ہماری زندگی
ضروریات سہولیات پر مشتمل ہے اور یہ سب چیزیں مفت میں نہیں ملتی ان کیلئے رقم خرچ
کرنی پڑتی ہیں اور جسکی وجہ سے ہمارا بجٹ
ہماری آمدنی سے بڑھ جاتا ہیں جسکی وجہ سے ہمیں ٹینشن جیسی دیگر مشکلات کا سامنا
کرنا پڑتا ہے ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی آمدنی کے مطابق اپنا بجٹ بنائیں تاکہ ہماری
کم آمدنی میں ہی ہماری تمام سہولیات بآسانی پوری ہوسکے۔
ہمارے مشکل
ترین کاموں میں سے ایک کام گھر کا بجٹ تیار کرنا ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک چاہتے
ہیں کہ مہینے کے آخر میں اس کے پاس کچھ
رقم بچ جائے مگر اسے ناکامی ہاتھ آتی ہیں کیونکہ مہنگائی اور ضرورتوں کے اضافے کی وجہ سے گھر کے اخراجات کو کنڑول
کرنا مشکل ہوتا چلا جارہا ہے۔
آج اس مضمون
میں ہم بچت اور بجٹ کا ایک فارمولا سیکھیں گے۔
جسے 20، 30، 50 کا فارمولا کہہ سکتے ہیں بجٹ سازی کا
یہ قاعدہ ہماری مدد کرتا ہے کہ ہماری
تنخواہ کے مطابق ہمارا بجٹ ہے یا نہیں اور یہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ہم
اپنے غیر ضروری اخراجات کو کیسے کم کرسکتے
ہیں۔
20، 30، 50 گھریلو
بجٹ بنانے کا نہایت آسان اور کفایتی طریقہ ہے۔
20،
30، 50 کا مطلب :
جب آپکو تنخواہ یا مہینے کا خرچ ملے تو سب سے پہلے 50فیصد
ان چیزوں کیلئے مختص کریں جو آپ کیلئے نہایت ضروری ہیں مثلا گھر کا کرایہ ، بجلی
کابل ، گیس کا بل ، گھر کا راشن سامان وغیرہ۔
30 فیصد
دیگرسہولیات پر خرچ کریں، اس میں تفریح ہوٹل میں کھانا پینا سفر خریداری جیسے اخراجات شامل ہیں۔
20 فیصد
قرض کی ادائیگی اور بچت کیلئے آپ مختص کرسکتے ہیں۔ اگر ہم اپنی آمدنی کے مطابق
اپنا بجٹ بنالیں تو ہم اپنے اخراجات کو کنڑول کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں مگر بجٹ
بناتے وقت ان احتیاطوں کو مد نظر رکھنا ہے۔
Dawateislami