محمد
آصف رضا (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی،پاکستان)
انسانی زندگی میں عقائد کو
بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ عقیدہ دراصل وہ پختہ یقین ہوتا ہے جو انسان کے خیالات،
اعمال اور طرزِ زندگی کو تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے مطالعۂ عقائد نہایت ضروری اور
اہم ہے، کیونکہ یہ انسان کو صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت دیتا ہے
اور اسے ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔
سب سے
پہلے، مطالعۂ عقائد انسان کو اپنے دین اور اس کی تعلیمات کو سمجھنے میں مدد دیتا
ہے۔ اگر انسان اپنے عقائد سے ناواقف ہو تو وہ دوسروں کے نظریات سے آسانی سے متاثر
ہو سکتا ہے۔
یہ حدیث
اس بات کو واضح کرتی ہے کہ دین اور عقائد کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری
ہے۔
دوسری اہم
بات یہ ہے کہ عقائد کا مطالعہ انسان کی اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتا
ہے۔ درست عقائد انسان کو سچائی، دیانتداری، صبر اور برداشت جیسی اعلیٰ صفات اپنانے
کی ترغیب دیتے ہیں۔
یہ حدیث
بتاتی ہے کہ عقیدہ اور اخلاق آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
مزید
برآں، موجودہ دور میں مختلف نظریات اور افکار تیزی سے پھیل رہے ہیں، خاص طور پر
سوشل میڈیا کے ذریعے۔ ایسے میں نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد کا
شعوری مطالعہ کریں تاکہ وہ گمراہ کن نظریات سے محفوظ رہ سکیں۔
اسی حوالے
سے ایک حدیث ہے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بهما: کتاب الله وسنتي"میں
تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، کبھی
گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔(مستدرک حاکم، حدیث نمبر 319)
اس کے
علاوہ، مطالعۂ عقائد انسان کو مقصدِ حیات سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ جب انسان یہ
جان لیتا ہے کہ وہ دنیا میں کیوں آیا ہے اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں، تو وہ اپنی
زندگی کو بہتر انداز میں گزار سکتا ہے۔ اس سے اس کی سوچ میں پختگی آتی ہے اور وہ
زندگی کے مسائل کا سامنا ہمت اور حوصلے سے کرتا ہے۔
آخر میں یہ
کہنا درست ہوگا کہ مطالعۂ عقائد نہ صرف فرد کی ذاتی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ ایک
مضبوط اور پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ یہ انسان کو فکری استحکام،
اخلاقی بلندی اور صحیح راستے کی پہچان عطا کرتا ہے۔ لہٰذا ہر فرد کو چاہیے کہ وہ
اپنے عقائد کا باقاعدہ مطالعہ کرے اور انہیں سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کرے تاکہ
وہ ایک کامیاب اور بامقصد زندگی گزار سکے۔
Dawateislami