عبد
السبحان عطّاری (درجہ ثانیہ جامعۃُالمدینہ فیضان مشتاق النور سوسائٹی کراچی،
پاکستان)
الله تعالیٰ
نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ
تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنزِالعرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا
قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ،280)
(1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا
أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا،
قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ ،(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ :روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا
اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو
جائے توا سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ الله ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ الله سے
ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ،(مسلم،بخاری)
شرح:نوکر
سے وہ نوکر مراد ہے جو مقروضوں سے تقاضا کرنے کو مقرر تھا جیسا کہ عام تجار
ساہوکار ایسے لوگ رکھتے ہیں ۔ فتی ساتھی کو بھی کہتے ہیں نوکرو غلام کو بھی،اس کے
لغوی معنی ہیں جوان ۔ یا سارا قرض معاف
کردے یا کچھ قرض یا مہلت دے دے کہ جلدی تقاضا نہ کرے،معافی میں یہ سب کچھ داخل ہے
۔
کہ اس کے
سارے گناہ بخش دے ۔ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ غلام یا نوکر کو قرض
وصول کرنے کا وکیل کرسکتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وکیل کو معافی یا نرمی کرنے کی اجازت
دے سکتے ہیں ۔ تیسرے یہ کہ دعا میں جمع کے صیغے استعمال کرنا بہتر ہے کہ اس نے کہا
تھاعنَّا کہ اگر ایک کے حق میں دعا قبول ہوگئی توان شاء اللہ سب کے حق میں قبول
ہوجائے گی،چوتھے یہ کہ گزشتہ دین کے احکام ہمارے لیے بھی قابل عمل ہیں جب کہ قرآن یا
حدیث میں نقل ہوں ۔ (نووی،مرقات)پانچویں یہ کہ اپنے مقروض پر مہربانی کرنا اپنی
بخشش کا ذریعہ ہے، (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ،
حدیث نمبر:2901)
(2) مروی ہے کہ حضرت معاذ
مقروض ہو جاتے تھےان کے قرض خواہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے
ان کے قرض میں ان کا سارا مال بیچ دیا حتی کہ حضرت معاذ خالی ہاتھ اٹھ گئے یہ مصابیح
کے لفظ ہیں اسے میں نے منتقیٰ کے سوا کسی اصول کی کتاب میں نہ پایا ۔
شرح: حضرت
معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ کے مقروض ہوتے رہنے کی وجہ آگے آرہی ہے کہ آپ سخی بہت
تھے قرض لے کر بھی خیرات و صدقات دیتے رہتے تھے ۔ کہ ہمار ا قرض ادا کرایا جائے ۔
معلوم ہوا کہ قرض خواہوں کا کچہری میں مقروض پر دعویٰ کرنا حاکم سے فریاد کرنا
درست ہے،اس کی اصل یہ ہی حدیث ہے ۔ یہ حدیث مختصر ہے،اولًا حضور انور ﷺ نے
حضرت معاذ کو قرض ادا کرنے کا حکم دیا،انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس روپیہ بالکل
نہیں،پھر انکی رضا سے حضور ﷺ نے ان کا مال نیلام فرمادیا یا فروخت کردیا، اب
بھی اس پر ہی عمل ہے،ہاں اگر مقروض نہ تو ادائے قرض کرے،نہ اپنا مال فروخت کرے تب
حاکم اسے قید کر دے تاکہ وہ اپنا مال خود فروخت کرے قرض ادا کرے یا حاکم کو فروخت
کی اجازت دے،جبرًا حاکم اس کا مال فروخت نہیں کرے گا ۔ (مرقات)بعض صورتوں میں قرض
خواہوں کے مطالبہ پر حاکم خود بھی فروخت کرسکتا ہے اور دیوالیہ و محجور بھی کرسکتا
ہے کہ اعلان کردے کوئی اس سے لین دین نہ کرے یہ دیوالیہ ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2917 )
اسلام کی
روشن اور پاکیزہ تعلیمات انسان کو جہاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف بلاتی ہیں، وہیں
معاشرتی زندگی میں حسنِ سلوک، درگزر، مہربانی اور باہمی تعاون کو اختیار کرنے کی
ترغیب بھی دیتی ہیں ۔ اسلام کا مزاج ہی
نرمی، آسانی اور خیر خواہی ہے ۔ انہی حسین
تعلیمات میں سے ایک اہم اور دلوں کو نورانی کرنے والی تعلیم مقروض پر نرمی ہے
۔ یہ وہ خلقِ عالیہ ہے جسے رسولِ کریم ﷺ
نے اپنے مبارک ارشادات اور عملی نمونوں کے ذریعے امت میں راسخ فرمایا ۔
اللہ تعالیٰ
نے قرآن کریم میں مقروض کے ساتھ نرمی کا واضح حکم دیا ہے ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ
کنزالایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر
بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ،280)
اس آیت کی
تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے مہلت دینے کا حکم فرمایا، پھر
اس سے بھی اعلیٰ درجہ یعنی معاف کرنے کا طریقہ بیان کیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت مند پر نرمی کرنا
اللہ کی بارگاہ میں نہایت محبوب عمل ہے ۔
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا: مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ
الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ترجمہ: جس
نے کسی مسلمان کی دنیا کی کسی پریشانی کو دور کیا، اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی
کو دور فرما دے گا ۔ (صحیح مسلم 2699)
شارحین
لکھتے ہیں کہ قرض کے بوجھ سے نجات دلانا بھی پریشانی دور کرنے میں شامل ہے ۔
ایک اور حدیث
میں ہے: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى
مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ
يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه ترجمہ: ایک شخص لوگوں
کو قرض دیتا تھا اور اپنے ملازم
سے کہتا: تنگ دست پر نرمی کرنا، شاید اللہ ہم پر نرمی فرمائے ۔ تو اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی ۔ (صحیح بخاری
2078)
اس حدیث کی
شرح میں علماء فرماتے ہیں کہ مقروض کے ساتھ نرمی اختیار کرنا اللہ کے ہاں مغفرت کا
سبب ہے ۔
علماء حدیث
لکھتے ہیں کہ مقروض پر نرمی تین عملی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے:
1 مہلت دینا
: جب تک قرضدار آسانی میں نہ آئے ۔
2 نرمی سے
گفتگو کرنا : اس کی عزتِ نفس کا مکمل خیال رکھنا ۔
3 معافی
کرنا : اگر وہ واقعی مجبور ہو تو پورا یا کچھ حصہ معاف کر دینا ۔
ان تینوں میں
سب سے اعلیٰ درجہ معافی کا ہے، جو اللہ کو بہت محبوب ہے ۔
چند عملی
تعلیمات:
1، قرض دیتے
وقت نرمی، شفقت اور خیرخواہی کی نیت رکھیں ۔
2، اگر
قرضدار مشکل میں ہو تو اسے کھلے دل سے مہلت دیں ۔
3 ،وصولی
کے وقت سخت لہجہ استعمال نہ کریں عزتِ نفس کا خیال رکھیں ۔
4، ممکن ہو
تو کچھ یا پورا قرض معاف کر دیں، یہ عمل آخرت کے درجات بلند کرتا ہے ۔
5 ،لوگوں
کے حالات کو سمجھیں، کیونکہ کل ہمیں بھی کسی کی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔
آخر میں یہی
حقیقت قائم رہتی ہے کہ دوسروں پر آسانی کرنا دراصل اپنے لیے آسانیاں جمع کرنا ہے
۔ مقروض پر نرمی کی یہ نبوی تعلیمات
معاشرے میں محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرتی ہیں ۔ جو دل دوسروں کے بوجھ ہلکے کرتا ہے، اللہ تعالیٰ
اس دل سے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔
محمد
فیضان علی عطاری (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدينہ فیضان مدینہ فیصل آباد، پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں عدل ،احسان اور حسن سلوک کی تعلیم دیتا
ہے ۔ شریعت مطہرہ نے معاشی معاملات میں سے
خصوصا قرض کے بارے میں بھی عفو و درگزر اور حسن سلوک اپنانے کو اہمیت دی ہے ۔ جہاں اپنے مسلمان بھائی کو قرض دینا ثواب کا باعث
ہے، وہیں قرض دار کو اس کی ادائیگی میں مہلت دینا یا معاف کر دینا بھی اللہ اور اس
کے رسول ﷺ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے ۔ حضور ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں اپنے اقوال اور
اعمال سے مقروض پر نرمی کرنے کی روشن تعلیمات ارشاد فرمائیں ۔ آئیے ! احادیث کی روشنی میں مقروض پر نرمی کی
نبوی تعلیمات ملاحظہ کیجئے ۔
قرض معاف
کرنے والے کی مغفرت :پیارے آقا جان عالم ﷺ کا ارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا جس
کے پاس اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اُس سے کہا گیا کہ کیا تو نے کوئی نیکی کی
ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا
گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا
اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا
تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ ( بخاری،کتاب احادیث الانبیاء ،باب ما ذُکر عن
بنی اسرائیل ، ص886 ،حدیث:3451)
قرضدار کے
ساتھ نرمی کرنا :تمام مسلمانوں کی پیاری امی جان حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺنے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی
جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ
رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا :
’’کون ہے جو اللہ پاک کی قسم کھاکر کہتا
ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ!
وہ میں ہوں، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘ (بخاری، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر الامام
بالصلح ،ص698،حدیث:2705)
علامہ
ابوالحسن ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی
برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر
الامام بالصلح، 98/8)
لیکن آج کل
لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں،اس کے ساتھ
نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے،وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کر کے
رکھ دیتے ہیں،آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے، دروازہ بجاتے،گھر کے باہر کھڑے ہوکر
اُسے باتیں سناتے،بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ،
لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ مزید کئی احادیث مبارکہ میں تنگدست و مجبور قرض دار کے
ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفیٰ ﷺ ملاحظہ کیجئے :
(1) جو دنیامیں
تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا اللہ پاک َدنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا
فرمائے گا ۔ (مسلم، کتاب الذکر والدعا ،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن، ص1039،
حدیث :2699)
(2) جس نے
تنگدست کو مہلت دی یا اُس کے قرض میں کمی کی ، اللہ پاک قیامت کے دن اُسے اپنے عرش
کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اُس سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی، کتاب
البیوع ،با ب ماجاء فی انظار المعسر والرفق بہ، ص338 ،حدیث :1306)
(3) جس نے
کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُس کے لئے ہر روز اُس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ہے
۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سرکارِ مدینہ
ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال
دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ “ میں
نے عرض کی : ’’یا رسولَ اللہ ﷺ پہلے تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس
نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قرض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب ہے پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایا:
کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قرض سے دو گنا صدقہ کرنے کا
ثواب ہے ۔ ‘‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : “
اُسے روزانہ قرض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثواب تو قر ض کی ادائیگی کا
وقت آنے سے پہلے ملے گا اور جب ادائیگی کا وقت ہوگیا پھر اُس نے قرض دار کو مہلت دی
تو اُسے روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ (مسند احمد ،حدیث بریدۃ الاسلمی ،430/9 ،حدیث: 23692)
حدیث
مبارکہ سے حاصل ہونے والے مدنی پھول :
1:حتی
المقدور تنگدست اور مجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے ۔
2: قرض
خواہ اگر بہت ضرورت مند نہیں تو اُسے قرض دار کے قرض میں کمی بھی کرنی چاہیے ۔
3:قرض خواہ
اگر مال دار ہے اور قرض دار بہت نادار ہےتو اُس مال دار کو چاہیے کہ قرض معاف کر
دے کہ یہ نہایت ہی اجر وثواب کا باعث ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین ، 370/3)
پیارے
اسلامی بھائیو! پس ہمیں چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کی ان تعلیمات کو اپنائیں، اپنے دلوں
میں نرمی پیدا کریں، اور لوگوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں جیسا ہم الله سے اپنے لیے
چاہتے ہیں، جیسا کہ رحمت، معافی اور آسانی ۔ الله پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی
الله علیہ وآلہ وسلم!
