اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد صحیح عقائد پر قائم ہے۔ اگر بندے کے عقائد درست
ہوں تو اس کے اعمال کام آئیں گے، ورنہ سارے اعمال رائیگاں ہو جائیں گے۔ کیونکہ
عقائد کا جاننا بندے کے لیے کتنا ضروری ہے، اس کا اندازہ آپ اس آیت مبارکہ سے لگا
سکتے ہیں:
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ
رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(۱۰۵)
ترجمۂ
کنز العرفان:یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا
تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے، پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں
کریں گے۔
یقیناً آپ
نے اندازہ لگا لیا ہوگا، لیکن افسوس کہ آج کل ہم مسلمان عقائد کی ضرورت و اہمیت سے
بالکل ناواقف ہیں۔ حالانکہ اس دور میں دین کے راہزن قدم قدم پر تاک لگائے بیٹھے ہیں۔
اللہ نہ کرے اگر ہم یوں ہی چلتے رہے تو بروزِ قیامت ہمیں بہت خسارے اٹھانے پڑیں
گے۔
دورِ حاضر
میں بد مذہب اپنے مذموم و مزعوم عقائد کے اثبات کے لیے قلیل و محدود احادیث کا
سہارا لیتے ہیں اور معاذ اللہ قرآنی آیات کی نامناسب تفسیر و تاویل کر کے دینِ
اسلام میں تحریف کرتے ہیں۔ ادھر ہماری قوم کی سستی اور غفلت کا یہ عالم ہے کہ نہ
تو اپنے عقائد کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔آج کے
دور میں وجودِ باری تعالیٰ کے منکرین پیدا ہو گئے ہیں اور ہم خاموش بیٹھے ہیں،
معاذ اللہ! ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کذبِ باری تعالیٰ کو ممکن مان رہے ہیں، اور
ہم کچھ نہیں کر رہے۔ حالانکہ ہمارے پاس قوی دلائل ہونے کے باوجود ہم خالی ہاتھ بیٹھے
ہیں۔ اسی طرح عقائد کا مطالعہ نہ کرنے کی وجہ سے ہم مختلف باطل فرقوں کا نشانہ بن
رہے ہیں۔افسوس! یہودیت، نصرانیت، قدریہ، معتزلہ، قادیانیت، خوارج، مرجیہ اور باطنیہ
وغیرہ سب اپنے باطل نظریات کے ساتھ سرگرم ہیں، اور ہم محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
نہ خود بچ رہے ہیں اور نہ دوسروں کو بچا پا رہے ہیں۔
حالانکہ
ان تمام نقصانات کو دیکھتے ہوئے ہمیں جلد از جلد اپنے عقائد کو سمجھنے اور ان کے
مطالعہ کی طرف قدم بڑھانا چاہیے، مگر ہم اس سے غافل ہیں۔اگر ہم اپنے گرد و نواح
اور پسماندہ علاقوں کی طرف دیکھیں تو وہاں بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جنہیں بنیادی
عقائد کا بھی علم نہیں ہوتا، اور بد مذہب وہاں جا کر اپنے باطل عقائد ان کے دلوں میں
راسخ کر دیتے ہیں، اور وہ بے چارے لاعلمی میں قبول کر لیتے ہیں۔
اگر ہم
خود عقائد کا مطالعہ نہیں کریں گے تو دوسروں کو کیسے بچائیں گے؟ لہٰذا ہمیں چاہیے
کہ ہم خود بھی عقائد کا مطالعہ کریں اور اپنی اولاد کو بھی سکھائیں اور ان کی صحیح
عقائد کے ساتھ تربیت کریں، کیونکہ بروزِ قیامت تربیت کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔اس
کے علاوہ اہلِ علاقہ اور اہلِ اسلام کی طرف بھی توجہ دیں اور اپنے مسلمان بھائیوں
کو ضروری عقائد سکھا کر انہیں بد مذہبی سے بچائیں۔ ہمیں چاہیے کہ بد عقیدہ اور بری
عادات و کردار والے لوگوں کی صحبت سے بچیں اور نیک، صالح اور درست عقائد رکھنے
والے لوگوں کی صحبت اختیار کریں، کیونکہ صحبت کا اثر ضرور پڑتا ہے۔بری عادات بہت
جلد انسان میں سرایت کر جاتی ہیں۔ اسی طرح اعمال کے لیے عقائد کا درست ہونا اور
باطن کا صاف ہونا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح پانی پر عمارت قائم نہیں رہ سکتی،
اسی طرح اعمال بھی درست عقائد اور اخلاص کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔اگر عقائد درست
نہ ہوں یا ان میں کمزوری ہو تو اعمال کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔ اس لیے ہر
عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دین اور اعمال کی بنیاد صحیح عقائد، اخلاص،
تقویٰ اور پرہیزگاری پر رکھے تاکہ اس کے اعمال اسے فائدہ دیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں درست عقائد سیکھنے، سکھانے، سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
Dawateislami