اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کی دینی و دنیاوی ہر معاملے میں احسن
انداز میں راہنمائی کرتا ہے اور جو ان تعلیمات پر عمل کرتا ہے وہ دنیاوی و اخروی
زندگی میں سرخرو ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری زندگی کا ایک پہلو خانگی و عائلی
معاملات میں میانہ روی اختیار کرنا بھی ہے اگر ان میں اسراف و فضولیات سے نہ بچا
جائے تو ایک پرسکون زندگی محض خواب ہی لگتی ہے۔
اللہ رب العزت
نے اپنے کلامِ عظیم میں ارشاد فرمایا: وَ لَا تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ
الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۴۱) (پ
8، الانعام:141) ترجمہ کنز الایمان: اور بےجا نہ خرچو بےشک بے جا خرچنے والے اسے
پسند نہیں۔
اس آیت مبارکہ
کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اسراف سے متعلق مختلف اقوال ہیں: حضرت سفیان
ثوری کا قول ہے کہ اللہ کی اطاعت کے سوا اور کام میں جو مال خرچ کیا جائے وہ قلیل
بھی ہو تو اسراف ہے۔ امام زہری کا قول ہے کہ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ معصیت میں خرچ
نہ کرو۔ امام مجاہد نے کہا کہ اللہ کے حق میں کوتاہی کرنا اسراف ہے۔ بروز محشر مال
کے متعلق سوال ہوگا اگرچہ کم ہو یا زیادہ چنانچہ مدینے والے آقا ﷺ کا ارشادِ پاک
ہے: قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتی کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں
سوال کیا جائے گا ( جن میں سے ایک) اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور
کہاں خرچ کیا۔ (ترمذی، 4/188، حدیث: 2424)
مندرجہ بالا
باتوں سے یہ واضح ہوا کہ بلا شبہ ہمارا پیارا دین اسلام ہمیں میانہ روی ، صبر و
شکر اور قناعت کا درس دیتا ہے اگر دنیاوی معاملات میں زیادہ ملوث ہوں تو اخراجات
خود بخود بڑھ جاتے ہیں چاہے آمدنی لاکھوں میں ہو یا چاہے کمانے والے ایک سے زائد
ہی کیوں نہ ہوں فضول خرچی کی عادت سے محدود آمدنی میں اچھا گزر بسر کرنا انتہائی
مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہم اپنی ضروریات کے مطابق گھر کا بجٹ بنائیں اور اس
پر سختی سے عمل بھی کریں تو نہ صرف ایک خوشگوار زندگی کا وجود عمل میں آ سکتا ہے بلکہ
ماہانہ کچھ نہ کچھ بچت بھی ممکن ہے یہاں اس حوالے سے چند نکات پیش خدمت ہیں:
آمدنی
اور اخراجات کا توازن: اسلام اسراف اور فضول خرچی سے سختی سے منع کرتا ہے۔
جیسا اوپر آیت مبارکہ ذکر کی گئی اس لیے آمدنی کے مطابق ضروری اور جائز اخراجات کو
ترجیح دیں، غیر ضروری چیزیں خریدنے سے پرہیز کریں۔
بجٹ
کی ترتیب: ہر
مہینے کی آمدنی اور متوقع اخراجات کا باقاعدہ حساب رکھیں۔ بجٹ بناتے وقت راشن،
بلز، تعلیم، علاج، صفائی، مرمت اور صدقہ کے لیے مخصوص رقم مختص کریں گھر کے افراد
کی مشاورت سے اخراجات پر نظر رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
بچت
اور مستقبل کی منصوبہ بندی: اسلام منصوبہ بندی اور بچت کی ہدایت
دیتا ہے تاکہ ناگہانی اخراجات یا مشکل وقت میں پریشانی نہ ہو۔ کم آمدنی میں بچت
کرنا مشکل ضرور ہے، لیکن اگر ضروری اخراجات کو ترجیح دیں اور غیر ضروری اخراجات کم
کرلیں تو بچت ممکن ہے۔
آمدنی
میں برکت کے ذرائع: اسلامی تعلیمات کے مطابق رزق میں برکت کے لئے کھانے
سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا، گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا، سچ بولنا، بسم
اللہ پڑھ کر کھانا اور باجماعت نماز پڑھنا رزق میں برکت لاتا ہے۔
راہِ
خدا میں خرچ کرنا: اسلام میں صدقہ اور خیرات کو بڑا اہم مقام حاصل ہے۔
محدود آمدنی کے باوجود کچھ رقم اللہ کی راہ میں خرچ کریں، کیونکہ صدقہ برکت اور
امن کا ذریعہ بنتا ہے صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے بڑی موت سے بچاتا ہے۔
اصولِ
کفایت شعاری: آمدنی
کم ہو تو مہنگے علاقوں یا غیر ضروری چیزوں سے پرہیز کی جائے، سستے علاقے میں گھر
لیا جائے، سادگی سے زندگی گزاری جائے اور اخراجات میں توازن رکھا جائے۔
الغرض اسلامی
تعلیمات کے مطابق بجٹ بنا کر، اخراجات میں میانہ روی اپنا کر، راہِ خدا میں خرچ کر
کے اور رزق میں برکت کے اصولوں پر عمل کر کے محدود آمدنی میں بھی سکون اور خوش
حالی کے ساتھ زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔
Dawateislami