اِخلاص کی تعریف: ‏ کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (البینہ:5)

اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

(1) اللہ کی رضامندی کا سبب:وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا عَلَى الإِخْلاصِ للَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَأتى الزَّكَاةَ فَارَقَهَا وَاللَّهُ عَنْهُ رَاضِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا ہو وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے ایک ہونے پر ایمان رکھتا ہو کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ نماز قائم کرتا ہو وہ ز کوۃ ادا کرتا ہو اور وہ دنیا سے الگ رہتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے۔ (الترغیب والترہیب جلد 1 کتاب الایمان ص 31 )

(2)رشد وہدایت والے کون:وَرُوِيَ عَنْ لَوْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طُوْبِي لِلْمُخْلِصِينَ أَوْلِئِكَ مَصَابِيحُ الْهُدَى تَنْحَلَّى عَنْهُمْ كُلُّ فِتْنَةٍ ظُلَمَاءَ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اخلاص والے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے کیونکہ وہ لوگ رشد و ہدایت کے چراغ ہیں، جن کے سبب ہر فتنہ کی تاریکی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ (الترغیب والترہیب جلد 1 کتاب الایمان ص 32)

(3) امت کی مدد کا سبب:وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مِنْ دُونِهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفَهَا بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلَاتِهِمْ وَاخْلاصِهِمْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ وَهُوَ فِي الْبُخَارِي وَغَيْرِهِ دُوْنِ ذِكْرِ الْإِخْلَاصِ

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے والد گرامی رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے بیان کیا، ایک دفعہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ وہ ان لوگوں پر فضیلت رکھتے ہیں جو کم درجہ کے ہیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کے سبب فرمائے گا۔ (الترغیب والترہیب جلد 1 کتاب الایمان ص 33 )

(4) عمل قلیل کے نفع بخش بننے کا سبب:وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ حِيْنَ بُعِثَ إِلَى الْيَمَنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي القَالَ أَخْلِصْ دِينَكَ يَكْفِكَ الْعَمَلُ الْقَلِيلُ رَوَاهُ الْحَاكِم من طَرِيقَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زُحْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عِمْرَانَ وَقَالَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ كَذَا قَالَ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا جانے لگا توانہوں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے کوئی ہدایت ارشاد فرمائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے دین کو خالص کر لو تو عمل قلیل بھی تمہیں کفایت کرے گا ۔(الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان ص 32)

مخلص بننے کے طریقے میں سے یہ بھی ہے کہ یہ نیت درست کی جائے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اخلاص ہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ان حدیث پر عمل کرتے ہوئے آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ نبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔



اخلاص کی تعریف: اخلاص یہ ہے کہ ارادے کے ساتھ صرف اللہ ﷺ کے لیے عبادت کی جائے یعنی وہ عبادت کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرے کوئی اور مقصد نہ ہو، نہ تو مخلوق کے لیے بناوٹ ہو نہ لوگوں سے تعریف کی خواہش ہو اور نہ ہی لوگوں سے تعریف کروانے کی محبت ہو بلکہ اللہ ﷺ کے قرب کے علاوہ کوئی دوسری بات پیش نظر نہ ہو۔ یہ کہنا بھی درست ہے کہ مخلوق کی نگاہوں سے اپنے فعل کو پاک رکھنے کا نام اخلاص ہے۔(رسالہ قشیریہ صفحہ 379 مطبوعہ امام اعلی حضرت)

(1)اخلاص اللہ کے رازوں میں سے راز ہے :نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے اخلاص کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اخلاص کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیا ہے تواللہ ﷺ نے فرمایا: سِرٌّ مِنْ سِرِى إِسْتَوْدَعْتُهُ قَلب من أَحْبَبْتُهُ مِنْ عِبَادِی یہ میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں نے اس بندے کے دل میں رکھا ہے جسے میں محبت کرتا ہوں ۔(رسالہ قشیریہ صفحہ 380 مطبوعہ امام اعلی حضرت)

(3)ہدایت کے چراغ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک مجلس میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: اخلاص والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ یہ لوگ ہدایت کے چراغ ہیں اور انہی کی بدولت تار یک فتنے چھٹ جاتے ہیں۔(اخلاص و نیت لابن ابی الدنیا صفحہ 8)

