اسلام محض چند رسومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل
ضابطۂ حیات ہے، جس کی بنیاد دو عظیم ستونوں پر قائم ہے۔ پہلا ستون کلام اللہ
(قرآن مجید) ہے جو بنی نوع انسان کے لیے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے، اور دوسرا ستون
سنتِ رسول ﷺ (حدیثِ پاک) ہے جو اس کتابِ الٰہی کی عملی تفسیر اور تشریح ہے۔ قرآن
مجید اگر دین کا ڈھانچہ ہے تو حدیثِ مبارکہ اس کی روح ہے۔اللہ تعالیٰ نے کائناتِ
انسانی کی رہنمائی کے لیے صرف کتاب نازل کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا، بلکہ اس کتاب
کے احکامات کو عملی طور پر برت کر دکھانے کے لیے اپنے محبوب نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا۔
یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں حدیث کی اہمیت محض ایک تاریخی ریکارڈ کی نہیں،
بلکہ ایسی قانونی حجت ہے جس کے بغیر ایمان کی تکمیل اور عبادات کی ادائیگی ممکن نہیں۔
موجودہ دور کے نت نئے فتنوں اور گمراہیوں کے سامنے حدیثِ رسول ﷺ وہ مضبوط حصار ہے
جو مسلمان کے عقیدے اور عمل کی حفاظت کرتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں قرآن و حدیث اور
اکابرینِ امت کے ارشادات کی روشنی میں اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حدیثِ پاک کی اہمیت اور ضرورت:دینِ
اسلام کے دو بنیادی مآخذ ہیں: قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ۔ قرآن مجید اللہ کا کلام
ہے جو اصولی احکامات بیان کرتا ہے، جبکہ حدیثِ رسول ﷺ ان احکامات کی تشریح اور عملی
صورت پیش کرتی ہے۔
قرآنِ پاک کی روشنی میں حدیث کی اہمیت:قرآن
مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار
دیا ہے۔اطاعتِ رسول کا حکم: ارشادِ باری تعالیٰ ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ
وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو حکم مانو اللہ
کا اور حکم مانو رسول کا ۔ (پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 59)
رسول کی بات ماننا لازم ہے: ایک
اور مقام پر ارشاد فرمایا:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ
عَنْهُ فَانْتَهُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں
وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(پارہ 28، سورہ الحشر، آیت 7)
ہدایت کا معیار: قرآن کریم میں واضح طور
پر فرمایا گیا کہ ہدایت صرف رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں ہے:وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ
تَهْتَدُوْاؕترجمہ کنز الایمان:اور اگر رسول کی فرمان برداری کرو گے راہ پاؤ گے ۔(پارہ 18، سورۃ النور، آیت 54)
خود نبی کریم ﷺ نے اپنی سنت اور حدیث کو مضبوطی سے
تھامنے کی تاکید فرمائی ہے: حجۃ الوداع کا پیغام: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا
تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ
ترجمہ:میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں،
جب تک تم انہیں تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے؛ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس
کے رسول کی سنت۔(موطا امام مالک، کتاب القدر، حدیث نمبر: 1594،اسی طرح کی روایت
المستدرک للحاکم، حدیث: 319 میں بھی موجود ہے)
فرمانِ نبوی ﷺ:أَلَا
إِنِّي أُوتِيتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَهُ مَعَهُخبردار!
مجھے قرآن دیا گیا اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز (یعنی حدیث) بھی دی گئی۔(سنن
ابوداؤد، کتاب السنۃ، باب فی لزوم السنۃ، حدیث نمبر: 4604)
اکابرینِ امت کے نزدیک اہمیتِ حدیث:امتِ مسلمہ کے اکابرین
اور ائمہ دین نے ہمیشہ حدیث کو دین کا ستون مانا ہے:حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ
آپ کا مشہور قول ہے: "إذا صح
الحديث فهو مذهبي" (جب حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو وہی میرا مذہب ہے)(
امام نووی، مقدمہ "المجموع" (1/63)؛ ابن عساکر، "تاریخ دمشق"
(51/389)
حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی
تعلیمات میں ہمیشہ سنتِ نبوی کی اتباع پر زور دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ :وہ
راستہ جو سنتِ رسول ﷺ سے ہٹ کر ہو، وہ منزل تک نہیں پہنچاتا۔
(الفتح الربانی، مجلس نمبر 10)
موجودہ دور میں حدیث کی ضرورت:موجودہ
دور میں فتنوں کی بہتات اور جدید مسائل کے حل کے لیے حدیث کی اہمیت پہلے سے بھی زیادہ
بڑھ گئی ہے۔قرآنی احکامات کی عملی تفسیر،قرآن نے نماز کا حکم دیا، لیکن نماز کا طریقہ
(قیام، رکوع، سجود اور تعدادِ رکعات) ہمیں صرف حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے۔
فتنۂ انکارِ حدیث کا رد: آج کل
ایک طبقہ "حسبنا کتاب اللہ" (ہمارے لیے صرف اللہ کی کتاب کافی ہے) کا
نعرہ لگا کر حدیث کا انکار کرتا ہے۔ ان کے نزدیک دین کو سمجھنا ناممکن ہے کیونکہ
قرآن خود کہتا ہے کہ رسول ﷺ کی زندگی ہمارے لیے "اسوۂ حسنہ" (بہترین
نمونہ) ہے۔
اخلاقی
بگاڑ کا حل: موجودہ دور کے معاشرتی بگاڑ کو دور کرنے کے لیے حدیث میں
موجود نبوی اخلاق، تجارت کے اصول اور باہمی حقوق و فرائض کی تعلیمات مشعلِ راہ ہیں۔
خلاصہ یہ کہ حدیثِ رسول ﷺ کے بغیر ایمان کا دعویٰ ادھورا
ہے۔ قرآنِ پاک کی درست تفہیم اور اسلام کی عملی تصویر صرف احادیثِ مبارکہ کے آئینے
میں دیکھی جا سکتی ہے۔ موجودہ دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں قرآن کے
ساتھ ساتھ دامنِ مصطفی ﷺ (سنت و حدیث) کو بھی مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان اخلاص اور حسن خاتمہ نصیب
فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن ﷺ۔
Dawateislami