غزوہ بدر میں مسلمانوں نے جنگی سازو سامان نا ہونے کے باوجود بڑی بہادری سے کفار کا مقابلہ کیا پیارے آقا ﷺ کو اصحاب بدر سے بہت محبت تھی۔

اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے امید ہے جو لوگ بدر اور حدیبیہ میں شریک تھے، ان میں سے کوئی بھی ان شاء اللہ جہنّم میں نہیں جائے گا۔ (1)

دعائے نبوی: حضور سرور عالم ﷺ اس نازک گھڑی میں جناب باری سے لو لگائے گریہ وزاری کے ساتھ کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلائے یہ دعا مانگ رہے تھے کہ خداوند تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے آج اسے پوار فرما دے آپ ﷺ پر اس قدر رقت اور محویت طاری تھی کی چادر مبارک دوش انور سے گر پڑتی تھی مگر آپ کو خبر نہیں ہوتی تھی کبھی آپ سجدے میں سر رکھ کر اس طرح دعا مانگنے الہی! اگر یہ چند نفوس ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والے نہ رہیں گئے۔ (2)

یہ آپ ﷺ کی اصحاب بدر سے محبت کو ظاہر کرتی ہے۔

پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اﷲ کریم اہل بدر سے واقف ہے اور اس نے یہ فرما دیا ہے کہ تم اب جو عمل چاہو کرو بلاشبہ تمہارے لئے جنّت واجب ہو چکی ہے یا (یہ فرمایا) کہ میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ (3)

مراٰۃ المناجیح میں ہے: اصحاب بدر کے نام پڑھ کر دعائیں کی جائیں تو ان شاء اللہ قبول ہوں۔ ( 5)

اللہ پاک ہمیں اصحاب بدر کا صدقہ عطا فرمائے۔ آمین

حوالہ جات

(1)ابن ماجہ، 4/508، حدیث: 4281

(2) سیرت ابن ہشام، 2/627

(3) بخاری، 3/12، حدیث:3983

(4)مراٰۃ المناجیح، 8 / 567