نفاق
(منافقت)کی تعریف: زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں
اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق عملی کہلاتا
ہے۔
آیت
مبارکہ: اِنَّ
الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ
نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
ارشاد فرمایا
کہ بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کا کوئی
مددگار نہ پائے گا جو انہیں عذاب سے بچا سکے اور جہنم کے سب سے نچلے طبقے سے انہیں
باہرنکال سکے۔ (روح البیان، 2/ 309)
یاد رہے کہ
منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں خود کو مسلمان کہہ کرکے
مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کافر ہونے کے باوجود مسلمانوں کو دھوکہ دینا
اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
حدیث مبارکہ
میں منافق کی چار علامتیں بیان کی گئی ہیں، حضرت عبدالله بن عمرو رضی الله عنہ سے
روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف و رحیمﷺ نے ارشاد فرمایا:چار علامتیں جس شخص میں
ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے ایک علامت ہوئ تو اس شخص میں نفاق کی ایک
علامت پائ گئ یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے:(۱) جب
امانت دی جائے تو خیانت کرے(۲) جب
بات کرے تو جھوٹ بولے(۳) جب وعدہ کرے
تو وعدہ خلافی کرے(۴) جب جھگڑا کرے
تو گالی بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)
حضرت فضیل بن
عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب عمل خالص ہو لیکن درست نہ ہوتو اسے قبول نہیں کیا
جائے گا اور جب عمل درست تو ہو لیکن خالص نہ ہو تویہ بھی قبول نہیں کیا جائے
گا،عمل صرف وہی مقبول ہے جو خالص اور درست ہو اور عمل خالص اس وقت ہو گا جب اسے اللہ
کی رضا حاصل کرنے کے لئے کیا جائے اور درست اس وقت ہو گا جب وہ سنت(یعنی شریعت کے
بتائے ہوئے طریقے ) کے مطابق ہو گا۔ (جامع العلوم والحکم، ص 24)
اس سے ان
لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو شریعت کے بیان کردہ طریقے کے مطابق عمل نہیں کرتے
اور اگر انہیں کوئی سمجھائے تو اپنا عمل درست کرنے کی بجائے یہ کہہ کر ٹال دیتے
ہیں کہ اللہ قبول کرے گا۔
نفاق اعتقادی کفر
کا سب سے بڑا درجہ ہے، منافق اعتقادی کو کل بروز قیامت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے
سب سے نچلے درجے میں ڈالا جائے گا جبکہ نفاق عملی گناہ کبیرہ،حرام اور جہنم میں لے
جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 220)
Dawateislami