں پر بالعموم اور حضرت عمر پر بالخصوص فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے جو بھی نبی بھیجا اس کی امت میں محدث ہوا ہے اور اگر میری امت میں کوئی شخص محدث ہے تو وہ حضرت عمر ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! محدث کیسے ہوتا ہے؟ فرمایا: جس کی زبان سے فرشتے کلام کرتے ہیں۔ (معجم اوسط، 5/102، حدیث:6726)

مشہور جلیل قدر تابعی کبیر امام مسروق بن الاجدع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ابوبکر اور عمر سے محبت کرنا اور ان کی فضیلت پہچاننا سنت ہے۔

خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی: حسن و جمال کے پیکر، شرم و حیا کے خوگر باکمال اخلاق کے حامل وہ صحابی کہ جن سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔سیدی رسول اللہ ﷺ کو اس قدر عزیز تھے کہ آپ انہیں محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے فرماتے ہیں: اے عثمان! اگر میری 40 بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے ان سب کا نکاح تم سے کر دیتا یہاں تک کہ ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی۔ ابن عدی اور ابن عساکر نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہم حضرت عثمان کو اپنے باپ حضرت ابراہیم سے مشابہ پاتے ہیں۔

خلیفہ چہارم حضرت علی: شاہ مرداں، فاتح خیبر،،علم و حکمت کے میدان کے شہسوار،شیر خدا یہ وہ صحابی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کو اتنے پیارے تھے کہ ان کو محبت سے یاد کرتے ہوئے فرمایا: علی مجھ سے ہیں میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث:3740)

امام بخاری اور امام مسلم نقل کرتے ہیں، حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک میں آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں رہنے کا حکم دیا۔آپ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے یہاں عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ سیدی رسول اللہ ﷺ نے ان پر مبارک نگاہیں جمائےفرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہارا مرتبہ میرے ہاں وہی ہو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاں حضرت ہارون کا تھا، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (تاریخ الخلفاء، ص 132، 133 ماخوذاً

حضرت زبیر بن العوام: حاملین عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہستی حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نہایت جری، ہمت و شجاعت کے پیکر وہ دلیر صحابی ہیں کہ تقوی و پرہیز گاری جن کا خاصہ تھا حضور پر نور کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ حضور ﷺ کی ان سے محبت محض رشتے داری کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ ان کی قربانیوں،دین اسلام سے محبت اور وفا نے سیدی رسول اللہ ﷺ کو اتنا متاثر کیا کہ جوش محبت سے آپ نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے، میرا حواری زبیر ہے۔

حضرت طلحہ بن عبیداللہ: سیدی رسول اللہ ﷺ سے طلحۃ الخیر، طلحۃالفیّاض اور طلحۃالجود کے القابات پانے والے وہ عظیم صحابی ہیں کہ عشق مصطفیٰ میں جن کا قلب اطہر ہر لمحہ جھومتا رہتا تھا۔

غزوہ احد کے موقع پر جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا سر اقدس زخمی ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہاتھ پکڑا سیدنا طلحہ نے کمر مبارک کو سہارا دیا سیدہ فاطمۃ الزہرا نے خون دھویا کمزوری کے باعث پہاڑی پر نہ چڑھ سکے تو حضرت طلحہ نے اپنے کندھے پیش کیے حضور نے ان کندھوں پر قدم رکھے اور اوپر چڑھ گئے۔ ان کی عقیدت کو دیکھ کر آپ ﷺ نے محبت بھرے انداز میں فرمایا: طلحہ نے اپنے اوپر جنت لازم کر لی۔ (ترمذی، 5/412، حدیث:3759)

حضرت عبد الرحمٰن بن عوف: عشرہ مبشرہ کے ایک روشن چراغ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ امامتِ رسول کا شرف پانے والے، حضور کے ظاہری وصال کے بعد امہات المومنین کی کفالت کرنے والے اور بارگاہ رسالت سے الصّادق البار کا لقب پانے والے یہ وہ عظیم صحابی ہیں کہ جن کی سخاوت و فیاضی اور باکمال تجارت کے مد نظر سیدی رسول اللہ ﷺ نے انہیں اللہ پاک کے تاجروں میں سے قرار دیا۔

سیدی رسول اللہ ﷺ اور اہلِ بیت سے محبت حضرت عبدالرحمن بن عوف کا عقیدہ تھا۔ ایک مرتبہ سرکار دوجہاں ﷺ نے لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دلائی تو حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آدھا مال گھر والوں کے لئے چھوڑا اور بقیہ آدھا مال راہ خدا میں پیش کردیا۔اس پر نبی کریم ﷺ نے آپ کو دعا سے نوازا کہ اللہ کریم اس میں برکت عطا فرمائے جو تم نے دیا اور اس میں بھی جو اہل و عیال کے لئے رکھ چھوڑا۔ (خازن،2/265)

آپ ﷺ کی اس محبت بھری دعا کا یہ اثر ہوا کہ آپ اپنے دور کے امیر اور کامیاب ترین تاجر ٹھرے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص: انہیں عشرہ مبشرہ میں سے ایک نامور شخصیت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں ہمت و شجاعت اور دلیری کے بے تاج بادشاہ، تیر اندازی کے زبردست ماہر اور محبوب خدا ﷺ پر جان نچھاور کر دینے والے یہ وہ باکمال،قدیم الاسلام صحابی ہیں کہ جن کیلئے حضور اقدس ﷺ نے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور پر یہ دعا فرمائی: اے اللہ! ان کے تیر کے نشانہ کو درست فرمادے اور ان کی دعا کو مقبول فرما۔

غزوہ احد کے موقع پر آپ ﷺ نے اپنے تمام تر تیر حضرت سعد بن ابی وقاص کے سپرد کر دیئے اور فرمایا: اے سعد! میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں تیر اندازی کرو۔ (بخاری،3/37، حدیث:4055)

حضرت علی فرماتے ہیں: سعد بن ابی وقاص کے علاوہ حضور نے کسی کو یہ الفاظ نہیں فرمائے۔

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح: عشرہ مبشرہ کے آخری ستارے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نہایت ذہین و فطین، عابد و زاہد، جنگی امور کے ماہر یہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں بارگاہ رسالت سے امین الامت کا خطاب ملا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔ (بخاری، 2/545، حدیث:3744)

دامن مصطفی سے جو لپٹا یگانہ ہو گیا جس کے حضور ہو گئے، اس کا زمانہ ہو گیا

بے شک یہ وہ صحابی ہیں جنہوں نے دامنِ مصطفی کو یوں تھاما کہ رہتی دنیا تک کائنات کی ہر شے ان کا ذکر خیر کرتی رہے گی۔

میرے قلم کی وسعت اور صفحات کا ظرف کم پڑ جائے گا مگر ان پیارے صحابہ کی شان کبھی ختم نہ ہوگی۔ اللہ ہمیں ان عظیم صحابہ سے محبت کرنے والا اور ان کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے اور ان کے صدقے بروز قیامت شفاعت مصطفی نصیب فرمائے۔