ہم میں سے ہر ایک اس دنیا میں تنہا آیا ہے اور تنہا ہی دنیا سے رخصت ہو گا، لیکن اس دنیا میں اسے بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے بعض اوقات ہمیں تکلیف اٹھانی پڑ جاتی ہے اور کبھی ہم کسی کی تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں، ہماری اس طرف توجہ رہنی چاہیے کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور اگر کبھی کسی کو تکلیف پہنچ جائے تو معافی میں دیر نہیں کرنی چاہیے، ہر مسلمان کو جان بوجھ کر تکلیف دینا بہت برا اور گناہ کا کام ہے مگر جب تکلیف ایسے کو دی جائے جو پہلے سے ہی غم میں مبتلا ہو تو اس گناہ کی ہولناکی مزید بڑھ جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں دیکھا جاتا ہے کہ غریب کو غریبی کا طعنہ دے کر اسکی عزت کو مجروح کیا جاتا ہے۔ جوان عورت کے شوہرکے فوت ہونے کے بعد اس عورت کے کردار کے متعلق مختلف طرح کی چہ مگوئیاں کی جاتی ہیں۔ اگر جوان لڑکی کی موت ہو جائے تو اسکی موت کے سبب کے متعلق بے بنیاد اور خود ساختہ کہانیاں بنا بنا کر اڑائی جاتی ہیں، یوں پہلے سے پریشان و غمگین والدین کی زندگی طرح طرح کی باتیں اڑاکر مزید اجیرن کر دی جاتی ہے۔

اسی طرح جب کسی کی غربت وناداری کو دیکھ کر اسکی مدد کی جاتی ہے تو سوشل میڈیا پر ڈال کر یا ہر دو چار لوگوں کی موجودگی میں اس پر احسان جتایا جاتا ہے عمر بھر اسے نظریں جھکا کر رکھنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ بلا وجہ ٹیڑھی نظروں سے یا گھور کر دیکھنے سے مسلمان کو پریشان کر دیا جاتا ہے۔

یوں مختلف جہتوں سے لوگ تکلیف زدہ کی تکلیف میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک چھڑک رہے ہیں۔

مسلمانوں کو پریشان کرنا انہیں تکلیف دینا ویسے ہی برا ہے مگر جب پہلے سے ہی مصیبت میں مبتلا فرد کو پریشان کیا جائے تو یہ اور بھی قبیح ہو گا۔ بعض اوقات مریض بیچارہ جو پہلے ہی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے بعض آداب سے نا آشنا لوگ اس قدر مریض کو زچ کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔

مشہور چٹکلہ ہے کہ ایک بار مریض کی عیادت کیلیے کوئی شخص آیا کافی دیر بیٹھا رہا جو مریض پر ناگوار تھا، کسی کے جانے پر اس نے کہا کہ دروازہ بند کر دوں؟ مریض نے کہا کہ ہاں مگر کنڈی باہر سے لگانا۔

یونہی اگر گھر میں فنکشن وغیرہ ہو تو ڈھول اور گانے بجا بجا کر ہمسایوں کو بلکہ پورے محلے کا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے گھروں میں بچے بوڑھے اور مریض ہوتے ہیں جنہیں سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک تو یہ کام بنفسہ شرعاً ناجائز اور دوسرا عوام کو تنگ کر کے مزید غضب الٰہی کو دعوت دی جاتی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کیلیے آسانیاں پیدا کریں نہ کہ دوسروں کیلیے پریشانی کا باعث بنیں۔

اسلام میں کسی کی تکلیف کم کرنے یا تکلیف دور کرنے یا کم ازکم پریشان حال مسلمان کی صرف دل جوئی کرنے کا بھی اجر عظیم ہے۔

اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے فرمایا کہ جس نے بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ (معجم اوسط، 2/387، حدیث: 3607)

اور یاد رکھیے کہ اللہ اور اسکے رسول کو ایذا دینے والوں کا انجام دردناک ہے، وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب:58) ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔

پیارے آقا ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: میں تمہیں اچھے بروں کی خبر نہ دوں؟ سب خاموش رہے تین بار یہ ہی استفسار فرمایا تو ایک شخص نے عرض کی: جی ہاں، یارسول اللہ! ہمیں بروں بھلوں کی خبر دیجیے! فرمایا: تمہارا بھلا وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید کی جائے اور اسکے شر سے امن ہو اور تمہارا برا وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید نہ کی جائے اور اسکے شر سے امن نہ ہو۔ (ترمذی، 4/116، حدیث: 2270)

حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جرم ہے۔ (مدارک، ص 950)

مندرجہ بالا تمام روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کیلیے کسی بھی قسم کی تکلیف کا سبب نہ بنیں۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین