جس طرح کچھ نیکیاں ظاہِری ہوتی ہیں جیسے نماز اورکچھ باطِنی مثلاً اِخلاص وغیرہ اسی طرح بعض گناہ بھی ظاہری ہوتے ہیں جیسے قتل اوربعض باطِنی جیسے نفاق,تکبر وغیرہ۔ نفاق نہایت مہلک باطنی بیماریوں میں سے ہے اور بنیادی طور پر یہ دو طرح کا ہوتا ہے: زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونانفاق عملی کہلاتاہے۔(1)

رسولِ اکرم، رحمتِ عالم ﷺ نے منافق کی چند واضح نشانیاں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: چار علامتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے: (۱)جب امانت دی جائے تو خیانت کرے (۲) جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۳)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (۴)جب جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (2)

منافق کی قرآن میں بھی سخت مذمت آئی ہے، چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔

صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔

حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں یہ پڑھا ہے کہ جب بندے کا نِفاق کامِل ہو جاتا ہے تو وہ اپنی آنکھوں کا مالِک بن جاتا ہے، پھر جب چاہتا ہے رونے لگتا ہے۔

یعنی وہ جب چاہے لوگوں کے سامنے دکھاوے کے طور پر رو لیتا ہے مگر اس کے دل میں ایسی کیفیت نہیں ہوتی۔

حضرت خضر علیہ السلام عمربن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ مدینہ مشرفہ میں جمع ہوئے عمربن عبدالعزیز نے عرض کی کہ آپ مجھے کوئی نصیحت فرمادیں تو آپ نے فرمایا: اے عمر! اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اورباطن مساوی نہ ہو تووہ منافق ہوتاہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے۔یہ سن کر حضرت عمربن عبدالعزیز یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی۔(3)

نفاقِ اعتقادی کفر کا سب سے بڑا درجہ ہے، منافق اعتقادی کو کل بروزِ قیامت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ڈالا جائے گا جبکہ نفاق عملی گناہِ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

اللہ پاک دونوں طرح کے نفاق سے تمام مسلمانوں کو محفوظ و مامون فرمائے۔ آمین

حوالہ جات:

(1) بہار شریعت، 1/182- جامع العلوم و الحکم، ص 529

(2) بخاری، 1/25، حدیث: 34

(3) تنبیہ المغترین، ص 39