عبد
المنان (درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت
ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ
جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر
لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک
لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت
کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض
دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفےٰ ﷺ ملاحظہ کیجئے :
((1نیکی نہ
کرنے کی قسم :اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ ر َضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا
فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز
سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی
چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا
۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘
تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس
(مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250)
(2)مہلت دینا:سرکارِ مدینہ ﷺ کو
فرماتے ہوئے سنا : “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال دو
مرتبہ صدقہ کرنے کا ثوا ب ملے گا ۔ “ میں
نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !پہلے تو میں نے آپ کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ
جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب
ہے پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایاکہ جس نے کسی تنگد ست کو مہلت دی
اُس کے لئے ہر روز اس قر ض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ ‘‘ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا : “ اُسے روزانہ
قر ض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثو اب تو قر ض کی ادا ئیگی کا وقت آنے سے
پہلے ملے گااور جب ادائیگی کا وقت ہوگیا پھر اُس نے قرض د ار کو مہلت دی تو اُسے
روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کاثوا ب ملے گا ۔ (ریاضالصالحین
،ج،3،ص،369، مکتبہ المدینہ)
(3)
تنگدستی پر کشادگی:حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو عالَم
کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد
فرمایا : ’’جس نے کسی مسلمان کی دُنیوی تکلیف دُور کی تو قیامت کےدن اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اُس کی اُخروی تکلیف کو دُور
فرمائے گا ۔ جو کسی تنگدست پر کشادگی کرے
گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے دنیا اور آخرت میں کشادگی عطافرمائے گا ۔ جو دنیا
میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کی پردہ
پوشی فرمائے گا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس وقت تک بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے ، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد
کرتارہتا ہے ۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی
راستے پر چلتاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے لیے جنت کی
طرف راستہ آسان فرمادیتاہے ۔ جب کچھ لوگ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر تلاوتِ قرآنِ مجید اور
درس و تدریس کرتے ہیں تو اُن پر سکینہ نازل ہوتاہے ، رحمتِ خداوندی انہیں ڈھانپلیتی ہے
اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی خاص مجلس میں
اُن کا ذکرِ خیر فرماتاہے اور جس کا عمل اُسے پیچھے رکھے تواُس کا نسب اُسے آگے
نہیں بڑھا سکتا ۔ ‘‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:245 )
(4) معافی
دینا:روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو چاہے اسےاللہ تعالٰی روز قیامت کی تکالیف سے نجات دے تو چاہیے
کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا معافی ۔ (
مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2902)
(5)روز قیامت
نجات:روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللہ ﷺ کو
فرماتے سنا کہ جو تنگدست کو مہلت دے یا معافی تواللہ اسے روز قیامت کی تکلیف سے
نجات دے گا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2903)
محمد
بلال منظور (درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا
ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے
اگر جانو ۔ (پ3،سورۃالبقرہ، آیت 280)
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر
مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا
قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا
قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو
کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں
عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 280، 1/ 218)
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ
یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ
ذیل ہیں :
(1) قیامت کی تکلیفوں سے نجات:حضرت ابو
قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32(1563)
(2) عرش کے
سائے میں جگہ:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ،
3 / 52، الحدیث: 131)
(3)آسانی
کرنے والے پر رحم:حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ
اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے
اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث:
2076 )
(4)فرشتوں
کا درگزر فرمانا:حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو
مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے
علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے
کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف
یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا
تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر
کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ
نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان،
9 / 98، الحدیث:23413 ، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر،
ص843، الحدیث: 26 (1560))
(5)میں تجھ
سے زیادہ معاف کرنے کا حق دار ہوں:اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ
اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس
معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’
میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر
کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: 29(1560))
اللہ پاک ہمیں بھی دی گئی تعلیمات پر عمل کرتے
ہوے مقروضوں پر نرمی کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم ۔
علی
اکبر مہروی (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
تنگدست کو
مہلت دینا یا اس سے قرض کو معاف کر دینا یہ
بہت ہی اچھا عمل ہے اور اللہ اس پر بہت ہی
زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے اور اللہ تبارک و تعالی اس وقت تک اپنے بندے کی مدد کرتا
رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ۔
آئیں اب ہم تنگ دست کو مہلت دینے یا اس کو قرض
معاف کر دینے کے حوالے سے حدیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مطالعہ
کرتے ہیں:
(1) تنگ
دستی کو مہلت دینا:حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے اپنے ایک مقروض شخص سے
تقاضا کیا، تو وہ ان سے غائب ہو گیا پھر وہ ایک دفعہ انہیں ملا تو اس نے کہا میں
تنگ دست ہوں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا اللہ تعالی کی قسم ایسی ہی صورتحال ہے؟ اس نے جواب میں کہا:
اللہ تعالیٰ کی قسم اسی طرح ہے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے
حضور صلی الہ علی وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ قیامت
کے دن اللہ تعالی اسے تکالیف سے محفوظ رکھے تو اسے چاہیے کہ کسی تنگ دست کو ( قرضہ
کے حوالے ) مہلت فراہم کرے یا اسے ( قرضہ ) معاف کر دے ۔ (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الصدقات
صفحہ نمبر 657 مکتبہ شبیر برادرز)
(2) دنیا
اور آخرت میں آسانی :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا
فرمان نقل کرتے ہیں جو آدمی کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانی دور کرتا ہے تو اللہ
تعالی اس کی قیامت والے دن اس کی پریشانی دور کرے گا جو آدمی کسی تنگدست شخص کو
دنیا میں آسانی دے گا تو اللہ تعالی اسے دنیا اور آخرت میں آسانی دے گا جو آدمی
دنیا میں کسی شخص کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اس کی
پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالی اس وقت تک اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے
مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ۔ (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الصدقات
صفحہ نمبر 661 مکتبہ شبیر برادرز)
(3) تنگ دست پر درگزر :حضرت ابو مسعود بدری
رضی اللہ عنہ کا بیان ہے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی
سے حساب لیا گیا اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہیں تھی تاہم ایک بات ضرور تھی
کہ وہ لوگوں سے لین دین کا معاملہ کرتا تھا وہ خوشحال آدمی تھا وہ اپنے نوکروں سے
کہا کرتا تھا تم تنگدست لوگوں سے درگزر کا معاملہ کیا کرو تو اس پر اللہ تعالی نے
فرمایا میں اس چیز کا زیادہ حقدار ہوں پھر فرشتوں کو حکم دیا اس سے درگزر کا
معاملہ کرو ۔ (الترغیب والترہیب جلد نمبر
1 کتاب الصدقات صفحہ نمبر 660 مکتبہ شبیر برادرز )
(4) دعا
قبول کی جائے :حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی
علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے
اور اس کی پریشانی ختم کی جائے تو وہ تنگدست کو مہلت فراہم کرے ۔ (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الصدقات
صفحہ نمبر 663 مکتبہ شبیر برادرز)
(5) اللہ تعالیٰ سایہ عطا فرمائے گا :حضرت عثمان
بن عفان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو
فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن اللہ تعالی اس آدمی کو اپنا سایہ عطا کرے گا جس دن میں
اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا جس آدمی نے کسی تنگدست کو مہلت فراہم کی
ہوگی یا مقروض کا قرض معاف کیا ہوگا ۔ (الترغیب
والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الصدقات صفحہ نمبر 664 مکتبہ شبیر برادرز)
اللہ عزوجل
کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں بھی تنگ دست کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
محمد
نواز (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
اللہ تبارک
و تعالی کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہماری تعلیم و تربیت کے لیے
کئی ارشادات بیان فرمائے ہیں ان میں سے ہماری ایک تربیت یہ فرمائی ہے کہ قرض خواہ
کو قرض دینے میں مہلت دی جائے اور ان کے ساتھ نرمی اختیار کیجیے ائیے اس کے متعلق
چند احادیث مبارکہ عرض کرتا ہوں ملاحظہ فرمائیے:
(1) اللہ
عزوجل نرمی کو پسند فرماتاہے:اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ طیبہ
طاہرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِا سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نرمی فرمانے والا ہے، نرمی کو پسند فرماتاہے اور نرمی پر وہ
انعامات عطافرماتاہے جوسختی پر عطا نہیں فرماتااور نہ ہی کسی اور چیز پر عطا
فرماتاہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ،
حدیث نمبر:634)
(2)حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، 845، الحدیث: 32(1563))
(3)صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا
حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560)
(4)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (کتاب البیوع، باب
السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 /12 الحدیث2076)
(5)روایت
ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو
چاہے اسےاللہ تعالیٰ روز قیامت کی تکالیف سے نجات دے تو چاہیے کہ وہ تنگدست کو
مہلت دے یا معافی ۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث
نمبر:2902)
محمد
مدثر رضوی عطاری(درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،
پاکستان)
اللہ پاک
نے حضرت انسان کی تخلیق فرمائی پھر اس کی ہدایت کے لیے وقتاً فوقتاً انبیائے کرام
علیہم السلام کو مبعوپ فرمائیں سب سے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کو مبعوث فرمایا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے قول اور عمل کے ذریعے اپنی
امت کو راہ ہدایت پر گامزن کیا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ایک عمل مقروض نرمی
کرنا بھی ہے ۔ آئیے آپ بھی اس کے متعلق
چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے ۔
(1)قیامت میں
تکلیفوں سے نجات کا باعث: حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے
ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا
اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32)
(2)عرش الٰہی
کا سایہ:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، 3/52، الحدیث: 1310)
(3)نیکی
والا کام:اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا
فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز
سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی
چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا
۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں
گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ
میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘ (فیضان
ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250 )
(4)قرض
معاف کرنا سنت نبوی ہیں : حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں
، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی
روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا
کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔
(مسند امام
احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، 9/ 97،) الحدیث: 23413)
اعلٰی حضرت
رحمۃ اللہ علیہ کا عمل مقروض کے بارےمیں:اعلیٰ حضرت ، امامِ
اہلسنت ، مجدِّدِدِین وملت ، پروانہ شمع رِسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مذکورہ حدیثِ
مبارکہ کے عامل تھے ، چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی
مطبوعہ 540صفحات پرمشتمل کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صفحہ91 سے ایک سوال اور اُس
کے جواب کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا کہ کسی پر قرض ہے اور وہ اب ادائیگی نہیں کرتا تو فرمایا کہ
اِس زمانے میں قرض دینا اور یہ خیال کرنا کہ وُصُول ہوجائے گا ، ایک مشکل خیال ہے
۔ میرے پندرہ سوروپے لوگو ں پر قرض ہیں ۔ جب
قرض دیا تویہ خیال کرلیا کہ دے دے تو خیر
و رنہ طلب نہ کرو ں گا ۔ لیکن جن لوگوں نے قرض لیا ، واپس کرنے کا نام ہی
نہ لیا ۔ اور ہاں! جب قرض دیتا ہوں تو ہبہ
کیوں نہیں کر دیتا یعنی تحفہ کیوں نہیں دے دیتا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث شریف
میں ارشاد فرمایا : ’’جب کسی کا دوسرے پر دَین یعنی قرض ہو اور اُس کی مدت گزر
جائے تو ہر روز اتنے قرض کے برابر روپیہ خیرات کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔ لہٰذا اِس ثوابِ عظیم کو پانے کے لئے میں نے پیسے
قرض دیئے ، ہبہ نہ کئے کیونکہ پندرہ سوروپے روز انہ میں کہا ں سے خیرات کروں گا ۔
اللہ پاک
سے دعا ہیں کہ وہ ہمیں حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطاء
فرمائے ۔ امین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
دانش
عطاری (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، کراچی)
اللہ پاک
نے انسان کو پیدا فرمایا پھر اس کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا سب سے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو
مبعوث فرمایا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے قول اور فعل کے
ذریعے ہماری ہدایت و راہنمائی فرمائی اسی طرح آپ صلى علیہ والہ وسلم نے مقروض پر نرمی کرنے کی بھی ہدایت فرمائی ۔
آئیں اس کے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ۔
(1)قیامت
کے دن کی تکلیفوں سے نجات:حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو
شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص845، الحدیث: 23(1543))
(2)قیامت
اللہ پاک کے عرش کے سایہ نصیب ہو گا : ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ
دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے
عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار
المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، 3 / 52، الحدیث:1310)
(3)اللہ
تعالی رحم فرمائےگا:حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، حضورِ اقدس ﷺ َ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے
جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ
فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث: 2086)
(4)اللہ
تعالٰی معاف فرمائے گا: اور روایت میں ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے،
مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ
سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1540))
(5)حضرت حذیفہ
رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلی امتوں کا
واقعہ ہے کہ فرشتوں نے ایک شخص کی روح سے ملاقات کی اور پوچھا کیا تم نے کوئی نیک
کام کیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں فرشتوں نے کہا یاد کرو، اس نے کہا میں لوگوں کو قرض دیتا
تھا اور آپنے نوکروں سے کہتا تھا کہ مفلس کو مہلت دینا اور مالدار سے در گزر کرنا،
اللہ عزوجل نے فرمایا اس سے درگذر کرو ۔ (شرح صحیح
مسلم مترجم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب؛ فَضْلِ انْظَارِ الْمُعْسِيرِ
وَالتَّجَاوُزِ في الْاقْتِضَاءِ مِنَ الْمُوسِرَ وَالْمُعْسِيرِ،صفحہ نمبر285)
اس لیے ہمیں
اپنے کریم آقا ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اور ان فضائل کو
مد نظر رکھتے ہوئے مقروض پر نرمی کرنی چاہیے اور ممکنہ صورت میں قرض معاف کر دینا
چاہیے ۔
اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ
سید
منٹھارشاہ (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم کراچی، پاکستان)
ہمارے
معاشرے میں کچھ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالی نے بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے ،اور
کچھ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالی نے پہلے کے مقابلے میں کم نعمتوں سے
نوازا ہے ،بغض اوقات کسی مصیبت میں (مثلا
،بیماری یامال یا مکان وغیرہ) ہلاک ہوجانے کی صورت میں بندہ کسی سے عاریتا کچھ مدت
کے لئے قرض لیتا ہے ،اور بعد میں اس کو ادا کردیتا ہے ،ہماری شریعت ایک ایسی شریعت ہے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ مقروض کو مہلت دینے کے سلسلہ میں ہماری بہترین رہنمائی کرتی ہے :آئیے اسی
سلسلہ میں قرآن و حدیث میں دیکھیں ہمیں کیا
حکم دیتے ہیں : مقروض کو مہلت دینے کے بارے میں باری تعالی کا فرمان :
اللہ تعالی
ارشا د فرماتا ہے: وَ اِنْ
كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ
لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنزا لعرفان : اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور
تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل:اس آیت میں فرمایا گیا کہ قرض
داروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ
سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو تم
اسے مہلت دو تنگ دستی دور ہونے تک اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کردینا (یعنی) معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے ،کیوں کہ اس طرح کرنے
سے لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں بڑ ا ثواب ملے گا ۔
(1)قیامت
کے دن کی تکالیف سے نجات:حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
فرماتے ہیں ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے
یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر،
ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(2)عرش الہی کا سایہ حاصل ہوگا:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد
فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت
کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔
(ترمذی،
کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3)اللہ
پاک مقروض کو مہلت دینے والے پر رحم فرمائے گا :حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ
اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ
فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4)تم بھی
اس سے درگزر کرو:حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں
ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا
کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)
(5)اللہ
پاک مقروض کو مہلت دینے والے پر نرمی
فرماتا ہے :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ
سے روایت ہے ، جو شخص مقروض پر نرمی کرے اللہ تعالی دنیااور آخرت میں اس بندے پر
نرمی فرمائے گا ۔ ( مسند امام اعظم
جلد01(ماخوذ حاشیہ )ص440)
ساجد
علی عطاری (درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کراچی کورنگی، پاکستان)
پیارے
اسلامی بھائیو! قرض ہمارے معاشرے میں پایا جانے والا بہت عام معاملہ ہے تقریباً ہر
شخص قرض کے لین دین میں مشغول نظر آتا ہے ہر دوسرا شخص قرض لیتا یا دیتا رہتا ہے
پھر یہ معاملہ جتنا عام ہے اتنا ہی اہم بھی ہے قرض کی بنیاد پر معاشرے میں فساد
لڑائیاں جھگڑے بھی ہوتے رہتے ہیں کہیں عزتِ نفس کو پامال کیا جاتا ہے تو کہیں قتل
تک بات جا پہنچتی ہے لہذا قرض کا معاملہ بہت اہم ہے اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے ۔
چونکہ قرض کا معاملہ عام ہے اور حاجت مند آدمی قرض لیتا ہے قرض لینے اور دینے کے
آداب قرآن وحدیث میں بیان کیے گئے ہیں ہم یہاں ایک آیت مبارکہ اور چند وہ احادیث
کریمہ پیش کرتے ہیں جن میں مقروض پر نرمی کے تعلق سے بیان ہے کہ مقروض کے ساتھ کس
طرح کا سلوک کرنا چاہیے ۔
پیارے
اسلامی بھائیو !قرض دینے کے تعلق سے ایک نیکی یہ بھی ہے کہ قرض لینے والا اگر
مجبور ہو بیچارے کے پاس پیسے نہ ہوں تو اسے مہلت دینی چاہیے اور اگر ممکن ہو تو
بعض یا پورا قرض معاف کر دینا چاہیے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد
فرمایا: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو
اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر
تم جان لو ۔ ( پ:3سورہ بقرہ:280)
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگدست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا
پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت سے فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ اس کےچند فضائل
درجِ ذیل ہیں
قیامت کی
تکالیف سے نجات کا عمل :
(1)عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ
يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ،
أَوْ يَضَعْ عَنْهُ ترجمہ: حضرت ابوقتادہ سے روآیت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو
چاہے اسےاللہ تعالٰی روز قیامت کی تکالیف سے نجات دے تو چاہیے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا معافی ۔ (صحیح مسلم کتاب البیوع باب فضل انظار المعسر
الخ جلد 2 ص26 )
تنگدست کو
مہلت دینے کے سبب بخشش :
(2)وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ
النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا تَجَاوَزْ عَنْهُ
لَعَلَّ اللهَ أَن يَتَجَاوَزَ عَنَّا قَالَ: فَلَقِيَ اللّٰهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ
ترجمہ:روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا
اور اپنے نوکر کو اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا
سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب
نے اس سے در گزر فرمائی ۔
(صحیح مسلم
کتاب البیوع باب فضل انظار المعسر الخ جلد 2 ص26 )
(3)عن حذیفۃ قال:قال رسول اللہ ﷺ :
تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَقَالُوا :
أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَالَ
: لَا، قَالُوا : تَذَكَّرْ، قَالَ : كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِي
أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ، وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ : قَالَ
اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تَجَوَّزُوا عَنْهُ ،
ترجمہ :حضرت
حذیفہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتوں نے تم سے پہلے
ایک شخص کی روح سے ملاقات کی اور فرمایا کہ کیا تو نے کوئی نیک کام کیا ہے؟کہا نہیں!فرمایا:یاد
کر ۔ کہا میں لوگوں کو قرض دیتا تھا تو اپنے
خادموں کو تنگدست کو مہلت دینے کا حکم دیتا تھا اس شخص نے کہا تو اللہ تعالیٰ نے
(فرشتوں سے)فرمایا:اس سے در گذر کرو (صحیح مسلم کتاب البیوع باب فضل انظار المعسر
الخ جلد 2 ص25 )
مذکورہ
بالا فرامین سے معلوم ہوا کہ تنگدست مقروض کو مہلت دینا بخشش کا سبب ہے ہمیں بھی
چاہیے کہ ہم بھی ممکنہ صورت میں تنگدست کو مہلت دیں ان شاءاللہ اس کی برکتیں نصیب
ہوں گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق
عطا فرمائے ۔
توصیف
رضا عطّاری ( درجہ رابعہ جامعۃُالمدینہ ٹاؤن شپ لاہور، پاکستان)
مَقْرُوض
سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔ ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا
اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت
مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی سے پیش
آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے ۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد (Basic
Purpose) یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی مَعاشی اور گھریلو پریشانیاں خَتْم
ہوجائیں، قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا
پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔
آئیے اب ہم مقروض پر نرمی سے متعلق احادیث مبارکہ کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :
(1) تکلیفوں سے نجات:حضرت ابو قتادہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات
دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل
انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32(1563))
(2) عرش کا سایہ :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس
کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس
کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب
البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)
(3) اللہ تعالیٰ کا رحم کرنا :حضرت جابر
بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع،
باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث: 2076 )
(4) درگزر کرنا : حضرت حذیفہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے
میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا
کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، 9 / 97، الحدیث:
23413، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص843، الحدیث:
29(1560))
(5) مہلت دینا :صحیح مسلم کی ایک اور
روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی
بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے
والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے
اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل
انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560))
قرض کی ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ
تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور
عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے
۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے
نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ
ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ
اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘اے اللہ!
مجھے حلال (رزق عطا فرما کر) کفایت کر دے، حرام (رزق) سے بچا اور اپنے فضل سے مجھے
اپنے علاوہ سے بے نیاز کر دے (یعنی کسی دوسرے کا محتاج نہ کر) ۔ (ترمذی، احادیث شتی، ۱۱۰- باب، 5 /
329، الحدیث: (3574)
قرضداروں میں
سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے ہمارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے
تک مہلت دیں اور ہمارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا ہمارا لیے
سب سے بہتر اور اس سے آخرت میں عظیم ثواب ملے گا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مقروض پر نرمی کرنے
کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
Dawateislami