اسلام ایک ایسا پیارا اور کامل دین ہے جو انسان کی ظاہری
اصلاح کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کو بھی سنوارتا ہے۔ اخلاقیات (اخلاقِ حسنہ) اسلامی
تعلیمات کا بنیادی حصہ ہیں۔ اگر انسان کے اخلاق درست نہ ہوں تو اس کی عبادات بھی
اپنی روحانیت کھو دیتی ہیں۔ اسی لیے مطالعۂ اخلاقیات نہایت ضروری ہے تاکہ انسان
اپنے کردار کو سنوار سکے اور معاشرے میں بھلائی پھلا سکے۔
قرآنِ
کریم کی روشنی میں اخلاق کی اہمیت:اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی ﷺ
کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔
(پارہ 29، سورۃ القلم، آیت 4)
یہ آیتِ مبارکہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بہترین اخلاق
اللہ تعالیٰ کو کس قدر پسند ہیں، حتیٰ کہ اس نے اپنے محبوب ﷺ کے اخلاق کو "عظیم"
فرمایا۔
احادیثِ مبارکہ
کی روشنی میں:اخلاقِ حسنہ کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے حضرت محمد ﷺ نے
ارشاد فرمایا:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ
الْأَخْلَاقِ
ترجمہ: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اچھے اخلاق کو
مکمل کر دوں۔(موطا امام مالک، باب: حسن الخلق،
جلد 2، صفحہ 904، حدیث: 1608)
مزید ارشاد فرمایا:أَكْمَلُ
الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا
ترجمہ:مومنوں میں کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب
سے اچھا ہو۔(سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب: ما جاء فی حسن الخلق،جلد 3، صفحہ
370، حدیث: 1162)
آج کے دور میں جب معاشرتی برائیاں عام ہو رہی ہیں،
اخلاقیات کا مطالعہ اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
اس کی چند اہم
وجوہات درج ذیل ہیں:انسان کو اچھے اور برے کی پہچان حاصل ہوتی ہے،کردار میں نرمی،
بردباری اور حسنِ سلوک پیدا ہوتا ہے،معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنتا ہے،انسان
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا حاصل کرتا ہے۔
مطالعۂ اخلاقیات کو مؤثر بنانے کے لیے چند امور اختیار
فرمائیں :قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کا باقاعدہ مطالعہ،سیرتِ مصطفی ﷺ کا
مطالعہ،نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا،اپنامحاسبہ کرتے رہنا،ہمیں چاہیے کہ ہم
اخلاقیات کا مطالعہ محض معلومات کے لیے نہ کریں بلکہ اس پر عمل بھی کریں تاکہ
ہمارا کردار بھی اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار بن جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حسنِ
اخلاق اپنانے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم
Dawateislami