دین اسلام اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے کامل ترین دین ہے جس نے ہر دم قدم پر مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے۔ اب اس دین اسلام کے بعدکسی نئی شریعت کی حاجت نہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ- (پ 6، المائدۃ: 5) ترجمہ کنز العرفان: آ ج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت کامل کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند یدہ بنا دیا ہے۔

دین اسلام میں مسلمانوں کے آپس کے حقوق ادا کرنے پر ثواب کی بشارت اور محروم کرنے کی صورت میں عذاب کی وعیدات بیان فرمائیں چنانچہ حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو:

جنت میں محل: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے جنت میں محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کیے جائیں تو اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کرے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑ ے۔ (مستدرك، 3/12، حديث: 3215)

یہ حدیث مبارکہ حسن اخلاق پر ابھارتی ہے اور یقینا لوگوں کے ساتھ اچھا اخلاق اپنانا بھی ان کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔

لوگوں کو حسن اخلاق سے محروم کرنا: چنانچہ حسن اخلاق میں سے ہے کہ جب کوئی اس پر احسان کرے تو اس کا شکریہ ادا کرے ورنہ وہ نا شکرا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ جو لوگوں کا شکرادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ (ابو داود،4/335، حدیث: 4811)

بچوں کو شفقت سے محروم کرنا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا۔ نبی کریم ﷺ کے پاس اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اقرع رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے دس لڑکے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ جو اللہ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ (بخاری، 4/100، حديث: 5997)

رشتہ داروں کو حسن سلوک سے محروم کرنا: رشتہ داروں سے حسن سلوک یہ ہے کہ ان کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے اور قطع تعلقی سے بچے چنانچہ حدیث مبارکہ میں رشتہ کاٹنے والے کے بارے میں وعید بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم، ص 1383، حديث: 2556)

صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ساری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صلہ رحم واجب ہے اور قطع رحم یعنی رشتہ کاٹنا حرام ہے۔ (بہار شریعت، 3/558، حصہ: 16)

حاجت مند کو اپنی مدد سے محروم کرنا: ضرورت کے وقت کسی کی مدد نہ کرنا خود غرضی اور انسانی ہمدردی کی کمی ہے اور اس کی حق تلفی کرنے کے مترادف ہے جیسے اپنے مال میں سے بخل کی وجہ سے فقرا و مساکین وغیرہ پر خرچ نہ کرنا حدیث مبارکہ میں بخل کی مذمت بیان فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو خصلتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہو سکتیں؛ بخل اور بد خلقی۔ (ترمذى، 3/387، حديث: 1969)

رعایا کو عدل و انصاف سے محروم کرنا: رعایا کے درمیان عدل اور انصاف کا قیام کرے ایسا نہ ہو کہ امیروں کے ساتھ تو اچھا سلوک کیا جائے اور غریبوں کے ساتھ برا۔ بلکہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔

جیسا کہ ایک مرتبہ ام المومنين حضرت عائشہ صد یقہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں: قریش کے خاندان بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی تو قریش سوچ و بچار کرنے لگے کہ سرور عالم ﷺ سے اس کی سفارش کون کرے؟ بالآخر حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہ کا انتخاب ہوا کہ یہ حضور کے محبوب ہیں، یہ بات کر سکتے ہیں۔ حضرت اسامہ نے جب آپ سے اس عورت کی سفارش کی تو سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم اللہ پاک کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟ پھر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا: اےلوگو! تم سے پچھلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہان میں صاحب منصب چوری کرتا تو اسے چھوڑدیا جاتا اور اگر غریب چوری کرتا تو اسے سزا دی جاتی، خدا کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی، تو میں اس کا ( بھی) ہاتھ کاٹ دیتا۔ (مسلم، ص 927، حدیث: 1688)

اللہ پاک مسلمانو ں کو آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


محروم کرنا ایک ایسا عمل ہے جو کسی کو بھی کسی چیز سے محروم کر دیتا ہے، چاہے وہ چیز کچھ بھی ہو جیسے کہ کھانا، لباس،گھر یا کسی بھی ضروری شے سے محروم کرنا۔

قران پاک میں ارشاد ہوتا ہے: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُۙ-قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ ﳓ (پ 23، یٰسٓ: 47) ترجمہ: اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دئیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لیے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا۔

محروم کرنے کی وجہ سے انسان کے دل پر کیا اثر پڑتا ہے؟ محروم کرنے کی وجہ سے انسان کے دل پر بہت سارے برے اثرات پڑھتے ہیں جیسے کہ:

دل میں کڑواہٹ پیدا ہوتی ہے۔ نسان کی نیت خراب ہوتی ہے۔ انسان کا دل سخت ہوتا ہے۔ انسان میں حسد پیدا ہوتا ہے۔ انسان کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ یہ سب برے اثرات انسان کو اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جاتے ہیں۔

یہاں کچھ احادیث پیش ہیں جو کسی کو ناحق محروم کرنے، حق نہ دینے یا ظلم کی مذمت کرتی ہیں:

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کا حق جھوٹی قسم کھا کر چھین لے، تو اللہ اس کے لیے جہنم واجب کر دیتا ہے، اور جنت اس پر حرام کر دیتا ہے۔ (مسلم، ص 82، حدیث: 137)

ارشاد فرمایا: مزدور کو اس کی مزدوری دو اس سے پہلے کہ اس کا پسینہ خشک ہو۔(ابن ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)

بارگاہِ الٰہی میں حضور نے عرض کی: اے اللہ! جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار ہو اور انہیں تنگ کرے، تو اسے بھی تنگی میں ڈال۔ اور جو ان پر نرمی کرے، تو اس پر نرمی فرما۔ (مسلم، ص 783، حدیث: 4722)

مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)

جو کسی کو محروم کرے، وہ مظلوم کی بددعا کا نشانہ بن سکتا ہے۔

اسلام میں کسی کا حق ناحق روکنا یا کسی کو محروم کرنا ظلم ہے، اور ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ جو شخص دوسروں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرتا ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضی کا مستحق بنتا ہے۔


اللہ رب العزت نے انسانوں کو باہمی حقوق، عدل و انصاف اور محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام کا پیغام ہی یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کا حق دیا جائے اور کسی کو اس کے جائز حق سے محروم نہ کیا جائے۔ کسی کو محروم کرنا، خواہ مال میں ہو، عزت میں ہو، یا کسی اور نعمت میں، شریعت اسلامیہ میں نہایت سخت گناہ اور اخلاقی برائی شمار کیا گیا ہے۔

محروم کرنے کا مفہوم: محروم کرنے سے مراد یہ ہے کہ کسی کو اس چیز سے روک دیا جائے جو شرعاً یا اخلاقاً اس کا حق بنتا ہے۔ جیسے کسی مزدور کی مزدوری روک لینا، یتیم کے مال میں خیانت کرنا، وراثت میں کسی کا حصہ دبا لینا، یا کسی ضرورت مند کو حق امداد نہ دینا، یہ سب محروم کرنے کی صورتیں ہیں۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) (پ 30، المطففین: 1تا 3) ترجمہ: تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو دوسروں سے ناپتے وقت پورا لیتے ہیں، اور جب دوسروں کو دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ دوسروں کے حق میں کمی کرنا یا انہیں محروم کرنا اللہ کے نزدیک سخت جرم ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں محرومی کی مذمت: نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں عدل و انصاف کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مزدور کو اس کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔ (ابن ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)

یہ حدیث مبارکہ ظاہر کرتی ہے کہ کسی کو اس کے حق سے دیر تک بھی محروم رکھنا ظلم ہے۔ اگر اسلام فوری ادائیگی کا حکم دیتا ہے تو محرومی کا جرم اس سے کہیں زیادہ سنگین قرار پاتا ہے۔

وراثت میں محرومی: اسلام نے عورتوں، بچوں، اور یتیموں کو بھی وراثت میں مقررہ حصہ دیا ہے۔ مگر آج بھی بہت سے لوگ اپنی بہنوں، بیٹیوں یا بیوہ عورتوں کو ان کے وراثتی حقوق سے محروم کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰) (پ 4، النساء: 10) ترجمہ: جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں، اور وہ ضرور جہنم میں جلیں گے۔

یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محرومی صرف دنیا کا نقصان نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی اپنے ساتھ لاتی ہے۔

محرومی کی اخلاقی قباحت: اسلام صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی نظام بھی دیتا ہے۔ کسی کو محروم کرنا دراصل خودغرضی، لالچ اور ظلم کی علامت ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 13)

یہ حدیث اخلاقی معیار قائم کرتی ہے کہ مومن وہ ہے جو دوسروں کو ان کے حقوق دینے میں خوشی محسوس کرے، نہ کہ انہیں محروم کرے۔

سماجی اثرات: کسی کو محروم کرنا صرف ایک شخص کی ناانصافی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے حقوق مارنے لگیں تو دلوں سے اعتماد ختم ہوجاتا ہے، نفرت بڑھتی ہے، اور معاشرہ بے سکون ہوجاتا ہے۔

قرآن میں ارشاد ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔

یعنی دوسروں کے مال، عزت، یا کسی بھی حق میں کمی کرنا جائز نہیں۔

محروم کرنا ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو بندے کو ظلم، خودغرضی اور بے رحمی کی طرف لے جاتی ہے۔ اسلام نے ہمیں عدل، انصاف، اور ایثار کا حکم دیا ہے۔ اگر ہم کسی کو اس کے حق سے محروم کرتے ہیں تو یہ نہ صرف دنیا میں فساد پھیلاتا ہے بلکہ آخرت میں سخت عذاب کا باعث بنتا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں بدل جائے گا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 1447)

اللہ تعالیٰ ہمیں انصاف کے ساتھ زندگی گزارنے، دوسروں کو ان کے حقوق دینے اور محرومی جیسے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔


اسلام میں کسی کو اس کے حق سے محروم کرنا اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے اللہ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے منع کیا ہے اور حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے اور جو اس کی ادائیگی پر عمل نہیں کرتا وہ گناہ گار ہے وراثت سے محروم کرنے کی مذمت مختلف معاشرتی اور اسلامی پہلو پر کی جا سکتی ہے جن میں سےعدل و انصاف کی خلاف ورزی،خاندانی تعلقات کی خرابی، اللہ کے احکامات سے نافرمانی،معاشی عدل استحکام اور سماجی ہےان سب کی وضاحت پربھی غور کرتے ہیں۔

1۔عدل و انصاف کی خلاف ورزی: محروم کرنا یعنی کسی کو اس کے حق سے محروم کرنا عدل و انصاف کے بنیادی تصورات کے منافی ہے کیونکہ عدل و انصاف کا مقصد ہی فرد اور معاشرے کے درمیان توازن اور بربادی کو یقینی بنانا ہے اور کسی کو اس کے حق سے محروم کرنا اس توازن کو بگاڑتا ہے اور ناانصافی کا باعث بنتا ہے جیسے کسی کی حق تلفی کرنا اور کسی کو برباد کرنا وغیرہ۔

2۔ خاندانی تنازعات کو ہوا دینا: ایک پہلو کے متاثر ہونے سے ایک مسلمان کی پوری زندگی متاثر ہو سکتی ہے حکایت کی خرابی سے ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے اسی طرح معاشرتی نظام بگڑ جائیں تو صحیح اسلامی معاشرہ تقسیم نہیں پا سکتا مسلمان معاشرے سے عام طور پر میاں بیوی اور ساس بہو کے حوالے سے جھگڑے ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں ان کی سنگینی کئی اعتبار سے ہے یہ جھگڑے خاندان کے افراد کا ذہنی سکون برباد کر دیتے ہیں جس طرح ذات کے نتائج زندگی کے بہت سے معاملات پر اثر انداز ہوتے ہے بچوں پر نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ اثرات پوری زندگی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے ایسے جھگڑوں میں خاوند جدا ہو جاتے ہیں طلاق کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ اکثر واقعات غصہ،وقتی رنجش کی بناپر پیش آتے ہیں۔

3۔ اللہ کے احکامات کی نافرمانی: اسلام میں کسی کو اس کے حق سے محروم کرنا اللہ کے حکم کے خلاف ورزی ہے اللہ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے منع کیا ہے اور حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے گناہ سے مراد جو اللہ کے احکامات کے خلاف ہو محروم کرنا ایک ایسا فعل ہے جس میں دوسرے کا حق مارا جاتا ہے جو شرعا ممنوع ہے اور گناہ کہلاتا ہے گناہ کی وجہ سے اللہ کا غضب اور عذاب ہوتا ہے محروم کرنے والا شخص عذاب کا مستحق ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اللہ کی نافرمانی کر رہا ہے۔

اسلام نے انصاف اور حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے کسی کو اس کے جائز حق سے محروم کرنا ظلم اور نافرمانی ہے کسی کی دولت یا روزی چھیننا یا اسے کسی بھی طرح سے اپنے حق سے محروم کرنا غلط ہے قران و سنت میں اس طرح کے افعال سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو نرمی سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہا۔ (ترمذی، 3/408، حدیث: 2020)

اللہ کے بندوں سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے اور ہمارا رب اپنے بندوں سے بہت محبت فرماتا ہے اسی لیے اللہ پاک نے آخری نبی ﷺ کے ذریعے اپنے بندوں سے نرمی کا برتاؤ کرنے کی تاکید فرمائی ہے ان تاکیدات میں سے ایک یہ حدیث پاک بھی ہے اس حدیث پاک کی شرح میں ہے سختی کی ضد نرمی ہے۔ (حاشیہ سندھی علی ابن ماجہ، 4/197، تحت الحدیث:3687- شرح مسلم للنووی،جزء:8،16/145)

ہمیں بھی چاہیے دوسروں کو ان کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔


اسلام انسانوں کے درمیان عدل، انصاف اور حقوق کی ادائیگی پر زور دیتا ہے۔ کسی کو اس کے حق سے محروم کرنا یا ظلم کے ذریعے اس کا حصہ چھین لینا نہ صرف بڑا گناہ ہے بلکہ آخرت میں سخت عذاب کا باعث بنے گا۔

احادیث مبارکہ:

1:حق چھیننے پر وعید: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کی ایک بالشت زمین بھی ظلماً لی، قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔ (بخاری، 2/376، حدیث:3196)

2:ظلم اور محرومی کی سزا: آپ ﷺ نے فرمایا: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 1447)

3:ناجائز طریقے سے مال کھانے کی مذمت: نبی ﷺ نے فرمایا: جو کوئی کسی مسلمان کا حق قسم کھا کر غصب کرے، اللہ اس پر جہنم واجب کر دے گا اور جنت اس پر حرام کر دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا: اگر وہ چیز معمولی ہو (جیسے لکڑی کی ٹہنی)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خواہ وہ اراک کی چھڑی ہی کیوں نہ ہو۔ (مسلم، ص 82، حدیث: 137)

4:خیانت و محرومی کا انجام: آپ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی کو مزدور رکھے اور اس کی اجرت پوری نہ دے تو قیامت کے دن اس کا خصم اللہ ہوگا۔ (مسند امام احمد، 3/278، حدیث: 8700 ماخوذاً)

5:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کا حق ناحق طور پر روکا، وہ اللہ کی ناراضگی میں آئے گا، خواہ وہ چیز معمولی ہی کیوں نہ ہو۔

یعنی اگر کوئی معمولی چیز بھی ہو جیسے سوئی یا تنکا، پھر بھی حق دار کو محروم کرنا اللہ کی ناراضی کا سبب ہے۔

حکم: کسی بھی مسلمان یا غیر مسلم کو اس کا حق نہ دینا یا چھین لینا ظلم ہے، اور ظلم اسلام میں سختی سے حرام ہے۔ زمین، مال، وراثت، اجرت یا کسی بھی چیز میں محروم کرنا کبیرہ گناہ ہے اور قیامت کے دن سخت عذاب کا باعث بنے گا۔

ایسے شخص کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مظلوم کی بد دعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)

یا اللہ! ہمیں کسی کا حق کھانے والا نہ بنا، یا اللہ! ہمیں دوسروں کا مال اور حصہ دینے والا بنا، یااللہ! ہمیں ظالموں میں شامل نہ کر اور قیامت کے دن ہمیں مظلوموں کے ساتھ اٹھا۔ آمین


اللہ نے انسان کو عقل، شعور اور اختیار دے کر آزمائش کے میدان میں اتارا۔ اس نے عدل، رحم اور خیرخواہی کو پسند فرمایا اور ظلم، حسد اور محرومی کے دروازے بند کر دیئے۔ مگر افسوس! آج کے دور میں انسان اپنے ہی بھائی کو اس کے حق، مقام اور نعمت سے محروم کر کے خوش سمجھتا ہے۔ یہی رویہ معاشرتی زوال، روحانی اندھیروں اور اخروی بربادی کا سبب بنتا جا رہا ہے۔

محروم کرنا کیا ہے؟ کسی کو اس کے حق سے روک لینا، چاہے وہ مال میں ہو، محبت میں، علم میں، یا موقع میں یہی محروم کرنا ہے۔

جب کسی کا حصہ دبا لیا جائے، کسی کا حق چھین لیا جائے، یا کسی کو حسد و بغض کی وجہ سے خیر سے روک دیا جائے، تو دراصل یہ محروم کرنا ہے، اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔

یہ آیت صرف ناپ تول کی کمی پر نہیں، بلکہ ہر اس محرومی پر صادق آتی ہے جو کسی کے حق کو دبانے سے پیدا ہو۔ جس نے کسی کو حق سے محروم کیا، اس نے دراصل زمین میں فساد کی بنیاد رکھی۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے: ظلم سے بچو، بے شک ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں ہوگا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 1447) محروم کرنا بھی ظلم ہی کی ایک شکل ہے۔ جو کسی کو موقع، عزت یا حق سے محروم کرتا ہے، وہ خود اپنی قبر کے لیے اندھیروں کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔

بزرگان دین کی نصیحت: حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب کسی بندے سے ایک حق چھن جاتا ہے، تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ ظالم سے کئی نعمتیں چھین لیتا ہے۔ (تاریخ الخلفاء، ص 208)

یعنی جو دوسروں کو محروم کرتا ہے، دراصل خود محرومی کا شکار ہوتا ہے، کبھی رزق میں، کبھی سکون میں، کبھی عزت میں۔

محرومی کے نقصانات:

1۔ روحانی زوال: دل سے برکت اٹھ جاتی ہے۔

2۔ معاشرتی فساد: تعلقات میں نفرت اور دوریاں بڑھتی ہیں۔

3۔ دعائیں رد ہوتی ہیں: کیونکہ ظالم کی دعا قبول نہیں ہوتی۔

4۔ اللہ کا غضب: محروم کرنے والا دراصل اللہ کی نعمتوں سے خود محروم ہو جاتا ہے۔

بچنے کے طریقے: نیت کو درست رکھیں، ہمیشہ خیر چاہیں۔ حسد، تکبر اور لالچ سے دل کو پاک کریں۔ ہر کام میں انصاف اور عدل کو مقدم رکھیں۔ اگر کسی کا حق دب گیا ہو، فوراً ادا کر دیں۔ دل میں یہ سوچ رکھیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے، یہی احساس انسان کو عدل کی راہ پر رکھتا ہے۔

یاد رکھیے! محروم کرنا صرف دوسروں کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ اپنے ایمان پر ضرب ہے۔ جو بندہ دوسروں کو نعمت سے روکتا ہے، وہ دراصل اللہ کی رحمت کے دروازے اپنے لیے بند کر دیتا ہے۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو بندہ لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اس کے دل سے ایمان کی لذت چھن جاتی ہے۔ (حلیۃ الاولیاء، 2/131)

اے اللہ! ہمیں عدل و انصاف والا دل عطا فرما۔ اے کریم! ہمیں کسی کے حق سے محروم کرنے والا نہ بنا، بلکہ دوسروں کو عطا کرنے والا بنا۔ ہمیں حسد، ظلم، اور خود غرضی سے محفوظ فرما اور ہمیں اپنی رحمتوں سے کبھی محروم نہ فرما۔


فرمان امام زین العابدین: غور و فکر ایک ایسا آئینہ ہے جو مؤمن کو اس کی اچھائیاں اور برائیاں دکھاتا ہے۔ (تاریخ ابن عساکر، 41/408) انسان کی بےتوجہی کی وجہ سے يا اس کے اخلاق وغیره کی وجہ سے کئی چیزوں،حقوق، آداب، ذمہ داریوں وغیره سے محروم ہو جاتا ہے۔ آئیے چند ایک پر غور کرتے ہیں:

ایک دوسرے کی مدد سے محرومی: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲) (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز الایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بےشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

کسی مسلمان کی پریشانی دورکرنا،مصیبت اور تکلیف میں اس کی مدد کرنا، دکھیارے کا دکھ بانٹنا، بھٹکے ہوئے مسلمان کو راستہ بتادیناالغرض کسی بھی نیک اور جائز کام میں مسلمان بھائی کی مددکرنا نہایت اجر و ثواب کا باعث ہے، چنانچہ سرکار عالی وقار ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو تو اسے نفع پہنچائے۔ (مسلم، ص 931، حدیث: 5731)

اولاد کو اپنی محبت و شفقت اور تربیت سے محروم کرنا: اپنی اولاد اور بچوں کو خوش کرنا جنّت میں داخلے کا سبب بھی ہے۔بچے کی نفسیاتی ضروریات میں سے یہ بھی ہے کہ اس سے محبت اور شفقت بھرا برتاؤ کیا جائے، وہ بچے جو ماں باپ کی محبت سے محروم رہتے ہیں، بسا اوقات نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، اچھے کھانوں، کپڑوں اور کھلونوں کےبجائے بچے اس بات کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں کہ ان کے والدین ان پر توجہ دیں اور ان سے محبّت کریں۔بعض لوگ اپنے بچّوں کے سامنے مال و اسباب کے تو ڈھیر جمع کردیتے ہیں،لیکن انہیں اپنی حقیقی توجہ اور پیارمحبت سے محروم رکھتے ہیں، ان کے پاس اس قدر بھی وقت نہیں ہوتا کہ وہ اپنی اولاد سے محبّت بھری چند باتیں ہی کرلیں۔ اسی طرح بعض والدین ایسے بھی ہوتے ہیں، جو اپنے بچّوں سے بے جا سختی کرتے ہیں، حالانکہ جس طرح ایک بچے کی اچّھی صحت کے لیے متوازن غذا ضروری ہے، اسی طرح بچّوں کی اچھی تربیت کے لیے والدین کا مناسب پیار بھی بہت ضروری ہے۔

اچھے اخلاق سے محرومی: اخلاق ہی ایک ایسی چیز ہے جس میں جنت اور جہنم بھی ہے اگر اخلاق اعلی و حسین اور لوگوں سے معاملات اور کردار اچھا ئی ہوئی اور اس بارے اللہ پاک کا خوف ہو گا تو یہی خوبی جنت میں جانے کا باعث بنے گی اور اگر خدا نخواستہ کردار میں اور اخلاق میں برائی ہوئی تو یہی خصلت (Habit) دوزخ بن جائے گی۔

چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر نفس میں موجودہ کیفیت ایسی ہو کہ اس کے باعث اچھے افعال اس طرح ادا ہوں کہ وہ کہ وہ عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ ہوں تو اسے حسن اخلاق کہتے ہیں اور اگر اس سے برے افعال اس طرح ادا ہوں کہ وہ عقلی اور شرعی طور پر ناپسندیدہ ہوں تو اسے بد اخلاقی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (احیاء العلوم، 3/165)

اللہ کی بارگاہ میں بداخلاقی کی توبہ قبول نہیں کی جاتی ہے۔ اپنی اصلاح کی کوشش جاری رکھیے کیونکہ جو خود نیک ہو وہ دوسروں کے بارے میں بھی نیک گمان رکھتا ہے جبکہ جو خود برا ہو اسے دوسرے بھی برے ہی دکھائی دیتے ہیں۔اگر ہم اپنی دنیوی واخروی زندگی آسان اور خوشگوار بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں بد اخلاقی و بد کرداری جیسے برے کام سے بچ کر حسن اخلاق اور بہتر کردار بنانا ہوگا۔

آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ناپسندیدہ کاموں اور عادات سے ہمیشہ کے لیے دور رکھے اور ہمیشہ دعوت اسلامی کا وفادار رکھے۔ آمین


ووڈ لینڈ،  کیلیفورنیا، USA:

جامعۃ المدینہ USA (دعوتِ اسلامی) کے زیر اہتمام کیلیفورنیا، USA کے شہر ووڈ لینڈ میں واقع جامع مسجد فیضانِ عطار میں ایک اہم اوپن ہاؤس تقریب “کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

مبلغِ دعوتِ اسلامی نے اس موقع پر حاضرین کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات اور اس کی اہمیت کے بارے میں بتایا بالخصوص دعوتِ اسلامی کی عالمی خدمات کا ذکر کیا ۔

ووڈ لینڈ میں ہونے والی یہ اوپن ہاؤس تقریب “عاشقانِ رسول کے لیے ایک تعلیمی نشست تھی جس کا مقصد دینِ اسلام کی صحیح سمجھ بوجھ اور محبتِ رسول کو فروغ دینا تھا۔ 

تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام آج مؤرخہ 11 جون 2026ء بروز جمعرات عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سمیت دنیا بھر میں ہزاروں مقامات پر ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا جائے گا جس میں لاکھوں کی تعداد میں عاشقانِ رسول شریک ہو کر اپنی آخرت کی تیاری کا سامان کرتے ہیں۔

ان اجتماعات میں اراکین شوریٰ و مبلغین دعوتِ اسلامی مختلف تربیتی، فکری اور اصلاحی موضوعات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں سنتوں بھرے بیانات فرمائیں گے۔ بیانات میں اخلاص، نماز کی پابندی، والدین کے حقوق اور حسنِ اخلاق جیسے موضوعات پرگفتگو کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق مرکزی جامع مسجد ابراہیمی نیومری بازار پتریاٹہ (مری) سے رکن شوریٰ حاجی قاری سلیم عطاری مدنی چینل پربراہ راست (Live) ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

اس کے علاوہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں رکن شوریٰ حاجی محمد امین عطاری، جامع مسجد گلزار حبیب بازار گئے اوکی مانسہرہ میں رکن شوریٰ عبد الوہاب عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ شاہ جہانگیر روڈ گجرات میں رکن شوریٰ حاجی منصور عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ شفقت آباد منڈی بہاؤالدین میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ چوہدری ٹاؤن نزد نادرا آفس سلانوالی میں رکن شوریٰ مولانا حاجی محمد عقیل عطاری مدنی اور ودودیہ مدرسہ جامع مسجد ہٹھ ہزاری ، چٹاگانگ بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد المبین عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

بیان کے بعد شرکا کے دلوں کو منور کرنے کے لئے ذکرِ الٰہی کی محفل سجائی جائیگی جس کے بعد رقت انگیز دعا ہوگی۔

مذکورہ اجتماع میں تمام عاشقان رسول سے شرکت کی درخواست ہے۔


فیضانِ مدینہ کراچی، دعوتِ اسلامی:

مرکز الاقتصاد الاسلامی (دعوتِ اسلامی) کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں جاری ایک سالہ ”پی جی ڈی پروگرام“ میں ماہرِ امورِ تجارت مفتی علی اصغر عطاری مدنی نے ایک معلوماتی اور مفصل لیکچر دیا جس میں انہوں نے حاضرین کو عقد کے بنیادی اصول و اہمیت سے آگاہ کیا ۔

مفتی علی اصغر عطاری مدنی نے اپنے لیکچر کے دوران عقد کی تعریف، اس کی ضرورت و اقسام پر روشنی ڈالی جبکہ انہوں نے بتایا کہ عقد اسلام میں ایک مقدس و اہم رشتہ ہے جس کی صحیح شناخت اور سمجھ بوجھ بہت ضروری ہے۔

اس کے علاوہ مفتی علی اصغر عطاری مدنی نے عقوِدِمعاوضات اور تبرعات کے موضوعات پر بھی تفصیل سے کلام کیا جن سے حاضرین کو اسلامی فقہ میں ان کے کردار و اہمیت کا علم ہوا۔یہ پروگرام حاضرین کے لیے علمی تربیت کا مرکز تھا جس کا مقصد مسلمانوں میں عقد کے شرعی اصولوں کی سمجھ بوجھ کو فروغ دینا ہے۔


حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کی اصل بنیاد آپ کے قول و فعل میں اللہ پاک کی اطاعت اور پیروی میں ہے۔حضور ﷺ کی ساری زندگی اللہ پاک کی اطاعت میں گزری۔ آپ  اللہ پاک کی یاد میں رات تک جاگتے رہتے ۔

حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک کہ الم تَنْزِيلُ اور تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ نہ پڑھ لیتے۔(یعنی رات کو سونے سے پہلے یہ دونوں سورتیں پڑھنے کا حضور کا معمول تھا) (ترمذی،4/408،حدیث:2901)

محبت کے تقاضے:

حضور ﷺ کی اصل محبت کا تقاضا یہ ہی ہے کہ زندگی کے ہر قدم پر آپ کی سنتوں پر عمل کیا جائے اور آپ کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچایا جائے اور یہی بات حضور ﷺ نے آخری خطبے میں فرمائی کہ جو لوگ موجود ہیں وہ (یہ احکامات) اُن لوگوں تک پہنچادیں جو موجود نہیں ۔(بخاری، 3/141، حدیث :4406)

اس لئے آپ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں شامل کر کے ان پر سنت کے مطابق عمل کرنا ہو گا۔

حضور کی پیروی:

اگر اللہ پاک کو ماننے کا دعوی ہے تو اس کے پیارے محبوب،احمد مصطفےٰ ﷺ کے طریقوں پر چلنا ہو گا۔جس کا مطلب ہے کہ اللہ پاک کو راضی کرنے کا راستہ حضور پاک ﷺ کی محبت اور اطاعت و پیروی سے جُڑا ہوا ہے۔اللہ پاک نے خود قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-(پ3،ال عمرٰن:31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گااور تمہارے گناہ بخش دے گا۔

حُبِّ رسول اللہ:

آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ پاک سے محبت كرو اس نے تمھیں اپنی نعمتوں سے نوازا ہے

اور اللہ پاک کی محبت کی خاطر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی خاطر میرے اہل بیت سے محبت کرو۔(ترمذی،5/434،حدیث:3814)

کتنی خُوب صورت ترتیب بنتی ہے محبت کی کہ اللہ پاک سے محبت کرو کیوں کہ ہر نعمت ہر سانس ہر لمحہ اس کا فضل و کرم ہے۔رسول اللہ ﷺ سے محبت کرو کیوں کہ وہی تو رحمت بن کر آئے ہیں ،ہمیں اپنے رب سے جوڑنے کے لئے۔اہلِ بیت سے محبت کرو کیوں کہ وہ نبیِ کریم ﷺ کے دل کا ٹکڑا ہیں اور ان کے نور کا تسلسل ہیں۔

حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کی شدت اِس حدیث مبارک واضع اور شان دار طریقے سے اجاگر ہوتی ہے کہ پیارے رسولﷺ نے فرمایا:جس نے مجھ سے محبت کی اللہ پاک اس سے محبت فرمائے گا اور جس سے اللہ پاک نے محبت کی اللہ پاک اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس سے اللہ پاک بغض رکھے گا اور جس سے اللہ پاک نے بغض رکھا اللہ پاک اسے جہنم میں داخل فرمائے گا۔(مستدرک، 4/155، حدیث:4829ملتقطاً)

اس فرمانِ الٰہی کے مطابق اللہ پاک سے محبت در اصل حضور ﷺ محبت کرنا ہے اور حضور ﷺ سے بغض و دشمنی رکھنا اللہ پاک سے دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔گویا اللہ پاک کی محبت و رضا حاصل کرنے کے لئے پیارے رسول اللہ ﷺ کی محبت بھی برابر طور پر حاصل کرنی ہو گی۔اللہ پاک اور حضور ﷺ کی محبت لازم و ملزم ہے۔بغیر اسوهٔ حسنہ پر عمل کئے کوئی اللہ پاک کی محبت نہیں پا سکتی اور حضور ﷺ کی سنتوں اور تعلیمات پر عمل کیے بغیر کوئی بھی آپ کی محبت نہیں پا سکتی۔

دونوں عالم کے لئے رحمت:

پیارے نبیِ کریم ﷺ ساری دنیا کے تمام لوگوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

ارشادِ باری ہے:وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(پ17،الانبیآء:107)ترجمہ:اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔

ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔

تاجدارِ رسالت ﷺ نبیوں،رسولوں اور فرشتوں کے لئے رحمت ہیں،دین و دنیا میں رحمت ہیں،جنات اور انسانوں کے لئے رحمت ہیں،مومن و کافر کے لئے رحمت ہیں، حیوانات،نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں۔الغرض عالَم میں جتنی چیزیں داخل ہیں، سیّدُ المرسَلین ﷺان سب کے لئے رحمت ہیں۔(تفسیر صراط الجنان،6/386)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس ﷺکا رحمت ہونا عام ہے،ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا۔مومن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت اس کے دُنْیَوی عذاب کو مُؤخَّر کر دیا گیا اور اس سے زمین میں دھنسانے کا عذاب،شکلیں بگاڑ دینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کا عذاب اٹھا دیا گیا۔(تفسیر خازن،3 /297)

ایمان کی لذت:

سچی محبت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ایمان کی لذت حاصل ہو اور اللہ پاک اور پیارے رسول اللہ ﷺ کی رضا کے لئے بڑی سے بڑی تکلیفیں بھی گوارا ہوں۔یہ ایمان کی لذت ہے جو اللہ پاک اور حضور ﷺ کو سب سے بڑھ کر ترجیح دیتی ہے۔اگر مسلمان میں ایمان کی چاشنی ہو تو پھر وہ اللہ پاک اور پیارے رسول اللہ ﷺ کی محبت کی لذت حاصل کرے گا کیوں کہ اللہ پاک کی محبت اور رضا کے لئے ایمان کا درجہ بہت قیمتی ہےاور ایمان کی مٹھاس تین چیزوں میں ہے:(1)سب سے بڑھ کر اللہ پاک اور آقا ﷺ سے محبت کرنا۔(2)جس سے بھی محبت کرو وہ اللہ پاک اور آقا ﷺ کی رضا کے لیے ہو۔(3) ایمان کے بعد کفر کو ایسے ناپسند کرو جیسے آگ کو ناپسند کرتے ہو۔

اگر ایمان مکمل ہو گیا تو سمجھو اللہ پاک کی محبت حاصل ہوگئی۔

اللہ پاک نے اپنے محبوب،سید المرسلین،حضرت محمد ﷺ کو تمام انبیائے کرام میں سب سے اعلیٰ مقام عطا فرمایا۔آپ کی ذات سراپا محبتِ الٰہی تھی۔آپ کی زندگی کا مقصد ہی اللہ پاک کی رضا اور اُس کی بندگی تھا۔حضور بچپن ہی سے تنہائی میں عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔غارِ حرا میں گھنٹوں بلکہ دنوں تک بیٹھ کر اللہ پاک کی قدرتوں پر غور فرماتے،دنیوی چیزوں سے بے نیاز ہو جاتے۔جب وحی نازل ہوئی تو آپ کے دل کی روشنی اور بڑھ گئی اور ہر سانس میں اللہ کی یاد رچ بس گئی۔آپ کا فرمانِ عالی شان ہے: میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)

یہ الفاظ اس محبت کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں کہ نماز آپ کے لیے صرف عبادت نہیں بلکہ سکونِ دل تھی،کیونکہ نماز میں بندہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے۔

نبیِ کریم ﷺکی محبتِ الٰہی کا یہ حال تھا کہ راتوں کو دیر تک قیام فرماتے،یہاں تک کہ قدم مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ: کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ جواب آپ کے قلبِ مبارک میں موجزن محبت اور شکر کے جذبے کا مظہر ہے۔ حضور کی زندگی میں ہر فیصلہ،ہر قدم صرف اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا تھا۔جنگ ہو یا امن،خوشی ہو یا غم،آپ ہمیشہ فرماتے:میں اللہ پر بھروسا کرتا ہوں،وہی میرا کارساز ہے۔

آپ اللہ کی رضا کے لیے دکھ،بھوک،تکلیف سب برداشت کر لیتے،مگر اس کی نافرمانی گوارا نہ کرتے۔آپ کے دل میں دنیا کی محبت نہیں تھی،بلکہ ہر وقت اللہ کی یاد اور اُسی کی رضا کی تلاش رہتی۔اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں آپ کی شان میں فرمایا:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷)(پ30،الضحیٰ: 7)ترجمہ:اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی طلب اور محبت صرف اور صرف اللہ کے لیے تھی۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ حضور کی محبتِ الٰہی ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔آپ نے اپنی امت کو بھی یہی تعلیم دی کہ اللہ سے محبت کرو،اس کی عبادت میں لذت تلاش کرو اور دنیا کی فانی محبتوں کو چھوڑ کر رب کی رضا میں دل لگاؤ۔