ارشد
علی عطاری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
قرآن مجید
انسان کی ہر جگہ رہنمائی فرماتا ہے۔قرآن مجید ہمیں امن ،عدل اور بھلائی کا حکم دیتا
ہے اور زمین میں فتنہ فساد پھیلانے سے روکتا ہے۔ تاکہ معاشرہ پر امن بن جائے۔
ہم اس
مضمون میں فساد فی الارض کی قرآنی مذمت بیان کریں گے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ قرآن
مجید ہمیں ان کے بارے میں کیا تعلیم ارشاد فرماتا ہے۔
اللہ
عزوجل ارشاد فرماتا ہے:وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا
نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ
کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف
اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور
نہیں۔ (پارہ ،1 سورۃ البقرۃ، آیت11،12)
تفسیر
صراط الجنان میں ہے :کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن
میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو
وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں اس طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے
ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد
پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی
جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں ۔
مفتی قاسم
صاحب دامت برکاتہم العالیہ اسی آیت کے تحت آگے فرماتے ہیں: ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے
ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے
حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و
تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا
انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔
ایک اور
جگہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ
قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ
النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ
جَمِیْعًاؕ-وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ٘-ثُمَّ اِنَّ
كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ(۳۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس کے سبب ہم نے بنی اسرائیل پر
لکھ دیا کہ جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص
کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو
(قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا اور بیشک ان کے
پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں سے بہت سے لوگ اس کے بعد
(بھی) زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔ (پارہ 6 ،سورۃ المائدۃ، آیت 32)
تفسیر
صراط الجنان میں ہے کہ: یہ آیت ِ مبارکہ اسلام کی اصل
تعلیمات کو واضح کرتی ہے کہ اسلام کس قدر امن و سلامتی کا مذہب ہے اور اسلام کی
نظر میں انسانی جان کی کس قدر اہمیت ہے۔ اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے
جو اسلام کی اصل تعلیمات کو پس پُشت ڈال کر دامنِ اسلام پر قتل و غارت گری کے حامی
ہونے کا بد نما دھبا لگاتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو
مسلمان کہلا کر بے قصور لوگوں کو بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے ذریعے موت کی
نیند سلا کر یہ گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت سر انجام دے دی ۔
اللہ
عزوجل نے زمین میں فساد برپا کرنے والوں کے لیے سزا بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد
فرمایا:
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ
یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی
الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد
برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں
سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا
(ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں
رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (سورۃ المائدۃ:33)
اسلامی سزاوں کی حکمت:اسلام نے ہر
جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے، چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور
بڑے جرم کی سزا حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے۔ تاکہ زمین میں امن قائم ہو اور
لوگ بے خوف ہو کر سکون اور چین سے زندگی بسر کر سکیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بے شمار
حکمتیں ہیں۔ اب حالات بہت نازک ہو چکے ہیں، اسلام سزاؤں کے نافذ نہ ہونے کی وجہ سے
قسم قسم کے جرائم نے جنم لیا ہے، یہاں تک کہ کوئی شخص سکون سے گھر سے نکلے تو
راستے میں لٹ جاتا یا کوئی پیدل جا رہا ہوتا...تو اس سے نقدی اور موبائل چھین جاتا
ہے تو کوئی اس کا مسافر ہو تو وہاں بھی محفوظ نہیں کیونکہ اپنا سواری پر ہے تو وہ
خود کو زیادہ خطرے میں محسوس کرتا ہے ہماری اور غیر ہماری املاک ڈاکوؤں کے دستِ
برد سے محفوظ نہیں۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد
فساد برپا نہ کرو ۔ (پارہ 8،سورۃ الاعراف آیت 56)
اس آیت کے
متعلق صراط الجنان میں ہے یعنی اے لوگو! انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے تشریف لانے،
حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک،
گناہ اور ظلم و ستم کر کے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز الایمان:اور
زمین میں فساد نہ کر، بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ (پارہ 20،سورۃالقصص،
آیت 77)
ان تمام آیتوں
میں آپ نے بخوبی اندازہ لگایا کہ زمین میں فساد پیدا کرنا کتنا ظلم و ستم ہے۔ اگر
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے تو ہمیں چاہیے کہ ہم ظلم و
ستم کرنا چھوڑ دیں اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔
اللہ
عزوجل سے دعا ہے کہ ہم سب کو ظلم کرنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami