زمانے کے ناسوروں میں سے ایک ناسور نفاق بھی ہے۔یہ ایسا ناسور ہے جو کہ عہد نبی ﷺ میں بھی تھا۔ ایسی باطنی بیماری کہ جس کے بارے میں انسان کو معلوم ہی نہیں۔

علمائے اہل سنت یوں نفاق کی تعریف بیان کرتے ہیں کہ زبان سے مسلمان ہونے کا دعوی کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق عملی کہلاتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219)

نفاق کی مذمت قرآن میں:

لفظ منافقت نفاق سے ماخوذ ہے یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کی مذمت میں کئی آیت مبارکہ اور احادیث مبارکہ ہیں۔

اللہ پاک قران پاک میں فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔

ایک اور مقام پر اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔

صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220)

نفاق کی مذمت احادیث مبارکہ میں:

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو اللہ غضب فرماتا ہے اور فاسق کی تعریف سے عرش الہی کانپ اٹھتا ہے۔ (انوار الحدیث، ص 398)

اللہ اکبر جب فاسق کی مدح و تعریف کرنے سے عرش الہی کانپنےلگتا ہے تو بددین و بدمذہب کی تعریف کرنے سے عرش الہی کس قدر کانپتا ہوگا ( اللہ پاک کی پناہ)۔

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: چار علامتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے: (۱)جب امانت دی جائے تو خیانت کرے (۲) جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۳)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (۴)جب جھگڑا کرے تو گالی بکے۔(بخاری، 1/25، حدیث: 34)

غور کیجیے کہیں ہم میں بھی تو یہ ساری علامات یا ان میں سے کوئی ایک علامات تو نہیں پائی جاتی کہ کہیں ہم بھی غضب الہی کے مستحق تو نہیں۔

نفاقِ اعتقادی کفر کا سب سے بڑا درجہ ہے، منافق اعتقادی کو کل بروزِ قیامت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ڈالا جائے گا جبکہ نفاق عملی گناہِ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 220)

آج کا مسلمان نفاق کی مذمت تو دور کی بات ہے یہ بھی نہیں جانتا کہ نفاق کیا ہے کہ زبان سے کلمے کا اقرار کر لیا بس یہ مسلمان ہونے کے لیے کافی ہے لیکن ایسا بالکل بھی درست نہیں کیا عبداللہ بن ابی نے بھی کلمہ نہیں پڑھا تھا کہ اللہ پاک نے اسے قرآن پاک میں بیشتر جگہ میں منافق بتایا۔

نبی کریم ﷺ کا طرز عمل: ہمارے پیارے آقا ﷺ تو منافق کی نماز جنازہ تک نہ پڑھائی اور ہمیں اس باطنی بیماری کی پروا نہ ہو اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ نفاق سے بچنے کے لیے یوں دعا فرمایا کرتے: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں عداوت سے، نفاق سے، اور بد اخلاقی سے۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو صراط مستقیم پر ثابت قدمی سے چلائے اور کفار اور منافقین کی چالوں سے،ان کی گمراہیوں سے ہم کو بچا کر رکھے۔ آمین