(4)اخلاص اور قبولیت ملے ہوئے ہیں: حضرت عبد الواحد بن زید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قبولیت اخلاص کے ساتھ ملی ہوئی ہے ، ان دونوں کے درمیان کوئی جدائی نہیں۔(اخلاص و نیت لابن ابی الدنیا صفحہ 10)

(5)دین اور علم کی نشانیاں: حضرت ربیع بن انس رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے: دین کی نشانی اللہ پاک کے لیے اخلاص ہے جبکہ علم کی نشانی اللہ پاک کا خوف ہے۔(اخلاص و نیت لابن ابی الدنیا صفحہ 9)


شریعت مطہرہ نے جہاں ہمیں عبادات کا حکم دیا اور منہجِ عبادات کو ہمارے لیے بیان کیا وہیں ایک ایسے امر کی طرف ہماری رہنمائی کی جو تمام عبادات و اعمال میں مشترک ہے اور اس کو خاص اہمیت بھی حاصل ہے کہ جس کے بغیر وہ اعمال و عبادات بے معنی و بے کار ہوجاتے ہیں ۔جی ہاں اس چیز کو اخلاص کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

خلاص کی لغوی و اصطلاحی تعریف :اخلاص کا لغوی معنی بے لوثی و نیک نیتی ہے ۔جبکہ اصطلاحی تعریف متعدد کتب میں مختلف الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہے جن کا مفہوم ایک ہی درس دیتا ہے کہ صرف خالص اللہ تعالی کے لیے عمل کرنا۔

یعنی اللہ کے سوا ہر چیز سے اپنی نگاہ پھیرنا اخلاص کہلاتا ہے ۔(ماخوذ منہاج العابدین صفحہ نمبر 216)

اسی طرح اور بھی کئی صوفیاء نے اخلاص کی تعریف کو اپنی اپنی کتب میں مختلف الفاظ کےساتھ ذکر فرمایا جن کا مفہوم ایک ہی ہے۔

اخلاص کی اہمیت: کتب احادیث میں کئی ایک احادیث سے اخلاص کی اہمیت نمایاں طور پر معلوم ہوتی ہے کہ اعمال کے لیے اخلاص کتنا ضروری ہے: ذیل میں چند احادیث پیش کرتا ہوں:

(1) حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالی صرف اس عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے کیا جائے اور صرف اس کی رضامندی مقصود ہو۔(سنن نسائی: ۳۱۴۲)

(2) حضرت تمیم داری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :دین تو بس خلوص و خیرخواہی کا نام ہے صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! کس سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالی سے، اس کی کتاب سے، اس کے رسول سے، مسلمانوں کے حکام سے اور عوام الناس سے۔(سنن نسائی: ۴۲۰۲)

مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال و عبادات کی قبولیت کا دارومدار ان میں اخلاص کی شمولیت پر ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال میں خواہ وہ دنیوی ہوں یا اخروی صرف رضائے الٰہی کی طرف توجہ رکھیں ۔

اب ان احادیث سے ترہیب حاصل کرتے ہیں جن میں اخلاص کی ضد ریاکاری کی ہولناکی بیان کی گئی ہے کہ جس طرح اخلاص سے اعمال قبولیت کا شرف پاتے ہیں اسی طرح ریاکاری سے بڑے بڑے اعمال بے فائدہ و بے مول ہوجاتے ہیں۔

(1)نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک شہید، عالم اور سخی کو بلایا جائے گا مگر ان کے اعمال ریاکاری پر مبنی ہونے کی وجہ سے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(اخرجہ مسلم ۱۹۰۵ :ماخوذ منہاج العابدین صفحہ نمبر:214)

(2) وکیع نے سفیان سے اور انھوں نے سلمہ بن کُہیل روایت کی انھوں نے کہا:میں نے حضرت جندب علقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو شخص (لوگوں کو)سناتاہے اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں (سب کو) سنوائےگا اور جو (اپناعمل)لوگوں کو دکھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں لوگوں کو دکھائےگا۔"(صحیح مسلم :۷۴۷۷)

مذکورہ احادیث سے ریاکاری پر مبنی اعمال کی ہلاکت و بربادی معلوم ہوتی ہے اسی طرح ایک حدیث میں ریاکاری کو شرک اصغر بھی کہا گیا ہےلہذا جب بغیر اخلاص کے اعمال کا کوئی مول نہیں تو ایک عقلمند شخص کبھی بھی محنت و مشقت سے کیے ہوئے اعمال کو ریاکاری کے سبب ضائع نہیں کرے گا ۔

