اسر علی عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو صرف عبادات پر ہی نہیں بلکہ معاملات، اخلاقیات اور معاشرتی
رویوں پر بھی گہری رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔
اسلامی معاشرت کی بنیاد باہمی ہمدردی، اخوت اور غمخواری پر رکھی گئی ہے
۔ ان ہی تعلیمات کا ایک اہم پہلو مالی
معاملات میں نرمی، خصوصاً مقروض کے ساتھ حسنِ سلوک ہے ۔
قرض دینا
اگرچہ ایک نیکی اور حاجت مند کی مدد ہے، لیکن قرض دینے کے بعد مقروض کے حالات کا خیال
رکھنا اور اس پر سختی نہ کرنا، اسلامی تعلیمات کا وہ روشن باب ہے جس پر عمل پیرا
ہو کر ہم دنیا و آخرت کی بھلائیاں سمیٹ سکتے ہیں ۔ نبی اکرم، رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے اپنی تعلیمات اور اپنے عمل سے مقروض پر نرمی کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم
فرمائی ہیں ۔
اللہ تبارک
و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ
تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو
اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر
تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
نبوی تعلیمات
اور احادیث مبارکہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقروض پر نرمی کرنے، اسے
مہلت دینے اور قرض معاف کر دینے کے عظیم فضائل بیان فرمائے ہیں ۔ یہ تعلیمات ہمیں مختلف کتبِ حدیث میں ملتی ہیں:
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم، کتاب المساقاة والمزارعة، باب فضل
إنظار المعسر، ص 845، الحدیث: 32(1563))
2)حضرت ابو
ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسرالخ، 3 / 52، الحدیث: ،152)
(2) درگزر
کرنے پر اللہ کی مغفرت:قرض کے معاملے میں نرمی کرنا اللہ تعالیٰ کی مغفرت
کا سبب بن
جاتا ہے،
چاہے انسان کے دیگر اعمال میں کمی ہی کیوں نہ ہو ۔
(1)حضرت حذیفہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو
مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے
علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے
کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف
یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا
تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر
کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ
نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان،
9 / 98، الحدیث: 23413، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظارالمعسر، ص843،
الحدیث: 26(1560)
(2)اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا
حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560)
(3) نرمی
سے تقاضا کرنا: (1)ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان
کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری
رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو
بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے ۔ ( صحیح بخاری(کتاب البیوع) حدیث نمبر: 2076)
(4)روزانہ
صدقے کا ثواب: (1)بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے
فرمایا: ”جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے ایک صدقہ کا
ثواب ملے گا، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد مہلت دے گا تو اس کو ہر
دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا“ ۔ (سنن ابن ماجہ/كتاب الصدقات/حدیث: 2418)
(5)قرض کی
ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ
کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب
غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری
کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں
تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان
کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے
ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ
عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا،
اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، 110-
باب، 5 / 329، الحدیث: 3574)
رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی زندگی مقروضوں کے ساتھ نرمی کا بہترین نمونہ ہے ۔
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا،
انہیں یونس نے خبر دی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن
شہاب نے، انہیں عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے
خبر دی کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنا قرض طلب کیا، جو ان کے ذمہ
تھا ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے
عہد مبارک کا واقعہ ہے ۔ مسجد کے اندر ان
دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی سنی ۔ آپ ﷺ اس وقت اپنے حجرے میں تشریف
رکھتے تھے ۔ چنانچہ آپ ﷺ باہر
آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ اٹھا کر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی ۔ آپ ﷺ نے
پکارا اے کعب! انہوں نے کہا یا رسول اللہ، میں حاضر ہوں ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا
کہ آدھا معاف کر دے ۔ کعب رضی اللہ عنہ نے
کہا کہ میں نے کر دیا یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے (ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ
سے) فرمایا کہ اب اٹھو اور قرض ادا کر دو ۔ (صحيح البخاری/كتاب الصلح/حدیث: 2710)
قرآن مجید
کا واضح حکم (سورہ بقرہ: 280) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متعدد تعلیمات
(جو صحیح بخاری، مسلم، ترمذی اور دیگر کتب میں موجود ہیں)
اس بات پر متفق ہیں کہ مقروض اگر تنگدست ہے تو
اس پر سختی کرنا، اسے ذلیل کرنا یا اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اسلامی روح کے
منافی ہے ۔ قرض خواہ کا حق محفوظ ہے، لیکن اس حق کے حصول میں اخلاقیات کا دامن نہیں
چھوڑنا چاہیے ۔ افضل ترین عمل یہ ہے کہ
مقروض کو آسانی تک مہلت دی جائے، اور اگر استطاعت ہو تو قرض کا کچھ حصہ یا تمام
قرض معاف کر دیا جائے، تاکہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کی سختیوں سے محفوظ فرمائے
اور روزِ قیامت اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی
زندگی کے ہر معاملات میں شریعت کا پابند رکھے اور صحیح معنیٰ میں عمل پیرا ہونے کی
توفیق عطاء فرمائے آمین ۔
Dawateislami