حضور
کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ عبدالستار
مدنیہ،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
حضور نبیِ
اکرم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت سب سے اعلیٰ،کامل اور بے مثال تھی۔ آپ کی محبت ایسی تھی
جو مکمل اخلاص،مکمل وفا،مكمل فنا فی اللہ اور مکمل بندگی پر مبنی تھی۔ اس محبت کی
چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
کامل اطاعت اور بندگی:
رسول اللہ ﷺ کی
پوری زندگی اللہ پاک کے احکامات کی مکمل پیروی اور اطاعت میں گزری۔آپ نے کبھی اپنی
خواہش کو اللہ کی رضا پر مقدم نہیں رکھا۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک نے فرمایا:وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ
الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ(۴)( پ27،النجم:
4،3)ترجمہ:اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر
وحی جو اُنہیں کی جاتی ہے۔
ذکر و عبادت میں محبت:
حضور راتوں کو
قیام کرتے،طویل نمازیں پڑھتے،یہاں تک کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ
عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ
صرف شکر نہیں،بلکہ ایک عاشقِ حقیقی کی معراج تھی ۔
دعا میں محبت:
حضور کی دعائیں اللہ سے انتہائی عاجزی،محبت اور لگن
سے بھرپور ہوتیں۔آپ اکثر فرماتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی
أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ
حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ
وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں
تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو
تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے
پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔
(ترمذی،5/296،حدیث:3501)
یہ دعا اس شدتِ
محبت کی گواہ ہے جو رسول اللہ ﷺکو اپنے رب
سے تھی۔
اللہ نے بھی آپ سے محبت فرمائی:
اللہ پاک نے
قرآن میں بارہا اپنی محبت کا اظہار فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴) (پ30،الم نشرح:4)ایک
اور جگہ ارشادِ باری ہے:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (پ29،القلم:4)ترجمہ: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔
ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی:
چاہے طائف کا
پتھراؤ ہو یا احد کی چوٹی،رسول اللہﷺ نے
کبھی شکوہ نہ کیا،بلکہ صرف اللہ کی رضا کی طلب کی۔
حضور اکرمﷺ کی اللہ پاک سے محبت کی کیفیت کو بیان کرنے کے
لئے متعدد احادیث موجود ہیں،جو یہ بتاتی ہیں کہ آپ کی محبت نہ صرف عبادات اور ذکر میں تھی بلکہ
اخلاق،دعا اور تعلقات انسانوں میں بھی جلوہ گر تھی۔ذیل میں کچھ اہم احادیث درج ہیں
جن سے اس عظیم محبت کی جھلک ملتی ہے:
اگر اللہ کسی کو محبوب رکھے :
روایت ہے کہ
آپ نے فرمایا:إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ:إِنَّ
اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبَّهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ
فِي أَهْلِ السَّمَاءِ:إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ
أَهْلُ السَّمَاءِ،ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي أَهْلِ الأَرْضِ۔(بخاری،4/110،
حديث:6140)
یہ حدیث بتاتی
ہے کہ اللہ پاک جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے،تو جبرائیل علیہ السلام کو اس کی محبت
کا حکم دیتا ہے،وہ اس سے محبت کرتا ہے،آسمان والوں سے اس کی محبت جاری ہوتی ہےاور
اس کے بعد وہ زمین والوں میں بھی مقبول ہو جاتا ہے۔
اللہ کا ذکر ہر لمحہ:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلىٰ
كُلِّ أَحْيَانِهٖ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔ (مسلم،ص159،
حدیث: 826)
محبت کی مثال:
جس سے محبت ہو،اس
کا ذکر دل سے نکلتا ہے اور نبی ﷺکا دل ہر
لمحہ اللہ کے ذکر سے آباد رہتا تھا۔
سجدے میں رونا عبدیت کا کمال:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار سورج گرہن کے
موقع پر نبی کریم ﷺ نے نمازِ کسوف پڑھی۔ آپ ﷺ سجدے میں گئے تو اس قدر روئے اور
ہچکیاں لیں کہ صحابہ نے اسے محسوس کیا، آپ ﷺ سجدے میں فرما رہے تھے:رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ رَبِّ
أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَترجمہ:اے
میرے رب! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا
جب تک میں ان میں موجود ہوں؟اے میرے رب! کیا تو نے یہ وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ تو
انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے؟
(ابو داود،1/439،حدیث:1194)
اللہ پاک سے محبت کی مثال:
سجدہ ایک عاشق
کا اظہار عاجزی ہے۔نبی ﷺکا رونا اس عشق ِحقیقی
کا ثبوت تھا۔
تمام فیصلے اللہ کی وحی سے:
رسول اللہﷺ کا ہر قول و فعل اللہ کی وحی کے تابع تھا۔ارشادِ
باری ہے:وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ
الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ
یُّوْحٰىۙ(۴) (پ27،النجم:
3-4)ترجمہ:اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے کچھ نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں
کی جاتی ہے۔
ایک محب اپنے
محبوب کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔
حضور نبیِ
کریم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت اتنی گہری خالص اور بے مثال تھی کہ اُس کا کوئی دنیاوی
معیار سے موازنہ نہیں ہو سکتا۔یہ محبت اطاعت،خشیت،قربانی اور مکمل بندگی پر مبنی
تھی۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی رضا
کے لیے وقف تھا۔ذیل میں ایک مشہور اور دل کو چھو لینے والا واقعہ پیشِ خدمت ہے جو
اس محبت کی حقیقی جھلک دکھاتا ہے:
مکہ والوں کے عناد اور سرکشی کو دیکھتے ہوئے جب حضور رَحمت عالم ﷺ کو ان
لوگوں کے ایمان لانے سے مایوسی نظر آئی تو آپ نے تبلیغِ اسلام کے لئے مکہ کے قرب و
جوار کی بستیوں کا رُخ کیا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے طائف کا بھی سفر فرمایا۔ اس
سفر میں حضور ﷺ کے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ طائف
میں بڑے بڑے اُمراء اور مالدار لوگ رہتے تھے۔ ان رئیسوں میں عمرو کا خاندان تمام
قبائل کا سردار شمار کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ تین بھائی تھے۔ عبدیالیل۔مسعود۔ حبیب۔
حضور ﷺ ان تینوں کے پاس تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت دی۔ ان تینوں نے اسلام
قبول نہیں کیا بلکہ انتہائی بیہودہ اور گستاخانہ جواب دیا۔ ان بدنصیبوں نے اسی پر
بس نہیں کیابلکہ طائف کے شریر غنڈوں کو ابھار دیا کہ یہ لوگ حضور ﷺ کے ساتھ برا
سلوک کریں ۔چنانچہ لچوں لفنگوں کا یہ شریر گروہ ہر طرف سے آپ پر ٹوٹ پڑا اور یہ
شرارتوں کے مجسمے آپ پر پتھر برسانے لگے یہاں تک کہ آپ کے مقدس پاؤں زخموں سے
لہولہان ہو گئے اور آپ کے موزے اور نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ جب آپ زخموں سے بے
تاب ہو کر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کا بازو پکڑ کر اٹھاتے
اورجب آپ چلنے لگتے تو پھر آپ پر پتھروں کی بارش کرتے اور ساتھ ساتھ طعنہ زنی
کرتے۔گالیاں دیتے۔ تالیاں بجاتے۔ ہنسی اڑاتے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ دوڑ دوڑ کر حضور ﷺ پر آنے والے پتھروں کو
اپنے بدن پر لیتے تھے اور حضور ﷺ کو بچاتے تھے یہاں تک کہ وہ بھی خون میں نہا گئے
اور زخموں سے نڈھال ہو کر بے قابو ہو گئے۔ یہاں تک کہ آخر آپ نے انگور کے ایک باغ
میں پناہ لی۔ یہ باغ مکہ کے ایک مشہور کافر عتبہ بن ربیعہ کا تھا۔ حضور ﷺ کا یہ
حال دیکھ کر عتبہ بن ربیعہ اور اس کے بھائی شیبہ بن ربیعہ کو آپ پر رحم آگیا اور
کافر ہونے کے باوجود خاندانی حمیت نے جوش مارا۔ چنانچہ ان دونوں کافروں نے حضور ﷺ
کو اپنے باغ میں ٹھہرایا اور اپنے نصرانی غلام عداس کے ہاتھ سے آپ کی خدمت میں
انگور کا ایک خوشہ بھیجا۔ حضور ﷺنے بسم اﷲ پڑھ کر خوشہ کو ہاتھ لگایاتو عداس تعجب
سے کہنے لگا کہ اس اطراف کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے حضور ﷺ نے اس سے دریافت
فرمایا کہ تمہارا وطن کہاں ہے؟ عداس نے کہا کہ میں شہر نینویٰ کا رہنے والا ہوں۔
آپ نے فرمایا کہ وہ حضرت یونس بن متی علیہ السلام کا شہر ہے۔ وہ بھی میری طرح خدا
عزوجل کے پیغمبر تھے۔ یہ سن کر عداس آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور فوراً ہی آپ کا
کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔(مواہب لدنیہ،1/ 136،137)
محبت کی جھلک:
آپ پر جسمانی،ذہنی،جذباتی تکلیف کا پہاڑ ٹوٹ پڑا،مگر
اس سب میں اللہ سے کوئی شکایت نہیں کی۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آپ کی محبت اللہ کے لیے ہے غرض خالص اور انتہا
درجے کی وفاداری پر مبنی تھی۔
حضرت جبریل اور پہاڑ کے فرشتہ کا آنا:
ایک مرتبہ امُّ المومنین حضرت عائشہ نے حضورِاقدس ﷺسے دریافت کیا:یا رسولَ
اللہ! کیا جنگ ِاُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ پر گزرا ہے؟ ارشاد فرمایا ہاں ، اے عائشہ! وہ دن میرے لئے جنگ ِاُحد کے دن سے بھی زیادہ
سخت تھا جب میں نے طائف میں وہاں کے ایک سردار ابنِ عبد یالیل بن عبد کلال کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے دعوتِ اسلام کو حقارت کے
ساتھ ٹھکرا دیا (اور اہلِ طائف نے مجھ پر پتھراؤ کیا) میں اس رنج و غم میں سرجھکائے چلتا رہایہاں تک کہ مقام قَرنُ الثّعالب میں پہنچ کر میرے ہوش و حواس بجا ہوئے ۔وہاں پہنچ کر جب میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بدلی مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے، اس بادل
میں سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے
مجھے آواز دی اور کہا: اللہ نے آپ کی قوم
کا قول اور ان کا جواب سن لیا اور اب آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہے ۔ تاکہ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے۔ حضورِ اکرم ﷺ کا بیان
ہے کہ پہاڑوں کا فرشتہ مجھے سلام کرکے عرض
کرنے لگا : یا رسولَ اللہ! اللہ نے آپ کی
قوم کا قول اور انہوں نے آپ کو جو جواب
دیا ہے وہ سب کچھ سن لیا ہے اور مجھ کو آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تا کہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں اور میں آپ کا حکم بجا لاؤں ۔ اگر
آپ چاہتے ہیں کہ میں اَخْشَبَیْن (ابو قُبَیس اورقُعَیْقِعان نام کے)
دونوں پہاڑوں کو ان کفار پر اُلٹ دوں تو میں اُلٹ دیتاہوں ۔ یہ سن کر حضور رحمت ِعالَم ﷺنے جواب دیا: (نہیں ) بلکہ
میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی نسلوں سے اپنے ایسے بندوں کو پیدا فرمائے گا جو صرف اللہ کی ہی عبادت کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔(بخاری،2/386، حدیث: 3231)
سبق:
یہ واقعہ صرف
صبر کی علامت نہیں بلکہ یہ اللہ سے محبت عاجزی اور کامل بندگی کا اعلیٰ ترین نمونہ
ہے۔حضور نے نہ بددعا کی،نہ انتقام لیا،نہ
مایوس ہوئےصرف اللہ کی رضا کی پروا کی۔اللہ پاک ہم سب کو اپنے پیارے محبوب ﷺ کی سیرت
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بِجَاهِ النبی الامين ﷺ
اللہ پاک نے
اپنے محبوب نبی،حضرت محمدﷺ کو تمام جہانوں
کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ
اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ17سورۃ
الأنبیاء،آیت 107)ترجمہ:اور ہم نے
تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔
آپ نہ صرف اللہ کے سچے رسول تھے بلکہ اللہ کے سب
سے محبوب بندے بھی تھے۔
آپ کی پوری زندگی کا خلاصہ صرف ایک جملے میں بیان
کیا جا سکتا ہے:حضور کی زندگی،اللہ کی
محبت میں فنا ہونے کی داستان ہے۔ اللہ کی محبت فطرتِ نبوی کا حصہ تھی۔
نبیِ کریم ﷺکی محبتِ الٰہی کوئی وقتی کیفیت نہیں تھی بلکہ
آپ کی فطرت میں رچی بسی تھی۔بچپن سے ہی
آپ کو اللہ کی یاد سے سکون ملتا۔بت پرستی
کے ماحول میں بھی آپ کا دل ہمیشہ ایک ہی
خدا کے سامنے جھکنے کو چاہتا تھا۔ آپ کی محبت کسی مصلحت یا خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ
معرفتِ الٰہی کے نور سے پیدا ہونے والی تھی۔
غارِ حرا کی خلوتیں
اور محبتِ الٰہی :
بعثت سے پہلے
آپ اکثر غارِ حرا میں جا کر تنہائی اختیار
کرتے،جہاں آپ کئی کئی دن تک اللہ کی یاد
اور غور و فکر میں مصروف رہتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:وحی سے پہلے
آپ کو تنہائی پسند کر دی گئی تھی،آپ غارِ حرا میں جا کر عبادت کیا کرتے تھے۔پھر جب
پہلی وحی نازل ہوئی تو پہلا کلمہ ہی اقرأ تھا۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ
خَلَقَۚ(۱)(پ30،العلق:1)
(بخاری،1/7،حدیث:3)
محبت کا عروج:عبادت اور مناجات
:
اللہ سے محبت
کا سب سے بڑا مظہر عبادت ہے اور حضور کی
عبادت اپنی مثال آپ تھی۔آپ راتوں کو جاگ
کر قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتےاور دل اللہ کی یاد میں پگھل جاتا۔اللہ پاک نے
فرمایا:یٰۤاَیُّهَا
الْمُزَّمِّلُۙ(۱)قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲)(پ29، المزمل:
1–2)
محبت کے اظہار میں عاجزی :
حضور کا یہ انداز بھی قابلِ غور ہے کہ جتنی محبت
بڑھتی،اتنی ہی عاجزی بھی بڑھتی۔
آپ ہمیشہ دعا فرماتے: اےاللہ ! میں تیری رحمت کا امید
وار ہوں ،تو مجھے آنکھ جھپکنے کی دیر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا اور میرے
سارے کام درست فرما دے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔( مسند ابو داود طیالسی،ص117،حدیث: 869)
یہ دعا بتاتی
ہے کہ آپ اللہ پر کتنا مکمل اعتماد اور
انحصار رکھتے تھے۔آپ کے نزدیک خودی اور
اپنی مرضی کی کوئی حیثیت نہیں تھی،بس اللہ کی رضا سب کچھ تھی۔
محبت میں وفاداری اور قربانی :
نبی ﷺکی محبت صرف جذباتی نہیں بلکہ عملی بھی تھی۔آپ
نے اللہ کی راہ میں تکالیف برداشت کیں، طائف میں پتھر کھائے،شعبِ ابی طالب میں
بھوک کا سامنا کیا مگر کبھی شکوہ نہیں کیا۔بلکہ
فرمایا:اگر تُو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کسی مصیبت کی پروا نہیں۔
(سیرۃ نبویۃ لابن ہشام، 1/ 420)
یہ وہ کلمات ہیں
جو محبتِ الٰہی کے سب سے اعلیٰ درجہ کو ظاہر کرتے ہیں جہاں بندہ اپنے رب کی رضا کے سامنے ہر درد بھلا
دیتا ہے۔
دعاؤں میں عشق کا رنگ :
رسول
اللہ ﷺکی دعاؤں میں بھی اللہ سے قربت کا
انوکھا رنگ نظر آتا ہے۔
ایک دعا میں
آپ فرمایا کرتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ
وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ
إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت
کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)
یہ دعا عشقِ
حقیقی کا درس دیتی ہے کہ محبت کا مقصد محض لفظی اظہار نہیں بلکہ ایسے اعمال ہیں جو
اللہ کے قرب کو بڑھائیں۔
نتیجہ:
حضور کی زندگی اللہ کی محبت کا آئینہ ہے۔آپ نے دکھ،تکلیف،بھوک،دشمنیاں
اور ہجرت سب برداشت کیں مگر اللہ کی رضا سے کبھی غافل نہ ہوئے۔اگر ہم حضور کی سچی امتی بننا چاہتی ہیں تو ہمیں بھی اپنی
زندگیوں میں اللہ کی محبت کو اول درجہ دینا ہوگا چاہے عبادت میں ہو،اخلاق میں یا قربانی میں۔کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں
ہے کہ بندہ اپنے رب سے محبت کرے،جیسے رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے رب سے کی۔
اللہ پاک نے
انسان کو اپنی عبادت اور محبت کے لیے پیدا فرمایا ہے،جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد
ہوتا ہے:وَ مَا خَلَقْتُ
الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)(پ27، الذریت:
56)ترجمہ: اور میں نے جن
اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔
عبادت در اصل
محبتِ الٰہی کا ہی ایک مظہر ہے اور اگر اس محبت کا سب سے اعلیٰ اور کامل نمونہ دیکھنا
ہو تو وہ اللہ کے حبیب،حضرت محمد ﷺکی ذاتِ
اقدس ہے۔حضور کی زندگی کا ہر لمحہ،ہر عمل،ہر
دعا اور ہر آنسو اللہ پاک کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔
حضور کی محبتِ الٰہی کا مظہر :
حضور بچپن ہی سے ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتے۔مکہ کے
پہاڑوں پر غارِ حرا کی تنہائیوں میں آپ گھنٹوں اور دنوں اللہ کی یاد میں بسر کرتے۔جب وحیِ الٰہی نازل ہوئی تو
آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ گیا،مگر اس
کے باوجود آپ کی عبادت میں کمی نہیں آئی۔حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی راتوں
کو اتنی دیر تک قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔میں عرض کرتی:یا رسول
اللہ! آپ اتنی مشقت کیوں فرماتے ہیں جبکہ آپ کے اگلوں اورپچھلوں کے گناہ معاف ہو
چکے ہیں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ، حدیث:4837)
یہ جملہ اس
بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ کی عبادت کسی
خوف یا مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ محبتِ الٰہی کے جذبے سے تھی۔
محبت میں فنا ہونے کا عالم :
حضور اللہ پاک کی یاد میں اس قدر محو رہتے کہ
آپ کے آنسو مبارک رخساروں کو تر کر دیتے۔قرآنِ
کریم میں ارشاد ہوتا ہے:اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ
اَقْوَمُ قِیْلًاؕ(۶) (پ29،المزمل:6)ترجمہ:بے شک رات کا اٹھنا وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہےاور بات خوب
سیدھی نکلتی ہے۔
یہی وجہ تھی
کہ آپ راتوں کو عبادت میں گزار دیتے اور
دن کو امت کے لیے جد و جہد کرتے۔
آپ نے فرمایا:اللہ سے محبت کرنے والا ہر حال میں
اپنے رب کو یاد رکھتا ہے۔ (ترغیب و ترہیب،
4/ 298)
محبت کا مظاہرہ اطاعت سے :
اللہ پاک نے قرآنِ
کریم میں ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ
فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے
ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
یہ آیت ظاہر
کرتی ہے کہ اصل محبتِ الٰہی حضور کی اتباع
میں ہے۔ خود حضور سب سے بڑھ کر مطیع و
فرمانبردار تھے،نیز آپ نے ہر حکمِ الٰہی
کو نہایت شوق اور محبت سے بجا لایا۔
دعاؤں میں محبت کا رنگ :
رسولِ
اکرم ﷺکی دعائیں عشق و محبت سے بھرپور تھیں۔
آپ اکثر فرمایا کرتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ
وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ
إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے۔الٰہی!اپنی محبت کومیرے
لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)
محبتِ الٰہی کی روشنی میں امت
کی محبت :
حضورﷺ کی محبت صرف اللہ کے لیے تھی،اسی لیے آپ کی امت سے محبت بھی در اصل اللہ کی رضا کے لیے
تھی۔
آپ نے فرمایا:میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(مسلم،ص1400،حديث:2599)
یہ رحمت در اصل
اللہ کی محبت سے پیدا ہونے والا وہ نور تھا جو ہر مخلوق پر مہربان ہو گیا۔
حضور کی حضرت علی سے محبت :
حضورﷺ کی محبت کا مظہر ان کے اہلِ بیت علیہم الرضوان تھے،خاص
طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آپ کو بے
پناہ محبت تھی۔
آپ نے فرمایا:جس
کا میں مولا ہوں،علی بھی اس کے مولا ہیں۔(ترمذی،5/398، حدیث:3733)اسی طرح ایک بار
مولا علی سے فرمایا:تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ (بخاری،2/212،حدیث:2699)
یہ محبت خالص
اللہ کے لیے تھی،نہ کسی رشتے یا دنیاوی وابستگی کی بنا پر،بلکہ روحانی تعلق اور دین
کے رشتے سے۔
نتیجہ :
حضور کی پوری زندگی اللہ کی محبت کی عملی تفسیر تھی۔آپ نے اپنی خواہشات،آرام اور دنیاوی لذتوں کو قربِ
الٰہی کے بدلے قربان کر دیا اور اسی محبت کا مظہر آپ کی اپنے اہلِ بیت خصوصاً حضرت علی سے محبت تھی،جو
محبتِ الٰہی کا ہی تسلسل تھی۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ کی محبت کو اپنی زندگی کا
مقصد بنائیں،سنتِ نبوی کو اپنائیں اور ہر
عمل میں اس کی رضا کو مقدم رکھیں۔
دعا:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ
حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ
اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ
الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت
کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔
(ترمذی،5/296،حدیث:3501)
نبیِ کریم ﷺ کی نماز سے محبت:
اللہ کریم کے آخری
نبی ﷺ کو نماز سے بہت محبت تھی۔آپ نے نماز کو اپنی انکھوں کی ٹھنڈک فرمایا۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)جب
نماز کا وقت ہوتا تو آقا کریم ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے:اے بلال!اٹھو
اور ہمیں نماز سےراحت پہنچاؤں۔( ابو داود 4/385،حدیث:4986)
ذکرِ الٰہی میں مشغولیت:
اللہ پاک کی آخری
نبی ﷺ گناہوں سے معصوم اور رب کے محبوب ہونے کے باوجود ہمہ وقت اللہ کی یاد میں
مشغول رہتے تھے ،سفر و حضر ،خلوت و جلوت،صحت و بیماری الغرض کیسے ہی حالات ہوتے آپ اللہ پاک کے ذکر میں
مشغول رہتے۔چنا نچہ بخاری شریف کی ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ نبیِ کریم ﷺ ہر وقت
اللہ پاک کا ذکر کرتے رہتے تھے۔(بخاری،1/124)
اٹھتے بیٹھتے،چلتے پھرتے،کھاتے
پیتے،سوتے جاگتے،وضو کرتے،نئے کپڑے پہنتے، سوار ہوتے،سواری سے اترتے،سفر میں
جاتے،سفر سے واپس ہوتے،بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور نکلتے، مسجد میں آتے جاتے،
جنگ کے وقت،آندھی، بارش، بجلی کڑکتے وقت،ہر وقت ہر حال میں دعائیں وردِ زبان رہتی
تھیں۔(
سیرتِ مصطفیٰ،ص598)
دعا:
اللہ پاک ہمیں بھی اپنے حبیب پاک ﷺ کے صدقے اللہ
پاک کی سچی محبت عطا فرمائے۔
کراچی، 6 جون 2026ء:
دعوت ِاسلامی
کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 6 جون 2026ء بمطابق 21
ذوالحجۃ 1447ھ کو مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جہاں عاشقانِ رسول کو اپنے دینی مسائل کو حل کرنےاور ڈھیروں علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملا۔
معمول کے مطابق مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوت و نعت
سے کیا گیا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت
علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف
سولات کے جوابات دیئے اور انہیں مدنی پھولوں سے نوازا۔
کراچی بھر سے کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست فیضانِ
مدینہ کراچی میں شرکت کی جبکہ بیرونِ شہر اور بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ
مدنی چینل مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: امیروں کی شاہانہ زندگی اور لائف اسٹائل(Life Style) دیکھ کر عام افراد میں مال حاصل کرنے کا جذبہ
بڑھ جاتا ہے اور جب مال کی لالچ بڑھتی ہے تو انسان حلال و حرام بھول جاتا ہے۔اس
خطر ناک سوچ سے بچنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟
جواب: پیارے آقا صلی
اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری پیاری سیرت پڑھیں،حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کس طرح زندگی گزاری اور دولت سے دُور رہے ،آپ کے ارشاد ات بھی موجود ہیں
کہ مَیں چاہوں تو یہ پہاڑ سونے کے بن کر میرے ساتھ چلیں لیکن آپ نے کبھی ایسا نہیں
کیا بلکہ جب بھی کوئی مال آتا تو راتوں رات اسے راہِ خدا میں تقسیم فرما دیتے، روزانہ
ایک مرتبہ کھانا کھاتے اور دوسرے دن کے لیے بچا کر نہ رکھتے تھے ۔ آپ نے ظاہری
دولت کبھی بھی جمع نہیں فرمائی ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے
ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں مثال دی ہے کہ جب تک کشتی پانی میں ہےتو نہیں ڈُوبے گی،
مگر جب پانی کشتی میں آگیا تو وہ ڈُوب جائے گی ۔ اسی طرح جس
کے پاس مال و دولت ہے، وہ نقصان نہیں پہنچا رہا مگر جس دن یہ مال دل میں آگیا تو سب کچھ لے ڈُوبے گا۔ مال سے
محبت کے بجائے اللہ پاک سے محبت کی جائے ،دُنیا سے محبت کے بجائے میٹھے
مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کی جائے تو ساری دولت ہمارے قدموں میں ہو گی
۔ورنہ دنیا کی محبت گناہوں کی جڑ ہے ۔
نوٹ:مکتبۃ المدینہ کی سیرت کے موضوع پر کتابیں اور رسائل مثلاً”سیرتِ مصطفیٰ،سیرتِ رسول ِ عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم،آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی پیاری سیرت،مختصر سیرتِ رسول“حاصل کرکے مطالعہ کریں۔
سوال:آپ علمائے کرام سے محبت فرماتے ہیں،علماء سے محبت کی کیا
فضیلت ہے ؟
جواب: علمائے کرام اگر معاشرے سے مائنس ہو جائیں تو کچھ نہیں بچے گا ،قدم قد م پر
علماء سے رہنمائی کی حاجت ہوتی ہے حتّٰی کہ علماء کی حاجت جنت میں بھی ہو گی ۔اللہ پاک جنتیوں سے فرمائے گا !مانگو کیا
مانگتے ہو؟ یہ علمائے کرام کی بارگاہ میں
حاضر ہوں گے ان سے پوچھیں کہ ہم اللہ پاک سے کیا مانگیں؟علمائے کرام قیامت کے دن بھی کام آئیں
گے ،علمائے کرام کو روکا جائےگا کہ پہلے اپنے چاہنے والوں کی شفاعت کریں تاکہ وہ
بھی جنت میں داخل ہو جائیں، علمائے کرام کو اگر کسی نے پانی بھی پلایا ہو گا تو وہ
اس کی بھی شفاعت کریں گے ۔ حدیث پاک ہے کہ عالِم بنو یا طالِبِ عِلْم، عِلْمِ
دین سننے والے بنو یا عِلْمِ دِین سے محبّت کرنے والے بنو،پانچوے مت بننا، ورنہ
ہلاک ہو جاؤ گے۔( جامع بیان
العلم و فضلہ 1/ 158، حدیث:151 )
سوال: اس زمانے میں کسی کا عقیدہ جاننے کا معیارکیا ہے ؟
جواب: اس دور میں
ہمارا معیار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ہیں ،انہوں نے ہمیں قرآن و حدیث کادرست مفہوم سمجھایا ہے اور ہمیں عقائد واضح کر کے سمجھائے ہیں۔ان سے جو
محبت کرتا ہے وہ ہمارے سرکا تاج ہے اور جو اِن پر تنقید کرتا ہے، ان کا ذکرِ خیرسُن
کر اس کے منہ پر بادل چھا جاتے ہیں، کدورت منہ پر آتی ہے تو ہمیں نہ چلے(یعنی ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں) ،مَیں اعلیٰ حضرت والا ہوں ۔جس کا چہرہ اعلیٰ
حضرت کا نام سُن کر خوشی سے کِھل اُٹھے
تووہ اپنا ہے ۔
سوال: رِیا نہ ہو
جائے، اس لیے کسی نیک عمل کو چھوڑ دینا کیسا؟
جواب: رِیا کے خوف سے
نیک عمل چھوڑ دینا یہ بھی رِیا ہے ،بندہ نیک
عمل کرے اور اللہ پاک سے اخلاص کی دعا کرے ۔
سوال:اگر کوئی توبہ
کرے لیکن پھر گناہ میں مبتلا ہو جائے
تواب کیا کرے ؟
جواب: توبہ کرتے ہوئے دل کی کیفیت کو دیکھنا ضروری ہے ،توبہ
کرتے وقت شرمندگی کے ساتھ اس نیت کے ساتھ توبہ کرے کہ آئندہ یہ گناہ نہیں کروں گا تَو یہ توبہ ہے۔ اگر تذبذب ہے کہ چھوڑوں گا یا
نہیں چھوڑوں گا تو یہ توبہ نہیں ۔بہر حال درست توبہ کی پھر کسی وجہ سے وہی گناہ
ہو گیا تو دوبارہ توبہ کرے ،یہ توبہ کرنا
ایک دن گناہ کی عادت کو ختم کر دے گا ۔
سوال: شماتت کیا
ہے ؟
جواب: دوسرے کی مصیبت کو دیکھ کر خوش ہونا شماتت ہے اوریہ باطنی بیماری ہے ،اس کا علاج ضروری ہے
،حدیث پاک میں ہے کہ اپنے بھائی کی مصیبت
پر خوشی (شماتت)
کا اظہار نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ پاک اس پر رحم فرمائے اور تمہیں اسی آزمائش میں مبتلا
کر دے ۔(سنن ترمذی ،حدیث نمبر
2543)
سوال: کسی کے گھر
جائیں تو انداز کیا ہونا چاہئے ؟
جواب: جب کسی کے گھر میں داخل ہونا چاہیں تو اِس طرح کہیں: السلامُ علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟٭اگر داخلے کی اجازت نہ ملے تو بخوشی واپس لوٹ جائیں۔
ہو سکتا ہے کسی مجبوری کے تحت صاحبِ خانہ
نے اجازت نہ دی ہو٭جب آپ کے گھر پر کوئی دستک دے تو سُنّت یہ ہے کہ پوچھیں: کون
ہے؟ باہر والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے: مثلاً کہے: محمد الیاس۔ نام بتانے کے
بجائے اس موقع پر مدینہ! میں ہوں! دروازہ کھولو وغیرہ کہنا سنّت نہیں٭جواب میں نام
بتانے کے بعد دروازے سے ہٹ کر کھڑے ہوں
تاکہ دروازہ کھلتے ہی گھر کے اندر نظر نہ پڑے۔
سوال: کیا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم چھوٹے بچوں کی بھی نعت سنتے ہیں ؟
جواب: جی ہاں ! اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سننے کی یہ طاقت دی ہے کہ جب
ہم دُرود شریف پڑھتے یا نعت پڑھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہماری آواز سنتے ہیں،نعت شریف
پڑھنے والا بچہ ہو یا بڑ اہو ۔
سوال:حدیث پاک میں ہے کہ مومن لعنت کرنے والا، طعنہ دینے
والا، فحش گو اور بےہودہ گفتگو کرنے والا نہیں ہوتا۔( ترمذی، حدیث : 1984) تو صرف اتنا کہنا کہ لاکھ دی(پنجابی
میں لخ دی) ،کیا یہ بھی لعنت
ہے ؟
جواب: جی ہاں! یہ بھی لعنت ہے اور اشارے سے بھی لعنت ہوتی ہے
۔لعنت کرنا گنا ہ ہے، نبی کریم صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بے شک بندہ جب کسی چیز کو لعنت کرتا ہے تو
وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے تو اس کے سامنے آسمان کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں پھر وہ دائیں اور بائیں جانب کی راہ
لیتی ہے۔اگر جگہ نہیں پاتی تو جسے لعنت کی
گئی اگر وہ اس کا اہل ہوتا ہے تو اس کی طرف جاتی ہے ورنہ دینے والے پر لوٹ آتی ہے۔(سنن ابو داؤد، حدیث: 4905)یقینی کافر اور شیطان کو بھی لعنت کرنا صرف مباح
ہے یعنی نہ ثواب ہے اور نہ ہی گنا ہ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”ذکرُ اللہ کے واقعات“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
کراچی، 30 مئی 2026ء:
دعوت ِاسلامی
کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 30 مئی 2026ء بمطابق 14 ذوالحجۃ 1447ھ کو مدنی مذاکرے کا
انعقاد کیا گیا جہاں عاشقانِ رسول کو اپنے دینی مسائل کو حل کرنےاور ڈھیروں علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملا۔
مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوت و نعت سے ہوا جس کے
بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال
محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف سولات
کے جوابات دیئے۔
کراچی بھر سے کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست فیضانِ
مدینہ کراچی میں شرکت کی جبکہ بیرونِ شہر اور بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ
مدنی چینل مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: کیا مدینہ پاک کی حاضری میں خواص اور عوام کے ذوق میں کوئی فرق ہوتا ہے ؟
جواب: جی ہاں ! خواص مدینۂ منورہ میں زیادہ مدت رہیں تو ان
کے ذوق میں اضافہ ہوتاہے ،میرے مرشد حضرت مولانا ضیاء الدین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ
75سال مدینۂ منورہ میں رہے اور اُن میں ذوقِ مدینہ بہت تھا، عوام زیادہ دن رہیں تو ان کاذوق کم
ہوجاتاہے۔اس لیے مسلمانوں کے دُوسرے خلیفہ امیرُالمؤمنین حضرت عمرفاروق ِاعظم رضی اللہ عنہ حج کے اختتام پر لوگوں کو اپنے وطن واپس جانے
کا حکم فرماتے تھے۔ہم اللہ
پاک سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں مقدس مقامات کا باادب بنائے۔
یادرکھئے!بےادب اللہ پاک کے فضل و رحمت سے محروم ہے ۔میرا مشورہ ہے کہ
مکہ ومدینہ میں ملازمت یا کاروبارکے لیے سفرنہ کریں ۔ایسوں کے لیے ذوق وادب برقراررکھنا مشکل ہے ۔
سوال: ہمیں مدینۂ
منورہ کس اندازسے حاضر ہونا چاہئے ؟
جواب:حاضری ِمدینہ کے وقت نعتیں پڑھتے ہوئے ،ہرشے سے بے گانہ
ہوکر ،نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تصورمیں ڈُوب کر جانا چاہئے، اس کے لیے پہلے ہی مدینۂ
منورہ کے فضائل پڑھ لے تاکہ ذوق حاصل ہو۔ذوق و رِقَّت کے لیے صحبت بھی مفیدہے، اگر
عاشقانِ رسول بالخصوص جو پہلی مرتبہ گئے ہوں ان کا ساتھ نصیب ہوجائے تو ذوق بڑھے
گا ۔
سوال:حاجی صاحبان یاعلمائے
کرام تشریف لائیں تو ان کو پھولوں کے
ہارپہنانا کیسا؟
جواب: حاجیوں، علمائے کرام کو اُن کی تعظیم کے لیےاوردُولہاکی
خوشی میں اضافے کے لیے ہارڈالے جاتے ہیں ،جب مَیں کہیں جاتاتھا تو مجھے بھی بہت
ہار پہناتے تھے مگر مجھے ان سے کوفت ہوتی
تھی ،ایک تو اس سے کپڑوں پر پھولوں کے داغ لگ جاتے ہیں، دوسرا اس میں کافی ساری رقم خرچ ہوتی ہے اور ہار پہنانا تو
تھوڑی دیرکے لیے ہوتاہے ،پھر مَیں نے سمجھانا شروع کیا کہ آپ لوگ مجھے ہارپہنانے کے لیے جورقم خرچ کرتے ہیں اس کے مکتبۃ المدینہ کے
مختلف رسائل تقسیم کردیا کریں کہ یہ بھی نیکی کی دعوت دینے کا ایک بہترین طریقہ ہے
۔
سوال:آج کل ہمارے معاشرے میں بالخصوص دعوتوں میں کھانا ضائع ہوتاہے ،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: دانہ دانہ بچانا چاہئے، جب قِلّت ہوتی ہے تو اس کی قدرہوتی
ہے، کھا نا ضائع کرنا اِسراف ہے اور یہ گنا ہ ہے، میں سمجھاتا رہتا ہوں ،آپ بھی
سمجھاتے رہیں اور سمجھانے میں تھکیں نہیں۔دعوتوں میں جوکھانا بچ جائے اسے پیک کروا
کر غریبوں کو دے دیں ،کسی مدرسے میں بھیج دیں ۔دعوتِ اسلامی کے ذریعے بھی اسے غریبوں
میں تقسیم کروایا جاسکتاہے۔دعوتِ اسلامی کے شعبے FGRF کے
ذریعے بھی کھانا تقسیم کروایاجاسکتاہے ۔
سوال:بھینس اورکٹےکی قربانی کی جاسکتی ہے ؟
جواب: جی ہاں شرائط پائی جانے کی صورت میں بھینس اورکٹے(نر بھینس/Bull Buffalo) کی
قربانی کی جاسکتی ہے، بھینس گائے کی فیملی سے ہے، یہ دودھ کی ٹینکی ہے ،لوگ غلط
فہمی ڈالتے ہیں کہ اس کی قربانی نہیں ہوتی، اس لیے اگلی مرتبہ ہو سکے تو گھرگھربھینس یاکٹے کی قربانی کریں ۔جواسے پال
سکتاہے تو ابھی سے پالنا شروع کردے ۔یہ گائے سے سستی ہوتی ہے ،اس کا گوشت گائےکی
بنسبت مقدار میں زیادہ ہوتاہے ۔
سوال: بھینس کے
گوشت کے کیا فوائد ہیں ؟
جواب: بھینس کے گوشت میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی
ہےجوپٹھوں کے لیے مفیدہے اور اس کی نشوونمامیں مددکرتی ہے۔اس میں آئرن زیادہ
ہوتاہے جوانسانی بدن کےخون کے لیے مفیدہے،اس میں وٹامن بی(Vitamin B) زیادہ ہوتاہے جو مدافعتی نظام(Immune System) کو مضبوط کرتاہے ،اس کا گوشت کھانے سے پیٹ زیادہ دیرتک
بھرا رہتاہے ۔اس میں گائے کے مقابلے میں چربی بھی کم ہوتی ہے ۔
سوال: حج وعمرہ
کرنے والے، لوگوں کے لیے کیا تحفہ لائیں ؟
جواب: سب سے بہترین تحفہ آبِ زم زم ہےجو کہیں اورنہیں ہوتا،یہ
حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں کی ٹھوکرکی برکت ہے، حاجی کوئی بھی چیزدے
تو شکریہ کے ساتھ اسے قبول کرلیا کریں۔بعض لوگ آب زم زم میں اپنے ہاں کا پانی اور دیگر اپنے وطن کی چیزیں بھی ڈال دیتے ہیں
،اس لیے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اس میں وضاحت بھی کردیا کریں کہ کون سی چیزمکہ مدینہ
کی ہے اورکون سی چیزکہیں اور کی ہے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب:یاربَّ المصطفٰے!جو کوئی 18 صفحات کا رسالہ”فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت“ پڑھ یا سُن لے اُسے فضولیات سے بچا، نیک بنا
اور بار بار حج و دیدارِ مدینہ کا شرف عطا فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النَّبیّٖنْ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اللہ پاک نے
اپنے حبیب،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو تمام
مخلوقات میں سب سے زیادہ عزت،مقام اور قرب عطا فرمایا۔آپ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت اور اس کے دین
کی سر بلندی کے لیے وقف تھی۔آپ کا دل اللہ
کے ذکر سے معمور اور زبان اس کی حمد و ثنا سے تر رہتی تھی۔
در حقیقت،رسولِ
اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ ایک زندہ تفسیر ہے کہ
ایک بندہ اپنے رب سے کس طرح محبت کرتا ہے۔
محبتِ الٰہی کا سرچشمہ:
اللہ پاک نے
قرآن میں فرمایا: وَ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-(پ2، البقرۃ: 165)ترجمہ: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔
یہ آیت رسولِ
اکرم ﷺپر پوری طرح صادق آتی ہے۔آپ کی ذات وہ مرکز ہے جہاں محبتِ الٰہی اپنے عروج
پر پہنچی۔
آپ کے دل میں دنیا کی کوئی چاہت نہ تھی،صرف اللہ کی
رضا کی طلب تھی۔اسی محبت کی بنا پر آپ نے
مصائب برداشت کیے،تبلیغ کا فریضہ ادا کیا اور اپنے رب کی بندگی میں سراپا فنا ہو
گئے۔
عبادت میں عشقِ الٰہی کی جھلک:
حضور کی عبادتیں صرف فرض کی حد تک نہ تھیں بلکہ عشق
و محبت کی گہرائیوں سے معمور تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول
اللہ! آپ تو معصوم ہیں، پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ
عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں
اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)
یہی شکر،یہی
محبت،یہی عشق وہ قوت تھی جس نے حضور ﷺکو
سب سے بلند درجہ عطا کیا۔
زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کی
یاد:
آپ کا ہر عمل،ہر فیصلہ اور ہر گفتگو اللہ کی یاد
سے وابستہ تھی۔کھانے سے پہلےبِسْمِ اللہ،کام کے بعدالحمد للہ اور
ہر حال میں اِن شَاءَ اللہ یہ سب آپ کی عادتیں تھیں،جو محبتِ الٰہی کی علامت ہیں۔اللہ
کے ذکر سے آپ کو روحانی راحت ملتی تھی۔جیسا
کہ آپ نے فرمایا:اپنےربِّ کریم کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنےوالےکی مثال زندہ
اورمُردہ کی طرح ہے۔(بخاری،4/220،حدیث:6407)یہ بات بتاتی ہے کہ آپ کے نزدیک زندگی کی اصل روح اللہ کی یاد میں پوشیدہ
ہے۔
دعاؤں میں محبت کی جھلک:
حضور کی دعائیں اللہ پاک سے گہری محبت کا مظہر تھیں۔آپ اکثر یوں دعا کرتے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ
وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ
إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت
کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے۔ (ترمذی، 5/296،حدیث:3501)
یہ دعا اس بات
کی دلیل ہے کہ حضورﷺ کا سب سے بڑا مقصد
اللہ کی محبت حاصل کرنا تھااور وہ چاہتے تھے کہ امت بھی اسی راہ پر چلے۔
دنیاوی راحتوں سے بے نیازی:
آپ نے دنیا کو محبتِ الٰہی کی راہ میں رکاوٹ نہیں
بننے دیا۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا:
میرا
دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال تو بس اس سوار کی طرح ہے جس نے گرمی کے
دن میں کسی درخت کے سائے تلے تھوڑی دیر آرام کیا، پھر وہ (وہاں سے) چل دیا اور اسے
(وہیں) چھوڑ دیا۔(مسند امام احمد،7/259،حدیث 4208)
یہ الفاظ
بتاتے ہیں کہ آپ کے دل میں دنیا کی کوئی
جگہ نہیں تھی صرف اللہ کی رضا کی طلب تھی۔آپ نے کبھی مال و دولت کی تمنا نہیں کی،بلکہ دل کی
دولت کو سب سے بڑی نعمت سمجھا۔
امت کو محبتِ الٰہی کی دعوت:
حضور ﷺنے اپنی امت کو بھی اللہ سے سچی محبت کا درس دیا۔قرآنِ
پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ
فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے
ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
یہ آیت اعلان
کرتی ہے کہ حضور ﷺکی اتباع ہی محبتِ الٰہی
کا راستہ ہے۔جو حضور کی سنتوں پر عمل کرے
گی وہ اللہ کی پسندیدہ بندی بنے گی۔حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت الفاظ سے بیان نہیں
کی جا سکتی۔یہ محبت آپ کے ظاہر و باطن،گفتار
و کردار اور عبادت و دعا کے ہر گوشے میں نمایاں تھی۔آپ نے ہمیں یہ سکھایا کہ اصل کامیابی دنیاوی لذتوں
میں نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا میں ہے۔اگر ہم حضور کی پیروی کریں،آپ کے اخلاق اپنائیں اور آپ کی سنتوں پر عمل کریں تو ہم بھی
اللہ پاک کی محبوب بندیوں میں شامل ہو سکتی ہیں۔
اللہ پاک نے
اپنے محبوب نبی،حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت،اطاعت،قربت اور
رضا میں بسر ہوئی۔آپ کی ذات اقدس اللہ کے
عشق و محبت کا مظہر تھی۔آپ کا ہر قول،فعل اور عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ
آپ کے دل میں سب سے زیادہ محبت صرف اور
صرف اللہ پاک کے لیے تھی۔
قرآنِ مجید میں اشارہ:
اللہ پاک نے قرآنِ
کریم میں فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ
اللّٰهُ(پ3،الِ
عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ
لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست
رکھے گا۔
یہ آیت اس حقیقت
کو واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺکی زندگی
اللہ کی محبت کا عملی نمونہ ہےاور جو واقعی اللہ سے محبت چاہتی ہے،اسے حضور ﷺکی اتباع کرنی ہوگی۔
حضور کی محبتِ الٰہی کا اظہار:
حضور کا دل ہمہ وقت اپنے ربّ کے ذکر میں مصروف رہتا
تھا۔جب بھی کوئی خوشی یا غم آتا آپ سب سے
پہلے اللہ کی طرف رجوع فرماتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلىٰ
كُلِّ أَحْيَانِهٖ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔ (مسلم،ص159،
حدیث: 826)
راتوں کو
آپ طویل قیام فرماتے،یہاں تک کہ قدم مبارک
سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر
اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)
یہ جملہ اس
بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی عبادت محض فرض کی
ادائیگی نہیں بلکہ محبت اور شکرگزاری کا اظہار تھی۔
دعا اور مناجات میں محبت:
حضور کی دعائیں اللہ سے گہری محبت کی عکاس تھیں۔ایک
دعا میں فرمایا:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ
حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ
اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ
الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت
کومیرے لئے میری جان، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے۔(ترمذی،5/296،حدیث: 3501)
یہ دعا ظاہر
کرتی ہے کہ حضور کے نزدیک دنیا کی تمام
لذتوں سے بڑھ کر اللہ کی محبت عزیز تھی۔
محبتِ الٰہی میں خشیت و عاجزی:
حضور کا دل اللہ کے خوف اور محبت سے لبریز تھا۔حضرت
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور فرمایا کرتے:وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا
کی قسم! میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔
(بخاری،3/421،حدیث:5063)
یہ خشیت در اصل
محبت کی انتہا ہے،کیونکہ سچی محبت انسان کو اپنے محبوب کے غضب سے ڈرنے پر مجبور
کرتی ہے۔
اللہ کی رضا ہی مقصدِ زندگی:
آپ کی پوری زندگی کا مقصد اللہ کی رضا تھا۔جنگ ہو یا
صلح،غم ہو یا خوشی ہر موقع پر آپ نے اللہ کی مرضی کو مقدم رکھا۔اللہ پاک نے فرمایا:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ
الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-(پ28،
الحشر: 7)ترجمہ:اور جو کچھ تمہیں رسول عطا
فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔
یہ آیت
حضور ﷺکی مکمل اطاعت کا حکم دیتی ہے،جو اس
بات کی دلیل ہے کہ آپ خود سراپا محبتِ
الٰہی تھے۔
محبوبِ الٰہی کا مقام:
اللہ پاک نے
آپ کو اپنی محبت سے سرفراز فرمایا۔قرآن میں
فرمایا گیا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔
یہ درجہ کسی
اور نبی کو نصیب نہیں ہوا۔آپ کوحبیب اللہ یعنی
اللہ کا محبوب کہا گیا،جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوخلیل اللہ کہا گیا۔اس سے
واضح ہے کہ حضور کی محبتِ الٰہی سب سے اعلیٰ
اور کامل ہے۔
حضور کی اللہ پاک
سے محبت بے مثال تھی۔یہ محبت آپ کے اخلاق،
عبادات، معاملات اور دعاؤں کے ہر پہلو میں نظر آتی ہے۔آپ نے امت کو بھی یہی تعلیم دی کہ اللہ کی محبت کو
سب چیزوں پر مقدم رکھو۔
قرآن میں فرمایا
گیا:وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا
اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-(پ2، البقرۃ: 165)ترجمہ: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔
پس ہمیں چاہیے
کہ ہم بھی محبوب ﷺکے نقشِ قدم پر چل کر
اللہ کی محبت حاصل کریں،کیونکہ اللہ کی محبت ہی انسان کی اصل کامیابی ہے۔
اللہ پاک نے
اپنے محبوب،حضرت محمد مصطفےٰﷺ کو تمام
انسانوں کے لیے ہدایت و رحمت بنا کر بھیجا۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ پاک کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔آپ کا سونا، جاگنا،چلنا،بولنا،عبادت کرنا،تبلیغ
کرنا،سب کچھ صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے تھا۔قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے فرمایا:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا
فَهَدٰى۪(۷)(پ30، الضحیٰ:7)ترجمہ:اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ
دی۔
آپ کی سیرت میں اللہ سے تعلق کی اعلیٰ ترین مثالیں
موجود ہیں۔میدانِ طائف میں جب لوگوں نے پتھر مارے تو بھی آپ نے اللہ پاک سے شکوہ نہ کیا،بلکہ یوں عرض کی: اے
اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، 1/
419)
آپ کی دعا تھی:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ
وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ
إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت
کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)
یہ محبت ہمیں
سکھاتی ہے کہ ہمارا بھی اللہ پاک سے تعلق مضبوط ہو۔ہم نماز، دعا، قرآن اور نیکیوں
کے ذریعے اپنے دل میں اللہ کی محبت کو جگہ دیں،جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا۔ نبیِ کریم کی محبتِ الٰہی کی انتہا دیکھئے کہ جب راتوں کو
قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتے،قدموں پر ورم آ جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!
(بخاری،3/329، حدیث: 4837)
اس حدیث سے
ثابت ہوتا ہے کہ حضور ﷺکو کسی گناہ سے ڈر نہیں تھا کیونکہ آپ معصوم تھے لیکن اللہ سے محبت اتنی شدید تھی کہ وہ راتوں
کو قیام کرتے،سجدے میں گر جاتے صرف شکر ادا کرنے کے لیے۔
غارِ ثور میں اعتماد ومحبت:
جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غارِ ثور میں خوف زدہ ہوئے تو
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:لَا تَحْزَنْ اِنَّ
اللّٰهَ مَعَنَاۚ-(پ10، التوبۃ:40)ترجمہ: غم نہ کھا
بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
یہ مکمل بھروسا
اور محبت کا اظہار ہے کہ سب کچھ چھن جائے،پر اللہ کافی ہے۔
حدیث:وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا
کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔(بخاری،3/421،حدیث:
5063)
رسول اللہﷺ کی اللہ سے محبت علم،معرفت اور خشیت(دل کا خوف /احترام)
کے ساتھ تھی۔جو اللہ کو جتنا زیادہ پہچانتا ہے،وہ اس سے اتنی ہی زیادہ محبت کرتا
ہے اور اس کے سامنے جھکتا ہے۔
مفہوم :
رسول اللہﷺ کی اللہ سے محبت کامل،خالص اور ہر چیز سے بڑھ کر تھی۔آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی رضا،عبادت
اور اطاعت میں گزارا۔مشکل،راحت،تنہائی یا مجمع ہر حال میں آپ کا دل صرف اللہ سے
وابستہ تھا۔
اللہ پاک نے
اپنے محبوب،سیدالانبیا،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ
کو وہ مقامِ قرب عطا فرمایا جو کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔آپ کی پوری حیاتِ طیبہ اللہ پاک کی محبت،خشیت اور
عبادت سے روشن ہے۔آپ کا ہر عمل،ہر ارادہ،ہر
سانس صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے تھا۔
بچپن ہی سے نبیِ
اکرم ﷺکا دل دنیاوی کھیل کود سے ہٹا ہوا
اور خالقِ حقیقی کی طرف متوجہ تھا۔مکہ کے شور و غل میں جب لوگ بتوں کے آگے سر
جھکاتے،آپ غارِ حرا کی تنہائیوں میں اللہ
کی یاد میں ڈوب جاتے۔وہ راتیں جب آپ کا دل
اللہ کی طرف جھکتا اور نگاہیں آسمان کی وسعتوں میں اس کے نور کو تلاش کرتیں در اصل یہی وہ لمحے تھے جب محبتِ الٰہی کا چراغ
آپ کے دل میں روشن ہوا۔
اللہ پاک نے قرآنِ
کریم میں ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ
یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان
بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
یہ آیت اعلان
ہے کہ نبی ﷺ اللہ کے محبوب ہیں اور
آپ کی پیروی ہی اللہ کی محبت کا راستہ ہے۔
نبیِ کریم کی محبتِ الٰہی کی انتہا دیکھئے کہ جب راتوں کو
قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتے،قدموں پر ورم آ جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329، حدیث: 4837)
یہ جملہ عشقِ
الٰہی کا وہ درجہ ہے جہاں بندہ اپنے محبوبِ حقیقی کے سامنے مکمل فنا ہو جاتا ہے۔آپ کی زبان ہر لمحہ اللہ کے ذکر سے تر رہتی تھی۔ہر
بات بسم اللہ سے شروع،ہر مصیبت پرالحمد للہ،ہر
کامیابی پراللہ اکبر۔آپ کے دل
میں اللہ کی محبت آپ کو کسی سے غافل نہ کرتی۔ایک حدیث میں نبی نے فرمایا:أَحِبُّوا اللَّهَ
لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ وَأَحِبُّوا
أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي اللہ
سے محبت کرو ان نعمتوں کی وجہ سے جو وہ تمہیں کھلاتا (عطا کرتا) ہے، اور اللہ کی
محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو، اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت
کرو۔(ترمذی،5/434،حدیث:3814)
اللہ پاک نے
آپ کے لیے فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4) ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔
یہ اللہ پاک کی
اپنے محبوب ﷺسے محبت کا سب سے واضح اعلان
ہے کہ جہاں رب کا نام لیا جاتا ہے،وہاں اس
کے محبوب کا ذکر بھی بلند کیا جاتا ہے۔
آخر میں یہی
حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضور ﷺکی زندگی
اللہ پاک کی محبت اور قرب کی سب سے روشن مثال ہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم آپ کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی زندگی کو ذکر،شکر
اور محبتِ الٰہی سے منور کریں۔یہی کامیابی کا راز ہے،یہی ایمان کی حقیقت ہے۔
حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ محمد نواز،فیضان
عائشہ صدیقہ مظفر پور سیالکوٹ
اللہ پاک نے
اپنے محبوب،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ بلند مقام عطا
فرمایااور آپ کی ہر ادا کو معیارِ ہدایت بنایا۔آپ کی اللہ پاک سے محبت سب سے کامل،خالص
اور بے مثال تھی۔یہ محبت نہ صرف قول سے بلکہ عمل، اطاعت، عبادت،توکل اور تسلیم و
رضا کی اعلیٰ ترین شکلوں میں ظاہر ہوئی۔
قرآنِ مجید کی روشنی میں
1 :سورۃ النجم:وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ(۱)مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا
غَوٰىۚ(۲)(پ27، النجم:1-2)ترجمہ:اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اُترے تمہارے صاحب
نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔
یہ اس بات کی
دلیل ہے کہ آپ کی راہ اور دین اللہ پاک کی طرف سے ہے،جس میں آپ کی محبتِ الٰہی
شامل ہے۔
2 :سورۃ الِ عمرٰن:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ
فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،ال عمرٰن: 31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے
ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
اللہ پاک نے
اپنے نبی ﷺ کی اتباع کو اپنی محبت کا معیار قرار دیا۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ
رسول اللہ ﷺ کی ذات،اللہ سے محبت کا مجسم نمونہ ہے۔
3:سورۃ الضحیٰ:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔
یہ آیت اللہ پاک
کی خاص ہدایت اور نگہبانی کی طرف اشارہ کرتی ہے،جو آپ کو اللہ پاک سے خاص تعلق کی
بنیاد پر عطا ہوئی۔
احادیث کی روشنی میں
1: نماز میں محبتِ الٰہی:
حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ
عبادت،شکر اور محبت کا اعلیٰ ترین اظہار تھا۔
2: دعا میں محبت:
آپ ﷺ اکثر دعا
فرماتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ
وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ
اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ
الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت
کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)یہ
دعا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حضور ﷺ کا دل محبتِ الٰہی سے لبریز تھا۔
3 :توکل اور رضا:
جب طائف کے میدان
میں پتھروں سے زخمی کیا گیااور جبریل علیہ السلام نے پہاڑوں کے فرشتے کو پیش کیا
کہ اگر چاہیں تو طائف والوں کو تباہ کر دیا جائے،تو آپ نے فرمایا: اَللّٰهُمَّ
اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ
یہ نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)
یہی وہ دل ہے
جو اللہ کی رضا میں راضی ہے اور اس کی مخلوق سے بھی محبت رکھتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی
اللہ پاک سے محبت کامل،خالص اور بے مثال تھی۔یہ محبت صرف الفاظ یا جذبات کی حد تک
نہ تھی،بلکہ مکمل اطاعت، بندگی،عبادت،شکر،صبر، توکل اور رضا کی عملی شکل میں تھی۔اگر
ہم بھی اللہ پاک سے سچی محبت کی طلبگار ہیں تو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو اپنانا
ہوگا،کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا:فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،ال
عمرٰن: 31)ترجمہ:تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ
اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
اللہ پاک ہمیں
پیارے حبیب ﷺ کے صدقے سچی محبت عطا فرمائے ۔آمین
حضور کی
اللہ پاک سے محبت از ہمشیرہ محمد منیب،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
رسولِ اکرم،حضرت
محمدﷺ کی حیاتِ طیبہ کا سب سے نمایاں پہلو
آپ کی اللہ پاک سے بے پناہ محبت اور تعلق ہے۔قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ سے یہ
حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ کی
زندگی کا ہر لمحہ،ہر سانس اور ہر عمل صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا اور محبت کے
حصول کے لیے وقف تھا۔
قرآنِ مجید میں اظہارِ محبت:
اللہ پاک نے
اپنے محبوب ﷺکے بارے میں فرمایا:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى
خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)(پ29،القلم:4)
ترجمہ: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔
یہ عظیم اخلاق
در اصل اللہ پاک کی محبت اور قرب کی وجہ سے ہی تھے۔مزید فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ
تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن:
31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے
ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
یہ آیت اس بات
کی گواہی ہے کہ حضور خود اللہ کے محبوب ہیں
اور آپ کی اتباع ہی اصل محبتِ الٰہی کا ذریعہ
ہے۔
سیرتِ مبارکہ سے شواہد:
1 :عبادت میں محبت کا اظہار:
حضور راتوں کو قیام فرماتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں
مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر
اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)
یہ اللہ کی
محبت ہی تھی کہ آرام چھوڑ کر راتوں کو رب کے حضور کھڑے رہتے۔
2 :دعاؤں میں محبت کا انداز:
رسول اللہ ﷺ
اکثر یہ دعا کرتے: اَللّٰہمَّ
إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ
یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ
وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں
تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو
تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے
پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501) یہ دعا
حضور کے دل کی گہرائی میں اللہ سے محبت کی
جھلک پیش کرتی ہے۔
3:دعا طائف کے موقع پر:
اے اللہ! اگر
تُو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، 1/ 419)
4:اللہ کی محبت کا انعام:
اللہ پاک نے
بھی اپنے حبیب ﷺکی اس محبت کے بدلے میں بے مثال قرب عطا فرمایا۔قرآن میں ارشاد ہے:مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ
مَا طَغٰى(۱۷)(پ27،النجم:17)ترجمہ: آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی۔
یعنی معراج کی
رات جب آپ نے اپنے رب کا قرب پایا تو نہ
نگاہ بہکی اور نہ حد سے بڑھی۔یہ قربِ خاص اس محبت کا ثبوت ہے جو اللہ پاک نے اپنے
نبی ﷺکو عطا فرمایا۔
حضورﷺ کی اللہ
پاک سے محبت ایک کامل اور مثالی محبت ہے۔یہ محبت صرف زبانی دعوؤں تک محدود نہ تھی
بلکہ ہر عمل،ہر عبادت اور ہر فیصلے میں جھلکتی تھی۔آپ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی
اللہ سے محبت اور اس کی رضا میں ہےاور اس محبت تک رسائی صرف اور صرف اتباعِ
رسول کے ذریعے ممکن ہے۔اللہ پاک ہمیں زیادہ
سے زیادہ سیرتِ مصطفےٰ کا مطالعہ کرنے اور
اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami