ہم میں سے ہر
ایک اس دنیا میں تنہا آیا ہے اور تنہا ہی دنیا سے رخصت ہو گا، لیکن اس دنیا میں
اسے بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے بعض اوقات ہمیں تکلیف اٹھانی پڑ جاتی ہے اور
کبھی ہم کسی کی تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں، ہماری اس طرف توجہ رہنی چاہیے کہ ہماری
ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور اگر کبھی کسی کو تکلیف پہنچ جائے تو معافی میں
دیر نہیں کرنی چاہیے، ہر مسلمان کو جان بوجھ کر تکلیف دینا بہت برا اور گناہ کا
کام ہے مگر جب تکلیف ایسے کو دی جائے جو پہلے سے ہی غم میں مبتلا ہو تو اس گناہ کی
ہولناکی مزید بڑھ جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے
میں دیکھا جاتا ہے کہ غریب کو غریبی کا طعنہ دے کر اسکی عزت کو مجروح کیا جاتا ہے۔
جوان عورت کے شوہرکے فوت ہونے کے بعد اس عورت کے کردار کے متعلق مختلف طرح کی چہ
مگوئیاں کی جاتی ہیں۔ اگر جوان لڑکی کی موت ہو جائے تو اسکی موت کے سبب کے متعلق
بے بنیاد اور خود ساختہ کہانیاں بنا بنا کر اڑائی جاتی ہیں، یوں پہلے سے پریشان و
غمگین والدین کی زندگی طرح طرح کی باتیں اڑاکر مزید اجیرن کر دی جاتی ہے۔
اسی طرح جب
کسی کی غربت وناداری کو دیکھ کر اسکی مدد کی جاتی ہے تو سوشل میڈیا پر ڈال کر یا
ہر دو چار لوگوں کی موجودگی میں اس پر احسان جتایا جاتا ہے عمر بھر اسے نظریں جھکا
کر رکھنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ بلا وجہ ٹیڑھی نظروں سے یا گھور کر دیکھنے سے
مسلمان کو پریشان کر دیا جاتا ہے۔
یوں مختلف
جہتوں سے لوگ تکلیف زدہ کی تکلیف میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں اور انہیں اس بات
کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک چھڑک رہے
ہیں۔
مسلمانوں کو پریشان
کرنا انہیں تکلیف دینا ویسے ہی برا ہے مگر جب پہلے سے ہی مصیبت میں مبتلا فرد کو
پریشان کیا جائے تو یہ اور بھی قبیح ہو گا۔ بعض اوقات مریض بیچارہ جو پہلے ہی
تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے بعض آداب سے نا آشنا لوگ اس قدر مریض کو زچ کرتے ہیں کہ
اللہ کی پناہ۔
مشہور چٹکلہ
ہے کہ ایک بار مریض کی عیادت کیلیے کوئی شخص آیا کافی دیر بیٹھا رہا جو مریض پر
ناگوار تھا، کسی کے جانے پر اس نے کہا کہ دروازہ بند کر دوں؟ مریض نے کہا کہ ہاں
مگر کنڈی باہر سے لگانا۔
یونہی اگر گھر
میں فنکشن وغیرہ ہو تو ڈھول اور گانے بجا بجا کر ہمسایوں کو بلکہ پورے محلے کا
جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے گھروں میں بچے بوڑھے اور مریض ہوتے ہیں جنہیں سخت تکلیف
کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک تو یہ کام بنفسہ شرعاً ناجائز اور دوسرا عوام کو تنگ کر
کے مزید غضب الٰہی کو دعوت دی جاتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم دوسروں کیلیے آسانیاں پیدا کریں نہ کہ دوسروں کیلیے پریشانی کا باعث بنیں۔
اسلام میں کسی
کی تکلیف کم کرنے یا تکلیف دور کرنے یا کم ازکم پریشان حال مسلمان کی صرف دل جوئی
کرنے کا بھی اجر عظیم ہے۔
اللہ کے پیارے
حبیب ﷺ نے فرمایا کہ جس نے بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی
جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ (معجم اوسط، 2/387، حدیث: 3607)
اور یاد رکھیے
کہ اللہ اور اسکے رسول کو ایذا دینے والوں کا انجام دردناک ہے، وَ
الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا
فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب:58) ترجمہ کنز الایمان:
اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا
گناہ اپنے سر لیا۔
پیارے آقا ﷺ کا
فرمان عبرت نشان ہے: میں تمہیں اچھے بروں کی خبر نہ دوں؟ سب خاموش رہے تین بار یہ
ہی استفسار فرمایا تو ایک شخص نے عرض کی: جی ہاں، یارسول اللہ! ہمیں بروں بھلوں کی
خبر دیجیے! فرمایا: تمہارا بھلا وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید کی جائے اور اسکے شر
سے امن ہو اور تمہارا برا وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید نہ کی جائے اور اسکے شر سے
امن نہ ہو۔ (ترمذی، 4/116، حدیث: 2270)
حضرت فضیل رحمۃ
اللہ علیہ نے فرمایا کہ کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مومنین و
مومنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جرم ہے۔ (مدارک، ص 950)
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت اسماعیل عطاریہ، جامعۃ المدینہ فیضان عطار کراچی
پہلے یہ جان
لیں کہ مصیبت اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اس کو وہی دور کرسکتا ہے لہذا مصیبت کے
وقت ہمیں چاہیے اللہ کی طرف رجوع کریں اور اسی سے مدد مانگیں کسی پر پریشانی کا
مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ واقعی برا آدمی ہے بلکہ اللہ کسی کو پریشانی میں مبتلا کرکے
اس کے ساتھ بہتری کا معاملہ کرتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے
ساتھ خیر و برکت کا ارادہ کرتا ہے اسے مصائب وآلام میں مبتلا کردیتا ہے۔(1)
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجئے: کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر بدگمان ہونا،
اس کا مذاق اڑانا اور لوگوں میں اس کی مصیبت کا ذکرکرکے اس کی عزت اچھالنا مصیبت
زدہ کو مزید پریشان کرنا ایک اچھے مسلمان کی علامت نہیں ہے! ہمیں چاہیے کہ مصیبت
کی اس گھڑی میں اپنے مسلمان بھائی کا ساتھ دیں، اس کی پریشانی مصیبت اور تکلیف میں
اس کی مدد کریں دکھیارے کا دکھ بانٹیں کہ یہ نہایت اجرو ثواب کاباعث ہے۔
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو
اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار
و تنگ دست کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و
آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو
اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد
میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔ (2)
یہ حدیث اس
قدر جامع ہے کہ اگر صرف اسی پر صحیح طریقے سے عمل پیرا ہوا جائے تو دنیا امن و
سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے اسلام ہمدردی و ایثار کا درس دیتا ہے اور ایک دوسرے
کے ساتھ تعاون کرنا اہل ایمان کا شیوہ ہے۔
محمد بن عمر و
بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنے
مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا
جوڑا پہنائے گا۔(3)
مسلمان
کی پریشانی دورکیجئے: اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے فرمایا: جو کسی مسلمان کی
پریشانی دور کرے گا اللہ پاک قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی
دورفرمائے گا۔ (4)
قرض
کے ذریعے مسلمانوں کی مدد: ضرورت مند مسلمان بھائی کی قرض کے
ذریعےبھی مدد کی جا سکتی ہےچنانچہ اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے فرمایا: تین طرح کے
مؤمنوں کو اجازت ہو گی کہ وہ جنت کے جس دروازے سے چاہیں داخل ہوجائیں اوران کاجنتی
حور کے ساتھ نکاح کیا جائے گا۔ ان میں سے ایک حاجت مند کو پوشیدہ قرض دینے والا
بھی ہے۔(5)
دعا
کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد: ہمیں چاہیے اپنے مسلمان بھائیوں کو
اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ان کی مصیبت دور ہونے کی اپنے رب سے دعائیں کریں یہ بہت
خوبصورت عمل ہے کہ اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے فرمایا: مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی کے
لیے اس کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے قریب ایک فرشتہ
مقرر ہوتا ہے، وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو مقرر کیا ہوا
فرشتہ اس پر کہتا ہے: آمین، اور تمہیں بھی اسی کی طرح عطا ہو۔ (6)
امتِ
محبوب کا یا رب بنا دے خیر خواہ
نفس
کی خاطر کسی سے دل میں میرے ہو نہ بیر
اللہ پاک ہمیں
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
حوالہ
جات:
1۔ بخاری، 4/4، حدیث: 5645
2۔ ابو داود، 4/373، حدیث: 4946
3۔ ابن ماجہ، 2/269، حديث: 1601
4۔ مسلم، ص 1069،
حدیث:678
5۔ مسند ابی
یعلیٰ،2/196، حدیث: 1788 ملخصاً
6۔ مسلم، ص 1121، حدیث: 6929
بعض اوقات
کوئی انسان کسی تکلیف یا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جب ہم اسکی مزاج پرسی کرنے جاتے
ہیں تو بلا ضرورت زیادہ تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں ہم زیادہ دیر بیٹھتے ہیں تو اسے
کوئی نہ کوئی چیز ہمارے لئے مہمان ہونے کی صورت میں پیش کرنے کی ضرورت پیش آتی ہیں
اور اسطرح ہم اسکی عیادت پوچھنے کے بجائے اسے پریشانی میں ڈال دیتے ہیں۔
مصیبت
زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے: الحمد لله الذي
عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا ترجمہ:
شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے اس چیز (دکھ تکلیف) سے عافیت میں رکھا جس میں تجھے
مبتلا کیا ہے اور بہت سی مخلوق پر مجھے نمایاں طور پر فضیلت دی۔
حضرت مفتی
احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: بلا خواہ جسمانی ہو
جیسے کوڑھ، اندھا پن یا اور کوئی بیماری، مالی جیسے قرض، فقر، تنگ رزق وغیرہ یا
دینی کفر، فسق، ظلم، بدعت وغیرہ کہ ہر مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا آہستہ کہے کہ
وہ مصیبت زدہ نہ سنے تا کہ اسے رنج نہ ہو۔ (مراۃ المناجیح، 2/247)
یہ
دین اسلام ہمارا اتنا پیارا مذہب ہے جو ہمیں پیار، محبت، ہمدردی کا درس دیتا ہے
ہمارا مذہب ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کوئی بھی مسلمان جو کسی دکھ اور پریشانی میں
مبتلا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اسکے دکھ، پریشانی کو دور کر سکے اگر اسے ہم دور
نہیں کر سکتے تو اس کے لئے اللہ کے حضور میں پیش ہو کر دعا کرے کہ اے اللہ میری
فلاں مسلمان بہن کی جو بھی پریشانی ہے اسے دور فرما دے اور میرے حق میں ان دعاؤں
کو قبول فرما۔
زندگی ایک مومن
کے لئے قید خانہ ہے ہمیں زندگی میں پریشانی اور مشکل میں قدم سے قدم ملا کر اس
انسان کی مدد کرنی چاہیے جو پریشان ہیں جسے مدد کی ضرورت ہے جو یہ چاہتا ہے کہ
کوئی اس کی زندگی میں فرشتے کی صورت میں آکر اسکا مسئلہ حل کر دے۔
لیکن یہ صرف
اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم یہ سب دعائیں اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مانگیں
وہی تو ہے جسکے سامنے جب بندہ سچے دل سے گڑ گڑا کر معافی مانگتا ہے وہ معاف کر
دیتا ہے اور اپنے بندے کو اپنی رحمت میں ڈھانپ لیتا ہے۔ وہی ذات تو ہے جو اپنے
بندے کو کئی آزمائش میں ڈال کر اسے قریب کرتی ہے۔ بعض وقت ایسی پریشانی ہوتی ہے کہ
سارے راستے بند ہو جاتے ہیں سب اکیلا چھوڑ دیتے ہیں لیکن وہ ذات جسکے قبضے میں
میری جان ہے اسکی بارگاہ میں ایک سچی توبہ گناہوں کو دھو دیتی ہے۔ مشکلات آسان کر
دیتی ہے اور ہر تکلیف ہر پریشانی سے باہر نکال دیتی ہے۔
جب دنیا والے
طعنے دیتے ہیں دل دکھاتے ہیں اسوقت وہ رب کی ذات انسان کے دل میں حوصلہ دیتا ہے
اسے گرتے ہوئے سنبھال لیتا ہے۔ اسکی کرم نوازی اپنے بندوں کو اپنے سائے میں پناہ
دیتی ہے اور اسکی مدد کرتی ہے۔
ہمارا پیارا
دین اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی کی بھی بیمار کی عیادت کو جائے یا کسی کے غم
میں شریک ہو اسکی عیادت کرے تو وہاں مزاج پرسی کرنے کے بعد زیادہ دیر وہاں نہ رکے
ہاں اگر میزبان کو برا لگ رہا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن زیادہ دیر رکنا
مناسب نہیں بلکہ اگلے کے دل میں ہمت حوصلہ دیکر اور اسے دعائے خیر کرکے واپسی آنا
بہتر ہے۔
میں
اپنے موضوع کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک بات کہنا چاہوں گی کہ کوئی بھی شخص جو
کسی بھی مصیبت میں مبتلا ہو یا پریشانی اسکے لئے دعا کرنا مومن کا فرض ہے اور اسکی
مدد کرنا ہم مسلمانوں کا اولین عمل ہونا چاہیے
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں مصیبت زدہ شخص کی مدد کرنے، پریشانی دور کرنے والوں کی مدد
کرنے اور ایسا بنا دے جسکے نیک کام کرنے پر وہ راضی ہوتا ہے ان کے صدقے ہمیں بھی
نیک بنا دے۔ آمین
اسلام دین
رحمت ہے۔ یہ صرف نماز، روزہ اور عبادت کا نام نہیں، بلکہ بندوں کے ساتھ حسن سلوک،
نرمی، ہمدردی اور دلجوئی کا درس بھی دیتا ہے۔ ایک اچھے مسلمان کی خوبی یہ ہے کہ وہ
دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا اور ایسے شخص کے لیے سہارا بنتا ہے جو مصیبت اور
مشکل میں گرفتار ہو۔ کسی غم زدہ شخص کی غمگساری کرنا بے حد اجر و ثواب کا باعث ہے
کہ
حضرت جابربن
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاکﷺنے ارشادفرمایا: جو کسی غمزدہ شخص سے غمخواری کرے گا اللہ اسے
تقویٰ کا لباس پہنائے گا اور روحو ں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو
کسی مصیبت زدہ سے غمخواری کرےگا اللہ اسے جنت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے عطا
کرےگا جن کی قیمت دنیا بھی نہیں ہو سکتی۔ (1)
اس کے برعکس
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی مصیبت میں انکی مدد کرنے کی بجائے انہیں مزید
ستاتے ہیں جیسے اس کے موجودہ حالات پر طنز کرنا، اسے اپنے حالات کا قصور وار ٹھہرا
کر نیچا دکھاتے رہنا، طرح طرح کے سوالات کر کے شرمندہ کرنا اور طرح طرح کے سخت
جملے استعمال کر کے اسے تکلیف دیتے ہیں یاد رکھئے کہ کسی مسلمان کو تکلیف دینے کی
سخت وعيدات وارد ہوئی ہیں چنانچہ
سیّدعالمﷺ
فرماتے ہیں: جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف
دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔ (2) یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر
اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔
یاد رکھئے
ایسا شخص جو پہلے ہی دکھ، بیماری، قرض، غربت، صدمے یا بے بسی سے ٹوٹا ہوا ہو اسکو
مزید تکلیف دینے کی بجائے اللہ کی رضا اور احترام مسلم کی خاطر اسکو تسلی دیں اور
جہاں تک ممکن ہو اسکی مدد کریں کیونکہ
دوجہاں کے
تاجور ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: مسلمان
مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یارومدد گار چھوڑتاہے۔(3)
حضرت ابراہیم
بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص اپنے مال، کھانے اور پانی کے
ذریعےلوگوں کے ساتھ غمخواری کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہوتو اسے چاہئے کہ وہ لوگوں کی
خندہ پیشانی اور اچھے اخلاق کے ذریعے غمخواری کرے۔(4)
اگر بالفرض آپ
اسکی مدد نہ کر سکیں،اسے دلاسہ نہ دے سکیں تو کم از کم اسکی دل آزاری بھی نہ کریں
کہ حدیث مبارکہ میں ہے: کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمان
محفوظ رہیں۔ (5)
یاد رکھئے یہ
دنیا امتحان گاہ ہے، ہر انسان اپنی اپنی آزمائش سے گزر رہا ہے، کوئی بھی خوشی یا
کوئی بھی غم سدا نہیں رہتا۔ آج جو مصیبت دوسرے پر آئی ہے ہوسکتا ہے کل یہی مصیبت
ہم پر بھی آجائے۔ لہٰذا انسانیت کے تقاضے کے مطابق دوسروں کی تکلیف کو محسوس کریں
اور کسی غم میں ڈوبے ہوئے دل کو مزید دکھ دینے کی بجائے اس مصیبت زدہ کے لیے آسانی
پیدا کریں، اس کے دکھ بانٹیں اور اسے امید دلائیں کہ جلد یہ آزمائش دور ہوجائے گی
یہی بہترین عمل ہے اور یہی دین اسلام کی تعلیمات ہیں کہ نبی کریم علیہ السلام نے
فرمایا:
لوگوں میں سے بہتر
وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔ (6)
اللہ کریم
ہمیں دوسروں کے دکھ درد کا احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے
حوالہ
جات:
(1)معجم اوسط،
6/ 429، حدیث:9292
(2) معجم
اوسط، 2/ 386، حدیث: 3607
(3) مسلم، ص
1394، حدیث: 2580
(4)حلیۃ
الاولیاء، 7/446، رقم: 11158
(5) (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
(6)کنز
العمال، 8/53، حدیث: 44147
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت رمضان احمد،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
اس حقیقت سے
کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب،نیک و بد کو قانون قدرت کے
تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے،اس کا سبب
یہ ہے کہ یہ دنیا دارالعمل اور امتحان گاہ ہے، انسان یہاں آزمائش کے لئے بھیجا گیا
ہے۔ اسے آزادی سے نیکی اور بدی کرنے کی قوت دی گئی ہے جسے بروئے کار لا کر وہ نیکی
کی صورت میں اجر و ثواب اور نافرمانی کی صورت میں عذاب و سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
اس
متعلق قرآنی آیت اوراسکی تفسیر: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ
مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ
نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ
وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ
مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱) (پ 26،
الحجرات: 11) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ
وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسے
والیوں سے بہتر ہوںاور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا
ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔
حضر ت ضحاک
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو
حضرت عمار،حضرت خباب،حضرت بلا ل،حضرت صہیب،حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت دیکھ کر ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ان کے بارے
میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مردوں سے نہ ہنسیں، یعنی مال دار
غریبوں کا، بلند نسب والے دوسرے نسب والوں کا،تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس کا
مذاق نہ اڑائیں جس کی آنکھ میں عیب ہو،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے صدق اور
اخلاص میں بہتر ہوں۔ (خازن، 4/ 169)
احادیث
مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم
ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے
گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی
مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو
چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔ (بخاری، 2/126، حدیث: 2442)
سنن ترمذی کی
حدیث ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعدا نہ کرو، ہو سکتا
ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے۔ (ترمذی، 4/227، حدیث: 2514)
کسی کو مصیبت
میں دیکھ کر اسے مزید پریشان کرنا بد اخلاقی، بے رحمی اور اسلامی تعلیمات کے منافی
ہے، جس کی مذمت کی جاتی ہے، اور اس کے بجائے شریعت میں مصیبت زدہ کو دیکھ کر دعا
پڑھنے اور ہمدردی کا اظہار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
جب کوئی شخص
مشکل میں ہو تو اس کے دکھ درد کو سمجھیں، اسے مزید تکلیف دینے سے بچیں، بلکہ
ہمدردی، حوصلے اور دعاؤں سے اس کا سہارا بنیں، کیونکہ مصیبت میں صبر اہم ہے اور اس
وقت ہمیں اپنے اعمال پر غور کر کے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ مصیبت میں
پھنسے شخص پر طعن و تشنیع کریں یا اسے مزید اذیت دیں۔
انسان کی
زندگی آزمائشوں کا مجموعہ ہے، جس میں خوشیاں اور غم، آسانی اور تنگی ساتھ ساتھ
چلتی ہیں. جب کوئی شخص مصیبت میں گھر جاتا ہے، تو وہ پہلے ہی ذہنی، جذباتی اور بعض
اوقات جسمانی طور پر کمزور ہوتا ہے، ایسے وقت میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کی
مدد کریں، اسے سہارا دیں، اور اسے مزید پریشان کرنے سے گریز کریں۔
کیوں
نہیں پریشان کرنا چاہیے؟
انسانیت
کا تقاضا: ہر
انسان کو مشکل وقت میں ہمدردی اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے.
دینی
فریضہ: اسلام
ہمیں صبر کرنے اور مصیبت زدوں سے ہمدردی کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ پاک خود
فرماتا ہے کہ مصیبتیں تمہارے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں، اور ہم سے بہت کچھ معاف بھی
کرتا ہے۔
صبر
کی اہمیت: مصیبت
زدہ شخص کو صبر کی تلقین کرنی چاہیے، نہ کہ اس پر مزید بوجھ ڈالنا چاہیے. صبر کرنے
والوں کے لیے اللہ نے خوشخبری دی ہے۔
کیا
کرنا چاہیے؟
ہمدردی
اور دعا: اس
کا ہاتھ تھامیں، اسے تسلی دیں، اور اس کے لیے دعا کریں کہ اللہ اسے اس مشکل سے
نکالے۔
مدد
پیش کریں: اگر
ممکن ہو تو اس کی عملی مدد کریں، چاہے وہ مالی ہو یا کوئی اور تعاون۔
صبر
کی تلقین: اسے
یاد دلائیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا اور اللہ پر بھروسہ رکھے۔
ذمہ
داری یاد دلائیں: اسے
یہ احساس دلائیں کہ جب مصیبت آئے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ
کر اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے۔
کیا
نہیں کرنا چاہیے؟
طنز
اور طعن: اس
کے حالات کا مذاق نہ اڑائیں اور طعنہ نہ دیں۔
ذمہ
دار ٹھہرانا: اسے
اس کی مصیبت کا براہ راست ذمہ دار نہ ٹھہرائیں، بلکہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
دکھ
میں اضافہ نہ کریں: کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے اس کا دکھ اور بڑھ
جائے۔
یاد رکھیں ہر
شخص کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، اور آج جو مصیبت میں ہے، کل شاید ہمیں خود
ضرورت پڑ جائے، اس لیے ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا ہم
اپنے لیے چاہتے ہیں۔
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت شمس پرویز، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
مصیبت کے معنی
سخت تکلیف، کڑی مشکل، دکھ، رنج،صدمہ اور حادثہ کے ہیں۔مصیبت میں مبتلا ہونے کے بہت
سے اسباب ہیں۔ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ
مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰) (پ 25، الشوریٰ:30) ترجمہ کنز العرفان: اور تمہیں جو
مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو
(اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔
اسلام دین
رحمت و شفقت ہے۔ شریعت مطہرہ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ
نرمی، ہمدردی اور خیرخواہی کا معاملہ کریں، خصوصاً اس وقت جب کوئی شخص مصیبت، غم
یا آزمائش میں مبتلا ہو۔ ایسے موقع پر کسی مصیبت زدہ کو پریشان کرنا، دل دکھانا،
طعنہ دینا یا اس کی مجبوری کا مذاق اڑانا سخت ناجائز اور گناہ ہے۔
قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا
عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6،
المائدۃ: 2) اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نیکی اور تقویٰ میں مدد کرنا لازم ہے
اور گناہ و زیادتی سے بچنا فرض۔ مصیبت زدہ کو پریشان کرنا گناہ اور زیادتی میں
داخل ہے، کیونکہ یہ اس کے دکھ میں اضافہ ہے، نہ کہ کمی۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: من نفّس عن مؤمنٍ كربةً من كرب الدّنيا نفّس اللّه عنه كربةً من كرب
يوم القيامة (مسلم، ص 1049، حدیث: 2580) جب
کسی مومن کی پریشانی دور کرنے پر اتنا بڑا اجر ہے تو اس کی پریشانی بڑھانا یقیناً
سخت وعید کا سبب ہوگا۔
مسلمان کا دل
دکھانا حرام ہے، اور خصوصاً اس حال میں جب وہ مصیبت میں ہو، کیونکہ مومن کا دل
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بڑی حرمت رکھتا ہے۔
ایذائے مسلم
(مسلمان کو اذیت دینا) حرام ہے، چاہے وہ اذیت زبان سے ہو، عمل سے ہو یا رویّے سے،
اور غم کے وقت یہ گناہ اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔
اسی طرح کسی
مصیبت زدہ کو طعنہ دینا، اس کی آزمائش کو اس کے گناہوں سے جوڑ کر تذلیل کرنا، یا
اسے حقیر سمجھنا قساوت قلب کی علامت ہے اور ایسا شخص اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا
ہے۔
مسلمان کا دل
دکھانا اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے، کیونکہ مومن کا دل اللہ کے نزدیک محترم
ہے۔
مصیبت زدہ آدمی
کو صبر کی تلقین کرنا تعزیت کہلاتا ہے اور یہ مسنون(یعنی سنّت)ہے۔ کوئی بھی مصیبت
پہنچے اس پر صبر کی تلقین تعزیت کے زمرے میں آئے گی۔ پہلے کے مسلمان دوسروں کے غم
کو اپنا غم سمجھتے تھے۔ اب یہ تاثر ختم ہوتا جارہا ہے اور تعزیت محض رسم کی حیثیت
اختیار کرتی جارہی ہے۔
حضرت اعمش رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم جنازوں میں شریک ہوتے تھے مگر مجمع میں ہر شخص کے رنج و غم
کی تصویر نظر آنے کے سبب ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ کس سے تعزیت کریں؟ (احیاء
العلوم، 5/235)
فرامینِ
مصطفےٰ ﷺ: جو کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے، اس کے لئے اس مصیبت زدہ جتنا ثواب ہے۔
(ترمذی، 2/338، حديث:1075)
جو کسی مصیبت
زدہ سے تعزیت کرے گا اللہ پاک اسے جنّت کے جوڑوں میں سے دو ایسے جوڑے پہنائے گا جن
کی قیمت دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔ (معجم اوسط، 6/429، حدیث: 9292)
امام غزالی
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بھائی کے غم میں شریک ہو
اور اسے اذیت نہ دے۔
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت محمد طفیل، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
مصیبت
زدہ کون: جو
شخص کسی مشکل،دکھ، غم یا ازمائش سے گزر رہا ہو وہ مصیبت زدہ ہے۔
زندگی
آزمائشوں کا نام ہے اور ہر انسان زندگی میں دکھ، غم اور پریشانی کے مرحلے سے گزرتا
ہے۔ ایسے لمحوں میں کچھ الفاظ مرہم بن جاتے ہیں اور کچھ رویے زخموں کو گہرا کر
دیتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی
یاد رکھنا چاہیے کہ مصیبت اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے، سزا نہیں۔ کسی کی مشکل
پر طنز کرنا یا اسے کمزور سمجھنا دراصل اپنی اخلاقی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ آج
اگر کوئی مصیبت میں ہے تو کل ہم بھی اسی مقام پر ہو سکتے ہیں۔ایسے وقت میں ہمیں
مصیبت زدہ کے ساتھ اچھا برتاؤ اور ممکنہ حد تک اس کی مدد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ہمارا دین
اسلام بھی ہمیں اسی بات کی تلقین کرتا ہے۔
کسی مسلمان کو
تکلیف پہنچانے پر وعیدیں اور اس کی مدد کرنے پر بشارتیں ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ
پاک فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا
اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22،
الاحزاب:58) ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے
ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔
اس کا شان
نزول اگرچہ خاص ہے لیکن اس کا حکم تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو عام ہے۔ آیت کا
خلاصہ یہ ہے کہ جولوگ ایمان والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس
سے انہیں اذیّت پہنچے حالانکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوتا جس کی وجہ سے انہیں
اذیت دی جائے۔ توان لوگوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا اور خود کو
بہتان کی سزا اور کھلے گناہ کے عذاب کا حق دار ٹھہرا لیا ہے۔
کسی مسلمان کو
ناحق تکلیف پہنچانا اس پر کس قدر وعید سنائی گئی ہے۔ تو جو کوئی پہلے ہی سے پریشان
ہو مصیبت میں مبتلا ہو اس کو مزید پریشان کرنا اس کی دل آزاری کرنا اس پر کتنا
گناہ ہوگا۔
ایسے وقت میں
ہمیں مصیبت زدہ کی مدد کرنی چاہیے۔یقینا اس پر ہم اجر و ثواب کے حقدار ہوں گے۔
حضرت ابو ذر
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے
محفوظ رکھو،یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 2/150، حدیث: 2518)
مصیبت زدہ شخص
نہ صرف ظاہری مشکل میں مبتلا ہوتا ہے۔ بلکہ اندرونی طور پر بھی شدید اذیت سے گزر
رہا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں اس کی مدد کرنا ہمارے لیے بھی صدقہ ہے۔
بدقسمتی سے
ہمارا معاشرہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ ہم مصیبت میں مبتلا شخص سے بار
بار یہ پوچھتے ہیں: یہ سب کیسے ہوا؟ تم نے پہلے کیوں خیال نہ رکھا؟ میں نے تو پہلے
ہی کہا تھا۔ یہ جملے بظاہر عام لگتے ہیں مگر مصیبت زدہ دل پر خنجر کی مانند لگتے
ہیں۔
لہٰذا چاہیے کہ
ہم مصیبت زدہ کو پریشان کرنے کے بجائے اس کے لیے سہارا بنیں، اس کے غم کو محسوس
کریں۔ یہی دین اسلام کی اصل تعلیم ہے۔ اللہ پاک ہر مصیبت زدہ کو صبر، سکون اور
آسانی عطا فرمائے اور ہمیں دوسروں کے لیے باعث راحت بنائے۔آمین
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت سید رضوان علی، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
کسی مسلمان
بھائی کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے اس کی پریشانی میں اضافہ نہ کیا جائے مثال کے
طور پر کوئی مسلمان بھائی مالی اعتبار سے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے تو اس کو
غریبی کا طنز کرنا،یہ کہنا کہ اب ان حالات میں تو گھر کیسے چلائے گا تیرا کیا ہوگا
اگر تو ہمیشہ ایسا ہی رہے گا وغیرہ۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی کو
مزید پریشان کرنے کی بجائے اسے صبر کی تلقین کرے اور اپنی زبان سے اسکو تکلیف نہ
دے جیسا کہ:
نبی اکرم ﷺ نے
فرمایا: بہترین مسلمان وہ ہے جس کی زبان یا ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
مصیبت زدہ کو
زیادہ پریشان نہ کیا جائے کہ ہو سکتا ہے کہ کل کو ہم پر بھی وہی مصیبت یا تکلیف آ
جائے ہمیں انہیں صبر کی تلقین کرنی چاہئے اور اللہ پاک سے شکوہ کرنے سے منع کرنا
چاہئے۔
آج کل کوئی
بیمار ہو تو اس کی بیماری کا مذاق بنایا جاتا ہے کہ ہر وقت بیمار رہتا ہے، اس کو
کچھ نہیں ہوا، سب ڈرامہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس سے بھی ہمیں بچنا لازم ہے کہ آیا اگر اللہ
پاک اس بیماری،مصیبت پر ہمیں مبتلا کر دے تو ہمارا کیا ہوگا! ہم اکثر اوقات مصیبت
زدہ شخص کو اپنے لہجے سے مزید پریشان کر دیتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم سے زیادہ
ان کا کوئی ہمدرد ہی نہیں، ہم ان کو اللہ کی رضا کے لئے صبر کی تلقین کرنے کی
بجائے غلط الفاظ کہہ دیتے ہیں کہ تمہارے پر ہی مصیبت آتی ہے، تمہارے ساتھ ہی ایسے
ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہماری وجہ سے وہ اپنے رب سے شکوہ شکایت شروع کر دیتا ہے جو
رب کی ناراضگی کا سبب بن جاتا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ مصیبت زدہ کو پریشان کرنے کی
بجائے اس کو سمجھائیں کہ بعض اوقات مصیبت کے ذریعے انسان اللہ کا قرب پا لیتا ہے۔
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے
ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ (بخاری، 4/4،
حدیث: 5646)
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت اصغر، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
انسانی معاشرت
میں ہمدردی اور باہمی تعاون وہ ستون ہیں جن پر ایک پرامن اور متوازن معاشرے کی
بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اپنے ماننے والوں کو نہ
صرف انفرادی عبادات کی تلقین کرتا ہے بلکہ سماجی معاملات اور حقوق العباد کی
ادائیگی پر بھی غیر معمولی زور دیتا ہے۔ ان سماجی فرائض میں سب سے حساس اور اہم
پہلو مصیبت زدہ کو تکلیف نہ دینا اور اسے کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچانا ہے۔
جب کوئی انسان
کسی آزمائش، بیماری، نقصان یا صدمے سے گزر رہا ہوتا ہے، تو وہ نفسیاتی اور جذباتی
طور پر انتہائی نازک صورتحال میں ہوتا ہے۔ ایسے میں دین اسلام کی تعلیمات، قرآنی
آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ مصیبت زدہ کو پریشان کرنا
نہ صرف اخلاقی پستی ہے بلکہ یہ ایک سنگین گناہ اور اللہ و رسول ﷺ کی ناراضگی کا
باعث بھی ہے۔
سرکار دوعالم
ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟
انہوں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا: تم
جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول زیادہ
جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور اموال محفوظ
سمجھیں۔ (مسند امام احمد،2/654، حدیث:6942)
اسلامی نظریہ
حیات میں مصیبت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی آزمائش
اور امتحان کا ایک ذریعہ ہے۔ قرآن کریم نے واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ انسان کو
مختلف حالات کے ذریعے آزمایا جائے گا تاکہ اس کے صبر اور ایمان کی پختگی ظاہر ہو
سکے۔
دوسروں کو
تکلیف دینا،ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
مشہور تابعی مفسر
مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنمیوں پرخارش مسلط کردی جائے گی تو وہ اپنے
جسم کو کھجلائیں گے حتی کہ ان میں سے ایک کی (کھال اور گوشت اترنے سے) ہڈی ظاہر ہو
جائے گی۔ اسے پکار کر کہا جائے گا: اے فلاں! کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟ وہ
کہے گا: ہاں۔ پکارنے والا کہے گا: تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی
سزا ہے۔ (احیاء العلوم،2/242)
وہ اہم نکات
درج ذیل ہیں جن کا خیال رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے تاکہ وہ کسی مصیبت زدہ کے لیے
اذیت کا باعث نہ بنے: شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں رات گئے شور شرابا نہ کریں
تاکہ کسی بیمار یا غمزدہ کی نیند خراب نہ ہو۔
آتش بازی اور
پٹاخوں سے گریز کریں کیونکہ اس سے خوف و ہراس پھیلتا ہے۔
ہسپتالوں
یا مریضوں کے گھروں کے پاس ہارن نہ بجائیں۔
مریض
کی عیادت کے وقت لمبی گفتگو نہ کریں بلکہ مختصر قیام کریں۔
مریض
کے سامنے اس کی بیماری کی ہولناکی کا ذکر نہ کریں۔
کسی
کے معذور بچے یا فرد کا مذاق نہ اڑائیں۔
مالی
نقصان ہونے والے کو تمہاری اپنی غلطی تھی کہہ کر مزید دکھی نہ کریں۔
کسی
کی فوتگی پر پرانی باتوں یا لڑائی جھگڑوں کا تذکرہ نہ کریں۔
ہسپتال
میں داخل مریض کے لواحقین کی اخلاقی اور مالی مدد کریں۔
راستہ
چلتے ہوئے کسی پریشان حال شخص کو راستہ دیں۔
اس کا مطلب ہے
کہ جب کوئی شخص مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہو تو ہمیں اس کے ساتھ نرمی اور ہمدردی
کا معاملہ کرنا چاہیے نہ کہ اسے مزید پریشان کرنا چاہیے اس تعلیم کے کچھ اہم پہلو
یہ ہیں:
ہمدردی
اور نرمی: مصیبت
زدہ شخص کے ساتھ ہمدردی اور نرمی کا معاملہ کرنا چاہیے۔
تعاون
اور مدد: مصیبت
زدہ شخص کی مدد کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
حوصلہ
افزائی: مصیبت
زدہ شخص کو حوصلہ دینا چاہیے اور اسے مایوس نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام میں مصیبت زدہ
لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی بہت تاکید کی گئی ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: مومن مومن کے
لیے آئینہ ہے اور مومن مومن کا بھائی ہے وہ اس کے نقصان کو دور کرتا ہے اور اس کے
پیچھے اس کی حفاظت کرتا ہے۔ (ابو داود، 4/365،
حدیث: 4918)
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجئے! اسلام ہمیں دوسروں کے دکھ درد کو
سمجھنے اور ان کے ساتھ ہمدردی کرنے کی ترغیب دیتا ہے، اسلام میں مصیبت زدہ افراد
کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے، حضور ﷺ نے
فرمایا: مومن مومن کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا نہ اسے بے یارو مددگار
چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔
مصیبت زدہ کو
پریشان نہ کرنے کے چھ طریقے ہیں: ہمدردی اور تعزیت: مصیبت زدہ کے دکھ درد کو
سمجھیں ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں۔ مدد و تعاون: مصیبت زدہ کی مدد کریں اور
ان کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کریں۔ خاموشی اور احترام: مصیبت زدہ کے سامنے خاموشی
اختیار کریں ان کے جذبات کا احترام کریں۔ دعا اور تسلی: مصیبت زدہ کے لیے دعا کریں
اور انہیں تسلی دیں۔
Dawateislami