حضور
کی عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت عاصم شہزاد، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
حضرت
عبدالرحمن بن عوف رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے یوں فرمایا کہ ابو بکر(صدیق)
جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر
جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں، سعید بن زید
جنتی ہیں اور ابو عبیدہ بن الجراح جنتی ہیں۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)
راضی
ہونے کی خوش خبری: یہ عشرہ مبشرہ ہیں جن سے نبی کریم ﷺ راضی تھے۔ حضرت
عمر رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ وفات تک اس جماعت: علی، عثمان، زبیر، طلحہ
اور عبدالرحمن(بن عوف رضی ﷲ عنہم) سے راضی تھے۔
حراء
پہاڑ کو حکم: حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ حراء (پہاڑ) پر تھے، آپ کے
ساتھ ابو بکر(الصدیق)، عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہم) تھے اتنے
میں زلزلے کی وجہ سے پتھر ہلنے لگا تو آپ نے فرمایا: ٹھہر جا، اس وقت تجھ پر صرف
نبی، صدیق اور شہید کھڑے ہیں۔ (بخاری، 2/524، حدیث: 3675)
خصوصیات
کی وضاحت: خادم
رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت
پر سب سے زیادہ مہربان، میری امت میں ابو بکر ہیں۔ اللہ (کے دین) کے معاملے میں سب
سے سخت عمر ہیں، شرم و حیا میں سب سے سچے عثمان ہیں، علم فرائض (میراث) کے سب سے
بڑے عالم زید بن ثابت ہیں، سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، حلال و حرام کو سب سے
زیادہ جاننے والے معاذ (بن جبل) ہیں اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔ (مسند
امام احمد، 3/281، حدیث: 14035)
محبت
جزوِ ایمان: عشرہ
مبشرہ ہوں یا دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، سب سے محبت کرنا جز و
ایمان ہے۔ امام عوام بن حوشب الشیبانی فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خوبیاں بیان کیا کرو تاکہ (لوگوں کے) دلوں میں ان کی محبت
ہی محبت ہو۔ اور ان کی خامیاں بیان نہ کرو تاکہ لوگوں (کے دلوں) میں ان کے خلاف نفرت پیدا نہ ہو جائے۔
خوبیاں
بیان کرنے کی تاکید: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنا
اور ان کی خامیاں بیان کرنا اہل بدعت کا خاصہ ہے۔ اہل سنت تو صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین سے قرآن و حدیث کی گواہی کی وجہ سے محبت ہی محبت کرتے ہیں۔ نبی
کریم ﷺ کے پیارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن و حدیث کو امت مسلمہ تک
پہنچانے والے ہیں، اللہ نے ان سے راضی ہوکر رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کی بشارت سے
نوزا ہے۔
Dawateislami