اسلامی تعلیمات میں اخلاص کو ایک بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جو ہر نیک عمل کو قدر و منزلت عطا کرتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس بات کو بار بار بیان کیا کہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ جو عمل اللہ تعالیٰ کے لیے خالص نیت کے ساتھ کیا جائے، وہی اس کے نزدیک اہمیت رکھتا ہے۔ اخلاص انسان کے دل اور کردار کو پاکیزہ بناتا ہے اور اسے سچے ایمان کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر عبادت میں خالص نیت شامل نہ ہو تو وہ بظاہر بڑا ہونے کے باوجود بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی چھوٹا عمل بھی خالص نیت کے ساتھ کیا جائے تو وہ مقبول ہوجاتا ہے۔

آئیے، کچھ احادیث و آیات کے ذریعے اس کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ایمان اور اخلاص کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور جو رمضان کی راتوں میں ایمان و اخلاص کے ساتھ قیام کرے، اس کے بھی پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ اور جو شبِ قدر میں خالص نیت کے ساتھ عبادت کرے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (مرآۃ المناجیح جلد 3، حدیث 1958)

حضرت ابن عمرسے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "سبحان اللہ تمام مخلوق کی عبادت ہے، الحمد للہ شکر کا کلمہ ہے، لا الہ الا اللہ اخلاص کا کلمہ ہے، اللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیانی فاصلے کو بھر دیتا ہے، اور جب بندہ 'لاحول ولا قوۃ الا باللہ' کہتا ہے تو رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے آپ کو میرے سپرد کردیا۔" (مرآۃ المناجیح جلد 3، حدیث 2322)

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ، آیت 5)

آیت واحادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اخلاص ہر عمل کی سچائی اور قبولیت کی اصل بنیاد ہے۔ جس عمل میں نیت خالص نہ ہو، وہ خواہ کتنا بڑا ہو، اس میں وزن باقی نہیں رہتا۔ اور جو عمل اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جائے، وہی قدر پاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نیت کو درست رکھے، اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق کرے اور دل میں ہر قسم کے دکھاوے سے بچتا رہے۔ اخلاص ہی ایمان کی قوت اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ہر عمل میں خالص نیت عطا فرمائے، ریاکاری سے محفوظ رکھے اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