محمد فیضان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ
فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
اللہ عزوجل نے اس کائنات کو رنگا رنگ نعمتوں سے سجایا
اور انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔ اللہ پاک نے
اپنی آخری کتاب قرآنِ مجید کے ذریعے ہمیں اخلاقِ حسنہ کا حکم دیا۔ ایک مسلمان کے
لیے اخلاقیات کا مطالعہ صرف علم کا حصول نہیں، بلکہ اپنے پیارے آقا ﷺ کے اسوۂ
حسنہ کو اپنانے کا نام ہے۔ آج کے دور میں جب معاشرتی بگاڑ عروج پر ہے، اخلاقیات کے
موضوع پر کتب کا مطالعہ ہم پر لازم ہے تاکہ ہم اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔
اللہ عزوجل نے قرآنِ پاک میں سرکارِ دو عالم ﷺ کے اخلاقِ
کریمانہ کی گواہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر
ہو ۔(پارہ 29، سورۃ القلم، آیت 4)
اخلاقیات کی اہمیت کا اندازہ اس فرمانِ نبوی ﷺ سے لگایا
جا سکتا ہے: اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ
مَكَارِمَ الْاَخْلَاقِ ترجمہ: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ
میں اچھے اخلاق کو مکمل کر دوں۔ (موطا امام مالک، کتاب حسن الخلق، جلد 2، حدیث
1634، صفحہ 207)
ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے:"تم میں
سے بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔"(صحیح بخاری، کتاب الادب،
حدیث 6035، صفحہ 103)
ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ
رسالت میں عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! سب سے زیادہ کون سی چیز لوگوں کو جنت
میں لے جائے گی؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تقویٰ اور حسنِ اخلاق۔" (جامع
ترمذی، ابواب البر والصلۃ، حدیث 2004، صفحہ 368)
مختصر یہ کہ اخلاقِ نبوی کا دائرہ بہت وسیع ہے، جس میں
صبر، شکر، امانت، دیانت، حیا اور عاجزی جیسی صفات شامل ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ
ہمارا معاشرہ جنت کا نمونہ بنے تو ہمیں اخلاقیات کی کتب کا مطالعہ کر کے اپنی عملی
زندگی کو سنت کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں اخلاقِ حسنہ اپنانے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
Dawateislami