حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت عابد علی، جامعۃ المدینہ کرباٹھ گاؤں لاہور
غزوہ بدر میں
مسلمانوں نے جنگی سازو سامان نا ہونے کے باوجود بڑی بہادری سے کفار کا مقابلہ کیا
پیارے آقا ﷺ کو اصحاب بدر سے بہت محبت تھی۔
اللہ تعالیٰ
کے پیارے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے امید ہے جو لوگ بدر اور حدیبیہ میں شریک
تھے، ان میں سے کوئی بھی ان شاء اللہ جہنّم میں نہیں جائے گا۔ (1)
دعائے
نبوی: حضور
سرور عالم ﷺ اس نازک گھڑی میں جناب باری سے لو لگائے گریہ وزاری کے ساتھ کھڑے ہو
کر ہاتھ پھیلائے یہ دعا مانگ رہے تھے کہ خداوند تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے آج
اسے پوار فرما دے آپ ﷺ پر اس قدر رقت اور محویت طاری تھی کی چادر مبارک دوش انور
سے گر پڑتی تھی مگر آپ کو خبر نہیں ہوتی تھی کبھی آپ سجدے میں سر رکھ کر اس طرح
دعا مانگنے الہی! اگر یہ چند نفوس ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک روئے زمین پر تیری
عبادت کرنے والے نہ رہیں گئے۔ (2)
یہ آپ ﷺ کی
اصحاب بدر سے محبت کو ظاہر کرتی ہے۔
پیارے آقا ﷺ
نے ارشاد فرمایا: بے شک اﷲ کریم اہل بدر سے واقف ہے اور اس نے یہ فرما دیا ہے کہ
تم اب جو عمل چاہو کرو بلاشبہ تمہارے لئے جنّت واجب ہو چکی ہے یا (یہ فرمایا) کہ میں
نے تمہیں بخش دیا ہے۔ (3)
مراٰۃ
المناجیح میں ہے: اصحاب بدر کے نام پڑھ کر دعائیں کی جائیں تو ان شاء اللہ قبول
ہوں۔ ( 5)
اللہ پاک ہمیں
اصحاب بدر کا صدقہ عطا فرمائے۔ آمین
حوالہ
جات
(1)ابن ماجہ، 4/508، حدیث: 4281
(2) سیرت ابن
ہشام، 2/627
(3) بخاری، 3/12،
حدیث:3983
غزوہ بدر 17
رمضان المبارک 2 ہجری کو پیش آیا، جو اسلام کی تاریخ کا پہلا اور عظیم معرکہ تھا۔
اس میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جبکہ کفار مکہ کے لشکر میں 1000 افراد شامل تھے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شاندار فتح عطا فرمائی، جس سے اسلام کو طاقت اور عزت
ملی۔ یہ جنگ حق و باطل کے درمیان فرق کا دن تھا، جسے قرآن میں یوم الفرقان کہا گیا
ہے۔
اس غزوہ میں
مسلمانوں کی قیادت نبی کریم ﷺ نے کی، اور صحابہ کرام نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ
کیا۔ کفار مکہ کے بڑے بڑے سردار قتل ہوئے، جن میں ابو جہل بھی شامل تھا۔ اس فتح سے
مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے اورمہاجر مدینہ میں ان کا مقام مضبوط ہوگیا۔ غزوہ بدر
اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے جو ایمان، قربانی اور اللہ کی نصرت کی عظیم مثال
ہے۔
حضور علیہ
السلام کی اصحاب بدر سے محبت ایک عظیم موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
اصحاب بدر وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی اور اسلام کی خاطر
اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حضور علیہ السلام نے ان سے بہت محبت فرمائی اور ان
کی فضیلت کو بیان فرمایا۔
حضور علیہ
السلام نے اصحاب بدر کی فضیلت اور محبت کو بیان فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے:
اللہ تعالیٰ نے بدر والوں پر خصوصی نظر فرمائی اور فرمایا: تم جو اعمال چاہو کرو
میں نے تم کو بخش دیا۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007) اس حدیث سے اصحاب بدر کی فضیلت
اور حضور علیہ السلام کی ان سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ایک اور حدیث
میں ارشاد ہے: میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتداء کرو
گے ہدایت پاؤ گے۔ (مشکاۃ المصابیح،2/414، حدیث: 6018) اس حدیث سے اصحاب بدر کی
فضیلت اور حضور علیہ السلام کی ان سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔
حضور علیہ
السلام نے اصحاب بدر سے بہت محبت فرمائی اور ان کی فضیلت کو بیان فرمایا۔ ایک
روایت میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: بدر والوں کو دیکھو، وہ تم میں
سے بہترین ہیں۔
حضور علیہ
السلام نے اصحاب بدر کی فضیلت کو بیان فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے: بدر میں
شریک ہونے والوں کو جنت کی بشارت ہے۔ (بخاری، 3/12، حدیث:3983) اس حدیث سے اصحاب