اخلاص اعمال کی روح ہے جو کہ جسم میں موجود روح کی مانند ہے جیسے بغیر روح کے جسمِ انسانی بے حس و مردہ ہوجاتا ہے یوں ہی بغیر اخلاص کے اعمال بھی بےکار و ضائع ہوجاتے ہیں لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال و افعال میں اپنی نیت کا مرکز خالص رب ذو الجلال کو بنائے اور اسکی رحمت کا طلبگار رہےاور اسکی بارگاہِ عالیہ میں اپنے عبادات ناقصہ کے شرفِ قبولیت کے حصول کے لیے ہمیشہ عاجزانہ طور پر دعاگو رہے۔

اللہ پاک ہمیں عبادات میں اخلاص عطا فرمائے آمین۔


پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اخلاص وہ نورِ قلب ہے جس کے بغیرہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ نہیں پاسکتے عمل چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اگر اس کے پیچھے نیت پاک نہ ہو تو وہ بے وزن رہ جاتا ہے ۔

آئیے اخلاص کی اہمیت کے بارے میں فرامین مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1) اخلاص ایک راز ہے:حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔(احیاء العلوم مترجم، جلد نمبر :5باب نمبر :2 اخلاص اس کی فضیلت صفحہ نمبر: 256)

(2) تھوڑا عمل بھی کافی ہے: حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا اخلاص کے ساتھ عمل کرو گے اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا۔ ( احیاءالعلوم مترجم،جلد نمبر: 5 باب نمبر: 2 اخلاص کی فضیلت٫ صفحہ نمبر: 256)

(3) حکمت کے چشمے: حدیث پاک میں ہے جو بندہ 40 دن خالص رضا الہی کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔(الزہد لا بن المبارک: با ب فضل ذکر اللہ ٫صفحہ نمبر 359، حدیث نمبر:1014)

(4) مومن کا دل خیالت نہیں کرتا:حدیث پاک میں آیا تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا (1) خالص اللہ عزوجل کے لیے عمل کرنا(2) حکمرانوں کی خیر خواہی اور( 3) مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا۔(سنن ابن ماجہ،کتاب و سنہ،باب من بلغ علما٫ جلد: 1صفہ نمبر:151،حدیث نمبر:230)

(5) اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمانا:مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل نے اس امت کی ان کے ناتوانوں ان کی دعا٫ اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی ہے ۔

(نسائی٫ کتاب الجہاد ٫ باب الاستنصار ٫صفحہ نمبر:518 حدیث نمبر:3175)

آج کے دور میں جب دکھاوا اور ریاکاری عام ہو چکی ہے ۔اخلاص وہ صفت ہے جو انسان کی زندگی میں سادگی سکون اور برکت پیدا کرتی ہےاگر ہم اپنے ہر عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنے کی نیت بنالیں تو ہمارے دلوں سے بےچینی حسد اور مقابلے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں اپنا ہر عمل اخلاص کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پارہ 30 ،البینہ: 5)

اس آیت مبارکہ میں لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اللہ کی بندگی کریں۔ بیشک ہم مسلمان ہیں اور ہمارا تو فرض ہے کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں اسی پر ایمان لائیں۔اللہ پاک کی بندگی سے مراد اس کی عبادت کو اخلاص کے ساتھ اداء کرنا ہے۔

اخلاص کیا ہے؟ اخلاص کا مطلب کہ کوئی بھی نیک عمل کو اللہ عزوجل کے لیے ہی کرنا۔ جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)

اخلاص سے متعلق اقوالِ بزرگانِ دِین کا مطالعہ کیجئے:حضرت سیدنا سہل تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: اخلاص یہ ہے کہ بندے کا ٹھہرنا اور حرکت کرنا سب خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو۔حضرت سیدنا ابو عثمان نیشاپوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اخلاص یہ ہے کہ فقط خالق کی طرف ہمیشہ متوجہ رہنے کی وجہ سے مخلوق کو دیکھنا بھول جائے۔‘‘ حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں: ’’اِخلاص اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف مائل کرے۔ حضرت سیدنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اَعمال میں خالص کون ہے؟‘‘ فرمایا: ’’جو اللہ عَزَّ َجَلَّ کے لیے عمل کرتا ہےاور پسند نہیں کرتا کہ اس پر کوئی اس کی تعریف کرے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ29تا33)

رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے ہیں کہ ان میں سے کون راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے؟ ‘‘ تو خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ ‘‘ ایک نسخہ میں ہے : ’’ وہی راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے۔ (صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ ،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ …الخ،الحدیث : ۴۹۲۰،ص۱۰۱۸)

حضور نبی پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)

ان سب احادیث کو اس لیے ذکر کیا گیا کہ ہم سب کا اللہ پاک کی عبادت کرنے میں دل لگے اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطاء ہو۔ بیشک اخلاص کے بغیر ہماری نیکیاں کچھ بھی نہیں ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب سے جتنا ہو سکے مخلص ہو کر اللہ پاک کی عبادت کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اخلاص دینِ اسلام کی اساس ہے۔ بندہ جب کوئی نیک عمل کسی ریا، دکھاوے یا دنیاوی مفاد کے بغیر صرف اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے تو وہی عمل اللہ کے دربار میں مقبول ہوتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اخلاص کی اہمیت متعدد مقامات پر وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ ذیل میں اس موضوع پر ایک مدلل اور حوالہ جات کے ساتھ تحریر پیشِ خدمت ہے۔

اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ہر عمل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ نہ اس میں لوگوں کی تعریف شامل ہو، نہ دنیاوی شہرت ۔ دل کی نیت پاک ہو تو چھوٹا عمل بھی عظمت رکھتا ہے، اور نیت خراب ہو تو بڑا عمل بھی بے وقعت رہ جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، حدیث 1)یہ حدیث اس بات کی روشن دلیل ہے کہ نیت ہی عمل کی اصل قدر و قیمت ہے۔

اخلاص کے بغیر عمل کا انجام:ریاکاری اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔ اگر کوئی شخص عبادت اس لیے کرے کہ لوگ اسے نیک سمجھیں، تو یہ عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس سے اس کی رضا مطلوب ہو۔ (سنن نسائی، حدیث 3140)یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے حضور وہی عمل بلند درجے پر ہے جس کے پیچھے ظاہری فائدہ نہ ہو، محض رضائے الٰہی مقصود ہو۔

اخلاص کی فضیلت:اخلاص انسان کی روح کو پاک کرتا ہے، عبادت میں لذت پیدا کرتا ہے اور اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کسی دل میں کھوٹ نہیں رہتا: اللہ کے لیے اخلاص، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے خیرخواہی، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 230)اس حدیث میں اخلاص کو ایمان کی وہ بنیاد قرار دیا گیا ہے جس سے دل پاک رہتا ہے۔

اخلاص کے اثرات:عمل میں برکت: چھوٹا سا کام بھی بڑا اجر لے جاتا ہے۔زندگی میں سکون: اخلاص دل کو مطمئن کرتا ہے، کیونکہ بندہ صرف اللہ کی رضا دیکھتا ہے۔عمل کی حفاظت: ریاکار کے عمل قیامت کے دن بکھرے غبار کی مانند ہوگے، مگر مخلص کے عمل کو دوام حاصل ہے۔قبولیّتِ دعا: مخلص انسان کی دعا جلد قبول ہوتی ہے، جیسا کہ اصحابِ غار کی مشہور حدیث میں واضح ہے۔

اخلاص پیدا کرنے کے طریقے:

نیت کو بار بار چیک کریں کہ میں یہ کام کس لیے کر رہا ہوں؟اللہ سے دل کی صفائی اور اخلاص کی دعا کرتے رہیں۔لوگوں کی تعریف سے بے نیاز رہیں۔عمل کو چھپانے کی کوشش کریں، خاص طور پر صدقہ و خیرات۔

اللہ کی عظمت کے تصور کو دل میں تازہ رکھیں۔اخلاص ہر عبادت، ہر خدمت اور ہر نیکی کا روحانی جوہر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے امت کو بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا کہ نیت درست ہو تو عمل عظیم بن جاتا ہے، اور نیت میں کھوٹ ہو تو عمل بے فائدہ رہتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی نیت کو خالص رکھے اور ہر عمل میں صرف اللہ کی خوشنودی تلاش کرے۔ یہی اخلاص بندے کو دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو کرتا ہے۔


پیارے اسلامی بھائیو! نیکی کا نور اسی وقت دلوں کو منور کرتا ہے جب اس کی بنیاد خلوص پر رکھی جائے۔             

اِخلاص کی تعریف:‏ کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! کثیر احادیث میں اخلاص کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کے فضائل بیان ہوئے ہیں ، ان میں سے" 5 "احادیث درج ذیل ہیں :

(1)حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ص ﷺ نے ارشادفرمایا: ‏‏‏‏‏‏ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ:‏‏‏‏ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُنَاصَحَةُ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الدَّعْوَةَ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ جس مسلمان میں یہ تین اوصاف ہوں اس کے دل میں کبھی کھوٹ نہ ہو گا:(1) اس کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔ (2)وہ آئمہ مسلمین کے لئے خیر خواہی کرے۔ (3)اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑ لے۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، ۴ / ۲۹۹، الحدیث: ۲۶۶۷)

(2)حضرت سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا، ‏‏‏‏‏‏بِدَعْوَتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَاتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِخْلَاصِهِمْاللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں ، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے اِس امت کی مدد فرماتا ہے۔ (نسائی، کتاب الجہاد، الاستنصار بالضعیف، ص۵۱۸، الحدیث: ۳۱۷۵)

(3)حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب تاجدارِ رسالت ص ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ ! مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے دین میں اخلاص رکھو ،تمہا را تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔ (مستدرک، کتاب الرقاق، ۵ / ۴۳۵، الحدیث: ۷۹۱۴)

(4)حضرت عبدالله بن عمر رضى الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی شخص سے پوچھا: فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فَعَلْتُ قال: فقال له جبريل عليه السلام: قد فعل، وَلَكِنْ غُفِرَ لَه بِالْإِخْلَاصِکہ تم نہ یہ کام کیا ہے؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! نہیں، اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے یہ کام نہیں کیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جبريل علیہ السلام نے عرض کیا: وہ کام اس نے کیا تھا لیکن اخلاص کے ساتھ " لاالہ الا اللہ " کہنے کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔(مسند احمد، کتاب مرویات عبد اللہ بن عمر، باب مرویات عبد اللہ بن عمر، ۹ / ۲۶۳، الحدیث: ۵۷۱۴)

(5)حضرت عبدالله بن عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح ہوتی تو یہ دعا فرماتے: أَصْبَحْنَا عَلَی فِطْرَۃِ الإِسْلامِ ، وَکَلِمَۃِ الإِخْلاصِ ، وَدِینِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ، وَمِلَّۃِ أَبِینَا إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا ، وَمَا کان مِنَ الْمُشْرِکِینَ ہم نے صبح کی فطرتِ اسلام پر، اور اخلاص سے بھرے کلمہ پر، اور ہمارے نبی محمد ﷺ کے دین پر، اور ہمارے والد حضرت ابراہیم کی ملت حنیفہ پر، اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔(ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، باب ما یستحب أن یُدعی بہ صباحاً، ۱۴ / ۴۸۶، الحدیث: ۲۹۸۸۶)

اے عاشقانِ رسول! اخلاصِ نیت وہ عظیم دولت ہے جس کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی وزن نہیں رکھتا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر نیکی سے قبل، درمیان اور بعد میں اپنی نیت کا محاسبہ کرتے رہیں، اور دعا کریں کہ اللہ پاک ہمیں ریاکاری، دکھاوے اور شہرت پسندی سے بچا کر ہر عمل صرف اپنی رضا کے لیے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔الٰہی! ہمیں اخلاص کی حقیقی دولت نصیب فرما۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ 


اخلاص یعنی ہر عمل کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دینا، دینِ اسلام کا بنیادی اور اہم ترین تقاضا ہے۔ کسی بھی نیکی، عبادت یا خدمت میں اگر اخلاص نہ ہو تو وہ عمل ظاہری طور پر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ احادیثِ نبویہ میں اخلاص کی بارہا تاکید کی گئی ہے۔

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ہر عمل کی قبولیت کا انحصار نیت اور اخلاص پر ہے۔ جب نیت خالص ہو تو چھوٹا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے، اور ریاکاری و دکھاوے کے ساتھ کیا گیا بڑا عمل بھی بیکار ہو جاتا ہے۔

ہر مخلوق رب تعالی کی تسبیح بزبان قال کرتی ہے، رب تعالی فرماتا ہے : " وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ " دوسری جگہ فرماتا ہے : " قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ"۔ حق یہ ہے کہ ہر چیز کو رب تعالی کی معرفت حاصل ہے اور وہ بزبان قال نہ کہ فقط حال سے تسبیح کرتی ہے اولیاء اللہ ان تسبیحوں کو سنتے ہیں، صحابہ کرام کھاتے وقت لقمے کی تسبیح سنتے تھے حتی کہ سبزہ کی تسبیح کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف ہوتی ہے۔

یعنی شکر کا ستون ہے یا شکر کی چوٹی ہے جس کے بغیر شکر مکمل نہیں ہو تا۔ (از مرقات) لا الہ الا اللہ سے مراد پورا کلمہ ہے ، اخلاص سے مراد ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور آخرت میں دوزخ سے رہائی پاتا ہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے، بمعنی خلوص نیت یعنی یہ کلمہ اگر خصوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے کہ اس کا ثواب اس کی عظمت ان تمام چیزوں کو بھر دیتی ہے یہ ہمیں سمجھانے کے لیے ہے کہ ہماری کوتاہ نظریں ان آسمان زمین تک ہی محدود ہیں ، ورنہ رب تعالی کی کبریائی کے مقابل آسمان و زمین کی کیا حقیقت ہے یہ ایسے ہے جیسے رب تعالی نے فرمایا کہ "لَهُ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ " حالانکہ اس کی ملکیت آسمان و زمین میں محدود نہیں ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 3، حدیث نمبر : 2322)

لا احتساب حسب سے بنا، بمعنی گمان کرنا اور سمجھنا، احتساب کے معنی ہیں ثواب طلب کرنا یعنی جس روزہ کے ساتھ ایمان اور اخلاص جمع ہو جائیں اسکا نفع تو بے شمار ہے۔ دفع ضرر یہ ہے کہ اس کے سارے صغیرہ گناہ، حقوق اللہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہندؤوں کے برت (روزہ) اور کافروں کے اپنے دینی روزوں کا کوئی ثواب نہیں کہ وہاں ایمان نہیں اور جو شخص بیماری کے علاج کے لیے روزہ رکھے نہ کہ طلب ثواب کے لیے تو کوئی ثواب نہیں کہ وہاں احتساب نہیں۔

اخلاص وہ نور ہے جو انسان کے اعمال کو روشن کر دیتا ہے اور اسے اللہ کی رضا کے قریب کر دیتا ہے۔ احادیث کی روشنی میں یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ جو عمل صرف اللہ کے لیے کیا جائے، وہی آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر عبادت، خدمت یا نیکی میں اپنی نیت کو خالص رکھیں اور ہر عمل سے پہلے دل میں یہ سوال ضرور کریں: "کیا یہ صرف اللہ کے لیے ہے؟"۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر عمل میں اخلاص عطا فرمائے اور ریاکاری سے بچنے کی توفیق دے، آمین۔


یوں تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا ہر فرمان ہر کام ہر قول ہر فعل حکمت سے بھرپور ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اقوال کے ذریعے افعال کے ذریعے اپنے کام کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فرمائی ،اخلاص ہو ،تقوی ہو، پرہیزگاری ہو، خانگی زندگی ہو، معاشرتی زندگی ہو ،معاشی زندگی ہو، کاروباری لحاظ سے ہو ،ہر لحاظ سے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے امتیوں کی رہنمائی فرمائی اسی طرح آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ احادیث مبارکہ جن میں مخلص رہنے،اخلاص اپنانے کا بیان ہوا ان میں سے 4 فرامین کو ملاحظہ کرتے ہیں:

(1)وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ هِيَ صَلَاةُ الْخَلَائِقِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَلِمَةُ الشُّكْرِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ كَلِمَةُ الإخْلَاصِ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ تَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: أَسْلَمَ وَاسْتَسْلَمَ. رَوَاهُ رَزِيْنٌترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان الله ساری مخلوق کی عبادت ہے اورالحمد لله کلمہ شکر ہے اورلا الہ الا الله اخلاص کا کلمہ ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہے اور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ الا بالله تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد نمبر: 3 باب :اللّٰہ تعالی کے ناموں کا بیان حدیث نمبر:2322)

(2)وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد نمبر: 3 باب: روزے کا بیان حدیث نمبر: 1958)

(3) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا:"اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول الاصل، السادس جلد نمبر: 1صفحہ نمبر:44 حدیث نمبر: 45)

(4) حضور نبی پاک صاحب لولاک سیاح افلاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے ہےاور جس کی ہجرت دنیا پانے اور عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب: ما جاء ان الاعمال جلد نمبر: 1 ،حدیث نمبر:54،صفحہ نمبر: 7)

اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو احادیث مبارکہ میں پڑھا اخلاص کے بارے میں، عبادات میں اخلاص کے بارے میں، نماز روزہ کے بارے میں اخلاص ،پھر نیت کے بارے میں اخلاص تو اللہ تعالی ہمیں اپنے اندر اخلاص پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان احادیث مبارکہ سے اخلاص کے پہلوؤں کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ نبی الکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔


اسلامی تعلیمات میں اخلاص کو ایک بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جو ہر نیک عمل کو قدر و منزلت عطا کرتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس بات کو بار بار بیان کیا کہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ جو عمل اللہ تعالیٰ کے لیے خالص نیت کے ساتھ کیا جائے، وہی اس کے نزدیک اہمیت رکھتا ہے۔ اخلاص انسان کے دل اور کردار کو پاکیزہ بناتا ہے اور اسے سچے ایمان کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر عبادت میں خالص نیت شامل نہ ہو تو وہ بظاہر بڑا ہونے کے باوجود بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی چھوٹا عمل بھی خالص نیت کے ساتھ کیا جائے تو وہ مقبول ہوجاتا ہے۔

آئیے، کچھ احادیث و آیات کے ذریعے اس کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ایمان اور اخلاص کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور جو رمضان کی راتوں میں ایمان و اخلاص کے ساتھ قیام کرے، اس کے بھی پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ اور جو شبِ قدر میں خالص نیت کے ساتھ عبادت کرے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (مرآۃ المناجیح جلد 3، حدیث 1958)

حضرت ابن عمرسے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "سبحان اللہ تمام مخلوق کی عبادت ہے، الحمد للہ شکر کا کلمہ ہے، لا الہ الا اللہ اخلاص کا کلمہ ہے، اللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیانی فاصلے کو بھر دیتا ہے، اور جب بندہ 'لاحول ولا قوۃ الا باللہ' کہتا ہے تو رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے آپ کو میرے سپرد کردیا۔" (مرآۃ المناجیح جلد 3، حدیث 2322)

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ، آیت 5)

آیت واحادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اخلاص ہر عمل کی سچائی اور قبولیت کی اصل بنیاد ہے۔ جس عمل میں نیت خالص نہ ہو، وہ خواہ کتنا بڑا ہو، اس میں وزن باقی نہیں رہتا۔ اور جو عمل اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جائے، وہی قدر پاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نیت کو درست رکھے، اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق کرے اور دل میں ہر قسم کے دکھاوے سے بچتا رہے۔ اخلاص ہی ایمان کی قوت اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ہر عمل میں خالص نیت عطا فرمائے، ریاکاری سے محفوظ رکھے اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔


اخلاص کی اہمیت یہ ہے کہ یہ تمام اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے، اعمال کی روح ہے، اور دنیا و آخرت میں کامیابی، اللہ کی محبت، درجات کی بلندی اور عذاب سے نجات کا ذریعہ ہے، اس کے بغیر عمل بے روح ہوتا ہے اور ریاکاری (دکھاوے) کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے انسان اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے کہ کسی بھی عمل میں نیت صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، اس میں دکھاوا، شہرت، یا دنیاوی لالچ شامل نہ ہو۔

(1) گناہ بخش دیئے جاتے ہیں :حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)

(2) رازوں میں سے ایک راز ہے:حضرت سیدنا حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں نے اپنے محبوب بندوں کے دل میں ودیعت رکھتا ہوں ۔(فردوس الاخبار ،2/145،حدیث:4539)

(3) دنیا چھوڑی دی:حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا دو جہاں سرور معصوم حسن اخلاق کے پیکر نبیوں کے تاجور محبوب رب اکبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے مخلص ہونے کی حالت میں دنیا چھوڑی اور نمائز قائم کی اور زکوۃ ادا کی تو اس نے اس حال میں دنیا چھوڑی کہ اللہ عزوجل اس سے راضی تھا ۔(المستدرک ،کتاب التفسیر، باب خطبۃ النبی فی حجتہ الوداع ،حدیث 3330،ج 3، ص 65)

(4) دین کا مخلص ہونا :حضرت سیدنا ابو عمران رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ نصیحت فرمائیے نبی مکرم نور مجسم رسول اکرم شہنشاہ بنی آدم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کرے گا ۔(المستدرک، کتاب الرقائق ،حدیث 7914،ج 5، ص 435)

(5) ہدایت کے چراغ:حضرت سیدنا سبحان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرور دو جہاں کے تاجور سلطان بحروبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا مخلصین کے لیے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ ہیں انہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے ۔(الترغیب و الترہیب کتاب البعث واھوال یوم القیمہ باب الترتیب فی الاخلاص الخ ،حدیث 5،ج 1 ،ص 23)


اخلاص (Impartiality) عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے کسی عمل کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے سرانجام دینا۔ یہ ایمان کی روح اور ہر نیک عمل کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔ اگر عمل بظاہر کتنا ہی اچھا ہو، لیکن اس میں اخلاص نہ ہو، تو وہ بے وزن ہو جاتا ہے۔یہاں احادیث کی روشنی میں اخلاص کی اہمیت بیان کی گئی ہے:

(1)عمل کی قبولیت کا دار و مدار:تمام اعمال کا دار و مدار صرف اور صرف نیت پر ہے۔ اخلاص نیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَاِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَّا نَوَىٰ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ اِلَى اللّٰهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ اِلَى اللّٰهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ اِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا اَوْ امْرَاَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ اِلَى مَا هَاجَرَ اِلَيْهِ۔

ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جو اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی، تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف مانی جائے گی، اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہوگی، تو اس کی ہجرت اسی کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۱)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ عمل کی شکل نہیں، بلکہ باطنی نیت (اخلاص) ہی اس کے اجر کا تعین کرتی ہے۔

(2)شرک خفی (ریاء) سے نجات:اخلاص، ریاکاری (دکھاوا) کا تریاق ہے۔ ریاکاری ایک ایسا "شرک خفی" ہے جو اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا، ان میں ایک شہید ہوگا۔ اسے لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا۔ وہ اقرار کرے گا۔ اللہ پوچھے گا: 'تو نے ان نعمتوں میں کیا عمل کیا؟وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا! تو نے تو اس لیے جہاد کیا تاکہ لوگ تجھے بہادر کہیں، اور وہ کہا گیا۔پھر عالم اور سخی کو لایا جائے گا اور ان دونوں کو بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا کیونکہ ان کے اعمال میں ریاکاری تھی، اور وہ چاہتے تھے کہ لوگ انہیں عالم اور فیاض کہیں۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۹۰۵)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عظیم اعمال (جہاد، علم، سخاوت) بھی، اگر خالص اللہ کی رضا کے لیے نہ ہوں تو وہ آخرت میں وبال بن جاتے ہیں۔

(3) قلیل عمل اجر میں بڑھ جاتا ہے:بسا اوقات، اخلاص کی وجہ سے ایک چھوٹا سا عمل بھی بہت بڑے اجر کا باعث بن جاتا ہے، جبکہ دکھاوے والا بڑا عمل ضائع ہو جاتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور تمہاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں (اخلاص) اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۵۶۴)

یہ حدیث اخلاص کے مقام کو واضح کرتی ہے کہ اللہ کی نظر میں ظاہری شان و شوکت اور عمل کی کثرت نہیں، بلکہ دل کی اخلاص والی کیفیت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

اخلاص دراصل اپنے عمل کو دنیاوی مفادات (جیسے: تعریف، شہرت، مال و دولت) سے پاک کر کے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کر دینا ہے۔ احادیث کی روشنی میں، اخلاص عمل کی قبولیت کی کنجی ہے اور ریاکاری سے نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ ایک مومن کو ہر وقت اپنی نیت کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ اس کے تمام اعمال (عبادت، کاروبار، تعلیم، خدمت خلق) اللہ کے ہاں مقبول ہو سکیں۔