اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے زندگی کے ہر ہر گوشے کے متعلق ہماری رہنمائی فرمائی ہے  ۔ ظلم و بربریت، قطع رحمی، بدسلوکی، بداخلاقی اور بےجا غصہ کرنے سے بچنے حسن اخلاق، صلہ رحمی،حلم وبردباری اور نیک سلوک اختیار کرنے کا درس دیا ۔ عبادات و اخلاقیات کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی بھلائی و خیر خواہی والا معاملہ کرنے کو دارین کی سعادت قرار دیا ۔ مقروض کے ساتھ نرمی کرنا بھی انہی امور میں سے ایک ہے ۔ نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف خود مقروض کے ساتھ نرمی و خیرخواہی والا برتاؤ فرمایا بلکہ اس حوالے سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت بھی فرمائی،پوری امت کو اس کی تعلیم بھی دی حتیٰ کہ مقروض کو ادائے قرض میں آسانی کےلئے دعائیں بھی تعلیم فرمائی ۔ خصوصا جب مقروض تنگدست ہو تو مہلت دینا واجب ہے اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (پارہ3 سورۃ البقرہ آیت نمبر 280)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ المُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ، لاَ يَفْعَلُ المَعْرُوفَ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ

ترجمہ:اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(بخاری)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے دو جھگڑنے والے اَفراد میں فقط ایک مبارک جملے سے صلح کروادی ۔ اس مناسبت سے امام بخاری علیہ رحمۃ اللہ الھادی اس حدیث کو باب الصلح کے تحت لائے ۔

مقروض کے ساتھ نرمی و حسن سلوک کا حکم : عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔

( شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر الامام بالصلح ، ج8 ،ص98 ۔ )

نیکی سے مراد: حدیث پاک میں نیکی سے مراد اپنے بھائی کے ساتھ نرمی والا معاملہ اور قرض میں کمی کرنا ہے ۔ (دلیل الفالحین ،باب فی اصلاح بین الناس، ج 2، ص50،تحت الحدیث 251،دارالمعرفہ بیروت1431ھ )

قرضدار کے ساتھ نرمی اور بھلائی کیجئے : پیارے پیارے اسلامی بھائیو!تنگ دست مقروض تو قابل رحم ہےمگر دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نازیبا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، سب کے سامنےاُس کی عزت پامال کرتے، معاذاللہ طرح طرح کے طعنے دیتے ،آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اس لاچار غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکال دیتے ہیں ۔ حالانکہ کثیر احادیث طیبہ میں تنگدست قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔

فرامین آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

(1) جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائےگا ۔ ( صحیح المسلم،کتاب الذکروالدعا،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن،ص1447حدیث2699 ، دارالمغنی عرب شریف 1419ھ)

(2) جس نے تنگدست کو مہلت دی یااُس کے قرض میں کمی کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اُس سائے کے علا وہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( جامع الترمذی ، کتاب البیوع، باب ماجاء فی انظار المعسروالرفق بہ، ج3، ص52، حدیث 1310،دارالمعرفہ بیروت1414ھ)

اللہ پاک ہمیں آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے قرض دار کے ساتھ حسن سلوک کرنے ،نرمی کرنے ، مہلت دینے اور معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔



اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو نہ صرف اللہ عزوجل کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے بلکہ بندوں کے ساتھ حسن سلوک ، ہمدردی اور خیر خواہی کی تعلیم بھی دیتا ہے ۔  حضور سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پوری زندگی مبارک ذات انسان کے لیے مشعل راہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جہاں عبادات کی ترغیب دی ہے ، وہیں معاشرتی مسائل پر بھی راہنمائی فرمائی ہے ۔ انہی اہم مسائل میں ایک " مسئلہ" قرض لینے ، دینے کا ہے " ۔ بعض اوقات انسان مجبوری یا ضرورت کے تحت قرض لینے پر مجبور ہوتا ہے ۔ تو مقروض افراد پر سختی برتنا ، ان پر بے جا دباؤ ڈالنا یا ذلت امیز سلوک اختیار کرنا سراسر تعلیمات اسلام کے خلاف ہے ۔ بلکہ دین اسلام نے ان کمزور اور محتاج طبقے کے لوگوں کے ساتھ نرمی ، مہربانی اور سہولت برتنے کا حکم دیا ہے ۔ قارئین کے سامنے اس بارے میں چند احادیث اور ایک واقعہ پیش خدمت ہے ۔