بدر کی فضیلت اور ان کے لیے جنت کی بشارت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ایک اور حدیث
میں ارشاد ہے: بدر والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک خاص مقام تیار کیا ہے۔
اس حدیث سے اصحاب بدر کی فضیلت اور ان کے لیے جنت میں خاص مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔
حضور علیہ
السلام کی اصحاب بدر سے محبت ایک عظیم موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
اصحاب بدر وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی اور اسلام کی خاطر
اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حضور علیہ السلام نے ان سے بہت محبت فرمائی اور ان
کی فضیلت کو بیان فرمایا۔ ہم بھی اصحاب بدر کی زندگی سے سبق لے سکتے ہیں اور اسلام
کی خاطر اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔
حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت محمد اسماعیل قادری، جامعۃ المدینہ فیضان رضا کراچی
اصحاب بدر سے
مراد وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے غزوہ بدر میں شریک ہونے کی سعادت پائی اور اس جنگ
میں مسلمانوں کو بہترین فتح یابی نصیب ہوئی۔ اصحاب بدر وہ خوش نصیب حضرات ہیں جن
سے پیارے آقا ﷺ خود محبت فرمایا کرتے اور ایسے کئی واقعات و احادیث ہیں جن میں مختلف
پہلوؤں سے اس محبت کا اظہار ہوتاہے چنانچہ اس ضمن میں دو احادیث مبارکہ ملاحظہ
ہوں:
فرمان مصطفیٰ ﷺ:
مجھے امید ہے جو لوگ بدر اورحدیبیہ میں شریک تھے، ان میں سے کوئی بھی ان شاء اللہ
جہنم میں نہیں جائے گا۔{1}
ایک اور جگہ
پر ارشاد فرمایا: بے شک اللہ کریم اہل بدر سے واقف ہے اور اس نے یہ فرما دیا ہے کہ
تم اب جو عمل چاہو کرو بلاشبہ تمہارے لئے جنت واجب ہو چکی ہے یا ( یہ فرمایا) کہ
میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔{2}
ان احادیث
مبارکہ میں پیارے آقا ﷺ نے اپنی زبان اقدس سے ان مبارک ہستیوں کی فضیلت کو بیان
فرمایا جو اس محبت کا واضح ثبوت ہیں اس کے علاوہ اور بھی کئی ایسے واقعات ہیں جو
اس محبت کو واضح کرتے ہیں مثلاً ان صحابہ کرام کی دلجوئی فرمانا اللہ پاک کی
بارگاہ میں ان کیلئے دعا کرنا وغیرہ۔
اللہ کریم
اصحاب بدر کے درجات بلند فرمائے اور ان کے صدقے ہم پر بھی کرم فرمائے۔
{1}ابن ماجہ، 4/508،
حدیث: 4281
{2}بخاری، 3/12،
حدیث:3983
حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت رحمت علی، جامعۃ المدینہ مجید کالونی لانڈھی
بدر سے مراد
وہ خوش نصیب صحابہ ہیں جنہوں نے دو ہجری 17 رمضان میں حق و باطل کے پہلے معرکہ
غزوہ بدر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شرکت کی۔ان عظیم ہستیوں کو اللہ پاک نے بخشش اور
جنت کی بشارت دی ہے اور یہ تمام مسلمانوں میں سب سے بلند مقام رکھتے ہیں اصحاب بدر
اسلام کے اولین محافظین اور سابقون الاولون میں سے ہیں۔جن کی قربانیوں کی وجہ سے
اسلام کو ابتدائی طور پر مضبوطی ملی۔
حضور ﷺ نے
بدری صحابہ کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل قرار دیا ہے ان کو اللہ نے
نصرت عطا فرمائی۔
حضور اکرم ﷺ کی
اصحاب بدر سےمحبت اور ان کا بلند مقام ومرتبہ قرآن کی متعدد آیات اور حدیث میں
بیان کیا گیا ہے۔بدر کے مجاہدین اللہ تعالی کی رضا کے طلبگار کافروں پر سخت اور
آپس میں نرم دل اور سجدوں کے نشان کے ساتھ پہچانے جاتے تھے یہ وہ جماعت ہے جس کے
ساتھ آقا ﷺ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہمیشہ رہتے تھے۔
اللہ پاک قرآن
کریم میں ارشاد فرماتا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ
عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ
فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘- (پ 26، الفتح:
29) ترجمہ کنز الایمان: محمد اللہ کے رسول
ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہے اور آپس میں نرم دل تو انہیں دیکھے گا
رکوع کرتے سجدے میں گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے۔
انسان کی یہ
فطرت ہے کہ وہ اپنے محبوب کے دشمنوں سے نفرت کرتا اور ان پرسختی کرتا ہے اور ان
میں بھی جس کی محبت اتنی زیادہ ہو اس کی اپنے محبوب کے دشمن سے نفرت اور سختی بھی
اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور یہ چیز اس کے عشق و محبت کے علامت میں سے ایک اہم علامت
شمار کی جاتی ہے۔
صحابہ کرام
رضی اللہ عنہم وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کا اللہ تعالی اور ان کے پیارے حبیب ﷺ سے
عشق و محبت بے مثال اور لازوال ہے سید المرسلین ﷺ کی ذات گرامی انہیں مال اولاد
اہل و عیال حتی کہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب اور عزیز تھی اس بے انتہا عشق و
محبت کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنےحبیب ﷺ کے دشمنوں یعنی کفار
سے سخت نفرت کرتے اور ان پر انتہائی سختی فرمایا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم
میں فرمایا ہے کہ یہ کافروں پر سخت ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ
حضور ﷺ اصحاب بدر سے بے انتہا عشق و محبت فرمایا کرتے تھے کیونکہ صحابہ کرام آپس
میں نرم دل اور محبت اور شفقت کرنے والے تھے۔
صحابہ کرام کی
اس سیرت میں دیگر مسلمانوں کے لیے بھی نصیحت ہے کہ ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی
سے نفرت نہ کرے۔اور اس کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئے شفقت اور نرمی سے پیش اور ان کے
ساتھ مہربانی سلوک کرے۔
حدیث میں ہے
کہ تم مسلمانوں کو آپس کی رحمت باہمی محبت اور مہربانی میں ایک جسم کی طرح دیکھو
گے کہ جب ایک عضو بیمار ہوجائے تو سارے جسم کے اعضاء بےخوابی اور بخار کی طرف ایک
دوسرے کو بلاتے ہیں۔ (بخاری، 4/103، حدیث: 6011)
اللہ تعالی
مسلمانوں کو آپس میں شفقت و نرمی سے پیش آنے اور ایک دوسرے پر مہربانی کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور اکرم ﷺ صحابہ
کرام سے محبت فرماتے تھے اور ان کے ساتھ والہانہ عقیدت کا تعلق تھا بدر کی لڑائی
میں حاضر ہونے والوں کو خاص فضیلت حاصل ہے جنہیں اللہ کے رسول ﷺ نے مختلف مہمات پر
بھیجا اور ان کی تعریف فرمائی کہ حدیث مبارکہ میں ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو گالی نہ دو قسم ہے اس ذات کی جس
کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں سرف کر
ڈالے تو ان میں کسی کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی ثواب نہ پائے گا۔ (بخاری، 2/
522، حدیث: 3673)
حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت محمد بوٹا، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
نبی کریم ﷺ تمام
انسانیت کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نہایت نرم دل، شفیق اور اپنے صحابہ
کرام سے بے حد محبت فرمانے والے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ ﷺ پر اپنی
جانیں قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ انہی عظیم صحابہ میں اصحاب بدر کا
مقام سب سے بلند اور نمایاں ہے۔ غزوۂ بدر اسلام کی پہلی بڑی جنگ تھی جس میں
مسلمانوں نے اللہ کے حکم سے تاریخی فتح حاصل کی۔
نبی کریم ﷺ اصحاب
بدر سے بےحد محبت فرماتے تھے۔ آپ ﷺ ان کا بے حد احترام کرتے اور ان کی قربانیوں کو
ہمیشہ یاد رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے ایک غلطی
سرزد ہوئی تو بعض صحابہ نے انہیں سخت سزا دینے کا مشورہ دیا، مگر حضور ﷺ نے
فرمایا: وہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں، تمہیں کیا معلوم شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر
کو معاف فرما دیا ہو۔
اس سے ظاہر
ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کو اصحاب بدر سے کتنی محبت تھی اور آپ ﷺ ان کی عزت و قدر فرماتے
تھے۔
نبی
کریم ﷺ کا خصوصی انداز محبت: نبی کریم ﷺ اصحاب بدر کا ذکر نہایت
محبت اور احترام سے فرمایا کرتے تھے۔ جب بھی ان کا نام لیا جاتا تو آپ ﷺ کے چہرۂ
مبارک پر خوشی اور شفقت کے آثار نمایاں ہو جاتے تھے۔ آپ ﷺ انہیں امت کے لیے مثال
قرار دیتے تھے اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد دلاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
جو لوگ دین کی خاطر قربانی دیتے ہیں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نگاہ میں ان کا
مقام بہت بلند ہوتا ہے۔
حدیث
مبارکہ اور محبت رسول: اصحاب بدر کی فضیلت کے بارے میں ایک مشہور حدیث ہے
کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو دیکھ کر فرمایا: تم جو چاہو
عمل کرو، میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007)
اس حدیث سے
معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب بدر کا مقام اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بلند ہے۔ نبی کریم ﷺ
بھی ان سے خاص محبت فرماتے تھے اور ان کی عظمت بیان کرتے تھے۔ جب کسی اہل بدر کے
بارے میں بات ہوتی تو آپ ﷺ ان کی بدر میں شرکت کو ان کی بڑی فضیلت قرار دیتے تھے۔
یہ حضور ﷺ کی اپنے جان نثار صحابہ سے سچی محبت کا واضح ثبوت ہے۔
نبی کریم ﷺ کی
اصحاب بدر سے محبت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کی راہ میں قربانی دینے والوں کا
مقام ہمیشہ بلند رہتا ہے۔ اصحاب بدر نے ایمان، صبر اور وفاداری کی اعلیٰ مثال قائم
کی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں، دین سے محبت کریں
اور ہر حال میں سچائی کو اپنائیں۔
غزوہ بدر 17
رمضان المبارک، 2 ہجری کو پیش ایا۔ اس معرکے میں شریک 313 صحابہ کرام کو اصحاب بدر
کہا جاتا ہے۔ اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ کو اصحاب بدر سے بےحد محبت تھی۔ کیونکہ وہ
جانثار تھے کہ جنہوں نے 313 کی تعداد میں 1000 مشرکین کا سامنا کیا۔ صرف یہی نہیں
بلکہ آپ ﷺ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ نبی کریم ﷺ نے ان صحابہ کرام کو جنت کی بشارت
دی۔ اور ان کی جگہوں کی نشان دہی فرمائی اور ان کے ایمان و اخلاص کی وجہ سے ان
صحابہ کرام کو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ قرار دیا۔
چنانچہ نبی
کریم ﷺ کی اصحاب بدر سے محبت کے متعلق چند واقعات ملاحظہ کیجیئے۔
ایک موقع پر
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ( جو بدری صحابی تھے ) سے ایک لغزش ہوئی تو حضرت عمر رضی
اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے سزا کی اجازت چاہی۔ تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ بدری
صحابی ہے اور تم نہیں جانتے کہ اللہ پاک نے اہل بدر کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایا
ہے۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007)
یہ واقعہ اس
بات کا ثبوت ہے کہ نبی کریم ﷺ اصحاب بدر سے بے حد محبت اور ان کا احترام کرتے تھے۔
میٹھی میٹھی
اسلامی بہنو! محبت کا ایک پہلو احترام کرنا بھی ہے۔مصطفیٰ جان رحمت ﷺ غزوہ بدر میں
حاضر ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بہت عزت فرماتے تھے چنانچہ ایک روز
چند بدری صحابہ کرام ایسے وقت پر پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی انہوں نے
پیارے آقا ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ نور والے آقا ﷺ نے سلام کا جواب
دیا۔ پھر انہوں نے حاضرین کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا۔ پھر وہ اس انتظار میں
کھڑے رہے کہ ان کے لیے مجلس شریف میں جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی۔ تو
سرکار دو عالم ﷺ نے اپنے قریب والوں کو اٹھا کر ان کے لیے جگہ بنا دی۔ اٹھنے والوں
کو اٹھنا شاق ہوا تو اس پر سورت مجادلہ کی ایت نمبر 11 نازل ہوئی۔ چنانچہ ارشاد
فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا
یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ
بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں
جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے
ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا
اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (تفسیر خازن، 4/240 )
اس واقعے سے
بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ اصحاب بدر سے کس قدر محبت فرماتے تھے اور ان کی تعظیم
کرتے تھے۔
شہدائے بدر کی
فضیلت پر دلالت کرنے والی حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے، چنانچہ
جنتی صحابی
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ شہید
ہو گئے تو ان کے والدہ نے آخری نبی ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول
اللہ! آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ مجھے حارثہ کتنا پیارا تھا اگر وہ جنت میں ہے تو
میں صبر کروں اور ثواب کی امید رکھوں اور اگر خدانخواستہ معاملہ برعکس ہے تو آپ
دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ اللہ پاک کی عطا سے غیب دان آخری نبی ﷺ نے ارشاد
فرمایا: تجھ پر افسوس ہے کیا تو پگلی ہو
گئی ہے کیا خدا کی ایک ہی جنت ہے اس کی جنتیں تو بہت ساری ہیں اور بے شک حارثہ جنت
الفردوس میں ہیں۔ (بخاری، 3/12، حدیث: 3982)
حضرت جابر رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیوں کے سردار رحمت عالم ﷺ نے فرمایا: بدر میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی بھی جہنم
میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم،ص 1041، حدیث:6403)
غزوہ بدر کے
موقع پر نبی کریم ﷺ اپنے سائبان میں تشریف فرما تھے اور سائبان میں یار غار صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ اس وقت نبی کریم ﷺ بارگاہ الٰہی میں یوں
دعا مانگ رہے تھے: اے اللہ! تو نے مجھ سے
جو وعدہ فرمایا آج اسے پورا کردے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ پر بہت زیادہ رقت اور محویت
طاری تھی۔ کبھی آپ ﷺ سجدے میں سر رکھ کر اس طرح دعا فرماتے۔ کہ الٰہی اگر یہ چند
نفوس ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والے نہ رہیں گے۔
(مواہب لدنیۃ، 2/278)
میٹھی میٹھی
اسلامی بہنو! ان واقعات سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ اصحاب بدر سے کس قدر محبت
فرماتے تھے اور نبی کریم ﷺ کا اصحاب بدر کے لیے دعا کرنا اور ان کا احترام کرنا
نبی کریم ﷺ کی محبت کو ظاہر کرتا ہے۔
حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت کرامت علی،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
غزوۂ بدر
اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور فیصلہ کن معرکہ ہے جس میں حق و باطل پہلی مرتبہ آمنے
سامنے آئے۔ اس غزوے میں شریک ہونے والے صحابۂ کرام کو اصحاب بدر کہا جاتا ہے، جن
کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔ یہ وہ خوش نصیب جماعت ہے جس کے دل ایمان، اخلاص اور
قربانی کے جذبے سے سرشار تھے۔ نبی کریم ﷺ کو اصحاب بدر سے بے حد محبت اور خصوصی
تعلق تھا، جس کا ذکر قرآن، حدیث اور اہل سنت کی معتبر کتب میں ملتا ہے۔
غزوۂ بدر کے
موقع پر نبی کریم ﷺ نے اصحاب بدر کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کے
حضور عاجزی کے ساتھ مدد طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص اور قربانی کے بدلے
انہیں ایسی فضیلت عطا فرمائی جو کسی اور کو حاصل نہ ہوئی۔ صحیح بخاری اور صحیح
مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف نظر
فرمائی اور ان سے فرمایا کہ تم جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 2/312،
حدیث: 3007)یہ حدیث اصحاب بدر کے بلند مقام کی واضح دلیل ہے۔
نبی کریم ﷺ
اصحاب بدر سے خاص محبت فرماتے تھے اور ان کا غیر معمولی احترام کرتے تھے۔ کسی
معاملے میں اگر کوئی بدری صحابی موجود ہوتا تو آپ ﷺ اس کی رائے کو اہمیت دیتے تھے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ اہل بدر کی تعظیم
فرمایا کرتے تھے اور ان کے مقام کا خاص خیال رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے دوسرے صحابۂ
کرام بھی بدری صحابہ کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
اہل سنت و
جماعت کے عقیدے کے مطابق تمام صحابۂ کرام عادل اور قابل احترام ہیں، مگر اصحاب
بدر کو ان میں خاص فضیلت حاصل ہے۔ علامہ سعد الدین تفتازانی رحمہ اللہ شرح عقائد
نسفی میں بیان فرماتے ہیں کہ صحابہ میں سب سے افضل اہل بدر ہیں۔ اسی طرح ملا علی
قاری رحمہ اللہ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں کہ اہل سنت کے نزدیک تمام صحابہ کی
تعظیم ضروری ہے اور اہل بدر کو خصوصی امتیاز حاصل ہے۔
اصحاب بدر سے
محبت دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت کی علامت ہے، کیونکہ جن سے نبی کریم ﷺ محبت
فرمائیں ان سے محبت رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔ قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ الشفا
بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ میں لکھتے ہیں کہ صحابۂ کرام خصوصاً اصحاب بدر کا ادب و
احترام دین کا حصہ ہے۔ علامہ ابن اثیر جزری رحمہ اللہ نے اسد الغابہ میں اصحاب بدر
کے حالات اور ان کی عظمت کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت محمد یونس، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضور پر نور ﷺ
کی اصحاب بدر سے محبت ایمان اور وفاداری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
اصحاب بدر وہ
خوش نصیب صحابہ ہیں جنہوں نے 2 ہجری یعنی غزوہ بدر میں آقا ﷺ کے ساتھ شرکت کی۔ یہ
اسلام کی پہلی بڑی جنگ تھی جس میں تعداد اور وسائل کی کمی کے باوجود اللہ پاک نے
مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب فرمائی۔
خصوصی
مغفرت کی بشارت: جب
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے ایک لغزش ہوئی تو حضرت عمر نے سختی کی
اجازت چاہی۔ اس پر آقاجانﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم! شاید اللہ نے اہل بدر کی
طرف نظرے رحمت فرمائی اور فرمایا: تم جو چاہو کرو، میں نےتمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 2/312،
حدیث: 3007)
غزوہ بدر میں
آپﷺ نے صحابہ سے مشورہ فرمایا حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اور حضرت سعاد بن معاذ رضی
اللہ عنہ کے ایمان افروز کلمات سن کر آپﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک اٹھا۔ یہ اس
بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ ان کی وفاداری اور اخلاص سے خوش ہوئے۔
حضرت عمر رضی
اللہ عنہ بھی اپنے دور خلافت میں اہل بدر کے وظائف کو مقدم رکھتے کیونکہ وہ جانتے
تھے کہ آپﷺ انہیں خاص مقام دیتے تھے۔
آپﷺ اپنے سب
صحابہ سے محبت فرماتے لیکن چونکہ اہل بدر اولین اور سخت آزما ئش میں ثابت قدم رہے
اس لیے آپﷺ انہیں خاص عزت دیتے تھے۔
آقا ﷺ نے
فرمایا: وہ مسلمانوں میں سب سے افضل ہیں، تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اس
طرح وہ فرشتے بھی جو بدر میں شریک ہوئے، فرشتوں میں سب سے افضل ہیں۔ (بخاری، 3/17،
حدیث: 3992)
اہل
بدر کی خصوصی عزت: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے
فرمایا: سب سے بہترین لوگ میرا زمانہ ہے۔ (بخاری، 2/193، حدیث: 2652)
روایات میں
آتا ہے کہ آپ ﷺ نے اہل بدر کیلئے خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے اور انکا ذکر عزت و
احترام سے فرماتے تھے۔
حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت محمد نواز، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
اسلامی تاریخ
میں غزوۂ بدر کو ایک عظیم الشان اور فیصلہ کن معرکہ کی حیثیت حاصل ہےیہ وہ پہلا
معرکہ تھا جس میں حق و باطل آمنے سامنے آئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ اور
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو عظیم فتح عطا فرمائی اس غزوہ میں شریک ہونے والے
صحابہ کو اصحاب بدرکہا جاتا ہے حضور نبی اکرم ﷺ کو ان جان نثار صحابہ سے خاص محبت
تھی کیونکہ انہوں نے انتہائی کم تعداد اور بے سروسامانی کے باوجود دین اسلام کی
سربلندی کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
اللہ تعالیٰ
نے اہل بدر کی فضیلت کو قرآن مجید میں عمومی طور پر صحابہ کی تعریف کے ضمن میں
بیان فرمایا، احادیث مبارکہ میں بھی اصحاب بدر کی عظمت اور حضور ﷺ کی محبت کا واضح
اظہار ملتا ہے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے
اہل بدر کی طرف نظر رحمت فرمائی اور فرمایا: تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش
دیا ہے۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007)یہ حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حضور ﷺ کو
اپنے ان جانثار ساتھیوں پر فخر تھا اور آپ ﷺ ان کی عظمت بیان فرمایا کرتے تھے
ایک اور روایت
میں ہے کہ جب کسی شخص کے بارے میں شکایت آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھووہ بدری
صحابی ہے شاید اللہ نے اہل بدر کو خاص مغفرت عطا فرمائی ہے۔
حضور ﷺ کا طرز
عمل بھی اس محبت کی دلیل تھا۔ آپ ﷺ اصحاب بدر کا خصوصی احترام فرماتےان کے مشوروں
کو اہمیت دیتے اور انہیں امت میں ممتاز مقام عطا فرماتے بعد کے ادوار میں حضرت عمر
فاروق رضی اللہ عنہ بھی بدری صحابہ کو بیت المال میں زیادہ وظیفہ عطا فرماتے تھےجو
ان کی فضیلت کا اعتراف تھا۔
حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت عبداللہ، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضور ﷺ کی
اصحاب بدر سے محبت اور ان کی قدر و منزلت بہت اعلی تھی۔ یہ وہ خوش نصیب صحابہ کرام
تھے جنہوں نے غزوہ بدر میں آپ ﷺ کے ساتھ مل کر اسلام کی پہلی بڑی جنگ لڑی اس جنگ
میں ان کی قربانیاں، ثابت قدمی، اور اللہ پر توکل بے مثال تھا۔
آپ علیہ
السلام ان اصحاب کو بہت اہمیت دیتے تھے کئی احادیث میں ان کی فضیلت بیان کی گئی
ہیں اور انہیں جنت کی بشارت بھی دی گئی ہے آپ علیہ السلام نے کہا کہ بدر میں شریک
ہونے والوں کو اللہ پاک نے معاف فرما دیا ہے آپ ان کے ساتھ ہر سکھ دکھ میں شریک
ہوتے تھے ان کی دلجوئی کرتے اور انہیں بہترین ساتھی قرار دیتے تھے ان کی قربانیوں
کی وجہ سے ہی اسلام کو ابتدائی دور میں مضبوطی ملی تمام صحابہ کرام کی طرح اصحاب
بدر بھی امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہیں اور ان سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
وَ لَقَدْ
نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ
اَذِلَّةٌۚ- (پ
4، آل عمران: 123) ترجمہ: اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد فرمائی جبکہ تم
کمزور تھے۔
یہ آیت واضح
طور پر غزوہ بدر کے شرکاء کی اللہ کی طرف سے مدد اور ان کے مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
حضرت علی رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا علیہ السلام نے فرمایا شاید اللہ تعالی نے اہل
بدر پر اپنے فضل کی نظر ڈالی اور فرمایا جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ (بخاری،
2/312، حدیث: 3007)
ایک اور جگہ
فرمایا: کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا۔ (مسلم،ص
1041، حدیث:6403)
اصحاب بدر وہ
چمکتے ستارے ہیں جنہوں نے اسلام کی بنیادوں کو اپنے خون سے سینچا حضور اکرم ﷺ کی
ان سے محبت نہ صرف ان کی شخصیت کے ہر پہلو میں عیاں تھی بلکہ اللہ نے بھی ان کی
فضیلتوں قران و حدیث میں بیان فرمایا خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی اصحاب بدر سے محبت
ایمان وفاداری قربانی اور اللہ کی رضا پر مبنی ایک گہری مثال اور لازوال محبت تھی
یہ محبت امت کے لیے ایک درس ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے قربانی دیتے ہیں ان
کا مقام کتنا بلند ہو جاتا ہے۔
حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت اصغر علی، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
غزوۂ بدر
اسلام کی تاریخ کا پہلا اور عظیم معرکہ تھا جو 17 رمضان المبارک 2 ہجری کو پیش
آیا۔ اس جنگ میں صرف 313 صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تین گنا بڑے لشکر کا مقابلہ
کیا۔ یہ وہ خوش نصیب ہستیاں ہیں جنہیں اصحاب بدر کہا جاتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کو ان
جاں نثار صحابہ سے بے پناہ محبت تھی، کیونکہ انہوں نے دین اسلام کی سربلندی کے لیے
اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ دیں۔
قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی مدد کا ذکر فرمایا:
وَ لَقَدْ
نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ
اَذِلَّةٌۚ- (پ
4، آل عمران: 123) ترجمہ: اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد فرمائی جبکہ تم
کمزور تھے۔
اسی طرح ایک
اور مقام پر ارشاد ہوا: اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ
اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ(۹) (پ 9،
الانفال: 9) ترجمہ: جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول
کی کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار فرشتوں سے کروں گا جو لگاتار آئیں گے۔
ان آیات سے
معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں کو خاص مدد اور فضیلت عطا فرمائی اور
نبی کریم ﷺ ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد فرماتے تھے۔
احادیث مبارکہ
میں بھی اصحاب بدر کی فضیلت واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کی روایت
ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو دیکھا اور فرمایا: جو چاہو
کرو، میں نے تمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007)
یہ حدیث اس
بات کی دلیل ہے کہ اہل بدر کو اللہ تعالیٰ کی خاص مغفرت اور رضا حاصل تھی اور رسول
اکرم ﷺ ان کی عظمت بیان فرمایا کرتے تھے۔
ایک اور موقع
پر جب حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے ایک اجتہادی خطا ہوئی تو بعض صحابہ
نے سختی کا ارادہ کیا۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: یہ بدر والوں میں سے ہیں، اور
تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کے بارے میں فرمایا کہ جو چاہو کرو، میں نے
تمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007)
اس واقعے سے
ظاہر ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کو بدر کے صحابہ سے خصوصی شفقت اور محبت تھی اور آپ ﷺ ان
کا مقام و مرتبہ سب کے سامنے بیان فرماتے تھے۔
نبی کریم ﷺ کی
محبت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بدر کے شہداء کو بہت عزت دیتے، ان
کے لیے دعا فرماتے اور ان کی یاد کو زندہ رکھتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بدر میں شریک
ہونے والا شخص جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم،ص 1041، حدیث:6403)
اصحاب بدر کی قربانیاں
اسلام کی بقا کا سبب بنیں۔ انہوں نے اپنے مال، جان اور عزت سب کچھ اللہ اور اس کے
رسول ﷺ پر قربان کر دیا۔ حضور ﷺ ان کی وفاداری، اخلاص اور ثابت قدمی کو قدر کی
نگاہ سے دیکھتے تھے۔
آج ہمیں بھی
چاہیے کہ ہم اصحاب بدر سے محبت رکھیں، ان کے نقش قدم پر چلیں اور دین کے لیے
قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔ جو شخص صحابۂ کرام سے محبت کرتا ہے وہ دراصل رسول اکرم
ﷺ سے محبت کرتا ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔ (بخاری، 2/522،
حدیث:3673)
حضور
کی اصحابِ بدر سے محبت از ہمشیرہ محمد حسیب،جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضور ﷺ کو
اصحابِ بدر سے بے پناہ محبت اور خصوصی تعلق تھا کیونکہ انہوں نے کفر و اسلام کے
پہلے معرکہ میں اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر اسلام کی بقا کی جنگ لڑی آپ ﷺ نے ان کی
فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو فرشتے بدر میں شریک ہوئے ان کا درجہ بہت بلند
ہے اور اہل بدر صحابہ بھی امت میں سب سے افضل ہیں۔(بخاری، 3/17، حدیث: 3992)
اصحاب بدر
غزوہ بدر میں شریک 313 صحابہ اسلام کے وہ عظیم المرتبت مجاہدین ہیں جنہیں اللہ اور
اس کے رسول ﷺ نے بخشش مغفرت اور اعلی درجے کی بشارت دی ہے۔
اصحاب بدر کی
شان میں قران پاک کی کئی ایات نازل ہوئیں جن میں ان کی ایمانداری اللہ کی نصرت اور
غلبے کا ذکر ہے اور احادیث مبارکہ میں بھی ان کے فضائل کا ذکر ہے۔
پیارے آقا ﷺ نے
فرمایا: بےشک اللہ پاک اہل بدر سے واقف ہے اور اس نے فرما دیا کہ تم اب جو عمل
چاہو کرو بلا شبہ تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے
تمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 3/12، حدیث:3983)
اور جبرائیل
علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ آپ لوگ اپنے درمیان اہل بدر کو کیسے سمجھتے
ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے افضل۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ جو
فرشتے بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے ان کا بھی یہی درجہ ہے۔ (بخاری، 3/17، حدیث:
3992)
نبی کریم ﷺ نے
ان 313 صحابہ کرام کو اسلام کے پہلے معرکہ میں حق و باطل کا فرق کرنے پر خصوصی
تعظیم و محبت دی۔ ان احادیث اور ایات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اللہ پاک اور نبی کریم
ﷺ اصحاب بدر سے بہت محبت کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے پیارے آقا ﷺ کی کافروں کے خلاف
بہت مدد کی اور معلوم ہوا کہ بدر والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل
مانے جاتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی نظر میں ان کا بہت بلند مقام ہے۔علما کے مطابق
اصحاب بدر کے ناموں کا ورد کرنا اور ان کے وسیلے سے دعا کرنا پریشانیوں کے ٹلنے
اور مشکلات میں کمی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
Dawateislami