فرمانِ باری تعالیٰ ہے:﴿قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ؕ-هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۳)ترجَمۂ کنزُالعرفان: صالح نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن نشانی آگئی۔ تمہارے لئے نشانی کے طور پر اللہ کی یہ اونٹنی ہے۔ تو تم اسے چھوڑو تاکہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا۔(پ8، الاعراف: 73)

قومِ ثمود کون تھے؟

ثمود عرب کا ایک قبیلہ تھا، یہ لوگ ثمود بن رام بن سام بن نوح علیہ السّلام کی اولاد میں تھے اور حجاز و شام کے درمیان سرزمین حجر میں رہتے تھے۔

کون سے نبی ان کی طرف بھیجے گئے؟

حضرت صالح علیہ السّلام کو قومِ ثمود کی طرف بھیجا گیا، حضرت صالح علیہ السّلام کے والد کا نام ”عبید بن آسف“ ہے۔

قومِ ثمود کا واقعہ:

جب الله تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السّلام کو ان کی طرف بھیجا تو حضرت صالح علیہ السّلام نے ان کو اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے، اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرانے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کا حکم دیا، ان کو اپنے اوپر رب تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلا کر سمجھایااور عذابِ الٰہی سے ڈرایا۔

قوم کا معجزہ کو طلب کرنا:

اس دعوت کے بعد قوم کے سردار جندع بن عمرو نے عرض کی، اگر آپ سچے نبی ہیں تو پہاڑ کے اس پتھر سے فلاں فلاں صفات والی اونٹنی ظاہر کردیں، آپ نے دعا مانگی سب کے سامنے پتھر پھٹا اور صِفاتِ مخصوصہ والی اونٹنی نمودار ہوئی اور پیدا ہوتے ہی اپنے برابر بچہ جنا۔

معجزہ دیکھ کر کون ایمان لایا؟

یہ معجزہ دیکھ کر جندع تو اپنے خاص لوگوں کے ساتھ ایمان لے آیا جبکہ باقی لوگ اپنے وعدے سے پھر گئے اور کفر پر قائم رہے۔

اونٹنی کے بارے میں ہدایات:

حضرت صالح علیہ السّلام نے اونٹنی کے بارے میں فرمایا کہ ”تم اسے تنگ نہ کر نا، اسے اس کے حال پر چھوڑدو، اسے بُرائی کی نیت سے ہاتھ نہ لگانا، نہ مارنا، نہ ہنکانا اور نہ قتل کرنا ورنہ تمہیں درد ناک عذاب پکڑ لے گا۔

اونٹنی کی پیدائش سے حضرت صالح کے معجزات:

اس اونٹنی کی پیدائش سے حضرت صالح علیہ السّلام کے کئی معجزات ظاہر ہوئے، (1)وہ اونٹنی نہ کسی پیٹ میں، نہ حمل میں رہی بلکہ طریقہِ عادیہ کے خلاف پہاڑ کے ایک پتھر سے اس کی پیدائش ہوئی۔

(2)یہ اونٹنی ایک دن سارا پانی پیتی اور دوسرے دن پورا قبیلہ ثمود پیتا۔

(3)اس اونٹنی کے پینے کے دن اس کا دودھ دوہا جاتا تو وہ اتنا ہوتا کہ تمام قبیلے کو کافی ہوتا۔

(4)اس کی باری کے دن تمام جانور پانی پینے سے باز رہتے۔

قومِ ثمود کی نافرمانی:

قومِ ثمود میں ایک صدوق نامی عورت تھی جو بڑی حسین اور مالدار تھی، اس کی لڑکیاں بھی بہت خوبصورت تھیں، اس نے مصدع ابن دہر اور قیدار بن سالف کو بلا کر کہا کہ اگر تم اونٹنی کو ذبح کردو تو میری جس لڑکی سے چاہو نکاح کرلینا، چنانچہ دونوں نے مل کر اس اونٹنی کو ذبح کردیا مگر قیدار نے ذبح کیا اور مصدع نے ذبح پر مدد دی اور پھر حضرت صالح علیہ السّلام سے کہنے لگے: اگر تم رسول ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔

قومِ ثمود پر عذاب:

انہوں نے بدھ کے دن اونٹنی کی کوچیں کاٹیں تھیں، حضرت صالح علیہ السّلام نے فرمایا: تم تین دن کے بعد ہلاک ہوجاؤ گے۔ پہلے دن ان کے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ ہوگئے، پھر وہ لوگ اتوار کے دن دوپہر کے قریب اولاً ہولناک آواز میں گرفتار ہوئے جس سے ان کے جگر پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے، ان کی ہلاکت کے بعد حضرت صالح علیہ السّلام مؤمنین کو ساتھ لے کر مکۂ معظمہ روانہ ہوگئے۔(ملخصاًتفسیر صراط الجنان، 3/357تا361، عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص 103تا105)


          حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے آپ نے جب قوم ثمود کو خدا (پاک) کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اونٹنی نکالیں جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت و تندرست اور خوب بلند قامت اونٹنی نکل پڑی جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی۔

اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر گر کر جمع ہوتا تھا آپ نے فرمایا کہ اے لوگوں !دیکھو یہ اونٹنی ہے -ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا - قوم نے اس کو مان لیا پھر آپ نے قوم ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی کہ اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئ معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئےگا ۔

چند دن تو قوم ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن ان کو پانی نہیں ملتا تھا - کیونکہ اس دن تالاب کا سارا پانی اونٹنی پی جاتی تھی - اس لئے ان لوگوں نے طے کر لیا کہ اس اونٹنی کو قتل کر ڈالیں چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا - ساری قوم کے حکم سے اس اونٹی کو قتل کرنے کے لیے تیار ہو گیا - حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے ، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اونٹی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا - پھر اس کو ذبح کر دیا اور انتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بےادبانہ گفتگو کرنے لگا - چنانچہ خداوندِقدوس کا ارشاد ہے کہ جس کا ترجمہ یہ ہے:پس ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو اگر تم رسول ہو -

زلزلہ کا عذاب : قوم ثمود کی اس سرکشی پر عذاب خدا وندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگاڑ کی خوفناک آواز آئی- پھر شدید زلزلہ آیا جس سے پوری آبادی اتھل پتھل ہو کر چکنا چور ہو گئ - تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر تہس نہس ہو گئیں اور قوم ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا - قرآن مجید نے فرمایا کہ

جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے تو انہیں زلزلہ نے آ لیا صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گے - حضرت صالح علیہ السلام نے جب دیکھا کہ پوری بستی زلزلوں کے جھٹکوں سے تباہ وبرباد ہو کر اینٹ پتھروں کا ڈھیر بن گئ اور قوم ہلاک ہو گئ تو آپ کو بڑا صدمہ اور قلق ہوا -اور آپ کو قوم ثمود اور ان کی بستی کے ویرانوں سے اس قدر نفرت ہو گئ کہ آپ نے ان لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا - اور اس بستی کو چھوڑ کر دوسری جگہ تشریف لے گئے اور چلتے وقت مردہ لاشوں سے یہ فرما کر روانہ ہو گئے کہ

اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہیوں کے (پسند کرنے والے) ہی نہیں -

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قوم ثمود کی پوری بستی برباد و ویران ہو کر کھنڈر بن گئ اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اتر گئ آج ان کی نسل کا کوئی انسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا ۔


علامہ ابنِ خلدون لکھتے ہیں کہ ثمود کے لوگ طویل القامت اور کثیر الاعمار تھے،  بدیں سب پہاڑوں میں بڑے بڑے عالیشان محلات بناتے رہتے تھے، اٹھارہ مربع میل میں یہ قوم پھیلی ہوئی تھی، دولت و قوت اسے میسر تھی، دیارِ ثمود میں پانی کی بڑی قلت تھی، لوگ دریا کے نہ ہونے کے باعث کنویں کھود کر پانی حاصل کرتے اور زراعت کا کام سرانجام دیتے تھے، اس کے علاوہ ان کے پاس صرف ایک چشمہ تھا، جو ضرورت کے اعتبار سے ناکافی تھا، ثمود کے لوگ اعلیٰ محلات بنوانے کے بڑے شائق تھے، وہ تجربہ کار اور ماہر وں کو بلواتے، عمارتیں تیار کرواتے، مختصراً یہ کہ قومِ ثمود کا بیشتر حصّہ انہی کاموں میں لگا دیتے، آہستہ آہستہ ان کا یہ شوق اُ نہیں اپنے خداؤں کی سنگین مورتیں بنوانے لگے اور ان کی پرستش کرنے لگے۔

حضرت صالح نے فرمایا:" کہ اے لوگو!اللہ کے سوا کسی اور کو پُوجنا چھوڑ دو، صرف اُس کی عبادت کرو ، جو اس کائنات کا واحد خالق ہے اس کا شکر ادا کرو اور غرور سے بازآؤ، ورنہ ایسی مصیبت آئے گی کہ بجز خدا تمہیں چُھڑا نہ سکیں گے، اس پر قومِ ثمود نے کہا کہ اے صالح! ہمیں تُم سے یہ اُمید نہیں تھی تو حضرت صالح نے عرض کی: کہ مجھ پر اللہ کی عنایت ہے کہ مجھے اُس نے تم لوگوں کی رہنمائی کے لئے چنا، تمہاری عمارتیں، محلات وغیرہ کسی کام نہ آئیں گے، یہ سب فنا ہو جائیں گے، تُم ان سے دل مت لگاؤ، قوم کہنے لگی: کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہر کسی نے جادو کر دیا ہے، ورنہ تُو ہمارے جیسا آدمی ہے، پھر کہنے لگے:کہ تم سچے ہو تو کوئی نشانی دکھاؤ، اس پر استفسار فرمایا اور کہا: برابر والے پہاڑ سے ایک دس ماہ کی حاملہ قد آور اُونٹنی پیدا کر کے دکھاؤ اور تھوڑی دیر میں اس کےقد جتنا بچہ بھی پیدا ہو، آپنے پہاڑ کے قریب جا کر دعا مانگی اور ویسا ہی ہوا، لوگ دیکھ کر حیران ہو گئے اور ایمان لانے لگے تو شیطان نے وسوسے ڈالنے شروع کر دئیے اور وہ لوگ شیطان کی باتوں میں آگئے اور ایمان نہ لے کر آئے، قومِ ثمود نے اونٹنی کو قتل کر دیا اور بچہ بھاگ کر پہاڑ میں غائب ہو گیا، لیکن قومِ ثمود میں متکبر کہنے لگے: ہم تو جس پر تُم ایمان لائے ہو، اسے نہیں مانتے، آخرکار اونٹنی کاٹ ڈالی اور کہا:"اگر تم پیغمبر ہو تو وہ عذاب ہم پر لے ہی آ، جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے، پھر زلزلے نے انہیں آ دبایا، صبح کو وہ اپنے گھر میں اوندھے مرے پڑے تھے، آپ نے منہ پھیر لیا اور کہا: میں نے تو تمہیں اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی، لیکن تم خیر خواہی کو پسند نہیں کرتے۔(اعراف)(قصص الانبيا ء، ہمارے پیغمبر)


حضرت صالح علیہ السلام قومِ ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے،  آپ نے جب قومِ ثمود کو خدا کا فرمان سُنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اُونٹنی نکالئے، جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو ، چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت و تندرست اور خُوب بلند قامت اُونٹنی نکل پڑی، جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی، اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا، جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا، آپ علیہ السلام نے فرمایا: کہ اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اُونٹنی ہے، ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا، قوم نے اس کو مان لیا، پھر آپ نے قومِ ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی:

يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ(پ8، الاعراف: 73)

ترجمۂ کنزالایمان:"اے میری قوم اللہ کو پوجو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے روشن دلیل آئی ہے، یہ اللہ کا ناقہ ہے، تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اُسے برائی برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا۔"

چند دن تو قومِ ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن اُن کا پانی نہیں ملتا تھا، کیونکہ اس دن تالاب کا سارا پانی اُونٹنی پی جاتی تھی، اس لئے ان لوگوں نے طے کر لیا کہ اس اُونٹنی کو قتل کر ڈالیں، چنانچہ اس میں قدار بن سالف جو سُرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا اور پست قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا، ساری قوم کے حکم سے اس اُونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا، حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اُونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا، پھر اس کو ذبح کردیا اور اِنتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا، چنانچہ خداوندِ قدوس کا ارشاد ہے کہ فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۷۷ (پ8، الاعراف: 77)

ترجمہ کنزالایمان:"پس ناقہ کونچیں کاٹ دیں اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اےصالح! لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو، اگر تم رسول ہو۔"

قومِ ثمود کی اس سرکشی پہ عذابِ خُداوندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی، پھر شدید زلزلہ آیا، جس سے پوری آبادی اتھل پتھل ہو کر چکنا چور ہو گئی، تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر تہس نہس ہو گئیں اور قومِ ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا، قرآن مجید نے فرمایا کہ

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ

ترجمہ کنزالایمان:"تو اُنہیں زلزلہ نے آلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے ۔"(پ8، الاعراف: 78)

حضرت صالح علیہ السلام نے جب دیکھا کہ پوری بستی زلزلوں کے جھٹکوں سے تباہ و برباد ہو کر اینٹ پتھروں کا ڈھیر بن گئی اور پوری قوم ہلاک ہوگئی تو آپ کو بڑا صدمہ اور قلق ہوا اور آپ کو قومِ ثمود اور ان کی بستی کے ویرانوں سے اس قدر نفرت ہوگئی کہ آپ نے اُن لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا اور اُس بستی کو چھوڑ کر دوسری جگہ تشریف لے گئے اور چلتے وقت مُردہ لاشوں سے یہ فرما کر روانہ ہوگئے کہ : فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّيْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِيْنَ۷۹

ترجمہ کنزالایمان:"اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے ربّ کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا، مگر تم خیر خوا ہوں کے غرضی (پسند کرنے والے) ہی نہیں۔"(پ8،الاعراف:79)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قومِ ثمود کی پوری بستی بربادو ویران ہوکر کھنڈر بن گئی اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اُتر گئی، کہ آج ان کی نسل کا کوئی انسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا۔ 


1۔تمہید:

دنیا میں بہت سی قومیں آئیں، اللہ پاک نے ان قوموں کی طرف انبیاء کو ہدایت کے لئے بھیجا، جو قوم اپنے نبی علیہ السلام پر ایمان لے آتی، وہ کامیاب ہو جاتی اور جو نافرمانی کرتی، وہ عذابِ الٰہی کی مستحق ٹھہرتی، انہی قوموں میں سے ایک قوم قومِ ثمود بھی ہے۔

2۔قومِ ثمود کس نبی علیہ السلام کی قوم تھی:

قومِ ثمود حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھی، جب حضرت صالح علیہ السلام کو قومِ ثمود کی طرف مبعوث فرما یا گیا تو آپ نے قومِ ثمود کو اللہ پاک کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے معجزہ طلب کیا۔

3۔ ثمود بھی عرب کا ہی ایک قبیلہ تھا، یہ لوگ ثمود بن رام بن سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور حجاز و شام کے درمیان سرزمینِ حِجر میں رہتے تھے۔

4۔حضرت صالح علیہ السلام کی اُونٹنی:

معجزہ یہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اُونٹنی نکالئے، جو خُوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو، چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت اور تندرست اور کو بلند قامت اُونٹنی نکل پڑی، جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی، اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا، جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا۔

آپ نے فرمایا: اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے، ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا"، قوم نے اس کو مان لیا، پھر آپ نے قومِ ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی:

ترجمہ کنزالایمان:"اے میری قوم!اللہ کو پوجو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے روشن دلیل آئی، یہ اللہ کا ناقہ ہے، تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا۔"( پ8،اعراف:73)

چنددن تو قومِ ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن ان کو پانی نہیں ملتا تھا، کیونکہ اس دن تالاب کا سارا پانی اُونٹنی پی جاتی تھی، اس لئے ان لوگوں نے طے کر لیا کہ اس اونٹنی کو قتل کر ڈالیں۔

چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سُرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا، ساری قوم کے حکم سے اُونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا، حضرت صالح علیہ السلام منع فرماتے رہے، لیکن پھر بھی اس شخص نے بات نہ سُنی اور اُونٹنی کے چاروں پاؤں کاٹ ڈالے، پھر اس کو ذبح کر دیا اور اِنتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا۔

چنانچہ خداوند قُدُّوس کا اِرشاد ہے:

ترجمہ کنزالایمان:"پس نا قہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ، جس کا تم وعدہ دے رہے ہو، اگر تم رسول ہو۔"(پ8، اعراف:77)

قومِ ثمود کی اس سرکشی پر عذابِ خداوندی کا ظہور ہوا، ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی، پھر شدید زلزلہ آیا، جس سے پوری آبادی تباہ ہوگئی، تمام عمارتیں بھی تہس نہس ہوگئیں اور قومِ ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا۔

5۔اس قوم کی نافرمانیاں:

حضرت صالح علیہ السلام نے قومِ ثمود کو اللہ پاک کی نعمتیں یاد دلاکر بھی سمجھایا کہ اے قومِ ثمود!تم اس وقت کو یاد کرو، جب اللہ پاک نے تمہیں قومِ عاد کے بعد ان کا جانشین بنایا، قومِ عاد کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کرکے تمہیں ان کی جگہ بسایا، اللہ نے تمہیں زمین میں رہنے کو جگہ عطا کی، تمہارا حال یہ ہے کہ تم گرمی کے موسم میں آرام کرنے کے لئے ہموار زمین میں محلات بناتے ہو اور سردی کے موسم میں پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے ہو، لہذا تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور نافرمانی نہ کرو، لیکن یہ قوم کفر پر قائم رہی، چند لوگ اُونٹنی والا معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے اور باقی لوگ اپنے وعدے سے پھر گئے۔

آپ علیہ السلام کی قوم میں سے ایک شخص نے کہا: اے صالح!اگر تم رسول ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ، جس کی وعیدیں سناتے رہتے ہو۔"

انہوں نے بدھ کے دن جب اونٹنی کی کوچیں کاٹیں تو حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا: کہ تم تین دن بعد ہلاک ہوجاؤگے، پہلے دن تمہارے چہرے زرد، دوسرے دن سُرخ اور تیسرے دن سیاہ ہوجائیں گے"، چنانچہ ایسا ہی ہوا، وہ لوگ اتوار کے دن دوپہر کے وقت اولاً ہولناک آواز میں گرفتار ہوئے، جس سے ان کے جگر پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے۔

عذاب کی زمین منحوس:

روایت ہے کہ جب جنگِ تبوک کے موقع پر سفر میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم قومِ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ خبردار! کوئی شخص اس گاؤں میں داخل نہ ہو اور نہ ہی اس گاؤں کے کنویں کا کوئی شخص پانی پئے اور تم لوگ اس عذاب کی جگہ سے خوفِ الہی میں ڈوب کر روتے ہوئے اور مُنہ ڈھانپے ہوئے جلدی سے گزر جاؤ۔

6۔درسِ ہدایت:

اس قوم کی ہلاکت سے ہمیں عبرت پکڑنی چاہئے اور اللہ پاک کی نافرمانی والے کام نہیں کرنے چاہئیں اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرکے اپنی زندگی بسر کرنی چاہئے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنا اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مطیع و فرمانبردار بنا دے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم 


اللہ پاک نے قرآن کریم میں اُمّتِ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی عبرت و نصیحت کے لئے سابقہ اُمتوں کی نافرمانیوں کو بیان فرمایا ہے،  انہی میں سے ایک قومِ ثمود بھی ہے۔

قومِ ثمود کا تعارف:

ثمود عرب کا ایک قبیلہ تھا، یہ لوگ ثمود بن رام بن سام بن نوح علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے تھے اور حجاز و شام کے درمیان سرزمین حجر میں رہتے تھے، اللہ پاک نے ان کی طرف حضرت صالح علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔

قومِ ثمود کی نافرمانیوں کا واقعہ:

جب حضرت صالح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے قومِ ثمود کو اللہ پاک کی وحدانیت و عبادت کی طرف بلایا، تو وہ کہنے لگے:اگر آپ پہاڑ کے اس پتھر سے فلاں فلاں صفات کی اُونٹنی ظاہر کریں تو ہم ایمان لے آئیں گے، حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے ایمان کا وعدہ لے کر ربّ پاک سے دعا کی، سب کے سامنے وہ پتھر پھٹا اور اسی شکل و صورت کی پوری جوان اُونٹنی نمودار ہوئی اور پیدا ہوتے ہی اپنے برابر بچہ جنا، یہ معجزہ دیکھ کر بہت سے لوگ ایمان لے آئے، جبکہ اکثر لوگ اپنے وعدے سے پھر گئے اور کفر پر قائم رہے۔

حضرت صالح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:" کہ تم اس اُونٹنی کو چھوڑ دو کہ زمین میں کھائے اور اس کو نقصان نہ پہنچانا، ورنہ تمہیں دردناک عذاب پہنچے گا۔" قوم نے اس بات پر اتفاق کر لیا اور یہ اُونٹنی ان میں رہے گی، جہاں سے چاہے چرے گی اور ایک دن چھوڑ کر پانی پئے گی، جب وہ کنویں کا پانی پینے کے لئے آتی تو اس دن کنویں کا سارا پانی پی لیتی، وہ اپنی باری کے دن کل کے لئے پانی جمع کر لیتے۔

جب اس حالت پر کچھ مدت لمبی ہو گئی تو انہوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ اس اُونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تاکہ اس مصیبت سے نجات پائیں، چنانچہ انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، اسے ذبح کر ڈالا اور کہا کہ اے صالح! اگرتم ر سول ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ، جس کی وعیدیں سُناتے رہتے ہو، انہوں نے اپنی اس بات میں کفر کی انتہائی حدوں کو چُھوا۔

اللہ پاک نے ان کو اُونٹنی نشانی کے طور پر دی تھی اور اِس کو نقصان پہنچانے سے منع کیا تھا، مگر انہوں نے اُونٹنی کو قتل کر دیا اور عذاب کو جلدی طلب کیا، اپنے اس رسول کی تکذیب کی، جس کی نبوت و سچائی پر قطعی اورپُختہ دلیل قائم ہوچکی تھی۔

حضرت صالح علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام نے ان سے فرمایا: کہ تم تین دن کے بعد ہلاک کر دیئے جاؤ گے، لیکن انہوں نے اس وعدے کی بھی تصدیق نہ کی، بلکہ اور زیادہ دلیری کرکے حضرت صالح علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا۔

چنانچہ ان کی نافرمانیوں کے سبب اللہ پاک نے انہیں ہولناک چیخ اور زلزلے کے ذریعہ ہلاک فرما دیا۔(صراط الجنان، سورہ اعراف، آیت83 تا 89، قصص الانبیاء، ملتقطاً)

اللہ پاک ہمیں عبرت حاصل کرنے، اپنی نافرمانی سے بچنے، اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم 


ثمود   عرب کا ایک قبیلہ تھا اور یہ لوگ ثمود بن رام بن سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں تھے اور حجاز و شام کے درمیان سرزمینِ حِجر میں رہتے تھے، قومِ ثمود قومِ عاد کے بعد ہوئی، اس قوم کی طرف حضرت صالح علیہ السلام مبعوث کئے گئے، قومِ ثمود نے گرمیوں کے لئے بستیوں میں محل بنائے ہوئے تھے اور سردی کے موسم کے لئے پہاڑوں میں گرم مکانات تعمیر کئے تھے، اس قوم نے حضرت صالح علیہ السلام کی نافرمانیاں کیں، ان میں سے 5 مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ایمان کے وعدے کا انکار:

قومِ ثمود کے سردار جندع بن عمرو نے حضرت صالح علیہ السلام سے عرض کیا:"اگر آپ سچے نبی ہیں تو پہاڑ کے اس پتھر سے فلاں فلاں صفات کی اُونٹنی ظاہر کریں، اگر ہم نے یہ معجزہ دیکھ لیا تو ایمان لے آئیں گے، حضرت صالح علیہ السلام نے ایمان کا وعدہ لے کر ربّ پاک سے دعا کی، سب کے سامنے وہ پتھر پھٹا اور اسی شکل و صورت کی پوری جوان اونٹنی نمودار ہوئی اور پیدا ہوتے ہی اپنے برابر بچہ جنا، یہ معجزہ دیکھ کر جندع تو اپنے خاص لوگوں کے ساتھ ایمان لے آیا، جبکہ باقی لوگ اپنے وعدے سے پھر گئے اور کفر پر قائم رہے۔"(صراط الجنان، جلد 3، صفحہ 360)

2۔اونٹنی کی ہلاکت:

حضرت صالح علیہ السلام نے اس معجزے والی اونٹنی کے متعلق فرمایا تھا کہ تم اس اُونٹنی کو تنگ نہ کرنا اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، تاکہ اللہ پاک کی زمین میں کھائے اور اسے بُرائی کی نیت سے ہاتھ نہ لگانا، نہ مارنا، نہ ہنکانا اور نہ قتل کرنا ، اس کے بعد قومِ ثمود کے دو شخص قدار اور مصدع نے حضرت صالح علیہ السلام کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے اُونٹنی کو ایک جگہ پاکر اسے ذبح کر دیا، قدار نے اُونٹنی کو ذبح کیا اور مصدع نے ذبح پر مدد دی۔"(صراط الجنان، جلد 3، صفحہ 360)

3۔رسالت کا انکار:

حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے متکبرسردار کمزور مسلمانوں سے کہنے لگے: کیا تم یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ حضرت صالح علیہ السلام اپنے ربّ کے رسول ہیں؟ انہوں نے کہا:بے شک ہمارا یہی عقیدہ ہے، ہم انہیں اور ان کی تعلیمات کو حق سمجھتے ہیں، " سرداروں نے کہا :جس پر تم ایمان رکھتے ہو، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔(صراط الجنان، جلد 3، صفحہ 360)

4۔قیامت کا انکار:

قومِ ثمود نے طرح طرح کی دہشتوں اور ہولناکیوں سے دلوں کو دہلا دینے والی قیامت کو جھٹلایا تو (دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ اس جُرم کی وجہ سے بھی)حد سے گزری ہوئی چنگاڑیعنی سخت ہولناک آواز سے ہلاک کر دیئے گئے۔(صراط الجنان، جلد 10، صفحہ 316)

5۔اللہ کی عبادت سے انکار:

اللہ پاک نے قومِ ثمود کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اے لوگو!تم اللہ پاک کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ تو وہ اُسی وقت جھگڑا کرتے ہوئے دو گروہ بن گئے، ایک گروہ حضرت صالح علیہ السلام پر ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے ایمان لانے سے انکار کر دیا۔(صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 209)


قوم ثمودکا تعارف:ثمود عرب کے ایک قبیلہ کا نام ہے جس کے لوگ حجاز و شام کے درمیان سر زمین حجر میں آباد تھے اللہ پاک نے اس قوم کو انتہائی زرخیز زمین عطا کی تھی جس کی وجہ سے ان کی فصلیں خوب ہوتیں اور باغات سرسبز و شاداب اور میووں سے بھرے ہوتے تھے فن تعمیر میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا.

قوم ثمود کی عملی حالت: آل ثمود اللہ پاک کی وحدانیت پر ایمان رکھتے اور اسی کی عبادت کرتے تھے پھر کچھ عرصہ کے بعد کچھ لوگوں نے پتھروں کے عجیب و غریب شکلوں کے بت بنائے پھر مختلف نام رکھ کر انہیں خدا پاک کا شریک ٹھہرایا اور عبادت الہی چھوڑ کر ان بتوں کی پوجا میں مشغول ہو گئے رفتہ رفتہ چند افراد کے علاوہ پوری قوم نے اس دلدل میں چھلانگ لگا دی.

بعثت حضرت صالح علیہ السلام:اللہ رب العزت نے انہیں اس سے نجات دلانے اور راہ ہدایت پر گامزن کرنے کے لئے ایک عظیم ہستی حضرت صالح علیہ السلام کو رسول بنا کر ان کی طرف بھیجا جیسا کہ

قرآن مجید میں ہے: وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا

ترجمۂ کنز الایمان :اور قوم ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا۔ (پ8، الاعراف:73)

حضرت صالح علیہ السلام کی نافرمانی: آپ علیہ السلام نے قوم کو وحدانیت باری پاک پر ایمان لانے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دی تو قوم نے آپ کو جھٹلایا اور نافرمانی کی آپ علیہ السلام نے قوم ثمود کو انعامات الہیہ یاد دلا کر بھی سمجھایا تو حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت و نصیحت سن کر لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ایک گروہ حق و صداقت قبول کرنے والوں کا دوسرا گروہ اپنی جہالت و ضلالت پر ڈٹے رہنے والوں کا.

عذاب الہی کا سن کر بے باکی اور نافرمانی کا مظاہرہ: قوم ثمود کو حضرت صالح علیہ السلام نے تکذیب و انکار کرنے پر عذاب الہی سے ڈرایا اور ایمان و اطاعت کی دعوت دی عذابِ الہی کے بات سن کر قوم نے بے باکی اور نافرمانی کا مظاہرہ کیا.

اونٹنی کا مطالبہ اور نافرمانی: آپ کی تبلیغ و نصیحت سے تنگ آکر لوگوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ آپ سے ایک ایسا مطالبہ کیا جائے جسے آپ پورا نہ کر سکیں پھر انہوں نے آپ سے ایک ایسی اونٹنی کا مطالبہ کیا جو طاقتور، خوبصورت، ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک، دس ماہ کی حاملہ پہاڑ سے نکلے اور نکلتے ہی بچہ جنے پھر آپ نے ان سے عہد لیا کہ اگر آپ ان کا مطالبہ پورا کر دیں گے تو وہ ایمان لے آئیں گے پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھ کر بارگاہ الہی میں دعا کی اور چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو اسی وقت چٹان پھٹی اور اس میں سے ایک انتہائی خوبصورت، تندرست، اونچے قد والی اونٹنی نکل آئی جو حاملہ تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اس عظیم الشان معجزہ کو دیکھ کر جندع نامی شخص اپنے خاص لوگوں کے ساتھ ایمان لے آیا اور باقی لوگوں نے نافرمانی کی.

ایک ہدایت اور نافرمانی: اونٹنی کے متعلق ایک ہدایت یہ تھی کہ اسے برائی کی نیت سے نہ ہاتھ لگانا نہ مارنا نہ ہنکانہ اور نہ قتل کرنا قوم ثمود حضرت صالح علیہ السلام کے دیے ہوئے احکام پر ایک عرصہ تک عمل پیرا رہیں پھر انہیں اپنی چراگاہوں میں اور مویشیوں کے لئے پانی کی تنگی کی وجہ سے افسوس ہوا تو وہ لوگ اونٹنی کو قتل کرنے پر متفق ہوگئے اور اس کام کے لیے اپنے ساتھی قدار بن سالف کو منتخب کیا جس نے اونٹنی کو پکڑ کر تیز تلوار سے اس کی کونچیں کاٹ کر قتل کر ڈالا اونٹنی کو قتل کرنے کے بعد ان لوگوں کی سرکشی اور بے باکی میں اور اضافہ ہوا.

عذاب الہی کا مطالبہ اور انجام: اس جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد حضرت صالح علیہ السلام کے پاس آکر کہنے لگے اے صالح اگر تم رسول ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ جس سے تم ہمیں ڈراتے رہتے ہو ہو تو آپ نے نزول عذاب کی خبر دی پھر ان لوگوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو شہید کرنے کی سازش کی تو آپ کو شہید کرنے کی سازش کرنے والے تو عام عذاب اترنے سے پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ گئے تھے اور باقی نافرمان عام عذاب اترنے پر اپنے انجام کو پہنچے.

حدیث مبارکہ میں قوم ثمود کا تذکرہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مقام حجر سے گزرے تو ارشاد فرمایا: اے لوگو! معجزات کا مطالبہ نہ کرو، کیوں کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے معجزے کا مطالبہ کیا (تو اللہ پاک نے ان کے لئے اونٹنی بھیجی) جو اس گھاٹی سے باہر آتی اور اسی کے اندر چلی جاتی تھی وہ اونٹنی ایک دن لوگوں کے حصے کا پانی پی جاتی اور لوگ اس دن اونٹنی کا دودھ پی لیتے تھے پھر انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو انہیں ایک ہولناک چیخ نے پکڑ لیا اور اللہ پاک نے آسمان کے نیچے موجود ان کے ہر فرد کو ہلاک کر دیا سوائے ایک شخص کے جو کہ حرم پاک میں موجود تھا۔ عرض کی گئی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وہ کون تھا؟ارشاد فرمایا: ابو رغال، جب وہ حرم پاک سے نکلا تو اسے بھی وہی عذاب پہنچ گیا جو اس کی قوم پر آیا تھا۔(مسند امام احمد،مسند جابر بن عبداللہ،حدیث:14162)از سیرت الانبیاء


قومِ ثمود کی طرف حضرت صالح علیہ السلام نبی بنا کر بھیجے گئے،  حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں ایمان کی دعوت دی تو یہ قوم اپنے نبی پر ایمان لانے کی بجائے سرکشی اور بغاوت پر اَڑ گئی، چنانچہ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا، معجزہ ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ لوگ کفرو سرکشی میں اندھے پڑے رہے اور ایمان نہ لائے، ان کی کچھ نافرمانیوں کو ہم ذکر کئے دیتے ہیں۔

1۔معجزہ مانگا:

اس قوم نے حضرت صالح علیہ السلام سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اُونٹنی نکالئے، جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو، چنانچہ آپ علیہ السلام نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت اور خُوب بلند قامت اُونٹنی نکل پڑی، جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی۔

2۔اُونٹنی کو ذبح کر ڈالا:

اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا، جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا، آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے، ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا، پہلے تو انہوں نے مان لیا، مگر انہیں یہ برداشت نہ ہوا کہ ایک دن اُن کو پانی نہ ملتا تھا، چنانچہ انہوں نے طے کر ڈالا کہ اس کو قتل کر دیں، چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سُرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا، ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا، ساری قوم کے حکم سے اُونٹنی کو ذبح کر ڈالا۔

3۔نبی کی بے ادبی و توہین:

حضرت صالح علیہ السلام منع فرماتے رہے، مگر اُن کے حکم کو نہ مانا اور اِنتہائی سرکشی کے ساتھ بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا، اِرشاد ِربّانی ہے: پس ناقہ (اونٹنی)کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح ہم پر لاؤ، جس کا تم وعدہ دے رہے ہو، اگر تم رسول ہو۔"(پارہ 8، الاعرف:77)

4۔ ایمان نہ لانا اور حکم عدولی کرنا:

معجزہ ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ اندھے رہے اور حکم نہ مانے اور ایمان سے محروم ہی رہے۔

ان نافرمانیوں کے بعد اِس سرکش قوم پر عذابِ خداوندی کا ظہور ہوا، پہلے زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی، پھر شدید زلزلہ آیا، جس سے پوری آبادی اتھل پتھل ہو کر چکنا چور ہو گئی، تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ گئیں اور پوری بستی ہلاک ہوگئی۔

چنانچہ اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا:"تو انہیں زلزلہ نے آ لیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے۔"(پارہ 8، الاعراف :78)

حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے منہ پھیر لیا اور اس بستی کو چھوڑ کر دوسری جگہ تشریف لے گئے۔(لعنت اللہ علی الکافرین)(عجائب القرآن، صفحہ 103، 104، 105)


طاقت کسی اچھے  آدمی کو ملے تو نعمت، بُرے کو ملے تو ایک نشہ، ایسا نشہ جو سر چڑھ کر بولتا ہے اور آدمی کو فساد کی طرف لے جاتا ہے، جو افراد اور قومیں طاقت دینے والے کی شُکرگزار ہوئیں، وہ تاریخ میں نیک نام ٹھہریں اور جنہوں نے ناشکری کی، بربادی اور ہلاکت نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا، قرآن مجید ان کے مِٹ جانے کی خبر دیتا ہے، تاکہ ہم اِن سرکشوں و نافرمانوں اور ناشُکروں جیسے نہ ہو جائیں، نعمت ملنے پر اس ذات پاک کا شکر ادا کریں۔

یہ کہانی ایک نافرمان قوم کی تباہی کی کہانی ہے، جس میں نصیحت بھی ہے اور عبرت کا مقام بھی ان کے لئے، جو صراطِ مستقیم کو اپنی منزل بنانا چاہتے ہیں۔

سیدنا نوح علیہ السلام کے پوتے کا نام ثمود تھا، ثمود کا خاندان حجاز اور تبوک کے درمیان حجر نامی مقام پر آباد تھا، جسے مدائن صالح کہا جاتا ہے، یہ لوگ جسمانی لحاظ سے بہت طاقتور تھے، پہاڑوں کو تراش کر اِن میں گھر بناتے تھے، جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ اللہ نے انہیں سرسبز زمین بھی دی تھی۔

پھر یہ قبیلہ نافرمان ہو گیا، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو بُتوں کی عطا کردہ نعمتیں خیال کرنے لگے، حرام کو حلال سمجھنے لگے، کمزوروں پر ظلم کرنے لگے، اپنا وقت تماشے، ناچ گانوں میں بسر کرنے لگے۔

پھر اللہ نے انہی میں سے حضرت صالح کو نبوت عطا فرمائی، نبوت ملنے سے پہلے بھی حضرت صالح بہت نیک اور سچائی اور امانت کے اعتبار سے بہت مشہور تھے۔

نبوت ملنے پر آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا، قرآن کریم میں ہے:

"صالح نے کہا: کہ اے میری قوم!اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا، اسی میں آباد کیا، اسی سے مغفرت مانگو، اس سے توبہ کرو، بیشک میرا ربّ نزدیک(بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا ہے۔"

آپ کی قوم نے آپ کا یہ پیغام سنا، لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا، وہ ایک ایسی قوم تھی، جسے شرک نے اندھا کررکھا تھا اور ان میں سے ایک کہنے لگا"کہ تم جادوزن ہو، بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟"

ان کی جاہلانہ باتوں کے باوجود سیّدناصالح نے اپنا کام صبر اور بُردباری سے جاری رکھا، جب قوم نے دیکھا یہ باز نہیں آرہے تو اُنہوں نے آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ایک ترکیب سوچی اور طے کیا کہ ایک ایسا مطالبہ کیا جائے، جسے یہ پورا نہ کر سکیں اور کہا کہ "اپنے ربّ سے کہو کہ سامنے والی چٹان سے اُونٹنی برآمد کرے، ہم ایمان لے آئیں گے،" سیّدنا صالح نے دعا کی اور اللہ نے اُسی وقت چٹان کو حکم دیا، چٹان حرکت کرنے لگی اور پھٹ گئی اور اس میں سے اُونٹنی نکلی، اس عظیمُ الشّان قدرت کو دیکھ کر ان میں سے کُچھ سجدے میں گرگئے، لیکن کُچھ بے اثر گمراہی پر اڑے رہے۔

اس اُونٹنی کے پانی پینے کا ایک دن ہوتا اور دوسرا دن ان لوگوں کے پینے کا، ان میں سے ایک سردار نے جس کا نام قدار بن سالف تھا، اُونٹنی کو مارنے کی تجویز پیش کی، چنانچہ اُنہوں نے اُونٹنی کو تلاش کیا اور اس پر تیر اور نیزے چلا کر اسے ہلاک کر دیا۔

سیّدنا صالح کو معلوم ہوا تو وہ بہت غمگین ہوئے اور انہوں نے حکمِ الٰہی سے تین دن تک عذاب کے آنے کا وعدہ فرمایا، "اب تم تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے، جب مہلت کا پہلا دن آیا تو ان کے چہرے زرد ہو گئے، جب دوسرا دن آیا تو ان کے چہرے سُرخ ہوگئے، جب تیسرا دن آیا، تو ان کے چہرے سیاہ ہو گئے، جبکہ چوتھا دن آیا اور سورج طلوع ہوا تو آسمان سے ایک شدید آواز آئی اور ساتھ ہی زلزلہ آ گیا، جس سے ان کی روحیں پرواز کر گئیں، قرآن کریم میں اللہ نے قومِ ثمود کی تباہی کا نقشہ یوں کھینچا ہے:"اور ثمود کی قصّے میں بھی عبرت ہے، جب ان سے کہا گیا کہ کچھ دن تک فائدہ اٹھا لو، لیکن انہوں نے اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی، جس پر انہیں ان کے دیکھتے دیکھتے تیزوتند کڑاکے نے ہلاک کر دیا، پس نہ تو وہ کھڑے ہو سکے، نہ بدلہ لے سکے۔"اللہ نے ان کو اس طرح ملیامیٹ کردیا گویا وہ کبھی اپنے گھروں میں بسے ہی نہ تھے۔


حضرت صالح علیہ السلام قومِ ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے،  آپ نے جب قومِ ثمود کو خدا کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی، تو اس سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اونٹنی نکالئے، جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو، چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت خوبصورت و تندرست اور خوب بلند قامت اُونٹنی نکل پڑی، جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچوں کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی، اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا، جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی بھر کر جمع ہوتا تھا، آپ نے فرمایا: کہ اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے، ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا، قوم نے اس کو مان لیا، پھر آپ نے قومِ ثمود کے سامنے تقریر فرمائی، چند دن قومِ ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا، پھر ان لوگوں نے طے کرلیا کہ اس اُونٹنی کو قتل کر ڈالیں۔

چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سُرخ رنگ کا بُھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا اور ایک زِنا کار عورت کا لڑکا تھا، ساری قوم کے حکم سے اس اُونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا، حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اُونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا، پھر اس کو ذبح کردیا اور اِنتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السّلام سے بے ادبا نہ گفتگو کرنے لگا، چنانچہ خداوندِ قدوس کا ارشاد ہے کہ:

ترجمہ کنزالایمان:"پس ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو، اگر تم رسول ہو۔"

قومِ ثمود کی اس سرکشی پر عذابِ خُداوندی کا ظہور اِس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی، پھر شدید زلزلہ آیا، جس سے پوری آبادی اتھل پتھل ہو کر چکنا چور ہو گئی اور قومِ ثمود کاایک ایک آدمی گھٹنوں کے بَل اوندھا گر کر مر گیا۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ قومِ ثمود کی پوری بستی برباد و ویران ہو کر کھنڈر بن گئی اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اُتر گئی کہ آج ان کی نسل کا کوئی انسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا۔(عجائب القران مع غرائب القران، صفحہ 103۔105)

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے اور اپنے خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سے سدا کے لئے راضی ہو جائے۔اللہم آمین


فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم: جب تم مرسلین علیہم السلام پر دُرود بھیجو تو مجھ پر بھی دُرود بھیجو کیونکہ میں تمام جہانوں کے ربّ کا رسول ہوں۔"

قومِ ثمود حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھی اور قومِ ثمود اور قومِ عاد یہ دونوں آپس میں چچا زاد بھائی ہیں اور یہ عرب کے ایک قبیلے میں رہتے تھے، ان کے قد بہت بڑے بڑے تھے اور ان کے سر گنبدوں کی مانند بڑے بڑے تھے اور یہ قوم پہاڑوں کو تراش تراش کر اس میں مکان بناتے تھے اور یہ ان مکانوں میں آباد تھے، مگر اس قومِ ثمود نے اللہ تبارک و پاکٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا اور ربّ پاک کی نافرمانی کی اور اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے تھے۔

جب حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں نیکی کی دعوت دی اور انہیں دین کی طرف بلایا، تو انہوں نے انکار کر دیا اور سوچا کہ ہم تو پتھروں کو تراش لیتے ہیں، کیوں نہ ہم ان سے ایسی بات کا مطالبہ کریں، جو پہاڑیوں سے متعلق ہو، انہوں نے آپ علیہ السلام سے ایک اُونٹنی کو پہاڑ میں سے نکالنے کو کہا اور کہا کہ وہ اُونٹنی حمل والی ہو۔

اللہ تبارک و پاک نے پہاڑ سے ایک ایسی اُونٹنی کو نامود فرما یا، مگر وہ قوم پھر بھی آپ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے اور اُونٹنی کو بھی قتل کر دیا۔

1۔یہ قوم ربّ پاک کی نافرمانی کرتی تھی۔

2۔ اور یہ قوم لواطت کا برا فعل کرتے تھے۔

3۔اور اس قوم نے جنتی اُونٹنی کو قتل کیا تھا۔

4۔اور یہ قوم اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلاتی تھی اور کہتی تھی کہ کہاں ہے، اللہ پاک کا عذاب!

5۔جب اس قوم پر عذاب آیا تو اس کے شہر نیست و نابود ہو گئے اور لوگوں کے لئے عبرت بن گئے۔

اللہ تبارک و پاکٰ سے دعا ہے کہ اس بیان میں جو غلطی و کوتاہی ہو گئی ہو، اُسے اپنی رحمتِ کاملہ سےمعاف فرمائے اور اس بیان کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین یا رب العالمین