محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو دلوں کو بدل دیتا ہے،زندگیوں کو روشن کرتا ہےاور بندے کو خالق سے جوڑ دیتا ہے۔مگر کائنات کی سب سے اعلیٰ،پاکیزہ اور کامل محبت وہ ہے جو سیدُ المرسلین  ﷺکے دلِ مبارک میں اپنے خالق و مالک،اللہ پاک کے لیے تھی۔وہ محبت ایسی تھی کہ جس میں کوئی غرض نہ تھی،صرف اللہ کے لیے اللہ کی چاہت تھی۔

نبیِ کریم ﷺکی محبت کی تعریف:

اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺکو سب سے بڑھ کر محبت کرنے والا دل عطا فرمایا۔ آپ کی محبت ایسی نہ تھی جو زبان تک محدود ہو،بلکہ وہ ہر عمل،ہر آنسو،ہر سجدے اور ہر دعا میں جھلکتی تھی۔آپ کی راتیں قیام میں گزرتیں اور آنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر زمین کو تر کر دیتے،صرف اس لیے کہ رب راضی ہو جائے۔اللہ پاک نے خود اپنے حبیب ﷺکی محبت کی گواہی دی:فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ(۷۹)(پ8،الاعراف:79)ترجمہ:تو صالح نے ان سے منہ پھیرااور کہا اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی(پسندکرنے والے)ہی نہیں۔

ایک اور مقام پر فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اعلان ہے کہ نبی ﷺ خود اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے اور اُس کے محبوب ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی ﷺ رات میں اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ کے اگلوں او رپچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟تو فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329،حدیث: 4837)یہ جملہ اُس محبت کی گہرائی ظاہر کرتا ہے جو نبی ﷺکو اللہ پاک سے تھی۔

محبت کا مطلب صرف ذکر نہیں بلکہ شکر،عاجزی،عبادت اور رضا میں فنا ہو جانا ہے۔

1: عبادت میں لذت:نبی ﷺکے لیے سب سے بڑی راحت نماز تھی۔آپ فرماتے:

جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِمیری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

(نسائی،ص 644،حدیث:3946)

2:اللہ کی رضا کے لیے قربانی:طائف کے پتھر ہوں یا بدر کی تلواریں،ہر درد برداشت کیا مگر اللہ کی محبت میں قدم نہ ڈگمگایا۔

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:محبتِ الٰہی کی حقیقت اُس وقت ظاہر ہوتی ہے جب بندہ ہر حالت میں اللہ کو راضی دیکھنے کا خواہاں ہواور اس کی کامل مثال حضور کی ذات میں نظر آتی ہے۔(مکتوباتِ امام ربانی،جلد 1،مکتوب 260)

حضور کی اللہ سے محبت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت صرف دعویٰ نہیں، قربانی، اطاعت اور رضا کا نام ہے۔

اگر ہم بھی اللہ سے سچی محبت چاہتی ہیں تو ہمیں نبی ﷺکے طریقوں پر چلنا ہوگا، تبھی ہم بھی محبوبِ خدا کی اچھی امتی بن سکتی ہیں۔اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب کے وسیلے سے اپنی محبت عطا فرما۔اے کریم!ہمیں اپنی رضا میں راضی رہنے والی بنا،عبادت میں لذت،ذکر میں سکون اور محبت میں وفا نصیب فرما۔ہمیں اس محبت سے حصہ دے جو تیرے حبیب ﷺکے دل میں تھی۔آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ

حضور ﷺ کا اللہ پاک سے تعلق عشقِ الٰہی،عبودیتِ کامل اور اطاعت کا مظہر تھا، جس میں آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ  پاک کی رضا کے لیے بسر کی،حتی کہ راتوں کو عبادت میں گزارتے اور روزے رکھتے۔آپ کی اللہ پاک سے محبت اس قدر گہری تھی کہ آپ نے اپنی ذات اور تمام خواہشات کو اللہ پاک کی مرضی کے تابع کر دیا تھا۔

محبت کے مظاہر:

عبادت و ریاضت:حضور ﷺ رات کے اوقات میں طویل قیام کرتے،عبادت کرتے اور اللہ پاک سے مناجات فرماتے،حتى کہ آپ کے قدم سوج جاتے تھے۔

اطاعت و تسلیم:آپ نے اپنی تمام تر زندگی اللہ پاک کے احکام کی پیروی اور فرمانبرداری میں گزاری،جس میں آپ کی تمام خواہشات اور اقدامات اللہ پاک کی رضا کے مطابق ہوتے تھے۔

اللہ پاک کی یاد:آپ کی زبان پر ہمیشہ اللہ پاک کا ذکر رہتا اور آپ ہر حالت میں اللہ پاک کو یاد کرتے۔

قربانی و ایثار:آپ نے اپنی ذات سے زیادہ اللہ پاک کی محبت میں قربانی دی اور اللہ پاک کی راہ میں ہر قسم کے مصائب اور مشکلات کو برداشت کیا ۔

روحانی قربت:اللہ پاک سے محبت نے آپ کو روحانی قربت اور اتصال کا مقام بخشا، جس کے نتیجے میں آپ اللہ پاک کے سب سے قریب ہو گئے ۔

حضور نبیِ کریم ﷺکی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت اور رضا کے گرد گھومتی تھی۔ آپ کا ہر قول،ہر فعل اور ہر عمل اللہ پاک کی یاد اور اس کی قربت سے جڑا ہوا تھا۔آپ کی محبتِ الٰہی ایسی خالص اور کامل تھی کہ جس نے آپ کو کائنات کے لیے رحمت بنا دیا۔

عبادت اور بندگی:

حضور ﷺ کی عبادت اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔آپ طویل قیام میں نماز پڑھتے،راتوں کو گریہ و زاری فرماتے اور اللہ پاک سے قربت حاصل کرنے میں دل کی سکونت تلاش کرتے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی ﷺ رات میں اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ کے اگلوں او رپچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟تو فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329،حدیث: 4837)

دعا اور ذکر:

آپ کی زبان ہر وقت اللہ پاک کے ذکر سے تر رہتی تھی۔دن کے آغاز سے لے کر رات کے اختتام تک،ہر موقع پر اللہ پاک کا نام لیتے اور دعا کرتے۔چاہے کھانے پینے کا معاملہ ہو یا سفر و حضر کا،خوشی کا وقت ہو یا غم کا،آپ کا سہارا صرف اللہ پاک کی ذات تھی۔

اللہ پاک پر اعتماد

حضور کی اللہ پاک سے محبت کا ایک پہلو کامل اعتماد اور توکل ہے۔ہجرت کے وقت غارِ ثور میں جب دشمن بالکل قریب پہنچ گیا تو حضرت ابوبکر صدیق گھبرا گئے،تو آپ نے فرمایا:

لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-10، التوبۃ:40)ترجمہ: غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

یہ کلمات آپ کے دل کی گہرائی میں رچی ہوئی محبت اور یقین کو ظاہر کرتے ہیں۔

محبت میں عاجزی:

اللہ پاک سے محبت نے حضور کے اندر عجز و انکسار کو اور زیادہ بڑھا دیا۔آپ سب سے زیادہ متواضع تھے،فرشِ خاک پر بیٹھ کر کھانا کھاتے،غلاموں کے ساتھ محبت سے پیش آتےاور ہمیشہ یہ اعتراف کرتے کہ سب کچھ اللہ پاک کی عطا ہے۔

اللہ پاک کی اطاعت ہی محبت کی نشانی ہے:

اللہ پاک نے فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ نبی ﷺکی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت اور رضا کے لیے وقف تھی اور ان کی اتباع ہی اللہ پاک کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

رسول ﷺکا مقام و قرب:

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ:اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

اللہ پاک نے اپنے محبوب کا ذکر اپنے ساتھ جوڑ دیا،اذان،نماز اور کلمہ میں اس کی جھلک موجود ہے۔یہ قرب اللہ پاک کی محبت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

رسول کی بندگی:

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ (پ15،بنی اسرائیل: 1)ترجمہ:پاکی ہے اسے جوراتوں رات اپنے بندے کو لے گیا۔

معراج جیسے عظیم سفر میں بھی اللہ پاک نے آپ کوعبد کہا،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بندگی اللہ پاک کی محبت کی معراج ہے ۔

نبیِ کریم ﷺ کی زندگی کا مقصد اللہ پاک کی محبت اور رضا کو پانا تھا۔آپ کی بندگی، دعا، عبادت،شکر گزاری اور توکل سب اللہ پاک سے بے مثال محبت کے آئینہ دار ہیں۔

رسول اللہ ﷺکی اللہ پاک سے محبت کے بے شمار واقعات ہیں جو سیرت کی کتابوں اور احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔یہ واقعات نہ صرف محبتِ الٰہی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ہمیں بھی سبق دیتے ہیں کہ اللہ پاک سے تعلق کیسے مضبوط کیا جائے۔

حضور کی اللہ پاک سے محبت کے واقعات:

طائف کا واقعہ:

جب اہلِ طائف نے آپ کو پتھروں سے زخمی کیا اور سخت تکالیف دیں،اس وقت بھی آپ نے اللہ پاک کی طرف رجوع کیا اور دعا کی:اے اللہ پاک!میں تیری بارگاہ میں اپنی کمزوری،اپنی بے بسی اور لوگوں کی نظروں میں اپنی بے وقعتی کی شکایت کرتا ہوں۔(معجم کبیر،13/52،حدیث:181)

اس دعا میں صاف ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کے لیے اصل دکھ اللہ پاک کی ناراضی کا تھا،نہ کہ لوگوں کی تکلیف۔

معراج کی رات:

معراج کے موقع پر جب حضور کو اللہ پاک کے قریب جانے کا شرف ملا،تو اللہ پاک نے آپ کو اپنی سب سے محبوب عبادت یعنی نماز کا تحفہ دیا۔

یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ حضور اور اللہ پاک کے درمیان محبت و قربت کا رشتہ کتنا عظیم تھا۔

رات کی طویل عبادت:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی ﷺ رات میں اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ کے اگلوں اورپچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟تو فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!

(بخاری،3/329،حدیث: 4837)

غارِ حرا میں خلوت:

نبوت سے پہلے بھی حضور ﷺ اللہ پاک کی محبت اور تلاش میں غارِ حرا میں کئی کئی دن عبادت اور غور و فکر کرتے رہتے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا دل ابتدا ہی سے اللہ پاک کی معرفت اور قرب کا طلب گار تھا۔

بھوک اور فاقہ برداشت کرنا:

مدینہ میں کئی مواقع پر حضور اور اہلِ بیت نے کئی دن بھوک برداشت کی،لیکن کبھی اللہ سے شکوہ نہیں کیا۔

دنیا کی آسائشوں کے بجائے اللہ کی رضا کو ترجیح دینا،آپ کی اللہ سے محبت کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔

ان تمام واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺکی محبتِ الٰہی صرف الفاظ تک محدود نہ تھی بلکہ ہر حال،ہر موقع اور ہر مشکل میں اللہ کی طرف رجوع کرنا،اسی پر بھروسا کرنا اور اسی کی رضا کو ترجیح دینا آپ کی زندگی کا اصل مقصد تھا۔

حضور نبیِ کریم ﷺکی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ سے حقیقی محبت صرف دعوؤں سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ عبادت،شکر گزاری،توکل اور عاجزی کے ذریعے سامنے آتی ہے۔آپ کی محبتِ الٰہی انسانیت کے لیے ایک نمونہ ہے کہ اگر بندہ اللہ کو دل سے چاہے تو وہی محبت اس کی زندگی کو روشنی اور رحمت بنا دیتی ہے۔

بے شک اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ اللہ پاک سے بہت محبت فرماتے ہیں اور اللہ پاک بھی ہمارے پیارے آقا ﷺ سے بہت محبت فرماتا ہے ۔اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کے لیے دو جہاں کو پیدا فرمایا ۔

قرآنِ مجید سے دلائل

(1) اللہ کی محبت کی پیروی:

آیت:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ رسول اللہ ﷺکی سیرت اور سنت در اصل اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

(2) محبوبِ الٰہی کا مقام:

آیت:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

اللہ پاک نے آپ کو اپنی محبت اور قرب کا ایسا مقام عطا فرمایا کہ آپ کا ذکر اپنے ذکر کے ساتھ لازم و ملزوم کر دیا اذان،اقامت،کلمہ طیبہ وغیرہ میں۔

احادیثِ مبارکہ سے دلائل

(1) سب سے زیادہ عبادت کرنے والے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ آپ کی اللہ پاک سے محبت اور شکر گزاری کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

(2) سب سے زیادہ اللہ پاک کو یاد کرنے والے:

رسول اللہﷺ نے فرمایا: وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔

(بخاری،3/421،حدیث:5063)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ آپ کا دل اللہ کی محبت اور خشیت سے لبریز تھا۔

(3) محبوب کا محبوب

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلاً كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً اللہ پاک نے مجھے اپنا حبیب بنایا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔(مسلم،ص270،حدیث:23(532)) حبیب یعنی اللہ پاک کا سب سے زیادہ محبوب۔یہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں۔

قرآن بتاتا ہے کہ اللہ پاک کی محبت رسول اللہ ﷺکی پیروی کے بغیر ممکن نہیں۔

رسول اللہﷺ کی عبادت،شکر گزاری،خشیت اور تقویٰ آپ کی اللہ پاک سے بے پناہ محبت کا مظہر ہیں۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے دلوں میں اپنی اور اپنے پیارے محبوب ﷺ کی محبت پیدا فرمائے ، مدینہ پاک کی حاضر نصیب فرمائے اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔آمین 


حضور پاک ﷺ کا اللہ پاک سے تعلق بے مثال محبت پر مبنی ہے،جو قرآن و سنت میں بیان کردہ ہے۔یہ محبت صرف عقیدت تک محدود نہیں بلکہ آپ کی زندگی کے ہر پہلو میں نظر آتی ہے،جہاں آپ نے اللہ پاک کے احکام کو اپنی زندگی کا محور بنایا اور اپنی امت کو بھی اسی راستے پر چلنے کی تلقین کی۔

اللہ پاک کی طرف سے حضور ﷺکی محبت:

اللہ پاک نے آپ کو اپنا حبیب یعنی محبوب قرار دیا اور اپنی محبت کا اظہار یوں کی کہ آپ کی اطاعت اور پیروی کو لازم قرار دے کر کیا۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

حضور ﷺکی اللہ پاک سے محبت کی مثالیں،اطاعت و اتباع:

حضور پاک ﷺ کی زندگی مکمل طور پر اللہ پاک کی اطاعت اور احکام کی پیروی میں گزری۔

قرآنِ پاک کی روشنی میں زندگی:

آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ قرآنِ پاک کے مطابق گزارا اور اسے اپنی امت کے لیے بہترین مثال بنایا ۔

دعوتِ دین:

آپ نے اللہ پاک کے دین کی تبلیغ کی اور اپنی پوری زندگی لوگوں کو اللہ پاک کی طرف بلانے میں وقف کر دی۔

دکھ اور مصائب میں صبر:

اللہ پاک سے محبت کی وجہ سے آپ نے دین کی راہ میں آنے والے تمام مصائب اور تکالیف کو صبر و استقامت سے برداشت کیا۔

امت سے شفقت:

آپ کی اللہ پاک سے محبت اس قدر گہری تھی کہ آپ کی شفقت اور ہمدردی اپنی امت کے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن گئی۔

محبت کا تقاضا:

حضور پاک ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی سنتوں اور سیرت کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ان کی تعلیمات کو اپنانا،ان کی سیرت کے مطابق زندگی گزارنا اور ان کے لائے ہوئے دین کو لوگوں تک پہنچانا ہی اصل حُب رسول ہے۔

الله پاک نے ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

حضور نبیِ اکرم ﷺکی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ایک مومن کے دل میں آپ کی محبت کا معیار اور پیمانہ کیا ہونا چاہیے؟اس امر کو حضور نبیِ اکرم ﷺ نے خود اپنے ارشاداتِ عالیہ کی روشنی میں واضح فرمادیا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اكرم ﷺ نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهٖ وَ وَلَدِهٖ وَ النَّاسِ أَجْمَعِينَتم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان،اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،1/17، حدیث: 15)

یعنی والدین،اولاد،میاں بیوی،بھائیوں،بہنوں،عزیز و اقارب،دوست احباب،خونی رشتوں،خاندانوں،مناصب اور دنیا کی ہر چیز کی محبت جو انسان کے دل کو مرغوب اور محبوب ہوتی ہے،جس کی طلب،رغبت اور محبت کی طرف انسان کا میلان اور جھکاؤ ہوتا ہے،ان سارے میلانات اور رجحانات سے بڑھ کر حضور سے محبت کرنا ایمان ہے۔گویا جب تک کسی مسلمان کے دل میں کائنات اور عالمِ خلق کی ساری محبتوں سے بڑھ کر حضور نبیِ اکرم ﷺ کی محبت نہ ہو تو وہ مومن نہیں ہوسکتا۔حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے زبانِ مصطفےٰ سے جب یہ فرمان سنا تو آقا ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی:يَا رَسُولَ اللهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِييا رسول الله ﷺ ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔(بخاری،4/283،حدیث:6632)


رحمتِ عالم،حضرت محمد ﷺ کی اللہ پاک کے ساتھ گہری اور بے مثال محبت:یہ اطاعت، شکر گزاری،مناجات،صبر اور اللہ پاک کے دین کی خاطر ہر مشکل کا سامنا کرنا یہ سب اللہ پاک سے محبت ہے۔

محبت کا اظہار اطاعت کی شکل میں:

حضور ﷺ نے اللہ پاک کے ہر حکم کی تعمیل میں جو عجلت اور کامل فرمانبرداری دکھائی،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی سنتوں اور اعمال کا مقصد صرف اللہ پاک کی رضا کا حصول تھا۔

مناجات اور عبادت میں محبت:

قیام اللیل(رات کا قیام)کی کیفیت اور اس میں آپ کا جذبۂ محبت۔آپ کے پاؤں کا سوج جانا اور اس پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سوال اور آپ کا جواب:کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

آپ کی دعاؤں میں عاجزی،توکل اور اللہ پاک کی تعریف و ثنا کا بیان۔

صبر اور توکل میں محبت:

طا‏‏ئف،شعبِ ابی طالب اور دیگر کٹھن حالات میں اللہ پاک پر آپ کے مکمل توکل کرنا۔جنگوں میں اللہ پاک کی مدد پر کامل یقین اور اس کے نتیجے میں ثابت قدمی۔

امت کے لیے شفقت اور محبتِ الٰہی کا تعلق:

آپ کی امت کے لیے تڑپ اور فکر مندی در حقیقت اللہ پاک کے بندوں سے محبت اور ان کی ہدایت کی خواہش تھی،جو اللہ پاک کی محبت کا ہی مظہر ہے۔

قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں یہ واضح کرنا کہ اللہ پاک کی محبت کا معیار صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کی اتباع ہے۔جیسا کہ سورۂ ال عمرٰن کی آیت:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ رسول اللہ ﷺکی سیرت اور سنت در اصل اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

آیت:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

اللہ پاک نے آپ کو اپنی محبت اور قرب کا ایسا مقام عطا فرمایا کہ آپ کا ذکر اپنے ذکر کے ساتھ لازم و ملزوم کر دیا جیسا کہ اذان،اقامت،کلمہ طیبہ اور بھی بہت جگہ۔

حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837) یہ جملہ آپ کی اللہ پاک سے محبت اور شکر گزاری کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا:وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔

(بخاری،3/421،حدیث:5063)

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کا دل اللہ پاک کی محبت اور خشیت سے لبریز تھا۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلاً كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً اللہ پاک نے مجھے اپنا حبیب بنایا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔(مسلم،ص270،حدیث:23(532)) حبیب یعنی اللہ پاک کا سب سے زیادہ محبوب۔یہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں۔

آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنی اور اپنے محبوب ﷺکی حقیقی محبت عطا فرمائے۔آمین


اللہ پاک نے اپنے حبیبِ مکرم،حضرت محمد مصطفےٰ  ﷺکو اپنی محبت کا سب سے اعلیٰ مظہر بنایا۔نبیِ اکرم ﷺکی ذات وہ مقدس ہستی ہے جن کے دل میں سب سے زیادہ محبتِ الٰہی موجزن تھی۔آپ کی پوری زندگی،بچپن سے لے کر وصال تک،اللہ پاک کی رضا، محبت اور قرب کے رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔

قرآن میں نبیﷺ کی محبتِ الٰہی:

اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں متعدد مقامات پر اپنے حبیب ﷺکے دل کی کیفیت اور ان کی محبت کو بیان فرمایا:فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ(۷۹)(پ 20،النمل:79)ترجمہ: تو تم اللہ پر بھروسا کرو بےشک تم روشن حق پر ہو۔

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبیِ کریم کی ساری امیدیں،بھروسا اور محبت صرف اور صرف اللہ پاک سے تھی۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا: وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

یعنی نبی ﷺ دل سے اللہ پاک کی تلاش میں تھےاور اللہ پاک نے اپنی معرفت و قرب سے آپ کے دل کو منور فرما دیا۔

نبیﷺ کی زبان پر محبتِ الٰہی کے الفاظ:

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اکثر دعا میں فرمایا کرتے تھے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ نبی ﷺکی سب سے بڑی خواہش اللہ ﷺکی محبت تھی نہ کہ دنیا یا مخلوق کی رضا۔

عبادت میں محبت کا مظہر:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہی محبتِ الٰہی تھی جس نے نبی ﷺ کو عبادت میں ایسا ذوق عطا کیا کہ آپ ساری رات اللہ پاک کے حضور کھڑے رہتے۔

ذکر و دعا میں محبت کا اظہار:

نبیِ اکرم ﷺ کا ذکر،دعا اور خاموشی تک سب اللہ پاک سے محبت کا آئینہ تھا۔آپ اکثر فرماتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

اللہ پاک کی طرف سے جوابِ محبت:

اللہ پاک نے بھی اپنے حبیب ﷺکو اپنی محبت اور قرب سے سرفراز فرمایا۔قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

یعنی اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کے نام کو اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا اذان، اقامت،نماز اور کلمہ میں۔

محبت کا کمال:قربِ مع اللہ:

معراج النبی،محبتِ الٰہی کا سب سے اعلیٰ مظہر ہے جہاں نبی ﷺکو وہ قرب عطا ہوا کہ جس کا کسی بشر کو تصور بھی نہیں۔ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹)

(پ27،النجم:8-9)ترجمہ:پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔

یہ قرب اور محبت کا وہ مقام ہے جہاں اللہ پاک نے اپنے حبیب سے بلاواسطہ کلام فرمایا یہ عشقِ حقیقی کی معراج ہے۔

اقوالِ صحابہ رضی اللہ عنہم:

حضرت علی فرماتے ہیں:رسول اللہﷺ کی محبت اللہ پاک کی محبت کا راستہ ہے جو ان سے محبت کرتا ہے در اصل وہ اللہ پاک سے محبت کرتا ہے۔

حضرت بلال کہا کرتے تھے:میں اذان دیتا ہوں تاکہ محبوبﷺ کی سنت کے ذریعے محبوبِ حقیقی کو یاد کیا جائے۔

نبیِ کریم ﷺکی پوری زندگی محبتِ الٰہی کا آئینہ تھی۔آپ نے ہمیں سکھایا کہ اللہ پاک کی محبت صرف زبانی نہیں بلکہ دل،عمل،نیت اور قربانی میں ہونی چاہیے۔اللہ پاک کی محبت کا معیار وہی ہے جو نبی صلی اللہُ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے اپنے عمل سے دکھایا فرمانبرداری، صبر، شکر اور ہر حال میں رضا کے ذریعے۔اے اللہ پاک! ہمیں بھی اپنے حبیب ﷺ جیسی محبت عطا فرما،ہمیں اپنی رضا،اپنے قرب اور اپنی یاد میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔آمین


نبیِ کریم ﷺ  کی زندگی کا ہر پہلو اللہ پاک کی محبت سے لبریز تھا۔آپ کا دل اللہ پاک کی یاد سے ہمیشہ آباد رہتا،آپ کی زبان پر ہر وقت اُس کا ذکر جاری رہتا اور آپ کی عبادتیں، دعائیں اور آنسو سب اُس ذاتِ باری پاک کے لیے تھے۔حضور نے اپنی امت کو بھی یہی درس دیا کہ وہ اپنے رب سے سچی محبت کریں،جیسا کہ آپ خود اُس محبت کی کامل مثال تھے۔

قرآنِ کریم میں محبتِ الٰہی کا بیان:

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ نبیِ اکرم ﷺ خود محبتِ الٰہی کا کامل مظہر ہیں اور آپ کی اتباع ہی اللہ پاک کی محبت کا ذریعہ ہےـ

حضور کی عبادت میں محبتِ الٰہی کی جھلک

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ شکر در اصل محبتِ الٰہی کا عروج تھا کہ نبی ﷺ اپنی عبادت کو صرف فرض کی ادائیگی نہیں سمجھتے تھے بلکہ عشقِ الٰہی کا اظہار فرماتے تھے ۔

دعاؤں میں محبتِ الٰہی:

رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ دعا حضور کے دل میں موجود محبتِ الٰہی کا واضح ثبوت ہے۔

ذکرِ الٰہی میں سرور:

آپ فرمایا کرتے تھے:جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِمیری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)

نماز در اصل رب سے ملاقات ہے اور محبوب سے ملاقات ہی عاشق کے لیے سب سے بڑی راحت ہوتی ہے۔


نبیِ اکرم،حضرت محمد ﷺ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت،خشیت،اطاعت اور رضا کے حصول میں گزری۔آپ  کا ہر قول،فعل،عبادت اور اخلاق اسی بندگی اور محبتِ الٰہی کا مظہر تھا۔اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں آپ کو اپنا محبوب قرار دیا اور آپ نے عملاً دکھایا کہ حقیقی محبت صرف اللہ پاک سے ہوتی ہے۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں محبتِ رسول:

اللہ پاک نے فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ نبیِ کریم ﷺ اللہ پاک کے محبوب بندے ہیں اور آپ کی اتباع در اصل اللہ پاک کی محبت پانے کا ذریعہ ہے۔اللہ پاک نے مزید فرمایا: وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

اور فرمایا:مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ(۲) (پ27، النجم: 2)

یہ آیات بتاتی ہیں کہ اللہ پاک نے آپ کو ہدایت،قرب اور محبت سے نوازا۔

ایک اور مقام پر ارشاد ہوا: وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

نبیﷺ کی زندگی اللہ پاک کی محبت سے بھرپور

رسول اللہ ﷺ راتوں کو قیام اللیل فرماتے،حالانکہ آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پوچھنے پر آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329، حدیث:4837)یہ اللہ پاک کے لیے محبت اور شکر کا سب سے اعلیٰ نمونہ تھا۔

محبتِ الٰہی کا اظہار عبادت میں:

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات نبیﷺ نے تہجد میں ایک ہی رکعت میں سورۃ البقرۃ،سورۂ الِ عمرٰن اور سورۃ النسآء تلاوت کیں۔(مسلم،ص305، حدیث: 772)یہ عبادت صرف اللہ پاک کی محبت اور قرب کے لیے تھی۔

مسجد میں جانے،تلاوت،دعا،ذکر اور صدقہ و خیرات میں بھی آپ سب سے آگے رہے، کیونکہ آپ کا مقصد اللہ پاک کی خوشنودی تھا۔

ایک اور دعا:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا(بخاری،4/193،حدیث: 6316)

یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ دل کا نور بھی اللہ پاک کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔

اللہ پاک کے لیے محبت اور توکل:

غارِ ثور میں جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خوف ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا:لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-10،التوبۃ:40)ترجمہ:غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

یہ جملہ اللہ پاک پر کامل محبت اور یقین کی دلیل ہے۔

اطاعتِ الٰہی میں کامل یقین:

نبی ﷺ نے ہر حکمِ الٰہی کو پورے عشق اور شوق سے اپنایا۔پارہ 21 سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 21 میں ارشاد ہے:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌترجمہ: بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔

یعنی آپ کی زندگی محبتِ الٰہی کا عملی نمونہ ہے۔

نبی ﷺ کا دل اللہ پاک سے جڑا ہوا تھا:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلىٰ كُلِّ أَحْيَانِهٖ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔(مسلم،ص159، حدیث:826)۔اسی طرح حضور نے فرمایا:أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ (ترمذی،5/248، حدیث:3394)یہ محبت کا مسلسل ربط ہے۔

اللہ پاک کی رضا سب سے مقدم:

طائف کے واقعے میں جب آپ کو پتھروں سے زخمی کیا گیا تو بددعا کی بجائے اللہ پاک سے محبت و رحمت کا اظہار فرمایا: اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)یہ قلبِ مصطفوی کی اللہ پاک کے لیے خالص محبت تھی۔

اختتامی دعا:

اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب،محمد مصطفےٰ ﷺکی طرح تیری محبت،رضا اور اطاعت کا نور عطا فرما۔ہمیں ان کی سیرت سے سچا عشق،اتباع کی توفیق اور تیرے قرب کا احساس عطا فرما۔یا رب!ہمارے دلوں کو ایمان،ذکر اور محبتِ الٰہی سے بھر دے،ہمیں سنتِ رسول پر قائم رکھ اور ہمیں اُن کے حوضِ کوثر پر جمع فرما۔آمین


نبیِ کریم  ﷺکی اللہ پاک سے محبت بے مثال اور کامل ترین تھی۔آپ کا دل اللہ پاک کی یاد سے ہمیشہ منور رہتا،ہر حال میں اپنے رب کا ذکر فرماتے اور اس کی رضا کے لیے ہی زندگی گزارتے تھے۔آپ کی زبان پر ہمیشہ سبحٰن اللہ،الحمد لله،لا الہ الا الله اور الله اكبر جارى رہتا۔اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی،حضرت محمد ﷺ کو سب سے زیادہ محبت کرنے والا،شکر گزار اور وفادار بندہ بنایا۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ رب کی یاد،اطاعت اور قربت میں گزرا۔آپ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ سچی محبت صرف اللہ پاک کے لیے ہو اور اس محبت کا ثبوت عبادت،شکر اور سنت پر عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔اللہ پاک نے خود اپنے محبوب کی تعریف یوں فرمائی:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)(پ29،القلم:4) ترجمہ: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے محبوب کے اخلاق ِکریمہ کی عظمت بیان فرمائی۔

آیتِ مبارکہ:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ نبیِ کریم ﷺ اللہ پاک کے محبوب بندے ہیں اور اللہ پاک کی محبت کا راستہ حضور ﷺ کی اتباع سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

اللہ پاک سے سچی محبت عبادت میں ظاہر ہوتی ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبیِ کریم ﷺ راتوں کو اتنی دیر تک نماز پڑھتے کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ تو معصوم ہیں،آپ یہ سب کیوں کرتے ہیں ؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329،حدیث: 4837)

یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ پاک سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ ہم شکر کے ساتھ عبادت کریں نہ کہ مجبوری یا دکھاوے سے ۔

محبت میں بندہ رب کے سامنے جھکنے کو سعادت سمجھتا ہے:

نبی کا دعا میں محبت کا اظہار:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:يَا مُعَاذُ!وَاللهِ اِنِّي لَاُحِبُّكَ ثُمَّ اُوْصِيْكَ يَا مُعَاذُ!لَا تَدَ عَنَّ في دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ تَقُولُ: اَللّٰهُمَّ اَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَ شُكْرِكَ وَ حُسْنِ عِبَادَتِكَاے معاذ!اللہ پاک کی قسم!میں تم سے محبت کرتا ہوں۔پھر تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ کہنا ہرگز نہ چھوڑنا:

اے اللہ! اپنے ذکر وشکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔(ابو داود،2/123، حدیث :1522)

یہ دعا ظاہر کرتی ہے کہ نبی ﷺ خود بھی ہمیشہ اللہ پاک کی یاد،شکر اور عبادت میں رہنے کی دعا کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اسی محبتِ الٰہی کی دعوت دیتے تھے۔

نبیﷺ کی رات کی عبادت اور اللہ پاک سے محبت:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبیِ کریم ﷺ رات میں اتنی طویل نماز پڑھتے کہ آپ کے مبارک پاؤں سوج جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟حالانکہ اللہ پاک نے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں!تو نبیِ کریمﷺ نے فرمایا: أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329،حدیث: 4837)

اس واقعے کا مفہوم:

یہ واقعہ حضور ﷺ کی اللہ پاک سے سچی محبت اور شکر گزاری کی واضح دلیل ہے۔ اگرچہ آپ معصوم اور مغفور تھے،پھر بھی راتوں کو جاگ کر اللہ پاک کے حضور کھڑے رہتے کیونکہ آپ کا دل اپنے رب کی یاد میں سکون پاتا تھا۔

ہر حال میں اللہ پاک کا ذکر کرتے:

حدیثِ مبارک:عن عائشةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:كان رسولُ اللهِ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهٖرسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کا ذکر کرتے تھے۔(مسلم،ص159، حدیث: 826)

محبت صرف الفاظ میں نہیں بلکہ ہر وقت اللہ پاک کی یاد میں رہنے کا نام ہے ۔

چاہے خوشی ہو یا غم عبادت ہو یا آرام

عاجزی اور شکر محبتِ الٰہی کی نشانی ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا،لَكَ ذَكَّارًا،لَكَ رَهَّابًا،لَكَ مِطْوَاعًا،لَكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا اے اللہ پاک!مجھے اپنا بہت زیادہ شکر گزار،بہت زیادہ ذکر کرنے والا،تجھ سے بہت ڈرنے والا،اپنا بہت زیادہ فرمانبردار بنا،اپنے حضور عاجزی کرنے والا بنا،اپنی طرف گریہ و زاری کرنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔(ترمذی،5/323، حدیث:3562)

سبق:

اللہ پاک سے محبت کرنے والا بندہ عاجز، نرم دل اور شکر گزار ہوتا ہے۔وہ کبھی غرور نہیں کرتا،بلکہ رب کے سامنے جھکنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔

محبتِ الٰہی کی بنیاد اتباعِ رسول ہے:

آیتِ مبارکہ:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

سبق:

اللہ پاک سے محبت کا عملی ثبوت نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنا ہے۔جو سچی محبتِ الٰہی چاہے وہ حضور کے طریقے پر چلتی رہے۔


محبتِ الٰہی انسان کے ایمان کا جوہر اور روح ہےاور اس محبت کی اعلیٰ ترین اور کامل ترین مثال نبیِ کریم،حضرت محمد مصطفےٰﷺ  کی ذاتِ اقدس کی صورت میں جلوہ گر ہے۔حضور کی ساری زندگی اللہ پاک کی معرفت،بندگی،اطاعت اور محبت سے معمور تھی۔قرآن و سنت کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺکی اللہ پاک سے محبت صرف قول یا احساس تک محدود نہ تھی،بلکہ آپ کے ہر عمل،عبادت،دعا،آنسو،مسکراہٹ اور سکوت میں اس کا عکس نمایاں تھا۔

1 قرآنِ پاک میں نبی ﷺکی محبتِ الٰہی کا بیان:

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں اپنے محبوب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8،الانعام:162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ سارے جہان کا۔

یہ آیتِ کریمہ حضور کی زندگی کے ہر پہلو کو اللہ پاک کی محبت و رضا کے تابع قرار دیتی ہے۔

اسی طرح اللہ پاک نے فرمایا:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)

ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

یعنی اللہ پاک نے اپنے محبوب کو اپنی معرفت اور قرب کی راہوں پر ہدایت عطا فرمائی۔

2 نبی کی محبتِ الٰہی کے مظاہر:

(الف) عبادت میں محبت کا عروج:

حضور کی عبادت اللہ پاک سے شدید محبت کی علامت تھی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی ﷺ رات میں اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ کے اگلوں او رپچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟تو فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329،حدیث: 4837)یہ عبادت صرف فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ محبوبِ حقیقی سے محبت کا اظہاری عمل تھا۔

(ب) دعا میں محبت کا اظہار:

حضور کی دعاؤں میں محبتِ الٰہی کی کیفیت نمایاں ہے۔ایک دعا میں فرمایا:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان،گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے۔(ترمذی،5/296،حدیث: 3501)

یہ دعا ظاہر کرتی ہے کہ نبی ﷺکی محبتِ الٰہی صرف عقیدہ نہیں بلکہ قلبی جذبہ تھی۔

(ج) ذکر اور خلوت میں تعلقِ الٰہی:

حضور اکثر تنہائی میں اللہ پاک کے ذکر میں مشغول رہتے۔قرآنِ پاک نے آپ کی اس کیفیت کو یوں بیان کیا:وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ(۸)(پ29،المزمل:8)ترجمہ: اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو ر ہو۔

یہ آیت در اصل نبی کی مکمل روحانی وابستگی اور محبتِ الٰہی کی تعلیم ہے۔

3 اللہ پاک کی محبتِ محمدی کے ثبوت:

اللہ پاک نے خود نبیﷺ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)

(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ:اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

اور فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-(پ22،الاحزاب:56) ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔

یہ در اصل اللہ پاک کی طرف سے اپنے محبوبﷺ پر دائمی محبت و عنایت کا اعلان ہے۔

4 محبتِ الٰہی کا عملی نمونہ:

رسول اللہﷺ کی محبتِ الٰہی کی ایک جھلک اس وقت نظر آتی ہے جب طائف کے واقعہ میں آپ کو سخت اذیت دی گئی۔خون میں لت پت ہو کر بھی فرمایا:اے اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، 1/ 419)

یہ الفاظ ایک عاشقِ الٰہی کے ہیں جو ہر حال میں رضائے الٰہی کا طلبگار ہے۔

5 خلاصہ و نتیجہ

حضور اکرمﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ محبتِ الٰہی کی تفسیر ہے۔آپ نے نہ صرف اللہ پاک سے محبت کی،بلکہ امت کو بھی یہ تعلیم دی کہ ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک بندہ اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺکو سب سے زیادہ محبوب نہ رکھے۔لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهٖ وَ وَلَدِهٖ وَ النَّاسِ أَجْمَعِينَتم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،1/17،حدیث: 15)

اللہ پاک کی ذات وہ اعلیٰ و ارفع حقیقت ہے جس سے بڑھ کر کسی کی محبت ممکن نہیں۔ قرآنِ مجید میں اہلِ ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ- (پ2،البقرۃ:165)یعنی اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔

اس آیت کا کامل اور اعلیٰ ترین مظہر خود نبیِ کریم ﷺ کی ذات ہے۔آپ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت اور رضا کے گرد گھومتی تھی۔حضور اکرم ﷺ نے اپنی محبت، اطاعت،عبادت اور قربانیوں سے یہ ثابت کیا کہ آپ اللہ پاک کے سب سے بڑے محب اور سب سے محبوب بندے ہیں۔

1 راتوں کی طویل عبادت:

حضور کی راتیں اللہ پاک کے حضور گریہ و زاری میں گزرتیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:رسول اللہ رات کو قیام فرماتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک متورم ہوجاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟جبکہ آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329،حدیث: 4837)

یہ کیفیت اللہ پاک سے شدید محبت اور اس کی نعمتوں کے اعتراف کا عملی اظہار ہے۔

2 اللہ پاک کے ذکر میں لذت:

حضور کا دل ذکرِ الٰہی میں ہمیشہ منہمک رہتا۔ایک مرتبہ فرمایا:میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)

نماز در اصل بندے اور رب کے درمیان محبت بھرا راز و نیاز ہےاور رسول اکرم ﷺکی اس میں لذت آپ کی رب سے محبت کی دلیل ہے۔

3 اللہ پاک کی رضا کو سب پر مقدم رکھنا:

نبیِ کریم ﷺ نے دنیا کی تمام نعمتوں،اقتدار،عزت اور خواہشات کو چھوڑ کر ہمیشہ اللہ پاک کی رضا کو مقدم رکھا۔مکہ مکرمہ میں جب کفار نے آپ کو مال و دولت،سرداری اور دنیاوی عیش و عشرت کی پیشکش کی تو فرمایا:اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں کہ میں اس مشن کو چھوڑ دوں تو بھی میں اسے نہ چھوڑوں گا جب تک اللہ پاک اسے غالب نہ کرے یا میں اس پر اپنی جان قربان نہ کردوں۔(سیرت ابن ہشام،1/265)

یہ اعلان آپ کی رب کے ساتھ عشق و وفاداری کا روشن ثبوت ہے۔

4 دعاؤں میں محبت کا اظہار:

رسول اللہﷺ کی دعاؤں میں بھی اللہ پاک کی محبت جھلکتی ہے۔ایک دعا میں فرمایا: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

5 اللہ پاک کے لیے جینا اور مرنا:

حضور کا ہر قول و فعل اسی لیے تھا کہ اللہ پاک راضی ہو جائے۔قرآنِ پاک نے فرمایا:

اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8،الانعام: 162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ سارے جہان کا۔

یہ آیت اگرچہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے لیکن سب سے پہلے حضور کی ذات اس کا کامل مصداق ہیں۔

6 اللہ پاک کے قرب کی خواہش:

نبیِ کریم ﷺکی سب سے بڑی آرزو اللہ پاک کا قرب تھا۔آپ نے فرمایا:لِیْ مَعَ اللہِ وَقْتٌ لَا یَسَعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَ لَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ یعنی میر ے لئے خدا کے ساتھ ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی مُقَرَّب فِرِشتے یا مُرْسَل نبی کی گنجائش نہیں۔(کشف الخفاء،2/ 156،حدیث:2157،مدارج النبوۃ،2/623،جواہر البحار،4/265،فتاویٰ رضویہ، 30/ 244)

یہ شوق حضور کی اللہ پاک سے بے پناہ محبت کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

حضور اکرم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت بے مثال اور کامل ترین ہے۔آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ رب کی یاد اور رضا کے لیے وقف کر دیا۔چاہے رات کی تنہائیاں ہوں،دن کی مصروفیات،جنگ کے میدان ہوں یا امن کا وقت ہر حال میں آپ کا قلب اللہ پاک کی محبت سے لبریز رہتا۔اسی محبت کی برکت سے آپ حبیب اللہ کہلائے،یعنی اللہ پاک کے محبوب۔ہمیں چاہیے کہ حضور کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اللہ پاک کی محبت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنائیں،تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہو۔


اللہ پاک سے محبت کی حقیقت:

اللہ پاک سے محبت ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔مومن کا دل اللہ پاک کی محبت سے سرشار ہوتا ہے۔محبتِ الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کو سب سے زیادہ محبوب جانے،اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھےاور اس کے احکام کے مطابق اپنی زندگی بسر کرے۔

قرآنِ مجید سے اللہ پاک کی محبت:

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ- (پ2،البقرۃ:165)

ترجمہ: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔

اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ پاک سے محبت مومن کا امتیازی وصف ہے۔ایک اور مقام پر ارشاد ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یعنی اللہ پاک سے سچی محبت اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب بندہ نبیِ کریم ﷺکی سنتوں پر عمل کرے۔

سیرتِ مبارکہ سے محبتِ الٰہی کی مثالیں:

رسولِ کریم کی زندگی محبتِ الٰہی سے لبریز تھی۔آپ راتوں کو قیام میں کھڑے ہو کر اس قدر عبادت فرماتے کہ پاؤں مبارک سوج جاتے،جب عرض کی گئی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،اتنی عبادت کیوں؟تو فرمایا:أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں!(بخاری،3/329 ،حدیث:4836)

یہی محبتِ الٰہی کا کمال ہے کہ بندہ اپنے رب کے حضور بندگی میں لذت پاتا ہے۔

اللہ پاک کی محبت کا انعام:

جو بندہ اللہ پاک سے محبت کرتا ہے،اللہ پاک بھی اس سے محبت فرماتا ہے۔حدیثِ قدسی میں فرمایا:جس سے میں محبت کرتا ہوں،میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے،اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔(بخاری،4/248،حدیث: 6502)

اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا انعام قربِ الٰہی ہےاور قیامت کے دن ایسے بندے عرش کے سائے میں ہوں گے جو ایک دوسرے سے صرف اللہ پاک کے لیے محبت کرتے تھے۔

محبتِ الٰہی کے تقاضے:

f اللہ پاک کے حکموں پر عمل کرنا۔

f گناہوں سے بچنا۔

f ذکر و دعا میں مشغول رہنا۔

f مخلوق سے بھلائی کرنا۔

f نبی کی سنتوں کو اپنانا۔

اختتامی دعا:

اے اللہ پاک! ہمیں اپنے حبیب ﷺکے صدقے اپنی سچی محبت نصیب فرما، ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے آباد فرما،ہمیں اپنے حکموں پر عمل کرنے اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