‏ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کو اعلیٰ اخلاقی اقدار اپنانے کا درس دیتا ہے۔ ان اقدار میں ”امانت داری“ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے برعکس، ”خیانت“ ایک ایسا گھناؤنا عمل اور اخلاقی برائی ہے جس سے ‏معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔‏ قراٰن مجید میں خیانت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ اللہ پاک نے قراٰنِ کریم کی متعدد آیات میں اہلِ ایمان کو خیانت سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ برائی ایمان کی کمزوری ‏ اور منافقت کی جڑ ہے۔ خیانت کی مذمت کے متعلق 4 آیاتِ قراٰنی پڑھیے:

(1) اللہ و رسول سے دغا اور امانتوں میں خیانت: اللہ پاک نے اہلِ ایمان کو متنبہ فرمایا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں امانتوں میں خیانت کا ارتکاب نہ کریں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿‏ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)﴾

ترجَمۂ کنزُالایمان: ‏اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت ۔ (پ 9، الانفال: 27)

اس آیت سے واضح ہوا کہ خیانت صرف مالی نہیں بلکہ اللہ کے احکامات اور رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت سے روگردانی بھی ‏بہت بڑی خیانت ہے، چنانچہ تفسیر خزائن العرفان میں ہے: فرائض کا چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنّت کا ترک کرنا رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے(خیانت ہے)۔ (خزائن العرفان،ص323)

(2) اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب: جو شخص دھوکا دہی، خیانت اور بددیانتی کا راستہ اپناتا ہے، وہ اللہ کی محبت اور نصرت سے محروم ہو جاتا ہے۔ سورۂ حج میں ‏ایسے شخص کی مذمت اس طرح بیان کی گئی ہے:‏

﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸)﴾

ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔(پ17، الحج:38)

یہ آیت بتاتی ہے کہ خیانت اور ناشکری کرنے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔

(3) خیانت کرنے والوں کا فریب نہیں چلتا: خائن کتنا ہی فریب کیوں نہ دے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ حق کا ساتھ دیتا ‏ہے اور خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السّلام کے واقعہ میں ایک اہم ‏اصول بیان ہوا ہے:

﴿‏ ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)﴾

ترجَمۂ کنزُالایمان: ‏یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پ12، یوسف: 52)

(4) امانت کی ادائیگی کا حکم: اللہ پاک نے امانتوں کو متعلقہ افراد تک پہنچانے کا حکم دیا ہے چنانچہ ارشادہے:

﴿ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا﴾

ترجَمۂ کنزُالایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔ (پ5، النسآء:58)

خیانت کی مختلف صورتیں: قراٰنی تعلیمات کی روشنی میں خیانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں مالی و مادی اور روحانی دونوں صورتیں شامل ہیں،‏ کسی کا راز، یا وعدہ بھی امانت ہے ۔ اسی طرح اللہ کے حقوق (جیسے نماز و روزہ) اور بندوں کے حقوق (جیسے ملازمت یا عہدے کے فرائض) کو پوری ‏ایمانداری سے ادا نہ کرنا بھی خیانت میں شامل ہے۔

خیانت ایمان کی کمزوری کی علامت ہے اور معاشرتی بے چینی کا سبب ہے۔ قراٰنِ مجید نے سختی سے اس کی مذمت کرکے ‏یہ واضح کر دیا ہے کہ خیانت کرنے والا شخص اللہ کی نظر میں ناپسندیدہ ہے اور وہ آخرت میں سخت عذاب کا مستحق ہوگا۔ ‏بحیثیت مسلمان، ہمیں امانت داری کو اپنے کردار کا لازمی حصہ بنانا چاہیے تاکہ ہم دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں۔

اللہ پاک ہمیں قراٰنی تعلیمات پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


ملتان :

شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت 7 جون 2026ء کو ملتان ڈویژن میں ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں ڈویژن و ڈسٹرکٹ اور تحصیل ذمہ داران نے شرکت کی۔

اس میٹنگ کے دوران صوبائی ذمہ دار محمد اقبال عطاری اور ملتان ڈویژن کے ذمہ دار ارشاد عطاری نے اہم امور پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داران کی رہنمائی کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭ یوسی سطح ہدف تقرری ٭گلی گلی مدرسۃالمدینہ٭مدرسۃالمدینہ بالغات٭ ہفتہ وار اجتماع میں اضافہ٭عشر ہدف ٭فیضانِ صحابیات رہائشی کورسز میں داخلوں کا ہدف٭ 3 دن اور ایک ماہ قافلہ ہدف٭رہائشی کورس میں شعبہ تعلیم سے متعلق اسلامی بہنوں کی شرکت ٭ ہر ماہ 2 محارم حلقے ۔

اس کے علاوہ شعبے کی ترقی اور دعوتِ اسلامی کے 12 دینی میں مزید بہتری لانے کا ذہن دیا گیا جس پر تمام ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ: محمد علی عطاری شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں صوبہ پنجاب آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری) 

گجرات :

شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت 5 جون 2026ء کو گجرات ڈویژن میں ایک اہم مدنی مشورہ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈویژن و ڈسٹرکٹ ذمہ داران اور تحصیل ذمہ داران نے شرکت کی۔

اس موقع پر صوبائی ذمہ دار محمد اقبال عطاری اور ملتان ڈویژن کے ذمہ دار ارشاد عطاری نے مختلف نکات پر گفتگو کی بالخصوص فیضان صحابیات کی آبادکاری، تقرر یوسی نگران اسلامی بہنیں، محارم قافلہ نیتیں، گلی گلی مدرستہ المدینہ، مدرسۃالمدینہ بالغات اور ہفتہ وار اجتماع کو بڑھانے کے حوالے سے کلام کیا۔

اس کے علاوہ شعبے کی ترقی اور دعوتِ اسلامی کے 12 دینی میں مزید بہتری لانے کا ذہن دیا گیا جس پر تمام ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ: محمد علی عطاری شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں صوبہ پنجاب آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


سیالکوٹ، پنجاب :

اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت صوبہ پنجاب کے ذمہ دار محمد وقاص عطاری نے گوجرانوالہ ڈویژن اور ضلع سیالکوٹ کے ذمہ داران کے ہمراہ فیضان ری ہیبلیٹیشن سینٹر سیالکوٹ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایڈمن عمر عطاری سے ملاقات بھی کی ۔

اس دوران ذمہ داران نے سینٹر میں زیرِ تعلیم اسپیشل بچوں کو فراہم کی جانے والی تعلیمی، تربیتی اور بحالی کی سہولیات کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے سینٹر میں جاری خدمات کو سراہا۔

وزٹ کے اختتام پر صوبائی ذمہ دار محمد وقاص عطاری نے ایڈمن عمر عطاری کو مکتبۃالمدینہ کی کُتُب تحفے میں پیش کیں اور اسپیشل پرسنز کی دینی و اخلاقی تربیت کے حوالے سے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔(رپورٹ: اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


سیالکوٹ، پنجاب :

اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت پنجاب کے صوبائی ذمہ دار، گوجرانوالہ کے ڈویژن ذمہ دار اور سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ ذمہ دار نے علامہ اقبال اسپیشل ایجوکیشن سینٹر سیالکوٹ کا دورہ کیا ۔

اس دوران ڈیف اسٹوڈنٹس کے لیے خصوصی سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی ذمہ دار محمد وقاص عطاری نے مختلف اہم امور پر ڈیف اسٹوڈنٹس کی تربیت کی کہ ہر جائز کام کا آغاز بسم اللہ شریف سے کریں، صفائی ستھرائی کے معاملات میں بہتری لائیں، لڑائی جھگڑوں سے بچاؤ کے طریقے اپنائیں، والدین و اساتذہ کا ادب کریں اور موبائل فون کے غلط استعمال سے بچاؤ کے حوالے سے بھی رہنمائی کی ۔

اسی طرح ڈویژن ذمہ دار نے ڈیف اسٹوڈنٹس کو ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت دی اور سیالکوٹ ڈسٹرکٹ ذمہ دار نے اشاروں کی زبان میں پانی پینے کی سنتیں سکھائیں۔(رپورٹ: اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


کلفٹن، کراچی :

سادات گھرانے کے عظیم و جلیل القدر صوفی بزرگ حضرت سیّدنا عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے سالانہ عرس کے موقع پر دعوتِ اسلامی کے شعبہ مزاراتِ اولیاء کے زیرِ اہتمام 6، 7، 8 جون 2026ء بمطابق 20، 21، 22 ذوالحجۃالحرام 1447ھ کو مختلف دینی سرگرمیوں کا سلسلہ ہوا جس میں زائرین و عقیدت مند عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

عرس کے موقع پر ماہرِ امورِ تجارت مفتی علی اصغر عطاری نے مزار مبارک پر حاضری دے کر فاتحہ خوانی کی اور دعا کروائی جبکہ مبلغِ دعوتِ اسلامی حاجی فضیل عطاری نے اجتماعِ ذکر و نعت میں خصوصی بیان کیا جس میں انہوں نے اولیائے کرام سے محبت اور دین کی نشر واشاعت کے بارے میں حاضرین کو بتایا۔

اس دوران نمازوں کی ادائیگی، قرآن خوانی اور سیکھنے سکھانے کے حلقوں کا بھی اہتمام کیا گیا جن میں شرکا کو دینی معلومات فراہم کی گئیں۔اس کے علاوہ مختلف مختصر شارٹ کورسز بھی کروائے گئے تاکہ نوجوانوں اور عوام الناس کو دین کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کروایا جا سکے۔زائرین کی سہولت اور خیر خواہی کے پیشِ نظر پانی کی سبیل اور لنگر کا بھی انتظام کیا گیا جس سے شرکا کو Refreshments فراہم کی گئی۔(رپورٹ: کامران علی عطاری ، آفس ذمہ دار شعبہ مزاراتِ اولیاء ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


لوگوں کو بزگانِ دین کی سیرت سے آگاہ کرنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں  اُن کی رہنمائی کرنےکے لیے دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہر ہفتے کی رات ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا جاتا ہے جوکہ مدنی چینل کے ذریعے براہِ راست دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں 13 جون 2026ء بمطابق 28 ذوالحجہ 1447ھ کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ عشا تلاوتِ قرآن و نعت ِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے شروع ہوا۔

اس موقع پر براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل مختلف سوالات کئے گئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

بعض سوال وجواب

سوال: سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں لکھا تھا:”پردہ معاشرتی فساد کوروکتا ہے اور ایک با وقار ماحول پیدا کرتا ہے“اس سے کیا مرادہے ؟

جواب: اس سے مُراد کسی کے عیب کا پردہ رکھنا یا عورتوں کا اسلامی پردہ ہو سکتا ہے، دونوں صورتوں میں پردہ مفید ہے ۔عورت کے لیے اسلامی پردہ اور مرد کے لیے آنکھوں کا پردہ ہونا چاہئے، جس چیز کو دیکھنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی اُسے نہ دیکھے۔کسی کا عیب ہے تو اس کو بھی نہ دیکھے اور معلوم ہو جائے تو اس کا پردہ رکھے یعنی اسے چھپائے ۔جو کسی کا عیب چھپاتا ہے وہ جنت پاتا ہے۔ جو دنیا میں کسی کے عیب چھپائے گا اللہ پاک اس کے دنیا و آخرت کے عیب چھپائے گا۔ یوں بہت سارے معاملات میں پردہ مفید ہوتا ہے ۔جو اپنی پڑھائی میں کمزور ہے تو اس کا بھی پردہ رکھا جائے ۔بِلا وجہ کسی کے بارے میں کہنا کہ وہ پڑھتا نہیں، اسی طرح وہ فیل ہو گیا تو کہنا وہ تیاری نہیں کرتا ،فیل نہیں ہو گا تو کیا ہو گا؟ اگر کسی نے کوئی غلطی کی جس سے کوئی شرعی خرابی پیدا نہیں ہو رہی تو اس کا بھی پردہ رکھنا چاہئے ۔اسی طرح کسی نے آپ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا تو اب بھی اس کا پردہ رکھنا چاہئے ۔اس طرح غور کرتے جائیں گے تو پردے رکھنے اور پردہ فاش نہ کرنے کی بہت ساری صورتیں سامنے آتی جائیں گی۔مختلف ذرائع مثلاً سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے ہم لوگوں کا پردہ فاش نہ کریں اور لوگوں کے عیوب ڈَھکنا سیکھ جائیں تو ہمارا معاشرہ اتنا صاف ستھرا ہو جائے کہ کئی جھگڑے اور مسائل دم توڑ جائیں گے۔

سوال: کھانے کے وقت کیا احتیاط کی جائے کہ معیوب نہ لگے اور نظر بھی نہ لگے ؟

جواب: کوئی اچھے کھانے کھائے تو اکیلا کھائے تاکہ نظر نہ لگے ۔کھانا کھاتے ہوئے اور بھی چند باتوں کا خیال رکھے مثلاً سُورۂ قریش (لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ)پڑھ کر دم کر لے ،کھانے سے پہلے کی دُعا پڑھ لیں کہ کھانے میں کوئی مضر(نقصان دہ) چیز ہو تو وہ نقصان نہ کرے گی، عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت بھی کر لیں، محض لذت کے لیے نہ کھائیں کہ قرآنِ پاک میں صرف لذّت کی خاطر کھاتے رہنا کفار کی صفت بیان ہوئی ہے ۔

کھانا کھانے سے پہلے کی دُعا

بِسْمِ اللّٰہ وَبِاللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّمَعَ اسْمِہٖ شَیْیٔ ٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ

ترجمہ : اللہ پاک کے نام سے شروع کرتاہوں جس کے نام کی برکت سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اے ہمیشہ زندہ و قائم رہنے والے۔کھانا شُروع کرنے سے قبل یہ دُعا پڑھ لی جائے، اگر کھانے پینے میں زَہر بھی ہوگا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہُ الکریم اَثَر نہیں کرے گا۔( کَنْزُ الْعُمَّال، ج 15، ص 109، حدیث:40792)

سوال: خرگوش(Rabbit) کیسا جانور ہے ؟

جواب: خرگوش بڑا پیارا اور حلال جانور ہے ۔ہند کے صوبے گجرات میں ایک شہر احمد آباد ہے ،اس میں کافی تعداد مسلمانوں کی ہے ،میں جب وہاں گیا تو وہاں مجھے بتایا گیا کہ اس شہر کو آباد کرنے والے بادشاہ کا نام احمد تھا ،جب وہ یہاں آیا تو یہاں جنگل تھا ،اس نے دیکھا کہ ایک خرگوش شیر کے اوپر بیٹھا ہوا ہے ،اس نے کہا کہ جہاں کا خرگوش اتنا بہادر اور نڈر(یعنی ہمت والا،بے خوف) ہے کہ شیر کے اُوپر بیٹھا ہواہے تویہاں ایک شہر بسانا چاہئے ،چنانچہ اس نے یہاں احمد آبادشہر قائم کیا۔

سوال: حضر ت موسیٰ علیہ السلام کا ایک اُمّتی خرگوش کیسے بنا دیا گیا؟

جواب: عیون الحکایات میں ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ایک شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام سے علمِ دین حاصل کیا کرتا تھا ،ایک مرتبہ اس نے اپنے وطن جانے کی اجازت طلب کی، آپ نے اُسے اجازت دے دی ۔ اس نے وہاں جا کر لوگوں سے عزت اور مال حاصل کرنے کے لیے کہنا شروع کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے یہ فرمایا وہ فرمایا یعنی اپنے آپ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کامقرب(قریبی آدمی) ظاہر کرنا شروع کیا،لوگ اس کی عزت کرتے اور مال پیش کرتے ،اللہ پاک اس سے ناراض ہو گیا اور اسے خرگوش بنا دیا ۔

سوال: مردوں میں ہا رٹ اٹیک(Heart Attack) کا مرض عورتوں سے زیادہ ہے، اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ؟

جواب: کمانے کی زیادہ فکر کرنا کہ گھرکی بعض عورتیں زیادہ رقم کاتقاضا کرتی ہیں ،جبکہ عورتوں کو یہ فکر نہیں ہوتی ۔مردوں کا کھانے پینے میں احتیاط نہ کرنا جبکہ عورتیں کھانا پکا پکا کر سیر ہو جاتی ہیں، کھانے کے وقت کم کھاتی ہیں ۔عورتوں کا رو دھو کر اپنا غم ہلکا کر لینا جبکہ مردوں کا ایسا نہ کر پانا ، اسی طرح عورتوں کی بنسبت مردوں کا نشے میں زیادہ مبتلا ہونا ،شراب نوشی کرنا ۔سگریٹ پینا وغیرہ وہ اسباب ہیں جس کی وجہ سے ان میں ہا رٹ اٹیک زیادہ ہوتے ہیں ۔

سوال: کون سی تین ہستیوں کا زیادہ رونا مشہور ہے ؟

جواب:تین شخصیات کازیادہ رونامشہورہے ۔حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام خوفِ خدا کی وجہ سے بہت روتے تھے جبکہ حضرت امام زین العابدین علی اوسط رضی اللہ عنہ کے دل میں کربلا کے واقعات اس طرح گھرکر گئے تھے(یعنی میدانِ کربلا میں اپنے پیاروں کے شہیدہونے کامنظر دل میں بیٹھ چکا تھا) جب انہیں یاد آتے تو بے اختیارآنسو جاری ہو جاتے تھے ۔

سوال:کیا کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جن کا رونا ان کے شاگرد پر زیادہ اثر کر گیاہو ؟

جواب: جی ہاں! حضرت عبدالرحمن ابن ِجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مَیں اپنے ایک استاذ کے پاس حدیث پا ک سننےکے لیے جاتا تھا، وہ حدیث پاک بیان کرتے ہوئے روتے تھے توان کا رونا حدیث سے زیادہ مجھ پر اثر انداز اور مفید ہوا۔

سوال: کیا ہم اپنے ایصالِ ثواب کے لیے اپنی زندگی میں ہی کلمہ شریف وغیرہ پڑھ کر محفوظ کر لیں ؟

جواب: بندہ جو بھی نیکی کرتا ہے اس کا ثواب تو اُسے مل ہی جاتا ہے ،اپنے آپ کو ایصال ِثواب کرنے کے کوئی معنیٰ نہیں بلکہ اپنی نیکیوں کا ثواب جتنوں کو ایصال کریں گے تو اتنا اس کے نامہ اعمال میں بڑھا دیا جائے گا۔(ایصال کا معنی ہے پہنچانا۔عموماًیہ لفظ ”ایصالِ ثواب“ میں استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کسی کی روح کو ثواب پہنچانا)

سوال: نیکیاں محفوظ کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟

جواب: اپنی نیکیوں کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے آپ کو گناہوں اور دوسروں پر ظلم کرنے، مال چھین لینے وغیرہ سے بچانا ہو گا۔ورنہ اپنی نیکیاں مظلوموں کو دینی پڑیں گی اور بندہ نیکیوں سے محروم ہو جائے گا۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ چار بُرائیاں‘‘پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 18 صفحات کا رسالہچار بُرائیاں‘‘پڑھ یا سُن لے، اُسے تمام بُرائیوں اور خطر ناک بیماریوں سے محفوظ فرما کر ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ان شاء اللہ الکریم آئندہ دنوں خصوصی مدنی مذاکرے منعقد کیے جائیں گے جو کہ 15 جون 2026ء بروز پیر سے شروع ہوکر 11 محرم الحرام 1448 ھ تک جاری رہے گا۔

ان مدنی مذاکروں کا مقصد شانِ صحابہ و اہلبیتِ اطہار علیہم الرضوان کی محبت اور عظمت کو عاشقانِ رسول کے دلوں میں اجاگر کرنا ہے۔

تفصیلی معلومات کے مطابق یہ مدنی مذاکرے روزانہ رات تقریباً 9:45 پر (جمعرات کو ہفتہ وار اجتماع کے بعد) عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں شروع ہوجائیں گے جن میں بالخصوص شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ شرکا کو دینی و روحانی فوائد سے روشناس کروائیں گے نیز صحابۂ کرام و اہلبیتِ اطہار علیہم الرضوان کی مبارک زندگیوں کے بارے میں بتائیں گے۔

دعوتِ اسلامی کے شعبہ جامعۃُ المدینہ  کے تحت 7 تا 8 جون 2026ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 2 دن کا سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہوا جس میں خصوصاً جامعاتُ المدینہ کے اساتذۂ کرام، ناظمینِ کرام اور ذمہ داران نے شرکت کی۔

اس 2 دن کے سنتوں بھرے اجتماع میں مفتیانِ کرام، مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری، اراکینِ شوریٰ اور شعبے کے اہم ذمہ داران نے دینی، اخلاقی، تعلیمی اور تنظیمی اعتبار سے حاضرین کی رہنمائی کی تاکہ اساتذۂ کرام کی کردار سازی اور نظم و ضبط میں بہتری لائی جاسکے۔

اس دوران خصوصی طور پر مدنی مذاکروں کا بھی سلسلہ ہوا جن میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اساتذۂ کرام، ناظمین اور وہاں موجود تمام اسلامی بھائیوں کی تربیت کرتے ہوئے انہیں مختلف مدنی پھولوں سے نوازا۔

ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق اس وقت جامعاتُ المدینہ کی تعداد 1 ہزار 520 (1, 520) سے زائد ہے جن میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کی تعداد 1 لاکھ 27 ہزار 79 (1, 27, 079) ہے۔

اسی طرح اساتذۂ کرام، ناظمینِ کرام اور دیگر اسٹاف کی تعداد 11 ہزار 874 (11, 874) ہے جو جامعات المدینہ میں دینی تعلیم کے فروغ میں مصروف عمل ہیں۔


شریعت میں ظلم سے مراد یہ ہے کہ کسی کا حق مارنا، کسی کو غیر محل میں خرچ کرنا، کسی کو بغیر غلطی کے سزا دینا۔ تاریخ اسلام میں ابتدائے اسلام سے ہی مسلمانوں پر ظلم کی بھی ابتدا ہوئی۔ ہمارے نبی، نبی اکرم ﷺ کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائی گئیں۔ کبھی کفار مکہ آپ کے راستے میں کانٹے بچھاتے، کبھی آپ کو دھکا دیتے اور کبھی آپ کی نازک اور مقدس گردن میں چادر کا پھندا ڈال کر گلا گھونٹنے کی کوشش کرتے۔ حضور رحمت ﷺ کے ساتھ ساتھ غریب مسلمانوں پر بھی کفار مکہ نے ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے کہ مکی کی زمین بلبلا اٹھی۔ صحرائے عرب کی تیز دھوپ میں جب کہ وہاں کی ریت کے ذرات تنور کی طرح گرم ہو جاتے اس وقت ان مسلمانوں کی پشت کو کوڑوں کی مار سے زخمی کر کے اس جلتی ہوئی ریت پر پیٹھ کے بل لٹاتے اور سینوں پر اتنا بھاری پتھر رکھ دیتے کہ وہ کروٹ نہ بدلنے پائیں اور اس کے ساتھ ساتھ لوہے کو آگ میں گرم کر کے ان سے ان مسلمانوں کے جسم کو داغتے۔ الغرض مسلمانوں پر ایسے ایسے ظلم کیے گئے کہ دل دہل جاتا ہے۔ اسلام کی سربلندی کےلئے ہر بار کسی مسلمان نے قربانی دی، کسی ماں کا بیٹا قربان ہوا، کسی بیوی کا شوہر قربان ہوا، کسی بہن کا بھائی قربان ہوا۔ ہمیشہ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ کیا اسلام کی سربلندی کےلئے ہمیشہ کسی کو قربان ہونا پڑے گا؟ کیا کسی قربانی کے بغیر امت مسلمہ یک جہتی کے ساتھ اسلام کی سربلندی کےلئے کوشاں نہیں ہو سکتی؟

مسلمانوں پر ظلم آج بھی ہوتا ہے۔ اور انتہا اس بات کی ہے کہ مسلمانوں پر آج مسلمان بھی ظلم کرنے سے نہیں رکتے۔ مسلمان ہونے کے باوجود غصے کی آگ اتنی بڑھ چکی ہے کہ مسلمان ہی مسلمانوں کو قتل کرنے سے اپنے ہاتھ نہیں روک پا رہے۔ کسی مسلمان پر ظلم ہوتا دیکھ امت مسلمہ تماشائی بنی ہوتی ہے۔ یہ امت مسلمہ آج خاموش ہے۔ یہ امت نہ ظلم سے منع کرتی ہے، نہ زیادتی سے۔ اس امت کو کوئی کافر و مشرک کیا توڑے گا۔ یہ امت خود کی جڑوں کو خود کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس امت نے مجرمانہ خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے تو فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ اسے حقیر جانے۔ (مسلم، ص 1386، حدیث: 2564)

امت مسلمہ کو ایک جسم ایک جان کی مانند ہونا چاہیے۔ جس طرح جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک مسلمان پریشان ہو تو پوری امت مسلمہ کو وہ تکلیف محسوس کرنی چاہیے۔ لیکن اس امت نے ایک گہری خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

اب اس امت مسلمہ کو خاموشی ختم کرنی چاہئے۔ اور امت مسلمہ کو یک جہتی کے ساتھ دین کا پرچم سر بلند کرنے کےلیے کوشاں ہو جانا چاہئے۔


تاریخِ انسانی ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جو قوموں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں مگر اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ قومیں ان واقعات کے رونما ہونے کے بعد ہی جاگتی ہیں جب کہ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ اس تلخ حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے:کیا ظلم کی چکی میں پستے مظلوم مسلمانوں کے ختم ہو جانے کے بعد ہی امت مسلمہ کی آنکھیں کھلیں گی، جیسے کربلا کے بعد کھلی تھیں؟

واقعہ کربلا اسلام کی تاریخ میں ایک ایسا المیہ ہے جو قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔ نواسہ رسول، بی بی فاطمہ کے پھول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ظلم و جبر کے خلاف جس بے مثال صبر اور بہادری کا مظاہرہ فرمایا وہ رہتی دنیا تک کے مظلوموں کیلئے مشعلِ راہ ہے۔ مگر یہ بھی ایک دردناک حقیقت ہے کہ کربلا کے وقت اکثریت خاموش تماشائی بنی رہی، انہوں نے اپنے امام کو تنہا چھوڑ دیا اور جب وہ امام حسین اور دیگر مسلمان بھائیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تو امت کو ہوش آیا،انکھیں کھلیں اور احساسِ جرم نے قوم کو گھیر لیا۔

لیکن ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے:کیا ہر بار سوئی ہوئی امت مسلمہ کو جگانے کیلئے مظلوم مسلمانوں کو اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنا پڑے گا؟کیا ہر بار کربلا جیسے بڑے خسارے سے دوچار ہونا ضروری ہے؟

ہمارا دین تو ہمیں ہر حال میں اپنے مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے تو فرمایا: تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اُڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ (بخاری،4/103، حدیث: 6011)

آج ہم خود پر غور کر لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا گیا ہے لیکن افسوس کہ آج صورت حال یہ ہے کہ جسم کے بعض حصوں کو بے دردی سے کاٹا جا رہا ہے اور باقی جسم کو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا۔ آج فلسطین میں بچے جل رہے ہیں، گھروں کے ملبے تلے سسکیاں دم توڑ رہی ہیں اور مسجد اقصیٰ کی دیواریں فریاد کر رہی ہیں لیکن دنیا خاموش ہے۔وہی دنیا جو انسانیت کے نعرے لگاتی ہے، انسانی حقوق کی دعوے دار بنتی ہے مگر جب مظلوم مسلمان خون میں نہا رہے ہوتے ہیں تو اس کے ہونٹ سی دیے جاتے ہیں۔ یہ وہی خاموشی ہے جو کشمیریوں نے دیکھی جب کہ ان کے گھروں کو مسمار کیا گیا، جب ان کے جوانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا،جب ان کی عورتوں کی عزت پامال کی گئی تب بھی امت مسلمہ نے آنکھیں بند کر لیں اور آج بھی امت مسلمہ اپنی آنکھیں بند کر چکی ہے۔

آج دنیا میں بے شمار جگہیں ہیں جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے اور امت مسلمہ خاموش ہے۔ تھوڑا غور کریں کہ مظلوموں کی یہ سسکیاں کل ہمارے لئے امتحان نہ بن جائیں،کل بروز محشر اپنے ربِ رحیم کو اور اپنے آقا کریم ﷺ کو ان سسکیوں کا حساب نہ دینا پڑ جائے، توکیا جواب دیں گے؟ اپنی شرمندگی کہاں چھپائیں گے؟آج بھی وقت ہے کہ غفلت کی نیند سوئی ہوئی امت مسلمہ بیدار ہو جائے اور ظلم و ستم کا نشانہ بنتے اپنے مظلوم بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے ورنہ بروز محشر کی رسوائی دیکھی نہ جائے گی۔

اللہ کریم امت مسلمہ کو جسدِ واحد کی طرح بننے کی توفیق عطا فرمائے اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنے والے بے دینوں کو نیست و نابود فرمائے۔ آمین یارب العالمین


دشمن اسلام: یہودیوں کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شروع ہی سے اسلام کے سخت مخالف ہیں اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ یہودی ظاہری اور باطنی طور پر عالم اسلام کو نقصان پہنچانے کی سر طور کوشش میں لگے رہتے ہیں وہ اعلانیہ اور پوشیدہ ہر طرح سے مسلمانوں سے دشمنی کرتے آئے ہیں۔ یہودیوں نے ہمیشہ ہی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی مذموم حرکت کی۔ یہودی چاہتے ہیں کہ اسلام دین ختم ہو جائے اور ان کا مذہب قائم ہو۔

مسلمانوں پر ظلم: یہودی اپنے نا پاک عزائم کے ساتھ اپنی فطرت سے بد اخلاق، شریر، غیر انسانی اوصاف کے حامل، بلکہ درندہ صفت واقع ہوئے ہیں، وہ انسانیت کے لئے نا سور ہیں، وہ دنیا کے جس خطے میں رہے اپنی شرارتوں سے انہوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا۔

اس وقت بھی بیت المقدس اور فلسطین کے ایک بڑے حصے پرنا جائز قبضہ کر کے انہوں نے وہاں کے بے قصور اور نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی حد پار کر لی۔

انہوں نے مسلمانوں کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں۔ تقریبا کئی سالوں سے انہوں نے پاگل ہاتھی کی طرح وہاں اندھا دھند کیمیکل بموں، توپ کے دہانوں اور بندوق کی گولیوں سے غزہ کے معصوم بچوں، خواتین، بوڑھوں اور دیگر شہریوں کے خون کی ندیاں بہا دیں۔

جس سے محلات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ زندگی وہاں سسک سسک کر رو رہی ہے۔ ماؤں کے معصوم بچوں کو ان کے سامنے کھڑے کھڑے قتل کر دیا گیا۔

کئی ہزار سے زائد معصوموں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لاکھوں سروں سے گھروں کا سایہ چھین لیا گیا۔ وہاں درندگی کا ننگا ناچ اور انسانی بحران اپنی خوف ناک شکل اختیار کر چکا ہے۔

امتِ مسلمہ کی مجرمانہ خاموشی: پیارے نبی کریم ﷺ کی وہ امت جن کی شفاعت کے لئے آپ سجدوں میں روئے۔ہر دُعا میں یا ربی امتی پکارنے والے مہربان محمد مصطفی ﷺ کی وہ امت بے وفا نکلی بے حس نکلی۔

امتِ مسلمہ آج غزہ کے معصوم مسلمانوں کی درد پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے یوں جیسا کوئی واسطہ ہی نہیں۔ نہ خوف خدا ہے نہ لاج مصطفیٰ ہے، بس اپنے آپ کا پتا ہے۔

مسلم شریف میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ پاک ﷺ نے فرمایا: مومنوں کی مثال ایک دوسرے کے ساتھ محبت، رحمت اور شفقت کرنے میں جسم کی طرح ہے، جب اس کا ایک حصہ بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بےخوابی اور بخار میں اس کے ساتھ شریک ہوجاتا ہے۔ (بخاری،4/103، حدیث: 6011) ہم تو ایک جسم کی طرح تھے پھر کیوں معصوم غزہ کے مسلمانوں کا درد محسوس نہیں ہوتا اس امت کو جن کی مثالیں پیارے محبوب عالم مصطفیٰ ﷺ نے بار بار دیں کیا یہی امتِ مسلمہ ہے جن کا درد سانجھا تھا جن کے دکھ سکھ سانجھے سمجھے جاتے تھے؟

مسلمانوں کی موجودہ حالت اور امتِ مسلمہ کی بے حسی: فلسطین کے معصوم مسلمانوں کے حالات اس وقت پوری دنیا کے مسلم ممالک کے سامنے ہیں۔مگر بے حسی کی آخری حد ہے کہ مسلمان ممالک تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود بھی اپنے اسلامی بھائیوں کی مدد نہیں کرتے۔ان معصوم مسلمانوں کے لئے حق کی آواز بلند نہیں کرتے۔کیوں کہ آج کے مسلمانوں کو اپنا مفاد عزیز ہے۔

آج کے جدید دور میں غزہ کے معصوم مسلمانوں کے ناحق خون بہانے پر امتِ مسلمہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

مسلمانوں پر اقوم عالم کا چڑھ آنا: امتِ مسلمہ کی یہ حالت دیکھ کر آپ ﷺ کی وہ حدیث مبارک یاد آ گئی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے۔ (ابوداود، 4/150، حدیث: 4297)

آج بالکل فلسطین کے معصوم مسلمان ایسی حالت سے گزر رہے ہیں جس کا ذکر چالیس سال پہلے محمد مصطفی ﷺ نے حدیث مبارک میں فرمایا۔

آج مسلمان تعداد میں اسرائیل سے زیادہ ہیں مگر ان کے دلوں میں تو دنیا کی محبت آباد ہو چکی ہے۔ یہ امتِ مسلمہ کیسے اسرائیل کے خلاف کھڑی ہو یہ تو اسرائیلی پروڈکٹس پر عیش و عشرت کرتے ہیں۔

اسرائیلی منصوعات پر تو اس امتِ مسلمہ کے کاروبار چلتے ہیں تو کیسے وہ اس دشمن اسلام کے خلاف کھڑی ہو۔

وہن کی بیماری نے امتِ مسلمہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا یوں کہ دنیا کے تھوڑے سے نفع کے بدلے آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کو بھلا دیا۔

دوسری بڑی وجہ موت کا ڈر ہے یہ لوگ یوں دنیا کی چیزیں جمع کرتے ہیں جیسے ساری زندگی بس دنیا میں ہی بسر کرنی ہے اور مرنا تو بالکل نہیں۔اِس لئے دوسرے مسلمانوں کے مرنے پر شکر کرتے ہیں کہ ہم تو بچ گئے۔

امتِ مسلمہ کو دنیا کی محبت لے ڈوبی۔ایسی دنیا کی محبت جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر برابر بھی نہیں ہے۔

دوسرا امتِ مسلمہ اپنے مقصد کو بھلا چکی ہے اور یہاں سے ہی بربادی شروع ہوتی ہے۔