انسانی زندگی
ضروریات،آسائشات پر مشتمل ہے اور یہ سب کچھ مفت حاصل نہیں ہوتا ان کے لیے رقم خرچ
کرنی پڑ تی ہے۔ معاشرے میں عموماً چار طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں: ایک وہ جو بے
حساب کماتے اور بے حساب خرچ کرتے ہیں، دوسرے وہ بے حساب کماتے اور حساب سے خرچ
کرتے ہیں، تیسرے وہ جو حساب سے کماتے اور حساب سے خرچ کرتے ہیں اور چوتھے وہ جو
حساب سے کماتے اور بے حساب خرچ کرتے ہیں اس طرح کے لوگ عموماً تنخواہ دار ہوتے ہیں
جو مالی طور پر پریشان رہتے ہیں جس کا اثر ان کی گھریلو زندگی پر پڑتا ہے اور پھر
لڑائی جھگڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
محدود
آمدنی اور گھریلو بجٹ کیوں ضروری ہے؟ ”آج کل ہاتھ تنگ ہے!“، ”گزارہ نہیں ہوتا“،
”پوری نہیں پڑتی“ جیسے جملے آپ نے سنے ہوں گے۔ لیکن بعض کی بنیادی ضروریات زندگی
ہی پوری نہیں ہوتی اور بعض ایسے ہیں جنہیں کمانا تو آتا ہے خرچ کرنا نہیں آتا۔
یاد رہے! خرچ
کرنے کے بعد پریشان ہونے سے بہتر ہے کہ ہم آمدنی اور خرچ میں توازن قائم کرنے کے
لیے گھریلو بجٹ بنا لیں اور محدود آمدنی میں گزار کریں تو کئی ٹینشنوں سے بچ جائیں
گے۔
گھریلو
بجٹ بنانے کی ہدایت: بجٹ بنانے سے پہلے چند امور کو مدنظر رکھئے:1 فضول
خرچی سے پرہیز کریں اور غیر ضروری اخراجات کو گھریلو بجٹ کا حصہ نہ بنائیں۔ 2جس
کام کے لیے گھریلو بجٹ میں جتنی رقم خاص کی گئی اس سے زیادہ خرچ نہ کی جائے۔ 3
گناہوں کے کاموں میں مثلاً سینیما ھال وغیرہ کی ٹکٹوں اور فلمیں، گانے باجے وغیرہ
سننے دیکھنے کے لیے، مہنگے ساؤنڈ سسٹم اور ایل سی ڈیز وغیرہ پر خرچ نہ کریں۔ 4 رقم
ایک شخص کے پاس جمع ہو اور وہی اخراجات کا تحریری حساب بھی رکھے، جہاں جہاں بچت
ممکن ہو کر لی جائے، جتنی بچت زیادہ اتنی پریشانی کم ہو گی۔
گھریلو
بجٹ بنانے کا طریقہ: اپنے ماہانہ گھریلو بجٹ کو 10 حصوں میں تقسیم کر
لیں (ہر کوئی اپنے رہن سہن کے مطابق اس میں کمی یا زیادتی کر سکتا ہے):
1راشن:
اس
میں آٹا، چینی، چائے کی پتی، دالیں، سبزیاں، پھل، گوشت، نمک، مرچ، مسالے، دودھ،
کوگنگ آئل، گھی اور چاول وغیرہ شامل ہیں۔
2
یوٹیلیٹی بلز :مثلاً
گیس، پانی، کیبل، بجلی، انٹر نیٹ اور موبائل کارڈ لوڈ کروانا وغیرہ۔
3علاج
:بیماری
کی صورت میں ڈاکٹر کی فیس اور دوائی کی قیمت وغیرہ۔
4
صفائی ستھرائی:اس
میں گھر، بدن، لباس اور برتنوں کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء مثلاً
صابن، سرف، شیمپو، فنائل، ٹوتھ پیسٹ، مسواک جیسی اشیاء شامل ہیں۔
5کرایہ
:جیسے
مکان کا کرایہ، دفتر یا کسی کے گھر جانے کے لیے بس یا ٹیکسی، رکشے کا کرایہ وغیرہ،
کمیٹی (یعنی بیسی) ڈالی ہو تو اس کی ادائیگی، قرض لیا ہو تواس کی ادائیگی، اگر
اپنی بائیک یاکار ہے تو اس کے پیٹرول اور سروس وغیرہ کا خرچہ۔
6
تعلیم :اسکول
کالج وغیرہ کی فیس، اسکول وین کی فیس، کتابوں، کاپیوں اور اسٹیشنری پر آنے والے
اخراجات اور بچوں کا جیب خرچ اور روزانہ کا اسکول لنچ۔
7گھریلو
سامان کی مرمت یا تبدیلی :جیسے فریج، واشنگ مشین، گیس کے چولہے
وغیرہ میں خرابی کی صورت میں مرمت کا خرچہ یا پرانا سامان استعمال کے قابل نہ ہونے
کی صورت میں نیا خریدنا۔
8
راہ خدا میں خرچ کرنا :کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، بھوکے غریب کو کھانا
کھلانا یا مسجد مدرسہ میں فنڈ دینا وغیرہ۔
9غیر
متوقع اخراجات :مثلاً
اچانک مہمان آگئے یا کسی شادی وغیرہ میں شرکت کرنا پڑی یا کوئی چیز گم ہو گئی،
موبائل یا بائیک وغیرہ چھن گئی یا چوری ہو گئی۔
10طویل
المدت خرچے :مستقبل
میں کوئی شے مثلاً فریج، واشنگ مشین، فرنیچر، بائیک یا زمین وغیرہ خریدنے کا ارادہ
ہو تو اخراجات کے بعد بچ جانے والی رقم محفوظ کر لینا۔
کس
پر خرچ کرنا ہے؟ اس
کے لیے مشورہ ہے کہ سب سے پہلے یہ حساب لگائیں کہ آپ اوپر بیان ہونے والی چیزوں پر
اپنے گھر میں کتنا خرچ کرتے ہیں اور کہاں کہاں کٹوتی (یعنی کم کرنے) کی گنجائش ہے؟
اسکے مطابق
اپنے ماہانہ خرچ کا حساب کر لیں پھر اپنے گھر کا بجٹ فرضی گھریلو بجٹ کے مطابق بنا
لیں، مثلاً راشن:40 ٪ صفائی ستھرائی:5٪ یوٹیلیٹی بلز:10٪ کرایہ:12٪ علاج:5٪ تعلیم:10٪
مرمت یا تبدیلی:3٪ راہ خدا میں خرچ:5٪ غیر متوقع اخراجات:5٪ طویل المدت خرچ :5٪
وغیرہ۔
اللہ پاک کی
رحمت سے امید ہے کہ دیئے گئے گھریلو بجٹ اور محدود آمدنی کی تجاویز کے مطابق گھریلو
اخراجات کا جائزہ لینے اور بجٹ بنانے میں فضول خرچی سے بچ جائیں گے اور بلاوجہ کسی
دوسرے کے آگے سوال بھی نہیں کرنا پڑے گا۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں آسانی اور عافیت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت محمد ریاض، جامعۃ
المدینہ جوہر ٹاؤن لاہور
آج کے دور میں
جب مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، محدود آمدنی والے افراد کے لیے گھریلو
اخراجات پورے کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں بچت کرنا نہ صرف ضروری
بلکہ عقلمندی کی علامت بھی ہے۔
محدود آمدنی
سے مراد وہ آمدنی ہے جو ایک خاص حد تک ہو، جیسے تنخواہ یا روزمرہ مزدوری، جس میں
اضافی آمدن کا کوئی خاص ذریعہ نہ ہو۔ اسی لیے گھر کا بجٹ بنانا بہت ضروری ہے تاکہ اخراجات آمدنی سے زیادہ نہ ہوں۔
ہمیں چاہیے
کہ ہم محدود آمدنی کے مطابق ہی خرچ کریں
اور فضول خرچ کرنے سے بچیں۔
جیسے کہ سورہ
فرقان میں ہے: وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ
اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ
قَوَامًا(۶۷) (پ
19، الفرقان: 67) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ حد سے
بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں۔
گھر
میں بچت کیسے کی جائے؟
1۔
بجٹ بنائیں: ہر
ماہ آمدنی اور خرچ کا ایک مکمل بجٹ بنائیں۔ غیر ضروری اخراجات کی نشاندہی کریں اور
انہیں کم کرنے کی کوشش کریں۔
2۔
ضروریات اور خواہشات میں فرق: ضروریات جیسے کھانا، بجلی، پانی، تعلیم
اور علاج کو ترجیح دیں۔ خواہشات جیسے نئے کپڑے، موبائل یا ہوٹلنگ پر کم خرچ کریں۔
3۔
گھریلو اشیاء کی بچت: بجلی، پانی اور گیس کے استعمال میں احتیاط کریں۔ ان
کے بل میں کمی آپ کے بجٹ میں فرق ڈال سکتی ہے۔
4۔
محفوظ سرمایہ کاری: تھوڑی بہت بچت کو کسی محفوظ جگہ پر رکھیں، جیسے
بینک یا کمیٹی، تاکہ مستقبل میں کسی ضرورت کے وقت کام آئے۔
گھریلوبجٹ
بنانے کا طریقہ: اپنے
ماہانہ گھریلوبجٹ کو کچھ حصّوں میں تقسیم کرلیجئے (ہر ایک اپنے رَہَن سَہن(Lifestyle)
کے مطابق اس میں کمی یا اضافہ بھی کرسکتا ہے)۔
گھریلو
بجٹ کا نمونہ: راشن:
42 فی صد۔ صفائی ستھرائی: 07فی صد۔ کرایہ:
13فی صد۔ علاج: 08فی صد۔ تعلیم: 10فی صد۔ مرمت
یا تبدیلی: 04فی صد۔ راہِ خدا میں خرچ: 08فی صد۔ غیر متوقع اخراجات: 03فی صد۔ طویلُ
المدت خرچ: 05فی صد۔
(اللہ کی راہ
میں لازمی صدقہ و خیرات کریں اس سے مال گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے)
اللہ پاک کی
رحمت سے اُمید ہے کہ گھریلو اخراجات کا اس طرح جائزہ لینے اور بجٹ بنانے سے فضول
خرچی سے بھی جان چھوٹے گی اور بِلاوجہ کسی کے آگے سوال بھی نہیں کرنا پڑے گا۔ اللہ
پاک ہمیں آسانی اور عافیت عطا فرمائے۔ آمین
محدود آمدنی
کے باوجود اگر سمجھداری سے خرچ کیا جائے اور بچت کی عادت اپنائی جائے تو زندگی
آسان ہو سکتی ہے۔ بچت نہ صرف مالی تحفظ دیتی ہے بلکہ آنے والے وقت کے لیے ایک
سہارا بھی بن سکتی ہے۔
ہماری زندگی
ضروریات سہولیات پر مشتمل ہے اور یہ سب چیزیں مفت میں نہیں ملتی ان کیلئے رقم خرچ
کرنی پڑتی ہیں اور جسکی وجہ سے ہمارا بجٹ
ہماری آمدنی سے بڑھ جاتا ہیں جسکی وجہ سے ہمیں ٹینشن جیسی دیگر مشکلات کا سامنا
کرنا پڑتا ہے ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی آمدنی کے مطابق اپنا بجٹ بنائیں تاکہ ہماری
کم آمدنی میں ہی ہماری تمام سہولیات بآسانی پوری ہوسکے۔
ہمارے مشکل
ترین کاموں میں سے ایک کام گھر کا بجٹ تیار کرنا ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک چاہتے
ہیں کہ مہینے کے آخر میں اس کے پاس کچھ
رقم بچ جائے مگر اسے ناکامی ہاتھ آتی ہیں کیونکہ مہنگائی اور ضرورتوں کے اضافے کی وجہ سے گھر کے اخراجات کو کنڑول
کرنا مشکل ہوتا چلا جارہا ہے۔
آج اس مضمون
میں ہم بچت اور بجٹ کا ایک فارمولا سیکھیں گے۔
جسے 20، 30، 50 کا فارمولا کہہ سکتے ہیں بجٹ سازی کا
یہ قاعدہ ہماری مدد کرتا ہے کہ ہماری
تنخواہ کے مطابق ہمارا بجٹ ہے یا نہیں اور یہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ہم
اپنے غیر ضروری اخراجات کو کیسے کم کرسکتے
ہیں۔
20، 30، 50 گھریلو
بجٹ بنانے کا نہایت آسان اور کفایتی طریقہ ہے۔
20،
30، 50 کا مطلب :
جب آپکو تنخواہ یا مہینے کا خرچ ملے تو سب سے پہلے 50فیصد
ان چیزوں کیلئے مختص کریں جو آپ کیلئے نہایت ضروری ہیں مثلا گھر کا کرایہ ، بجلی
کابل ، گیس کا بل ، گھر کا راشن سامان وغیرہ۔
30 فیصد
دیگرسہولیات پر خرچ کریں، اس میں تفریح ہوٹل میں کھانا پینا سفر خریداری جیسے اخراجات شامل ہیں۔
20 فیصد
قرض کی ادائیگی اور بچت کیلئے آپ مختص کرسکتے ہیں۔ اگر ہم اپنی آمدنی کے مطابق
اپنا بجٹ بنالیں تو ہم اپنے اخراجات کو کنڑول کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں مگر بجٹ
بناتے وقت ان احتیاطوں کو مد نظر رکھنا ہے۔
محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت عبدالستار
مدنیہ،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
محدود آمدنی
سے مراد وہ آمدنی ہے جو کسی فرد یا خاندان کو محدود مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔
یعنی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے ہیں مثلاً صرف ایک نوکری یا چھوٹا کاروبار اخراجات
کی نسبت آمدنی کم ہوتی ہے۔ ہر چیز خریدنے کی گنجائش نہیں ہوتی، اس لیے ترجیحات طے
کرنا پڑتی ہیں۔
گھر کا بجٹ
ایک منصوبہ ہوتا ہے جس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ دستیاب آمدنی کو مختلف اخراجات پر
کیسے خرچ کرنا ہے۔ بجٹ بنانے کا مقصد کا آمدنی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنا، غیر
ضروری خرچ سے بچنا، بچت کرنا اور مالی مشکلات سے بچنا ہے۔
محدود آمدنی
اور گھر کا بجٹ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر دور میں موجود رہا ہے اور اسلام نے اس
بارے میں واضح رہنمائی فراہم کی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سکھایا گیا
ہے کہ کس طرح محدود وسائل میں صبر قناعت شکرگزاری اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے
اپنی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
قرآن
و حدیث کی روشنی میں محدود آمدنی اور بجٹ کی رہنمائی
قناعت
پسندی: قناعت
کا مطلب ہے جو کچھ موجود ہے اس پر راضی رہنا اور فضول خواہشات سے بچنا۔ قرآن پاک
میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ
یَقْدِرُؕ- (پ
13، الرعد: 26) ترجمہ: اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے
لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔
حديث مبارکہ
میں ہے: بے شک وہی شخص غنی (مالدار) ہے جو دل کا غنی ہو، قناعت اختیار کرے۔ (بخاری،
4/233، حدیث: 6446)
اس حدیث
مبارکہ سے یہ سبق ہے قناعت دل کو سکون دیتی ہے اور محدود آمدنی میں بھی خوشی سے
زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔
اسراف
اور فضول خرچی سے بچنا: اسلام فضول خرچی کو سخت ناپسند کرتا ہے، خاص طور پر
جب وسائل محدود ہوں۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اور بے جا خرچ نہ کرو، بے شک فضول خرچ
لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔
بجٹ بناتے وقت
ہمیں اپنی آمدنی کے مطابق خرچ کرنا چاہیے اور غیر ضروری اخراجات سے بچنا چاہیے۔
شکرگزاری
کا جذبہ: اللہ
تعالیٰ شکر کرنے والوں کے رزق میں اضافہ فرماتا ہے۔ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد
فرماتا ہے: لَىٕنْ شَكَرْتُمْ
لَاَزِیْدَنَّكُمْ (پ 13، ابراہیم: 7) ترجمہ: اگر تم شکر کرو گے تو
میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔
اس سے یہ سبق ملتا
ہے کہ اگر ہم محدود آمدنی پر شکر ادا کریں تو اللہ تعالىٰ مزید رزق عطا فرماتا ہے۔
صبر
اور توکل: صبر
اور اللہ پر بھروسہ رکھنا مالی تنگی کے وقت بہت ضروری ہے۔ اللہ پاک قرآن پاک میں
ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ( پ 2، البقرۃ:
153) ترجمہ: بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
حديث مبارکہ
میں ہے: اگر تم اللہ پر ویسا توکل کرو جیسا کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ایسے رزق دے
گا جیسے پرندے کو دیتا ہے، وہ صبح خالی پیٹ نکلتا ہے اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتا
ہے۔ (ابن ماجہ، 4/452، حدیث:4164)
بچت
اور منصوبہ بندی: اسلامی
تعلیمات میں بچت اور رزق کی بہتر تقسیم کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔
حضرت یوسف
علیہ السلام نے مصر کے بادشاہ کو سات سالہ قحط کے دوران غلہ ذخیرہ کرنے کا منصوبہ
دیا، جو بہترین مالی منصوبہ بندی کی مثال ہے۔
محدود
آمدنی اور گھر کا بجٹ کے طریقے: آمدنی کا حساب لگائیں؛ سب سے پہلے اپنی
کل ماہانہ آمدنی کا اندازہ لگائیں: تنخواه، چھوٹا موٹا کاروبار، پنشن یا کوئی اور
آمدنی۔
اگر آپ کی
ماہانہ آمدنی 30,000 روپے ہے، تو یہی آپ کا بجٹ بنانے کی بنیاد ہوگا۔
ضروری اخراجات
کو پہچانیں ترجیحات طے کریں۔ آمدنی کم ہو تو سب سے پہلے بنیادی ضروریات پر خرچ
کریں، ضروری اخراجات یہ ہیں: کھانا، کرایہ یا قسط، بجلی گیس پانی کے بل، بچوں کی
فیس اور دوا علاج۔
ترجیحات کا
مطلب ہے پہلے ضروری چیزیں بعد میں خواہشات۔
بچت کو عادت
بنائیں، چاہے تھوڑی سی ہی ہو، کچھ رقم بچانے کی عادت ڈالیں۔ مثلاً روزانہ 50 روپے
بچا لیں تو مہینے میں 1500 روپے ہو سکتے ہیں۔ غیر ضروری خرچ سے بچیں، مہنگے کھانے
باہر سے نہ کھائیں، ضرورت سے زیادہ کپڑے، موبائل یا چیزیں نہ خریدیں، سیلز یا آفرز
میں صرف وہی چیز لیں جو واقعی ضروری ہو، گھر میں چیزیں ضائع نہ کریں، بچا ہوا
کھانا دوبارہ استعمال کریں، بجلی پانی کا احتیاط سے استعمال کریں، پرانی چیزوں کو
مرمت کر کے دوبارہ استعمال کریں، اضافی آمدنی کے ذرائع تلاش کریں۔
اللہ پاک سے
دعا کہ اللہ پاک ہمیں اپنی رضا پر راضی رہنے فضول خرچی سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت محمد اشرف، جامعۃ
المدینہ معراج کے سیالکوٹ
دینِ اسلام کی
بے شمار خصوصیات ہیں ان میں سے ایک خصوصیت میانہ روی (اعتدال) بھی ہے خرچ میں
میانہ روی کرنے کو کفایت شعاری کہا جاتا ہے دین اسلام ہمیں ہر چیز میں میانہ روی اختیار
کرنے کا درس دیتا ہے چاہے اس کا تعلق کمانے سے ہو یہاں کھانے سے یا لباس پہننے
نوافل ادا کرنے یا عبادات کرنے میں بھی میانہ روی کا درس دیتا ہے۔
فرمان مصطفی ﷺ
ہیں: جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے مالدار بنا دیتا ہے اور جو
فضول خرچی کرتا ہے اللہ پاک اس سے محتاج کر دیتا ہے۔ (مسند بزار،3/161، حدیث: 946)
اخراجات:
ہمیں
اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے نہ تو فضول خرچی میں ہمیں اپنی آمدنی خرچ کرنی
چاہیے اور نہ ہمیں جس جگہ پر خرچ کرنے کا حق ہے وہاں خرچ نہ کر کے کنجوسی کرنی
چاہیے، بلکہ ہمیں میانہ روی کو اپنانا چاہیے اور سادگی اور صبر سے کام لینا چاہیے۔
اللہ پاک سورہ
بنی اسرائیل کی آیت نمبر 29 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ
مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ
مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹) (پ 15، الاسراء: 29) ترجمہ: اور اپنا
ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ ہی اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دے، کہ بعد
میں ملامت زدہ اور حسرت زدہ بیٹھا رہ جائے۔
اس آیت کے تحت
مفتی قاسم صاحب اپنی تفسیر صراط الجنان میں لکھتے ہیں: خرچ میں اعتدال کو ملحوظ
رکھنے کا کہا گیا ہے اور اسے ایک مثال سے سمجھایا گیا ہے کہ نہ تو اپنا ہاتھ اس
طرح روک لو کہ خرچ ہی نہ کرو، اور نہ ہی اپنا ہاتھ اس طرح کھلا چھوڑ دو کہ اپنی
ضروریات کے لیے کچھ نہ بچے۔
نبی کریم ﷺ نے
کم آمدنی میں گھریلو اخراجات کے حوالے سے کئی ارشادات فرمائے ہیں ان میں سے ایک
مشہور حدیث یہ ہے: خرچ میں میانہ روی نصف زندگی ہے۔
لازمی
اخراجات:
جب آپ کو تنخواہ یا مہینے کا خرچ موصول ہو تو سب سے پہلے 50 فیصد ان چیزوں کے لیے
مختص کریں جو اپ کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ مثلا گھر کا کرایہ، بجلی کا بل،گیس کا
بل،وغیرہ۔ان کا شمار اہم کاموں میں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ گھر کا راشن آفس آنے جانے
کا کرایا بچوں کی فیس بھی گھر کے ضروری اخراجات میں شامل ہیں۔ان تمام اہم کاموں کا
حساب لگائیں اور دیکھیں کیا آپ کی آمدنی کا 50 فیصد ان ضروری اخراجات میں جا رہا
ہے یا نہیں۔اگر آپ کے لیے اخراجات 50 فیصد سے زیادہ ہیں تو اس بات کا جائزہ لیں کہ
کہاں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔
مثلاً اگر آپ کے
راشن میں بہت زیادہ مشروبات اور غیر ضروری چیزیں شامل ہیں تو آپ انہیں کم کر سکتی
ہیں اگر دفتر آنے جانے میں رکشا کا کرایا زیادہ ہے تو ہفتے میں تین سے چار بار بس
کا استعمال کریں۔اسی طرح چند تبدیلیاں کر کے اپنے لازمی اخراجات کو پورا کریں۔
آمدنی کے بجٹ
کے اصول کی ایک مثال: فرض کیجیے ٹیکس کے بعد آپ کی تنخواہ یا آمدنی بیس ہزار روپے
ہے تو آپ اگر 20، 30، 50 کا اصول استعمال کر کے خرچ کریں گے تو آپ کو
بیس ہزار کا 50 فیصد یعنی دس ہزار روپے ضروری اخراجات کے لیے مختص کرنے ہوں گے اس
کے علاوہ 30 فیصد یعنی 12 ہزار روپے اپنے ان اخراجات کے لیے مختص کرنے ہوں گے جو آپ
کے لیے بہت ضروری نہیں ہے مگر آپ کے لطف اور مزے کے لیے ضروری ہیں اور 30 فیصد
یعنی 8 ہزار قرض کی ادائیگی یا بچت کے لیے مختص کرنے ہوں گے خواتین اس اصول کو
یقینی بنا کر پریشانی سے نجات حاصل کر سکتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ
ہے کہ یعنی خوشحال وہی شخص رہتا ہے جسے کمانے کے ساتھ خرچ کرنے کا بھی طریقہ آتا
ہو کیونکہ کمانا تو سب کو آتا ہے لیکن خرچ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ (مراۃ
المناجیح، 6/634)
پیاری پیاری
اسلامی بہنو! ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اخراجات کا جائزہ لیں اور جو فضول یا زائد چیز
نظر آئے تو اسے اپنے اخراجات سے نکال دیں اور جو صحیح معلوم ہو اسے باقی رکھیں پھر
ہمیں اپنے سے اوپر والوں کو نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے پاس تو گاڑی ہے اور میرے
پاس موٹر سائیکل بھی نہیں اس کے پاس تو اپنا ذاتی گھر ہے اور میرے پاس تو ذاتی گھر
بھی نہیں ہمیں ایسی سوچ نہیں رکھنی بلکہ ہمیں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھ کر اللہ
کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ کتنے لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس کھانے کو عزت نہیں اور
نہ ہی پہننے کو کپڑے ہیں۔
ان شاءاللہ
ایسا کرنے سے میانہ روی کرنے،جو ہے اسی پر صبر کرنے کا جذبہ ملے گا اور ہمیں چاہیے
کہ ہم جس حال میں بھی ہیں اللہ پاک کا شکر ادا کریں۔
فرمان مصطفی ﷺ
ہے :جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے مالدار بنا دیتا ہے اور جو فضول
خرچی کرتا ہے اللہ پاک اسے محتاج کر دیتا ہے۔ (مسند بزار، 3/161، حدیث: 946)
محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت محمد عنصر،فیضان ام عطار
گلبہار سیالکوٹ
دنیا میں اللہ
پاک نے تمام انسانوں کو ایک جیسا رزق عطا نہیں فرمایا، بعض لوگ امیر ہیں، بعض لوگ
غریب ہیں اور بعض متوسط (یعنی درمیانے نہ امیر نہ غریب) ہیں اس میں اللہ پاک کی بے
شمار حکمتیں ہیں ۔ ان میں سے ایک حکمت اس حدیث قدسی میں بیان ہوئی ہے چنانچہ نبی
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں
جنکے ایمان کی بھلائی مالدار ہونے میں ہے اگر میں انہیں مالدار نہ کروں تو وہ کفر
میں مبتلا ہو جائیں گے اور میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ انکے ایمان کی بھلائی مالدار
نہ ہونے میں ہے اگر میں انہیں مالدار کروں تو وہ کفر میں مبتلا ہو جائیں گے۔ (ابن
عساکر، 7/96)
بعض متوسط اور
غریب لوگ آمدنی کم اور اخراجات کے زیادہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہو کر اللہ پاک کی
جناب میں نا مناسب اور بسا اوقات کفریہ الفاظ بھی بول دیتے ہیں اور انمول دولت ”ایمان“
سے محروم ہو جاتے ہیں تھوڑی آمدنی کی صورت میں اللہ پاک کی رضا میں راضی رہتے ہوئے
صبر و قناعت کے ساتھ زندگی گزارئیے اور اسکے فائدے حاصل کیجیے۔
تھوڑے
رزق پر راضی رہنے کا فائدہ: رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اللہ
پاک سے تھوڑے رزق پر راضی رہتا ہے اللہ پاک اسکے تھوڑے عمل سے راضی ہو جاتا ہے۔ (شعب
الایمان، 4/139، حدیث : 4585)
کم
آمدنی میں بھی پرسکون رہنے کے چند طریقے: (1) ماہانہ راشن، ٹرانسپورٹیشن (سفری
اخراجات) ،گیس،بجلی اگر کرائے کا گھر ہے تو اسکا کرایہ اور بچے ہیں تو انکے تعلیمی
اخراجات وغیرہ کا اپنی آمدنی کے مطابق ہی بجٹ بنائیے پھر اس پر قائم بھی رہئے۔ (2) گھر والوں کو چاہئے کہ گھر کے سربراہ
یا کمانے والے فرد پر زیادہ کمانے کا دباؤ ڈالنے کے بجائے خود کو کم خرچ پر آمادہ
کریں۔ آپکے پریشر ڈالنے کی وجہ سے زیادہ کمانے کے چکر میں کہیں وہ دھوکا دہی اور
کرپشن (بد عنوانی /حرام روزی کمانے) میں مبتلا نہ ہو جائے۔
اخراجات
کم کرنے کے چند طریقے : لوگ عموماً آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ
سے اس بات کی فکر میں رہتے ہیں کہ سیلری بڑھ جائے یا میری اِنکم کے ذرائع بڑھ
جائیں۔جبکہ اپنے اخراجات کم کرنے کا ذہن کسی کسی کو ہوتا ہے چنانچہ اخراجات کم
کرنے کے چند طریقے ملاحظہ فرمائیے: (1) تمام
فیملی ممبران آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کریں کہ گھر میں جو شخص اچھے انداز سے
خریداری کرنا جانتا ہو گھر کا راشن اور دیگر سامان لینے کی ذمہ داری اس کے حوالے
کی جائے (2) جو خریدنا ہو اسکی لسٹ پہلے ہی بنالی
جائے اور پھر خریداری کے لئے جایا جائے اور بہتر یہی ہے کہ ہول سیل والی قیمت پر
ہی اشیا خریدی جائیں (3) شادی بیاہ اور
دیگر اس طرح کے ایوینٹس پر غور کر لیا جائے کہ اگر پہلے سے موجود کپڑے اور جوتے
وغیرہ پروگرام میں پہننے کے قابل ہوں تو نئے لینے کے بجائے انہی سے کام چلایا جائے
(4) جو بچے تعلیم کے لئے جاتے ہیں انکا لنچ
باکس گھر میں ہی بنا کر دیا جائے اسی طرح جو افراد دفتر وغیرہ جاتے ہیں باہر سے
کھانا لینے کے بجائے گھر ہی سے لینا شروع کر دیں (5) بجلی
سے چلنے والے آلات کو بقدر ضرورت ہی استعمال کریں ضرورت پوری ہو جائے تو بند کر
دیں۔
رزق
میں برکت:
آمدنی چاہے کم ہو یا زیادہ جب تک اس میں برکت نہیں ہو گی بچت کی کوئی بھی تدبیر
کار گر نہیں ہو گی لہذا رزق میں برکت کے چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں: (1) کھانا کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا رزق میں برکت لاتا ہے (2) گھر میں داخل ہوتے ہی سلام اور سورہ
اخلاص پڑھنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے (3) جماعت
کے ساتھ نماز پڑھنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے (4) سچ
بولنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے (5) بسم
اللہ شریف پڑھ کر کھانا کھانے سے رزق میں برکت ہوتی ہے۔
میری تمام عاشقات
رسول سے فریاد ہے کہ ذکر کئے گئے مدنی پھولوں پر عمل اور سادہ طرز زندگی (Life
style) اپنا کر اپنے گھریلو اخراجات پر قابو
پائیے ان شاء اللہ دین و دنیا کی بے شمار
برکات نصیب ہوں گی۔
محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت محمد خوشی،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
الحمد للہ!
اسلام نے نہ صرف عبادات بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ گھر
کا نظام بھی انہی دنیاوی معاملات میں سے ایک ہے جس میں حکمت، منصوبہ بندی اور صبر
و قناعت کی اشد ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر اُس وقت جب آمدنی محدود ہو۔
محدود آمدنی
سے مراد ایسی آمدنی ہے جس سے صرف بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہوں، اور بچت یا اضافی
اخراجات کی گنجائش نہ ہو۔ ایسے حالات میں اگر ہم اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھ کر
بجٹ بنائیں تو کم وسائل میں بھی عزت اور سکون سے زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
اسلام میں اعتدال اور میانہ روی:
قرآن پاک میں
ارشاد فرمایا: اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ
كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ- (پ 15، الاسراء: 27) ترجمہ: بے شک فضول
خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔
یہ آیت ہمیں
سکھاتی ہے کہ آمدنی چاہے کم ہو یا زیادہ، فضول خرچی کسی حال میں درست نہیں۔ جو شخص
اپنی آمدنی سے بڑھ کر خرچ کرے، وہ خود کو معاشی مسائل میں مبتلا کر دیتا ہے۔
قناعت
اور شکرگزاری کی برکت: حدیث مبارکہ میں ہے: وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام
لایا اور جسے اتنا رزق ملا جو اس کی ضرورت کے لیے کافی ہو، اور اللہ نے اسے جو کچھ
دیا اس پر قناعت عطا فرمائی۔ (مسلم، ص 406، حدیث: 2426)
یہ حدیثِ پاک
واضح کرتی ہے کہ اصل کامیابی قناعت اور شکر میں ہے۔ جب بندہ قناعت اختیار کرتا ہے
تو کم آمدنی بھی اس کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔
منصوبہ
بندی کے ذریعے بجٹ بنانا: آمدنی خواہ کتنی ہی کم ہو، اگر اسے نیک
نیتی، منصوبہ بندی اور اعتدال سے خرچ کیا جائے تو گھر کا نظام بہتر انداز میں
چلایا جا سکتا ہے۔
اس لیے گھر کے
ہر فرد کو چاہیے کہ اپنی ضروریات اور خواہشات کے درمیان فرق سمجھے۔ آمدنی آنے کے
بعد فوری طور پر بجٹ بنائے، ضروریات جیسے کہ کھانا، رہائش، تعلیم، علاج وغیرہ کو
ترجیح دے اور باقی خرچوں کو حالات کے مطابق ترتیب دے۔
صدقہ
و خیرات کے ذریعے برکت: اگرچہ آمدنی کم ہو، لیکن اللہ کی راہ میں دینا برکت
کا ذریعہ بنتا ہے۔ فرمانِ مصطفی ﷺ ہے: صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا۔ (مسلم، ص
1071، حدیث: 6592)
یہی وجہ ہے کہ
محدود آمدنی والے لوگ بھی اگر صدقہ جاری رکھیں تو ان کے مال میں برکت ہوتی ہے۔
محدود آمدنی
کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ایک امتحان ہے۔ اگر مسلمان قناعت، شکر، منصوبہ بندی اور
فضول خرچی سے اجتناب کو اپنا شعار بنا لے تو وہ کم آمدنی میں بھی باعزت اور خوشحال
زندگی گزار سکتا ہے
ترجمہ: اے
اللہ! مجھے اپنے حلال سے کفایت عطا فرما اپنے حرام سے، اور مجھے اپنے فضل سے سب کے
سوا غنی فرما۔
محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت فضل الہی،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اللہ
تعالیٰ ہر انسان کو مختلف ذرائع سے آزماتا ہے۔ کوئی زیادہ مالدار ہے تو کوئی کم مالدار ہوتا ہے اور محدود آمدنی کے
ذریعے اپنی زندگی گزار لیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ہمیں ایسی ہدایات دی گئی ہیں جو محدود آمدنی والے افراد کو صرف صبر،
شکر کرنا سکھاتی ہیں ۔
قرآن
کی روشنی میں:
وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ
مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ
مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹) (پ 15، الاسراء: 29) ترجمہ: اور اپنا ہاتھ
اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ ہی اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دے، کہ بعد میں
ملامت زدہ اور حسرت زدہ بیٹھا رہ جائے۔
اس آیت سے
واضح ہوتا ہے کہ فضول خرچی اور بے جا کنجوسی دونوں قابلِ مذمت ہیں۔ اسلام اعتدال
اور توازن کا دین ہے اور گھر کا بجٹ بناتے وقت اسی توازن کا خیال رکھنا چاہیے۔
احادیثِ
مبارکہ:
نیز فرمایا: عقلمند
وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور آخرت کے لیے عمل کرے۔ (ترمذی، 4/207، حدیث:
2467)
یہ احادیث
ہمیں سکھاتی ہیں کہ آمدنی خواہ کم ہو، اگر انسان عقل مندی اور دین کی روشنی میں
خرچ کرے تو نہ صرف دنیا میں عزت سے جی سکتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیاب ہو سکتا
ہے۔
محدود آمدنی
کا مطلب ہے کہ انسان کی ضروریات اس کی آمدنی سے زیادہ نہ ہوں۔ اس کے لیے سب سے
پہلے انسان کو قناعت کی صفت اپنانا ہوگی۔ قناعت کا مطلب ہے کہ جو کچھ اللہ نے دیا
ہے، اس پر دل سے راضی رہنا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ شخص کامیاب ہے جو اسلام لایا، جسے
بقدرِ کفایت رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے اپنے دیے ہوئے پر قناعت عطا فرمائی۔ (مسلم،
ص 406، حدیث: 2426)
گھر
کے بجٹ کی ضرورت: محدود
آمدنی والے افراد اگر بغیر منصوبہ بندی کے خرچ کریں تو بہت جلد تنگی میں مبتلا ہو
جاتے ہیں۔ اس لیے اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم ترتیب سے خرچ کریں، فضول خرچی سے
بچیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کو نہ بھولیں۔
بجٹ
سازی کے اسلامی اصول:
آمدنی کا
جائزہ لیں کتنی آمدنی ہے اور وہ کہاں کہاں خرچ ہو رہی ہے۔ ضروریات و ترجیحات طے
کریں خو راک، لباس، تعلیم، علاج اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کو پہلے رکھیں۔ زکوٰۃ
اور صدقہ نہ بھولیے خواہ تھوڑا ہی ہو، اللہ کی راہ میں دینا باعثِ برکت ہے۔
اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا
اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ- (پ 15،
الاسراء: 27) ترجمہ: بے شک فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔
ادھار
سے پرہیز کریں: قرض
صرف ضرورت کے وقت اور سوچ سمجھ کر لینا چاہیے تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو۔
منظم خرچ سے
گھر میں جھگڑے کم ہوتے ہیں۔
برکت شکر
گزاری اور صدقہ کرنے سے اللہ آمدنی میں برکت دیتا ہے۔
عزت نفس کی
حفاظت کفایت شعاری سے انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچتا ہے۔
بے چینی و
پریشانی بے ترتیب خرچ مالی دباؤ پیدا کرتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں
اپنے دیئے ہوئے مال کو اچھے طریقے سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت فضل الحق، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
دورِ حاضر میں
دیکھا جائے تو غالباً یوں کہا جا سکتا ہے مسلمانوں کی اکثریت مہنگائی کی زد میں ہے
غریب طبقہ پریشان اور مایوسی کا شکار ہے کیونکہ آمدنی محدود ہوتی ہے لیکن اخراجات
زیادہ ہوتے ہیں یوں بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ گھر کے گھر برباد ہو رہے ہوتے ہیں
کسی کی زوجہ شوہر کو کم آمدنی پر ستاتی ، طعنے دیتی ، اور زیادہ پیسوں کا مطالبہ کرتی ہے ، تو کسی کے
بچے اپنی فرمائشیں پوری نہ ہونے پر والد کو ستاتے اور بے چین رکھتے ہیں یوں مایوسی
کے سبب بعض اوقات خود کشی کرنے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں اس سلسلے میں الحمدلله
دینِ اسلام کفایت شعاری کا درس دیتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔
مشہور کہاوت
ہے ’’ضرورت‘‘ تو فقیر کی بھی پوری ہوجاتی ہے لیکن ’’خواہش‘‘بادشاہ کی بھی پوری
نہیں ہو پاتی ۔
امامِ اعظم
ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شہزادے کو نصیحت فرمائی : اپنے پاس موجود مال میں
حُسنِ تدبیر (یعنی کفایت شِعاری) سے کام لینا اور لوگوں سے بے نیاز ہوجانا ۔ (1)
کفایت شعاری
خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین ذریعہ ، اور فضول خرچی بربادی کا پیشِ خیمہ ہے ،
دینِ اسلام ہمیں دین و دنیا کے تمام معاملات میں بہترین انداز کی طرف گامزن کرتا
ہے ، دینِ اسلام ہمیں اخراجات میں کفایت شعاری کا درس دیتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی
کی اُلجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
پیارے آقا ﷺ
نے فرمایا : خرچ میں مِیانہ رَوی آدھی زندگی ہے۔ (2)
مفتی احمد یار
خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : خوش حالی کا دار و مدار
دو چیزوں پر ہے: (1) کمانا (2) خرچ کرنا ۔
مگر اِن دونوں
میں ”خرچ کرنا“ بہت ہی کمال ہے ، کمانا سب جانتے ہیں ، خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا
ہے ، جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آگیا وہ ان شاء الله ہمیشہ خوش رہے گا۔ (3)
کفایت شعاری
سے کام لینا اخراجات میں میانہ روی ہے ، انسان کو چاہئے کہ مال و دولت کو ضرورت کے
مطابق خرچ کرے ، کیونکہ اخراجات میں میانہ روی ، اِسراف اور بخل کے درمیان کی راہ
ہے ، جیسا کہ آقا ﷺ نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرنے والا کبھی مفلس نہیں ہوتا۔
(4)
دیکھا جائے تو
گاڑی ہمیشہ دو پہیوں سے چلتی ہے لہٰذا مرد و عورت دونوں کو میانہ روی اختیار کرنی
چاہئے کہ اگر شوہر کی آمدنی کم ہو تو عورت کو صبر کرنا چاہئے اپنے شوہر کی ہمت
بندھانی چاہئے اسکی ڈھال بننا چاہئے نہ کہ طعنے دے ذلیل کرنا چاہئے ایسی عورتیں
دنیا میں بھی پچھتاتی ہیں اور آخرت بھی خراب کرتی ، اسی طرح شوہر کو بھی چاہئے
اپنی طرف سے کمی نہ کرے ، بعض اوقات عورت حق پر ہوتی مرد ہی سست ہوتا ہے لہٰذا مرد
کو بھی چاہئے حلال کما کر اپنے بیوی بچوں کی کفالت کر کے ثواب کا حق دار بنے۔
حوالہ
جات:
(1) امام اعظم
کی وصیتیں، ص 32
(2) معجم
الاوسط ، 5 / 108 ، حدیث : 6744
(3) مراٰۃ
المناجیح ، 6 / 634
(4) مسند احمد
، 3 / 157 ، حدیث : 4269
موضوع کا نام
پڑھ کر آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آج جو موضوع
ہے اس کی اکثر ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ محدود، معین، کم ، جس سے قیمتی آسائشات ہم نہ
خرید سکے اس آمدنی کا بجٹ کیا ہونا چاہیے؟اب اگر میں آپکو کوئی پلان بتا دوں کہ
اتنے پیسے رکھ لیجئے اتنے پیسے خرچ کر لیں اور آپ کچھ دن بعد فکر مند ہوں گے کہ
کیا کریں خرچے پورے نہیں ہو رہے سارے ہی لگ رہے ہمارے پاس پیسے بچ نہیں رہے کیا
کریں؟ کیونکہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ منصوبہ (plan)
کیا بنانا ہے جس سے فائدہ ہو اس لئے آپ کو خوداپنا پلان بنانا ہوگا میں آپکو چند
باتیں(Tips)
بتاؤں گی۔ سب سے پہلا کام جو آپ نے کرنا ہے وہ ہے اپنے منصوبے (plan)
کو سر پے سوار نہیں کرنا کہ میں کیا کروں میں نے تو یہاں لگانے تھے یہ یہاں لگ
گئے۔
دوسرا کام:
پہچانیے کہ
1۔ آپ کی
ضرورت کیا ہے؟ جیسے کپڑے کھانا گھر۔ اگر آپ ایک لڑکی ہیں اور آپکے ابو یا شوہر ہیں
تو یہ چیز ان پر لازم ہے کہ وہ کیسے آپکو کھلائیں گے ضرورت کے کپڑے لے کر دیں گے
آپ پر نہیں۔ اللہ پاک نے ان پر یہ ذمہ داری لگائی ہے۔ دوسروں کی ذمہ داری کا بوجھ
نہ اٹھائیں۔ ان سے سوال کریں کہ یہ میری ضرورت ہے۔
2۔ آپکو آسانی
کیلئے کیا چاہیے؟جیسے زیادہ کپڑے،زیادہ جوتے، زیادہ عبایا وغیرہا۔ اگر آپکے ابو یا
شوہر نہیں دیتے تو یہ آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔
3۔ آپکی
خواہشات (اچھی نیت والی جائز خواہشات) جیسے مہنگے کپڑے، مہنگی گاڑی، مہنگا گھر
وغیرہا۔
تیسرا کام:
اللہ کی راہ میں دیں اور بہت زیادہ دیں اتنا جس سے آپکا دل تنگ نہ ہو۔ جب آپ مال
کو جانے دیتے ہیں تو یہ آپکے پاس آتا ہی رہتا ہے۔ جب آپ اسے روک لیں تو اس میں سے
برکت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ کسی برتن میں پڑا پانی خراب ہو جاتا ہے اگر اس پانی کو
ہم خرچ نہیں کریں گے صرف رکھ دیں گے یا پھر اچھی جگہ خرچ نہیں کریں گے تو وہ زیادہ
اور اہم فائدہ نہیں دے گا۔ پانی کو اگر کسی اچھے پودے کی آبیاری کیلئے استعمال
کریں گے تو وہ پودا آپکو فائدہ دے گا اور اگر اس پانی کو محض برتن دھونے کیلئے
استعمال کریں گے تو اتنا فائدہ نہیں دے گا۔
چوتھا کام: جب
بازار جائیں تو گھر سے سامان لکھ کر لے کر جائیں کہ کیا کیا چاہیے اور جو چیز آپکو
نئی لگے اسے نا خریدیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ آپکو اس چیز کا اسی لئے نہیں معلوم
کہ وہ آپکی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے سوچیں کہ یہ اس قابل ہے کہ
اتنے گھنٹے یا دنوں کی کمائی اس پر خرچ کی جائے جیسے کوئی دن کا 3 ہزار کماتا ہے
اور 3 گھنٹے کام کر کے کماتا ہے۔ تو کیا 10 ہزار والا سوٹ اس قابل ہے کہ آپ اپنے
یا اپنے کفیل کے 10 گھنٹے کی کمائی سے یہ خریدیں؟ ایک چیز جو ہم میں ہے وہ ہے
چیزوں کو زیادہ مقدار میں خریدنا (راشن وغیرہا کی بات الگ ہے) جیسے اب کوئی بازار گیا
اور ایک چھری 50 کی تھی وہ 10 لے آیا کہ بعد میں کام آئے گی۔ اب ضرورت تو صرف 2 کی
تھی مگر یہ باقی آٹھ بعد کیلئے رکھ دی یہ فائدہ مند نہیں ہے۔ 400 روپے آپ بچا سکتے
تھے یا کسی اور اہم چیز میں خرچ کر سکتے تھے۔
پانچواں کام:
اگر خرچے بڑھ رہے ہیں تو اپنے کمانے کے وسائل زیادہ بنائیں۔آج کے دور میں ایک کام
سے گھر مشکل سے چلتے ہیں۔ مگر وہ وسائل اپنائے جن کو آپ کر سکتے ہو جن کے آپ اہل
ہو۔معتدل انداز میں خرچ کریں۔
پیسوں کو ہاتھ
میں روک کر نہ رکھیں۔ اگر اللہ پاک نے دیا ہے تو اس کی راہ میں خرچ کریں اچھی نیت
کیساتھ اس کی نعمت کا اظہار بھی کریں اور اگر آپ کے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں مطلب
آپ اس کے اہل نہیں تھے ابھی جب اہل ہوں گے مال بھی مل جائے گا۔ کوشش کرتے رہیےیقین
کیساتھ وظائف پڑھیے دعا مانگئے۔
وظیفہ:
کاغذ
پر 35 مرتبہ تسمیہ(بسم اللہ) لکھ کر گھر میں لٹکا دیجئے، رزق حلال میں خوب برکت
ہوگی۔ ان شاء اللہ
یا رزّاق ہمیں
اپنے خزانوں میں سے عطا فرما۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
نیکی کے کاموں کے لئے قربانی کی کھالیں دعوتِ اسلامی
کو دیں ، امیر اہلسنت کی اپیل
07ذو
الحجۃ الحرام 1447ھ بمطابق 23 مئی 2026ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں
پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی عاشقانِ رسول نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل
شرکت کی۔
مذاکرہ
کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے
ہوا جس کے بعد عاشقانِ رسول کے سوالات شروع ہوئے۔ اس دوران شیخِ طریقت، امیرِ
اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر
قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم و حکمت سے بھرپور جوابات ارشاد فرمائے اور
عاشقانِ رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت و رہنمائی کی۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ
کیجئے:
سوال: قربانی کی کھالیں جمع کرنے اورکروانے کے بارے میں امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
مدنی پھول عطافرمائے ۔
جواب:تمام عاشقان رسول ثواب کی نیت سے اپنے ہاں ہونے والی قربانی کی کھالیں دعوتِ اسلامی کو دیں ،دعوتِ اسلامی بہت سے دینی کام کرتی ہے ،اس میں آپ کا بھی
حصہ شامل ہوجائے گا۔اللہ پاک کی رضا کے لیے کھالیں جمع بھی کرنی ہیں۔عموماً لوگ آکر
کھالیں جمع نہیں کرواتے، جاجاکر جمع کرنی ہوں گی ،آپ عاشقانِ رسول سے ملاقات کریں اوران کی قربانی کی کھالیں بک کریں ۔خود بھی نیت کریں کہ جب تک
زندگی ہے،دعوت اسلامی کے لیے کھالیں جمع کروں گا اوردینے والے بھی نیت کرلیں کہ
زندگی بھر اپنے قربانی کےجانورکی کھال دعوتِ اسلامی کودُوں گا،اس نیت کا بھی ثواب
ملے گا۔ان شاء اللہ الکریم
عام
طورپرکھالیں جمع کرنے والوں کے کپڑے بھی ناپاک ہوجاتے ہیں ،پاک کپڑوں کا جوڑاشاپر میں ساتھ رکھیں ،کھالیں جمع کرنے کےدوران بھی پاک
کپڑے پہن کر باجماعت
نمازاداکریں ،کوئی بھی نمازقضا نہیں ہونی
چاہئے،چاہے کیسی ہی مصروفیت ہو ۔
سوال: قربانی کی کھالیں اورقربانی کاگوشت ضائع نہ ہو، اس
کے لیے کیا احتیاط کریں؟
جواب: آج کل گرمی ہے ،اس لیے قربانی کی کھالوں کو پھیلاکرالگ الگ رکھیں،کھال کو
فوراً نمک لگادیں۔قربانی کا گوشت برف میں
رکھیں ،اس کے لیے بڑے برتن کا استعمال کریں،گوشت کے چاروں طرف برف رکھ دیں اورگوشت
کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں ۔چھوٹے پیکٹ بنا کرفریزرمیں رکھیں ۔گوشت کوہمیشہ کے لیے
محفوظ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ
پاک کی رِضا کے لیے عاشقان ِرسول میں تقسیم کردیں ،یہ نیکی ہے اورنیکی ہمیشہ کے
لیے باقی رہتی ہے ۔جو بَٹ گیا(یعنی غریبوں میں
تقسیم ہوگیا) وہ
بچ گیا جو کھالیا وہ فنا ہوگیا۔
سوال: بچےبکرے
کو گھُماتے ہوئے کیا احتیاط کریں ؟
جواب:اس کی دُم اورکان نہ کھینچیں ،رسی بھی زورسے نہ کھینچیں کہ جس سے تکلیف ہواوریہ آپ کو بھی تکلیف نہ دے
۔
سوال: بڑی
عمروالوں کو کون سے شوز (Shoes)پہننے
چاہئیں؟
جواب: میڈیکیٹڈ شوز(Medicated
Shoes) استعمال کریں،ان میں پھسلنے کے چانس کم ہوتے ہیں اورچلنے میں بھی آسانی ہوتی ہے ۔
سوال: سوداخریدتے ہوئے بھاؤکم کروانا کیسا ؟
جواب: یہ سنت ہے ،کم کروانے والا بہت کم قیمت بتائے تو دوکاندارکو ناراض نہیں ہونا چاہئے ۔کم زیادہ کروانے
میں دوکانداراورخریدارکو جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ۔
سوال: قربانی کے
جانورکے گوشت کے کتنے حصے
کرنےچاہئیں؟
جواب: قربانی کرنے والا تمام گوشت کا مالک ہے ،اس کے لیے اس کے3 حصے کرنا مستحب ہے ،ایک اپنے لیے ،ایک فقراء(غریبوں) کے لیےاور ایک رشتے داروں کے لیے ۔اگرکوئی ساراگوشت اپنے پاس ہی رکھ
لے توبھی جائزہے،اُسے بُرا نہیں کہہ سکتے بلکہ اسے بُراکہنا بُراہے ۔
سوال: جانورسرکشی نہ کرے ،اس کے لیے کوئی وظیفہ
بتادیں ؟
جواب: نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے
غلاموں، جانوروں اور بچوں میں سے کسی کا اخلاق بِگڑ جائے (یعنی وہ سرکش و نافرمان ہو جائے)، تو اس کے کان میں (اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ
اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ
یُرْجَعُوْنَ) پڑھو۔
(المعجم الاوسط، جلد 1، صفحہ 27،
رقم الحدیث: 64، الدعوات الکبیر للبیہقی، جلد 2، صفحہ 264، رقم الحدیث: 615)
سوال: جانورکو
ذَبح کرتے وقت کیا پڑھنا ہوتاہے؟
جواب: اللہ
پاک کا نام لیا جائے ،بِسْمِ اللّٰهِ
اَللّٰهُ اَکْبَرپڑھنامُستحب ہے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ’’ فضول
باتوں سے بچنے کی فضیلت ‘‘ پڑھنے
یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یا ربَّ المصطفٰے! جو کوئی 18 صفحات کارسالہ”فضول باتوں سے بچنے کی
فضیلت“ پڑھ یا سُن لے، اُسے فضولیات سے بچا، نیک بنا اور بار بار حج و دیدارِ
مدینہ کا شرف عطا فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کی دینی و دنیاوی ہر معاملے میں احسن
انداز میں راہنمائی کرتا ہے اور جو ان تعلیمات پر عمل کرتا ہے وہ دنیاوی و اخروی
زندگی میں سرخرو ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری زندگی کا ایک پہلو خانگی و عائلی
معاملات میں میانہ روی اختیار کرنا بھی ہے اگر ان میں اسراف و فضولیات سے نہ بچا
جائے تو ایک پرسکون زندگی محض خواب ہی لگتی ہے۔
اللہ رب العزت
نے اپنے کلامِ عظیم میں ارشاد فرمایا: وَ لَا تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ
الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۴۱) (پ
8، الانعام:141) ترجمہ کنز الایمان: اور بےجا نہ خرچو بےشک بے جا خرچنے والے اسے
پسند نہیں۔
اس آیت مبارکہ
کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اسراف سے متعلق مختلف اقوال ہیں: حضرت سفیان
ثوری کا قول ہے کہ اللہ کی اطاعت کے سوا اور کام میں جو مال خرچ کیا جائے وہ قلیل
بھی ہو تو اسراف ہے۔ امام زہری کا قول ہے کہ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ معصیت میں خرچ
نہ کرو۔ امام مجاہد نے کہا کہ اللہ کے حق میں کوتاہی کرنا اسراف ہے۔ بروز محشر مال
کے متعلق سوال ہوگا اگرچہ کم ہو یا زیادہ چنانچہ مدینے والے آقا ﷺ کا ارشادِ پاک
ہے: قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتی کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں
سوال کیا جائے گا ( جن میں سے ایک) اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور
کہاں خرچ کیا۔ (ترمذی، 4/188، حدیث: 2424)
مندرجہ بالا
باتوں سے یہ واضح ہوا کہ بلا شبہ ہمارا پیارا دین اسلام ہمیں میانہ روی ، صبر و
شکر اور قناعت کا درس دیتا ہے اگر دنیاوی معاملات میں زیادہ ملوث ہوں تو اخراجات
خود بخود بڑھ جاتے ہیں چاہے آمدنی لاکھوں میں ہو یا چاہے کمانے والے ایک سے زائد
ہی کیوں نہ ہوں فضول خرچی کی عادت سے محدود آمدنی میں اچھا گزر بسر کرنا انتہائی
مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہم اپنی ضروریات کے مطابق گھر کا بجٹ بنائیں اور اس
پر سختی سے عمل بھی کریں تو نہ صرف ایک خوشگوار زندگی کا وجود عمل میں آ سکتا ہے بلکہ
ماہانہ کچھ نہ کچھ بچت بھی ممکن ہے یہاں اس حوالے سے چند نکات پیش خدمت ہیں:
آمدنی
اور اخراجات کا توازن: اسلام اسراف اور فضول خرچی سے سختی سے منع کرتا ہے۔
جیسا اوپر آیت مبارکہ ذکر کی گئی اس لیے آمدنی کے مطابق ضروری اور جائز اخراجات کو
ترجیح دیں، غیر ضروری چیزیں خریدنے سے پرہیز کریں۔
بجٹ
کی ترتیب: ہر
مہینے کی آمدنی اور متوقع اخراجات کا باقاعدہ حساب رکھیں۔ بجٹ بناتے وقت راشن،
بلز، تعلیم، علاج، صفائی، مرمت اور صدقہ کے لیے مخصوص رقم مختص کریں گھر کے افراد
کی مشاورت سے اخراجات پر نظر رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
بچت
اور مستقبل کی منصوبہ بندی: اسلام منصوبہ بندی اور بچت کی ہدایت
دیتا ہے تاکہ ناگہانی اخراجات یا مشکل وقت میں پریشانی نہ ہو۔ کم آمدنی میں بچت
کرنا مشکل ضرور ہے، لیکن اگر ضروری اخراجات کو ترجیح دیں اور غیر ضروری اخراجات کم
کرلیں تو بچت ممکن ہے۔
آمدنی
میں برکت کے ذرائع: اسلامی تعلیمات کے مطابق رزق میں برکت کے لئے کھانے
سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا، گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا، سچ بولنا، بسم
اللہ پڑھ کر کھانا اور باجماعت نماز پڑھنا رزق میں برکت لاتا ہے۔
راہِ
خدا میں خرچ کرنا: اسلام میں صدقہ اور خیرات کو بڑا اہم مقام حاصل ہے۔
محدود آمدنی کے باوجود کچھ رقم اللہ کی راہ میں خرچ کریں، کیونکہ صدقہ برکت اور
امن کا ذریعہ بنتا ہے صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے بڑی موت سے بچاتا ہے۔
اصولِ
کفایت شعاری: آمدنی
کم ہو تو مہنگے علاقوں یا غیر ضروری چیزوں سے پرہیز کی جائے، سستے علاقے میں گھر
لیا جائے، سادگی سے زندگی گزاری جائے اور اخراجات میں توازن رکھا جائے۔
الغرض اسلامی
تعلیمات کے مطابق بجٹ بنا کر، اخراجات میں میانہ روی اپنا کر، راہِ خدا میں خرچ کر
کے اور رزق میں برکت کے اصولوں پر عمل کر کے محدود آمدنی میں بھی سکون اور خوش
حالی کے ساتھ زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔
Dawateislami