صبیح اسد جوہری عطاری ( درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور ،پاکستان)
الحمدللہ رب العالمین ہم مسلمان
گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں اور مسلمان ہیں ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں وہ دین کامل
کی رہنمائی ملی جس نے زندگی کے ہر موڑ پر ہر ایک کے لیے ایسے حقوق و فرائض بنائے
کہ جس پر عمل کر کہ نہ صرف وہ بندہ خود کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ پورا معاشرہ ترقی
کر سکتا ہے اور امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ آج ہم انہیں حقوق میں سے ہم نشینی کے
حقوق پر کچھ گفتگو کریں گے ۔ ہم نشینی کے پانچ حقوق ملاحظہ کیجیے:
(1) اچھی گفتگو: پیارے اسلامی بھائیو جب کوئی
ہمارا ہم نشین بنتا ہے تو ہمارا قریبی ہو جاتا ہے اور اس سے بے تکلفی خود بہ خود
قائم ہو جاتی ہے اب ہمیں چاہیے کہ اگر کوئی ہمارا ہم نشین بنا ہے تو اس سے بے تکلفی
میں حد سے تجاوز نہ کریں یعنی اس سے اچھی گفتگو کریں ایسا نہ ہو کہ ہم بے تکلفی میں
اس کو گالیاں بکتے رہیں اس سے فحش گفتگو کریں بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم اس سے مہذب
انداز میں گفتگو کریں۔
(2) راز داری: اے عاشقانِ رسول ! یاد رکھیں کہ
اس فانی دنیا میں رہتے ہوئے بعض اوقات ہم پر طرح طرح کے غم و آزمائشیں بھی آ جاتی
ہیں تو اس صورت میں ہم اپنے ہم نشین کو دل کے غم سنا کر دل ہلکا کر لیتے ہیں اب ہمیں
بھی چاہیے کوئی ہم سے اپنا دکھ شیئر کرے تو اس کو سن کے دوسرے کو نہ سناتے پھریں
بلکہ اس کے راز و غم کو اپنے پاس امانت سمجھ کر رکھیں اور اس کے راز کسی کو نہ
بتائیں۔
(3) سلام کرنا اور سلام کا جواب
دینا: صحبت اور گفتگو کا آغاز ہی سلام
سے ہونا چاہیے اور یہ عمل حدیث پاک میں فرمایا گیا ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم جنت میں نہ جاؤ گے حتی کہ
مؤمن بن جاؤ اور مؤمن نہ بنو گے حتی کہ آپس میں محبت کرو، کیا میں تمہیں اس پر
رہبری نہ کروں کہ جب تم وہ کرلو تو اس میں محبت کرنے لگو ؟ فرمایا : اپنے درمیان
سلام عام کرو ۔ (مشکوٰۃ المصابیح جلد 6 ، اچھی باتوں کا بیان ، حدیث نمبر 4631)
اسلامی معاشرت میں سلام کا رواج
محبت ، اپنائیت اور اخوَّت کو بڑھاتا ہے ۔ جب ہم کسی مجلس میں داخل ہوں یا کسی
اسلامی بھائی سے ملاقات کریں تو سلام کرنا اور اسکا جواب دینا ہمارا پہلا حق بنتا
ہے ۔
(4) امر بالمعروف و نہی عن
المنکر: پیارے اسلامی بھائیو ہمارے رہبر
ہمارے خالق ہمارے مالک اللہ پاک نے ہمیں بھلائی کا کام کرنے اور برائی سے منع کرنے
کا حکم دیا ہے، اب ہمیں چاہیے کہ جب کوئی ہمارا ہم نشین بنے تو اسے وقتاً فوقتاً نیکی
کی دعوت دیں اور اگر اس میں کوئی برائی پائیں تو حکمت عملی کے ساتھ اس کو برائی سے
منع کریں ۔اور ہم نشینی کا حق ادا کریں ۔
(5) اصلاح اعمال: اے عاشقانِ اولیاء! ہمارے اسلاف
یعنی ہمارے بزرگان دین رحمۃ اللہ علیھم اجمعین کا یہ حسین طریقہ کار ہے کہ وہ اپنے
پاس آنے والے مریدین اور اہل محبت کو جو ان کے ہم نشین بنتے تھے ان کو نصیحت
فرماتے اور ان کے اعمال کی اصلاح فرماتے تھے، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے ہم نشین
کے اعمال کی اصلاح کرتے ہوئے اس کو آقا کریم ﷺ کی سنتوں کے قریب کر دیں تب ہی ہم
حقیقی طور پر اس کی ہم نشینی کا حق ادا کر پائیں گے۔
اے عاشقانِ رسول ! گزشتہ بیان
کردہ حقوق سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اپنے ہم نشین کے حقوق ادا کرنے چاہئیں اور اس
کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے اس کے اعمال کی اصلاح بھی کرنی چاہیے تب ہی ہم حقیقی
طور پر اپنے ہم نشین کا حق ادا کر پائیں گے ۔
اگر ہم اسلام کے بتائے ہوئے ان
حقوق پر عمل کریں گے تو ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے گا ۔
اللہ کریم ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
بجاہ النبی الامین ﷺ
Dawateislami