19 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

                            فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے گھڑی بھر غوروفکر کرنا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے ہمارا کردار اور ہمارا اخلاق، علم والے اور با عمل ہونا دوسروں. کی اصلاح کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور رسول پاک صاحبِ لو لاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی حیات طیبہ میں ہمیں زندگی گزارنے کا جو انداز سکھایا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ اللہ پاک ہمیں بھی انکے نقش قدم پر چلنے اور اپنی اصلاح کی کوشش کر تے رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


کسی بھی معاشرہ  کی تکمیل و تعمیر کے لیے اصلاح کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں گرچہ اصلاح ایک وسیع مفہوم کا حامل لفظ ہے مگر عموما اصلاح کے معنی سمجھانے کے ہی لیے جاتے ہیں ۔ قرآن کریم فرقان حمید میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے ۔ ترجمہ کنزالایمان ، اور سمجھاو کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔

لفظ ،"اصلاح" اگر چہ بذات خود ایک وسیع مفہوم رکھتا ہےمگرسمجھنے کے لیے اصلاح کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے انفرادی و اجتماعی اصلاح ۔ اصلاح انفرادی ہو یا اجتماعی آغاز خود سے ہی ہوتا ہے کیونکہ ایک خوبصورت معاشرہ کی تشکیل فرد سےہی ہوتی ہے۔ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ انسان کو معاشرے کی اصلاح کی بھی بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور اس کی بنیاد مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے بنتا ہے۔ قرآن کریم فرقان حمید میں کئی مقامات پر اللہ تبارک وتعالی مومنین کو دوسروں کو نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کا حکم دیتا ہے ۔ اللہ رب العزت کی بابرکت کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں پرودگار نے اپنے انبیاکرام کو اپنی اپنی امتوں کی اصلاح کے لیے حکم ارشاد فرماتا ہے :

جیساکہ سورہ مریم کے تیسرے رکوع میں اصلاح کا حکم دکھائی دیتا ہے اور سورہ ھود میں مختلف انبیاکرام علیھم السلام بالخصوص حضرت شعیب علیہ السلام کا اپنی امت کو انداز تبلیغ و اصلاح اس بات کا عکاس دکھائی دیتا ہے کہ کم وبیش تمام انبیاٗ کی تعلیمات میں اصلاح معاشرہ کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔

اور خاتم النبین رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال ِ ظاہری فرمانےکے بعد اصلاح کا عظیم فریضہ اس امت کو عطا کردیا گیا چنانچہ سورہ آل عمران میں ارشاد باری تعالی ہے : تم بہتر ہو ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو ۔ یعنی کہ اس امت کے دیگر امتوں کے مقابل برتری کے اسباب میں ایک سبب یہ بھی ہوا کہ یہ برائی سے روکتے یعنی لوگوں کی اصلاح کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ چونکہ آج نبوت کا دروازہ تو بند ہوچکا ہے اس لیے اب اصلاح کا عظیم فریضہ اسی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سرانجام دینا ہے لہذا اس امت کے علماکرام ، محدثین ، مشا ئیخ عظام ، مصنفین ،مفکرین، اور مقررین اپنے علم ، فیض ، فکر ، تحریر اور تقریر سے دنیا کی اصلاح کافریضہ تاقیامت سرانجام دیتے رہیں گے۔

اس ضمن میں احادیث مبارکہ ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہیں جیسا کہ ’’ تم میں سےجوبھی برائی دیکھے تووہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے اگر اس کی طاقت نہ ہوتوزبان سے روکے اوراگر اس کی بھی طاقت نہیں تودل میں برائی کو برا جانےاوریہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘ (مسلم شریف )

مندرجہ بالا حدیث مبارکہ اپنے اندر انفرادی اور اجتماعی اصلاح کے پہلو سمیٹے ہوئے ہے اسکے بعد مرشدی امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے جو معاشرہ کی اصلاح کابیڑہ اٹھایا اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کے لیے قرآن و سنت سے رہنمائی لینا چاہئے۔


ہمارے معاشرے میں کم وبیش سبھی کو اصلاح کی حاجت رہتی ہے جس طرح غلطیاں کرنے والوں میں کمی نہیں اسی طرح اصلاح کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں،اگرچہ انداز ہر ایک کا جداگانہ ہوتا ہے کچھ افراد تو ایسے بھی ہیں جو غلطیوں کے مُرتکب(غلطیاں کرنے والے) کو سمجھانا بے فائدہ سمجھتے ہیں اور  یوں کہتےہوئے سنائی دیتے ہیں کہ بھائی! اسے سمجھانے سے کوئی فائدہ نہیں"،جبکہ یہ قول واضح طور پر قرآن پاک کےخلاف ہے اللہ پاک کا پیار کلام تو یوں فرماتا ہے:

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ ترجمۂ کنزالایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔" (پارہ 27،الذاریٰت55)

لہٰذا یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ سمجھانا فائدہ نہیں دیتا،ہاں انداز تفہیم واصلاح درست کرنا ہوگا،عمومی طور پر سمجھانے والے سمجھانے کےبجائے صرف منع کرنے کو ہی سمجھانا سمجھتے ہیں مثلاً کسی نے کوئی ایسا کام کردیا جو نقصان دہ تو ہو لیکن کرنے والے کو اس کے نقصان کا علم نہ ہو ،تو اسے سمجھاتے ہوئے یوں کہہ دیا جاتا ہے" آئندہ ایسا نہ کرنا "۔اب اگر وہ پوچھ لے کہ ایسا کیوں نہیں کرنا توسامنے سے یوں جواب ملتا ہے:" بس میں نے کہہ دیانا کہ ایسا نہیں کرنا تو نہیں کرنا "یقینا ً ایسے بہت سے کام ہوتے ہیں جن سے منع کرنے کی حکمت بیان نہیں کی جاسکتی لیکن منع کرنے والے کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس طرح منع کرنے سے کچھ لمحات کے لیے تو روکا جاسکتا ہے لیکن مستقل طور پر روکنا بہت مشکل ہے کیونکہ انسان ان کاموں کے کرنے کا حریص ہوتا ہے جن سے اسے منع کیا جائے چنانچہ"کَنْزُالْعُمَّال" کی حدیث پا ک میں فرمایا گیا:

إنّ ابنَ آدمَ لَحَريصٌ على ما مُنِعَ

بیشک آدمی اس کام کے کرنے کا حریص ہے جس سے اُسے منع کیا جائے۔( كنز العمّال : ۴۴۰۹۵)

لہٰذا سمجھانے والا اگرکسی کام کے فوائد اور نقصانات بیان کرکے سمجھائے گا تو اس کے اثرات دیرپا ہونگے۔

اکیلے میں سمجھائیں:

بہتر یہ ہے کہ جس کی غَلَطی ہو اس کی الگ سے اِصلاح کی جائے یوں اس کو اچھا بھی لگے گا اورندامت بھی نہیں ہوگی اور بات بھی جلدی سمجھ آئے گی ۔ اگر عَلَی الْاِعْلَان اِصلاح کی کوشش کریں گے تو شیطان اس کو ضد میں مبتلا کر سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی غَلَطی کو دُرُست ثابت کرنے کے لیے مزید 10غَلَطیاں اور کرے گا ۔

حضرتِ سَیِّدَتُنااُمِّ دَرداء رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فرماتی ہیں : جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اِصلاح کی اس نے اسے سُدھار دیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اِصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا ۔( شعب الایمان، باب فی التعاون علی البر و التقوی، ۶ / ۱۱۲، حدیث : ۷۶۴۱ دار الکتب العلمیة بیروت ۔)

حضرتِ سَیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : جس نے کسی کی اکیلے میں اِصلاح کی گویا اس نے اسے زینت دی اور جس نے کسی کی سب کے سامنے اِصلاح کی اس نے اسے داغدار کر دیا ۔( حلیة الاولیاء، الامام الشافعی، ۹ / ۱۴۹، حدیث : ۱۳۴۶۴ دار الکتب العلمیة بیروت ۔ )

مسلمان کی عزت کا خیال رکھیں:

سمجھاتے ہوئے مسلمان کی عزت کا خیال رکھیں اور اچھے الفاظ کےساتھ سمجھائیں تاکہ سمجھنے والے کو آپ سے وحشت نہ ہو اور وہ آئندہ بھی آپ سے تربیت لینے میں کسی بھی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہو۔اللہ پاک ہمیں اچھے انداز کے ساتھ اصلاح کرنے کا جذبہ نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم


اىک صحت مند معاشرے کے لىے اصلاح اہم کردار کرتى ہے، قرآن حکىم ارشاد بارى تعالى ہے:

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵)

تَرجَمۂ کنز الایمان : اور سمجھاؤ کہ سمجھانا اىمان والوں کو فائدہ دىتا ہے۔ (پارہ 27 ، الذارىات: 55)

ہر شخص کو زندگى کے کسى نہ کسى موڑ پر اصلاح کرنى کى ضرورت پىش آتى ہے، معاشرے مىں بہت سے لوگ اصلاح کرتے بھى دکھائى د ىتے ہىں، البتہ اگر چند باتوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر اصلاح کى جائے تو اس سے زائدہ فوائد حاصل ہونے کے امکانات ہىں

حکمت عملى :

سىد دوعالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرماىا: الحکمۃ ضالۃ المؤمن، فمن حیث وجدھا فھو احق بھا یعنی کہ حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہے لہذا مومن اسے جہاں پائے وہى اس کا زىادہ حقدار ہے۔

(ترمذى ، ۴/۲۱۴ حدىث ۲۶۹۶)

لہذا صلاح کرنے کے معاملے مىں بھى مناسب حکمتِ عملى کو اختىار کرنے سے مثبت نتائج حاصل ہوسکتے ہىں، جىسا کہ حضرت سىدنا زبىرىامى رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ جو اپنے محلے کى مسجد مىں امام تھے آپ بچوں کو کہا کرتے بچو ، چلو نمازپڑھتے ہىں مىں تمہىں اخروٹ دوں گا، بچے آکر نماز پڑھتے پوچھا گىا کہ آپ ا ىسا کىوں کرتے ہىں تو فرماىا اس مىں مىرا کىا جاتا ہے کہ مىں ان کے لىے پانچ درہم کے اخروٹ خرىدوں اور وہ نماز کے عادى بن جائىں۔(حىلتہ الاولىا ۵/۳۵۔ رقم ۶۲۲۰)

اسى طرح کى حکمتِ عملىوں خو اختىار کرکے نىکى اور اصلاح کى طرف لاىا جاسکتا ہے۔

حفظ مراتب:

جس کى اصلاح مقصود ہو اس کے مقام اور مرتبے کا بھى لحاظ رکھنا چاہىے اور اىسا طرىقہ کار اختىار کرنا چاہىے جس سے بات سامنے والے کے دل مىں گھر کرجائے اور نرمى کے ساتھ سمجھاىا جائے۔

اىسے الفاظ کا انتخاب نہ کىا جائے جس سے کوئى اپنى توہىن سمجھتے اور اصلاح قبول کرنے کى بجائے دل مىں کىنہ پىدا کر بىٹھے، لہذا نرمى صبر و تحمل کے ساتھ اصلاح کرنا زائد مفىد ثابت ہوتا ہے۔

موقع و محل :

بات بات پر ٹوکنے اور اور ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے پرہىز کرنا چاہىے اس سے اصلاح کى بجائے منفى اثرات پڑتے ہىں اور بعض اوقات ردعمل کا باعث بھى بن جاتا ہے۔ لہذا اصلاح کرنے مىں موقع و محل کا بھى لحاظ رکھنا چاہىے، چنانچہ حضرت سىدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ہرجمعرات کووعظ فرماتے تھے، آپ سےروزانہ وعظ کرنے کى خواہش کى گئى تو ارشاد فرماىا، مىں تمہىں اکتاہٹ مىں مبتلا کرنے کو ناپسند کرتا ہوں اور بس اسى طرح تمہارى رعاىت کرتا ہون جس طرح نبی کریم اکتاہٹ کے خدشے کے باعث ہماری رعایت فرماتے تھے۔(بخاری،ج۱،ص۴۰، حدیث:۷۰)

اسی طرح مجمع میں سمجھانے کے بجائے اکیلے میں اصلاح کرنا فائدہ دیتا ہے۔

اگر مذکورہ چند اصول و ضوابط کا خیال رکھا جائے تو بہتر انداز میں اعتقادی ، علمی اور عملی اصلاح کی جاسکتی ہے۔ اللہ پاک اخلاص کے ساتھ اصلاح کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


انسان خطاء  کا پتلا ہے مطلب ىہ ہے کہ اس سے غلطى ہوسکتى ہے، جب اس سے غلطى ہوسکتى ہے تو ہمىں بدگمانى نہىں ہونا چاہىے کہ اس نے جان بوجھ کر گناہ کىا ہوگا، وہ زانى ، جوارى ىا شرابى ہے وغىرہ بلکہ شرىعت نے ہمىں اصلاح کرنے کا حکم دىا ہے، ہمارا دىن اسلام اتنا پىارا دىن ہے کہ جب کوئى حکم دىتا ہے تو اس کو کرنے کا طرىقہ بھى بتاتا ہے۔ حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى مبارک زندگى ، حدىث مبارکہ اور صحابہ کرام علیہمُ الرِّضوان کى مبارک زندگى، اولىائے کرام اور صالحىن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم کى مبارک زندگىوں سےاس طریقے کے حوالے سے بے شمار واقعات ملتے ہىں اور زبردست اور مکمل رہنمائى حاصل ہوتى ہے۔س

بہت سے لوگ معاشرے کى بگاڑ کى باتىں تو کرتے ہىں مگر اس کى اصلاح کى کوشش نہىں کرتے، اگر ہم اپنا ذہن ىہ بنائىں کہ مجھے اپنى اور سارى دنىا کے لوگوں کى اصلاح کى کوشش کرنى ہےاِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ، تو اس معاشرے کو سدھارنے مىں معاون ثابت ہوگا،اس کو اس مثال سے سمجھئے کہ اىک شخص مطالعہ مىں مصروف تھا پاس ہى اس کا اىک بچہ کھىل رہا تھا جو بار بار اسےتنگ کررہا تھا اور ىوں اس کے مطالعہ مىں خلل پىدا ہوتا ، اس نے کافى مرتبہ اسے سمجھا لىا مگر بلآخر بچہ تھا تھوڑى دىر تک ضبط سے کام لىا اور پھر کھىلنے لگتا باپ بچے کے اس طرح بار بار تنگ کرنے سے ىہاں تک تنگ ہوا کہ اس کے سر مىں درد شروع ہوگىا، آخر اس کے دماغ مىں اىک ترکىب آئی اور اس نے قرىب ہى موجود کسى صوفے کے نقشے کو پھاڑ کر پرزے پرزے کردىا اور اپنے بىٹے کو دىتے ہوئے کہا ، دوسرے اور کمرے مىں جا کر درست کرلو اور پھر لے آنا بچہ چلا گىا توا سے کچھ اطمىان کا سانس لىا، چلو ىہ جتنى دىر تک نقشہ بناتا رہے گا آخر مىں مطالعہ کرلوں گا کىونکہ ىہ اىک مشکل کام تھا اور اس مىں بچے کو کافى وقت لگ سکتا تھا، بچہ چلا گىا اور باپ نے اطمىنان سے مطالعہ کرنا شروع کردىا، ابھى تھوڑا سا وقت گزرا تھا کہ بچے نے آکر کہا ابو نقشہ صحىح ہوگىا، باپ کو حىرت ہوئى کہ اتنے گھنٹوں کا کام منٹوں مىں کىسے کرکے آگىا دىکھا تو واقعى نقشہ صحىح تھا، باپ نے پوچھا بىٹا ىہ نقشہ اتنى جلدى کىسے صحىح کرکردىا؟

تو بىٹے نے بتاىا ابا جان جب آپ نے نقشہ پھاڑا تو مىں نے دىکھا کہ اس کے پىچھے اىک آدمى کى تصوىر بھى تھى لہذا مىں نے نقشہ صحىح کرنے کے بجائے آدمى کى تصوىر صحىح کردى، نقشہ خود ہى صحىح ہوگىا۔

مىٹھے مىٹھے اسلامى بھائىو! ہم معاشرے کے نقشے کو صحىح کرنے کى اکثرکشش کرتے ہىں جس مىں خاطر خواہ کامىابى کبھى نہىں ہوئى تو ہمىں مدنى منے کى طرح معاشرے کے نقشے کے بجائے فرد کى اصلاح پر کوشش کرنى چاہىے ، کىونکہ فرد سے معاشرہ بنتا ہے نہ کہ معاشرے سے فرد بنتا ہے، جب فرد بدلے گا تو معاشرہ خود بخود بدلے گا اور اگرو ہى نہىں بدلے گا تو معاشرے کىسے بدلے گا؟ ہمارے معاشرے کا المىہ ىہ کہ لوگ برائى کو برائى نہىں کہتے شرابى، زانى اور جوارى وغىرہ کو تو برا کہتے ہىں لىکن جھوٹ بولنے والا، نماز نہ پڑھنے والا اور غىبت کرنے والا غلط نہىں اور برا نہىں تو کہتے، جب کہ ىہ گناہ بھى کوئى کم نہىں ہىں اور جہنم مىں لے جانے والے ہىں۔

اپنى اصلاح کىسے کرىں؟َ

امىر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے ہمىں مدنى انعامات عطا کىے جس کے ذرىعے ہم اپنى اصلاح کرسکتے ہىں، اپنى اصلاح کرنا اور اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کو فکر مدىنہ کہتے ہىں، سب کو روز فکر مدىنہ کرنى چاہے ، اس کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول گوش گزار کرتا ہوں ، ارشاد فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے:قىامت کا حساب ہونے سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرلو اور اعمال کا وزن ہونے سے پہلے ان کو تول لو اور بڑى پىشى کے لىے تىار کرلو۔

نىکى مىں دىر کس بات کى !

پىارے اسلامى بھائىو! آج کا کام کل پر مت چھوڑىے معلوم نہىں کہ زندگى کا سورج کب غروب ہوجائے کىونکہ ہمارے معاشرے مىں دىکھا گىا ہے کہ جب بھى انہىں نىک کام کرنے کا کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہىں کل سےکروں گا مشہور مقولہ ہوا۔

Tomorrow never come, Do your work today! ىعنى کل کبھى نہىں آئے گى آج ہى اپنا کام کرلو۔

رىاضت کے ىہى دن ہىں بڑھاپے مىں کہاں ہمت

جو کچھ کرنا ہے اب کرلو ابھى نورى جواں تم ہو۔


فرمان مصطفى صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے، مجھ پر درود پاک کى کثرت کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود پاک پڑھنا تمہارے لىے پاکىزگى کا باعث ہے۔(مسند ابى ىعلى ۴۵۸۱۵، حدىث نمبر۶۳۸۳)

قراٰن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ-

تَرجَمۂ کنز الایمان: تم بہتر ہو ان سب امتوں مىں جو لوگوں مىں ظاہر ہوئىں ، بھلائى کا حکم دىتے ہو اور برائى سے منع کرتے ہو اور اللہ پر اىمان رکھتے ہو۔(پارہ ۴، اٰل عمران: ۱۱۰)

مىٹھى مىٹھى اسلامى بہنو ! ہر مسلمان اپنى اپنى جگہ مبلغ ہے خواہ وہ زندگى کے کسى بھى شعبے سے تعلق رکھتا ہوعالم ہو ىا طالبِ علم ، اما م مسجد ہو ىا موذن، تاجر ہو ىا گاہک، حاکم ہو ىا محکوم، الغرض جہاں جہاں رہتا ہو کام کاج کرتا ہو رضائے الٰہى کے لىے اچھى اچھى نىتوں کے پىش نظر اپنى صلاحىت کے مطابق اپنے اردگرد کے ماحول کو پىش نظر رکھتے ہوئے ماحول کو سنتوں مىں ڈھالنے کے لىے ہر مسلمان کو کوشاں رہنا چاہىے۔

اللہ پاک ہر چىز پر قادر ہے وہ اگر چاہے تو انبىا کرام علیہم السَّلام کے بغىر بھى بگڑے ہوئے انسانوں کى اصلاح کرسکتا ہے لىکن اس کى مشىت کچھ اسى طرح ہے کہ مىرے بندے نىکى کى دعوت کے ذرىعے اصلاح امت کرىں اور مىرى راہ مىں مشقتىں جھلىں اور مىرى بارگاہ عالى سے بلند درجے حاصل کرىں۔

مىٹھى مىٹھى اسلامى بہنو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! اللہ پاک نے ہمىں طرح طرح کى نعمتوں سے نوازا ہے، مگر کچھ لوگ نادان ہىں کہ کئى گناہ کا ارتکاب کر بىٹھتے ہىں اوراس بات کا علم تک نہىں ہوتا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اىسے موقع پر ہمىں امت محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى اصلاح و خىر خواہى کا موقع ملتا ہے،جىسا کہ : حضرت سىدنا زىد بن ملحہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہسے رواىت ہے کہ سرکارِ مدىنہ راحت قلب وسىنہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالىشان ہےکہ دىن اسلام غرىبى سے شروع ہوا اور غرىبى ہى کى طرف لوٹ جائے گا تو غربا کے لىے خوشخبرى ہے جو مىرے بعد مىرى ان سنتوں کى اصلاح کرىں گے جنہىں لوگوں نے بگاڑ دىاہوگا۔

سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس حدىث مبارکہ مىں ىہ بھى ارشاد ہوا کہ غربا کے لىے خوشخبرى ہے جو مىرے بعد مىرى ان سنتوں کى اصلاح کرىں گے جنہىں لوگوں نے بگاڑ دىا ہوگا، ىعنى مىرى سىرت اور مىرا طرىقہ خواہ اس کا تعلق اعتقاد سے ہو ىا عمل سے، قول سے ہو ىا ذات سے، جب لوگ اسے بگاڑ دىں گے تو غربا اس کى اصلاح کرىں گے۔

اصلاح کے کئى طرىقےہوسکتے ہىں چند عرض کرتى ہوں۔

۱۔ جب کوئى سنت کو بگاڑ دے تو اسے نىکى کى دعوت دے اور نرم لہجے مىں اسے درست طرىقہ بنانے کى کوشش کرىں اور برائى سے منع کرىں۔

۲۔ جب کوئى غلط کام کرے تو اس کے عىب مسلمانوںمىں کھولنے کى بجائے اس کى اصلاح کرے اور اسے گناہوں سے بچنے کا ذہن دىتے ہوئے نىکى کى دعوت دے۔

۳۔ ىا ىہ طرىقہ ہو کہ نىت رکھے کہ وہ لوگ اس نىت پر عمل کرىں گے اور اس پر ہمىشگى اختىار کرىں گے ، اور دىن والے اور ڈرنے والے اخلاص کے ساتھ اس پر عمل پىرا ہوں گے۔

۴۔ اچھے الفاظ کے ساتھ اصلاح کرے قرآن پاک و احادىث مبارکہ کے زرىعے سمجھانے کى کوشش کرے۔

۵۔ اصلاح کرنےمىں اپنا اندازجھڑکنے والا اور غضب والا نہىں رکھنا چاہىے کہ لوگ عمل کرنے کے بجائے دىن سے دورى اختىار کرىں گے۔

۶۔ہوسکے تو مسلمانوں کى اصلاح کے لىے درسِ نظامى کو اختىار کرتے ہو نیکی کی دعوت خوب سے خوب عام کىجئے۔

اللہ پاک ہمىں درست طرىقے سے امتِ محبوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى اصلاح کرنے کى توفىق مرحمت فرمائىں۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اصلاح کے معنی درست کرنے کے ہیں یعنی کسی میں خامیاں یا برائیاں دور کرنا  اور اسے صحیح راستے پر لانا۔

انداز ،طریقہ:

ہمیں کسی کی اصلاح کرنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کرنا چائیے اور ایسے لب ولہجہ میں نرمی ہونی چاہیے ،پیار و محبت سے اصلاح کرنی چاہیے تا کہ بات دل میں اتر جائے۔ اور سمجھنے والا سمجھ بھی جائے اور عمل بھی کرے ۔اور ہر نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے، غصہ اور تنقید سے اصلاح کبھی نہیں ہو سکتی ہمیشہ اصلاح محبت میں کرنی چاہیے محبت سے ہر بات منوائی جاتی ہے نہ کہ غصے سے۔ ہمیں اگر اصلاح کا طریقہ دیکھنا ہے تو ہم سیرت مصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پڑھ کر اس پر عمل کر کے دوسروں کی اصلاح کرنی چاہیے۔

محفل میں اصلاح:

کسی بھی محفل میں کسی ایک بچے کو پکڑ کر اس کی اصلاح کرنے بیٹھ جانا اصلاح نہیں کہلائے گئ۔وہ سب کے سامنے احساس کمتری کا شکار ہو سکتا ہےاکیلے میں بھی اصلاح کی جا سکتی ہے اگر محفل میں اصلاح کرنی ہے تو سب کی اصلاح کرنی چاہیے۔ اصلاح کرنے کا انداز بھی ایسا ہونا چاہیے کہ سامنے والا یہ نہ محسوس کریں کہ سب دیکھانے کے لیے ہے اپنا نام بنانے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔ اللّہ پاک کی رضا کے لیے سب کی اچھی اصلاح کرنی چاہیے۔ اور نیک اصلاح کرنی چاہیے اور ان سب کی لیے دعا بھی کریں کہ اللّہ پاک ہم سب کو اصلاح کرنے کی توفیق دے۔اپنے لہجے میں نرمی اختیار کرنی چاہیے۔ہر بات کو مسکرا کر کرنا چاہیے ۔

گھر میں بچوں کی اصلاح:

اکثر یوں ہوتا ہے بچے گھروں سے بیزار ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے دوستوں سے زیادہ مل جل جاتے ہیں۔دوستوں کے پاس اس لئے جاتا ہے کہ دوست اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں کہ تم بالکل ٹھیک ہو ۔

گھر میں والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی ہر بات توجہ سے سننے اور جہاں وہ غلط ہوں ان کی اصلاح کریں۔گھر کے بڑے بھائی بہن کو بھی سوچنا چاہیے عموماً بچے جب بھی کوئی بات کرتے ہیں تو انہیں وہیں خاموش کروا دیا جاتا ہے کہ ! تم تو بس چپ ہی رہو تمہاری کمی تھی بولنے کی ایسے باقی بہن بھائیوں کے سامنے اسے ڈی گریٹ کیا جاتا ہے اور پھر وہ یا تو کمرے میں چلا جاتا ہے یا باہر دوستوں کے پاس اور گھر والوں کو دیکھنا چاہیے کہ ان کے بچے کن کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیںاور ان کی اصلاح شروع سے ہی کرنی چاہیے۔

ایسا نہ ہو جب پہلے اس کو آزادی دی جائے اور جب وہ مکمل طور پر ہاتھوں سے نکل جائیں تو اس کی اصلاح کرنے بیٹھ جائیں اور پھر ہر ایک سے شکوے کہ ہمارا بیٹا /بیٹی ہماری بلکل نہیں سنتے۔ تو بہتر یہی ہے کہ شروع سے ان کی اصلاح کی جائے۔

اپنی اصلاح:

سب سے ضروری ہے کہ انسان خود کی اصلاح کرے بعد میں دوسروں کی ، خود کی اصلاح کیسے کی جائے۔؟

جی ہاں خود کی اصلاح بھی کی جاتی ہے اگر آپ کسی میں کوئی برائی دیکھیں یا کوئی ایسی بات جو خود آپ کی اپنی ذات کو پسند نہ ہو اس سے دوری اختیار کریں۔ہر خامی کو اپنے اندر تلاش کریں تو اسے بھی دور کرنے کی کوشش کریں۔خود کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے قریبی دوستوں سے پوچھے کہ مجھ میں کیا برائی ہے جب معلوم ہو جائے تو اس کو بھی دور کریں۔

حدیث کی روشنی میں اصلاح:

ایک حدیث شریف میں آتا ہے: ایک دیہاتی مسجد نبوی کے ایک گوشے میں پیشاب کرنے لگا، مسجد میں موجود لوگوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا اور اس کو برا بھلا کہنے لگے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو خاموش کروایا ، حتی کہ جب وہ پیشاب سے فارغ ہو گیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو پانی چھڑک کر صاف کرنے کا حکم دیا اور اس اعرابی کو بلا کر نہایت نرم لہجہ میں فرمایا: مسجد پیشاب کرنے کی جگہ نہیں ہے مسجد میں الله کا ذکر کیا جاتاہے اور نماز ادا کی جاتی ہے، اس اعرابی پر آپ صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق کا اتنا اثر ہوا کہ وہ کہتے ہیں: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ صلی الله علیہ وسلم نے نہ مجھے ڈانٹا او رنہ ہی برا بھلا کہا ۔( سنن ابن ماجہ ،حدیث نمبر529)

آپ صلی الله علیہ وسلم کا انداز لوگوں کے ساتھ کس قدر محبت آمیز اور مشفقانہ تھا، اس کا اندازہ حضرت انس کے بیان سے لگایا جاسکتا ہے، وہ کہتے ہیں:” میں دس برس تک حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں رہا، جو کام میں نے جس طرح بھی کر دیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ”یہ کیوں کیا؟“ اگر کوئی کام نہ کر سکا تو یہ نہیں فرمایا: ”یہ کیوں نہیں کیا؟ “ آپ صلی الله علیہ وسلم کا باندیوں اور خادموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان میں سے کبھی کسی کو نہیں مارا۔ (مسلم، باب کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم أحسن الناس خلقا، حدیث نمبر2309)

اللّہ پاک ہم۔سب کو اپنے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے آمین

مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ان شاءاللّہ عزوجل*


اصلاح کے معنی غلطی کو  درست کرنا ہے ۔منقول ہے کہ سمجھا ؤکہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اصلاح کا درست طریقہ کیا ہے ؟ اللہ پاک فرماتا ہے: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ- ترجمہ کنز لایمان : اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو ۔(سورۃ النحل ، ۱۲۵)

اصلاح کرنے کے اصول :

۱۔نرمی و خوش اخلاقی اختیار کرلےکہ جب گُڑ سے مرے تو زہر کیوں دوں؟ اللہ پاک فرماتاہے:

فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ- َ  لَوْ  كُنْتَ  فَظًّا  غَلِیْظَ  الْقَلْبِ  لَا  نْفَضُّوْا  مِنْ  حَوْلِكَ۪- ترجمہ کنز العرفان : تو اے حبیب!اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم دل ہیں۔اور اگر آپ ترش مزاج ،سخت دل ہوتے تو یہ لوگ ضرور آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔ (سورۃآل عمران آیات نمبر ۱۵۹)

۲۔جس کو سمجھایا جائے اس کی عمر ،رتبہ ،مزاج،فہم اور موقع محل کے مطابق کلام کرے محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:ہم گروہ انبیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کریں ۔(تفسیر السلمی ج۱ ،ص۳۷۷)

۳۔جس کو سمجھایا جا ئے اس کی عزتِ نفس اور وقار کا خیال رکھے دیگر لوگوں کے سامنےسمجھانے سے بچے منقول ہے :کہ جس نے اکیلے میں اصلاح کی اس نے اسے سنوارا اور جس نے سب کے سامنے اصلاح کی اس نے بگاڑ دیا۔اگر کچھ لوگوں کے سامنے سمجھانے کی ضرورت ہو تو نام نہ لےبلکہ یوں کہےبعض لوگ ایسا کرتے ہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ یہی سیدالمعلمین صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز ہے ۔

۴۔ دلائل،علمی نکات اور مثالوں کے ذریعےسمجھائے یہ نہایت دلنشین انداز ہے۔

۵۔جس غلطی کی نشاندہی کرنی ہےاس سے بچنے کے فوائد ،نہ بچنے کے نقصانات اور نہ بچنے والوں کا انجام بیان کرے۔قرآن کریم میں انہیں اسلوب کے تحت انسانیت کی اصلاح کی گئ ہے۔

۶۔ ہر وقت ہر بات پر نہ سمجھائےکہ اس سے لوگ کتراتے ہیں۔

۷۔صرف غلطی کی اصلاح کرنے کی بجائے اس کے سبب کو دور کرنےکی طرف تو جہ دلائے۔

۸۔ جس غلطی کی اصلاح کر لے پہلے خود اس سے بچنے کی ترغیب دلانے کیلئے سراپا ترغیب بننا پڑتا ہے۔نیز باعمل کا کلام تاثیر کا تیر بن کر دل پر اثر کرتا ہے۔

۹۔ غلطی کی اصلاح اس انداز میں کی جائے جس انداز میں ہم چاہتے ہیں کی ہمیں سمجھایا جائے سیدالواعظین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : کوئی بھی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی اس چیز کو پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے(بخاری شریف ج ۱ص۱۶ حدیث۱۳)

نفسیاتی تجزیہ :

ماہر نفسیات کہتے ہیں اگر کسی کی کسی غلطی پر اصلاح کرنی ہے تو پہلےاس شخص کی کوئی خوبی بیان کرے پھر غلطی کی اصلاح کرے اور آ خر میں بھی کسی خوبی کی تعریف کرے ۔

اصلاح کا انوکھاانداز:

ایک عالم صاحب کسی جگہ و عظ فرمارہے تھے کہ ایک شخص آیا جس کی شلوار ٹخنوں سے نیچے تھی وہ شخص بھی بیان سننے کے لیے بیٹھ گیا ۔ جب وعظ ختم ہوا تو لو گ اٹھ کر جانے لگے ۔وہ شخص بھی جانے لگا تو عالم صاحب نے اس شخص کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا :مجھے ایک ایسی بیماری ہے کہ میری شلوار ٹخنوں سے نیچے ہوجاتی ہے ۔ذرا دیکھیے میری شلوار ٹخنوں سے نیچے ہےیا اوپر اس شخص نے عرض کی :حضوریہ بیماری آپ میں نہیں مجھ میں ہے ۔پہلے کوئی آپ سا سمجھانے والا نہیں ملا ان شا ءاللہ میں آئندہ اپنی شلوار ٹخنوں سے اوپر ہی رکھوں گا ۔

مسئلہ:

مرد کا شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھنا سنت ہے


ہمىں اگر اصلاح کرنے کا انداز معلوم کرنا ہو کہ وہ کىسا ہونا چاہىے تو ہمىں ہمارے آخرى نبى تاجدار رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى حىاتِ طىبہ کا مطالعہ کرنا چاہىے، کىونکہ حضورپاک کى حىاتِ طىبہ تمام انسانوں کے لىے اىک عمدہ اور بہترىن نمونہ ہے جس طرح تاجدار رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنى حىاتِ طىبہ گزارى ہے اس کى مثال نہىں ملتى، آپ ہمارے لىے ہداىت کا سرچشمہ ہىں۔ حضورپاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنى امت کو ہر طرح کے نسب و اداب بتائے، اچھے اور برے کى تمىز سکھائى ، انداز گفتگو بتاىا، حسن اخلاق بتاىا اور جہاں تک بات ہے اصلاح کرنے کا انداز کىسا ہونا چاہىے ؟ ىہ بھى آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بتاىا اور اس کا عملى نمونہ بھى کرکے دکھاىا۔ حضور جانِ عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اگر کسى کى اصلاح کرتے تو ڈانٹ کر ىا سخت لہجے مىں نہىں کرتے۔حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم لوگوں کى سمجھ اور عقل کے مطابق ان کى اصلاح فرماتے آپ کا انداز اىسا تھا کہ بات دل کى گہرائىوں تک اتر جاتى ، جىسا کہ قرآن مجىد مىں ارشاد ہے:

وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا(۶۳)

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور انہیں سمجھا ؤ اور ان کے معاملہ میں اُن سے اثر کرنے والی بات کہو۔(پ۵، النساء:۶۳)

اسى طرح آپ اپنے اخلاص کے ساتھ اصلاح کى کوشش جارى رکھىں اور دوسروں کو بھی اصلاح کى دعوت دىتے رہیں۔یاد رہے ہمارا اصلاح کا انداز نرم ہونا چاہىے، ىہ نہىں کہ آپ کسى پر زور اور زبردستى کرىں، اگر کوئى شخص کوئى غلط کام کررہا ہے تو آپ اس کو سمجھائىں، اس شخص کو بہتر سمجھانے کا طرىقہ یہ ہے کہ آپ اس کى اکىلے مىں اصلاح کرىں اگر آپ سب کے سامنے اس کى اصلاح کرىں گے تو اس شخص کى دل آزارى ہوگى، کىونکہ سب کے سامنے اس کے غلط کام کا پول کھل جائے گا اور اگر کسى کو اس شخص کے غلط کام کے بارے مىں نہىں پتا ہوگا اسے بھى پتا چل جائے گا اور اس شخص کى خوب رسوائى ہوگى اور ہمىں کسى کى دل آزارى نہىں بلکہ اس کى اصلاح کرنى ہے، اب ضرورى نہىں ہے کہ ہر کسى کى اصلاح اکیلے مىں ہى کى جائے، اگر آپ اپنى کسى طالبہ کى اصلاح کرنا چاہتى ہىں تو آپ کلاس مىں اس کا نام لىے بغىر سب کو مخاطب کرتے ہوئے اصلاح کرىں اس سے اگر اىک سے زائد کسى اور طلبہ مىں کوئى برى عادت ہوگى تو اس کى اس طرح اصلاح ہوجائے گى۔

والدىن کو اگر اپنى اولاد کى اصلاح کرنى ہے تو وہ ڈاٹ ڈپٹ مار پىٹ سے کام نہ لىں کىونکہ اس سے وہ اور ضدى اور بدتمىز ہوجائے گا، آپ کو چاہىے کہ آپ اسے پىار سے سمجھائىں اگر وہ نماز نہىں پڑھتا تو آپ اس پىار سے سمجھائىں کہ نماز پڑھنے والا جنت مىں جائے گا اور نماز پڑھنے سے اللہ تعالىٰ کى خوشنودى حاصل ہوتى ہے اور اگر آپ کا بچہ چھوٹا ہے تو اس کو کسى چىز کى لالچ دىں کہ اگر اپ نے پانچوں وقت کى نماز پڑھى تو مىں آپ کو فلاں چىز دوں گا۔ 

ہمارى روزمرہ کى زندگى مىں کہىں اىسے مواقع آتے ہىں کہ ہمىں دوسرے کى اصلاح کرنے کى حاجت پڑتى ہے استاد اپنے شاگرد کى اصلاح کرتا ہے ، والدىن اپنے بچوں کى اصلاح کى طرف توجہ دىتے ہىں، افسر کو اپنے ماتحت کى اصلاح کرنے کى ضرورت پڑتى ہے،المختصر ہر کسى کو کسى کى اصلاح کرنے کے مواقع ملتے ہىں۔

اب سوال ىہ اٹھتا ہے کہ اصلاح کا کون سا درست انداز اختىار کىا جائے؟ اسلام ہمىں نرمى کا درس دىتا ہے، دنىاوى طور پر ہمىں کسى کى اصلاح کرنے کى حاجت پڑجائے ىا دینی طور پر ہمىشہ نرمى نرمى اور نرمى کو اخىتار کىجئے۔ امام زىن العابدىن رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بہت ہى پىارا واقعہ ہے کہ اىک شخص نے کسى کو کچھ پیسے دىئے اور کہا کہ جاؤ اور امام زىن العابدىن کو برا بھلا کہہ کر آؤ، وہ شخص جب آپ کى بارگاہ مىں مىں حاضر ہوا تو آپ کو بہت برا بھلا کہنا شروع کردىا اور جب اس کے سب الفاظ ختم ہوگئے تو حضرت زىن العابدىن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بڑى ہى نرمى اختىار کرتے ہوئے اس سے بات کى کہ سنو اگر جو تم نے کہىں اگر وہ باتىں مجھ مىں موجود ہىں تو مىں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ىہ برائىاں مجھ سے نکل جائىں، اور اگر ىہ باتىں جوتم نے کہىں سب غلط ہىں تو مىں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تجھے معاف کردے، اس شخص نے جب اپنى جلى کٹى باتوں کا جواب اتنى نرمى والے انداز سے سنا تواس کے دل کو چوٹ پہنچى اور اسکى آنکھوں سے آنسو جارى ہوگئے ۔

دىکھاآ پ نے کہ انہوں نے اپنے مخالف کے ساتھ کىسا نرمى والا انداز اختىار کىا۔سچ ہے کہ

ہے فلاں و کامرانى نرمى و آسانى مىں

ہر بنا کام بگڑ جاتا ہى نادانى مىں

آئىے! ترغىب کے لىے ملاحظہ کىجئے کہ حضر ت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہىں کہ مىں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى غلامى مىں دس ۱۰ سال رہا لىکن آپ نے کبھى مجھ پر سختى نہ فرمائى اور جب بھى مىرى اصلاح کرنى ہوتى نرمى اختىار کرتے، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے کہ نرمى جس چىز مىں ہوتى ہے اسے زىنت بخشتى ہے اور جس چىز سے نرمى اٹھالى جاتى ہے اسے بدنما کردىتى ہے۔

تو ہر کسى کى اصلاح کرتے ہوئے نرمى ہى اختىار کىجئے، ہر اصلاح کے کئى اور انداز بھى ہىں کہ جب آپ کوکوئی برا بھلا کہے تو خاموش ہوجانا چاہىے ىا پھر وہاں سے چلے جانا چاہىے کہ ىہ بہت موثر ہوتا ہے اور اصلاح کا باعث بنتا ہے۔ اللہ پاک نرمى کو بے حد پسند فرماتا ہے، اللہ پاک نے جب حضرت موسىٰ علیہ السَّلام کو اپنى قوم کى اصلاح کرنے کے لىے بھىجا تو نرمى کے ساتھ اصلاح کرنے کا حکم ارشاد فرماىا۔

اس سے معلوم ہوا کہ جب کسى کى اصلاح نىکى کى دعوت مىں پىش آجائے تو نرمى سے سمجھاىا جائے اگر سختى کرىں گے تو اس کى برائى پر اس کى اصلاح نہىں بلکہ اىک ضد پىدا ہوجائے گى، جو اس کے لىے نقصان کا باعث بنے گى، اپنى زندگى مىں نرمى لائىے۔


اصلاح کرنے کا مطلب ہے صحیح کرنا،درست کرنا۔یوں کہیے کہ کسی کو توجہ دلاتے ہوئے یہ کہنا کہ آپ اس معاملے میں غلطی پر ہیں، اسے درست کر لیں۔

یہ بات سو فیصد درست ہے کہ "بشر غلطی کا پتلا ہے یہ اکثر ہو ہی جاتی ہے"۔ آپ کا بھی مشاہدہ ہوگا کہ بارہا ہم سے غلطی ہو جاتی ہے مگر اس کی طرف ہماری توجہ نہیں ہوتی، بعض اوقات غلطی کا ادراک ہونے کے باوجودبھی ہم اپنی عزت کے چکر میں رجوع کرنے سے کتراتے اور اسے پسِ پشت ڈالتے رہتے ہیں یوں غلطیاں ہماری عادت کا حصہ بن جاتی ہیں اور پھر ہمیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا،لیکن اگر کوئی توجہ دلائے تو احساس بھی ہو جاتا ہے اور اس غلطی کو دور کرنے کا ذہن بھی بنتا ہے۔

معاملہ خواہ دینی ہو یا دنیوی،اصلاح کی حاجت ہر جگہ پیش آتی ہے۔اس عظیم کام کو سرانجام دینے کے لیے اللہ پاک نے امت کی اصلاح کے لیے انبیاے کرام علیہم السلام بھیجے،پھر علما کو انبیا کا وارث بنا کر یہ فریضہ ان کے سپرد کیا،یونہی ہمیں بھی خیر خواہی کرتے ہوئے ایک دوسرے کی اصلاح کرنی چاہیے،اس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے؛

چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے:وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) ترجمہ:اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔(سورۃ الذاریات آیت 55)

اصلاح کرنا انتہائی نازک اور اہم کام ہے،اصلاح کرنے کا انداز اگر اچھا ہو تو کسی کی نسلیں سنور سکتی ہیں، ورنہ نسلیں برباد بھی ہو سکتی ہیں۔ ہر جگہ اصلاح کرنا ضروری نہیں ہوتا،کسی کو گناہ کرتا دیکھا اگر غالب گمان ہو کہ منع کرنے سے باز آ جائے گا تو منع کرنا واجب،اگر یہ گمان ہو کہ گالیاں دے گا ، فساد پیدا ہوگا تو منع نہ کرنا افضل(ملخص صراط الجنان ج 5 ص 402)

اصلاح زبان سے بھی ہو سکتی ہے اور لکھ کر بھی،لکھ کر اصلاح کرنا زیادہ موثر ہے،پھر جیسی غلطی ویسا انداز۔

اصلاح کرنے کے لیے نیچے دیے گئی باتوں پر عمل کرنا موثر ثابت ہو گا:

(1)اللہ پا ک سے دعا کریں ، جیسے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کی اصلاح کے لیے دعا کی " رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ(۲۵)وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ(۲۶)وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ(۲۷)یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ (سورۃ طٰہ آیت 25,26,27,28)

ترجمہ:اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے ۔ اور میرے لیے میرا کام آسان کر۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ کہ وہ میری بات سمجھیں ۔

(2)جس کی اصلاح کرنی ہے اسے باور کرائیں کہ آپ اس کے خیر خواہ ہیں۔

(3) اس کے دل میں نرم گوشہ پیدا کریں۔

(4) مزاج کے مطابق بات کریں۔

(5)موقع کی مناسبت کا خیال کریں۔

(6)اصلاح کرتے ہوئے سامنے والے کی عزت مجروح نہ کریں۔

(7)حکمت عملی اور نرم انداز سے اصلاح کریں۔ اللہ پاک فرماتا ہے:اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ترجمہ:اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔(سورۃ النحل آیت 125

(8)خوبصورت انداز کیساتھ تنہائی میں اصلاح کریں کہ امام شافعی فرماتے ہیں: "جو آدمی اپنے بھائی کو پوشیدہ طور پر سمجھاتا ہے وہ اسے نصیحت کرتا اور زینت دیتا ہے اور جو اس کی لوگوں کے سامنے اصلاح کرتا ہے اسے ذلیل کرتا اور عیب دار بناتا ہے۔"(احیاء العلوم ج 2 ص 660 مکتبۃ المدینہ)

اگر ان باتو ں کا خلاف کریں گے جیسا کہ آج کل میڈیا وغیرہ کا سہارا لیا جاتا ہے اس سے سامنے والے کے دل میں نفرت اور ضد پیدا ہوگی نتیجے میں بجائے اصلاح کے بگاڑ پیدا ہوگا۔ جس کی اصلاح کی جائے اسے یہ کام کرنے چاہییں:

(1) اصلاح کرنے والے کو اپنا محسن سمجھے کہ وہ تو اس کی ذات سے بری صفات اور بری عادات دور کرنا چاہتا ہے۔

(2)اس کی بات کو توجہ سے سنے۔

(3)اس پر غور کرے اور اگر غلطی ہو تو تسلیم کرتے ہوئے اسے درست کرے۔

(4) اس سے نہ الجھے کہ تم بھی تو فلاں فلاں غلطیاں کرتے ہو۔

فائدے کے بات:

(5)اصلاح کرنے والے کا بہر صورت شکریہ ہی ادا کرنا چاہیے،بالفرض آج اگر اس کے درست بات کو غلط سمجھ کر اصلاح کرنے پر ہم اس کا شکریہ ادا کریں گے تو کل اگر ہم غلطی کریں گے تو وہ ہمیں ہماری غلطی بتائے گا، جس کا فائدہ بہرحال ہمیں ہی ہونا ہے،اس کے بر عکس اگر اس کی غلط، غلطی نکالنے پر ہم اس کو غلط ثابت کرنے لگیں اور سامنے سے دلائل دینا شروع کر دیں گے تو وہ خاموش تو ہو جائے گا مگر آئندہ ہماری غلطی پر بھی ہمیں مطلع نہیں کرے گا اور یوں نقصان ہمارا ہی ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں حق بات قبول کرنے کی توفیق دے اور دین و دنیا کی بھلائیاں نصیب فرمائے۔آمین


اصلاح کرنے والے کى خوبىاں :

دوسروں کى اصلاح کرنے والوں کو ان خوبىوں کا مالک ہونا چاہىے تب ہى بہتر طرىقے پر دوسروں کى اصلاح کرسکتا ہے، خوش اخلاقى، معاملہ فہمى، قدرتِ کلام، مسلمانوں کى خےر خواہى، سنجىدہ مزاجى، علمِ دىن سے واقف ہونا، باعمل ہونا۔(انفرادى کوشش کى 25 حکاىات )

اصلاح کرنے مىں خوش اخلاقى کابھى بہت بڑا کردار ہے کىونکہ جو انسان خو ش اخلاقى سے دوسروں سے پىش آتا ہے نرمى کا روىہ رکھتا ہے تو لوگ اس کے انداز سے متاثر ہوکر اس کى طرف راغب ہوتے ہىں، اور اس طرح وہ اس کى اصلاح کو جلد قبول کرلىں گے۔

حضرت عائشہ صدىقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے رواىت ہے بندہ اپنے حسن اخلاق کىو جہ سے رات کو عبادت کرنے والے اور دن کوروزہ رکھنے والے سے درجے کو پالىتا ہے ۔

اىک اور صحابى رواىت کرتے ہىں کہ نبى کرىم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرماىا: مىزانِ عمل مىں حسن اخلاق سے وزنى کوئى عمل نہىں۔

انسان کو نرمى اور خوش اخلاقى کو اپنانا چاہىے جو کسى کى اصلاح کرنا چاہتا ہے خوش اخلاقى کے بے شمار فوائد ہىں جن مىں سے ىہ کہ اگر کسى نے ہمارى بات نہ بھى مانى ہو تو وہ ہمارے اس حسن سلوک کو دىکھ کر مان لے گا۔

اصلاح کرنے والون کو کىسا ہونا چاہىے؟

اصلاح کرنے مىں پىروى کس کى کرنى چاہىے اور کس کے اخلاقِ کرىمہ کو اپناتے ہوئے اصلاح کرنى چاہىے تو اس بارے مىں مىرا رب کرىم ارشاد ہے کہ ”اور نبى کرىم کى زندگى مومنوں کے لىے بہترىن نمونہ ہے“۔

تو وہ نبى جس نے کفار کى اتنے مظالم برداشت کىے اس کى امت ہو کر ہم ان کى پىروى کىوں نہ کرىں، غلطى انسانوں سے ہوتى ہےا ور ہمىں ان کى اصلاح کرنے کا موقع ملتا ہے تو ہمىں چاہىے کہ ہم اچھے اخلاق کے ساتھ ان کى اصلاح کرىں ناکہ دوسرے لوگوں سے ان کا موازنہ کرنے لگ جائىں کہ تم سے تو فلاں بہتر ہے فلاں بہتر ہے کوئى بہتر ہو تو وہ اپنى جگہ ہوگا لىکن جس سے غلطى ہوگئى ہے اور اصلاح کرنى ہے تو اس پر توجہ دىں اس غلطى کے نقصانات کى طرف توجہ دلائىں، اصلاح کرنے کا طرىقہ درست رکھىں ناکہ دل آزارى کر بىٹھىں ۔

اصلاح کرنے کاموقع اگرہمىں مل ہى گىا ہے تو نبى کرىم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم والا انداز اختىار کرىں نہ کہ اگلے کو غلطى پر شرمندہ ہى کرتے رہىں نبى پاک کى ىہ حدىث مدِ نظر رکھىں کہ عام اولاد ِ آدم غلطى کرنا ان کى فطرت مىں ہے لىکن بہتر ىن وہ ہے جو غلطى سے فورا توبہ کرلے،جب ہم اس بات کو مدنظر رکھىں گےتو ہى ہم بہترىن طرىقے پر اصلاح کرسکتے ہىں۔ مثلا اگر ہم اچھے اخلاق اور نرمى والے انداز کے ساتھ اپنے دشمن کو قلم بھى دىں گے تووہ متاثر ہو کر قبول کرلے گا اور اگر اپنے دوست کو قىمتى چىز دىں مگر انداز اخلاق اچھا نہ ہو تو وہ کبھى نہ لے گا ىہى مثال ہے اصلاح کى بھى تو اس لىے ہم نے اگر اصلاح کرنى ہے تو اپنے اندر وہ تمام خوبىاں پىدا کرىں جو لوگوں کو متاثر کرىں تب لوگ ہمارى طرف راغب ہوں گے ہمارے پىرو مرشد کى زندگى بھى ىہ بات سمجھنے کے لىے بہترىن نمونے ہے کہ جب انہوں نے کسى کى اصلاح کرنى ہوتى ہے وہ پہلے خود اچھا عمل کرکے دکھاتے ہىں پھر ان کے چاہنے والے وہ عمل کرتے ہىں ہمارے مدنى ماحول مىں اصلاح کى بے شمار مدنى بہارىں مل سکتى ہىں مگر اىک مختصر انداز مىں پىش خدمت ہے،

اىک اسلامى بھائى کا بىان ہے کہ ىں اپنے بُرے دوستوں کى محبت مىں شب و روز گزار رہا تھا ہمارے راستوں مىں کھڑے ہو کر موبائل پر فحش چىزىں دىکھتے تھے اىک اسلامى بھائى جو دعوت اسلامى کے مدنى ماحول کے تھے روز ہمىں بہت ہى پىار بھرے انداز مىں مسجد جانے کى دعوت دىتے لىکن ہم انکار کر دىتے اور مذاق مستى اڑاتے رہتے وہ پھر بھى روزانہ حسنِ خلق سے اچھے انداز مىں ہمىں دعوت پىش کرتے، مىرے دل کى دنىا ىوں بدلى ىعنى مىرى اصلاح کا سبب ىوں ہوا کہ اىک دن مىں ان سے متاثر ہو کر ان کے ساتھ مسجد چلا گىا وہاں نماز پڑھى تو مىرے دل کى دنىا بدلنا شروع ہوچکى تھى، پھر بىان سنا اور زارو قطار رو رو کر گناہوں سے معافى مانگى اور دعوت اسلامى کے مدنى ماحول سے وابستہ ہوگىا اب مىں حلقہ نگران ہو۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلّ