اسلام میں ہر عمل کی اصل روح "اخلاص" یعنی صرف
اللہ کی رضا کے لیے عمل کرنا ہے۔ اگر عمل نیک ہو مگر نیت دنیا کو دکھانے کی ہو تو
وہ عمل قبول نہیں ہوتا۔ مزید یہ ہے کہ بندہ ہر نیکی، عبادت، خدمت یا نفع پہنچانے
والے عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے، نہ کہ کسی شہرت، واہ واہ، یا دنیاوی
فائدے کے لیے۔ (1)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں
پر ہے۔(صحیح بخاری: 1)
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عمل کے پیچھے نیت ہی
اصل اہمیت رکھتی ہے۔ اگر نیت خالص ہوگی تو عمل چاہے چھوٹا ہو، اللہ تعالیٰ کے ہاں
عظیم اجر کا باعث بنے گا۔
(2)حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ نہ تو تمہارے جسموں کی طرف
نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔(شرح
اربعین نوویہ ،جلد 1: حدیث نمبر: 14)
(3)عَنْ
عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ: رَسُوْلُ
اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ
وَاِنَّمَا لِامْرِیٍٔ مَّا نَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہِ
وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ
اِلَی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِامْرَأَۃٍ یَّتَزَوَّجُھَا فَھِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا
ھَاجَرَ اِلَیْہِ۔ حضرت
عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تمام اعمال کا ثواب نیتوں سے ہے
اور ہر آدمی کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی ۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول
کی طرف ہوتو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور جس شخص کی ہجر ت دنیا
حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے نکاح کے واسطے ہوتو اس کی ہجرت اسی کے لئے ہوگی
جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے ۔(صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی
الی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، الحدیث:۱، ج۱،
ص۵، وصحیح
مسلم،کتاب الامارۃ،باب قولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:انما الاعمال الخ، الحدیث: ۱۹۰۷، ص۱۰۵۶)
اللہ تعالیٰ
صرف وہی نیکیاں قبول کرتا ہے جن میں دکھاوا نہ ہو اور صرف اس کی رضا مقصود ہو۔ اس
لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ہر عمل کو خالص نیت اور اخلاص کے ساتھ کرے۔ اللہ
تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اخلاص عطا فرما۔
محمّد
حذیفہ عطاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اسلام میں اعمال کی قبولیت کا دار و مدار ظاہر کی کثرت
پر نہیں بلکہ باطن کی کیفیت پر ہےوہ عمل جو لوگوں کی نگاہ میں بہت بڑا ہو، اگر نیت
میں اخلاص نہ ہو تو اللہ کے ہاں بے وقعت ہو جاتا ہے، اور وہ عمل جو بظاہر معمولی
ہو اگر نیت خالص ہو تو بارگاہِ الٰہی میں عظیم بن جاتا ہے۔اخلاص دل کی وہ پاکیزہ
حالت ہے جس میں بندہ اپنے ہر قول و فعل اور عبادت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا
چاہتا ہےنہ تعریف کی طلب نہ شہرت کی خواہش نہ دنیاوی فائدے کی نیت بلکہ اللہ ہی
مقصود اور اللہ ہی مطلوب ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید اخلاص کو دین کی بنیاد قرار دیتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو
ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو
کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ آیت نمبر
5)
اِس آیتِ مبارکہ میں جہاں بہت سارے احکام بیان ہوئے ہیں
اس میں سے ایک حکم یہ بھی بیان ہوا ہےکہ عمل وہ ہی مقبول ہے جس میں خالص اللہ تعالیٰ
کی رضا حاصل کرنے کی نیت کی گئی ہو۔حضور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی احادیث
مبارکہ کی طرف جب غور و فکر کریں تو اس میں بھی کئی احادیث ایسی ہیں جن میں ہمیں
اخلاص کا درس ملتا ہے :إِنَّ اللَّهَ لَا
يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ
وَجْهُهُ
ترجمہ:اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول نہیں فرماتا جو صرف اسی
کے لیے خالص نہ ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود نہ ہو۔(سنن نسائی حدیث نمبر: 3140)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد
فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا
بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا کرتا ہے۔( مسلم، کتاب البر و الصلۃ
و الآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ... الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴)
آج کے اس پُرفتن دور میں، جب عبادت بھی نمود و نمائش کا
شکار ہو چکی ہے، اخلاص کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے
دلوں کا محاسبہ کریں، اپنی نیتوں کو درست کریں، اور ہر عمل کو صرف اللہ کے لیے
کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال کو دیکھتا ہے، اعمال کی صورتوں
کو جانتا ہے
اخلاص دینِ اسلام کی روح اور تمام عبادات کی قبولیت کی
بنیادی شرط ہے۔ عربی زبان میں "اخلاص" کے معنی کسی چیز کو ملاوٹ اور
کھوٹ سے پاک کرنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی تمام تر
عبادات، اعمال اور زندگی کے معاملات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام
دے۔
(1)اعمال کی
قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے:اسلامی شریعت میں کسی بھی عمل کی
قدر و قیمت اس کے پیچھے چھپی نیت سے لگائی جاتی ہے۔ عمل بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ
ہو، اگر اس میں اخلاص نہیں تو وہ اللہ کے ہاں مردود ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے
جس کی اس نے نیت کی۔"(صحیح بخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)
(2)اللہ
تعالیٰ صرف خالص عمل قبول فرماتا ہے:اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، وہ ایسا
عمل قبول نہیں فرماتا جس میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا گیا ہو (جیسے شہرت یا
دکھاوا)۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں بیان کیا
گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص
اسی کے لیے ہو اور اس کے ذریعے اللہ کی رضا مقصود ہو۔"(سنن نسائی: 3140)
(3)ظاہری
صورت کے بجائے دل کی کیفیت کا اعتبار:لوگ اکثر انسان کے ظاہر، اس کی
دولت یا خوبصورتی کو دیکھتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں معیارِ بلندی صرف
"دل کا اخلاص" اور "تقویٰ" ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں بیان
کیا گیا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ
تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور
تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔"(صحیح مسلم: 2564)
(4)ریاکاری (دکھاوا) کی ممانعت اور انجام:اخلاص
کی ضد "ریاکاری" ہے۔ اگر کوئی شخص عبادت اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اسے نیک
سمجھیں، تو یہ "شرکِ اصغر" (چھوٹا شرک) کہلاتا ہے۔ قیامت کے دن ایسے
لوگوں کو ان کے اعمال کا کوئی اجر نہیں ملے گا۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"میں
شریکوں کے شرک سے تمام شرکا سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں
میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا، میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"(صحیح
مسلم: 2985)
مذکورہ بالا احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اخلاص کے بغیر
انسان کا ہر عمل بے جان جسم کی مانند ہے۔ ایک چھوٹا سا عمل اگر مکمل اخلاص کے ساتھ
کیا جائے تو وہ اللہ کے ہاں پہاڑ جتنا اجر رکھ سکتا ہے، جبکہ دکھاوے کی بڑی سے بڑی
نیکی بھی رائیگاں جا سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ہر نماز، صدقہ اور نیک کام سے
پہلے اپنی نیت کی اصلاح کریں تاکہ وہ بارگاہِ الہی میں قبولیت پا سکے۔
محمد
نوریز عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان )
حقوق اللہ کی بنیاد:
اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت خالص اسی
کے لیے کی جائے، اور بندوں کا حق یہ ہے کہ اگر وہ شرک نہ کریں تو اللہ انہیں عذاب
نہ دے۔
عبادت کا اصل مقصد:عبادت کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل
کرنا ہے، نہ کہ لوگوں میں اپنی تعریف یا شہرت کرانا۔
ریا سے پاکی: ریاکاری (دکھاوے) سے بچنا اور نیت کو ہر
قسم کی آلائش سے پاک رکھنا اخلاص کا جزو ہے۔
عمل میں صداقت: اخلاص کا مطلب عمل میں دیانت اور صداقت
لانا ہے، یعنی جو کچھ بھی کیا جائے، وہ اللہ کی رضا کے لیے ہو۔
مثال: جب آپ نماز پڑھیں، تو اس کا مقصد صرف اللہ کو راضی
کرنا ہو، نہ کہ یہ کہ لوگ آپ کو نمازی سمجھیں۔ یہی اخلاص ہے، جو تمام اعمال کی
قبولیت کی شرط ہے۔
وَ
اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا (۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اگر کوئی نیکی ہو تواسے دونی کرتااور اپنے
پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔ (پ۵، النسآء: ۴۰)
اخلاص
کی اہمیت اورفضائل:اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمۂ
کنز الایمان : اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہواکہ اللہ کی بند گی کریں نرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰ ۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۰ ۳، البینہ: ۵)
حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت
کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا
پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف
اس نے ہجرت کی۔ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال…الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو
اس گروہ کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے
ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘ دافِعِ
رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان کے اولین وآخرین کو زمین میں
دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔ (صحیح البخاری ،کتاب
البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث: ۲۱۱۸،ص۱۶۵)
سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : مومن کی نیت اس کے
عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت
کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے
۔ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶، ص۱۸۵)
شفیعُ المذنبین،
انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : سچی نیت سب سے افضل عمل
ہے۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
محمد
مدثر رضوی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
،لاہور،پاکستان)
اخلاص ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے
اپنے پاک کلام میں کئی مقامات پر اخلاص کی فضیلت بیان فرمائی اور کئی احادیث میں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاص کی فضیلت بیان فرمائی اور کئی مقامات پر بزرگان
دین رحمہم اللہ تعالیٰ نے اخلاص کے فضائل بیان فرمائے۔
(1)پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے:روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے: جو ایمان
و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں
ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور
جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں
گے۔(مشکوٰۃ المصابیح جلد 3 حدیث 1958)
(2) خالص نیت کا اجر:اللہ
تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس
پر عمل نہ کرسکے تو اللہ تعالیٰ اسکے نامہ اعمال میں ایک کامل نیکی کا ثواب لکھ دیتا
ہے ۔(مسلم ،کتاب الایمان ، باب اذا ھم العبد بحسبہ کتبت الخ ، حدیث:131٫،ص 82)
(3) عمل کم ہو لیکن اخلاص کے ساتھ ہو:حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ تورات شریف میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
لکھا ہے :جس عمل سے میری رضا مطلوب ہو وہ تھوڑا بھی زیادہ ہے اور جس عمل سے میرے غیر
کا قصد کیا گیا ہو وہ زیادہ بھی تھوڑا ہے ۔(احیاء العلوم جلد 5 / 79)
(4)اخلاص کے ساتھ عمل کرو :امیر
المومنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: قلت عمل کی فکر نہ کرو
بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ نبی پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ
تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا ۔(فردوس الاخبار ، 2 / 145، حدیث 4539)
(5) اخلاص اللہ پاک کا ایک راز :حضرت سیدنا
حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
ارشاد فرمایا اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس
کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں ۔(نوادر الاصول الاصل
السادس،1/44، حدیث 45)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کی احادیث مبارکہ اور سنت مبارکہ پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
محمد
ایاز عطاری(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ
فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
اعمال میں اخلاص کا بڑا اہم کردار ہے بندہ چاہے جتنے بھی
نیک اعمال کرلے بے شمار نمازیں پڑھے، روزے رکھے، حج و عمرہ ادا کرے لیکن اگر اس میں
اخلاص نہیں تو ان نیک اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں گویا کہ اس نے یہ نیک اعمال کیے
ہی نہیں لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اخلاص اور اس کی اہمیت کو جانیں تاکہ ہمارا کوئی بھی
عمل اخلاص سے خالی نہ ہو۔
اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا۔
(1)اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضور نبی
کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا
عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ 24)
(2) نیک میں اعمال میں اخلاص نہ ہونے کا وبال:
اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ، سردارِ مَکَّۂِ
مُکَرَّمَہ ص ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اعمال نِیَّت ہی پر ہیں ہرشخص کیلئے وہی ہے
جواُس نے نِیَّت کی، جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور
رسول ہی کی طرف ہے اور جس کی ہجرت حُصُولِ دنیا یا کسی عورت کے لئے ہو جس سے وہ
نکاح کرنا چاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔( بخا ری
،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ کَانَ بَدْئُُ الْوَحْی الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس فرمانِ مصطفٰی صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ دَرس ملاکہ اعمال کاثواب نِیَّتوں
پر موقوف ہے ،جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کے لئے یعنی اخلاص کے ساتھ عمل کرے
گا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگا اور جس کا عمل اخلاص سے فقط دنیا کے لئے ہوگا
اسے کچھ ثواب نہ ملے گا بلکہ یہ عمل بعض صورتوں میں اس کیلئے وَبال بن جائے گا۔
(3) جیسا کہ شرح مسلم میں ہے: جس
نےاللہ عزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کیلئے ہجرت کی اس کا ثواب اللہ عزَّوَجَلَّ کے
ذِمّۂ کرم پر ہے اور جس نے دنیا یا کسی عورت کے لئے ہجرت کی تو وہی اس کا حصہ ہے،
اسے آخرت میں کچھ ثواب نہ ملے گا۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الامارۃ، باب قولہ صلی
اللہ علیہ وسلم انما الاعمال بالنیۃ، ۷/۵۴،
الجزء الثالث عشر)
جس نے دِکھاوے کیلئے نماز پڑھی اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی
رِضا کی نِیَّت نہ کی تو وہ گناہگار ہوگا۔ الغرض’’جیسی نِیَّت ویساصلہ۔‘‘ اخلاص
ہوگا تو ثواب ملے گا ورنہ اعمال برباد کردیے جائیں گے۔
(4) اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ:نور کے
پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے
لئے کافی ہوگا۔ (المستدرک ،کتاب
الرقاق ، الحدیث۷۹۱۴،ج۵،ص۴۳۵)
بندہ چاہے کثرت سے نیک اعمال کرتا رہے لیکن اگر اس میں
اخلاص نہیں تو ان اعمال کا کوئی فائدہ نہیں لیکن اخلاص کے ساتھ تھوڑا نیک عمل کرے
تو وہ کافی ہے مثلا کوئی شخص ہے وہ لاکھوں
روپے مساجد و مدارس میں دیتا ہو لیکن اخلاص نہ ہو تو لاکھوں روپے خرچ کرنا بےکار ہے۔
دوسری طرف وہ شخص جو تھوڑا ہی مال خرچ کرے لیکن اخلاص کے ساتھ خرچ کرے تو اس کا یہ
تھوڑا مال خرچ کرنا لاکھوں روپے خرچ کرنے پر غالب ہوگا۔
(5) اخلاص سے خالی عمل قبول نہیں کیا جاتا:
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل
قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت،
باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
شفیعِ روزِ
شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی
رضا کے لئے کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن النسائی،کتاب الجہاد،الحدیث: ۳۱۴۲،ص۲۲۹۰)
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ ہم جو بھی نیک اعمال
کریں اس میں اخلاص کی اہمیت کو پیشِ نظر ضرور رکھیں کیونکہ آپ نے جانا اخلاص ہوگا
تو نیک اعمال کے ثواب کے ہم مستحق ہوسکیں گے ورنہ ایسے نیک اعمال کا کوئی فائدہ نہیں
جو اخلاص سے ہی خالی ہو ۔اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں اخلاص کی دولت سے
ملامال فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ۔
محمد
عاشق رضا (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی ، پاکستان)
اخلاص ایک ایسا قیمتی جوہر ہے جس کا حیات انسانی میں ہو
نا بےحد ضروری ہے۔ اخلاص کے بغیر کیا گیا ہر عمل بےکارہے کیوں کہ اعمال کا
دارومدار اخلاص ہی پر ہے اس لیے ہر کام میں مخلص ہونا بہت ضروری ہے چنانچہ دو جہاں
کے تاجور سلطان بحرو بر صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے :
اللہ عز وجل کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عز وجل وہی عمل
قبول فرماتا ہے جو اس کے لیے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔(سنن الدارقطنی، کتاب
الطہارت، باب النیہ، الحدیث: 130، ج1، ص73)
حسن اخلاق کے پیکر نبیوں کے تاجور محبوب رب اکبر عز وجل
وصلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے اللہ عز وجل کی عبادت اخلاص
کے ساتھ کرو پانچ وقت کی نماز قائم کرو خوشدلی سے اپنے اموال کی زکوة ادا کرو
رمضان کے روزے رکھو اور اپنے رب عز وجل کے گھر کا حج کرو تو یقینا اپنے رب عز وجل
کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب الاخلاص،
الحدیث 5256، ج3، ص12)
نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرو رصلی اللہ تعالٰی علیہ
وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے :اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے
لئے کافی ہوگا۔(المستدرک، کتاب الرقاق، الحدیث 7914، ج5، ص435)
اللہ کے محبوب دانائے غیوب، منزه عن العیوب صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا:جو چالیس دن اللہ عز وجل کے لیے مخلص ہوجائے تو دل سے حکمت کے چشمے
اس کی زبان پر جاری ہوجاتے ہیں۔(الحلیۃ الاولیاء، الحدیث: 6879، ج5، ص215)
محبوب رب العزت محسن انسانیت صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ
وسلم کا فرمان عالیشان ہے : اچھی نیت عرش سے چمٹ جاتی ہے پس جب کوئی بندہ اپنی نیت
کو سچا کر دیتا (یعنی اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا) ہے تو عرش ہلنے لگ جاتا ہے، پھر
اس بندے کو بخش دیا جاتا ہے۔(تاریخ بغداد، القاسم بن الحن، الحدیث: 6926، ج12،
ص444)
یہ تمام احادیث کریمہ اخلاص کی اہمیت کو روز روشن کی طرح
واضح کر رہی ہیں کہ ہر نیک عمل کی قبولیت اور کامیابی کا دارومدار صرف اس بات پر
ہے کہ وہ عمل خالصتاً اللہ تعالیٰ کیا گیا ہو۔
حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے
تھے :من طلب الدنيا بعمل الآخرة نكس
الله قلبه وكتب اسمه في ديوان اهل النارجو شخص آخرت کے عمل کے
ساتھ دنیا طلب کرے۔ خدائے تعالیٰ اس کے دل کو الٹا کر دیتا ہے اور اس کا نام دوزخیوں
کے دفتر میں لکھ دیتا ہے۔(تنبیہ المغترين، الباب الاول، اخلاصهم لله تعالى، ص23)
مِرا
ہر عمل بس ترے واسِطے ہو کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہی
مدثر علی (درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوک لاہور، پاکستان)
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی
عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔
اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔
(1)حضورنبی کریم
عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی
تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول، الاصل السادس، ۱ / ۴۴، حدیث: ۴۵)
(2)حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی نےسے روایت ہے نبی کریم
نے ارشاد فرمایا: جس نے اللہ وحدہ لا شریک
لہ کے لیے مخلص ہونے کی حالت میں دنیا چھوڑی اور نماز قائم کی اور زکوۃ
ادا کی تو اس نے اس حال میں دنیا چھوڑی کہ اللہ اس سے راضی تھا۔(المستدرک کتاب
التفسیر باب خطبتہ النبی فی حجتہ الوداع رقم 330 ج 3 ص 65)
(3)حضرت سیدنا ابو عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
حضرت سیدنا معاذ بن جبل نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کچھ
نصیحت فرمائیں نبی کریم نے ارشاد فرمایا: اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی
تمہیں کفایت کرے گا۔(مستدرک کتاب الرقائق رقم 9147 جلد 5صفحہ 235)
(4)حضرت سیدنا مسعد بن سعب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں
کہ جب میں نے یہ گمان کیا کہ مجھے دیگر صحابہ کرام پر کچھ فضیلت حاصل ہے تو رسول
اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں نمازوں اور اخلاق کے سبب
اس امت کی مدد کی جاتی ہے۔(نسائی ، کتاب الجھاد باب الاستنصار بالضعیف جلد 6 صفحہ
45 بتغیر قلیل)
(5)حضرت سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے کہ میں شریک
سے پاک ہوں لہذا جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لیے ہے
اے لوگو اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ تعالی صرف اخلاص کے ساتھ کیے
جانے والے اعمال کوہی قبول کرتا ہے۔(مجمع الزوائد کتاب الزہد باب ماجاء فی الریا،
رقم 17653جلد 10 )
(6)حضرت سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ
عزوجل کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب
ملعون ہے سوائے اس چیز کے کہ جس کے ذریعے اللہ عزوجل کی رضا چاہی جائے۔(مجمع
الزوائد کتاب الزہد باب ما فی الریا رقم 17659جلد 10 صفحہ 381 )
محمد
اعجاز عطاری(درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انسان کا مقصد حیات نیک اعمال
کے زریعے اپنے رب کریم کی رضا کا حصو ل ہے، جسے یہ نعمت نصیب ہو گئی وہ دنیا اور
آخرت میں کامیاب ہو گیا، اللہ (عزوجل) اس عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کے لیے
ہو اور جو عمل اس کے غیر کے لیے کیا جائے وہ نا مقبول ہے کس عمل میں اخلاص ہے اور
کونسا عمل اخلاص سے خالی ہے؟ یہ جاننے کے لیے نیت کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے۔
بعض بزرگوں نے فرمایا اخلاص یہ ہے کہ تیرے عمل پر سوائے
اللہ (عزوجل) کے اور کوئی مطلع نہ ہو اور نہ ہی اس میں تیرے نفس کو دخل ہو بلکہ یہ
عقیدہ ہو کہ اللہ (عزوجل) کی مہربانی ہے کہ اس نے تجھے اپنی عبادت کا اہل بنایا
اور تجھے اپنی عبادت کی توفیق بخشی اب اس سے عبادت کا اجر و ثواب اور بدلہ بھی طلب
نہیں کرنا چاہیے صرف اللہ عزوجل کی رضا مقصود ہو اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے ۔(روح
البیان، پ ٣ البینہ ،تحت الآیۃ:٥، ١٠ /٤٨٨)
تاجدار مدینہ منورہ ،سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وآلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : بروز قیامت کچھ مہر بند صحیفے اللہ (عزوجل) کی
بارگاہ میں نصب (پیش) کئے جائیں گے تو اللہ (عزوجل) فرشتوں کو فرمائے گا :یہ چھوڑ
دو اور یہ قبول کر لو فرشتے عرض کریں گے :یا رب (عزوجل) تیری عزت کی قسم! ہم تو اس
میں خیر ہی دیکھتے ہیں ، اللہ (عزوجل) جو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے
گا :یہ اعمال میرے غیر کے لیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گا جو میری
رضا کے لیے کئے گئے تھے ۔(دار قطنی ،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ١ / ٧٣ ،حدیث : ١٢٩)
انسان کو مدد الہی اس کے اخلاص کے مطابق ملتی ہے، جس کے
نیک اعمال میں جتنا زیادہ اخلاص ہو گا اسے اتنی ہی زیادہ مدد الہی نصیب ہو گی نیت
کی وجہ سے اعمال اچھے یا برے اور مرتبے کے لحاظ سے چھوٹے یا بڑے ہوتے ہیں اور اچھی
نیت کی وجہ سے انسان کو کبھی نہ کبھی اچھے عمل کی توفیق ضرورت ملتی ہے ۔(ریاض
الصالحین، ج، 1 :ص:32)
اللہ پاک اخلاص کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا فرمائے آمین
بجاہ خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)
محمد یونس
عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
کسی بھی کام میں اخلاص روح کی حیثیت رکھتا ہے جیسے جسم
روح کے بغیر کچھ نہیں ہے ایسے ہی عمل بھی اخلاص کے بغیر کچھ نہیں ہے ۔
اِخلاص کی تعریف:
کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ (نجات
دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ25)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پارہ30، سورۃ البینہ، آیت نمبر: 05)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے
متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (نجات
دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)
اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی
کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا
عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)
(2)اِخلاص کاحکم:کسی عمل میں فقط اِخلاص
ہونے یااس کے ساتھ کسی اور غرض کی آمیزش ہونے کے اعتبار سے اَعمال کی تین صورتیں
ہیں:
(1) جس عمل سے
مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی
ناراضی اور عذاب کا سبب ہے۔ (2) جو عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہوگا تو
وہ رِضائے الٰہی اور اجرو ثواب کا سبب ہے۔ (3) جوعمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ
کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریاکاری اور نفسانی اَغراض کی آمیزش ہو تو قوت کے
اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں: اگر رِضائے اِلٰہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں
برابر ہو ں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گی اور اس عمل کا نہ تو
ثواب ہوگا نہ ہی عذاب اوراگر ریاکی قوت زیادہ ہوتو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ
الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رِضائے اِلٰہی کا جتنا عنصر
ہوگا اتنا عذاب میں کمی ہوجائے گی اوراِس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا
ہوگاجو خالص ریاکاری کے ساتھ ہواور جس میں رِضائے اِلٰہی بالکل نہ ہو اور اگر
رِضائے اِلٰہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہوگا اُسی قدر ثواب زیادہ ہوگااور
جتنا ریا ہوگا اتنا ثواب کم ہوجائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ26،27)
اِخلاص پیدا کرنے کے گیارہ (11)طریقے:
(1)اپنی نیت درست کیجیے :کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر
ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے
کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں:
اپنے اَعمال میں نیت کو خالص کرلو، تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔ (اتحاف
السادۃ المتقین،کتاب النیۃ و الاخلاص، الباب الاول فی النیۃ، 13 / 20)
(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:ایسی دُنیوی اَغراض جن
سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے
اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے
اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت(خوش
حالی) اور تنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ
تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی
بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ
ہے دنیا کا اِرادہ نہیں۔(منہاج العابدین، صفحہ 445ماخوذا)
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:کیونکہ
اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور
اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود
کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب
ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔
(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ اِخلاص میں بہت بڑی
رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون
محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے جو اِخلاص کی دشمن ہے
اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی
خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔
(5)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے:نفس لوگوں کے سامنے
تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح اُسےشہرت، تعریف
اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں، لیکن تنہائی میں رِضائے الٰہی کے لیے خشوع
وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت و جلوت کا یہ تضاد
بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں اخلاص پیدا کرنے
کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے ساتھ نیک اَعمال
بجا لائیے۔
(6)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے:عموماً لوگ اپنی نیکیوں کو
یاد رکھتے اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں جس سے وہ ریاکاری اور خود پسندی جیسی موذی
بیمار ی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اِخلاص کی سخت دشمن ہیں، لہٰذا اپنے گناہوں کو یاد
رکھیے، نفس کو اُن پر ملامت کرتے رہیے کہ تو فلاں فلاں گناہوں کا مجموعہ ہے پھر کسی
نیک عمل پر اِترانے کا کیا معنی؟ یوں کافی حد تک اسے تکبر وریاکاری سے دور رکھنے میں
معاونت ملے گی اور اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
(7)اپنی نیکیوں کو چھپائیے :کہ نیکیوں کا چرچا ہی نفس
کوریاکاری، حب مدح اور طلب شہرت جیسی باطنی بیماریوں میں مبتلا کردیتا ہے جو اخلاص
کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہیں، بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْن بھی اپنی نیکیوں
کو چھپایا کرتے تھے، چنانچہ حضرت سیدنا تمیم داری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی
بارگاہ میں عرض کی گئی:’’رات میں آپ کی نماز کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟‘‘آپ اس بات
سے سخت ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! رات کا ایک حصہ
چھپ کر نماز پڑھنا مجھے بہت محبوب ہے اس بات سے کہ میں ساری رات نماز ادا کروں،
پھر لوگوں میں اسے بیان کرتا پھروں۔(الزھد لاحمد بن حنبل ،اخبار عبد اللہ بن عمر،
صفحہ215، رقم:1106)
اسی طرح حضرت سیدنا
ابو بکر مروزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’میں چار ماہ حضرت سیدنا
امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت میں رہا، آپ نہ تو رات
کا قیام چھوڑتے، نہ ہی دن کی قراءت چھوڑتے، اس کے باوجود اُسے چھپا لیا کرتے۔(صفۃ
الصفوۃ،احمد بن محمد بن حنبل، جلد2 /صفحہ 223، رقم:262)
(8) اِخلاص کے فضائل کو پیش نظر رکھیے:اِخلاص کے ساتھ
عمل کرنا مومن کی نشانی ہے۔جو بندہ چالیس دن خالص رِضائے الٰہی کے لیے عمل کرتا ہے
تو اُس کے دل سے اُس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہوجاتے ہیں۔جو شخص خالص رِضائے
الٰہی کے لیے عمل کرتا ہے وہ شیطان کے مکروفریب سے بچ جاتاہے۔ اِخلاص کے ساتھ مانگی
جانے والی دعائیں مقبول ہوتی ہیں۔بعض بزرگانِ دِین کے نزدیک اِخلاص کے ساتھ کیا
جانے والا عمل ستر حج سے بڑھ کر ہے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں:’’خلوت میں اِخلاص کے ساتھ
دو رکعت پڑھنا ستر یا سات سو اَحادیث عالی سند کے ساتھ لکھنے سے بہتر ہے۔‘‘ایک
بزرگ فرماتے ہیں: ’’گھڑی بھر کے اِخلاص میں اَبدی نجات ہے۔‘‘ اخلاص نیکیوں پر
اُبھارتا ہے۔( اِحیاء العلوم،جلد5 ، صفحہ 256 تا263ماخوذا)
(9)مخلص کی تعریف کا علم حاصل کیجئے:کیونکہ جب اس بات کا
علم ہی نہیں ہوگا کہ مخلص کسے کہتے ہیں تو خود کیسے مخلص بنیں گے؟ حضرت سیدنا یعقوب
مکفوف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی علیہ فرماتے ہیں: ’’مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو ایسے
چھپائے جیسے اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے۔‘‘حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ
سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں: سعادت مند ہے وہ شخص جس کا ایک قدم بھی صحیح
ہوجائے کہ اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی اور کی نیت نہ ہو۔(احیاء العلوم،
جلد5، صفحہ 260ملخصاً)
حضرت سیدنا ابو
علی دقاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الرَّزَّاق فرماتے ہیں: ’’اخلاص مخلوق کی نگاہوں
سے بچنے کا نام ہے۔‘‘حضرت سیدنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی
فرماتے ہیں: اخلاص کی علامت یہ ہے کہ بندے کے لیے لوگوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف
اور مذمت دونوں ایک جیسی ہوں۔(الرسالۃ القشیریۃ، باب الاخلاص، صفحہ243 ماخوذا)
(10)اِخلاص نہ ہونے کے اُخروی نقصانات پر غور کیجئے:مثلاً
کل بروزِ قیامت ایسے اَعمال منہ پر ماردیے جائیں گے جو اِخلاص کے ساتھ نہ کیے ہوں
گے، چنانچہ کل بروزِ قیامت ایک شہید سے فرمایا جائے گا کہ تونے اس لیے قتال کیا
تاکہ تجھے بہادر کہا جائے، سو تجھے کہہ لیا گیا، ایک عالم سے فرمایا جائے گا کہ
تونے علم اس لیے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے، تجھے قاری کہا جائے، سو تجھے کہہ
لیا گیا، ایک مال دار سے فرمایا جائے گا کہ تو نے اس لیے مال خرچ کیا تاکہ تجھے سخی
کہا جائے سو تجھے کہہ لیا گیا، پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(مسلم، کتاب
الامارۃ، باب من قاتل للریا والسمعۃ استحق النار، ص1055، حدیث: 1905)
(11)اخلاص سے متعلق اقوالِ بزرگانِ دِین کا مطالعہ کیجئے:حضرت
سیدنا سہل تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: اخلاص یہ ہے کہ بندے
کا ٹھہرنا اور حرکت کرنا سب خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو۔حضرت سیدنا ابو
عثمان نیشاپوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْوَلِی فرماتے ہیں: ’’اخلاص یہ ہے کہ فقط
خالق کی طرف ہمیشہ متوجہ رہنے کی وجہ سے مخلوق کو دیکھنا بھول جائے۔‘‘ حضرت سیدنا
جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں: ’’اِخلاص اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی
نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف
مائل کرے۔ حضرت سیدنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اَعمال میں خالص کون ہے؟‘‘
فرمایا: ’’جو اللہ عَزَّ َجَلَّ کے لیے عمل کرتا ہےاور پسند نہیں کرتا کہ اس پر
کوئی اس کی تعریف کرے۔‘‘(احیاء العلوم، جلد5 /صفحہ 271 تا 274ملتقطا، الرسالۃ القشیریۃ،
باب الاخلاص، صفحہ 244)(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ29تا33)
اللہ پاک ہمیں اپنے ہر عمل میں اخلاص کی دولت سے مالا
مال فرمائے اور اپنا مخلص بندہ بننے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔
اسلام میں اعمال کی بنیاد نیت پر رکھی گئی ہے، اور نیت کی
روح اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال، عبادات اور نیک کام
صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے، تعریف حاصل کرنے یا
دنیاوی فائدے کے لیے۔ اخلاص وہ عظیم صفت ہے جو تھوڑے سے عمل کو بھی بہت بڑا بنا دیتی
ہے، جبکہ اخلاص کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں بے وزن ہو جاتا ہے۔ قرآنِ
کریم اور سنتِ نبوی ﷺ میں اخلاص کی بڑی تاکید آئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی
عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص نیت کے ساتھ کیا جائے۔
قُلْ
اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ
الْعٰلَمِیْنَۙ ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا
جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا۔(سورہ انعام 162)
تفسیر صراط الجنان:وَ مَحْیَایَ:اور میرا جینا۔ یہاں
جو فرمایا گیا وہ حقیقتاً ایک مومن زندگی کی عکاسی ہے کہ مسلمان کا جینا، مرنا،
اور عبادت و ریاضت سب کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے ہونا چاہیے۔ زندگی اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے کاموں میں اور جینے کا مقصد اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کی
سربلندی ہو۔ یونہی مرنا حالت ِ ایمان میں ہو اور ہوسکے تو کلمۂ حق بلند کرنے کیلئے
ہو۔ یونہی عبادت کا شرکِ جلی سے پاک ہونا تو بہرحال ایمانیات میں داخل ہے، عبادت
شرک ِ خفی یعنی ریاکاری سے بھی پاک ہو اور خالصتاً اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا و
خوشنودی کیلئے ہو۔
(1)نیت کا معیار:إِنَّمَا الأَعْمَالُ
بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى۔ترجمہ:اعمال
کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح
البخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)
یہ حدیث اخلاص کی
بنیاد ہے اور اسلام کی مشہور ترین احادیث میں سے ہے۔
(2)اللہ اخلاص ہی قبول فرماتا ہے:إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ
خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:اللہ تعالیٰ کسی عمل کو
قبول نہیں فرماتا مگر وہی جو خالص اسی کے لیے ہو اور اس سے اس کی رضا مقصود
ہو۔(سنن النسائی: 3140)
(3)تھوڑا مگر خالص عمل:رُبَّ عَمَلٍ صَغِيرٍ
تُعَظِّمُهُ النِّيَّةُترجمہ:بسا اوقات چھوٹا عمل نیت کی وجہ سے بڑا ہو جاتا ہے۔(المعجم
الکبیر للطبرانی)
یہ حدیث اخلاص کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔
اخلاص کا مطلب ہے ہر کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا
اخلاص کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا اخلاص انسان کے اعمال میں سچائی
اور پاکیزگی پیدا کرتا ہے مخلص انسان ریاکاری اور دکھاوے سے بچتا ہے۔ اخلاص ایمان
کی مضبوطی کی علامت ہے۔ اخلاص سے انسان کے معمولی اعمال بھی بڑے بن جاتے ہیں۔ مخلص
شخص اللہ کی مدد اور برکت کا مستحق بنتا ہے اخلاص انسان کے اخلاق کو سنوارتا
ہےاخلاص معاشرے میں محبت اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔کامیاب زندگی کے لیے اخلاص نہایت
ضروری ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۳۰،
البینہ: ۵)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے
متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (نجات
دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی کریم عَلَیْہِ
اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں
کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا ۔ وہ ہرایک عمل
میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں
ہوتاتھا ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں ۔ وہ لوگوں میں زاہدعابد
بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ
لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا ۔ ان کا مقصودمحض رضائے حق سبحانہ و تَعَالٰی
ہوتاتھا ۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل
قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی
نہیں ۔ رسول کریم ص ﷺ نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دینک یکفک العمل القلیل کہ
اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔(المستدرک علی الصحیحین، کتاب
الرقاق، الحدیث:۷۹۱۴، ج۵، ص ۴۳۵)
Dawateislami