قیامت کے دن تکلیفوں سے نجات : حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا " جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ ( صحیح مسلم ، جلد 5 ، ص 33 ، حدیث نمبر : 1563 )

اللہ عزوجل اسے عرش کے سائے میں رکھے گا : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیا اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( جامع الترمذی ، جلد 2 ، ص 575 ، حدیث نمبر : 1306 )

حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ عزوجل اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ ( صحیح البخاری ، جلد 3 ، ص 57 ، حدیث نمبر : 2076 )

مالدار کو مہلت دیتا تھا اور تنگدست سے در گزر کرتا تھا : حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا " گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ ، کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے ؟ اس نے کہا ، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ، اس سے کہا گیا : غور کر کے بتا ، اس نے کہا : صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا ، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے در گزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ عزوجل نے ( فرشتے سے ) فرمایا : تم اس سے در گزر کرو ۔

( صحیح مسلم ، جلد 5 ، ص 32 ، حدیث نمبر : 1560 )

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور مجوسی قرضدار : امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رحمہ اللہ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رحمہ اللہ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رحمہ اللہ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) آپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رحمہ اللہ کے اس عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رحمہ اللہ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رحمہ اللہ کے پاس آیا اور اس نے یہ گمان کیا کہ آپ آپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رحمہ اللہ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء آپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ ( تفسیر کبیر ، الفصل الرابع فی تفسیر قوله : مالک یوم الدین ، جلد 1 ، ص 204 )

مقروض کے ساتھ نرمی برتنا نہ صرف انسانیت ہے بلکہ یہ تعلیم نبوی بھی ہے ۔ موجودہ دور میں جبکہ مالی دباؤ عام ہے ، ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کی مجبوری کو سمجھیں ، ان پر مہربانی کریں ، اور اگر ممکن ہو تو قرض معاف کردیں یا کم از کم نرمی اختیار کریں ۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو معاشرے میں محبت ، رحم و انصاف کو فروغ دیتا ہے ۔ اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کو اپنائیں تو ہمارا معاشرہ ایک بہترین اسلامی معاشرہ بن سکتا ہے ۔ 


اسلام ایک ایسا کامل اور بہترین دین ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام طرح سے رہنمائی فراہم

کرتا ہے ۔ اس دینِ نے انسانیت کی کامیابی کے لیے جہاں عبادات کی تعلیم دی، وہیں معاملات میں انصاف، آسانی اور ہمدردی کی بھی تعلیم دی ۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)

نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

(1) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا کسی آدمی پر قرض تھا جب اس کے پاس قرض لینے جاتے تو وہ آگے پیچھے ہوجاتا ۔ ایک دن وہ اس کے گھر گئے تو ایک بچہ نکلا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بچے سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا ۔ اس نے کہا وہ گھر میں کھاناکھا رہا ہے انہوں نے آواز دی کہ اے فلاں! باہر آؤ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم یہیں ہو ۔ وہ آدمی آیا تو انہوں نے پوچھا کہ تو مجھ سے کیوں غائب ہوجاتا ہے؟ اس نے کہا میں تنگدست ہوں اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اللہ کی قسم! کیا تو واقعی تنگدست ہے؟ اس نے کہا ہاں ۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا میں نے اللہ کے رسول (ﷺ) سے سنا ہے کہ جس شخص نے اپنے قرض دار پر نرمی کی یا اس کا قرض معاف کردیا تو وہ روز قیامت عرش کے سایہ تلے ہوگا ۔ ( مسند احمد : کتاب باقی مسند الأنصار، باب حدیث أبی قتادہ)

(2)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِجس نے کسی مؤمن کی دنیاوی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیف دور کرے گا، اور جس نے کسی تنگدست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا ۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2699)

(3) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’نرمی جس چیز میں ہوتی ہے، اسے آراستہ کر دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی الگ کر لی جاتی ہے، اسے بدنما بنا دیتی ہے‘‘ ۔ ( مسلم، رقم ۲۵۹۴، مجمع الزواید ،۸/۱۸)

(4) ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه ترجمہ : ایک تاجر لوگوں کو قرض دیتا تھا، جب کسی تنگدست کو دیکھتا تو اپنے خدام سے کہتا: اسے چھوڑ دو، شاید اللہ ہمیں بھی معاف کر دے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے معاف فرما دیا ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 2078، صحیح مسلم، حدیث: 1562)

قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مقروض پر نرمی، مہلت اور درگزر نہ صرف اخلاق کا تقاضہ ہے بلکہ یہ عمل انسان کو اللہ کی رحمت، مغفرت اور جنت کے قریب کر دیتا ہےاسلام نے انسانی زندگی میں باہمی ہمدردی، نرمی اور آسانی کو بنیاد کے طور پر متعارف کرایا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے یہ واضح رہنمائی ملتی ہے کہ مالی معاملات میں بھی رحم و کرم اور درگزر کا جذبہ برقرار رہنا چاہیے ۔ آپ ﷺ نے مقروض پر نرمی، مہلت دینے اور معافی کے عمل کو نہ صرف پسند فرمایا بلکہ اسے عظیم اجر و ثواب کا ذریعہ قرار دیا ۔ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی تنگدست پر آسانی کرے، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرماتا ہے ۔ لہذا اس دور میں اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے آپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ہمدردی اور مشکل وقت میں پریشانی دور کرنے کے لیے حسب توفیق مدد کرنی چاہیے اور اس بات سے بھی بچا جائے کہ لوگوں میں میری واہ واہ ہو میرا نام ہو اور دوسرے مسلمان بھائی کی بھی عزت نفس کا خیال کرنا چاہتے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ


پیارے پیارے اسلامی بھایو!جو شخص مشکل وقت میں قرض دار کے ساتھ رحم کرے، اللہ اس پر رحم کرے گادوسروں کے دکھ میں ساتھ دینا انسانیت کی علامت ہے، قرض دار کے ساتھ نرمی بھی یہی ہے  ۔ قرض دار کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کے مطابق رویہ اختیار کرنا عقل مند کی نشانی ہے آئیے قرض دار پر نرمی کے متعلق کچھ احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1) قرضوں میں آسانی کرو:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَنْ سَهْلَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي دَيْنِهِ سَهْلَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو کسی مسلمان کے قرض میں آسانی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور

آخرت میں آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ ( سنن ابی داؤد، كتاب البيوع، حدیث نمبر 3098)

(2) بلاؤں سے نجات :عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله ﷺ: مَنْ أَعْطَى الْمُدِينَ مُهْلَةً أَوْ سَهْلَ عَلَيْهِ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنَ الْبَلَاءِترجمہ :حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روآیت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو قرض دار کو مہلت دے یا اس پر آسانی کرے، اللہ تعالیٰ اسے بلاؤں سے نجات دے گا ۔ ( سنن الترمذى كتاب البيوع، حدیث نمبر 1322)

(3) قیامت کے دن مہلت :عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ أخَّرَ دَيْنَ مُسْلِمٍ لَهُ أَخَّرَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جو کسی مسلمان کے قرض کی ادائیگی میں مہلت دے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے مہلت دے گا ۔ (سنن ابی داؤد، كتاب البيوع، حدیث نمبر 3147 )

(4) قرض اچھے طریقے سے ادا کرنا :إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءًترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھا ہو ۔ (صحیح بخاری جلد2 باب حُسْن الْقَضَاءِ حدیث نمبر 2393)

(5) قرض دار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ساتھ :إِنَّ اللَّهَ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يُكْرَهُ الله ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ قرض دینے والے کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ اپنا قرض ادا نہ کرے، بشرط یہ کہ وہ قرض کسی ایسی چیز کے لیے نہ ہو جسے اللہ نآپسند کرتا ہو ۔ (سنن ابن ماجہ،باب مَن أَخَذَ قَرْضًا وَهُوَ يُنْوِي تَسْدِيدَهُ ،جلد 3 صفحہ 270 حدیث نمبر2409)

پیارے پیارے اسلامی بھایو! یہ حدیثیں ہمیں سکھاتی ہے کہ مالی معاملات میں سختی نہیں بلکہ نرمی اور ہمدردی ہونی چاہیے ۔ آج کے دور میں جہاں لوگ معمولی مالی جھگڑوں پر دلوں میں نفرت بھر لیتے ہیں، وہاں یہ تعلیم ہمیں انسانیت بردباری اور سماجی سکون کا راستہ دکھاتی ہے ۔ اگر ہم قرض داروں کے ساتھ نرمی مہلت اور خیر خواہی کا برتاؤ کریں تو نہ صرف ہمارے دلوں میں سکون آئے گا بلکہ معاشرہ بھی محبت تعاون اور عدل سے بھر جائے گا ۔ اللہ پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 


(1)نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔  اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

(2)اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(بخاری، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر الامام بالصلح ،2 / 214 ، حدیث : 2705)

مزکورہ حدیث سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:

(1)حتی المقدور تنگدست اور مجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے ۔

(2)قرض خواہ اگر بہت ضرورت مند نہیں تو اُسے قرض دار کے قرض میں کمی بھی کرنی چاہیے ۔

(3)قرض خواہ اگر مال دار ہے اور قرض دار بہت نادار ہےتو اُس مال دار کو چاہیے کہ قرض معاف کر دے کہ یہ نہایت ہی اجر وثواب کا باعث ہے ۔

(4)نیک کام کو ترک کرنے کی قسم کھانے والے کو تنبیہ کرنا سنت سے ثابت ہے ۔

(5)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ کی مراد کو بہت جلد سمجھ جایا کرتے تھے اور اشارہ ملتے ہی اُس پر عمل پیرا ہوجاتے ، نیز نیکیوں پر بہت حریص ہوا کرتے تھے ۔

(6)یہ بھی معلوم ہوا کہ قرض خواہ سے مقروض کے لیے سفارش کرنی چاہیے ۔ (فیضانِ ریاض الصالحین جلد 3 صفحہ 370 تا 371 )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست و مجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفےٰ ﷺ ملاحظہ کیجئے :

(1) جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ (مسلم، كتاب الذكر والدعا، باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن ، ص 1447 حدیث: 2699) (2) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسرالخ،3 / 52 الحدیث: 1310)

(3) جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُس کے لئے ہر روز اُس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سرکارِ مدینہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثوا ب ملے گا ۔ “ میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !پہلے تو میں نے آپ کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب ہے پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایاکہ جس نے کسی تنگد ست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ ‘‘ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا : “ اُسے روزانہ قر ض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثو اب تو قر ض کی ادا ئیگی کا وقت آنے سے پہلے ملے گااور جب ادائیگی کا وقت ہوگیا پھر اُس نے قرض د ار کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کاثوا ب ملے گا ۔ “ ( مسند احمد ، حدیث بریدۃ الاسلمی ، 9 / 32 ، حدیث : 23108)(فیضانِ ریاض الصالحین صفحه 369 تا 370 )

قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے چند فضائل درجِ ذیل ہیں :

(1) حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845 الحدیث: 32(1563))

(2)حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12 الحدیث: 2076 )

(3) اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا:میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث:29(1560)


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو صرف عبادات پر ہی نہیں بلکہ معاملات، اخلاقیات اور معاشرتی رویوں پر بھی گہری رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔  اسلامی معاشرت کی بنیاد باہمی ہمدردی، اخوت اور غمخواری پر رکھی گئی ہے ۔ ان ہی تعلیمات کا ایک اہم پہلو مالی معاملات میں نرمی، خصوصاً مقروض کے ساتھ حسنِ سلوک ہے ۔

قرض دینا اگرچہ ایک نیکی اور حاجت مند کی مدد ہے، لیکن قرض دینے کے بعد مقروض کے حالات کا خیال رکھنا اور اس پر سختی نہ کرنا، اسلامی تعلیمات کا وہ روشن باب ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہم دنیا و آخرت کی بھلائیاں سمیٹ سکتے ہیں ۔ نبی اکرم، رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تعلیمات اور اپنے عمل سے مقروض پر نرمی کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم فرمائی ہیں ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)

نبوی تعلیمات اور احادیث مبارکہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقروض پر نرمی کرنے، اسے مہلت دینے اور قرض معاف کر دینے کے عظیم فضائل بیان فرمائے ہیں ۔ یہ تعلیمات ہمیں مختلف کتبِ حدیث میں ملتی ہیں:

(1) حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم، کتاب المساقاة والمزارعة، باب فضل إنظار المعسر، ص 845، الحدیث: 32(1563))

2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسرالخ، 3 / 52، الحدیث: ،152)

(2) درگزر کرنے پر اللہ کی مغفرت:قرض کے معاملے میں نرمی کرنا اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا سبب بن

جاتا ہے، چاہے انسان کے دیگر اعمال میں کمی ہی کیوں نہ ہو ۔

(1)حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، 9 / 98، الحدیث: 23413، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظارالمعسر، ص843، الحدیث: 26(1560)

(2)اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560)

(3) نرمی سے تقاضا کرنا: (1)ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے ۔ ( صحیح بخاری(کتاب البیوع) حدیث نمبر: 2076)

(4)روزانہ صدقے کا ثواب: (1)بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے ایک صدقہ کا ثواب ملے گا، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا“ ۔ (سنن ابن ماجہ/كتاب الصدقات/حدیث: 2418)

(5)قرض کی ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، 110- باب، 5 / 329، الحدیث: 3574)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی زندگی مقروضوں کے ساتھ نرمی کا بہترین نمونہ ہے ۔ ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنا قرض طلب کیا، جو ان کے ذمہ تھا ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک کا واقعہ ہے ۔ مسجد کے اندر ان دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی سنی ۔ آپ ﷺ اس وقت اپنے حجرے میں تشریف رکھتے تھے ۔ چنانچہ آپ ﷺ باہر آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ اٹھا کر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی ۔ آپ ﷺ نے پکارا اے کعب! انہوں نے کہا یا رسول اللہ، میں حاضر ہوں ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا معاف کر دے ۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کر دیا یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے (ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے) فرمایا کہ اب اٹھو اور قرض ادا کر دو ۔ (صحيح البخاری/كتاب الصلح/حدیث: 2710)

قرآن مجید کا واضح حکم (سورہ بقرہ: 280) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متعدد تعلیمات (جو صحیح بخاری، مسلم، ترمذی اور دیگر کتب میں موجود ہیں)

اس بات پر متفق ہیں کہ مقروض اگر تنگدست ہے تو اس پر سختی کرنا، اسے ذلیل کرنا یا اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اسلامی روح کے منافی ہے ۔ قرض خواہ کا حق محفوظ ہے، لیکن اس حق کے حصول میں اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ افضل ترین عمل یہ ہے کہ مقروض کو آسانی تک مہلت دی جائے، اور اگر استطاعت ہو تو قرض کا کچھ حصہ یا تمام قرض معاف کر دیا جائے، تاکہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کی سختیوں سے محفوظ فرمائے اور روزِ قیامت اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے ہر معاملات میں شریعت کا پابند رکھے اور صحیح معنیٰ میں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔ 


میرے عزیز دوستوں بھائیوں قرضدار کو مہلت دینا اس پر نرمی و شفقت کرنا اس کا تو خود ہمارے رب کریم نے حکم فرمایا ہے میرا رب سورۃ البقرہ آیت نمبر 280 میں فرماتا ہے :

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ،

جیساکہ نبیِ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کا ارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا: غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما د ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

میرے دوستوں مقروض پر نرمی کرنا یہ تعلیم نبوی ہے اس مناسبت سے کچھ وہ احادیث جو مقروض پر نرمی کرنے کے حوالے سے وارد ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں :

(1) نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

(2)جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)

(3)حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جواس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور پر یشانیاں دور ہوں تو اسے چاہیے کہ تنگدست کومہلت دیاکرے ۔ (مجمع الزوائد، کتا ب البیوع ،با ب فی من فرج عن معسر،،،الخ ، ۴/ ۲۳۹، حدیث:۶۶۶۴)

(4)حضرت سیِّدُنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے قرض کی ادائیگی کے وقت سے پہلے تنگدست کو مہلت دی اسے روزانہ اتنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے وقْتِ ادائیگی کے بعد مہلت دی تو اسے روزانہ اس سے دُگنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ ‘‘(مجمع الزوائد، کتاب البیوع، با ب فی من فر ج عن معسر،،،الخ، ۴/ ۲۴۲، حدیث:۶۶۷۶)


بحمد اللہ اللہ پاک کا کرم ہے کہ جس ذات نے ہمیں اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا جہاں اسلام کے اندر شریعت کے احکامات نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہیں معاشرتی امور کے حوالے سے بھی ہماری رہنمائی کی گئی ہے  ۔ ہمارے معاشرے کے اندر بہت سارے لوگ رہتے ہیں کچھ مسائل کے مدنظر وہ مقروض ہو جاتے ہیں اور قرض خواہ حضرات ان پر سختیاں اور شدت کرتے ہیں حالانکہ بانی اسلام ﷺ نے مقروض پر نرمی کرنے کی ترغیب دی ہے کئی ایسی حدیثیں ہیں جن میں مقروض پر نرمی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اس مناسبت سے میں آپ کے یہاں کچھ احادیث پیش کرتا ہوں تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس حوالے سے تعلیم نبوی ﷺ کیا ہے ۔

(1)نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

(2) جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)

(3) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جواس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور پر یشانیاں دور ہوں تو اسے چاہیے کہ تنگدست کومہلت دیاکرے ۔ (مجمع الزوائد، کتا ب البیوع ،با ب فی من فرج عن معسرالخ ، ۴/ ۲۳۹، حدیث:۶۶۶۴)

(4)حضرت سیِّدُنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: جس نے قرض کی ادائیگی کے وقت سے پہلے تنگدست کو مہلت دی اسے روزانہ اتنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے وقْتِ ادائیگی کے بعد مہلت دی تو اسے روزانہ اس سے دُگنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ (مجمع الزوائد، کتاب البیوع، با ب فی من فر ج عن معسرالخ، ۴/ ۲۴۲، حدیث:۶۶۷۶)

ان تمام احادیث نبویہ ﷺ سے معلوم ہوا کہ مقروض پر نرمی کی جائے اس کو مہلت دی جائے تاکہ اس کے پاس اسباب ہوجائے جس سے وہ قرض ادا کرسکے اور تعلیم نبوی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو مقروض کے قرض کو معاف کر دے تو اللہ پاک اسے عرش کا سایہ نصیب فرمائے گا اور اس سے اس مسلمان بہائی کی دل میں خوشی پیدا ہوگی اور کسی مسلمان کے دل میں خوشی ڈالنا اس حوالے سے ہمارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ عَزَّوَجَلّ کے نزدیک فرائض کی ادائیگی کے بعد سب سے افضل عمل مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا ہے ۔ (معجم کبیر،ج11،ص59،حدیث:11079)

اللہ پاک ہمیں مقروض پر نرمی و آسانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


اسلام اپنی جامع تعلیمات کے ذریعے نہ صرف عبادات بلکہ معاملات میں بھی عدل، احسان اور انسان دوستی کا کامل درس دیتا ہے ۔  دینِ اسلام نے انسانیت کے ہر طبقے کے حقوق کو واضح کیا ہے، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو مالی تنگی اور پریشانی کا شکار ہوں ۔

قرآن مجید اس سے متعلق ارشاد باری تعالٰی ہے:

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 280، پارہ1 / 218صفحہ)

قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ اس کے فضائل درجہ ذیل ہیں:

(1)قیامت کے دن نجات: حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ َ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32(1543)

(2)سایہ عرش کس کس کو ملے گا:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسرالخ،3 / 52، الحدیث: 1310)

قرض دار کو مہلت دینے کی کئی فوائد ہیں:

(1)اسے قیامت کے دن عرش کا سایہ عطاء کیا جائے گا ۔

(2)لوگوں کے دل میں عزت اور محبت بڑھتی ہے ۔

(3)برکت اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہیے ۔ 


اسلام ایک کامل دین ہے اور وہ اپنے ماننے والوں کو مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہےاور عبادات کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات میں بھی انسان کی رہنمائی کرتا ہے  ۔ اسلام آپس میں خیر خواہی اور ضرورت مند مسلمانوں کی مدد کرنے کا بھی درس دیتا ہے ۔ ایک حدیث پاک میں ہے (یَسِّرُوا و لا تُعَسِّرُوا) یعنی مسلمانوں پر آسانی کرو اور تنگی نہ کرو ۔ چونکہ روز مرہ زندگی میں قرض کے لین دین کے معاملات ہوتے رہتے ہیں لہذا اگر کوئی مقروض ہے اور وہ قرض ادا کرنے سے عاجز ہے تو تو اس کے متعلق رہنمائی کرتے ہو سورہ بقرہ میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا

تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)

قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: قرضدار کو مہلت دینے یا قرض معاف کرنے کے کئی فضائل احادیث میں بیان ہوئے ہیں ان میں سے 5 احادیث درج ذیل ہیں:

(1) حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص445، الحدیث: (1563)

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر الخ، الحدیث: (1310)

(3)حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، الحدیث: (2076 )

(4) اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: (1560)

لہذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ ان احادیث میں مذکورہ فضائل کو حاصل کرنے اور مسلمان کے ساتھ بھلائی کرتے ہوئے مقروض پر قرضے کی وصولی میں آسانی کرے ۔ اسکے ساتھ مقروض کو بھی چاہیے کہ ممکنہ صورت میں جلد از جلد قرض اتارنے کی کوشش کرے ۔ 


قرض دینے کے بعد اس کی واپسی کے لیے قرض لینے والے کو ایک مناسب وقت اور مہلت دینا ضروری ہے تاکہ وہ قرض کی واپسی کے انتظامات کر سکے، اسی طرح بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ قرض لینے والے کے پاس انتظام نہیں ہو پاتا، جس کی وجہ سے طے شدہ وقت میں قرض کی واپسی اس کے لیے بہت دشوار ہو جاتی ہے ۔ لہٰذا اسلام میں جہاں قرض دینے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہیں، وہیں واپسی میں مہلت دینے پر بھی اللہ کی طرف سے بڑے انعام کا وعدہ کیا گیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔

تفسیر: صراط الجنان :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ )

قرض خواہی یا قرض کے مطالبے میں شریعت اسلامی کی تعلیمات تمام ادیان و مذاہب میں منفرد نوعیت کی تعلیمات ہیں ۔ اس معاملے کا سب سے زیادہ حسین پہلو یہ ہے کہ اگر مقروض قرض ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اسے مہلت اور سہولت دینے کی قرآن و حدیث پر بڑی ہی فضیلت و اجر کی بشارتیں سنائی گئی ہیں ۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے:” مَن سرَّہ أن ینجیہ اللہ من کرب یوم القیامة فلینفِّس عن مُعسِر أو یضع عنہ“ ترجمہ:جو یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی پریشانیوں سے نجات عطا فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (صحیح مسلم، باب انظارالمعسر، 1563)

(1)حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ  ﷺ َ نے  ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ  تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم  ﷺ َ نے  ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

(3)حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس  ﷺ َ نےفرمایا:اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔  (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

قرض کی ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، ۱۱۰- باب، ۵ / ۳۲۹، الحدیث: ۳۵۷۴)


اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشادات اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہیں، اور ان تعلیمات میں سے ایک اہم پہلو احساس ہے ۔ اسی احساس کے تحت ہمیں مقروض پر نرمی کرنا نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے ۔

جیسا کہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔

قرضدار کو مہلت دینے اور قرض معاف کرنے کے فضائل:اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگدست یا نادار ہو تو اسے مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔

احادیثِ مبارکہ میں بھی اس کے بہت سے فضائل بیان ہوئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

(1) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے، وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)

(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جب کہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

(3) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

(4) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے کے لیے فرشتہ آیا تو اس سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا عمل یاد ہے؟اس نے کہا: میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ۔ فرشتے نے کہا: غور کر کے بتا ۔ اس نے کہا: میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا، اگر مالدار مہلت مانگتا تو دے دیتا، اور تنگدست سے درگزر کرتا تھا ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم بھی اس سے درگزر کرو ۔ ("مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)

(5) صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا:میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰)

نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا، جب اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اس سے کہا گیا: کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ فرشتے نے کہا: غور تو کر ۔ اس نے کہا: میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا، امیر کو مہلت دیتا اور غریب کو معاف کر دیتا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرما دیا ۔ (بخاری، جلد 2، صفحہ 460، حدیث: 3451)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مقروض سے ہمیشہ نرمی اور حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے ۔ ضرورت مندوں کو قرض دینا اور قرض کی بہترین ادائیگی کرنا اسلام میں جہاں پسندیدہ عمل ہے، وہیں تنگدست مقروض سے شفقت، مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے ۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد یہ

ہوتا ہے کہ ضرورت مند کی معاشی اور گھریلو پریشانیاں ختم ہوں ۔ اسی سوچ کے تحت اچھی نیتوں کے ساتھ دیا گیا قرض ثواب کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ مقروض پر نرمی کے لیے طریقہ یہ ہے کہ شرائط نرم اور آسان رکھی جائیں ۔ ایسی سخت شرائط عائد کر دینا کہ مقروض پس کے رہ جائے، باہمی اُلفت و محبت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے ۔