محمّد
حذیفہ عطاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اسلام میں اعمال کی قبولیت کا دار و مدار ظاہر کی کثرت
پر نہیں بلکہ باطن کی کیفیت پر ہےوہ عمل جو لوگوں کی نگاہ میں بہت بڑا ہو، اگر نیت
میں اخلاص نہ ہو تو اللہ کے ہاں بے وقعت ہو جاتا ہے، اور وہ عمل جو بظاہر معمولی
ہو اگر نیت خالص ہو تو بارگاہِ الٰہی میں عظیم بن جاتا ہے۔اخلاص دل کی وہ پاکیزہ
حالت ہے جس میں بندہ اپنے ہر قول و فعل اور عبادت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا
چاہتا ہےنہ تعریف کی طلب نہ شہرت کی خواہش نہ دنیاوی فائدے کی نیت بلکہ اللہ ہی
مقصود اور اللہ ہی مطلوب ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید اخلاص کو دین کی بنیاد قرار دیتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو
ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو
کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ آیت نمبر
5)
اِس آیتِ مبارکہ میں جہاں بہت سارے احکام بیان ہوئے ہیں
اس میں سے ایک حکم یہ بھی بیان ہوا ہےکہ عمل وہ ہی مقبول ہے جس میں خالص اللہ تعالیٰ
کی رضا حاصل کرنے کی نیت کی گئی ہو۔حضور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی احادیث
مبارکہ کی طرف جب غور و فکر کریں تو اس میں بھی کئی احادیث ایسی ہیں جن میں ہمیں
اخلاص کا درس ملتا ہے :إِنَّ اللَّهَ لَا
يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ
وَجْهُهُ
ترجمہ:اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول نہیں فرماتا جو صرف اسی
کے لیے خالص نہ ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود نہ ہو۔(سنن نسائی حدیث نمبر: 3140)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد
فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا
بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا کرتا ہے۔( مسلم، کتاب البر و الصلۃ
و الآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ... الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴)
آج کے اس پُرفتن دور میں، جب عبادت بھی نمود و نمائش کا
شکار ہو چکی ہے، اخلاص کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے
دلوں کا محاسبہ کریں، اپنی نیتوں کو درست کریں، اور ہر عمل کو صرف اللہ کے لیے
کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال کو دیکھتا ہے، اعمال کی صورتوں
کو جانتا ہے
Dawateislami