وقت انسان کا ایک قیمتی متاع واہم سرمایہ ہے دنیا میں بعض چیز گم ہوجانے کے باجود دبارہ حاصل ہوجاتی ہے لیکن اگر وقت ضائع ہوجائے تو اس کے لوٹنے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی، ہر دانشمند اور ترقی پسند شخص اپنے وقت کا اچھا استعمال کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے ، یقینًا عقلمند آدمی وہی ہے جو اپنے وقت کی قدر کرتے ہوئے اس کا بہتر استعمال کرنے کی کوشش کرے ۔

وقت کوبہتر طور پر استعمال کرنے کیلئے چند طریقے:

{۱} ہو سکے تو اپنا یومیہ نظام ُالاوقات تر تیب دیں اور پابندی سے عمل کریں ان شاء اللہ بہت سے کام آسان ہوجائیں گے ، نظامُ الاوقات متعیّن کرتے ہوئے کام کی نوعیت اورکیفیت کو پیش نظر رکھنا مناسب ہے،نیز ہر کام کو اس کے وقت پر کرنے کی کوشش کریں۔اس کی بہتر ین صورت یہ کہ اپنے معمولات کو "مدنی انعامات "کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔

{۲} اہم کاموں کو منا سب وقت میں پہلے کرنے کی کوشش کریں ۔الاہم فالاہم

{۳} کچھ نیا ، اچھا اور مفید سیکھنے کی کوشش جاری رکھیں ۔

{۴} ہر کام کو پایہ تکمیل تک پہچانے کی عادت ڈالیے،بلا ضرورت کل پر نہ ٹالیں ۔

{۵} سنتوں پر عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں ۔

{۶} افراد سے ملاقاتوں کیلئے اوقات طے کرلیجئے ۔عمومًا مخصوص اوقات ملاقاتوں کے لئے دیجئے ۔

{۷} غیر ضروری کاموں کو اپنی زندگی کا حصہ نہ بنائیں مثلا موبائل کا غیر ضروری استعمال ، کھیل کود، رات کوفُضول چو پال لگانا ، ہوٹلوں کی رونق بڑھانا اور دوستوں کی مجلسوں میں وقت گنوانا( جبکہ کوئی دینی مصلحت نہ ہو) خصوصا فضو ل گوئی سے بچیں ، حدیث شریف میں ہے: انسان کے اسلام کی خویبوں میں سے ایک (خوبی)چھوڑ دینا ہے اس (اَمْر)کا جو اسے نفع نہ دے۔(سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۴ ص۱۴۲ حدیث ۲۳۴۴)

{۸} رات کو دینی مشاغل سے فارغ ہوکر جلد سوجایئے کہ رات کا آرام دن کے آرام کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش ہے۔

{۹} اپنے دیگر اوقات کو بہتر طور پر استعمال کیجئے مثلاً، فرائض وواجبات کی ادائیگی، دینی کتب کا مطالعہ ،نیکی کی دعوت ،علماء کی صحبت ،مدنی کاموں میں شرکت ،گھر والو ں کی اصلاح وتربیت ، کسب ِحلال کےلئے کوشش کریں وغیرہ

{۱۰} اپنی زبان کو ذکر اللہ ،نعت ِمصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وغیرہ اذکار سے تر بتر رکھیں ۔

اگر کچھ پڑھنے کے بجائے خاموش رہنے کو جی چاہے تو یادِخدا، یادِ مدینہ و شاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں گُم ہوجائیں یا علمِ دین میں ،قبر وحشر وغیرہ اُمورِآخِرت کے مُتَعَلِّق غورو تَفَکُّرکریں حدیث پاک میں ہے: اُمورِآخِرت میں گھڑی بھر کے لیے غورو فکر کرنا60 سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ (اَ لْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِیّ ،ص۳۶۵حدیث ۵۸۹۷)

مزید معلومات کےلئےامیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا رسالہ"انمو ل ہیرے" کا مطالعہ فر مائیں۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


وقت کے استعمال کا بہترین طریقہ "جدول بنانا اور اس پر عمل کرنا ہے

آئے اسی بات پر کچھ سطور کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ یہ یاد رہے کہ آپ کے پاس دو قسم کے کام ہیں ۔ 1 اہم ( پسندیدہ یا غیر پسندیدہ)

2 غیر اہم ( مگر پسندیدہ)

اب آپ نے اپنے پہلی قسم کے کاموں کا جدول بنانا ہے اور اس تقسیم کاری کا ثبوت ہمیں قرآن و حدیث میں بھی ملتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا ترجمہ کنز الایمان : وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں چین پاؤ اور دن بنایا تمہاری آنکھیں کھولتا۔ (سورہ یونس آیت 67)

دیکھیں کہ قرآن پاک نے بھی ہمارے اہم کاموں کے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ہمارا جدول بنایا ہے ،اسی طرح کتب میں یہ بات ملتی ہےکہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر میں داخِل ہوتے تو اس میں قِیام کے وَقْت کے تین 3 حصّے کر لیتے تھے:

٭…ایک حِصّہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (کی عِبَادَت) کے لئے

٭…دوسرا اپنے اَہْل (یعنی گھر والوں) کے لئے اور

٭…تیسرا اپنی ذاتِ اَقْدَس کی لیے

دیکھیں اس بات سے بھی واضح ہوا کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے اہم کاموں کا جدول بنایا کرتے تھے، اب آئیے دوسری قسم کی طرف یاد رہے کہ یہ کام ہماری زندگی میں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کو کرنے کے لیے ہمارے اصل کاموں میں کوئی فرق نہ آئے اس کی احتیاط لازمی ہے ان کاموں کے لیے وقت مقرر کرنے کی حاجت بنسبت پہلی قسم کے کم ہے اس قسم میں آپ وقت کو یوں مقرر کیجیے ،کہ جب بھی اپنے اہم کاموں سے فراغت پا لوں گا تو ان کاموں کو سر انجام دوں گا ،اب آپ کو ان سطور کی مثال عرض کرتا ہوں۔

جدول الیوم :

4:26 سے 6:00 تہجد صدائے مدینہ نماز مدنی حلقہ وغیرہ

6:00 سے 2:00 جامعہ کی تیاری جامعہ جانا آنا اور نماز ظہر

2:00 سے 2:30 آرام

2:30 سے 6:30 کھانا اسباق کی دہرائی نماز عصر اور مدنی کام

6:30 سے 8:00 نماز مغرب کھانا اور قرآن پاک کی تلاوت

8:00 سے 9:30 ذاتی مطالعہ اور نماز عشاء

9:30 سے 4:26 آرام کی تیاری اور آرام

نوٹ : یہ جدول مثال ہے آپ سب اپنے اپنے حساب سے جدول بنائیں

اب آپ سوچ رہیں ہوں گے کہ اس جدول میں دوسری قسم کا ذکر نہیں تو آئیے اب اس پر کچھ عرض کرتا ہوں ،تو یاد رہے آپ کے جدول میں بہت جگہ آپ کو وقتِ فراغت ملے گا مثلاً

کبھی مدنی کاموں سے جلدی فراغت کبھی پڑھائی سے تو کبھی جامعہ سے چھٹی تو اب ان فارغ اوقات میں آپ اپنے ذوق کے کاموں کو سر انجام دیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے وقت کو بہترین بنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


ہم اکثر لوگوں کو کہتے ہوئے سنتے ہىں کہ ہمارا فلاں وقت اچھا گزرا ہے اور فلاں وقت برا اس کا سبب ،عمل ہے وقت اچھا برا نہىں ہوتا ہے ، عمل اچھا ىا برا ہوتا ہے، جو وقت کو اچھا ىابرا بناتا ہے۔

عمل سے زندگى بنتى ہے جنت بھى جہنم بھى

ىہ خاکى اپنى فطرت مىں نہ نورى ہے نہ نارى ہے

وقت کو بہترىن بنانے کے لىے وقت کا درست استعمال سىکھىں، حال کو بہتر بنائىں ماضى اور مستقبل خود بہترىن بن جائىں گے۔

صرف وقت کا احساس کرنے سے کچھ نہىں ہوگا ترجىحات کو بدلنا ہوگا ٹائم مىنجمنٹ کرنا ہوگى ، ٹائم مىنجمنٹ کے لىے اپنے روزمرہ معمولات کا جائزہ لىں آج کا کام کل پر نہ ڈالىں بلکہ آج اور ابھى کرىں حضرت عمر بن عبدالعزىز رحمۃاللہ علىہ فرماتے ہىں :مىں اىک دن کا کام اىک دن مىں نہىں کرسکا تو دو دن کا کام اىک دن مىں کىسے کرسکوں گا؟ مصروفىات الگ الگ ہوں مگر وقت اىک جتنا ہے ۔۲۴ گھنٹے اور کام بھى چار قسم کے ہى ہىں۔

۱۔ اہم اور ضرورى

۲۔اہم اور غىر ضرورى

۳۔غىر اہم اور ضرورى

۴۔ غىر اہم اور غىر ضرورى

اہم اور ضرورى کام پہلے کرىں ان کو اىک ترتىب بنا کر کرىں اىک جىسے کام اىک وقت مىں کرىں جس کام کا وقت ہے اس مىں وہى کام کرىں۔ اہم اور غىر ضرورى کام وقت مانگتےہیں ان کے لىے وقت نکالىں کىونکہ اگر کچھ کرنا ہے تو وقت نکالنا ہوگا ان کے لىے منصوبہ بندى کرىں، ان پر توجہ دىں غىر اہم اور ضرورى کام اىک حد تک کرىں، کہ ىہ کام توجہ بٹاتے ہىں غىر اہم اور غر ضرورى کام بھول جائىں ان سے بچىں کہ ىہ وقت ضائع کرنے والے کام ہىں، وقت مىں تنگى اور فراخى دونوں ہىں جىسے ربڑ کھىنچنے سے بڑھتى ہے اور چھوڑنے سے سکڑ جاتى ہے وقت کى فراخى کا فائدہ اٹھائىں شوق اور ہنر کى پہچان کرىں، ان کو نکھارىں اور اس کے مطابق حقىقت کى پہچان کرىں، اور اس کے مطابق مقصد زندگى بنا کر اس کے لىے تگ و دو کرىں گے تو فرحت کا احساس ہوگا۔

جو وقت کو بہترىن بنائے گا مشکل و قت مىں صبر اور ہمت سے کام لىں، کہ اچھے دنوں کے لىے برے دنوں سے ملنا پڑتا ہے کلى کو پھول بنے کے لىے سورج کى تپش کو سہنا پڑتا ہے ،سونے کو کندن بننے کے لىے آگ کى بھٹى سے گزرنا پڑتا ہے ،اسى طرح وقت کو بہترىن بنانے کے لئے آزمائش کے درىا کو عبور کرنا پڑتا ہے۔

اسلام کتنا پىارا دىن ہے جو اپنے ماننے والوں کو زندگى گزارنے کا اىک مقصد عطا کرتا ہے جو اس کى دنىا و آخرت کو بہتر بناتا ہے ، ارشاد رب ِرحمن ہے: وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) ترجمہ کنزالاىمان :مىں نے جن اور آدمى اتنے ہى اسى لىے بنائے مىرى بندگى کرىں۔( سورہ الذرىات ،آىت نمبر۵۶)

اللہ کى اطاعت و عبادت کرنا دنىا کا بہترىن کا م ہے جو وقت کو بہترىن بناتا ہے ،کتابوں کا مطالعہ کرنا بھى وقت کو بہترىن بنانے کا اہم ذرىعہ ہے، اللہ کے کلام، اللہ کى کتاب کا مطالعہ کرىں اور وقت کوبہترىن بنائىں، اللہ کے کاموں مىں لگ جائىں اللہ آپ کے کاموں مىں لگ جائے گا، اور جس کے کاموں مىں اللہ لگ جائے اس کے کام بھى بہترىن ہوجاتے ہىں اور اللہ کى رضامىں راضى رہنے کى عادت بنائىں، آپ کا ہر وقت بہترىن ہوگا

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اللہ عزوجل کا کڑوڑ احسان کہ اس نے ہمیں پیدا کیا وقت جیسی عظیم نعمت عطا کی ہمیں اس کا بہترین استعمال نیکیوں میں دل لگا کر گناہوں سے بچتے ہوے اچھی صحبت میں علماء کی لکھی ہوی کتابیں پرھنے اور تلاوت قرآن میں دل لگاتے ہوئے اللہ پاک کی اس نعمت کا شکر بجا لاتے ہوئے گزارنا چاہیے کیا پتہ ہماری زندگی کی کونسی گھڑی آخری ہو ہمیں اپنا ہر سانس غنیمت جانتے ہوے ہر لمحہ ذکر اللہ کرتے رہنا چاہیےہمیں دن رات غور کرنا ہے کیا ہماری زندگی کا کوئی لمحہ فضول تو نہیں گزرا کیا ہم نے اس وقت کی اس گھڑی میں اللہ کا اسکی دی ہوی نعمتوں کا شکر ادا کیا ہے اس زندگی کا بہترین لمحہ وہ ہے جس میں قرآن پاک پڑھا جاے سنا جائےسمجھا جاے اللہ پاک ہمیں خوب خوب کثرت تلاوت قرآن پاک کرنے ذکرو درود اور استغفا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

ذکرو درود ہر گھڑی ورد زبان رہے

میری فضول گوی کی عادت نکال دے آمین

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


وقت ٹائم:

اىسى چىز ہے جو اىک بار آتا ہے، پھر تلاش بسىار کے باوجود پلٹ کر نہىں آتا جو بھى انسان اس دنىا مىں آگىا وہ اىک اىسى زنجىر مىں جکڑا گىا کہ جس سے آزادى ممکن نہىں اب اس قىد کو گزارنے والے قىدوں کى دو قسمىں ہىں۔

۱۔ اىک قىدى وہ ہے کہ جب وہ اس قىد سے آزاد ہوتا ہے تو پھر اس کى رہائى ابدى رہائى ہوتى ہے۔

۲۔ جب کہ دوسرا قىدى وہ ہے جو اپنى اس عارضى قىد کو اس طرح گزارتا ہے کہ پھر اس کى رہائى کى صورت نہىں ہوتى بلکہ اس کے لىے قىد تنگ اور تارىک ہوجاتى ہے۔

جى ہاں، وقت اس کو قىمتى بناتا اور جنت دلواتا ہے ىہ ہم پر منحضر ہے اگر ہم اپنے وقت کا استعمال کس طرح کرتے ہىں؟ وقت کو گزارنے کے لىے وہ انداز یہ ہىں۔

۱۔ وقت کو اچھے انداز سے گزارنا مثلاً ذکر اذکار مىں ىہ نىکى کى دعوت دىنے مىں۔ ۳۔ دىن کى خدمت مىں ىا علمِ دىن کے حصول مىں۔ ۵۔ علمِ دىن سے دوسروں کو بہرہ مند کروانے مىں۔ ۶۔ دوسروں کى مدد کرنے مىں۔ ۷۔ دوسروں کے کام آنے مىں , ۸۔ نىک کام پر دوسروں کى دلجوئى مىں ۔ ۹۔ بچوں پرشفقت کرنے مىں ۔۱۰۔بڑوں کا ادب و احترام کرنے مىں ۔ ۱۱۔ والدىن کى خدمت کرنے مىں ۔ ۱۲۔ پڑوسىوں کے حقوق ادا کرنے مىں ۔ ۱۳۔معاشرتى برائىوں کے خاتمہ مىں (۲)۔ وقت کو غلط انداز سے گزارنا مثلاً

۱۔ فضول باتوں مىں وقت گزارنا۔ ۲۔ دوسروں کى دل آزادى والى گفتگو ۔ ۳۔ ناجائز معاملات مىں ۔ ۴۔ڈانٹ ڈپٹ مىں۔۵۔ چغل خورى مىں۔۶۔غىبت کرنے مىں ۔۷۔ عىب اچھالنے مىں ۔(۸) گانے سننے مىں ۔(۹) فلمىں دىکھنے مىں۔(۱۰) کھىل کود مىں ،(۱۱) زىادہ سونے مىں (۱۲) نت نئے فىشن کرنے مىں ۔(۱۳) والدىن کى نافرمانىوں مىں۔

اب خلاصہ کلام ىہ ہوا کہ جو اپنے وقت کو اچھے انداز مىں گزارنے مىں کامىاب ہوگىا ،گوىا اس نے اپنے لىے جنت کو حصول ممکن بنالىا ، کىونکہ اللہ عزوجل کے نىک بندے وہ ہىں جو ہر وقت اللہ کو ىاد رکھتے ہىں، کہ اللہ پاک نے پارہ ۲۲ سورہ الاحزاب مىں فرماىا :

ترجمہ کنزالاىمان: اللہ عزوجل کو بہت ىاد کرو۔(آىت نمبر،41)

اور پھر جو صبح شام اپنے اللہ کے ذکر مىں گزارتے ہىں تو اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے :جب مىرا بندہ مجھے دل مىں ىاد کرتا ہے تو مىں اسے تنہائى مىں ىاد کرتا ہوں ،اگر وہ مىرا ذکر مجمع مىں کرتا ہے ،تو مىں اس سے بہتر مجمع مىں اس کاذکر کرتا ہوں ، اگر وہ اىک بالشت مجھ سے قرىب ہوتا ہے تو مىں اىک ہاتھ اس کے قرىب ہوجاتا ہوں، اور اگروہ اىک ہاتھ مىرے قرىب آتا ہے تو مىں اس سے دو ہاتھ قرىب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ مىرے پاس چل کر آتا ہے تو مىں اس کى طرف دوڑا کر آتا ہوں۔

(احىا العلوم جلد ص ۸۸۹)

اس کے برعکس جو وقت کو غلط انداز سے گزارے غفلت مىں پڑے ہوئے گزارے تو اسے اللہ عزوجل کے خو ف سے لرز جانا چاہىے کہ بزرگو ں کے اقوال مىں سے قول لىا، اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والے کے علاوہ ہر شخص دنىا سے پىاسا رخصت ہوگا۔(احىا العلوم جلد ۲ ، ص ۸۹۹)

الغرض خدارا اپنے وقت کو ذکر و اذکار اور نىکىاں کرنے مىں صرف کرکے اسے اہم بنالىجئے ۔ ورنہ ہم اس کہاوت کے مصداق بن جائىں گئے ۔

کہ اب پچھتاوے سے کىا ہوت جب چڑىاں چگ کئىں کھىت

اس سے پہلے پہلے اپنے وقت کى اہمىت اپنے وقت کى قدر کرتے ہوئے اسے اچھے انداز مىں گزرئىے۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


وقت کىا ہے؟ وقت تىن الفاظ کا مجموعہ ہے جو اپنے اندر اپنى بہت بڑى حقىقت چھپائے بىٹھا ہے۔ وہ اىسے کہ وقت مىں (و) سے مراد وہ لمحہ جو گزر گىا۔(ق) سے مراد قسم ہے اس ذات کى ۔(ت) سے مراد تا قىامت واپس نہىں آنے والا۔

تو ىعنى وقت سے مراد ہوا کہ وہ لمحہ جو گزر گىا قسم ہے اس ذات اللہ عزوجل کى تاقىامت کبھى لوٹ کر نہىں آنے والا تو جو چىز اىک بار اىسى جائے کہ مرتے دم تک واپس پلٹنے کى کوئى امىد نہ ہو تو اسے ہم فضول کاموں مىں ضائع کىو ں کریں ۔ جىسا کہ ہمارا عنوان ہے’’ وقت کا بہترىن استعمال کا طرىقہ‘‘ تو ہم کسى بھى چىز کو اچھى طرح استعمال کر سکتے ہىں جب ہمىں اس کى اہمىت کا پتا ہو ۔

تو وقت کو ہمىشہ کاموں مىں استعمال کرىں ،کسى کى مدد کرنے مىں نہ کہ کسى کا مذاق اڑانے مىں، کسى کى مشکل دور کرنے مىں نہ کہ کسى پر مصىبت کے وقت ہنسنے ، رات کو جب لىٹىں تو خود کا محاسبہ کرتے ہوئے دىکھىں کہ آج کے وقت کا خالى صفحہ جو آپ کو صبح تھماىا گىا تھا اسے آپ نے کتنا پاىا اور کتنا ضائع کىا؟اللہ کى ىاد مىں وقت گزارىں لوگوں کے دکھ سننے مىں گزارىں، ذکر و اذاکر مىں گزارىں۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


وقت اىک تىز رفتار گاڑى کى طرح  خزانہ بھرتا ہوا جارہا ہے، نہ روکے رکتا ہے نہ پکڑنے سے ہاتھ آتا ہے جو سانس اىک بار لىا وہ وہ پلٹ کر نہىں آتا ، غور فرمائىں کہ وقت بہت جلدى گزرتا جارہا ہے، ہر اىک کو وقت مىسر آتا ہے کوئی اسے ضائع کرتا ہے تو کوئى انمول ہىرے کى طرح اسے استعمال کرتا ہے۔ اب سوال ىہ پىدا ہوتا ہے وقت جو جلد از جلد گزرتا جارہا ہے ،آىااس وقت کو بہترىن استعمال کرنے کا طرىقہ کیا ہے ؟؟

سب سے پہلے اپنا وقت قرآن کرىم کے ساتھ گزاریئے جس کو پڑھنا، دىکھنا، چھونا، ثواب ۔اگر ہم اسے صرف دىکھتے تو بھى ثواب ہے۔ اور اس کے ہر حرف پڑھنے پر دس نىکىاں ملتى ہیں ، لہذا اپنے اوقات کو قرآن پاک پڑھنے سمجھنے مىں گزاریئے ۔ کىونکہ اس مىں غور فکر کرنا اور اسے سمجھنا اور اس کے احکامات پر عمل پىرا ہونا عىن عبادت ہے، اور امام غزالى رحمۃ اللہ تعالىٰ علىہ فرماتے ہىں :کہ اىک آىت سمجھ کر غور و فکر کرکے پڑھنا بغىر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے۔(احىا العلوم)

اسى لىے اس نے تمام انسانوں کو مخاطب کىا اور انہىں اصول عطا کىے جو دنىا و آخرت بنانے مىں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہىں لہذا وقت کو بہتر استعمال کرنے کا طرىقہ قرآن کو پڑھنا، سننا ،سمجھنا ہے۔وقت کو بہترىن استعمال کرنے کا اىک بہت ہى اچھا طرىقہ ہے :

چنانچہ امام النحو حضرت علامہ مولانا غلام جىلانى مىرٹھى رحمۃ اللہ علیہ دورانِ طالب علمى نحو کى کتاب کا صفحہ پڑھ رہے تھے آپ کا معمول تھا کہ روزانہ فجر کى نماز کے بعد کافىہ پڑھتے تھے ۔ جب رمضان کى چھٹىاں آگئى تو آپ بقىہ متن گھر مىں ىاد فرماتے حتى کہ رمضان مىں ہى آپ کافىہ کى مکمل متن کے حافظ ہوگئے، ( بشىر القادرى ص ۷)

علم کی مثال اىک مضبوط درخت سى ہے مضبوط علم کے لىے اس کی معرفت پر عبور ہونا ضرورى ہے لہذا وقت کو بہترىن استعمال کا طرىقہ علمِ دىن کے ساتھ مشغول ہونا بھى ہے۔

وقت کو بہترین استعمال کرنے کا طرىقہ یہ بھى ہے کہ اپنے روز مرہ کاموں کا جائزہ لىتے ہوئے دن رات کے اوقات کو اس طرح جدول مىں ڈھالا جائے کہ معلو م ہوجائے کہ فلاں کا م فلاں وقت کرنا ہے اپنے وقت کو بہترىن استعمال کرنے کے لىے سرکار عالى وقار صلی اللہ علیہ وسلم کا سا جدول ہوں تو مدىنہ مدىنہ

کہ جس مىں صرف بنىادى کام نہ ہوں اولا ًنمازىں ہوں، تلاوتِ قرآن بھى ہو، دىنى کتب کا مطالعہ بھى ہو، ماں باپ کى خدمت بھى ہو ،چھوٹوں پر شفقت بڑوں کا ادب بھى ہو، ىاد رہے گناہ کا کوئى کام ہمارے جدول مىں نہ ہو اس جدول پر عمل کرکے ان شا اللہ کم وقت مىں بہت سے کام نمٹ جائىں گے۔

آپ علىہ السلام گھر مىں داخل ہوتے تو اس مىں قىام کے تىن حصے کرلىتے:اللہ کى عبادت، اپنے اہل کے لىے ، اپنى ذات کے لىے ۔ پھر ذاتى حصے کو اپنے اور لوگوں کے درمىان تقسىم فرماتے، کاش ہم بھى اس طرح اپنے وقت کا بہترىن استعمال کرنے لگ جائىں۔

وقت کو بہترىن استعمال کرنے کا طرىقہ ىہ ہے کہ کرنے کے کاموں مىں لگے رہىں ورنہ نہ کرنے کے کاموں مىں پڑھ جائىں گے مشہور ہے کہ خالى دماغ شىطان کا گھر ہوتا ہے۔ کرنے والے کاموں مىں اىک بہت ہى پىارا کام مدنى قافلہ بھى ہے جسے شىخ طرىقت امىر اہلسنت مدنى کاموں کى رىڈ کى ہڈى فرماتے ہىں۔

ارشادِ مولىٰ مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکرىم :تمہارے لىے سب سے اچھى چىز وہ ہے جس کے ذرىعے تم اپنى آخرت سنوارتے ہو۔

اپنى آخرت سنوارنے نىکى کى دعوت عام کرنے گناہوں سے بچنے کا بہترىن ذرىعہ مدنى قافلہ بھى ہے مدنى قافلہ علمِ دىن حاصل کرنے کا بہترىن ذرىعہ بھى ہے، اپنے وقت کو درست استعمال کرتے ہوئے قافلے مىں چلو۔

فرمانِ امىر اہلسنت:

دعوت اسلام کى بقا مدنى قافلوں مىں ہے

علم حاصل کرنے کا ذرىعہ بھى ہے علم امام ہے عمل اس کے تابع علم خوش نصىبوں کو عطا ہوتا ہے بد نصیب اس سے محروم رہتے ہىں۔(جامع بىان العلم فصلہ ۳۹/۱)

علم حاصل کرو جہل زائل کرو

پاؤ گے رحتىں قافلے مىں چلو

(وسائل بخشش مرمم ص ۶۶۹)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


وقت کے بہترىن استعمال کاطرىقہ ىہ ہے کہ اسے اللہ عزوجل کى عبادت و فرمانبردارى اور اس کے پىارے حبىب صلى اللہ تعالىٰ علیہ وسلم کى سنتوں کے اتباع مىں گزارىں۔ (مقصد حىات ص ۲۱)

وقت کے بہترىن ا ستعمال کا طرىقہ کار ہمىں’’ سورة العصر‘‘ سے پتا چلتا ہے۔ترجمہ کنزالاىمان: اس زمانہ محبوب کى قسم ! بے شک آدمى ضرور نقصان مىں ہے ،مگر جو اىمان لائے اور اچھے کام کىے، اور اىک دوسرے کو حق کى تاکىد کى، اور اىک دوسرے کو صبر کى وصىت کى ۔

صدر الافاصل حضرت علامہ مولانا سىد محمد نعىم الدىن مراد آبادى رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہىں :کہ اس ( ىعنى انسان) کى عمر جو اس کا راس المال ہے اور اصل پونجى(سرماىہ) ہے، وہ ہر دم گھٹ رہى ہے۔ اور مفسىر شہىر حکىم الامت مفتى احمد ىار خان نعىمى علیہ الرحمۃاس کى تفسىر مىں فرماتے ہىں: صوفىا کرام فرماتے ہىں: کہ غافل کے ہر سانس پر عمر گھٹ رہى ہے اس کا ہر سانس برباد ہورہا ہے جیسے سوراخ والے گھڑے کا قطرہ بہہ کر برباد ہوجاتا ہے اور گھڑا خالى ہورہا ہے، اور مومن صالح کا ہر سانس خزانہ الہى مىں جمع ہو کر بڑھ رہا ہے۔(خزائن العرفان و نورالعرفان پ۳۰۔ العصر ، آىتہ ۲)

فرضى مثال:

وقت کے بہترىن استعمال کا طرىقہ بىان کرتى ہوں: اىک سىنئر کو جب دفتر مىں کسى جونىئر سے کام ہوتا ہے تو وہ خود چل کر اس کى ٹىبل پر جاتا ہے اور کام ختم ہوتے ہى واپس اپنى ٹىبل پر پہنچ کر کام جارى رکھتا ہے ۔کسى نے سبب پوچھا تو کہنے لگا کہ اگر مىں انہىں اپنے کمرے مىں بلاؤں تو وہ آئے گا مىرى رضا مندى سے، لىکن جائے گا اپنى رضا مندى سے، نتائج ىہ ہوگا کہ دونوں کا وقت ضائع ہونے کا خدشہ ہے لہذا مىں اپنے کام کے لىے خود اس کے پاس جاتا ہوں ۔(نىک بننے کا نسخہ)

وقت کا بہترىن استعمال کا طرىقہ کار ىہ ہے کہ اپنے شب و روز کا جدول بناىا جائے جس مىں صرف دنىاوى کام ہى نہ ہوں بلکہ اول نمازىں تلاوت قرآن پاک اور دىنى کتابوں کا مطالعہ ہو، اور ىاد رہے گناہوں کے کوئى ہمارے جدول نہ ہوں ۔(نىک بننے کا نسخہ )

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


جی وقت کا سب سے بہترین استعمال اپنے لبوں کو درود پاک سے تر رکھنا ہے وقت کا استعمال ہمیں ان کاموں میں کرنا چاہیے جو کل روز محشر ہمارے لیے مددگار ہو۔ یوں تو وقت گزرتا جا رہا ہے سانسوں کی لڑی کو بھی کاٹتا جا رہا ہے۔ لیکن ابھی تک ہم معلوم نہیں کر سکے کہ وقت کو کس طرح استعمال کریں ۔کن کاموں میں استعمال کریں۔

نوجوان موبائل میں وقت گزارتے ہیں جو وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ بے سود بھی ہے۔ وقت کی قدر بھی انہیں ہوتی ہے جن کے پاس نہیں رہا وقت، ‏”‏کاش میرے پاس اِتنا وقت ہوتا!‏“‏ آپ نے زندگی میں یہ بات کتنی بار کہی ہے؟‏ دیکھا جائے تو وقت ایک ایسی چیز ہے جو ہر شخص کے پاس ایک جیسا ہے،‏ چاہے یہ شخص امیر ہو یا پھر غریب۔‏ نہ تو کوئی امیر اور نہ ہی کوئی غریب وقت کو اپنی مٹھی میں قید کر سکتا ہے۔‏ اگر یہ ایک دفعہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو پھر واپس نہیں آتا۔‏ لہٰذا سمجھ‌داری کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے وقت کا اچھا اِستعمال کریں۔‏ لیکن ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏ 

وقت کا بہترین استعمال یہ ہے کہ ہم وقت پر فرائض انجام دیں نماز وقت پر ادا کریں۔بہت سے لوگ،گھریلو عورتیں کاموں میں مصروف ہو جاتی ہیں اور نماز کی ادائیگی نہیں کر پاتیں ۔ سب سے پہلے ہمیں نماز کو وقت پر ، پرسکون ہو کر ادا کرنی چاہیے۔ قرآن پاک کی تلاوت بھی کرنی چاہیےصبح کے وقت میں۔

اس کے علاوہ اگر وقت ہو اس میں بھی اپنا وقت دین کے کاموں اور ذکر و اذکار میں استعمال کرنا چاہیے۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اللہپاک کى بے شمار نعمتوں مىں سے اىک بہت ہى پىارى اور قىمتى نعمت وقت ہے ۔وقت اللہ پاک کى اىک اىسى نعت ہے جو اللہ کریم نے ہر انسان کو ىکساں عطا فرمائى ہے، امىر ہو ىا غرىب، جوان ہو ىا بوڑھا مسلمان ہو ىا کافر، ہر اىک کو اللہ نے دن اور رات مىں24 گھنٹے عطا فرمائے ہىں، اب ہر انسان پرDepend کرتا ہے کہ وہ ان اوقات کو کس طرح استعمال کرىں۔

کسى نے کہا کہ اىک اچھى خبر ہے اور اىک بُرى خبر ہے، بُرى خبر ىہ ہے کہ وقت اُڑتا جارہا ہے اور اچھى خبر ىہ ہے کہ اس کا اُڑنا آپ کے ہاتھوں مىں ہے کہ آ پ اس کو کىسے اور کہاں اُڑاتے ہو۔عقلمند وہ ہے جو اپنے وقت کا بہترىن استعمال کرکے اپنى دنىا و آخرت کو بہترىن بنانے کى کوشش مىں لگارہتا ہے کىونکہ اسے معلوم ہے کہ اگرىہ قىمتى دولت اىک بار ہاتھ سے چلى گئى تو دوبارہ واپس کبھى نہىں آئے گى،چنانچہ تاجدارِ مدىنہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت دن ىہ اعلان کرتا ہے اگر آج کوئى اچھا کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد مىں کبھى پلٹ کر نہىں آؤں گا۔

(شعب الاىمان،3/386)

ہمىں بھى چاہئے کہ زندگى کا جو دن نصىب ہوگىا اس کو غنىمت جا ن کر تمام اچھے اچھے کام کرلىں کہ کل نہ جانے ہمىں لوگ جناب کہہ کر پکارىں یا مرحوم کہہ کر۔( انمول ہىرے، ص7)

اپنے وقت کے بہترىن استعمال کے لئے ہمىں سب سے پہلے اپنے مقصدِ حىات کو پىش نظر رکھنا ہوگا کہ ہمارا مقصدِ حىات کىا ہے ؟اللہ پاک نے ہمىں کىوں پىدا کىا؟ اس کے لئے ہم کلامِ الہٰى سے رہنمائى لىتے ہىں ، چنانچہ اللہ پاک نے قراٰنِ مجىد مىں رہنما ئی فرما ئی: وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ۔ترجمۂ کنزالاىمان:اور میں نے جِنّ اور آدمی اتنے ہی(اسی لئے)بنائے کہ میری بندگی کریں ۔(پ27، الذارىٰت:56)

اس آىتِ قراٰنى سے واضح ہوگىا کہ اللہ کریم نے ہمىں اپنى عبادت کے لئے پىدا کىا ہے، ہمىں اسى مقصدِ حىات کو پىش نظر رکھتے ہوئے اپنى زندگى گزارنى ہے۔ہمارى زندگى کا جو وقت بىت گىا سو بىت گىا، اس پر افسوس کرنے کے بجائے اپنے موجودہ وقت کى قدر کرتے ہوئے اسے نىکى کے کاموں مىں گزارنا ہے تاکہ بروزِ قىامت بارگاہِ خداوندى مىں شرمسار نہ ہونا پڑے۔

اپنے وقت کا بہترىن استعمال کرتے ہوئے ہمىں سب سے پہلے (1)اپنے فرائض و واجبات (نماز، روزہ وغىرہ) کى ادائیگی کرنی چاہیئے اور سابقہ فوت شدہ فرائض و واجبات کى تلافى کے لئے توبہ واستغفار کرکے جلد از جلد قضا کرنى چاہئے(2) کثرت سے قراٰ نِ پاک کى تلاوت اور ذکر و اذکارکرنا چاہئے(3)اپنے وقت کو ىادِ خداوندى مىں گزارنا چاہئے (4)پىارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى سنّتوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے شب و روز گزارىں (5) نىکى کا حکم دىں اور بُرائى سے منع کرىں(6)اپنے والدىن کى خدمت کرکے ان کى دُعائىں لىں(7)ان تمام کاموں سے بچىں جو ہمارے وقت کو ضائع کرنے کا سبب بنتے ہىں مثلاً جھوٹ، غىبت، چغلى جىسى برى باتوں اور تمام حرام کاموں سے بچىں وغىرہ(8)آج کا کام کل پر نہ چھوڑىں کہ حضرت عمر بن عبدالعزىز رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہىں مىں روزانہ کا کام اىک دن مىں بمشکل مکمل کر پاتا ہوں اگر آج کا کام بھى کل پر چھوڑ دوں گا تو پھر دو دن کا کام اىک دن مىں کىسے کر پاؤں گا۔

اللہپاک سے دُعا ہے کہ ہمىں اپنے وقت کا بہترىن استعمال کرکے اسے اپنى رضا والے کاموں مىں گزارنے کى توفىق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

بنتِ بابر حسىن انصارى

درجہ رابعہ،جامعۃ المدىنہ، حیدرآباد

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


دنىا مىں وقت ہى اىسى چىز ہے جو کسى کى جاگىر نہىں ہے، اسی  لىے کہا جاتا ہے کہ اپنے وقت کا درست استعمال کرو ۔

ڈاکٹر اقبال نے کہا: وقت کے متعلق کہ آؤ مل جاؤ ىہ وقت نہ پاؤ گے کبھى مىں بھى ہمراہ زمانے کے بدل جاؤ گے۔

ہمىں اپنى زندگى کى ہر بات مىں وقت کا خىال رکھتے ہوئے درست استعمال کرنا چاہىے کىوں کہ جو عمل کرنے جاؤ گے ٹھىک ہوا تو بہتر ورنہ انسان خسارے مىں ہے۔

وقت تو اپنے وقت پر بدلتا ہے

توں کر استعمال اس کا اپنے لىے ٹھىک

اس کے بہترىن استعمال کے لىے ہمىں اپنے مکمل دن کا اىک جدول بناناچاہىے ،اور حمد دل مىں کسى بھى وقت کو کم نہ جانىں کہ کبھى اىسا مختصر بھى انسان کى زندگى مىں بدل سکتا ہے اسى لىے اسے ىومىہ جدول پر عمل کرىں اور اپنے قىمتى وقت کو غنىمت جانو۔

کىونکہ وہ لوگ بھى ہىں ان لوگوں نے سوچا آج نہىں ابھى بہت وقت ہے بعد مىں کرىں گے پر ہوا کىا کہ وقت نے ان کو مہلت نہ دى، سوچا تو بہت پر کچھ کر نہ پائے۔

۲، وقت سب کو ملتا ہے زندگى بدلنے کے لىے

،مگر

زندگى دوبارہ نہىں ملتى وقت بدلنے کے لىے

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اللہ تعالى کى نعمتوں مىں سے بڑى نعمت وقت ہے ،اور وقت کا صحىح استعمال بھى وہ لوگ کرتے ہىں جنہىں اپنے وقت کا احساس ہو، وقت کا صحىح استعمال ہى آپ کى صلاحىتوں مىں نکھار پىدا کرتا ہے، تو آپ جب اىک نىا کام کرنا چاہىے گے تو آپ کو ذرا سى بھى مشکل نہ ہوگى، اور آپ اسے جلد اور باآسانى مکمل کرلىنے مىں کامىاب ہوں گے ،اور ہاں حقىقت بھى ىہى ہے کہ آج تک جتنى بھى قومىں ىا بڑے لوگ کامىاب اور کامران ہوئے ہىں ان کے کامىاب ہونے کى اصل وجہ وقت کا صحىح استعمال کرنا ہے۔

وقت کا صحىح استعمال کرنے کے فوائد :

وقت کو صحىح استعمال کرنے کاجو بنىادى فائدہ حاصل ہوتا ہے ، وہ ىہ ہے کہ آپ تندرست رہیں گے ۔ کىونکہ جب آپ وقت کو اىک صحىح استعمال مىں لائىں گے تو آپ کا ذہن فرىش رہے گا، اور اس کے ساتھ آپ کے دىگر کام بھى باآسانى مکمل ہوں گے، اور آپ اپنى منزل تک پہنچ جائىں۔

وقت کو استعمال کرنے کا طرىقہ :

سب سے پہلے آپ اوقات نماز الگ کرىں کىونکہ نماز ہر مسلمان عاقل بالغ پر فرض ہے۔

مثلا۔ ۲ گھنٹے نماز کے لىے اس مىں وضو وغىرہ بھى شامل ہے۔

اس کے علاوہ ۸ گھنٹے سونے کے لىے کىونکہ آرام بھى ضرورى ہے۔

اوراىک گھنٹہ ورزش کے لىے جو کہ صحت مند رہنے کے لىے ضرورى ہے۔

اور کم سے کم اىک گھنٹہ دکھىارى امت کى، خىر خواہى کے لئے ان کے ساتھ کچھ دىر کے لىے بىٹھىں، کم حوصلے والوں کو حوصلہ دىں، پرىشان حالوں کو تسلى دىں، ان کے دکھوں مىں شرىک ہوں، اور بقاىا وقت اپنے شعبے کے مطابق گزارىں۔

مثلا طالب علم اپنى تعلىم مىں, تاجر اپنى تجارت مىں وغىرہ وغىرہ

نتىجہ :

پىارے بھائىو! زندگى کا جو دن نصىب ہوگىا اسى کو غنىمت جان کر جتنا ہوسکے اس مىں اچھے اچھے کام کرلىے جائىں تو بہتر ہے کہ کل نہ جانے ہمىں لوگ جناب کہہ کر پکارتے ہیں یا مرحوم ؟، مگرىہ حقىقت ہے کہ ہم اپنى موت کى منزل کى طرف نہاىت تىزى کے ساتھ رواں دواں ہىں۔

چنانچہ پارہ ۳۰ سورہ انشاق کى آىت نمبر ۶ مىں ارشاد ہوتا ہے: ترجمہ کنزالاىمان ۔ اے آدمى ! بے شک تجھے اپنے رب عزوجل کى طرف ضرور دوڑنا ہے ۔

مرتے جاتے ہىں ہزاروں آدمى

غافل و نادان آخر موت ہے ۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں