پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اخلاص وہ نورِ قلب ہے جس کے بغیرہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ نہیں پاسکتے عمل چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اگر اس کے پیچھے نیت پاک نہ ہو تو وہ بے وزن رہ جاتا ہے ۔

آئیے اخلاص کی اہمیت کے بارے میں فرامین مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1) اخلاص ایک راز ہے:حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔(احیاء العلوم مترجم، جلد نمبر :5باب نمبر :2 اخلاص اس کی فضیلت صفحہ نمبر: 256)

(2) تھوڑا عمل بھی کافی ہے: حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا اخلاص کے ساتھ عمل کرو گے اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا۔ ( احیاءالعلوم مترجم،جلد نمبر: 5 باب نمبر: 2 اخلاص کی فضیلت٫ صفحہ نمبر: 256)

(3) حکمت کے چشمے: حدیث پاک میں ہے جو بندہ 40 دن خالص رضا الہی کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔(الزہد لا بن المبارک: با ب فضل ذکر اللہ ٫صفحہ نمبر 359، حدیث نمبر:1014)

(4) مومن کا دل خیالت نہیں کرتا:حدیث پاک میں آیا تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا (1) خالص اللہ عزوجل کے لیے عمل کرنا(2) حکمرانوں کی خیر خواہی اور( 3) مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا۔(سنن ابن ماجہ،کتاب و سنہ،باب من بلغ علما٫ جلد: 1صفہ نمبر:151،حدیث نمبر:230)

(5) اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمانا:مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل نے اس امت کی ان کے ناتوانوں ان کی دعا٫ اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی ہے ۔

(نسائی٫ کتاب الجہاد ٫ باب الاستنصار ٫صفحہ نمبر:518 حدیث نمبر:3175)

آج کے دور میں جب دکھاوا اور ریاکاری عام ہو چکی ہے ۔اخلاص وہ صفت ہے جو انسان کی زندگی میں سادگی سکون اور برکت پیدا کرتی ہےاگر ہم اپنے ہر عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنے کی نیت بنالیں تو ہمارے دلوں سے بےچینی حسد اور مقابلے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں اپنا ہر عمل اخلاص کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